تعلیم کی الف ب
دینِ اسلام کا مقصود و مطلوب هی انسان سازی اور انسان کی تعلیم و تربیّت هے۔ لهذا قرآنی آیات کی مانند بهت ساری روایات میں بھی حصولِ علم کی تاکید اور اهمیّت بیان کی گئی هے۔ جیسے: جو علم کی تلاش کے راستے میں نکلے الله عزوجل اس کیلئے جنت کا راسته آسان کر دیتا هے اور فرشتے اس کے لیے اپنے پربچھاتے هیں اور مچھلیاں و زمین و آسمان کی هرچیز اس کی خاطر استغفارکرتی هے ۔ ۔ ۔ [1]
تحریر ڈاکٹر نذرحافی:
حصولِ علم کے لئے نکلنے والا واپس پلٹنے تک اﷲ کے راستے میں هے، [2]علم حاصل کرو چاهے چین جانا پڑے، اور حکمت مومن کی گمشده میراث هے وغیره ۔ [3] علم اور تعلیم کی دینِ اسلام میں اتنی زیاده اهمیت هے که خود ہمارے نبی اکرم ؐ کو قرآن مجید میں قُل ربِّ زِدنی علما : اے رب میرے علم میں اضافہ فرما [4] کی دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اورصدرِ اسلام میں بڑی عمر کے صحابه کرام بھی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ [5]
ایک معلّم کی ذمه داری هے که وه متعلم میں چھپی هوئی صلاحیتوں اور قوتوں کو پروان چڑھایا جائے اور اسے مکمل ترقی و کمال تک پهنچائے۔ لهذا انسان کا حقیقی معلم خود خداهے، اس لیے که وه انسانوں کو اس طرح سے تعلیم دیتا هے که وه اس مقام تک پهنچ جاتے هیں جس کے وه مستحق هیں۔ قرآن مجید کے نزول کا ایک اهم مقصد انسانوں کو جهالت کی ظلمت سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جانا هے۔ [6]
جب انسان ایک طالب علم کے طور پر اپنے آپ کو قرآن مجید کی بارگاه میں پیش کرتا هے تو اسے اپنے متعلق قرآن حکیم کی دوهری تصریحات کی وجه بھی معلوم هو جاتی هے اور آیات تعریف و مذمت کے درمیان ظاهری اختلاف بھی دور هو جاتا هے۔ اسی طرح جتنے بھی ملحدانه و مشرکانه افکار و نظریات هیں ، اُن کا رد بھی هو جاتا هے۔ یه کتاب انسان کی جهالت کی ظلمت کو اُس سے دور کر کے اُسے علم کی روشنی اور نور میں لے جاتی هے۔ [7]
علم اور تعلیم کی ساری دنیا میں یکساں اہمیّت ہے اور یہ اہمیت اس لئے بھی ہے چونکہ بذریعه تعلیم انسان کی سوچ، اخلاق اور رویّے کی تبدیلی کو تمام ماهرینِ تعلیم ممکن قرار دیتے هیں۔ [8] ڈاکٹر سیف کے مطابق تعلیم انسان کی بالقوّه صلاحیتوں کے عمل میں بھی تبدیلی ایجاد کرتی هے۔ [9] نیشنل کریکلم فریم ورک میں بھی تعلیم کے حوالے سے کها گیا هے که تعلیم انسانوں کے رویوں اور طرز عمل میں مطلوبه تبدیلیاں لانے کا عمل هے۔ تعلیم انسان کو علم، اقدار، عقائد، عادات، مهارتیں سیکھنے اور مزاجوں کو بدلنے میں سهولت فراهم کرتی هے۔ [10]
کلمه تعلیم در اصل عربی کا لفظ هے اور اردو میں مستعمل هے۔ لغت میں تَعْلِیم کا مصدر عِلْم هے اور اس کی جمع تعلیمات هے۔ کسی کو علم سکھانے کا عمل ، یا کسی کو کچھ سکھانا، پڑھانا وغیره تعلیم کهلاتا هے۔
اس لفظ کے معنی میں "دهرانے" اور "بتدریج" کا تصور بھی شامل هے۔ اسی لئے راغب اصفهانی نے دو الفاظ "تعلیم" اور "اعلام" کا موازنه کرتے هوئے کها هے که " اَعلَمتُهُ" اور " عَلَّمتُهُ" بنیادی طور پر ایک هی معنی رکھتے هیں۔ سوائے اس کے که اعلام فوری معلومات کے لیے هے اورتعلیم سے مراد کسی چیز کو بار بار دهرانا هے تاکه وه یاد هو جائے۔ [11]
[1] محمد بن یزید بن ماجه ، سنن ابن ماجه
، ج ا،
ص ۸۱، رقم الحدیث:۲۲۲۔
[2] ابوعیسی
محمد ترمذی ، سنن الترمذی، ابْوَابُ العلم رقم الحدیث:۲۶۴۷۔
[3] محمد باقرمجلسی ، بحارالانوار،
ج۱، ص ۱۷۷؛ محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی ، الکافی ج ۸ ص ۹۔
[4] طہ ۱۱۴۔
[5] محمد
بن اسماعیل بن ابراهیم بن مغیرة بن بردزبه،
بخاری صحیح البخاری ، ج۱ ، ص۲۵۔
[6]
کتَابٌ انزَلْنَاهُ الَیْکَ لتُخْرجَ النَّاسَ منَ
الظُّلُمَات الَى النُّوره، ابراهیم۱
[7]
“لتهديهم
به من ظلمات الضلالة والكفره ، الى نور
الايمان وضيائه ، وتُبصّهر به اهلَ الجهل
والعمَى سُبُل الرَّشاد والهُدَى، تفسیر
طبری، لتخرج الناس اي بالكتاب ، وهو
القران ، اي بدعائك اليه . من الظلمات الى
النور اي من ظلمات الكفر والضلالة والجهل الى نور الايمان والعلم ; وهذا على
التمثيل ; لان الكفر بمنزلة الظلمة ; والاسلام بمنزلة النور“، تفسیر قرطبیی ذیل ایه ابراهیم۱، انما
بعثناك يا محمد بهذا الكتاب; لتخرج الناس مما هم فيه من الضلال والغي الى الهدى
والرشد۔ تفسیر ابن کثیر
https:،
، quran.ksu.edu.sa،
tafseer، katheer،
sura14-aya1.html
[8] ارسطو، اخلاق نیکو ماخوسی، مترجم
محمدحسن لطفی، ص ۵۳-۵۴۔
[9]
علی
اکبر سیف، مقدمه ای بر نظریه های یادگیری، ص ۳۰۔
[10]
نیشنل کریکلم فریم ورک کے ص ۱۷ پر واضح الفاظ
میں لکھا ہے:
" Education is the process of bringing desirable changes in the
attitudes and behaviours of human beings. It facilitates learning or
acquisition of knowledge, values, beliefs, habits, skills and dispositions."
[11]
راغب
اصفهانی ، مفردات الفاظ
القران، ص ۵۸۰۔
[12]
العلم
صورة حاصلة من الشیء فی النفس
[13]
ملا
صدرا، مفاتیح الغیب، ص۲۶۲،
ابن سینا، تعلیقات، ص ۸۲۔
[14] آکسفورد Education
[15] مولوی فیروز الدین،فیروز اللغات،ص ۸۵
[16]
علم
التعلیم، بی اے، علامه اقبال اوپن یونیورسٹی، ص ۵۵
[17]
یه
تعریف امریکی ماهره تعلیم کریمین، لارنس اے (لارنس آرتھر) نے کی هےاور اسے
ماهرین تعلیم کے هاں بهت اهیت دی جاتی هے۔مزید تفصیلات کیلئے رجوع کیجئے: Cremin,
Lawrence, Public Education, p. 27
[18]
نیشنل کریکلم فریم ورک کے ص ۱۷ پر ہی یہ بھی درج
ہے:
"Education
is the knowledge of putting one‘s potentials to the maximum use enabling a
person to think and take informed choices and decisions."
[19] جورج فردریک نلر، ترجمه، محمدرضا
آهنچیان ، یحیی قائدی ، انسان شناسی تربیتی، ص ۶-۲۸۔
[20] نصیر الدّین طوسی ، اخلاق ناصری ص۱۰۲-۱۰۶۔
[21] ابوحامد غزالی ، کیمیای سعادت،
ج۲، ص ۹-۱۰۔
[22]
فخرالدین
رازی، مباحث مشرقیه، ج ۱، ص ۳۳۱۔
[23] محمود
نیکزاد ، کلیات فلسفه تعلیم و تربیت،
کیهان، تهران، ۱۳۸۱ش۔
[24]
حسنزاده
آملی، انسان در عرف عرفان، ص۷۱ ۔
[25]
مرتضی مطهری، تعلیم و تربیت در اسلام ص ۵۷۔
[26]
عبدالرحمن
بن محمد ابن خلدون، مقدمۀ ابن خلدون، ج۱،
ص ۲۸۔
[27]
علی
رضا اعرافی، فقه تربیتی مبانی و پیشفرضها، تحقیق و نگارش: سید نقی موسوی، ج ۲، ص ۵۶۔
[28]
ابوحامد
غزالی، المستصفی من علم الاصول،
ص ۲۲۰-۲۲۔
[29] سید احمد رهنمائی ،
درآمدی بر فلسفه تعلیم و تربیّت، ص
۳۷۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں