زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

ہفتہ، 18 جنوری، 2025

تعلیم کی الف ب

                       

تعلیم کی الف ب

دینِ اسلام  کا مقصود و مطلوب  هی انسان سازی اور انسان کی تعلیم و تربیّت هے۔  لهذا  قرآنی آیات کی مانند بهت ساری روایات میں بھی  حصولِ علم کی تاکید اور اهمیّت  بیان کی گئی هے۔ جیسے: جو علم کی تلاش کے راستے میں نکلے  الله  عزوجل اس کیلئے جنت کا راسته  آسان کر  دیتا هے اور فرشتے اس کے لیے اپنے پربچھاتے هیں اور مچھلیاں و  زمین و آسمان کی هرچیز اس کی خاطر استغفارکرتی هے ۔ ۔ ۔ [1]

تحریر ڈاکٹر نذرحافی:

حصولِ علم کے لئے نکلنے والا واپس پلٹنے  تک اﷲ کے راستے میں هے،   [2]علم حاصل کرو چاهے چین جانا پڑے،  اور حکمت مومن کی گمشده میراث هے وغیره ۔ [3] علم اور  تعلیم کی  دینِ اسلام  میں اتنی زیاده اهمیت هے که  خود ہمارے نبی اکرم ؐ کو قرآن مجید میں قُل ربِّ  زِدنی علما : اے رب میرے علم میں اضافہ فرما [4] کی دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اورصدرِ اسلام میں بڑی عمر کے صحابه کرام بھی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ [5]

ایک معلّم کی ذمه داری هے که وه متعلم میں چھپی هوئی صلاحیتوں اور قوتوں کو پروان چڑھایا جائے اور اسے مکمل ترقی و کمال تک پهنچائے۔ لهذا انسان کا حقیقی معلم خود خداهے، اس لیے که وه انسانوں کو اس طرح سے تعلیم دیتا هے که وه اس مقام تک پهنچ جاتے هیں جس کے وه مستحق هیں۔ قرآن مجید کے نزول کا ایک اهم مقصد انسانوں کو جهالت کی ظلمت سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جانا هے۔ [6]

جب انسان ایک طالب علم کے طور پر اپنے آپ کو قرآن مجید کی بارگاه میں پیش کرتا هے تو اسے اپنے متعلق قرآن حکیم کی دوهری تصریحات کی وجه بھی معلوم هو جاتی هے اور آیات تعریف و مذمت کے درمیان ظاهری اختلاف بھی دور هو جاتا هے۔ اسی طرح جتنے بھی ملحدانه و مشرکانه افکار و نظریات هیں ، اُن کا رد بھی هو جاتا هے۔ یه کتاب انسان کی جهالت کی ظلمت کو اُس سے دور کر کے اُسے علم کی روشنی اور نور میں لے جاتی هے۔ [7]
علم اور تعلیم کی ساری دنیا میں یکساں اہمیّت ہے اور یہ اہمیت اس لئے بھی ہے چونکہ بذریعه تعلیم انسان کی سوچ، اخلاق اور رویّے کی تبدیلی کو تمام ماهرینِ تعلیم ممکن قرار دیتے هیں۔ [8] ڈاکٹر سیف کے مطابق تعلیم انسان کی بالقوّه صلاحیتوں کے عمل میں بھی تبدیلی ایجاد کرتی هے۔ [9] نیشنل کریکلم فریم ورک میں بھی تعلیم کے حوالے سے کها گیا هے که تعلیم انسانوں کے رویوں اور طرز عمل میں مطلوبه تبدیلیاں لانے کا عمل هے۔ تعلیم انسان کو علم، اقدار، عقائد، عادات، مهارتیں سیکھنے اور مزاجوں کو بدلنے میں سهولت فراهم کرتی هے۔ [10]
کلمه تعلیم در اصل عربی کا لفظ هے اور اردو میں مستعمل هے۔ لغت میں تَعْلِیم کا مصدر عِلْم هے اور اس کی جمع تعلیمات هے۔ کسی کو علم سکھانے کا عمل ، یا کسی کو کچھ سکھانا، پڑھانا وغیره تعلیم کهلاتا هے۔

 اس لفظ کے معنی میں "دهرانے" اور "بتدریج" کا تصور بھی شامل هے۔ اسی لئے راغب اصفهانی نے دو الفاظ "تعلیم" اور "اعلام" کا موازنه کرتے هوئے کها هے که " اَعلَمتُهُ" اور " عَلَّمتُهُ" بنیادی طور پر ایک هی معنی رکھتے هیں۔ سوائے اس کے که اعلام فوری معلومات کے لیے هے اورتعلیم سے مراد کسی چیز کو بار بار دهرانا هے تاکه وه یاد هو جائے۔ [11]

شعبه تعلیم میں علم اور تعلیم کی جدید انفرادیت کو سمجھنے کیلئے موجودہ دور میں شعبہ تعلیم کی تخصصی نوعیت اور اس کے خصوصی و جدید زاویوں سے آشنا ہونا ضروری هے۔ یوں تو علم منطق میں کسی شئے کی تصویر کا عقل میں آجاناعلم کهلاتا هے۔[12] تاہم جو علم اب جدید تعلیمی اداروں میں پروان چڑھتا ہے ، وہ اس تعریف سے کئی گنا زیادہ وسیع مفاہیم پر مشتمل ہے۔ [13]

انگلش زبان میں تعلیم کیلئے doctrine, instruction, teaching, training, tutelage کے الفاظ استعمال هوئے هیں لیکن جب هم کسی تعلیمی ادارے کی تعلیم و تربیت کی بات کرتے هیں تو اس وقت صرف Education کا لفظ استعمال هوتا هے۔ [14] انگلش زبان کے لفظ ایجوکیشن میں بیک وقت تعلیم و تربیت دونوں کے معانی پائے جاتے هیں۔ اردو لغت میں بھی تعلیم سے مراد پڑھانا، سکھانا، بتانا، تلقین، هدایت اور تربیت هے۔ [15]

انگریزی میں تعلیم کا متبادل لفظ ‘ایجوکیشن‘ هے جو لاطینی زبان کے دو الفاظ ‘ّEducere اور “Educare” سے ماخوذ هے ۔ Educere کے معنی “To bring out “ اظهار کرنا، باهر نکالنا ، بروئے کار لانا جبکه Educare کے معنی “To bring up “ پروان چڑھانا ، نشو و نما کرنا ، اجاگر کرنا هے۔ ایجوکیشن کی اصطلاح انهیں دو الفاظ سے مل کر بنی هے۔ [16] یوں بھی کهه سکتے هیں که تعلیم شعوری طور پر علم، اقدار، رویے، مهارت یا حساسیت کو منتقل کرنے یا ابھارنے کی منظم، اور مسلسل کوشش هے۔ [17]

یه وسیع البنیاد تعریف بتاتی هے که تعلیم ایک شعوری اور بامقصد سرگرمی هے۔ لفظ "تعلیم" ایسے ڈھانچے کے لیے مخصوص هے جو تعلیم کے لیے سوچے سمجھے اور شعوری ارادے کے ساتھ بنایا گیا هو۔ یه تعریف جہاں تعلیم کو ایک باهدف عمل کے طور پر بیان کرتی هے، وہیں اب جدید دور میں علم ایک ایسا عمل ہے جو معلومات ، عقائد، اقدار، رویوں، مهارتوں اور علمی تجربات کو پروان چڑھاتا هے۔

علم التعلیم میں ایجوکیشن کی اصطلاح سے مراد سیکھنےاور سکھانے کی وه سرگرمی هے جو تعلیمی اداروں میں ماهرین تعلیم کی طرف سے مطلوبه اهداف کے حصول کیلئے انجام دی جاتی هے۔ دنیا کی ساری اقوام تعلیم کے ذریعے هی اپنے علوم و فنون اور دینی اقدار و اخلاقی محاسن کو آئنده نسلوں میں منتقل کرتی هیں۔ هرنسل کو اُس کے دور کے مطابق تعلیم دینے کی ضرورت هوتی هے۔

پاکستان کا نیشنل کریکلم فریم ورک تعلیم کے حوالے سے کهتا هے که “تعلیم اپنی صلاحیتوں کو زیاده سے زیاده استعمال کرنے کا علم هے۔ یه ایک شخص کو سوچنے اور آگاهانه طور پر﴿جانچ پرکھ کے ساتھ﴾ انتخاب اور فیصلے کرنے کے قابل بناتا هے۔ [18]تعلیم کے ذریعے تبدیلی یه کسی ایک مخصوص قسم کی تعلیم تک محدودنهیں، هر تعلیم کے ذریعه مطلوبه تبدیلی امکان پذیر هے۔ [19] دینِ اسلام بھی بذریعه تعلیم اس تبدیلی کی تائید کرتا هے۔ [20] الله نے جتنے انبیا بھیجے اور کتابیں نازل کیں، اُن سے بھی یه ثابت هوتا هے که اسلامی نکته نظر سے انسان میں بذریعه تعلیم تبدیلی بعض صورتوں میں مُشکل ضرور هے لیکن ممکن هے۔ [21]

چنانچه اب تعلیم ایک ایسی سرگرمی هے جو بهت سے متنوع مقامات پر انجام پاتی هے، گھر میں بیٹھے هوئے، راسته چلتے هوئے یا بستر میں لیٹے هوئے هر حال میں تعلیم حاصل کرنے کا عمل انجام پا سکتا هے۔ تعلیم کا یہ عمل اپنےهمراه مقصد، اصول اورروشیں لئے هوئےهوتا هے۔ فخرِ رازی کے مطابق علم انسان کی ایک اندرونی کیفیّت کا نام هے که انسان اُسے واضح طور پر اپنے اندر پاتا هے۔ اس تعریف کے مطابق جو چیز انسان کیلئے اتنی واضح هو اُس کی تعریف نهیں کی جا سکتی۔ فخر رازی علم کو ایک نظری تصور نهیں سمجھتے بلکه اُن کے نزدیک علم ایک واضح و بدیهی مفهوم هے جو کسی تعریف کا محتاج نهیں۔ [22]

تعلیمی اداروں میں مروّجه تعلیم کی ایک مختصر اور جامع تعریف ڈاکٹر نیکوزاد نے بھی پیش کی هے:تعلیم سے مراد وه سرگرمی یا عمل هے جسے اسکول یا تعلیمی ادارے آگاهانه طور پر معیّن شده هدف کیلئے مخصوص پروگراموں کے ساتھ ، درکار شعبه جات میں بچوں اور نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے انجام دیتے هیں۔ [23]

علامه حسن‌زاده آملی کے مطابق علم و عمل ایک دوسرے سے مستقل طور پر جدا نهیں هیں بلکه یه نفس کا جوهر هیں اور دونوں ایک هو جاتے هیں تو انسان سازی کرتے هیں۔ [24]قرآن کریم کے نقطه نظر سے انسان خدا کی اعلیْ ترین مخلوق هے اور اسی وجه سے اس میں انسان کی تعلیم و تربیت کا سارا سامان فراهم کر دیا گیا هے۔ قرآن مجید انسان کی خوبیوں اور خامیوں دونوں پر نگاه رکھے هوئے هے اور انسان کی اچھائی اور برائی کی مقدار اور معیار اور اُس کی هدایت و گمراهی کے تناسب کو سامنے رکھ کر اُسے تعلیم دیتا هے۔ ا س تعریف کی بنیاد پر تعلیم کا مطلب انسان کی اندرونی صلاحیتوں کی پرورش کرنا اور انهیں عملی جامه پهنانا هے۔ [25]

اسی طرح اسلام میں جو علم مطلوب و مقصود ہے وہ فقط علم هی نهیں ہے بلکه اسلام علوم نافع کی تاکید کرتا هے۔ یہاں یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ علمِ غیر نافع ایسا علم هے جو ضروری نهیں که جادو ٹونے کی مانند مضر بھی هو بلکه هر ایسا علم جس کیلئے انسان اپنا وقت صرف کرے اور وه انسان کو فائده نه دے تو وه غیر نافع هے۔ اس بارے میں اسلامی ممالک میں تعلیم و تربیت کی تاریخ سے متعلقه مباحث میں ابنِ خلدون نے لکھا هے که افسوس کا مقام هے که اُستادوں نے بےکار درسی مواد کا ڈھیر پڑھانے کی عادت اپنا لی هے اور یه کبھی بھی اپنی اس عادت کو ترک نهیں کریں گے۔ [26]

نافع علوم کو تعلیم و تربیت کے درسی مواد کے اعتبار سے تین اقسام ﴿علوم نافع دنیاوی، علوم نافع اُخروی، علوم نافع ِ دنیا و آخرت﴾میں تقسیم کیا گیا هے۔ اس تقسیم کا معیار زیاده سے زیاده فائده اور منافع هے۔ علومِ نافع اخروی سے مراد وه علوم هیں جو هلِ معاشره کے روحانی کمال اور اخروی زندگی سے زیاده سے زیاده فائده حاصل کرنے کی خاطر هیں، جیسے صحیح عقائد کی تعلیم۔ ایسے عقائد کی تعلیم کا حصول مطلوب هے۔ سارے مسلمانوں پر لازم هے که وه درست عقائد کی تعلیم کو اپنی توانائی کے مطابق سیکھنے میں مشغول هو ں۔ [27]امام غزالی نے واضح طور پر کها هے که علم کو مفید اور نفع بخش هونا چاهیے، ایسا علم جو انسان کیلئے نفع بخش نه هو اُسے ایک طرف کر دیا جانا چاهیے۔ [28]

سیّد احمد رهنمائی نے بھی تعلیم کی ایک مفید تعریف کی هے۔ ان کے مطابق تعلیم و تربیت ایسی طے شُده تکنیکی اور پیشه ورانه سرگرمیوں کا ایک مجموعه هے جو علم کے درست حصول کیلئے ، نیز طلبا کی استعداد، تخلیقی صلاحیتوں ، ذهنی وسعت اور رویّے و کردار کو پروان چڑھانے کی خاطر، مربّی کے مسلسل میدانی تجربات اور سرگرمیوں پر مبنی هوتا هے۔ [29]

جمع بندی

اب علم اور تعلیم کوماضی کے فکری سانچے میں رکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس سے مراد درسگاهوں میں اپنایا جانے والا وه منظم اور رسمی طریقه کار هے کہ جس کے ذریعے ایک نسل اپنی مجموعی معلومات، اخلاقی اقدارهنر، سماجی روایات ، علمی میراث اور تعلیمی تجربات کو اپنے بعد والی نسل کو منتقل کرتی هے۔

مجموعی طور پر هم یہ کهه سکتے هیں که آج کی جدید دنیا میں علم سے مراد انسان کی اُن تمام جبلتوں اور خصلتوں کا نکھار اور رُشد ہے کہ جن پر انسانی فطرت کی بنیاد هے ۔ایسی تمام جبلتیں اور خصلتیں انسان کے کمال کے لیے ضروری هیں اور یه انسانی ترقی کا پیش خیمه هیں۔ اسی طرح تعلیم ایک ایسا عمل هے جو متعلم کی تمام صلاحیتیوں کے اظهار اور همه پهلو نشو و نما کے نیتجے میں اس کی شخصیت کی تکمیل کرتا هے اور اس کی سیرت و کردار کی اس طرح تعمیر و تشکیل کرتا هے تاکه وه معاشرے میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی ایک کامیاب شهری کی حیثیت سے بسر کرنے کے قابل هوجائے۔

 


[1] محمد بن یزید بن ماجه ، سنن ابن ماجه ،  ج ا،  ص ۸۱، رقم الحدیث:۲۲۲۔

[2]  ابوعیسی محمد  ترمذی ، سنن الترمذی،  ابْوَابُ العلم رقم الحدیث:۲۶۴۷۔

[3] محمد باقرمجلسی ، بحارالانوار، ج۱،  ص ۱۷۷؛ محمد بن یعقوب بن اسحاق  کلینی ، الکافی ج ۸ ص ۹۔

[4] طہ ۱۱۴۔

[5]  محمد بن اسماعیل بن ابراهیم بن مغیرة بن بردزبه،  بخاری  صحیح البخاری ، ج۱ ، ص۲۵۔

[6] کتَابٌ انزَلْنَاهُ الَیْکَ لتُخْرجَ النَّاسَ منَ الظُّلُمَات الَى النُّوره، ابراهیم۱

[7]  لتهديهم به من ظلمات الضلالة والكفره ،  الى نور الايمان وضيائه ،  وتُبصّهر به اهلَ الجهل والعمَى سُبُل الرَّشاد والهُدَى،  تفسیر طبری، لتخرج الناس اي بالكتاب ،  وهو القران ،  اي بدعائك اليه . من الظلمات الى النور اي من ظلمات الكفر والضلالة والجهل الى نور الايمان والعلم ; وهذا على التمثيل ; لان الكفر بمنزلة الظلمة ; والاسلام بمنزلة النور“،  تفسیر قرطبیی ذیل ایه ابراهیم۱، انما بعثناك يا محمد بهذا الكتاب; لتخرج الناس مما هم فيه من الضلال والغي الى الهدى والرشد۔ تفسیر ابن کثیر

https:، ، quran.ksu.edu.sa، tafseer، katheer، sura14-aya1.html

[8] ارسطو، اخلاق نیکو ماخوسی، مترجم محمدحسن  لطفی، ص ۵۳-۵۴۔

[9] علی اکبر سیف، مقدمه ای بر نظریه های یادگیری، ص ۳۰۔

[10]  نیشنل کریکلم فریم ورک کے ص ۱۷ پر واضح الفاظ میں لکھا ہے:

" Education is the process of bringing desirable changes in the attitudes and behaviours of human beings. It facilitates learning or acquisition of knowledge, values, beliefs, habits, skills and dispositions."

[11]  راغب  اصفهانی ،  مفردات الفاظ القران،  ص ۵۸۰۔

[12] العلم صورة حاصلة من الشیء فی النفس

[13] ملا صدرا،  مفاتیح الغیب،  ص۲۶۲،  ابن سینا،  تعلیقات،  ص ۸۲۔

[14]  آکسفورد Education

[15]  مولوی فیروز الدین،فیروز اللغات،ص ۸۵

[16] علم التعلیم،  بی اے،  علامه اقبال اوپن یونیورسٹی، ص  ۵۵

[17]  یه تعریف امریکی ماهره تعلیم  کریمین،  لارنس اے (لارنس آرتھر) نے  کی هےاور اسے  ماهرین تعلیم کے هاں بهت اهیت دی جاتی هے۔مزید تفصیلات کیلئے رجوع کیجئے: Cremin, Lawrence, Public Education, p. 27  

[18]  نیشنل کریکلم فریم ورک کے ص ۱۷ پر ہی یہ بھی درج ہے:

"Education is the knowledge of putting one‘s potentials to the maximum use enabling a person to think and take informed choices and decisions."

[19] جورج فردریک نلر، ترجمه، محمدرضا آهنچیان ،  یحیی  قائدی ، انسان شناسی تربیتی، ص ۶-۲۸۔

[20] نصیر الدّین طوسی ،  اخلاق ناصری ص۱۰۲-۱۰۶۔

[21] ابوحامد غزالی ،  کیمیای سعادت،  ج۲،  ص ۹-۱۰۔

[22] فخرالدین رازی، مباحث مشرقیه،  ج ۱،  ص ۳۳۱۔

[23]  محمود  نیکزاد ، کلیات فلسفه تعلیم و تربیت،  کیهان،  تهران،  ۱۳۸۱ش۔

[24] حسن‌زاده آملی، انسان در عرف عرفان،  ص۷۱ ۔

[25]  مرتضی مطهری، تعلیم و تربیت در اسلام ص ۵۷۔

[26] عبدالرحمن بن محمد  ابن خلدون، مقدمۀ ابن خلدون، ج۱،  ص ۲۸۔

[27]  علی رضا  اعرافی،   فقه تربیتی مبانی و پیش‌فرض‌ها،   تحقیق و نگارش: سید نقی موسوی، ج ۲،  ص ۵۶۔

[28]  ابوحامد  غزالی،  المستصفی من علم الاصول، ص  ۲۲۰-۲۲۔

[29] سید احمد  رهنمائی ،  درآمدی بر فلسفه تعلیم و تربیّت،  ص ۳۷۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...