پاکستان کی تاریخ میں علماء کا کرداراورکچھ تجاویز
تحریر سید امتیاز علی رضوی :
ہم پاکستان میں 'عالم دین' اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث کی معتبر تعلیم رکھتا ہو، اسلامی علوم تدریس کر سکتا ہو، اور عوام کو دینی رہنمائی دے۔ یہ اصطلاح حقیقی علم رکھنے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، نہ کہ ہر داڑھی والے شخص کے لیے جو بظاہر دین دار ہو اور دین کی بات کرتا ہوں۔
پاکستان کی تاریخ میں علماء کا کردار کیا ہے یہ انتہائی اہم اور متنوع موضوع رہا ہے۔ پاکستان میں علماء نے معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور روحانی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ذیل میں ان کے کاموں کے چند اہم پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
1۔ تحریک آزادی میں کردار
پاکستان کی تحریک آزادی میں علماء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جمعیت علماء اسلام اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی حمایت کی۔ مولانا شفیع اوکاڑوی، مولانا ظفر علی خان، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا مفتی محمد شفیع جیسے علماء نے قیام پاکستان کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس طرح قیامِ پاکستان سے قبل شیعہ علماء اور زعماء کی ایک بڑی تعداد نے مسلم لیگ کی حمایت کی، جیسے: علامہ ابن حسن جارچوی جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ ان کے علاوہ آیت اللہ سید محمد باقر نقوی (لاہور) نے دو قومی نظریے کی تائید کی۔ سید مرتضیٰ حسن کانپوری نے مسلم لیگ کے لیے شیعہ عوام کو متحرک کیا۔
2۔ دستور اور قانون سازی میں شراکت
پاکستان کے دستور میں اسلامی اصولوں کو شامل کرنے کے لیے علماء نے نمایاں کردار ادا کیا۔ 1973 کے آئین میں اسلامی شقوں کے نفاذ میں علماء کی تجاویز کو شامل کیا گیا۔ مجلس شوریٰ (علماء کونسل) اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں میں علماء نے شرعی قوانین کے مطابق پالیسیاں بنانے میں مدد کی۔
1973 کے آئین میں شیعہ علماء جیسے مفتی جعفر حسین نے آئین کو کسی خاص مسلک کی مسلم آبادی تک محدود رکھنے کے بجائے تمام مسالک کی فقہی آراء کو مدنظر رکھنے کے لئے جدوجہد کی اور فقه جعفریہ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں آئین میں شیعہ مسالک کے حقوق کا کچھ حد تک تحفظ ہوا۔ 1980 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں مفتی جعفر حسین کی قیادت میں شیعہ علماء نے جعفری فقہ کو ضیاء الحق کے نفاذ اسلام کے ایجنڈے میں شامل کروایا۔
3۔ قراردادِ مقاصد کی تیاری و منظوری
پاکستان کے قیام کے بعد دستور سازی کے عمل میں یہ بحث اٹھی کہ ملک کا سیاسی و قانونی ڈھانچہ کس طرح اسلامی اصولوں پر استوار ہو۔ علمائے کرام، خاص طور پر جمعیت علماء اسلام (JUI) اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر علماء نے اسمبلی کے ارکان کو اسلامی دستور کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے اسمبلی میں قراردادِ مقاصد کو 12 مارچ 1949 منظوری کے لئے پیش کیا، جسے علماء کی حمایت سے منظور کیا گیا۔ اس قرارداد میں واضح کیا گیا کہ:
۔ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اور پاکستان کے عوام اس حاکمیت کو اسلامی اصولوں کے تحت استعمال کریں گے۔
۔ ریاست جمہوریت، آزادی، مساوات اور عدلِ اجتماعی کے اسلامی تصورات کو فروغ دے گی۔
۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
قراردادِ مقاصد پاکستان کی نظریاتی عمارت کی بنیاد ہے، جسے بعد میں 1973 کے آئین کی شق 2A کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ علماء کی کامیابی تھی کہ انہوں نے پاکستان کو مسلمانوں کی ایک اسلامی مملکت ثابت کیا، نہ کہ صرف ایک مسلکی، نسلی یا لسانی ریاست۔ اگرچہ (1949) میں قراردادِ مقاصد کی منظوری میں اہلِ سنت علماء کا کردار مرکزی تھا، لیکن شیعہ علماء نے بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کو تسلیم کیا اور اسے مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ علامہ مفتی جعفر حسین مجتہد اس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے ادارے بورڈ آف تعلیمات اسلام کے رکن تھے جس نے قرارداد مقاصد کو آخری شکل دی تھی۔ مفتی جعفر صاحب کو 1980 میں شیعہ حقوق کی جدوجہد کے نتیجے میں قائدِ ملت جعفریہ کا لقب بھی مل گیا تھا۔ آج بھی شیعہ علماء پاکستان کی اسلامی و قومی یکجہتی کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنے مسلکی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرتے ہیں جو ان کا قانونی حق ہے۔
4۔ تعلیم و تبلیغ
پاکستان میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے علماء نے متعدد معروف مدارس قائم کیے، جو ملک بھر میں اسلامی علوم کی تدریس کا مرکز بن گئے۔ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ اشرفیہ لاہور اور جامعہ المنتظر لاہور جیسے اداروں نے نہ صرف قرآن و حدیث، فقہ اور تفسیر جیسے بنیادی علوم کو عام کیا، بلکہ انہوں نے لاکھوں طلباء کو دینی تعلیم سے آراستہ کر کے معاشرے کی روحانی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ مدارس آج بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کو بھی فروغ دے رہے ہیں، جس سے طلباء میں توازن پیدا ہوا ہے۔
ان دینی اداروں نے صرف تعلیم تک ہی محدود کام نہیں کیا، بلکہ ان کے علماء نے عوامی سطح پر اسلامی اقدار، امن اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے خطبات، درس و تدریس اور تحریری مواد کے ذریعے معاشرے میں برداشت، اخوت اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ خاص طور پر فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھا کر ان مدارس نے پاکستانی معاشرے کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید برآں، ان دینی مدارس نے معاشرتی انصاف کے فروغ کے لیے بھی کام کیا، جس میں غریب طلباء کو مفت تعلیم دینا، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا، اور معاشی ناانصافی کے خلاف آگاہی پھیلانا شامل ہے۔ علماء نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے لیے کوششیں کیں۔ اس طرح، یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم کے گہوارے ہیں، بلکہ وہ پاکستانی معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بھی ہیں۔
5۔ علماء کا سیاسی کردار
پاکستان کے بعض علماء نے براہ راست سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور ملک کی سیاسی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ ان میں جمعیت علماء اسلام (JUI) اور جمعیت علماء پاکستان (JUP) جیسی علماء کی جماعتیں نمایاں ہیں، جنہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کو اپنا بنیادی ایجنڈا بنایا۔ ان جماعتوں کے رہنما جیسے مولانا مفتی محمود، پروفیسر ساجد میر، مولانا کوثر نیازی اور شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی کوششیں نہ صرف پارلیمانی سطح پر اثرانداز ہوئیں، بلکہ انہوں نے عوامی سطح پر بھی اسلامی اقدار کو سیاسی بحث کا حصہ بنایا۔
شیعہ علماء نے سیاسی میدان میں نسبتاً دیر سے قدم رکھا، لیکن انہوں نے بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ علامہ سید عارف حسین حسینی نے 6 جولائی 1987 کو ہمارا راستہ کے عنوان سے ایک جامع سیاسی منشور پیش کر کے شیعہ سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس منشور میں شیعہ برادری کے حقوق، اسلامی انصاف اور معاشرتی مساوات جیسے اہم نکات شامل تھے۔ ان کی شہادت کے بعد شیعہ علماء نے سیاسی طور پر منظم ہو کر سینٹ جیسی ایوانوں میں نمائندگی حاصل کی اور اپنے تشخص کو قومی سطح پر منوایا۔
علماء کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ رہا کہ انہوں نے نہ صرف مذہبی بلکہ قومی مسائل پر بھی آواز اٹھائی۔ علماء کی جماعتوں نے اسلامی نظام کی بات کرتے ہوئے معاشی انصاف، تعلیمی اصلاحات اور اقلیتوں کے حقوق جیسے موضوعات کو بھی اپنے پروگرام کا حصہ بنایا۔ اسی طرح، شیعہ علماء نے بھی اپنی سیاسی کوششوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔ اس طرح، علماء کی سیاسی سرگرمیاں صرف مذہبی ایجنڈے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے ملک کی اجتماعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
6۔ غریب بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشی سہارا
پاکستان میں علماء نے دینی مدارس کا جال بچھا دیا اور لاکھوں غریب اور پسماندہ بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کی ہے، بلکہ انہیں رہائش، خوراک اور بنیادی ضروریات بھی مہیا کی ہیں۔ یہ ادارے معاشرے کے ان کمزور طبقات کے لیے ایک نجی فلاحی نظام کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سرکاری تعلیمی نظام سے محروم رہ جانے والے بچوں کو سماجی تحفظ دیتا ہے۔ اندازاً 25 لاکھ سے زائد طلباء ملک بھر کے مدارس میں زیر تعلیم ہیں، جن میں سے اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت سے علماء نے خاص طور پر یتیم خانے (جیسے دارالایتام) چلاتے ہیں، جہاں بے سہارا بچوں کو پالنے اور پڑھانے کا انتظام ہوتا ہے۔
اگر یہ علماء اور مدارس نہ ہوتے تو لاکھوں بچے جرائم، چائلڈ لیبر یا گلیوں کے آوارہ گردوں کے ہاتھ لگ سکتے تھے۔ مدارس انہیں نشہ، چوری اور دہشت گردی جیسی برائیوں سے بچاتے ہوئے معاشرے کے مفید فرد بناتے ہیں۔ دینی مدارس نے پاکستان کے معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے ایک فلاحی نظام تشکیل دیا ہے۔ یہ ادارے نہ صرف مذہبی تعلیم دے رہے ہیں، بلکہ معاشی مجبوریوں کے شکار خاندانوں کو سہارا بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے نظام میں کچھ خامیاں ہیں، لیکن ان کی سماجی خدمت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، دینی مدارس کو سراہتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوششیں بھی جاری رکھنی چاہئیں۔
7۔ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی
بعض علماء نے انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اٹھائی اور امن کی تبلیغ کی۔ علماء نے نوجوان نسل کو دہشت گردی سے دور کرنے اور اتحاد بین المسلمین کی تعلیمات پر زور دیا۔ علماء نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا اور قرآن کی آیت:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (سورہ آل عمران: 103)
(اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔) کی تلقین کی۔ علماء نے مسلکی اختلافات کے باوجود امن کی بات کی اور عوام کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ ثاقب اکبر مرحوم جیسے جدید افکار کے حامل علماء کی کتابیں اتحاد امت کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ البتہ دوسری طرف بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کچھ علماء نے تنگ نظری اور فرقہ پرستی کو ہوا دی، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہوئی۔ بعض دینی جماعتوں نے شدت پسند گروہوں کو جواز فراہم کیا، جس پر تنقید ہوئی۔پاکستان میں علماء کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ کچھ نے قومی یکجہتی، تعلیم اور امن کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا، جبکہ کچھ کو انتہا پسندی اور سیاسی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ مجموعی طور پر، علماء پاکستانی معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں جو مذہبی رہنمائی کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
8۔ علماء کرام کا عوام کو قرآن و اسلام سے جوڑنے میں کلیدی کردار
پاکستان میں علماء کرام نے عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کی اکثریت آج بھی اسلامی اقدار سے وابستہ ہے۔ علماء نے تفسیر قرآن کے درس، وعظ و نصیحت اور دروسِ حدیث کے ذریعے لوگوں کو دین کی بنیادی باتوں سے آگاہ کیا۔ عام آدمی تک دین کی رسائی ممکن بنائی، چاہے وہ شہری ہو یا دیہاتی، امیر ہو یا غریب۔
علماء نے معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کو روکنے کے لیے صبر، برداشت، ایثار اور ہمدردی جیسے اسلامی اصول سکھائے۔
لوگوں میں خدمتِ خلق کو فروغ دیا۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات اور دیگر مالی واجبات و مستحبات کی ترغیب دے کر امیروں کو غریبوں کے ساتھ جوڑا۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا کے فتنوں کے خلاف علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی۔
علماء کرام نے پاکستانی معاشرے کو قرآن و اسلام سے جوڑ کر ایک مضبوط اخلاقی و روحانی بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کی کوششوں سے ہی معاشرے میں رواداری، اخوت اور باہمی احترام کی فضا قائم ہوئی ہے۔ اگرچہ کچھ انتہا پسند عناصر کی وجہ سے علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن اکثریت نے ہمیشہ اعتدال، امن اور محبت کا پیغام دیا ہے۔ شاید اگر علماء نہ ہوتے، تو معاشرہ مادہ پرستی اور اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو جاتا۔ علماء ہی وہ رہنما ہیں جو عوام کو قرآن و سنت کی طرف بلاتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
9۔ پیغامِ پاکستان جیسی تحریکوں میں علماء کرام کا اہم کردار
پاکستان میں پیغامِ پاکستان جیسی قومی و اسلامی تحریکوں کی کامیابی میں علماء کرام کا کردار نہایت اہم اور نمایاں رہا ہے۔ ایسی تحریکیں ملک میں امن، رواداری، قومی یکجہتی اور اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہیں، اور علماء نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔
پیغامِ پاکستان کا مقصد، دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ، قرآن و سنت کی روشنی میں امن، محبت اور برداشت کا پیغام پھیلانا، پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مضبوط کرنا ہے۔
علماء نے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا اور اسے اسلام کے خلاف جنگ قرار دیا اور دہشت گردی کی حرمت کے فتوے جاری کئے۔ انہوں نے عوام کو بتایا کہ جہاد کا مطلب دہشت گردی نہیں، بلکہ اپنے اندر اور معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
علماء نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کانفرنسز، اجتماعات اور میڈیا مہمات میں حصہ لیا۔ سنی و شیعہ علماء نے مشترکہ بیانات دے کر عوام کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ پیغامِ پاکستان کے تحت وحدت امت کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام مسالک کے علماء نے شرکت کی۔ علماء نے سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر میڈیا ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردی، منشیات اور اخلاقی بگاڑ سے بچانے کی کوشش کی۔
علماء نے حکومتی پالیسیوں میں ہمیشہ تعاون کیا اور پیغامِ پاکستان جیسی مہمات کو حکومتی سطح پر سپورٹ کرنے کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت دہشت گردی کے خلاف کام کرنے میں علماء نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں علماء کی خدمات کے اثرات:
یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ پاکستان میں علماء کرام نے معاشرے کی اصلاح اور قومی یکجہتی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوششوں سے دہشت گردی کے رجحان میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ علماء کے پیغاماتِ امن اور رہنمائی کی بدولت بہت سے نوجوانوں نے دہشت گرد گروہوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے توبہ کی اور معاشرے کے مفید افراد بن گئے۔ ان کی تعلیمات نے نہ صرف انتہا پسندی کو کم کیا بلکہ امن و آشتی کا راستہ بھی ہموار کیا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے میدان میں بھی علماء کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ مختلف مسالک کے درمیان مکالمے اور رواداری کو فروغ دینے سے فرقہ وارانہ تشدد میں کمی آئی ہے۔ علماء نے باہمی اختلافات کو احترام کے ساتھ حل کرنے پر زور دے کر معاشرے میں اتحاد کی فضا قائم کی۔ ان کی کوششوں سے عوام میں یہ شعور بیدار ہوا کہ اختلاف رائے فطری بات ہے، لیکن اسے تشدد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ مسلکی پاکستان نہیں بلکہ مسلم پاکستان کے نظریہ اور قائداعظم کی جدوجہد اور علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کی علماء نے نہ صرف تائید کی بلکہ اس کے تحت عوام کو جوڑا۔
قومی یکجہتی کے حوالے سے علماء نے عوام کو یہ احساس دلانے میں اہم کردار ادا کیا کہ پاکستان سب کا ہے اور اس کی سلامتی اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے قوم کو متحد ہو کر بیرونی و داخلی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی، جس سے لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ فروغ پایا۔ علماء کی یہ کوششیں پاکستان کو ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ بنانے میں سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ علماء انتہا پسند گروہوں سے وابستہ رہے ہیں، لیکن اکثریت نے اعتدال پسندی کو فروغ دیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں بھی علماء کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس سے ان کا اثر کم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ: اگر علماء نے پیغامِ امن نہ پھیلایا ہوتا، تو پاکستان دہشت گردی اور فرقہ واریت کی آگ میں زیادہ جلتا۔
فرقہ واریت اور دہشت گردی: حقیقی مجرم اور علماء نما عناصر کا کردار
یہ کہنا درست نہیں کہ علماء نے فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے مسائل پیدا کیے۔ درحقیقت کچھ غیرذمہ دار عناصر نے مذہب کے نام پر اپنے مفادات پورے کیے۔ حقیقی علماء تو ہمیشہ امن اور رواداری کے داعی رہے ہیں۔ ہمیں اصلی اور جعلی علماء میں فرق کرنا ہوگا اور معاشرے کو درپیش ان مسائل کا حل اجتماعی کاوشوں سے تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے مسائل خود علماء کے پیدا کردہ نہیں بلکہ ان کی جڑیں کئی دہائیوں بلکہ صدیوں پر محیط ہیں۔ خطے میں جاری پراکسی وارز نے پاکستان کو خاص طور پر متاثر کیا۔ بیرونی امداد سے چلنے والے مخصوص منصوبوں نے انتہا پسندی کو ہوا دی۔
حقیقی علماء اور علماء نما افراد میں واضح فرق موجود ہے۔ کچھ مسلح گروہوں نے مذہبی لباس اور عنوانات کا غلط استعمال کیا۔ یہ عناصر درحقیقت سیاسی ایجنڈے کے حامل تھے اور بیرونی فنڈنگ سے چل رہے تھے۔ یہ لوگ اصل اسلامی تعلیمات سے ناواقف تھے
پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور سے بیرونی قوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہو چکا تھا۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے صورتحال کو مزید ابتر بنایا۔ کچھ ممالک نے جان بوجھ کر انتہا پسند گروہوں کو سپورٹ کیا۔ میڈیا وار کے ذریعے بھی مسلک پرستی کو ہوا دی گئی جبکہ دوستی طرف اصلی علماء نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات کی اور دہشت گردی کی مذمت بھی کی اور اس کے خلاف فتوے بھی جاری کئے۔
علماء و مدارس دینیہ کے معاشرے میں حقیقی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے تجاویز
معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی میں علماء اور دینی مدارس کا کردار نہایت اہم ہے، لیکن موجودہ دور میں ان کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کچھ اصلاحات اور تجاویز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، علماء کے ساتھ معاشرتی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔ بے جا تنقید اور اختلافات کی بجائے، ان کے ساتھ مل کر کام کرنے سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ علماء کی رہنمائی کو موثر بنانے کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو ان کے ساتھ مثبت تعاون کرنا ہوگا۔
دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ دینی مدارس کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمیونیکشن سکلز، کمپیوٹر ایجوکیشن، اور جدید مہارتوں کو بھی تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلباء جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ نئی نسل کے مسائل و رجحانات کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ، مدارس میں معیاری تدریس، جدید تربیتی پروگرامز، اور ہنر مندی کی تعلیم پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
تیسری تجویز نوجوان نسل کو صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے۔ آج کل نوجوانوں میں مذہبی جذبات تو موجود ہیں، لیکن اکثر انہیں درست رہنمائی نہیں ملتی۔ علماء کو چاہیے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک اسلام کی صحیح تعلیمات پہنچائیں۔ سادہ اور دل نشین انداز میں دینی اقدار کو عام کرنے سے معاشرے میں انتشار کم ہوگا اور مثبت سوچ کو فروغ ملے گا۔
آخری لیکن انتہائی ضروری پہلو یہ ہے کہ بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے قومی پالیسیاں بنائی جائیں۔ دینی مدارس اور علماء کے معاملات میں غیرملکی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے حکومت کو واضح لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مدارس کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی جانی چاہئیں۔ ان اقدامات سے علماء اور دینی مدارس اپنا حقیقی کردار ادا کر سکیں گے اور معاشرے کی ترقی میں مثبت حصہ ڈال سکیں گے۔
23۔05۔2025