زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعرات، 29 مئی، 2025

یومِ تکبیر کی تقریب

جامعۃ الرضا شعبہ تحریر و تحقیق کی جانب سے یومِ تکبیر کی  تقریب :
رپورٹ : واصف رضا: متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
جامعۃ الرضا شعبہ تحریر و تحقیق نے 28 مئی کو یومِ تکبیر کے حوالے سے ایک اہم نشست کا انعقاد کیا، جس میں اس دن کی اہمیت اور پاکستان کے ایٹمی کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس دن کی یاد میں منعقدہ اس تقریب میں اساتذہ کے علاوہ  شعبہ تحریر و تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے طلبا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا تھا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔ اس دن کو قومی تاریخ میں یومِ تکبیر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور آج 27 سال بعد بھی یہ دن پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔

اس موقع پر جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کے مسئول محترم  مزمل  حسین متعلم جامعۃ الرضا نے کہا کہ پاکستان نے اس وقت کے کمزور سیاسی اور اقتصادی حالات میں جو کارنامہ انجام دیا، اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، اگر ارادہ، عزم اور ایمان پختہ ہو تو ہم ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ متعلم  ابوذر  غفاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیسے ہمارے سائنسدانوں  نے ثابت کر دیا  ہے کہ وہ وطن کے لیے قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اسی طرح ہمیں بطورِ طالب علم اپنے  تعلیمی میدان میں بھی اپنے آپ کو سچا اورلائق پاکستانی ثابت کرنا چاہیے۔ 
 نقی جعفری نے نوجوانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی اپنی تعلیم و تربیت پر توجہ دے کر  ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح سارے پاکستان کیلئے باعثِ فخر بن سکتے ہیں۔ اس موقع پر اُستاد محترم  ڈاکٹر اطلسی صاحب نے قومی محسنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ رہنما اپنی قوم کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ جب بھارت ایٹمی قوت بن گیا تو عبدالقدیر خان نے بھی پاکستان کو اس دوڑ میں تنہا نہیں چھوڑا۔ ہمیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم بھی اُن کی طرح محنت، خلوص اور لگن سے اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔
 اُستاد ڈاکٹر نذر حافی صاحب نے  اپنی مختصر گفتگو میں اس نکتے پر روشنی ڈالی کہ آج کے طلبا کل کے رہنما ہیں لہذا ہمیں آج سے ہی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں اور پاکستان کی تعمیروترقی کے مختلف زاویوں ، خصوصاً  ایٹمی ترقی کے مختلف مراحل اور ادوار پر نظر رکھنی چاہیے ۔جو طلبا آج اپنے ملک کی تعمیرو ترقی سے لاتعلق ہیں وہ  کل اس ملک کی رہنمائی اور قیادت بھی نہیں کر پائیں گے۔
یہ نشست جامعۃ الرضا کے شعبہ تحریر و تحقیق کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جس کا مقصد طلبا میں حب الوطنی، تحقیق اور قومی تاریخ سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔نشست کا آغاز جامعہ کے متعلم محترم تاثیر رضا نے تلاوت ِ قرآن مجید سے کیا۔ تلاوت کے بعد انہوں نے یوم تکبیر کے حوالے سے ابتدائی گفتگو کی، ان کے بعد  سید قاسم کاظمی، سید دانیال شیرازی، مدثر حسن، واصف رضا، شمشاد حسین،  اور دیگر نے یومِ تکبیر کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کی کوارڈینیشن راقم الحروف  واصف رضا نے کی۔

جمعہ، 23 مئی، 2025

پاکستان کی تاریخ میں علماء کا کرداراورکچھ تجاویز

پاکستان کی تاریخ میں علماء کا کرداراورکچھ تجاویز
تحریر سید امتیاز علی رضوی : 
ہم پاکستان میں 'عالم دین' اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث کی معتبر تعلیم رکھتا ہو، اسلامی علوم تدریس کر سکتا ہو، اور عوام کو دینی رہنمائی دے۔ یہ اصطلاح حقیقی علم رکھنے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، نہ کہ ہر داڑھی والے شخص کے لیے جو بظاہر دین دار ہو اور دین کی بات کرتا ہوں۔ 
پاکستان کی تاریخ میں علماء کا کردار کیا ہے یہ انتہائی اہم اور متنوع موضوع رہا ہے۔ پاکستان میں علماء نے معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور روحانی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ذیل میں ان کے کاموں کے چند اہم پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
1۔ تحریک آزادی میں کردار
پاکستان کی تحریک آزادی میں علماء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جمعیت علماء اسلام اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی حمایت کی۔  مولانا شفیع اوکاڑوی، مولانا ظفر علی خان، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا مفتی محمد شفیع جیسے علماء نے قیام پاکستان کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔  
اس طرح قیامِ پاکستان سے قبل شیعہ علماء اور زعماء کی ایک بڑی تعداد نے مسلم لیگ کی حمایت کی، جیسے: علامہ ابن حسن جارچوی جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ ان کے علاوہ آیت اللہ سید محمد باقر نقوی (لاہور) نے دو قومی نظریے کی تائید کی۔ سید مرتضیٰ حسن کانپوری نے مسلم لیگ کے لیے شیعہ عوام کو متحرک کیا۔  
2۔ دستور اور قانون سازی میں شراکت
پاکستان کے دستور میں اسلامی اصولوں کو شامل کرنے کے لیے علماء نے نمایاں کردار ادا کیا۔ 1973 کے آئین میں اسلامی شقوں کے نفاذ میں علماء کی تجاویز کو شامل کیا گیا۔  مجلس شوریٰ (علماء کونسل) اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں میں علماء نے شرعی قوانین کے مطابق پالیسیاں بنانے میں مدد کی۔
1973 کے آئین میں شیعہ علماء جیسے مفتی جعفر حسین نے آئین کو کسی خاص مسلک کی مسلم آبادی تک محدود رکھنے کے بجائے تمام مسالک کی فقہی آراء کو مدنظر رکھنے کے لئے جدوجہد کی اور فقه جعفریہ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں آئین میں شیعہ مسالک کے حقوق کا کچھ حد تک تحفظ ہوا۔  1980 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں مفتی جعفر حسین کی قیادت میں شیعہ علماء نے جعفری فقہ کو ضیاء الحق کے نفاذ اسلام کے ایجنڈے میں شامل کروایا۔
3۔ قراردادِ مقاصد کی تیاری و منظوری
پاکستان کے قیام کے بعد دستور سازی کے عمل میں یہ بحث اٹھی کہ ملک کا سیاسی و قانونی ڈھانچہ کس طرح اسلامی اصولوں پر استوار ہو۔ علمائے کرام، خاص طور پر جمعیت علماء اسلام (JUI) اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر علماء نے اسمبلی کے ارکان کو اسلامی دستور کی اہمیت سے آگاہ کیا۔  وزیراعظم لیاقت علی خان نے اسمبلی میں قراردادِ مقاصد کو 12 مارچ 1949 منظوری کے لئے پیش کیا، جسے علماء کی حمایت سے منظور کیا گیا۔  اس قرارداد میں واضح کیا گیا کہ:  
  ۔ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اور پاکستان کے عوام اس حاکمیت کو اسلامی اصولوں کے تحت استعمال کریں گے۔  
  ۔ ریاست جمہوریت، آزادی، مساوات اور عدلِ اجتماعی کے اسلامی تصورات کو فروغ دے گی۔  
  ۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔  
قراردادِ مقاصد پاکستان کی نظریاتی عمارت کی بنیاد ہے، جسے بعد میں 1973 کے آئین کی شق 2A کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ علماء کی کامیابی تھی کہ انہوں نے پاکستان کو مسلمانوں کی ایک اسلامی مملکت ثابت کیا، نہ کہ صرف ایک مسلکی، نسلی یا لسانی ریاست۔  اگرچہ (1949) میں قراردادِ مقاصد کی منظوری میں اہلِ سنت علماء کا کردار مرکزی تھا، لیکن شیعہ علماء نے بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کو تسلیم کیا اور اسے مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ علامہ مفتی جعفر حسین مجتہد اس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے ادارے بورڈ آف تعلیمات اسلام کے رکن تھے جس نے قرارداد مقاصد کو آخری شکل دی تھی۔ مفتی جعفر صاحب کو 1980 میں شیعہ حقوق کی جدوجہد کے نتیجے میں قائدِ ملت جعفریہ کا لقب بھی مل گیا تھا۔ آج بھی شیعہ علماء پاکستان کی اسلامی و قومی یکجہتی کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنے مسلکی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرتے ہیں جو ان کا قانونی حق ہے۔ 
4۔ تعلیم و تبلیغ  
پاکستان میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے علماء نے متعدد معروف مدارس قائم کیے، جو ملک بھر میں اسلامی علوم کی تدریس کا مرکز بن گئے۔ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ اشرفیہ لاہور اور جامعہ المنتظر لاہور جیسے اداروں نے نہ صرف قرآن و حدیث، فقہ اور تفسیر جیسے بنیادی علوم کو عام کیا، بلکہ انہوں نے لاکھوں طلباء کو دینی تعلیم سے آراستہ کر کے معاشرے کی روحانی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ مدارس آج بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کو بھی فروغ دے رہے ہیں، جس سے طلباء میں توازن پیدا ہوا ہے۔
ان دینی اداروں نے صرف تعلیم تک ہی محدود کام نہیں کیا، بلکہ ان کے علماء نے عوامی سطح پر اسلامی اقدار، امن اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے خطبات، درس و تدریس اور تحریری مواد کے ذریعے معاشرے میں برداشت، اخوت اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ خاص طور پر فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھا کر ان مدارس نے پاکستانی معاشرے کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مزید برآں، ان دینی مدارس نے معاشرتی انصاف کے فروغ کے لیے بھی کام کیا، جس میں غریب طلباء کو مفت تعلیم دینا، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا، اور معاشی ناانصافی کے خلاف آگاہی پھیلانا شامل ہے۔ علماء نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے لیے کوششیں کیں۔ اس طرح، یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم کے گہوارے ہیں، بلکہ وہ پاکستانی معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بھی ہیں۔
5۔ علماء کا سیاسی کردار 
پاکستان کے بعض علماء نے براہ راست سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور ملک کی سیاسی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ ان میں جمعیت علماء اسلام (JUI) اور جمعیت علماء پاکستان (JUP) جیسی علماء کی جماعتیں نمایاں ہیں، جنہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کو اپنا بنیادی ایجنڈا بنایا۔ ان جماعتوں کے رہنما جیسے مولانا مفتی محمود، پروفیسر ساجد میر، مولانا کوثر نیازی اور شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی کوششیں نہ صرف پارلیمانی سطح پر اثرانداز ہوئیں، بلکہ انہوں نے عوامی سطح پر بھی اسلامی اقدار کو سیاسی بحث کا حصہ بنایا۔  
شیعہ علماء نے سیاسی میدان میں نسبتاً دیر سے قدم رکھا، لیکن انہوں نے بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ علامہ سید عارف حسین حسینی نے 6 جولائی 1987 کو ہمارا راستہ کے عنوان سے ایک جامع سیاسی منشور پیش کر کے شیعہ سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس منشور میں شیعہ برادری کے حقوق، اسلامی انصاف اور معاشرتی مساوات جیسے اہم نکات شامل تھے۔ ان کی شہادت کے بعد شیعہ علماء نے سیاسی طور پر منظم ہو کر سینٹ جیسی ایوانوں میں نمائندگی حاصل کی اور اپنے تشخص کو قومی سطح پر منوایا۔  
علماء کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ رہا کہ انہوں نے نہ صرف مذہبی بلکہ قومی مسائل پر بھی آواز اٹھائی۔ علماء کی جماعتوں نے اسلامی نظام کی بات کرتے ہوئے معاشی انصاف، تعلیمی اصلاحات اور اقلیتوں کے حقوق جیسے موضوعات کو بھی اپنے پروگرام کا حصہ بنایا۔ اسی طرح، شیعہ علماء نے بھی اپنی سیاسی کوششوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔ اس طرح، علماء کی سیاسی سرگرمیاں صرف مذہبی ایجنڈے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے ملک کی اجتماعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
6۔ غریب بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشی سہارا
پاکستان میں علماء نے دینی مدارس کا جال بچھا دیا اور لاکھوں غریب اور پسماندہ بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کی ہے، بلکہ انہیں رہائش، خوراک اور بنیادی ضروریات بھی مہیا کی ہیں۔ یہ ادارے معاشرے کے ان کمزور طبقات کے لیے ایک نجی فلاحی نظام کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سرکاری تعلیمی نظام سے محروم رہ جانے والے بچوں کو سماجی تحفظ دیتا ہے۔ اندازاً 25 لاکھ سے زائد طلباء ملک بھر کے مدارس میں زیر تعلیم ہیں، جن میں سے اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔  بہت سے علماء نے خاص طور پر یتیم خانے (جیسے دارالایتام) چلاتے ہیں، جہاں بے سہارا بچوں کو پالنے اور پڑھانے کا انتظام ہوتا ہے۔  
اگر یہ علماء اور مدارس نہ ہوتے تو لاکھوں بچے جرائم، چائلڈ لیبر یا گلیوں کے آوارہ گردوں کے ہاتھ لگ سکتے تھے۔ مدارس انہیں نشہ، چوری اور دہشت گردی جیسی برائیوں سے بچاتے ہوئے معاشرے کے مفید فرد بناتے ہیں۔ دینی مدارس نے پاکستان کے معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے ایک فلاحی نظام تشکیل دیا ہے۔ یہ ادارے نہ صرف مذہبی تعلیم دے رہے ہیں، بلکہ معاشی مجبوریوں کے شکار خاندانوں کو سہارا بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے نظام میں کچھ خامیاں ہیں، لیکن ان کی سماجی خدمت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، دینی مدارس کو سراہتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوششیں بھی جاری رکھنی چاہئیں۔
7۔ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی
 بعض علماء نے انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اٹھائی اور امن کی تبلیغ کی۔ علماء نے نوجوان نسل کو دہشت گردی سے دور کرنے اور اتحاد بین المسلمین کی تعلیمات پر زور دیا۔ علماء نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا اور قرآن کی آیت:  
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (سورہ آل عمران: 103)  
  (اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔) کی تلقین کی۔ علماء نے مسلکی اختلافات کے باوجود امن کی بات کی اور عوام کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ ثاقب اکبر مرحوم جیسے جدید افکار کے حامل علماء کی کتابیں اتحاد امت کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ البتہ دوسری طرف بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کچھ علماء نے تنگ نظری اور فرقہ پرستی کو ہوا دی، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہوئی۔ بعض دینی جماعتوں نے شدت پسند گروہوں کو جواز فراہم کیا، جس پر تنقید ہوئی۔پاکستان میں علماء کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ کچھ نے قومی یکجہتی، تعلیم اور امن کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا، جبکہ کچھ کو انتہا پسندی اور سیاسی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ مجموعی طور پر، علماء پاکستانی معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں جو مذہبی رہنمائی کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
8۔ علماء کرام کا عوام کو قرآن و اسلام سے جوڑنے میں کلیدی کردار
پاکستان میں علماء کرام نے عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کی اکثریت آج بھی اسلامی اقدار سے وابستہ ہے۔ علماء نے تفسیر قرآن کے درس، وعظ و نصیحت اور دروسِ حدیث کے ذریعے لوگوں کو دین کی بنیادی باتوں سے آگاہ کیا۔ عام آدمی تک دین کی رسائی ممکن بنائی، چاہے وہ شہری ہو یا دیہاتی، امیر ہو یا غریب۔  
علماء نے معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کو روکنے کے لیے صبر، برداشت، ایثار اور ہمدردی جیسے اسلامی اصول سکھائے۔  
لوگوں میں خدمتِ خلق کو فروغ دیا۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات اور دیگر مالی واجبات و مستحبات کی ترغیب دے کر امیروں کو غریبوں کے ساتھ جوڑا۔  
آج کے دور میں سوشل میڈیا کے فتنوں کے خلاف علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی۔  
علماء کرام نے پاکستانی معاشرے کو قرآن و اسلام سے جوڑ کر ایک مضبوط اخلاقی و روحانی بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کی کوششوں سے ہی معاشرے میں رواداری، اخوت اور باہمی احترام کی فضا قائم ہوئی ہے۔ اگرچہ کچھ انتہا پسند عناصر کی وجہ سے علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن اکثریت نے ہمیشہ اعتدال، امن اور محبت کا پیغام دیا ہے۔ شاید اگر علماء نہ ہوتے، تو معاشرہ مادہ پرستی اور اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو جاتا۔ علماء ہی وہ رہنما ہیں جو عوام کو قرآن و سنت کی طرف بلاتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
9۔ پیغامِ پاکستان جیسی تحریکوں میں علماء کرام کا اہم کردار
پاکستان میں پیغامِ پاکستان جیسی قومی و اسلامی تحریکوں کی کامیابی میں علماء کرام کا کردار نہایت اہم اور نمایاں رہا ہے۔ ایسی تحریکیں ملک میں امن، رواداری، قومی یکجہتی اور اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہیں، اور علماء نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔
پیغامِ پاکستان کا مقصد، دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ، قرآن و سنت کی روشنی میں امن، محبت اور برداشت کا پیغام پھیلانا، پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مضبوط کرنا ہے۔  
علماء نے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا اور اسے اسلام کے خلاف جنگ قرار دیا اور دہشت گردی کی حرمت کے فتوے جاری کئے۔ انہوں نے عوام کو بتایا کہ جہاد کا مطلب دہشت گردی نہیں، بلکہ اپنے اندر اور معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔  
علماء نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کانفرنسز، اجتماعات اور میڈیا مہمات میں حصہ لیا۔ سنی و شیعہ علماء نے مشترکہ بیانات دے کر عوام کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ پیغامِ پاکستان کے تحت وحدت امت کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام مسالک کے علماء نے شرکت کی۔  علماء نے سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر میڈیا ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردی، منشیات اور اخلاقی بگاڑ سے بچانے کی کوشش کی۔  
علماء نے حکومتی پالیسیوں میں ہمیشہ تعاون کیا اور پیغامِ پاکستان جیسی مہمات کو حکومتی سطح پر سپورٹ کرنے کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت دہشت گردی کے خلاف کام کرنے میں علماء نے اہم کردار ادا کیا۔  
پاکستان میں علماء کی خدمات کے اثرات:
یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ پاکستان میں علماء کرام نے معاشرے کی اصلاح اور قومی یکجہتی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوششوں سے دہشت گردی کے رجحان میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ علماء کے پیغاماتِ امن اور رہنمائی کی بدولت بہت سے نوجوانوں نے دہشت گرد گروہوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے توبہ کی اور معاشرے کے مفید افراد بن گئے۔ ان کی تعلیمات نے نہ صرف انتہا پسندی کو کم کیا بلکہ امن و آشتی کا راستہ بھی ہموار کیا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے میدان میں بھی علماء کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ مختلف مسالک کے درمیان مکالمے اور رواداری کو فروغ دینے سے فرقہ وارانہ تشدد میں کمی آئی ہے۔ علماء نے باہمی اختلافات کو احترام کے ساتھ حل کرنے پر زور دے کر معاشرے میں اتحاد کی فضا قائم کی۔ ان کی کوششوں سے عوام میں یہ شعور بیدار ہوا کہ اختلاف رائے فطری بات ہے، لیکن اسے تشدد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ مسلکی پاکستان نہیں بلکہ مسلم پاکستان کے نظریہ اور قائداعظم کی جدوجہد اور علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کی علماء نے نہ صرف تائید کی بلکہ اس کے تحت عوام کو جوڑا۔
قومی یکجہتی کے حوالے سے علماء نے عوام کو یہ احساس دلانے میں اہم کردار ادا کیا کہ پاکستان سب کا ہے اور اس کی سلامتی اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے قوم کو متحد ہو کر بیرونی و داخلی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی، جس سے لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ فروغ پایا۔ علماء کی یہ کوششیں پاکستان کو ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ بنانے میں سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ علماء انتہا پسند گروہوں سے وابستہ رہے ہیں، لیکن اکثریت نے اعتدال پسندی کو فروغ دیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں بھی علماء کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس سے ان کا اثر کم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ: اگر علماء نے پیغامِ امن نہ پھیلایا ہوتا، تو پاکستان دہشت گردی اور فرقہ واریت کی آگ میں زیادہ جلتا۔

فرقہ واریت اور دہشت گردی: حقیقی مجرم اور علماء نما عناصر کا کردار
یہ کہنا درست نہیں کہ علماء نے فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے مسائل پیدا کیے۔ درحقیقت کچھ غیرذمہ دار عناصر نے مذہب کے نام پر اپنے مفادات پورے کیے۔ حقیقی علماء تو ہمیشہ امن اور رواداری کے داعی رہے ہیں۔ ہمیں اصلی اور جعلی علماء میں فرق کرنا ہوگا اور معاشرے کو درپیش ان مسائل کا حل اجتماعی کاوشوں سے تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے مسائل خود علماء کے پیدا کردہ نہیں بلکہ ان کی جڑیں کئی دہائیوں بلکہ صدیوں پر محیط ہیں۔ خطے میں جاری پراکسی وارز نے پاکستان کو خاص طور پر متاثر کیا۔ بیرونی امداد سے چلنے والے مخصوص منصوبوں نے انتہا پسندی کو ہوا دی۔ 
حقیقی علماء اور علماء نما افراد میں واضح فرق موجود ہے۔ کچھ مسلح گروہوں نے مذہبی لباس اور عنوانات کا غلط استعمال کیا۔ یہ عناصر درحقیقت سیاسی ایجنڈے کے حامل تھے اور بیرونی فنڈنگ سے چل رہے تھے۔ یہ لوگ اصل اسلامی تعلیمات سے ناواقف تھے
پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور سے بیرونی قوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہو چکا تھا۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے صورتحال کو مزید ابتر بنایا۔ کچھ ممالک نے جان بوجھ کر انتہا پسند گروہوں کو سپورٹ کیا۔ میڈیا وار کے ذریعے بھی مسلک پرستی کو ہوا دی گئی جبکہ دوستی طرف اصلی علماء نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات کی اور دہشت گردی کی مذمت بھی کی اور اس کے خلاف فتوے بھی جاری کئے۔ 
علماء و مدارس دینیہ کے معاشرے میں حقیقی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے تجاویز
معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی میں علماء اور دینی مدارس کا کردار نہایت اہم ہے، لیکن موجودہ دور میں ان کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کچھ اصلاحات اور تجاویز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، علماء کے ساتھ معاشرتی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔ بے جا تنقید اور اختلافات کی بجائے، ان کے ساتھ مل کر کام کرنے سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ علماء کی رہنمائی کو موثر بنانے کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو ان کے ساتھ مثبت تعاون کرنا ہوگا۔  

دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ دینی مدارس کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمیونیکشن سکلز، کمپیوٹر ایجوکیشن، اور جدید مہارتوں کو بھی تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلباء جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ نئی نسل کے مسائل و رجحانات کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ، مدارس میں معیاری تدریس، جدید تربیتی پروگرامز، اور ہنر مندی کی تعلیم پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔  
تیسری تجویز نوجوان نسل کو صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے۔ آج کل نوجوانوں میں مذہبی جذبات تو موجود ہیں، لیکن اکثر انہیں درست رہنمائی نہیں ملتی۔ علماء کو چاہیے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک اسلام کی صحیح تعلیمات پہنچائیں۔ سادہ اور دل نشین انداز میں دینی اقدار کو عام کرنے سے معاشرے میں انتشار کم ہوگا اور مثبت سوچ کو فروغ ملے گا۔  
آخری لیکن انتہائی ضروری پہلو یہ ہے کہ بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے قومی پالیسیاں بنائی جائیں۔ دینی مدارس اور علماء کے معاملات میں غیرملکی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے حکومت کو واضح لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مدارس کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی جانی چاہئیں۔ ان اقدامات سے علماء اور دینی مدارس اپنا حقیقی کردار ادا کر سکیں گے اور معاشرے کی ترقی میں مثبت حصہ ڈال سکیں گے۔
23۔05۔2025 

جمعرات، 22 مئی، 2025

جامعۃ الرضا میں ہفتہ واردرسِ اخلاق

اللہ کے نیک بندے ذمہ داریوں کو خود قبول کرتے ہیں، وہ ان سے بھاگتے نہیں۔ حجۃ الاسلام پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب۔ جامعۃ الرضا میں اسلام میں مدیریت کی اہمیت پر ہفتہ واردرسِ اخلاق کا انعقاد 
اگر نیک اور اہل لوگ مدیریت  و مسئولیت سے فرار کریں  گے تو کبھی اصلاح نہیں ہو گی۔ مدیر دوسروں کے لیے نمونۂ عمل  ہوتا ہے۔ دنیا پرستوں کو عہدے اور منصب کا لالچ ہوتا ہے جبکہ نیک لوگ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے مسئولیت و مدیریت کو قبول کرتے ہیں۔مدیریت  انسان میں توفیقِ اجباری پیدا کرتی ہے، یعنی انسان خود کو بہتر بنانے پر مجبور ہوتا ہے۔ طلبا کو چاہیے کہ وہ علم کو عمل میں ڈھال کر اپنے   دوستوں اور عزیز و اقارب کے لیے  ایک بہترین مثال بنیں۔ہمیں عہدہ طلب نہیں، قبول کرنا چاہیے۔منصب کے لالچ میں نہیں آنا چاہیے؛ ہمیشہ  قیادت صرف خدمت و ذمہ داری کے لیے قبول کی جائے۔
رپورٹ واصف رضا : 
متعلم  جامعۃ الرضا اسلام اباد:
بروز جمعرات، مورخہ 22 مئی 2025 کو جامعہ الرضا میں  سلام آباد میں اسلام میں مدیریت کی اہمیت کے عنوان پر  حجۃ الاسلام پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب نے درسِ اخلاق دیا۔اس درس میں مولانا موصوف نے سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 74 اور سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 124 کی روشنی میں اسلام میں مدیریت (قیادت و ذمہ داری) کی اہمیت کو واضح فرمایا۔
آپ نے کہا  کہ "امام" کا مطلب ہے: دوسروں کے لیے نمونۂ عمل بننا۔یعنی  اسلام میں قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں، بلکہ عملی نمونہ بننے کا تقاضا کرتی ہے۔اسی طرح آپ نے  یہ بھی وضاحت کی کہ اللہ کے نیک بندے جاہ و منصب  کے لالچ  سے گریز کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنےکیلئے آگے بڑھتے ہیں  جب کہ دنیا دار لوگ قیادت اور عہدے کے طلبگار ہوتے ہیں۔آپ نے  طلبا کو سمجھایا کہ  اسلامی تصورِ قیادت میں عہدہ خود طلب نہیں کیا جاتا، بلکہ ذمہ داری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ انہوں نے  بہت احسن انداز میں اس پر روشنی ڈالی کہ مدیریت انسان میں توفیقِ اجباری پیدا کرتی ہے۔ یعنی مسئولیت  انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خود کو عملی طور پر بہتر بنائے۔ جو شخص  مدیریت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار و عمل کو دوسروں کے لیے معیار بنائے۔
انہوں نے طلبا سے کہا کہ منصب کے لالچ میں آگے نہ آئیں، بلکہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے آگے آئیں۔انہوں نے کہا کہ مسئولیت بطورِ عہدہ طلب نہیں کی جاتی، بلکہ قبول کی جاتی ہے جب اس کا مقصد خدمت ہو، نہ کہ شہرت و مفاد۔
اس موقع پر  یہ نکتہ بھی روشن ہوا کہ طالبِ علمی بذاتِ خود ایک بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ ہم جس مقصد کے تحت مدرسے میں آئے ہیں، اسے عملی میدان میں دکھانے کے لیے ہمارے عزیز و اقارب ہماری طرف نگاہیں لگائے بیٹھے ہیں۔ علم حاصل کرنا محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی و دینی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے سورۃ البقرہ کی آیت 124 کے حوالے سے کہا ذمہ داریاں لینا 'عباد الرحمٰن' کی فطری خواہش ہوتی ہے۔یعنی  حقیقی نیک لوگ مسئولیت کو  امانت سمجھ کر قبول اور ادا کرتے ہیں، نہ کہ فخر و تکبر کے طور پر۔درس کے اختتام پر طلاب نے مختلف سوالات کیے، جن کے جوابات پروفیسر صاحب نے نہایت عمدہ اور مدلل انداز میں دئیے۔ 
آخر میں، انہوں نے خود بھی طلاب سے ایک سوال کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو پہلے ہی نبی تھے، پھر انہیں امام کیوں بنایا گیا؟ یعنی نبی اور امام میں کیا فرق ہے؟ اس پر انہوں نے واضح کیا کہ نبی صرف خبر دیتا ہے، یعنی حکمِ الٰہی پہنچاتا ہے، لیکن امام اس حکم کو عملی میدان میں نافذ کرتا ہے اور اس پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔ اسلام میں "نبی" اور "امام" کے درمیان فرق یہ ہے کہ نبی پیغام پہنچاتا ہے، جبکہ امام اس پیغام کا عملی نمونہ بن کر امت کی رہنمائی کرتا ہے۔ 

اتوار، 18 مئی، 2025

Indian Terrorism and Atrocities on Women in Occupied Kashmir: Dr. Nazir Hafi

اب بھارت سے صرف دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر پر ہی بات ہونی چاہیے
ڈاکٹر نذر حافی :
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل   فورم:
بھارت سے بڑا دہشت گردکون ہے؟ ۵ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی حکومت (بی جے پی) نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 اور 35A کو یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔اس سے مقبوضہ کشمیر کا الگ آئین، جھنڈا اور قانون سازی کا اختیار سلب کر لیا گیا۔ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے کی اجازت مل گئی اور بھارتی قوانین براہِ راست مقبوضہ کشمیر میں نافذ کر دئیے گئے۔  سوال یہ ہے کہ اگر بھارتی حکومت مذکورہ آرٹیکلز کو منسوخ نہ کرتی تو کیا اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کچھ کم تھے؟
سچ تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی سالوں سے بھارت کا اخلاقی دیوالیہ پن  سب کے سامنے عیاں ہے۔اس سے پہلے  بھی مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجی تعینات تھے، آئے روز فوجی لاک ڈاؤن اور کرفیو کا دور دورہ تھا۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ تو اُس سے بھی  پہلے کا ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورکس، حتیٰ کہ لینڈ لائن سروسز بھی مہینوں بند رہتی ہیں۔ سیاسی قیادت اور دیگر سینئر رہنماؤں کو حراست میں لینا، میڈیا پر قدغن، مقامی صحافیوں کو ہراساں کرنا اور سینسرشپ کا عائد ہونا کبھی رُکا نہیں۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر بھارتی افواج کا قبضہ، غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت اور ڈیموگرافک تبدیلی کو یقینی بنانا، یہ ہر دور کی بھارتی حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور مقبوضہ کشمیر کے آبی ذخائر پر ناجائز قبضہ کر کے پاکستان کا پانی بند کرنا یہ بھی کوئی آج کی دہشت گردی نہیں۔اقوام متحدہ نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف  کبھی تشویش کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی محدود پیمانے پر جو رپورٹس جاری کیں، وہ بھی بھارت  جیسے دہشت گرد نے نظر انداز کر دیں۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی ہمیشہ ایسے اقدامات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار  دینے تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا۔ 
خیر پاکستان و بھارت کو ایک طرف رہنے دیجئے۔ مقبوضہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) 1990 اور دیگر کالے قوانین مودی سے بہت پہلے کے زمانے سے  مقبوضہ کشمیر میں رائج ہیں۔ ان قوانین کے باعث بغیر وارنٹ گرفتاری، اچانک فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کی اجازت، عدالتی کارروائی سے استثنائی قتل و اغوا کا ایک لامتناہی سلسلہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے۔ بھارت کی دہشت گرد قابض فورسز کے ہاتھوں پیلٹ گنز (چھرے والی بندوقیں) کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری اندھے ہو  چکے ہیں اور   ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے  اور بے شمار خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔
اس وقت مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سیاسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، بلکہ حالیہ مہینوں  میں ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ سامنے آیا ہے جس کی  طرف عالمی میڈیا نے توجہ نہیں دی۔ مودی حکومت نے کشمیر کی تاریخ میں سفاکیت کے ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔  آزاد کشمیر کی جن خواتین کی مقبوضہ کشمیر میں شادیاں ہوئی تھیں مودی سرکار نے اُن  شادی شدہ کشمیری خواتین کو مقبوضہ کشمیر سے بے دخل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ 
حقیقتِ حال یہ ہے کہ بارڈر کے دونوں طرف کشمیری آپس میں رشتہ داریاں رکھتے ہیں اور ان کی آپس میں شادیاں ریاستی قانون کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مردوں سے شادیاں کرنے والی خواتین کو جبری طور پر اپنے بچوں اور شوہروں سے الگ کرنے کی اجازت نہ تو کوئی قانون دیتا ہے اور نہ ہی مذہب۔ کثیر تعداد میں ایسی خواتین کو بھارت نے واپس آزاد کشمیر جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔ کئی خواتین اس وقت بھارت کی جیلوں میں بند ہیں یا انہیں ڈی پورٹیشن مراکز میں رکھا گیا ہے یا پھر وہ لاپتہ کر دی گئی ہیں۔ بعض کیسز میں مقامی انتہا پسند ہندو گروپوں نے خواتین کو زبردستی گھروں سے نکالا اور آرمڈ فورسز کی آشیرباد سے انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
کچھ خواتین نے عدالتوں سے رجوع کیا، مگر قومی سلامتی کے نام پر ان کی فریاد سنی نہیں گئی۔ یہی بھارت اور مودی کا اصلی چہرہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے محدود سطح پر آواز اٹھائی، مگر بھارت نے اسے ’’داخلی مسئلہ‘‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام اس  دُکھ سے بالکل الگ تھلگ ہے، لوگ  اسی میں خوش ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے پچیس اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور سات جہازوں کو تباہ کر دیا۔ گویا جنگیں صرف فوجی میدانوں میں جیتی جاتی ہیں۔  ہماری توجہ مقبوضہ کشمیر میں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالی پر ہے ہی نہیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیری خواتین کے حقوق کی پامالی صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جو انسانی وقار اور آزادی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا، اگر بھارت ماتا کو ان خواتین کا وجود اتنا ناگوار گزرتا ہے، تو انہیں ایک موقع فراہم کیا جائے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے وطن (آزاد کشمیر) واپس لوٹ سکیں۔
اگر انہیں واپسی کا موقع نہیں دیا جاتا تو ہم  انسانی بنیادوں پر مطالبہ کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو وہاں مستقل رہائش، شہریت یا خصوصی قانونی تحفظ دیا جائے، کیونکہ ان کے حقوق کو نظر انداز کرنا صرف ظلم نہیں، بلکہ  ایک عسکری،   اخلاقی اور قانونی دہشت گردی  ہے۔ ہندوستان و پاکستان  دونوں طرف کے عوام اور عالمی برادری  کو یہ سمجھنا چاہیے  کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا مطلب صرف زمین کی آزادی نہیں، بلکہ کشمیر میں بسنے والے  انسانوں کی عزت، آبرو اور زندگیوں کا بھارتی فورسز کی دہشت گردی سے تحفظ ہے۔  کشمیریوں کی جدوجہد  صرف  کشمیر کی جغرافیائی خودمختاری کے لیے نہیں، بلکہ انسانی حقوق اور کرامت کے تحفظ کے لیے ہے۔ بھارت سے بات چیت اب صرف دہشت گردی کے موضوع پر ہونی چاہیے، تاکہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم کا خاتمہ ہو اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم  انسانیت کے خلاف بھارتی دہشت گردی  کو روکا جا سکے۔ میرا تمام منصف مزاج ہندوستانیوں سے بھی یہ خصوصی طورپر مطالبہ ہے کہ بھارت ماتا کے نام پر  سیاست نہیں انسانیت بچائیں۔ اب بھارت سے  بھارت کے اندر اور باہر ہر فورم پر بات صرف اور صرف  دہشت گردی کے موضوع پر ہی ہونی چاہیے، جی ہاں !بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی دہشت گردی۔۔۔ 

Self-confidence: Nazar Haffi

خود اعتمادی، حصول سے استعمال تک : 
ڈاکٹر نذر حافی :  
 میرے ایک چھوٹے سے ہمسائے کی عُمر ابھی صرف سات سال ہے۔وہ سکول بس میں سوار ہونے کیلئے  روزانہ اپنے والد صاحب کے ساتھ بس اسٹاپ تک جاتا ہے۔اِن دنوں اُس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی سکول آنا جانا ہے۔ اپنی زندگی کے پہیے کو دوسروں کے ریلے کے ساتھ گھمانے سے مشکلات حل نہیں ہوتیں۔ لہذا حسین کیلئے ضروری ہے کہ اگلے چند سالوں میں وہ تنہا بس اسٹاپ تک جانا سیکھ جائے۔

گزشتہ روز اتوار تھا۔ اُس دن بھی حسین مجھے گلی میں  ٹیویشن پڑھنے کیلئے جاتا  دکھائی دیا۔  یعنی وہ اتوار کو بھی پڑھائی کی چھٹی نہیں کرتا۔  اس عمر میں تعلیم اُس کی بہت ساری تفریحات اور کھیلوں کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ میں اُس کے والدین سے بھی کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔  وہ  اُس کی تعلیم کو ہی اُس کیلئے تفریح و تربیّت بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ تعلیم اور تذکیہ نفس، تعلیم اور تفریح، تعلیم اور سیروسیاحت یہ سب حقیقت میں ایک ہی ہیں۔انہیں الگ الگ دیکھنا اور الگ انجام دینے کی کوشش کرنا سات سالہ حُسین سے سکون، اطمینان اور خوداعتمادی چھیننے کیلئے کافی ہے۔ 
اپنی زندگی کی موجودہ مشکلات کو عبور کرنے کیلئے حسین کو اِن دنوں بہت زیادہ   خود اعتمادی چاہیے۔ چونکہ خود اعتمادی کا حامل انسان اپنے حالات کو ایک  سیڑھی  طرح دیکھتا اور اوپر چڑھتا رہتا ہے۔ حسین کے والدین، عزیزواقارب ، اساتذہ اور ہمسایوں کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی انسان یا معاشرے  کی سب سے بڑی جنگ وہ ہوتی ہے جو وہ  احساسِ کمتری کے خلاف لڑتا ہے۔ خود اعتمادی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے، مگر اکثر لوگ اپنے بچوں، شاگردوں اور عزیزواقارب کی   روشنی کو  احساسِ کمتری  و مایوسی کے سائے میں دبا دیتے ہیں۔ پروردگار  ایسے لوگوں کو جنجھوڑ کر کہتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ ،کمزور نہ پڑو اور نہ غمگین ہو، اگر تم مومن ہو تو تم غالب رہو گے۔سورۃ آل عمران: 139
خود اعتمادی کے حصول کیلئے  خدا پر توکل  اور اُس سے دعا کرنا ضروری ہے۔ جب انسان خوداعتمادی کے ساتھ خدا سے لو لگاتا  ہے تو  اُس کیلئے  پہاڑوں اور سمندروں میں  بھی راستے بن جاتے ہیں۔ اسی لئے تو قرآن مجید کہتا ہے " ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (سورۃ غافر: 60) ۔
حسین جیسے ہزاروں بچے روزانہ سکول بس پر سوار ہوتے ہیں۔ کیا اُن سب کے والدین  اور اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ حسین کی اسکول بس کی مکینیکل حالت اورڈرائیور کی ذہنی و اخلاقی صحت کیسی ہے؟  گھر سے نکلنے کے بعد بچے کو کہیں خوف   و وسواس کی زنجیریں   تو نہیں جکڑ لیتیں۔ یہ خوف اُستادوں کی  ڈانٹ ڈپٹ، مارپیٹ، کلاس فیلوز کی منفی رقابت،اور سکول بس کے ڈرائیور کے سخت رویّے کا بھی ہو سکتا ہے۔  
ایسے میں خود اعتمادی ہی  وہ چابی ہے جو بچے کی زبان کھولتی ہے۔خود اعتمادی  یہ نہیں کہ بچے  خطرات سے  خوف  محسوس نہ کریں  بلکہ خود اعتمادی یہ ہے کہ بچے خوف کے بارے میں اپنے والدین،  اور استادوں  کو  اپنے مسائل سے آگاہ کر سکیں اور   اپنے اوپر اعتماد کرتے ہوئے والدین  و  اساتذہ کی رہنمائی میں آگے بڑھتے  رہیں۔
بچے  کی خود اعتمادی کے فقدان کی ایک وجہ اُس کیلئے  منزل کی واضح تصویر  کا نہ  ہونا ہے۔ میرے کم سِن ہمسائے " حسین " کی منزل ان دنوں  سکول جانا ہی ہے۔ کیا اگلے چند سالوں میں بھی اُس کی منزل صرف سکول جانا ہی ہو گی؟  کیا ساری زندگی اُس کی  منزل سکول، کالج، یونیورسٹی اور دفتر جانا ہی ہونی چاہیے؟
حسین کے والدین اور اساتذہ کیلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حسین کے دل و دماغ میں اُس کی  زندگی کا  واضح نقشہ  ابھار سکیں۔آپ دو آدمیوں کو انتہائی زرخیز زمین دے دیں۔ اگر ایک کے پاس زراعت کی جانکاری ہو، وہ جانتا ہو کہ اس زمین سے مجھے کیا کرنا ہے تو  اُس کی زمین سونا اُگلے گی جبکہ  دوسرا  اتنی زمین دیکھ کر خوابوں میں کھویا رہے گا۔ نقصان اور خسارے کا واویلا کرے گا اور آنسو بہاتا ہوا نظر آئے گا۔پس حسین کی طرح ہر انسان کی خود اعتمادی کی جڑ  اُس کے دماغ کے  اندر موجودزندگی کے نقشے میں ہے باہر نہیں۔انسان کے پاس اُس کی  منزل کا نقشہ نہ ہو تو اُس کے سُنہرے  خواب  محض سراب ہوتے ہیں۔
حسین روزانہ مقررہ وقت پر بس اسٹاپ پہنچتا ہے۔کل کو   وہ اپنی  زندگی میں جو بھی بنے گا ، اُس کی  ناکامیوں یا کامیابیوں کا وہ  اکیلے سبب نہیں ہوگا۔ حسین سمیت ہر بچہ بڑا ہو کر  اپنے والدین، اُستادں، دوستوں اور ماحول  کا  چلتا پھرتا عکس ہوتاہے۔
کچھ اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے اور اپنے بچوں کیلئے زرخیز ماحول کی تلاش بھی خود اعتمادی کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسے ایک پودا روشنی کی تلاش میں زمین کی گہرائی میں جڑیں گاڑھتا اور بڑھتا جاتا ہے، ویسے ہی  انسان کو بھی جہاں اچھا ماحول ملے وہاں اپنی جڑیں گاڑھنی چاہیے۔انسان،  پتھر کی مانند نہیں ہے کہ وہ  اپنا ماحول  تبدیل نہ کر سکے اور جہاں ہے وہیں پڑا رہے۔اچھے ماحول کی تلاش میں  ناکامی وہ نہیں جو ہمیں گرا دے بلکہ وہ ہے جو ہمیں  اچھے ماحول میں جڑیں گاڑھنے سے روکے۔
حسین جیسے سکول جاتے ہر بچے کیلئے آج کا دن کل کا ماضی ہوگا۔ ماضی کی ناکامیاں دراصل اس وقت کی زندگی کا عکس ہوتی ہیں جب ہم زندگی کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائےتھے۔ زندگی کو سمجھنے میں شکست کے تجربے سے گزرنا  بھی ضروری ہے۔ماضی کی شکست و ریخت  انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ اُس  کا اصل مقام اس کی ہمت میں چھپاہوتا ہے، نہ کہ اس کی کامیابیوں میں۔ انسان کا ماضی اُس کی  تقدیر کا تعین نہیں کرتا بلکہ  ماضی کے تجربات اُن تُند وتیز طوفانی ریلوں کی مانند ہوتے ہیں جو راستے کی چٹانوں کو بہاکر لے جاتے ہیں۔ ماضی کا فقط وہ حصّہ قابلِ غور ہوتا ہے جس سے ہم نے کچھ سیکھا اور اُس سے ہماری  خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔
حسین کے اسکو ل بیگ یعنی بستے کو معمولی نہ سمجھئے۔ اُس  کا بستہ اُس کی خود اعتمادی کا خزانہ ہے۔ وہ تو  اپنا بستہ اٹھا کر روزانہ  سکول جاتا ہے  لیکن اُس کی عمر کے  سینکڑوں بچےبالکل  سکول  جاتے ہی نہیں۔ کیا  سکول انتظامیہ اور والدین کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ روزانہ  اُٹھایا ہوا یہ بستہ حسین کی خود اعتمادی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے یا نہیں؟  کیا جو بچے روزانہ بستہ اٹھا کر سکول نہیں جاتے وہ خود اعتمادی کے لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ 
کیا بچوں کے والدین اور اساتذہ  بھی یہ سمجھتے ہیں کہ  خود اعتمادی کے ساتھ  آگے بڑھنے کا سب سے اہم آلہ علم  ہے۔ صرف یہی ایک آلہ ہے جو  زندگی کی تاریک راہوں میں  انسان کی خود اعتمادی وبصیرت کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔علم نہ ہوتو خود اعتمادی و بصیرت کیسی اور زندگی میں بلند درجات و ارتقا کا امکان کہاں!۔ کیا ہمارے ہاں کے اساتذہ اور والدین نے کبھی بچوں کے اسکول بیگز کو کھول کر یہ اندازہ لگایا ہے کہ ان بیگز میں کتابیں و کاپیاں کتنی ہیں اور خوداعتمادی کتنی ہے؟   کیا ہماری  اس طرف بھی توجہ ہے :
"يَرْفَعِ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا گیا ہے بلند درجات دیتا ہے۔" (سورۃ المجادلہ: 11)خود اعتمادی کے بغیر کاپیاں و کتابیں انسان کے کسی دکھ کی دوا نہیں۔  اس کے بغیر  انسانی زندگی خزاں کے موسم میں کسی  درخت کے لرزتے پتے کی مانند ہے۔
خود اعتمادی کیلئے بچے کو دو چیزوں کا سکھانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ  میرے دور کی خصوصیات اور ضروریات کون سی ہیں؟ یعنی میں کس زمانے کا انسان ہوں؟  اور دوسرے یہ کہ میں اپنے زمانے کے تقاضوں  کو کیسے پورا کر سکتا ہوں؟ یعنی میں اپنے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ کیسے چل سکتا ہوں؟
واضح رہے کہ  خود اعتمادی  یہ نہیں کہ ہم کبھی نہ گریں، بلکہ یہ ہے کہ ہر گرنے کے بعد خدا پر توکل کرتے ہوئے  اٹھ کر اپنے سفر کو جاری رکھیں۔ جس  انسان کو اپنے قدموں پر یقین نہ  ہو تو اُسے زمین پر  گرنے کیلئے کسی اونچے پہاڑ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرچھ سال کی عمرمیں بچے  کی ٹانگیں مضبوط نہ ہوں تو  ساٹھ سال کی عمر میں تو ویسے ہی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔

ہفتہ، 17 مئی، 2025

تاریخ کا عنوان بننے والے لوگ/ تحریر: ابوذر غفاری

تاریخ  کا عنوان بننے والے لوگ:
تحریرابوذر غفاری متعلم جامعۃ الرضا اسلام آبا دشعبہ تحقیق :
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے پاس سب کچھ موجود ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ خود کو ان سے مستفید نہیں کرتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں افراد میں صرف چند ایسے ہوتے ہیں جنہیں تاریخ محفوظ رکھتی ہے، باقی وقت کی موجوں کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔
سمندر کو ہی دیکھ لیجیے، جو بظاہر صرف پانی لگتا ہے، لیکن اس میں حیوانات، نباتات اور جمادات بھی موجود ہیں۔ اس وسیع سمندر میں ایک نایاب شے وہ موتی ہے جو ہزاروں میٹر گہرائی سے اُبھر کر بارش کے ایک قطرے کو اپنے اندر جذب کرتا ہے اور پھر دوبارہ گہرائی میں واپس لوٹتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ راستہ کتنا دشوار ہے، مگر وہ اپنا مقصد نہیں بھولتا۔
صدف مچھلی کی زندگی اسی جدوجہد کا نام ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ مخلوق گہرائی سے سطح تک آتی ہے۔ راستے میں کئی ہمت ہار جاتی ہیں، کچھ بڑی مچھلیوں کا شکار بن جاتی ہیں، لیکن چند ایک اپنی منزل تک پہنچ کر بارش کا قطرہ سمیٹتی ہیں اور پھر اسی ہمت کے ساتھ واپس لوٹتی ہیں۔ ان میں سے بھی اکثر راستے میں ہار مان لیتی ہیں، صرف چند ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر گہرائی تک واپس پہنچتی ہیں اور یوں ایک نایاب اور قیمتی موتی میں ڈھل جاتی ہیں۔
سوال یہ ہے: اتنے وسیع سمندر میں یہی چند کیوں قیمتی ٹھہرتی ہیں؟اس کا جواب واضح ہے: مقصد کی پہچان، ہمت، استقلال اور مسلسل جدوجہد۔
یہی مثال انسان پر بھی صادق آتی ہے، بلکہ انسان کا امتحان کہیں زیادہ سخت ہے۔ صدف کا مقصد واضح اور سادہ ہے، مگر انسان کے مقاصد مختلف، متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ انسانوں کی تعداد اربوں میں ہے، ان کے عقائد، افکار، مذاہب، تمدن، طرزِ حیات سب الگ الگ ہیں، مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: موت اور فناء۔
یہاں چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
اگر مرنا ہی ہے تو یہ دنیا کیوں بنائی گئی؟
یہ دنیا ابدی کیوں نہیں؟
دنیا کے بعد کیا ہوگا؟
انسان کا اصلی مقصد کیا ہے؟ اور منزل کب ملے گی؟
(ان سوالات کے جوابات آئندہ کسی مفصل تحریر میں پیش کیے جائیں گے۔)
صدف کی طرح انسان کا بھی ایک اعلیٰ مقصد ہے، مگر انسان کی جہالت، غفلت یا سستی اسے اس مقصد سے غافل رکھتی ہے۔ کچھ جانتے ہیں، مگر عمل نہیں کرتے۔ کچھ راستے میں ہمت ہار دیتے ہیں۔ کچھ دوسروں کے طعنوں، رکاوٹوں یا حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔انسانی ترقی کا پہلا سنگِ میل: اپنے مقصد کا تعین ہے۔
یہ تعین کہاں سے ہوتا ہے؟گھر اور معاشرہ انسان کے مزاج، رجحان اور راستے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اگر معاشرہ پڑھا لکھا ہو، تہذیب یافتہ ہو تو انسان بھی سدھرتا ہے، ورنہ بگاڑ کی راہ اختیار کرتا ہے۔
انسان کے ہدف میں رکاوٹ صرف دوسروں کی مخالفت ہی نہیں، بلکہ اکثر اس کی اپنی سستی، غفلت، یا خوف ہوتا ہے۔ حالانکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت موجود ہے۔ اگر وہ اسے پہچانے، نکھارے اور اس پر استقامت سے قائم رہے، تو وہ بھی ایک نایاب موتی بن سکتا ہے، ورنہ وقت اسے بےنام و نشان بنا دیتا ہے۔یہ تو صرف ایک تمہید تھی…تفصیلات، سوالات کے جوابات اور مزید نکات آئندہ پیش کیے جائیں گے۔
جامعۃ الرضا اسلام آباد شعبہ تحقیق 

جمعہ، 16 مئی، 2025

تنقید کیوں اور کیسے ؟

تنقید کیوں اور کیسے ؟
پروفیسرسیدامتیازعلی رضوی :   
تنقید (Criticism) کا بنیادی مطلب کسی چیز کے محاسن و معائب کا تجزیہ کرنا ہے، جس کا مقصد بہتری یا فہم و فراست میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو پھر ہمیں تنقیدی مزاج اور تنقیدی ماحول بنانا ہوگا۔ اپنے انداز کو بدلنا ہوگا۔ شائستگی کے ساتھ تنقید کرنا سیکھنا ہوگا اور تنقید کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں تنقید سے ڈرنے کے بجائے اسے ارتقاء کے بہترین موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ لہذا تنقید کا صحیح استعمال معاشرے، ادب، فن، سیاست یا کسی بھی شعبے میں تعمیری تبدیلی لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔  تنقید ایک فن ہے، اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ تعمیر کا ذریعہ بن سکتی ہے، ورنہ یہی تنقید تخریب میں بدل سکتی ہے۔ لہٰذا، تنقید کرتے وقت حکمت، انصاف اور احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
تنقید کی اقسام:  
1۔ تعمیری تنقید (Constructive Criticism): 
اس کا مقصد کسی کے کام یا رویے کو بہتر بنانا اور راہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہ تنقید شائستہ انداز میں، مثبت تجاویز کے ساتھ کی جانی چاہیے تاکہ مخاطب کو فائدہ پہنچے۔ 
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ" (النحل: 125)، یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو۔ ایک اور آیت میں ہے: وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ(آل عمران 3:104)، یعنی تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔" یہ آیت تعمیری تنقید کی بنیاد ہے، جس کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہے۔  
اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" (صحیح بخاری و مسلم)، جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
 شیعہ و سنی روایات دونوں میں نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ نصیحت کرنے پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام علیؑ فرماتے ہیں: "النَّصِيحَةُ فِي السِّرِّ مِنْ أَصْدَقِ أَنْوَاعِ الْإِيمَانِ" (غرر الحکم)، یعنی رازداری میں نصیحت کرنا ایمان کی سچائی کی علامت ہے۔ لہٰذا تعمیری تنقید کا مثبت انداز ہی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ 
مثال کے طور پر اگر کسی مضمون نگار کی تحریر میں تحقیقی پہلو کم نظر آئے تو اسے یوں کہا جائے: "آپ کے خیالات اچھے ہیں، لیکن اگر آپ مزید تحقیق شامل کریں تو بحث مضبوط ہو سکتی ہے۔"  
2۔ تخریبی تنقید (Destructive Criticism): 
اس کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا یا بے جا تنقید کرنا ہوتا ہے بغیر کسی مفید مشورے کے۔ یہ تنقید تلخ اور غیر معاون انداز میں کی جاتی ہے اور بعض اوقات ذاتیات پر حملہ تک پہنچ جاتی ہے، جیسے کہنا: "یہ کام بالکل بیکار ہے، آپ میں صلاحیت ہی نہیں۔" 
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے رویے سے منع فرمایا ہے: "وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ" (الحجرات: 11)، یعنی ایک دوسرے کو برے القابات سے مت پکارو۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی سختی سے منع فرمایا: "المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" (صحیح بخاری)، یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ 
 احادیث میں بھی اس کی مذمت ملتی ہے، جیسے امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "مَنْ عَیَّرَ مُؤْمِناً بِشَيْءٍ لَمْ یَمُتْ حَتَّى یَرْکَبَهُ" (الکافی)، جو کسی مومن کو کسی عیب پر طعنہ دے گا، وہ مرنے سے پہلے خود اسی میں مبتلا ہوگا۔ لہٰذا، تخریبی تنقید نہ صرف اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
3۔ ادبی/فنی تنقید (Literary/Artistic Criticism):
 اس کا بنیادی مقصد کسی تخلیق کے معنیٰ، اسلوب اور اثرات کو گہرائی سے سمجھنا اور اس کی معنوی و فنی قدروں کو اجاگر کرنا ہے۔ جیسا کہ مولانا روم نے فرمایا: "فن کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے دل کی آنکھ سے دیکھو، کیونکہ ظاہر تو صرف پردہ ہے۔" علامہ اقبال کے نزدیک "حقیقی تنقید، فنکار کے تخلیقی عمل اور اس کے پیغام کو سمجھنے کا نام ہے۔" شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ "کلام کی لطافت اور فن کی نزاکت کو وہی پہچان سکتا ہے جو خود اس کی روح سے آشنا ہو۔" لہٰذا اچھی ادبی و فنی تنقید کا کام صرف رائے دینا نہیں، بلکہ فن کے بنیادی ڈھانچے اور علامتی نظام کو کھولنا ہے۔یہ تنقید معروضیت، تحقیقی رویے اور معیاری پیمانوں پر مبنی ہوتی ہے، جو نہ صرف فنکار کے ارادوں کو سمجھتی ہے بلکہ اس کے وسیع تر ثقافتی اثرات کو بھی روشن کرتی ہے۔ نہ صرف فن کے ظاہری حسن بلکہ اس کے باطنی حقائق کو بھی سامنے لاتی ہے، اور یہ کام معروضیت، گہری تحقیق اور فنی بصیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر علم و فن کے آگے بڑھنے میں اس تنقید کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی سے تحقیق کا رجحان جنم لیتا ہے۔ 
تنقید کی حدود و شرائط:
1۔ منصفانہ ہو:
تنقید کرتے وقت انصاف سے کام لینا چاہیے، جس میں صرف کمزوریوں کی نشاندہی ہی نہ کی جائے بلکہ خوبیوں کو بھی سراہا جائے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور انصاف کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ" (النحل:90)، یعنی اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی متوازن رویہ اپنانے کی تلقین فرمائی: "انْصِفُوا بَيْنَ الْأَوْلَادِ حَتَّى فِي الْقُبْلَةِ" (سنن ابن ماجہ)، یعنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، یہاں تک کہ پیار کرنے میں بھی۔ 
 احادیث میں بھی اس اصول پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام علیؑ فرماتے ہیں: "مَنْ قَوَّمَ أَخَاهُ فِي مَلَأٍ فَقَدْ هَانَهُ" (غرر الحکم)، یعنی جو شخص کسی کی برائیوں کو ملائے عام میں درست کرے، اس نے اسے ذلیل کیا۔ لہٰذا، تنقید کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کمزوریوں کو نرمی سے بتایا جائے اور خوبیوں کو بھی تسلیم کیا جائے، تاکہ اصلاح کا مقصد پورا ہو سکے۔
2۔ مدلل ہو:
بغیر دلیل کے تنقید کرنا بے وزن اور غیر مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ حقائق، مثالوں اور منطقی دلائل کے بغیر رائے کا کوئی علمی وزن نہیں ہوتا۔ 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دلیل اور برہان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"(البقرہ:111)، یعنی اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: "إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَصْدَقُهُ" (صحیح مسلم)، یعنی اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ بات وہ ہے جو سچی ہو۔ 
 احادیث میں بھی اس اصول پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "مَنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ بُرْهَانٍ فَقَدْ تَكَلَّفَ مَا لَيْسَ لَهُ" (الکافی)، یعنی جو شخص بغیر دلیل کے بولتا ہے وہ ایسی چیز کا متکلم ہے جو اس کے لیے نہیں۔ 
لہٰذا، تنقید کرتے وقت دلیل اور منطق کو ساتھ رکھنا چاہیے تاکہ بات وزنی اور مؤثر ہو سکے۔
3۔ شائستگی کے ساتھ ہو:
تنقید کے لیے الفاظ کا محتاط انتخاب ضروری ہے، کیونکہ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے نہ کہ ذاتی حملہ۔ 
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے نرم گفتاری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا" (البقرہ:83)، یعنی لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ایک اور مقام پر ہے یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَیٰ أَن یَکُونُوا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَیٰ أَن یَکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ، (الحجرات)، یعنی اے ایمان والو! نہ تو کوئی قوم کسی قوم کا مذاق اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔یہ آیت تنقید کو تحقیر آمیز انداز میں کرنے سے منع کرتی ہے۔
سورۃ طہ (20:44) میں حضرت موسیٰؑ کو فرعون سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَیٰ، یعنی پھر اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ یہ آیت دوسروں کو شائستگی سے تنقید کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔  
رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا: "لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ"(سنن ترمذی)، یعنی مومن طعنہ زن، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔ 
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:"إِذَا قُلْتَ فِی أَخِیکَ الْمُؤْمِنِ مَا لَا یَعْلَمُهُ، فَقَدْ هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَهُ"(وسائل الشیعۃ، ج 12، ص 286)، یعنی جب تم اپنے مؤمن بھائی کے بارے میں وہ بات کہو جو وہ نہیں جانتا، تو تم خود بھی ہلاک ہو گئے اور اسے بھی ہلاک کر دیا۔لہٰذا تنقید کرتے وقت الفاظ کا انتخاب اس طرح ہو کہ بات اصلاح تک پہنچے نہ کہ تعلقات خراب ہوں، کیونکہ حکمت اور نرمی ہی مؤمن کا شیوہ ہے۔
4۔ مقصد واضح ہو:
تنقید کا مقصد صرف اور صرف بہتری ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کو ذلیل کرنا یا نیچا دکھانا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَالْعَصْرِ۔ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ" (سورۃ العصر)، زمانے کی قسم، انسان گھاٹے میں سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک کام کیے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "الدِّينُ النَّصِيحَةُ" (صحیح مسلم)، یعنی دین خیرخواہی کا نام ہے۔ 
 احادیث میں امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے: "مَنْ نَصَحَ أَخَاهُ فِي السِّرِّ فَقَدْ زَانَهُ، وَمَنْ نَصَحَهُ فِي الْعَلَانِيَةِ فَقَدْ شَانَهُ" (غرر الحکم)، یعنی جو راز میں نصیحت کرے اس نے اپنے بھائی کو آراستہ کیا، اور جو علانیہ نصیحت کرے اس نے اسے بدصورت بنایا۔ 
لہٰذا تنقید کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نرمی اور حکمت سے کام لیتے ہوئے بہتری کی نیت سے رہنمائی کی جائے، کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
5۔ موقع و محل کا خیال رکھا جائے:
تنقید کرتے وقت موقع و محل کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات خاموش رہنا ہی زیادہ حکمت آمیز ہوتا ہے۔ 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکمت سے بات کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ" (النحل:125)، یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" (صحیح بخاری و مسلم)، جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ 
 روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الصَّمْتُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْحِكْمَةِ، إِنَّ الصَّمْتَ يُكْسِبُ الْمَحَبَّةَ، إِنَّهُ دَلِيلٌ عَلَى كُلِّ خَيْرٍ" (الکافی)، یعنی خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، خاموشی محبت کا باعث بنتی ہے اور ہر خیر کی دلیل ہے۔ لہٰذا، تنقید کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے، کیونکہ بے موقع تنقید مفید بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ہمارا معاشرہ تنقید کو کیوں پسند نہیں کرتا؟ 
اس سوال کا جواب کئی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی عوامل میں چھپا ہے۔ ذیل میں کچھ اہم وجوہات پر بات کرتے ہیں:
1۔ ثقافتی روایات اور احترام کا تصور
بہت سے مشرقی معاشروں میں بزرگوں، رہنماؤں یا روایات کی تنقید کو بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ حفظ مراتب (Hierarchy) کا خیال گہرا ہونے کی وجہ سے لوگ تنقید کو اختیار کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔
2۔ ذاتیات پر تنقید کو اپنے وجود پر حملہ سمجھنا
ہمارے ہاں تنقید کو شخصیت کے خلاف لیے بغیر کام یا خیال پر تنقید کو الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کے کام پر تنقید کی جائے، تو وہ شخص اسے ذاتی توہین سمجھنے لگتا ہے۔
3۔ خوف کا عنصر  
 تنقید کرنے والے کو اکثر منفی ردعمل کا خوف ہوتا ہے، جیسے: سماجی بائیکاٹ، نوکری یا تعلقات کو خطرہ، جسمانی یا زبانی تشدد۔ یہ خوف لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
4۔ تعمیری تنقید کی کمی  
ہمارے ہاں تنقید اکثر تنقید برائے تنقید ہوتی ہے، جس میں مسائل کی نشاندہی تو ہوتی ہے، لیکن حل پیش نہیں کیا جاتا۔ تعمیری انداز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تنقید کو منفی سمجھنے لگتے ہیں۔
5۔ گروہ بندی اور سیاسی/مذہبی تفریق اگر تنقید کسی خاص گروہ، سیاسی جماعت یا مذہبی عقیدے سے ٹکراتی ہو، تو اسے گروہی دشمنی قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔  مثال: "یہ تو ہمارے مخالفین کا پراپیگنڈہ ہے!"
6۔ اعتماد کی کمی  
جب معاشرے میں باہمی اعتماد کم ہو، تو تنقید کو ڈاؤن سائز کرنے یا بدنام کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ تنقید کرنے والا ان کی کامیابی سے حسد کر رہا ہے۔
7۔ تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ کی کمی
ہمارا تعلیمی نظام اکثر رٹہ یادداشت پر زور دیتا ہے، جبکہ تنقیدی تجزیہ (Critical Analysis) کو فروغ نہیں دیا جاتا۔ نتیجتاً، لوگ تنقید کو منفی رویہ سمجھتے ہیں نہ کہ بہتری کا ذریعہ۔
معاشرے میں تنقید کو مثبت انداز میں اپنانا کے لئے کیا کیا جائے؟:  
1- تنقید کو ذاتی نہ لیا جائے بلکہ خیالات یا کاموں پر مرکوز رکھا جائے۔
2- تعمیری تنقید کو فروغ دیا جائے، جس میں مسئلہ بتانے کے ساتھ حل بھی پیش کیا جائے۔  
3- تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔  
4-لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ تنقید نفرت نہیں، بلکہ بہتری کی خواہش ہے۔  
آخر میں، ایک مشہور قول نقل کرتے ہیں:  
"جو معاشرہ تنقید کو برداشت نہیں کرتا، وہ ترقی نہیں کر سکتا۔"

جمعرات، 15 مئی، 2025

جعلی کرنسی اور جعلی روایات

 جعلی کرنسی اور جعلی روایات :
تحقیق ڈاکٹر نذر حافی : 
جعلی روایات کو سمجھنے کیلئے جعلی  کرنسی کو سمجھئے۔ جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے، جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ ایسا ہی دینِ اسلام کے ساتھ ہوا۔ احادیث اور تاریخِ اسلام کے حوالے سے بہت زیادہ ایسے واقعات، مفروضات اور بیانات گھڑ لئے گئے ہیں، جو قرآن و سُنّت نیز قطعیّاتِ تاریخ و عقل سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسی خلاف حقیقت اور خلافِ عقل باتوں کے اسلامی کتابوں میں پائے جانے اور ان پر اسلام کی مُہر لگنے کی وجہ سے عام لوگ انہیں اسلامی مسلمات میں شامل کر لیتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر ہم جسے اسلامی سال کہتے ہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز نبیؐ کی ہجرت سے ہوا۔ حالانکہ نبی ؐ کے زمانے میں اور خلیفہ اوّل کے سارے دور میں کسی اسلامی سال کا تصوّر ہی نہیں تھا۔ نہ ہی نئے اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے کی کہیں فضیلت نقل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سال کو قرآن و حدیث میں اسلامی کہا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نبی ؐ نے ہجرت بھی محرم الحرام کے بجائے ربیع الاوّل میں کی ہے۔
اب جن لوگوں نے محرم الحرام سے شروع ہونے والے مہینے کو اسلامی سال کہنا شروع کیا ہے، ان کی اس فکر کا اسلامی ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں، ان کا محرک کچھ اور ہے، جس کی الگ سے تحقیق کی جانی چاہیے۔
 اسی طرح مسلمانوں کے ہاں اسرائیلیات کا رواج بھی جعلیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اسرائیلیات وہ معلومات اور روایات ہیں، جو اسلامی متون، خاص طور پر قرآن و حدیث میں غیر مسلم مصادر، خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے شامل ہوگئی ہیں۔ یہ معلومات عام طور پر تورات، انجیل اور دیگر یہودی و عیسائی کتابوں سے اخذ ماخوذ ہیں، یہ غیر مستند تو ہوتی ہی ہیں اور بعض اوقات افسانوی قالب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ایسی من گھڑت معلومات کتب تاریخ، احادیث  یا تفسیر کے ذیل میں شامل ہیں۔ نمونے کے طور پر قصص انبیاء کے واقعات میں بہت سارے انبیاء کے ایسے حالات کو بیان کیا گیا ہے، جو قرآن مجید یا مستند احادیث میں کہیں بھی ذکر نہیں ہوئے۔ علوم حدیث میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کیلئے  متعدد اصطلاحات رائج ہیں۔ جیسے: موضوع، ضعیف، منکر، معلق، متنازعہ، مردود، منسوب، موصول، غریب، مقلوب۔۔۔۔
مذکورہ بالا مقدمے کا مقصد فقط یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں کی بنیادی کتابوں میں جعلسازی کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جعلسازی کے یہ محرکات اسلام کے ابتدائی دور سے ہی موجود تھے اور اس جعلسازی کے کئی مقاصد تھے۔ بعض اوقات غلط عقائد کی ترویج، سیاسی مقاصد کی تکمیل یا ذاتی مفاد حاصل کرنا بھی ہوتا تھا۔ مسلم سکالرز نے کبھی بھی اس جعلسازی کو تقدس کا درجہ نہیں دیا بلکہ مختلف اصطلاحات کے ساتھ کی نشاندہی کی ہے۔
 اب آئیے اس جعلسازی کے محرکات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اسرائیلیات اور دیگر غیر حقیقی متون کی نشر و اشاعت کے کئی اسباب ہیں۔ ان سب پر تو اس وقت  روشنی نہیں ڈالی جا سکتی، لیکن چند ایک اسباب کا ہم مختصراً ذکر کئے دیتے ہیں۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی مختلف سیاسی گروہ اور حکمران اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور اپنے مخالفین کے خلاف دلیل پیش کرنے کے لیے کبھی احادیث لکھنے سے منع کرتے تھے اور کبھی جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان  ایسی باتیں آج بھی مشہور ہیں، جو صحابہ کرام کے عہد میں اصلاً وجود ہی نہیں رکھتی تھیں:
۱۔ خود کسی بھی صحابی نے خود کو اہل بیتِ رسول ؐ سے افضل کہنا تو دور کی بات اپنے آپ کو اہلِ بیت کے برابر بھی نہیں کہا، بلکہ صحابہ کرام اپنے آپ کو اہلِ بیت کا خادم اور غلام کہنے میں فخر کرتے تھے، لیکن اہلِ بیت کے مقابلے میں جعلی فضائل و مناقب گھڑنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے صحابہ کراؓم کو اہلِ بیت سے افضل یا اہلِ بیتؑ کے برابر کہنا شروع کر دیا۔ حتی کہ کچھ لوگوں نے درود شریف میں بھی  اصحاب کو شامل کر لیا جبکہ ایسا درود شریف کبھی بھی نبی اکرم ؐ یا صحابہ کرام ؓ کی زبانوں پر جاری نہیں ہوا۔
۲۔ ہم فلاں نبی کی اولاد میں سے ہیں، اللہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہمارے برے اعمال ہمارے اباواجداد کی وجہ سے بخش دیئے جائیں گے، ہمیں اچھے اعمال کی کوئی ضرورت نہیں اور ہم سیدھے جنّت میں چلے جائیں گے۔ یہ سراسر بنی اسرائیل کا باطل عقیدہ ہے اور قرآن مجید نے متعدد آیات میں اس عقیدے کی نفی کی  ہے۔ اسلامی کتابوں میں جعلیات و اسرائیلیات کی وجہ سے ابھی بھی بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم بغیر اعمالِ حسنہ کے جنت میں جائیں گے۔ اسلامی معاشرے میں بعض اوقات غیر مسلم ثقافتوں اور روایات کا اثر بھی جعلی روایات کی تخلیق کا سبب بنا۔ خصوصاً اسرائیلیات (یہودی اور عیسائی روایات) کو بعض اسلامی متون میں شامل کیا گیا، جو بعد میں جعلی روایات کے طور پر پھیل گئیں۔
۳۔ مختلف فرقوں کے درمیان اپنے عقائد کو جواز فراہم کرنے کے لیے جعلی روایات یا احادیث گھڑی گئیں۔ متعدد فرقے اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسے افسانے یا جھوٹے بیانات ایجاد کرتے رہے، جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے تھے۔
۴۔ ذاتی مفاد اور شہرت
علمِ رجال کے مطابق بعض افراد یا راوی اپنے ذاتی مفاد یا شہرت کے لیے جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ وہ کسی خاص شخصیت کے حوالے سے روایات بناتے، تاکہ اپنی شناخت یا مقام کو بڑھا سکیں۔ بعض اوقات لوگ اسلامی شخصیات کے بارے میں معجزات اور غیر معمولی واقعات کی کہانیاں گھڑتے تھے، تاکہ لوگوں میں ان شخصیتوں کے بارے میں عقیدت اور احترام پیدا کرسکیں۔ اموی اور عباسی بادشاہوں سے انعامات لینے کیلئے اہلِ بیت ؑ کے مقابلے میں بعض صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرضی معجزات اور غیر معمولی واقعات کی جھوٹی روایات وضع کی گئیں۔
۵۔ دینی تعلیمات کی ترویج یا تشہیر
بعض اوقات لوگوں نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کو پھیلانے کے لیے جعلی احادیث گھڑیں، جن میں نیکی کرنے، صدقہ دینے، کثرت سے تلاوت کرنے یا مستحب عبادت کی اہمیت پر زور دیا جاتا تھا۔ لوگوں کو زیادہ عبادت یا صدقہ دینے کی ترغیب دینے کے لیے جعلی روایات گھڑی گئیں، جن میں بتایا گیا کہ زیادہ نیک عمل کرنے سے خدا کی طرف سے بڑے بڑے درجات و انعامات ملتے ہیں۔
۶۔ غفلت اور کمزور حافظہ
بعض اوقات جعلی احادیث صرف راویوں کی غفلت یا کمزور حافظے کی وجہ سے بھی اسلامی متون میں شامل ہوئیں۔ بعض اوقات راوی کسی حدیث کو سن کر اسے اس طرح بیان کرتا تھا کہ وہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی تھی۔ایسی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں، جیسے اگر یہ حدیث ہے کہ حسنؑ و حسین ؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، تو کچھ لوگوں نے عجلت میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ فلاں فلاں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنت میں بڑھاپے کا عارضہ قابلِ تصوّر نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کے ہاں  اصلی احادیث کے مقابلے میں جعلی احادیث کا انبار موجود ہے۔مثلا  اگر یہ حدیث حقیقت میں  موجود تھی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے تو کچھ لوگوں نے اس میں یہ اضافہ کر دیا کہ کوئی اس شہر کی کھڑکی ہے، کوئی چھت ہے اور کوئی روشندان۔ صاحبانِ عقل بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کی چھت، کھڑکی یا روشندان نہیں ہوتے۔ 
اسی طرح کی ایک روشن مثال خانہ کعبہ میں حضرت علیؑ کی ولادت ہے۔ بعض افراد نے حضرت علی ؑ کے فضائل کو کم کرنے کیلئے  خانہ کعبہ میں آپ کی ولادت کا انکار کرنا ضروری سمجھا۔  انہوں نے دلیل یہ لائی کہ کعبے کی بلند و بالا عمارت میں کوئی عورت کیسے داخل ہوسکتی ہے اور حاملہ عورتوں کے کعبے کے نزدیک ہونے کی ممانعت کے باعث کوئی عورت کیسے کعبے کے نزدیک ہوسکتی تھی۔  انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسری طرف  حضرت حکیم بن حِزامؓ کی کعبے میں ولادت کی روایت بھی تراش لی۔ یوں ان جعلسازوں  نے خود ہی یہ مان لیا  کہ اُس زمانے میں حاملہ خواتین کیلئے خانہ کعبہ کے نزدیک جانے کی ممانعت نہیں تھی۔
پس حضرت فاطمہ بنتِ اسد دیوارِ کعبہ کے نزدیک گئیں، انہوں نے دیوار کو  پکڑ کر کی خدا سے دعا کی، پھر اللہ نے مادرِ علی ابن ابیطالبؑ کو دروازے کے بجائے دیوار سے اپنے گھر میں بلا کر قیامت تک کیلئے یہ ثابت کر دیا کہ علی ابن ابیطالبؑ کی کعبے میں ولادت ایک ٹھوس سچائی ہے  جبکہ حکیم بن حِزامؓ کی کعبے میں ولادت کی سند و متن دونوں علم رجال اور قطعیات تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پس اس تحقیقی مطالعے سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اسلامی متون، بالخصوص کتب حدیث، تفسیر اور تاریخ میں جعلی روایات (fabricated traditions) اور غیر مستند بیانات کا دخول ایک تاریخی اور علمی حقیقت ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جعلسازی محض سادہ لوحی یا اتفاقی نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ مختلف مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور نفسیاتی محرکات کارفرما رہے ہیں۔
ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ جیسے جعلی کرنسی حقیقی کرنسی کی مشابہت کے باعث لوگوں کو فریب دیتی ہے، اسی طرح جعلی احادیث و روایات بھی اپنی خارجی مشابہت اور نام نہاد "دینی رنگ" کی بدولت عوام الناس کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنتی رہی ہیں۔
متعدد مثالوں، جیسے اسلامی سال کے آغاز، حضرت علیؑ کی کعبے میں ولادت، اور درود شریف میں غیر مستند اضافوں سے یہ بات تقویت پاتی ہے کہ بعض جعلسازوں نے اہل بیتؑ اور بعض صحابہ کرامؓ کے درمیان مصنوعی فضیلت سازی اور روایتی تصادم پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی۔اسی طرح اسرائیلیات کا اسلامی بیانیے میں داخل ہو جانا نہ صرف علمی بددیانتی کی علامت ہے، بلکہ یہ اسلام کی خالص الہامی شناخت کو مسخ کرنے کی ایک دانستہ کوشش بھی قرار دی جا سکتی ہے۔
علمِ حدیث اور علمِ رجال کی اصطلاحات جیسے موضوع، ضعیف، منکر، مردود، مقلوب وغیرہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی علمی روایت نے اس خطرے کا بروقت ادراک کرتے ہوئے ان جعلیات کی چھان بین کے لیے منہجی بنیادوں پر مربوط علمی نظام وضع کیا۔
لہٰذا یہ واضح ہے کہ اسلامی علمی سرمایہ کو سمجھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے صرف مطالعہ کافی نہیں، بلکہ تنقیدی شعور (critical thinking)، علمی معیار (scholarly rigor) اور منہجی اصولوں (methodological tools) کا استعمال ناگزیر ہے۔ مسلمان اہلِ علم اور عوام دونوں کو چاہیے کہ وہ دین کی تفہیم میں سند، عقل، اور قرآن و سنت کی قطعیات کو معیار بنائیں، تاکہ جعلسازی اور خلطِ مبحث سے دین کی اصل روح محفوظ رہ سکے۔

مولودِ کعبہ کون؟ تحقیق: ڈاکٹر نذر حافی

مولودِ کعبہ کون؟
 ڈاکٹرنذر حافی :
حضرت علی بن ابی طالبؑ بیک وقت اہلِ بیتؑ، صحابۂ کرام اور خلفائے راشدین میں شامل ہیں۔ کوئی اور شخصیت علمی، روحانی اور عملی لحاظ سے آپ کی ہم پلہ  نہیں۔ کیا اتنی عظیم شخصیت کے بارے میں ہمیں آنکھیں بند کر کے یہ کہہ دینا چاہیے کہ آپ  مولودِ کعبہ ہیں اور یا پھر کسی سے سُن کر  اندھا دھند آپ کے مولودِ کعبہ ہونے کا انکار کر دینا چاہیے؟
آپ کے مخالفین نے آپ کے مولودِ کعبہ ہونے کی  فضیلت کو  کم رنگ کرنے کیلئے یہ دعوی بھی کر رکھا ہے  کہ حکیم بن حِزام بھی کعبے میں متولد ہوئے تھے۔ فریقِ مخالف کا مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت علی ؑ کا کعبے میں پیدا ہونا کوئی فضیلت نہیں اور اگر ہے تو پھر حکیم بن حِزام بھی اس فضیلت کے حامل ہیں۔ 
تحقیق: ڈاکٹر نذر حافی
آئیے ہم طرفین کے دعووں کا غیر جانبدارانہ  تجزیہ کرکے دیکھتے ہیں کہ حقیقتِ حال کیا ہے:
حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی نفی ایک تو خود علوم حدیث کی رو سے ہی ہو جاتی ہے۔ لہذا جن لوگوں نے حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی بات کی ہے، انہوں نے اس پر جرح و تعدیل نہیں کی بلکہ فقط یہ کہہ کر گزارہ کیا ہے کہ فلاں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ فلاں بات درست ہے، چونکہ ارسطو نے کہی ہے۔ خود سے تحقیق کئے بغیر فقط ارسطو کی بات کہہ کر کسی بات کو درست یا غلط کہہ دینا یہ علمی و تحقیقی روش نہیں۔ دوسری اور اس سے بھی محکم ترین دلیل یہ ہے کہ تمام تر تاریخی اسناد اور قطعیات کے مطابق زمانہ جاہلیت میں حاملہ عورتوں کا کعبے کے اندر داخل ہونا ممنوع تھا۔ جن لوگوں نے حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کا لکھا ہے، انہوں نے دروازے سے داخل ہونا لکھا ہے، جو کہ زمانہ جاہلیت میں ممنوع تھا۔ لہذا مادرِ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں۔
لیکن حضرت علی ؑ کی مادرِ گرامی کا کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ آپ دروازے سے داخل ہوئیں بلکہ سب نے لکھا کہ مادرِ علیؑ نے دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر خدا سے دعا کی، جس کے بعد دیوارِ کعبہ شق ہوئی اور آپ دیوار سے داخل ہوئیں۔ پس اس سے ہر صاحبِ شعور کیلئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مادرِ علی ؑ کا دیوارِ کعبہ سے کعبے میں داخل ہونا تاریخ اسلام کے مسلمات اور معجزات میں سے ہے، جبکہ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں تولد کی داستان دیگر جعلی روایتوں کی مانند گھڑی گئی ہے۔
 بہرحال جو لوگ خانہ کعبے میں حضرت علی ؑ کی ولادت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ کعبے کی بلند و بالا عمارت میں کوئی عورت کیسے داخل ہوسکتی ہے اور حاملہ عورتوں کے کعبے کے نزدیک ہونے کی ممانعت کے باعث کوئی عورت کیسے کعبے کے نزدیک ہوسکتی ہے تو حضرت حکیم بن حِزامؓ کی ولادت کا افسانہ تراش کر انہوں نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ اُس زمانے میں حاملہ خواتین کیلئے خانہ کعبے کے نزدیک جانے کی ممانعت نہیں تھی۔
دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر حضرت فاطمہ بنتِ اسد کی خدا سے دعا، پھر اللہ نے مادرِ علی ابن ابیطالبؑ کو دروازے کے بجائے دیوار سے اپنے گھر میں بلا کر قیامت تک کیلئے یہ ثابت کر دیا کہ علی ابن ابیطالبؑ کی کعبے میں ولادت ایک ٹھوس سچائی ہے اور حضرت علیؑ اپنے فضائل و مناقب میں لاشریک ہیں۔ کوئی دوسرا چاہے اہلِ بیت ؑ سے ہو، صحابہ کرام سے یا خلفائے راشدین سے کوئی بھی فضائل و مناقب میں حضرت علیؑ کا شریک یا برابر نہیں۔ آخر میں صاحبانِ جرح و تعدیل کیلئے ہم بغیر سُنّی و شیعہ، وہابی و دیوبندی یا اہلِ حدیث یا سلفی کی کسی تفریق کے چند مستند منابع حضرت امام علی ؑ کے مولودِ کعبہ ہونے کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔ تمام منصف مزاج انسان تحقیق کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ آپ آزادانہ کسی بھی مسلک کے رجالی اصولوں پر اس واقعے کو پرکھیں اور خود فیصلہ کریں:
1. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵.
2. سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۰۱ق، ص۲۰
3. ابن صباغ، الفصول المهمة، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۱
4. حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۲۶
5. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۸۳
6. گنجی شافعی، کفایة‌ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۷۰۷
7. ابن مغازلی، مناقب الامام علی بن ابی‌ طالب، ۱۴۲۴ق، ص۵۸-۵۹؛ ابن حاتم شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۲۵
8. شیخ صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۳۵
9. شیخ صدوق، معانی الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۶۲
10. شیخ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۲
11. محمدی ری‌ شهری، دانش‌ نامه امیرالمؤمنین ،۱۳۸۹ش، ج۱، ص۷۸
12. طبری، تحفة الابرار، ۱۳۷۶ش، ص۱۶۵-۱۶۴
13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۹
14. قرشی اسدی، جمهرة نسب قریش و اخبارها، ۱۳۸۱ق، ص۳۵۳
15. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵
اب دوسری طرف اسی طرح ہم حضرت حکیم بن حِزامؓ  کے کعبہ میں پیدا ہونے کے واقعہ کے حوالے سے سب سے پہلی حدیث کو ہی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، باقی کا جائزہ آپ خود علمِ رجال کی روشنی میں لے لیجئے۔
حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں پہلی روایت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة، وکانت أمه ولدته فی الکعبة" حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال زندگی کی اور ان کی ماں نے انہیں کعبے میں جنم دیا۔ یہ جملہ هشام بن محمد بن سائب کلبی متوفای (204 ه. ق) کی کتاب میں ہے۔ (کلبی، جمهره انساب العرب، ص 13) پھر باقی بعد والوں نے اسی کتاب سے آگے اس جملے کو نقل کرنا شروع کر دیا۔ یعنی یہاں وہی رویّہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ارسطو نے کہہ دیا سو اب یہی درست ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کلبی کو اہل سنّت علمائے رجال بطورِ شیعہ اور غالی بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کلبی کی کتاب میں یہ کلبی نے لکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ کلبی کی کتاب میں حسن بن حسین سکری (212-275 ه. ق) نے ابی جعفر محمد بن حبیب بن امیه بغدادی (ت 245 ه) کے واسطے سے یہ بات نقل کی ہے۔ ایک تو یہ متن بتا رہا ہے کہ کلبی کی اصل عبارت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة" حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال عمر کی" کے ساتھ بعد میں "وکانت أمه ولدته فی الکعبة" ان کی ماں نے اُنہیں کعبے میں جنم دیا" کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کلبی اور سکری خود تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے جبکہ حکیم بن حِزم کی ولادت زمانہ جاہلیت میں عام الفیل سے بھی پہلے کی ہے۔ یوں یہ سند کلبی اور سکری پر ہی ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد یہ عبارت علم حدیث کی رو سے تمام علماء کے نزدیک معتبر نہیں رہتی۔اب آگے جو لوگ اپنی کتابوں میں نقل کرتے گئے، بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پرکھے ہی کرتے گئے، ورنہ کسی بھی صورت میں کلبی کی کتاب، سند یا روایت اہلِ سُنّت کے علمائے رجال کے نزدیک معبتر نہیں ہے۔
بہرحال ہمارا مقصد یہ یاد دلانا تھا کہ یاد رکھئے!  ایسی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں، جیسے اگر یہ حدیث ہے کہ حسنؑ و حسین ؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، تو کچھ لوگوں نے عجلت میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ فلاں فلاں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنت میں بڑھاپے کا عارضہ قابلِ تصوّر نہیں ہے۔
اسی طرح اگر یہ حدیث موجود تھی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے تو کچھ لوگوں نے اس میں یہ اضافہ کر دیا کہ کوئی اس شہر کی کھڑکی ہے، کوئی چھت ہے اور کوئی روشندان۔ صاحبانِ عقل بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کی چھت، کھڑکی یا روشندان نہیں ہوتے۔ جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے، جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ لہذا دھوکہ نہ کھائیے اور آزادانہ طور پر تاریخ اسلام کو مسلمات اور عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھئے۔ تاریخِ علم نیز عقل و منطق کے مطابق کوئی بھی بات اس لئے درست نہیں ہوتی کہ فلاں شخص نے کہی یا اپنی کتاب میں لکھی ہے بلکہ اُس کا حقیقت ہونا ٹھوس شواہد سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ 

اپنی تحریروں کی اشاعت کیلئے توجہ فرمائیں

اپنی تحریروں کی اشاعت کیلئے توجہ فرمائیں
۱۔ مختصر، معلوماتی اور مستند لکھیں
۲۔   پیٹرن کا لحاظ کریں
۳۔ رموز و اوقاف سمیت اردو گرائمر اور فنِ جملہ بندی کی رعایت  کریں
۴۔ وعظ و نصیحت ، قصیدہ گوئی، اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے استدلال سے کام لیں
۵۔ ضرورت کےمطابق حوالہ جات اورمنابع ذکر کریں
۶۔ املائی اغلاط اور ناقص جملہ بندی سے بچیں
۷۔ قوانین کی رعایت کی صورت میں تقریبا سات دن میں آپ کی تحریر شائع کر دی جائے گی جبکہ غیر معیاری ہونے کی صورت میں شائع نہیں ہو گی
کلک کریں


منگل، 13 مئی، 2025

Feedback, Methodology, and Benefits فیڈ بیک

ڈاکٹرنذر حافی : فیڈ بیک، طریقہ کاراورفوائد : 
فیڈ بیک ایک ایسا آئینہ ہے جو کسی کو اس کی خامیوں اور خوبیوں کا جلوہ دکھا کر اُس کی بہتری کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔گویا کسی بھی فرد، گروہ یا ادارے کی مؤثر نشوونما اور کارکردگی میں بہتری لانے  کے لیے فیڈبیک (Feedback) ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ علمی و تحقیقی مطالعات  اس بات پر متفق ہیں کہ فیڈبیک، چاہے تعلیمی سیاق میں ہو یا پیشہ ورانہ ماحول میں، سیکھنے، خود آگاہی اور پیشہ ورانہ ترقی کو مہمیز دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ  فیڈبیک ایک خود سیکھنے والے الگورڈم کی طرح کام کرتا ہے، جو مسلسل ان پٹ ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے اپنے آؤٹ پٹ کو بہتر بناتا ہے، اس عمل میں ماہر سسٹم﴿محقق﴾ اپنی خامیوں کو پہچان کر خود کو نئے تجربات کی بنیاد پر ایڈجسٹ کرتا ہے، تاکہ زیادہ مؤثر اور درست فیصلے کر سکے۔
بنیادی طور پر فیڈ بیک کی چاراقسام ہیں  اور  ان میں سے ہر قسم کا ایک مخصوص موقع و محل  ہے ۔
 ۱۔  ری ایکشن: ایک فوری ردعمل جیسے مچھر کے کاٹنے پر ۲۔ریفلیکس: تشخیص کرنا کہ کس طریقے سے ردعمل دیا جائے جیسے بچے کی شرارت پر ۳۔ رسپانس: حساب کتاب لگا کر ردعمل کا انتخاب کرنا     جیسے رات کے وقت دستک ہونے پر                                    ۴۔کوارڈینیشن: آپس میں ہم آہنگی کے ساتھ ردعمل دینا جیسے کسی خاندانی مسئلے یا بیرونی دشمن کا سامنا کرنے پر
اسی طرح فیڈ بیک  دیتے ہوئے  اپنے فیڈ بیک کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے:
۱۔ اپنے پسندیدہ نکات ۲۔ اپنے  ناپسندیدہ نکات ۳۔  اپنی تجاویز
جس طرح فیڈ بیک دینا ایک ہنر ہے اُسی طرح فیڈ بیک لینا اور اُس سے درست استفادہ کرنا بھی ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ محققین کو فیڈبیک کی اہمیّت  کے حوالے سے مندرجہ ذیل نکات ہر گز فراموش نہیں کرنے چاہیے۔
۱۔ تحقیق کی دنیا میں ناقدین  کی اہمیّت کو سمجھیں
   فیڈ بیک  کا ہدف کسی شئے کے  صرف اثبات (affirmation) یا تردید (negation) کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سچائی کے کشف کرنے کی ایک کوشش ہے۔ لہذا ناقدین کے بغیر کوئی دوسرااس کوشش کو کامیاب کرنے میں مددگار نہیں ہو سکتا۔ اگر ناقدین نہ ہوں تو کسی بھی تحقیق کی خامیاں ختم یا کم نہ ہو پائیں۔  لہذا  ہر حال میں فیڈ بیک کا دروازہ کھلا رکھیں اور تحقیق کی دنیا میں ناقدین  کی اہمیّت کو سمجھیں اور علمی نقد کا استقبال کریں۔
۲۔  اپنی تحقیق سے خود ارتقا کریں
 فیڈ بیک کا عمل آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ   تحقیق کے  سفر کو  اپنی  اندرونی علمی ترقی (epistemic growth) کا سفر بنائیں۔ یہ عمل نہ صرف تحقیقی فکری ارتقاء (research intellectual growth) بلکہ نظریاتی تبدیلی (theoretical change) کا نام بھی ہے، جس میں محقق اپنے خیالات (ideas) اور دلی احساسات (intellectual emotions) میں تبدیلیوں کا  اعتراف کرتا ہے۔کسی کے فیڈ بیک کے بعد  اپنی سابقہ غلطیوں  اور غلط نظریات کے اعتراف سے نہ گھبرائیں اور  فیڈ بیک سے آپ نے جو سیکھا ہے اُس کا اعتراف کریں تاکہ آپ اگلی منزل میں داخل ہو سکیں۔
۳۔ دلیل کا احترام اور سچائی کا دفاع
   تحقیق میں نتیجہ کبھی اپنی مرضی (personal preference) کے مطابق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کسی جادوئی پزیرائی (convenient shaping) کا معاملہ نہیں بلکہ حقیقت (reality) کی تشریح (interpretation) ہے، جو علمی اصولوں (academic norms) کی پابندی میں ہوتی ہے۔لہذا جو بھی ہو جائے  فیڈ بیک ملنے پر دلیل کا احترام اور سچائی کا دفاع کریں۔
۴۔  مصادیق سے بالاتر رہیں
   تحقیق کے دوران  گروہ بندی (group affiliation) نہیں بلکہ صرف نظریاتی حقیقت (theoretical reality) کا قیام ہونا چاہیے۔آپ نظریات کو اچھی طرح دلائل کے ساتھ بیان کریں تاکہ مصادیق کو لوگ خود سمجھ جائیں۔کسی کا فیڈ بیک آپ کو مصادیق کی تشخیص میں نہ الجھا دے۔
۵۔ضروری نہیں کہ ہر تحقیق درست ہو
  فیڈ بیک ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر تحقیق درست ہو ۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ جو میں نے تحقیق کر لی ہے بس  وہ  ہی درست ہے۔ اب دوسروں کو چاہیے کہ وہ میری ہی تحقیق کو اپنے لئے حجّت مانیں۔کسی بھی تحقیق کے نتیجے  میں ہر وہ بات جسے ہم حقیقت ثابت کرتے ہیں، کبھی نہ کبھی اُسے مضبوط دلائل سے رد کرنے والے پیدا ہو سکتے ہیں، اور اس لچک کا اظہار کرنا دراصل علمی ایمانداری (academic integrity) کا حصہ ہے۔ درست راستہ اختیار کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم  فیڈ بیک کے ذریعے غلط راستوں کو بھی پہچانتے ہوں اور یہ تسلیم کرتے ہوں کہ یہ غلط راستے ہیں۔ جس راستےکو آج ہماری تحقیق درست کہہ رہی ہے ضروری نہیں کہ کل دوسروں کی  تحقیق بھی اسے درست ہی کہے۔ فیڈ بیک ملنے پر  صرف اپنی ہی تحقیق کے درست ہونے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسروں کی رائے کا بھی فراخدلی سے جائزہ  لینا چاہیے۔
۶۔نظریات کے تاریخی تسلسل کو سمجھنا
آج ہم جن نظریات کو  بھی سچ سمجھتے ہیں، انہیں بھی کبھی رد (reject) کیا گیا تھا۔ یہ محض فکری جدو جہد (intellectual struggle) کا نتیجہ ہے کہ ان نظریات کو آج ہم حقیقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ تاریخی تسلسل (historical continuity) ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ  فیڈ بیک  کی وساطت سے   ہر نظریے کا مختلف زاویوں (different perspectives) سے جائزہ  لینا ممکن ہو جاتا ہے۔
۷۔ دوسروں سے زیادہ اپنے دلائل کو رد کرنے کی کوشش کریں
   جہالت کے مقابلے میں دلائل (reasoning) کا استعمال ہمیشہ علمی برتری (academic superiority) کی علامت ہوتا ہے۔لہذا  کسی بھی تحریر یا تحقیق پر موصولہ فیڈ بیک کے بعد ہمیں زیادہ سے زیادہ تحقیقی حقائق (empirical facts) کے تحت دوسروں کے بجائے  اپنے نظریات اور دلائل  کو پرکھنا اور جائزہ (examination) لیتے رہناچاہیے۔  
۸۔تعصب کے بجائے دلیل کا ساتھ دیجئے
 ضِد یا تعصب کے ساتھ کسی بات پر اصرار کرنے کے بجائے دلیل کے ساتھ انکار کرنے کو ترجیح دیجئے۔ چونکہ احمقوں کی جنت میں رہنے سے عاقلوں کی دوزخ بہتر ہے۔ فیڈ بیک کے بعد تعصب (bias) اور گروہ بندی (partisanship) سے بچنا چاہیے، اور ہر نظریے کی علمی بنیاد (intellectual foundation) کا احترام کرنا ضروری ہے۔
۹۔علمی مباحثے کی حدود عبور نہ کریں
   فیڈبیک  کبھی اپنی برتری (superiority) یا انانیت (ego) کے اظہار کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ فیڈ بیک پر ہمارا علمی مباحثہ (intellectual discourse) غیر علمی شکل اختیار نہ کرنے پائے۔ ہمیشہ  دوسرے محققین کی محنت، اور دلائل  کا  احترام کرتے ہوئے، اپنے اور  ان کے خیالات کو تجزیاتی سطح (analytical level) پر  پرکھنا چاہیے۔
۱۰۔ غیر علمی فیڈ بیک سے پرہیز
    جو لوگ فیڈ بیک کے اصول نہیں جانتے، ایسے افراد کے ساتھ تحقیقی موضوعات پر بحث کرنا دراصل علمی صلاحیتوں (intellectual abilities) کی خود کشی (self-destruction) کے مترادف ہے۔لہذاغیر علمی  فیڈ بیک سے خود بھی پرہیز کریں اوردوسروں کو بھی جواب نہ دیں۔
فیڈبیک کا عمل ایک محقق کو اپنی انا، گروہی وابستگی، اور فکری بقا کے خوف سے بالاتر ہو کر سچ کے سامنے جھکنا اور سچ سے  سیکھنا  سکھاتا ہے۔ سیکھنے کا یہ عمل  ایک اخلاقی قدر (ethical value)  ہے، جس کا حصول صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم دلیل کو ذاتی مفاد پر، اور حقیقت کو شہرت و برتری پر مقدم رکھیں۔پس، فیڈبیک ہمیں سکھاتا ہے کہ علمی ترقی، فکری عاجزی کے بغیر ممکن نہیں۔ سچے محقق کی پہچان اس کی تحقیق کی مضبوطی میں نہیں، بلکہ اس کی اس ذہنی آمادگی میں ہے کہ وہ سچ آشکار ہو جانے کی صورت میں  ہر وقت اپنی سوچ کو بدلنے، اپنے نظریات کو ترک کرنے، اور نئی سچائیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

ابتدائی تحقیق/تحقیق کا آغاز کرنے کے مراحل

 
۱۔تحقیق کے موضوع کا انتخاب:
موضوع  چھوٹا ہونا چاہیے۔ مثلاً "توحید "
"توحید "یہ ایک بڑا موضوع ہے۔ اسے کسی سوال کے دائرے میں لا کر چھوٹا کریں۔ جیسے:نہج البلاغہ میں توحید کی کتنی اقسام بیان ہوئی ہیں؟اسے مزید چھوٹا کریں۔ مثلاً  نہج البلاغہ کے کلمات قصار میں توحید کی کتنی اقسام بیان ہوئی ہیں؟
اب موضوع بنے گا: " نہج البلاغہ کے کلمات قصار میں توحید کی  اقسام"
۲.  موضوع کے بعد موضوع کے مطابق منابع  تلاش کریں
۳.  ابتدائی مطالعہ
متعلقہ کتابوں، تحقیقی مقالہ جات، جرائد، اور سابقہ تحقیقی کاموں سے اپنے موضوع کے مطابق محتوی  کو اخذ کرنا شروع کریں
۴. معلومات کو ترتیب دیں
۵. نتیجہ اخذ کریں
۶۔ اب تحقیق کو لکھنا شروع کریں
الف۔ مقدمہ لکھیں
ب۔موضوع  کی وضاحت کریں
ج۔ محتوی کو دلائل کے قالب میں لکھیں
د۔ دلائل کے بعد جمع بندی کریں
ر۔ نتیجہ اخذ کریں
س۔ سفارشات مرتب کریں
ص۔ حوالہ جات اور منابع کا ذکر کریں
منبع اور حوالہ 
آسان الفاظ میں فرق:
 منبع (Source)      وہ جگہ جہاں سے ہم معلومات حاصل کرتے ہیں جبکہ حوالہ (Reference)  وہ تفصیل ہوتی ہے جس سے ہم بتاتے ہیں کہ یہ معلومات کہاں سے لی ہیں۔ 
 ✅ مثال سے وضاحت:
فرض کریں آپ ایک مضمون لکھ رہے ہیں کہ "علامہ اقبال نے نوجوانوں کو کیا پیغام دیا؟ تو منبع  علامہ اقبال کی وہ کتاب ہو گی جو آپ پڑھیں گے  ۔مثلا بانگِ درا، اس کے ساتھ سال نشر،  ناشر اورمقام نشربھی لکھیں گے۔
اب  حوالہ کیا ہوگا؟ مثلا جب آپ مضمون میں  یہ شعر لکھتے ہیں کہ 
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟
اس شعر کےبارےمیں یہ اطلاع" اقبال، بانگ درا، صفحہ 45" حوالہ کہلائے گی۔ 

پیر، 12 مئی، 2025

چھوٹے اقدامات سے بڑی تبدیلی کا سفر

چھوٹے اقدامات سے بڑی تبدیلی کا سفر
مزمل حسین متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
مدارس محض درس و تدریس کے مراکز نہیں ہوتے، بلکہ یہ وہ فکری و روحانی چمن ہوتے ہیں جہاں کردار پروان چڑھتا ہے، وژن بنتا ہے، اور امت کی رہنمائی کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ مدرسہ جامعہ الرضا اسلام آباد (بارہ کہو) میں منعقدہ سالانہ جشنِ ولادتِ امام علی رضا علیہ السلام (9 فروری 2025) کے موقع پر جب مجھے "بہترین منتظم" کے اعزاز سے نوازا گیا تو یہ شیلڈ محض ایک انعام نہ تھی بلکہ اجتماعی کاوش، اخلاص، اور عزمِ مسلسل کی ایک خوبصورت پہچان تھی۔
یہ اعزاز صرف میرے ذاتی سفر کا اعتراف نہیں، بلکہ ان اساتذہ کی رہنمائی، طلبا کے اخلاص، اور ادارے کے بھرپور تعاون کا ثمر ہے جنہوں نے ہر قدم پر میری کوششوں کو تقویت بخشی۔ اس سفر میں کئی ایسے اقدامات تھے جو محض رسمی ذمہ داریاں نہیں بلکہ ایک وژن اور خدمت کے جذبے کا عملی اظہارتھے۔
۱۔ تعلیم اور اخلاقیات کی ترجیح
بطور منتظم، میری اولین ترجیح تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت تھی۔ میں نے نہ صرف خود نظم و ضبط کو اختیار کیا بلکہ  اپنی ٹیم  کو بھی عملی زندگی کے لیے تیار کیا تاکہ وہ دینی و دنیاوی میدان میں مثالی کردار ادا کریں۔
۲۔ تحقیق و جدید علوم کی ترویج
مجھے شعبہ تحقیق کی ذمہ داری دی گئی، تو میں نے اسے صرف ایک رسمی عہدہ نہ سمجھا، بلکہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا ایک موقع جانا۔  طلبا کو مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، اور ڈیجیٹل تحقیق جیسے جدید میدانوں سے روشناس کرایا تاکہ وہ وقت کے ساتھ ہم قدم ہو سکیں۔
۳۔ صحت کے شعبے میں فلاحی اقدامات
جب یہ مشاہدے میں آیا کہ  طلبا کو موسمی و جسمانی بیماریوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے تو اساتذہ کے تعاون سے ایک مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ طبی معائنے، ادویات اور علاج کی سہولت نے نہ صرف وقتی مسائل کا حل نکالا بلکہ  طلبا کی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کیا۔
بلڈ ڈونیشن سسٹم بھی ایک انقلابی قدم تھا۔  طلبا کے بلڈ گروپس رجسٹر کر کے ایسے ایک نیٹ ورک کی بنیاد رکھی گئی جو ایمرجنسی میں انسانی زندگی بچانے کا ذریعہ بنا۔علاوہ ازیں، مختلف پرائیویٹ کلینکس کے ساتھ معاہدے کے تحت 40 فیصد رعایت پر طبی معائنہ ممکن بنایا گیا، جس سے مالی طور پر کمزور  طلبا کو بھی معیاری صحت کی سہولت میسر آئی۔
۴۔ ٹیکنالوجی کی عملی تربیت
آج کا دور ٹیکنالوجی کا ہے، اور  طلبا کو اس میدان میں پیچھے رکھنا ایک ناانصافی ہوگی۔ میں نے ۲6  طلبا کو MS Office، کمپیوٹر بیسک سکلز، پروجیکٹر اور LED جیسے ڈیجیٹل ٹولز کی تربیت دی تاکہ وہ علمی میدان میں مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
۵۔ لائبریری کی فعالیت
ادارے کی ایک بڑی لیکن نسبتاً کم  فعال لائبریری کو نئی زندگی دی گئی۔ لاکھوں روپے کی کتب کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے منظم کیا گیا تاکہ  طلبا آسانی سے تحقیقی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس اقدام نے نہ صرف مطالعے کا رجحان بڑھایا بلکہ تحقیقی ماحول کو بھی فروغ دیا۔
یہ اعزاز دراصل اس سچائی کی تصدیق ہے کہ اگر ہم اخلاص، محنت اور اجتماعی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کام کریں تو چھوٹے قدم بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ میرا مقصد صرف ذاتی ترقی نہ تھا، بلکہ میں نے ہمیشہ یہ سوچا کہ میرے اقدامات دوسروں کے لیے راہ ہموار کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں امام علی رضا علیہ السلام کے علم، حلم اور اخلاق کی روشنی میں اپنی ذات، ادارے اور معاشرے کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین 

اتوار، 11 مئی، 2025

ابتدائی تحقیق، آسان الفاظ میں

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ تحقیق ہے کیا؟
ڈاکٹرنذر حافی :    
 آسان الفاظ میں تحقیق ایک منظم، منطقی اور معروضی عمل کا نام ہے۔ یعنی منظم (Systematic): تحقیق ایک ترتیب اور اصولوں کے تحت کی جاتی ہے، بے ربط نہیں ہوتی۔ منطقی (Logical): تحقیق میں دلائل اور استدلال استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ محض قیاس۔ معروضی (Objective): ذاتی رائے یا تعصب سے ہٹ کر حقائق پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق صرف اعداد و شمار یا معلومات کی جمع آوری نہیں، بلکہ "کیا"، "کیوں"، اور "کیسے" جیسے بنیادی سوالات کا تعاقب کرتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں تحقیق کے بارے میں جاننے والی دس باتیں  
 ۱۔  ریسرچ سوال سے شروع ہوتی ہے، جواب سے نہیں ، تحقیق کا آغاز سوال سے ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ جوابات سے۔ مثال کے طور پر:
    پاکستان میں سردی کیوں بڑھ رہی ہے؟  – یہ سوال تحقیق کی بنیاد بنے گا، نہ کہ  پاکستان میں سردی بڑھ گئی ہے ۔
 ۲۔   ہر چیز تحقیق کا موضوع بن سکتی ہے ، روزمرہ کی معمولی چیزیں بھی تحقیق کے موضوع بن سکتی ہیں۔ مثال:
    چائے زیادہ پینے سے نیند پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ۔
۳۔   اندازہ تحقیق نہیں ہوتا ،   تحقیق میں صرف قیاس آرائیاں یا اندازے نہیں کیے جا سکتے۔ تحقیق تب ہوتی ہے جب آپ کسی چیز کو کسی پیمانے سے ماپتے ہیں۔ مثال:مجھے لگتا ہے کہ گاؤں کے لوگ خوش ہوتے ہیں  – یہ صرف اندازہ ہے، تحقیق تب ہوگی جب خوشی کو کسی پیمانے پر ماپا جائے۔
۴۔   گوگل اور کتاب  پہلا قدم ہے، آخری نہیں ۔ گوگل پر یا کتاب میں معلومات تلاش کرنا تحقیق کا پہلا قدم ہے، لیکن اصل تحقیق میں آپ کو مشاہدہ، انٹرویوز، اور لیبارٹری تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال:    شہد مکھی شہد بناتی ہے ، لیکن اصل تحقیق مکھیوں کو مشاہدہ کرنا، انٹرویوز لینا اور تجزیہ کرنا شامل ہوگا۔
۵۔   تحقیق صبر مانگتی ہے ۔   تحقیق میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر:دریا کے پانی کے معیار پر تحقیق میں کئی دن لگ سکتے ہیں؛ جلدبازی سے نتیجہ غلط ہو سکتا ہے۔ 
۶۔  تحقیقی سوال کا دائرہ  چھوٹا بنائیں ۔  جب تحقیق کا دائرہ  بہت وسیع ہوتا ہے، تو  اس کے مقابلے میں ہماراعلم  زیادہ محدود ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ سوال کر کے دائرے کو مخصوص اور چھوٹا بنایا جائے۔ مثال: دسویں جماعت کے طلبہ میں ریاضی کا خوف کیوں ہوتا ہے؟ ۔
۷۔   اچھی تحقیق غیر جانب دار ہوتی ہے ۔غیر جانب دار رہ کر تحقیق کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ پہلے سے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو آپ صرف اس کی حمایت میں معلومات جمع کریں گے۔ مثال:    پرائیویٹ سکول بہتر ہوتے ہیں  – اس میں آپ کی ذاتی رائے مداخلت کر رہی ہے۔
۸۔   منبع اور حوالہ دینا لکھنا تحقیق کی لازمی شرط ہے ۔ اگر آپ نے کسی کتاب یا مضمون سے مواد لیا ہے، تو اس کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر:  اقبال، ۱۹۳۰ ۔
۹۔   تحقیق صرف لکھنا نہیں، سیکھنا بھی ہے۔  تحقیق کا مقصد صرف لکھنا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں سیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ مثال:    پینے کے پانی پر تحقیق کرنے سے آپ یہ سیکھیں گے کہ فلٹرز کیسے کام کرتے ہیں، اور آپ خود بھی بہتر پانی پینا شروع کر دیں گے۔ 
 ۱۰۔   تحقیق کبھی ختم نہیں ہوتی ۔ تحقیق ہمیشہ ایک نئے سوال کی طرف بڑھتی ہے۔ مثال: اگر طلبہ موبائل پر وقت ضائع کرتے ہیں، تو اگلا سوال ہو سکتا ہے: کون سی ایپس سب سے زیادہ وقت لیتی ہیں؟ 
 ۲: تحقیق کے منابع یا ذرائع 
 ۱   بنیادی منابع (Primary Sources) 
   یہ وہ مواد ہوتا ہے جو براہِ راست معلومات فراہم کرتا ہے۔ مثالیں:
     انٹرویو
     مشاہدہ
     تجربہ
     سروے/کوئز
 ۲۔   ثانوی منابع (Secondary Sources) 
   یہ وہ مواد ہے جو پہلے سے جمع کردہ یا کسی اصل ماخذ پر تجزیہ یا تبصرہ ہو۔ مثالیں:
     کتابیں
     تحقیقی مضامین
     ویب سائٹس
     اخبارات/رسائل
۳۔   ثالثی منابع (Tertiary Sources) 
   یہ مواد بنیادی اور ثانوی معلومات کو مرتب کر کے پیش کرتا ہے۔ مثالیں:
     انسائیکلوپیڈیا
     لغات
     خلاصہ جات---
  ۳: تحقیق کے مراحل اور اقسام 
 ۱   تحقیق کے مراحل 
   تحقیق کے مراحل میں یہ شامل ہیں:
     سوال
     ڈیٹا جمع کرنا
     تجزیہ
     نتیجہ
     مثال:
      سوال:  کیا صبح کا ناشتہ کارکردگی بہتر بناتا ہے؟
      ڈیٹا:  ناشتہ کرنے یا نہ کرنے والے طلبہ کا ریکارڈ
      تجزیہ:  نتائج کا موازنہ
      نتیجہ:  ہاں/نہیں
    تحقیق کی اقسام 
   تحقیق دو بڑی اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہے:
      مقداری تحقیق (Quantitative Research):  یہ تحقیق اعداد و شمار اور فیصدوں پر مبنی ہوتی ہے۔
     مثال:  کلاس کے ۶۰% طلبہ روزانہ ۲ گھنٹے موبائل استعمال کرتے ہیں 
      معیاری تحقیق (Qualitative Research):  یہ تحقیق خیالات، تجربات اور تاثرات پر مبنی ہوتی ہے۔
     مثال:  طلبہ موبائل استعمال کے بعد کیسا محسوس کرتے ہیں؟ 
 ۴: اچھے تحقیقی سوالات اور عملی مشق 
 ۱  ۔ اچھے تحقیقی سوال کی خصوصیات 
   ایک اچھا تحقیقی سوال مخصوص، واضح، قابلِ تحقیق اور غیر جانب دار ہوتا ہے۔
   مثال:
    کمزور سوال:  کیا سوشل میڈیا اچھا ہے؟
    اچھا سوال:  کیا سوشل میڈیا کے روزانہ ۳+ گھنٹے استعمال سے طلبہ کی نیند متاثر ہوتی ہے؟
 ۲۔   ابتدائی معلومات کے ذرائع 
   ابتدائی معلومات کے ذرائع میں کتابیں، انٹرنیٹ، اخبارات، انٹرویوز اور مشاہدہ شامل ہیں۔
   مثال:  طلبہ کے مطالعہ کے رجحان پر تحقیق کرنے کے لیے لائبریری ریکارڈ اور انٹرویوز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ 
۳۔   مشق: خود سوال بنائیں 
   طلبہ کو تین عام عنوانات دیے جائیں: خوراک، تعلیم، نیند
   اور انہیں ان موضوعات پر سوال بنانے کو کہا جائے:
      کیا امتحان کے دنوں میں چاکلیٹ کھانے سے توجہ بہتر ہوتی ہے؟ 
      کیا آن لائن کلاسز میں طلبہ کی دلچسپی کم ہوتی ہے؟ 
 ۵:  ایک تحقیقی مقالہ کیسے لکھوں؟

یہ سوال آپ کو مجبور کرے گا کہ آپ اپنا امتحان لیں۔اگر آپ  مندرجہ زیل تین باتوں پر قادر ہیں تو پھر آپ  ایسا سکتے ہیں:
۱۔ ادبیات پر عبور
۲۔ موضوع کو چھوٹا کرنا
۳۔منابع کا موجود ہونا
۴۔اپنے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات ڈھونڈ لینا۔موضوع کے بارے میں  چار طرح کے سوالات ہو سکتے ہیں۔
•   وضاحتی سوالات: اس طرح کے سوالات میں کون، کیا، کن، کہاں اور کیوں  جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔جیسے فرشتہ کیا ہے؟

•    متعلقہ سوالات: ان سوالات میں, دو یا اس سے زیادہ متغیر کے درمیان تعلقات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے.جیسے تولید اور مہنگائی کا آپس میں کتنا تعلق ہے؟

•    تقابلی سوالات: ان سوالات سے  متغیرات کی سطح کے درمیان فرق کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔مثال: معاشرتی ارتقا میں سلفی اور جعفری مکتب کی سطح کتنی ہے؟

•    وجہ اور تاثیر  کی جانچ کے  سوالات: کسی مسئلے کی وجہ اور پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے بارےمیں سوال اٹھائے جاتے ہیں۔  

جیسے: کیا غلو میں اضافے کی وجہ  ذاکرین کی مالی اعانت ہے؟ متن لکھنے سے پہلےعنوان منتخب کرنے کے بعد متن لکھنے سے پہلے محاورے، کہاوت اور ضرب المثل سے آشنائی ضروری ہے۔

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...