Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
ہفتہ، 31 جنوری، 2026
امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟
جمعہ، 30 جنوری، 2026
"غزہ امن بورڈ" کی نرمی اور مسٹر ٹرمپ" کی گرمی
اگرچہ ڈیووس شہر سوئٹزرلینڈ میں ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی کارپوریشنز امریکی ہیں، عالمی مالیاتی نظام پر امریکہ کا کنٹرول ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں امریکہ سب سے آگے ہے اور عالمی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بھی امریکہ قیادت کر رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کو کارپوریشنز، مالیاتی ادارے اور طاقتور ریاستوں کی اشرافیہ تشکیل دیتی ہے اور ان سب میدانوں میں امریکی اشرافیہ سب سے آگے ہے۔ اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نجی شعبے اور کارپوریٹ دنیا تک رسائی کے لیے WEF کا یعنی امریکی اشرافیہ کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ یوں عالمی فیصلے اقوامِ متحدہ کے نمائندوں اور اداروں کے بجائے ڈیووس میں بیٹھ کر عالمی اشرافیہ امریکہ کی قیادت میں خود کرتی ہے۔ ڈیووس میں ہفتوں و مہینوں جاری رہنے والی بظاہر غیر رسمی اور دانشورانہ گفتگو حقیقت میں عالمی پالیسیوں کے خدوخال طے کرتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہاں امریکہ اپنی معاشی ترجیحات ، نجکاری، منڈی کی آزادی، مالیاتی کنٹرول، اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کو عالمی معیار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے برعکس اقوامِ متحدہ اگرچہ ایک ریاستی، قانونی اور عوامی نمائندگی پر مبنی ادارہ ہے لیکن امریکہ کی قیادت میں عالمی اشرافیہ نے اقوام متحدہ کو صرف ایک علامتی ادارے کے طور پر زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اس وقت دنیا میں اقوامِ متحدہ کا کردار فقط ایک وعظ و نصیحت کرنے والے خطیب کا سا رہ گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ ضمیر، اصولوں اور انسانیت کی بات کرتا ہے، اور ڈیووس کے دفتر میں بیٹھ کر ہر سال ورلڈ اکنامک فورم اور اقوام متحدہ کے اراکین ایک دوسرے سے سودے بازی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک انسانیت سے مراد انصاف، مساوات، انسانی وقار اور مظلوم کی آواز ہے، اور ورلڈ اکنامک فورم کے نزدیک انسانیت سے مراد طاقتور ممالک کی اقتصادی برتری، عالمی مارکیٹ کا استحکام اور بڑی طاقتوں کے سرمائے کا تحفظ اور اضافہ ہے۔ پس ڈیووس کے مقام پر اقوام متحدہ کے نعروں اور ورلڈ اکنامک فورم کے درمیان لین دین ہوتا ہے۔ ڈیووس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ در اصل واشنگٹن طے کرتا ہے۔ واشنگٹن ڈیووس کواپنے معاشی ماڈل کو "عالمی معیار"بنانے، اپنے اتحادیوں کو لائن میں رکھنے، اور اپنے مخالفین کو عالمی اشرافیہ کی طرف سے مشترکہ پیغام دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ المختصر یہ کہ ڈیووس میں فیصلے کرنے والے،نہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں،نہ پارلیمان کے، اور نہ کسی عالمی عدالت کے۔ یہ بندوقوں والا مافیا نہیں،یہ ٹائی سوٹ والا مافیا ہے۔ یہ اشرافیہ کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جس میں مافیا کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔
آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ ڈیووس عالمی بحرانات کو خاموشی و نرمی سے مینیج کرکے منافع حاصل کرنے کا مرکز ہے جبکہ اس مرکز کی سخت پالیسیوں جیسے جارحانہ خارجہ پالیسی، استبدادی تجارتی جنگوں، دوسرے ممالک پر بے رحمانہ عسکری پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے اظہار کا نام ٹرمپ و امریکہ ہے۔ ڈیووس دنیا کے سامنے بظاہر نرم و ملائم انداز میں مسکراتا رہتا ہے اور امریکہ دنیا کو طاقت سے دباتا رہتا ہے۔ امریکہ دنیا پر زبردستی اپنے فیصلے مسلط کرتا ہے، اور ڈیووس انہیں “اصلاحات” اور “عالمی ضرورت” کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ امریکہ عسکری اور سفارتی سطح پر جو ظالمانہ و جارحانہ کردار ادا کرتا ہے، ڈیووس اس کردار کو نارملائز کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
اب اس کے بعد "غزہ امن بورڈ" کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے دوران "غزہ امن بورڈ" کا باقاعدہ اعلان کیا اور اس موقع پر منشور (چارٹر) پر دستخط کیے ۔یہ بورڈ غزہ میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی ایک شکل کے طور پر قائم کیا گیا ، جس میں مختلف ممالک شامل ہوئے۔ڈیووس فورم نے اس اقدام کی میزبانی کرتے ہوئے تقریب کیلئے جگہ کا انتظام اور عالمی اشرافیہ کے منظورِ نظر رہنماؤں کو جمع کیا ۔
غزہ جیسے معاملات میں ٹرمپ کی کھلی اسرائیل نواز پالیسی،اور ڈیووس فورم کی خاموشی،درحقیقت ایک ہی بیانیے کے دو رخ ہیں۔امریکہ سخت و گرم چہرے کے ساتھ جبکہ ڈیووس فورم نرم و ملائم اور مہذب شکل و صورت کے ساتھ۔ دونوں کا مقصد ظلم کے تسلسل کو نارمل کر کے غزہ کے بحران سے منافع حاصل کرنے کے سوا کچھ اور نہیں۔ غزہ امن بورڈ ظالم کا ہاتھ روکنے کیلئے نہیں بلکہ مظلوم کو دبانے، مظلوموں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر تشویش ظاہر کرنے، جن کے ہاتھوں میں بم ہیں، ان سے امن کی بھیک مانگنے، غزہ کو فلسطین سے الگ مسئلہ بنا کر زیرِ بحث لانے، اور غزہ کے بچوں کو انصاف دینے کے بجائے اُن کے آنسو پونچھنے کیلئے ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ بورڈ ظُلم کو نارمل کر کے عالمی ضمیر کو سلانے کا "لوری پروگرام" ہے۔ پھر بھی بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ کیسے امن قائم کرے گا؟ اُن پوچھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکہ کیلئے غزہ میں امن قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ امریکہ عراق، افغانستان، لیبیا، اور شام کی مانند غزہ میں بھی لوگوں کو اُن کا حق دینے کے بجائے اُنہیں "اسرائیلی درندوں" کے حوالے کر کے امن قائم کرے گا۔ یوں غزہ کا محاصرہ برقرار رہے گا، اور اسرائیلی بمباری بھی جاری رہے گی، پھر کچھ عرصے کے بعد لوگ غزہ کے مظالم کو نارمل لینا شروع کر دیں گے اور اس دوران یہ "امن بورڈ" مسلسل پریشانی کے بیانات داغتا اور فکر مند ی کا راگ الاپتا رہے گا۔یہ ایک عالمی سچائی ہے کہ عالمی طاقتوروں کے درمیان منافع کی شراکت کا ایک ہی اصول ہے کہ انسان مرتے ہیں تو مر جائیں، شہر مٹتے ہیں تو مٹ جائیں لیکن اِن لاشوں اور کھنڈرات سے ہمیں مسلسل منافع ملتے رہنا چاہیے۔ اب آپ سمجھے کہ غزہ امن بورڈ نرم اور مسٹر ٹرمپ گرم کیوں ہیں؟
بدھ، 28 جنوری، 2026
جدید تعلیم کے نام پر دھبّہ
پیر، 26 جنوری، 2026
غزہ امن بورڈ اور امریکی پالیسیوں کا تسلسل
غزہ امن بورڈ اور امریکی پالیسیوں کا تسلسل
ڈاکٹر نذر حافی
غزہ امن بورڈ کی بے جا حمایت یا کھوکھلی مخالفت سے کسی کو کیا ملے گا۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان جیسے ایٹمی و اسلامی ملک کو اس بورڈ میں شامل کئے بغیر امریکہ اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟ ا س بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں امریکی پالیسیوں پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالنی ہوگی۔ ہمارے سامنے واشنگٹن ہر نئے روز کے ساتھ جمہوریت ، تبدیلی، ذمہ دار قیادت اور انسانی حقوق پر مبنی عالمی نظام کی بات کرتا ہے۔ اس کے باوجود ساری دنیا میں کہیں بھی امریکہ کا کردار کسی ثالث یا ضامنِ امن کا دکھائی نہیں دیتا۔ بطورِ مثال ایک طرف تو امریکہ کی طرف سے ایران کو جہاں جوہری عدم پھیلاؤ کے بھاشن دئیے جاتے ہیں وہیں دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے کئے گئے معاہدوں سے امریکہ اپنے مفادات کے مطابق یک طرفہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے۔ ایک جانب ایران کو سفارت کاری کی دعوت، اور دوسری جانب معاشی جنگ، نیز ایران کے اندر خفیہ کارروائیاں ، شورش اور عدم استحکام۔ یعنی امریکہ کے بیان کئے جانے والے اصول زبردستی دوسروں پر تو لاگو کئے جاتے ہیں لیکن خود امریکہ پر نہیں۔
اسی طرح لبنان اور اسرائیل کے تناظر میں بھی امریکی پالیسی لبنان کے اندر طاقت کے عدم توازن کو جان بوجھ کر برقرار رکھنے کی ایک مثال ہے۔ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں پر تشویش کو بنیاد بنا کر امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو غیر مشروط عسکری برتری فراہم کرنے سے مشرقِ وسطی میں یہ مسئلہ حل نہیں ہُوا بلکہ عدم استحکام کو مزید فروغ ملا۔ امریکی منصوبہ ساز یہ جانتے ہیں کہ جب ایک فریق کو مکمل استثنا اور دوسرے پر مکمل دباؤ ہو، تو نتیجہ دائمی تصادم کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ امریکہ نے مرحلہ بہ مرحلہ ثابت کیا ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ کھلی جنگ معاشی و سیاسی طور پر مہنگی اور مسلسل مداخلت اسٹرٹیجک طور پر فائدہ مند ہے۔
اتنی سی بات تو سب کو سمجھ آتی ہے کہ امریکہ طاقت کو قانون کی جگہ استعمال کرتا ہے ۔ جو بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ امریکہ قانون کی جگہ طاقت کے استعمال کو اخلاقیات کے لبادے میں پیش کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے امریکی طاقت، انسانی دلائل اور جمہوریت کو مسخ کردیتی ہے اور ہر انٹرنیشنل فورم پر امریکی بیانیہ عدل و انصاف کا جنازہ نکال دیتا ہے۔ یہ سب ہونے کے باوجود سادہ لوح افراد امریکی مداخلت کو عوامی تحفظ، اس کے قبضے کو شراکت داری ، اور تباہی کو استحکام سمجھتے رہتے ہیں۔
اب آپ کو اس پسِ منظر کے ساتھ غزہ امن بورڈ کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بورڈ بظاہر امن کی بشارت لئے ہوئے ہے لیکن یہ وہ امن نہیں جو انصاف کے بطن سے جنم لیا کرتا ہے۔ یہ وہ امن ہے جو غاصب اسرائیل کی گود میں پرورش پائے گا۔ یہ امن مظلوم کو تحفظ دے کر نہیں بلکہ ظلم کو سائنٹفک انداز میں منظّم کر کے قائم کیا جائے گا۔
یہ امریکہ کا سب سے خطرناک روپ ہے ۔ اس میں امریکہ بارود اور بیانیہ دونوں کا استعمال کرتا ہے۔غزہ امن بورڈ اسی بارود اور بیانیے یعنی ہائبرڈ وار کا تسلسل ہے۔ اس تسلسل کا ثمر یہ ہے کہ جو قوتیں کسی قوم اور ملک کو تباہ کرتی ہیں وہی اس کی تعمیر اور اس میں قیامِ امن کے نام پر از سرِ نو منافع کماتی ہیں۔ امریکی پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی مظلوم و محکوم قوم کو سب سے پہلے ایک سیاسی وجود و سیاسی قیادت سے محروم کر کے اُسے ایک انتظامی مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے۔ امریکہ غزہ کو بھی اب ایک قوم کے بجائے فلسطین سے جداگانہ ایک کیس، ایک بحران، ایک “ہیومینیٹیرین چیلنج” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
دنیا نے یہ سمجھنے میں بہت دیر کردی ہے کہ امریکہ کسی بھی سر زمین پر قبضے سے پہلے لوگوں کی زبان پر قبضہ کرتا ہے۔جب چاہتا ہے تو طالبان و داعش کو عام لوگوں کی زبان سے مجاہدین اسلام کہلواتا ہے اور جب چاہتا ہے تو دہشت گرد اور پھر جب چاہتا ہے تو حکومت ہی اُن کے حوالے کر دیتا ہے۔ غزہ امن بورڈ یہی تو ہے، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آزادی کی آواز کو مؤخر کر کے فوری امن کے نعرے سے لوگوں کو دھوکہ دیا جائے۔ یوں فلسطین پر غاصب اسرائیل کا قبضہ بھی باقی رہے گا اور دنیا بھر میں اسرائیل پر اٹھنے والے سوالات بھی دب جائیں گے۔
المختصر یہ کہ وقت امریکہ غزہ امن بورڈ کے لبادے میں تلوار کے بجائے دنیا کی رضامندی سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ مستحکم کرنے کے درپے ہے۔ جب محکوم دنیا کے نمائندے اور اسلامی ممالک خود ایک ایسی میز پر بیٹھ جائیں گے جہاں فلسطین کے حوالے سے فیصلے پہلے ہی طے شدہ ہوں گے تو امریکہ کو طاقت کے استعمال کا ا جواز مل جائے گا۔ ایک مرتبہ پھر سوچئے کہ کیا پاکستان جیسے ایٹمی و اسلامی ملک کو اس میز پر بٹھائے بغیر امریکہ اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟ ہماری دانست میں آگے چل کر یہ ہونے والا ہے کہ یہ بورڈ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنے کیلئے ایسی صورتحال پیدا کرے گا کہ نہ مکمل جنگ ہوگی اور نہ مکمل امن، نہ مکمل غلامی ہوگی اور نہ مکمل آزادی۔ یہ ایک ایسا جھولتا ہوا جال ہوگا جو اس بحران کو اس حالت میں بدل دے گا کہ وہ اسرائیل کیلئے قابلِ کنٹرول بھی رہے گا اور دنیا خاموش بھی رہے گی نیز یہ صورتحال امریکی مفادات و منافع کے لیے سود مند بھی ثابت ہو گی۔
یاد رکھئے !امریکہ ایک ایسی ریاست ہے جو کسی ملک کے بحران یا مسائل کو حل نہیں کرتی بلکہ اُس کے مسائل کو اُجاگر اور منظّم کر کے اُس سے اپنے مفادات حاصل کرتی ہے۔ علومِ سیاسی میں ایسی ریاست کو ہیجیمونک ﴿ Hegemonic ﴾کہتے ہیں۔ ہیجیمونک اُس طاقت یا رویّے کو کہتے ہیں جس میں کوئی ریاست اپنی طاقت کو ہی قانون کا درجہ دیتی ہے ، وہی بیانیہ طے کرنے والی، اور دنیا میں “نارمل” کی تعریف وضع کرنے والی بھی ہوتی ہے۔ لہذا مشرقِ وسطیٰ اس ہیجیمونی امریکی ریاست کے لیے ایک اسٹرٹیجک لیبارٹری سے زیادہ کچھ اہمیّت نہیں رکھتا۔ اس منطقے میں امریکہ سالہا سال سے اپنی سیاست و طاقت کے تجربات کرتا چلا آ رہا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں دیگر ریاستوں کی خود مختاری کی حدود، انسانی حقوق کے قوانین کی تفسیر، اور انسانی جانوں کی قیمت معیّن کی جاتی ہے۔ چنانچہ امریکہ کے نزدیک امن محض ایک وقتی حربہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر کہیں بھی اپنا لیا جاتا ہے اور حسبِ ضرورت اسے ترک یا دفن کر دیا جاتا ہے۔
کیا ہمارے پالیسی ساز افراد نے اس پر سوچا ہے کہ غزہ امن بورڈ کس چیز کو امن کا نام دے رہی ہے؟ کیا امن وہ ہے جس میں ظلم کو قانونی شکل میں منظّم کیا جائے؟ اور جس میں طاقتوروں کے خلاف مظلوم کی بات اور مطالبے کا کوئی وزن ہی نہ رہے؟ کیا انصاف کو مؤخر و مسترد کرنے کا نام امن ہے۔ ؟ کیا غزہ کو فلسطین سے کاٹنا اور جداگانہ پیش کرنا مظلوم فلسطینیوں کی مدد ہے؟ یہ ظلم کو منظم انداز میں قانونی قالب میں ڈھالنے کا عمل ہے نہ کہ امن ۔ اب ہر پاکستانی پر یشان ہے کہ کیا پاکستان فلسطینیوں پر ظلم کو منظّم کرنے اور اُسے قانونی شکل دینے جا رہا ہے؟ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکہ کے اسی طرزِ عمل نے ساری دنیا میں بین الاقوامی قانون کو طاقتور کے لیے مفید اور کمزور کے لیے سزا بنا دیا ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ ظلم کو منظم کرنے سے ظالم اور غاصب چھینی ہوئے چیز کا "حقدار " نہیں بن جاتا۔ آج غزہ امن بورڈ کی بے جا حمایت یا کھوکھلی مخالفت کے بجائے اس بورڈ کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرروت ہے۔ ورنہ آج فلسطین ہے تو کل کشمیر۔۔۔آج ایران ہے تو کل پاکستان۔۔۔
ہفتہ، 24 جنوری، 2026
مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!
میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب میں یہ خبر سنتا ہوں کہ ایران سے کشیدگی کے نام پر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے،بحری بیڑا بحرِ ہند تک آ پہنچا ہے، طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے، ہزاروں اضافی فوجی، اور العدید ایئر بیس ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ طاقتور جب خوف زدہ ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہتھیار حرکت میں آتے ہیں، دلیل نہیں۔ یہی تو یزید یوں کا پرانا وطیرہ ہے۔
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی طلبا کے لیے تین روزہ خصوصی اقتصادی تربیتی ورکشاپ کا اعلان
جمعہ، 23 جنوری، 2026
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں کیرئر گائیڈنس کی خصوصی کلاسز کا انعقاد :
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں فری لانسنگ کی تعارفی کلاس کا انعقاد
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں فری لانسنگ کی تعارفی کلاس کا
انعقاد:
اس موقع پر طلبا نے
مختلف سوالات بھی کئے اور بعد ازاں فیڈ بیک دیتے ہوئے سیشن کو
انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیا۔ یاد
رہے کہ جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی طلبا
کی دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی
تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور
سوسائٹی کی کاوشوں سے مستقبل میں اس نوعیت
کے مزید پروگرامز بھی منعقد کیے جائیں گے۔
اتوار، 18 جنوری، 2026
مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا
ٹرمپ کا واویلا۔۔۔ مجھے پکڑو! نہیں تو میں
ماروں گا
ڈاکٹر نذر حافی
پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بے نقاب ہو چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران کی سڑکوں پر آگ اور دھواں دیکھ کر پاکستان میں بھی مذکورہ
لابی نے جشن منایا۔ ایران اپنے وسیع جغرافیہ،
قدرتی وسائل، اسٹریٹجک محلِ وقوع، قدیم تہذیب اور خطے میں ایک باصلاحیت قوم ہونے کی
وجہ سے، برسوں سے امریکہ و اسرائیل کی نظر
میں ایک ممکنہ حریف رہا ہے۔ اب اسرائیل کے
غزہ پر حملوں نے اس مسابقت کو خونی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں میں بدل دیا ہے۔
تاہم دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں موجود امریکی و اسرائیلی پراکسیز کو
ایران نے کبھی گھاس ہی نہیں ڈالی۔ اس
دوران ایران میں منافقین کی مانند پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بھی ایران کے اسلامی نظام کے خاتمے کے لیے بے تاب نظر آئی۔ امریکہ
جیسی استبدادی طاقتیں جو اقوام کے حقِ
خودارادیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی کھلم
کھلا خلاف ورزی کرتی ہیں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے ایک مرتبہ پھر ملت
پاکستان پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان لوگوں کے اور امریکہ و اسرائیل کے اہداف لازماً ایک جیسے ہیں۔
المختصر یہ کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کا تجربہ بھی ایران میں طاقت کے ڈھانچے کو بدلنے میں فوجی مداخلت کی ناکامی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی امریکہ میں حکومت کے اندر ایران کے حوالے سے اختلافات موجود رہے۔ ٹرمپ کے بعض مشیر، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں، کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل غیر فوجی حل اور ایرانی حکومت سے مذاکرات پر زور دیتے رہے۔ایران میں جاری بحران فی الحال تھم تو گیا ہے تاہم ملک گیر احتجاجات ، ریاستی کریک ڈاؤن اور امریکہ کی ممکنہ فوجی مداخلت پر ابھی تک بحث جاری ہے۔
منگل، ۱۳
جنوری کو ڈیٹرائٹ کے دورے کے موقع پر سی بی ایس نیوز کو ایک مختصر انٹرویو میں
ٹرمپ نے کہا کہ وہ “فتح” کے خواہاں ہیں، اور اس کی وضاحت کے لیے انہوں نے وینزویلا
میں نکولس مادورو، عراق میں ابو بکر البغدادی، پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے
سابق کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مثالیں پیش کیں۔ وہ
مسلسل واویلا مچا رہے تھے کہ مجھے پکڑو نہیں تو میں ماروں گا۔
اسی دوران ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک
پیغام میں ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ “مدد
راستے میں ہے”۔ یاد رہے کہ پاک بھارت جنگ
کے موقع پر کئی مرتبہ امریکی صدور نے ایسے
اعلانات پاکستان کی مدد کیلئے بھی کئے تھے۔ ابھی تک وہ مدد بھی راستے میں ہی ہے۔
موجودہ بحران میں وائٹ ہاؤس نے بھی اعلان کیا کہ امریکی صدر مظاہرین کے خلاف کریک
ڈاؤن روکنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کے آپشن پر غور کر
رہے ہیں۔امریکی کانگریس میں بھی بعض ریپبلکن رہنماؤں کا لہجہ شرمناک حد تک مزید
سخت ہو گیا۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈزی گراہم کا دعویٰ تھا کہ ایران میں مظاہرین اس یقین کے ساتھ سڑکوں پر نکلے ہیں کہ
انہیں واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی یورپ کی طرف سے بھی قابلِ ذکر
ردِعمل سامنے آیا ۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن کے دورے کے دوران اپنے ملک کے
چانسلر فریڈرک میرس کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “تہران میں برسرِ اقتدار قیادت
اب کسی قسم کی مشروعیت نہیں رکھتی”۔میرس اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ ان کے خیال میں
اسلامی جمہوریہ اپنے “آخری دنوں اور ہفتوں” میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے مضحکہ خیز بیانات
آئے روز جاری ہوتے رہے ۔
امریکہ و یورپ نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی انسانی
حقوق کی تنظیموں کے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے فوجی مداخلت کا بین بھی بجایا۔ یہ ایران کے قومی
موقف کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ تھی۔ ایران
کی مضبوط اعصاب کی مالک حکومت نے اس نفسیاتی جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے
میں نہ تو ایران میں طاقت کا ڈھانچہ بدلا اور نہ ہی امریکی و اسرائیل اور یورپ نے ایرانی عوام کو کوئی معاشی فائدہ پہنچایا اور نہ ہی منافقین کی کوئی قابلِ ذکر مدد کی۔
حالیہ احتجاجات کو ایرانی حکومت کی طرف موڑنے میں امریکہ و
اسرائیل نیز یورپ کی ناکامی اور ایران کے ساتھ اسرائیل کی بارہ روزہ جنگ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ
و اسرائیل اور ان کی پاکستان سمیت ساری
دنیا میں موجود پراکسیز کے مقابلے میں ملتِ ایران بہت زیادہ مستحکم و مضبوط ہے ۔ لہٰذا اقتصادی پابندیوں اوراحتجاجات کے ذریعے ایران
میں اسلامی نظام کی کمزوری یا کسی فوجی
حملے کے ذریعے رجیم کی تبدیلی امریکہ و
اسرائیل کیلئے ممکن نہیں۔
"عورت، زندگی، آزادی، روٹی، کپڑا اور مکان " یہ سب نعرے ایرانی عوام کو فریب نہیں دے پائے۔ ایران
کی سول سوسائٹی، چاہے وہ اندرونِ ملک ہو یا بیرونِ ملک، کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایران کو تھالی میں رکھ کر امریکہ و یورپ
کو پیش کر دے۔ ایرانی عوام کے اندر اسلامی انقلاب کے عنوان سے ایک ایسا
ہمہ گیر اور جامع اتحاد موجود ہے جسے
استعماری طاقتیں متزلزل کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔
ایرانی عوام بخوبی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت کا خاتمہ یقینی طور پر ایک ایسا خلا پیدا کرے گا، جسے استعمار کی لے پالک سیاسی،
سفارتی ، سکیورٹی اور عسکری قوتیں پُر نہیں کر پائیں گی۔ جو کچھ افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں
امریکی فوجی حملوں کے بعد رونما ہوا وہ سب ایرانی عوام کے سامنے ہے۔ امریکہ نے
سارے خطے کے ممالک کے لیے نہایت تلخ اسباق چھوڑے ہیں۔ جہاں بھی امریکی مداخلت کے
باعث عوام کو اپنے مستقبل کے تعین میں
آزادانہ اور خودمختار کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بدترین اور تاریک انجام
سے دوچار ہوئے ۔ لہذا جب بھی امریکہ کسی فوجی کارروائی کی غلطی کرے گا تو ایرانی
عوام اُسے خوش آمدید کہنے کے بجائے امریکہ
کے تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، یہ
ردِّ عمل ساری دنیا میں متوقع ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی صورتِ حال کے نتائج امریکہ کیلئے انتہائی تباہ کن اور پریشان کُن ہوں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران میں کوئی بڑی فوجی مداخلت لازماً اسلامی جمہوریہ کے بجائے
اسرائیل کے خاتمے پر منتج ہوگی چونکہ ایران کے عوام، آخری سانس تک اپنی سرزمین اور قدرتی وسائل کا
تحفظ کریں گے۔ایرانی عوام کے مضبوط قومی نظریات اور انقلابی تاریخ کے باعث امریکہ کیلئے ایران ہرگز عراق، شام یا وینزویلا ثابت نہیں ہو گا۔ اس لئے امریکہ و اسرائیل کو “فوجی مداخلت کا سودا” بہت مہنگا پڑے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی ہٹ دھرمی کے باعث آج بدقسمتی سے بین
الاقوامی برادری کی آواز رفتہ رفتہ دب
چُکی ہے۔ وہ برادری جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگی مجرموں کے لیے منصفانہ
عدالتیں قائم کیں، اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ مرتب
کیا، اور جس نے اقوامِ عالم کو فلاحی ریاستوں
اور یورپی یونین جیسے اداروں کی تشکیل کے ذریعے ایک بہتر ین دنیا کا خواب دکھایا
تھا، آج وہ محض چند شاندار عمارتوں، کچھ ملازمین اور مذمتی یا حمایتی بیانات کے انبار تک
محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
بین الاقوامی برادری کو
امریکہ کے مقابلے میں ایرانی عوام کے ساتھ
انسانی ہمدردی اور بشردوستانہ رویہ اپنانا
چاہیے تاکہ ایرانی قوم کی خودمختاری اور
حقِ خود ارادیت کا تحفظ قائم رہے۔امریکی آمریت اور استبداد کے خلاف اسلامی جمہوریہ
ایران کے باشعور عوام کی شاندار جدوجہد، ان کے پُرامن مزاحمتی طریقوں، اپنے نظام
کی حمایت میں مظاہرین کی سڑکوں پر مسلسل موجودگی اور روز بروز بڑھتی ہوئی امریکی
پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمّت کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ایران میں ایرانی عوام کے نصب العین
کے مطابق
اسلامی نظام کا مستقبل نہایت ہی روشن اور امید
افزا ہے۔
آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے چلیں کہ پاکستان میں موجود
امریکی و صہیونی لابی سے خود پاکستان کو بھی چوکنا رہنا چاہیے۔ ان کی فطرت میں
پاکستان کی دشمنی رچی بسی ہے۔ ان کے عقائد
میں قائداعظم کو کافراعظم کہنا اور پاک فوج کو ناپاک فوج کہنا شامل ہے۔ یہ
امریکی ڈالروں کیلئے ماضی میں بھی ان گنت پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں اور مستقبل
میں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کے لے پالک ان خوارج و منافقین کو ایران کی طرح پاکستان میں
بھی ناکام بنانا ساری ملت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ایرانی عوام کی طرح اپنے
وطن کی حفاظت کیلئے متحد ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کے دفاع کیلئے متحد ہو جائیں تو پھر بے شک ٹرمپ یہ واویلا
مچاتا رہے کہ مجھے پکڑو ! مجھے پکڑو!نہیں تو میں ماروں گا۔۔۔
جمعہ، 16 جنوری، 2026
INTRODUCTION TO FREELANCING
جمعرات، 15 جنوری، 2026
ہفتہ وار درسِ اخلاق ، حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی اخلاقی خصوصیات اور آپؑ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد
بدھ، 14 جنوری، 2026
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دوسری ٹرم کے نتائج کا اعلان، مدیرِ محترم کا طلبا سے خصوصی خطاب
ہفتہ، 10 جنوری، 2026
امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل اسٹریٹیجی Regime Change
امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل اسٹریٹیجی
ڈاکٹر
نذر حافی
بغیر ایک گولی چلائے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ وینزویلا
کے صدر کی گرفتاری کوکچھ نے حیرت سے اور کچھ نے عبرت کے طور پر دیکھا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں رجیم چینج ایک
مستقل ہتھیار ہے۔ اس وقت ایران،چین،روس،عراق،مشرق
وسطیٰ،شمالی کوریا،اس کے علاوہ، افریقہ کے کئی ممالک جیسے صومالیہ، سوڈان، نائجر،
برونڈی، ایریٹیریا اور دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی امریکہ کے تعلقات میں سفارتی
اختلافات، پابندیاں، اور سلامتی کے ایشوز
کھڑے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں گرین لینڈ-ڈنمارک اورامریکہ کے
تعلقات میں ایک غیر معمولی کشیدگی اور شدید سفارتی تناؤ چل رہا ہے۔ امریکہ
کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِن دِنوں میں چند
بار کھل کر کہا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ اپنے ساتھ "ملانے" کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ میں
نایاب معدنیات ہیں اور یہ آڑیک کے راستوں پر کنٹرول کا بہترین مقام ہے ۔
لہذا امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ گرین
لینڈ پر قبضہ اگر آسان طریقہ سے ممکن نہ ہوا تو مشکل طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ کے چند رجیم چینج آپریشنز پر بھی ایک نظر ڈالئے۔ ایران میں 1953 میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹا کر شاہ محمد رضا پہلوی کو بحال کیا گیا، جس میں CIA اور برطانوی خفیہ ادارے MI6 کی مشترکہ کارروائی نے واضح کردار ادا کیا۔ اسی طرح 1954 میں گواٹے مالا میں خاویر أربنز کو امریکہ کی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک طویل فوجی حکومت قائم ہوئی۔ چلی میں 1973 میں صدر سلیم آلینڈ کی حکومت کو فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹایا گیا اور جنرل آگوستو پینوشے کا اقتدار قائم ہوا، جبکہ کانگو میں 1960 کی دہائی میں وزیر اعظم پاتریس لومومبا کی برطرفی اور قتل امریکہ کی مداخلت کا حصہ تھی۔ ویتنام میں جنوبی ویتنام کی حکومتوں کو امریکی حمایت یافتہ بغاوتوں اور فوجی مداخلتوں کے ذریعے کمزور کیا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور ایک طویل خانہ جنگی شروع ہوئی۔ ہاؤتی میں امریکہ کی مداخلت کے ذریعے منتخب حکومتوں کی تبدیلی اور فوجی دباؤ معمول رہا، جبکہ عراق میں 2003 میں صدام حسین کو ہٹا کر ملک میں سیاسی انتشار اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا راستہ کھولا گیا۔
لیبیا میں 2011 میں
معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا، جس میں NATO بمباری
اور امریکہ کی حمایت یافتہ باغیوں کی شمولیت نے ملک کو خانہ جنگی اور انسانی بحران
میں دھکیل دیا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ باغیوں
اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعے جاری مداخلت نے خانہ جنگی کو طول دیا اور انسانی
حقوق کے بحران کو بڑھایا۔
وینزویلا میں 2002 میں صدر ہگو چاویز کے خلاف فوجی بغاوت کی امریکی
حمایت ایک اور مثال ہے، جہاں اقتدار کی عارضی تبدیلی کی کوشش کی گئی۔ اور حالیہ
برسوں میں پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے
مبینہ طور پر امریکی اثر و رسوخ، سفارتی دباؤ، سیاسی اور میڈیا مہمات استعمال کی
گئیں، جس کے نتیجے میں منتخب حکومت برطرف ہوئی ۔ ایسے واقعات اس سچ کو بے نقاب
کرتے ہیں کہ ریاستیں اس دن کمزور نہیں ہوتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس دن
ٹوٹتی ہیں جب دشمن کو حملے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ایران میں بار بار ہنگامہ
آرائیاں اور ہنگاموں میں ٹرمپ انتظامیہ کی
براہِ راست مداخلت اور بلوائیوں کی حوصلہ افزائی یہ سب رجیم چینج آپریشن کا حصّہ ہے ،اس آپریشن کی ہر بار ناکامی امریکہ کیلئے یہ
پیغام ہے کہ ہر روز ایران ماضی کی نسبت مزید مضبوط ہوتا جا
رہا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے
اندر داخلی سطح پر پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں
کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں، جیلخانوں کی غیر انسانی اور دگرگون حالت، فوجداری
قوانین کی خامیاں، اور ملزموں پر پولیس کے غیر قانونی تشدد کے مظاہر بھی کسی سے
ڈھکے چھپے نہیں۔۔۔تو اب یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ کیا امریکہ دن بدن طاقتور ہو
رہا ہے یا کمزور؟ اب تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا دنیا کے دیگر ممالک کے پاس امریکہ کی رجیم چینج حکمت
عملی کو سمجھنے والا کوئی قاسم سلیمانی
موجود ہے یا نہیں؟ شہید سلیمانی کا فن جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو دشمن کے دروازے
پر ہی روکنا تھا۔ انہوں نے امریکہ سے دفاع
کیلئے ایران کے گرد ایسا علاقائی اتحاد وجود میں لایا کہ امریکہ کیلئے ہر ممکنہ
مداخلت ایک نہیں، کئی محاذ کھولنے کے مترادف تھی۔
عراق میں عوامی اتحاد، شام میں مقاومت کی موجودگی، لبنان میں حزب اللہ کا توازن اور یمن میں اصولی موقف ۔۔۔یہ سب عسکری فتوحات نہیں بلکہ عسکری انشورنس تھیں۔ ان کے ہوتے ہوئے امریکہ کیلئے ایران میں کسی گرفتاری کی کوشش، کسی رجیم چینج یا کسی براہِ راست مداخلت کا مطلب فوری انتقام تھا ۔ یہی فرق ہے ایران اور وینزویلا میں۔ وینزویلا کے پاس تیل اور دیگر معدنی وسائل تو ہیں مگر ایک قاسم سلیمانی نہیں، معدنیات ہیں مگر سوچ نہیں، جغرافیہ ہے مگر حکمتِ عملی نہیں۔ چنانچہ اس کی دولت نے اسے طاقتور بنانے کے بجائے دشمن کیلئے لقمہ بنا دیا ہے۔ وینزویلا کی جغرافیائی حیثیت، کیریبین کا ساحل، پاناما نہر کی قربت اور امریکی منڈیوں سے نزدیکی، اسے عالمی توانائی کا مرکز بنا سکتی تھی لیکن قاسم سلیمانی جیسی بصیرت نہ ہونے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔
وینزویلا کا تیل، گیس،
سونا اور معدنیات محض نام کی حد تک فائدہ مند ہیں، اگر انہیں قومی استعمال میں
لانے اور عوام کیلئے مفید بنانے والا کوئی دماغ موجود ہوتا تو وینزویلا خود ایک بڑی
طاقت بن چکا ہوتا ۔ ایک اچھی پلاننگ کی کمی کے سبب وسائل کی فراوانی کے باوجود وینزویلا
امریکہ کی گرفت میں آ گیا، جبکہ پابندیوں کے باوجود ایران ناقابلِ گرفت رہا۔
رجیم چینج جیسے واقعات ہر اُس ریاست کے لیے وارننگ ہیں جو یہ سمجھتی ہے کہ
قدرتی وسائل اور عسکری ہتھیاروں سے کسی ریاست کا دفاع کیا جا سکتا ہے ۔ تاریخ بتاتی
ہے کہ اصل طاقت وہ ہتھیار نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں بلکہ وہ قیمتی دماغ ہوتے ہیں
جو دشمن کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ جہاں دشمن کو اُلجھانے والے دماغ ختم ہو جائیں ،
وہاں دشمن کو ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس وقت دنیا میں ہر جگہ جنگ گولی کی نہیں دماغ کی
ہے۔لہذا دنیا میں ہر جگہ ضرورت بھی گولی کی نہیں قاسم سلیمانی جیسے دماغوں کی ہے۔ یہ
وقت کی پکار بھی ہے اور دنیا کی ضرورت بھی کہ ہتھیاروں سے زیادہ قاسم سلیمانی جیسے
دماغ پیدا کرنے پر توجہ دیجئے۔










