زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

ہفتہ، 31 جنوری، 2026

امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟

امریکہ و ایران  سے ہم نے کیا سیکھا؟
ڈاکٹر  نذر حافی :
دنیا کو  ٹرمپ پر  اعتماد نہیں کہ وہ  ایران پر حملہ کرے گا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی سیاست  اصولوں پر نہیں، مفادات اور سرخیوں پر کھڑی ہے۔ امریکی سیاستدان   جنگ کو بھی کاروباری سودے کی طرح دیکھتے ہیں،  فائدہ ہوتا نظر آئے  تو بیان بازی میں آگے آگے، نقصان کا اندیشہ ہو تو پیچھے پیچھے۔  البتہ  ایران کے بارے میں  یہ  یقین  سب کو ہے  کہ ایران اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں  کر ے گا۔ جمہوری اسلامی ایران نے انقلاب کے بعد اپنی خودمختاری پر کسی سودے بازی کے بغیر  پابندیاں جھیلیں، اور سیاسی و سفارتی  تنہائی برداشت کی ۔ اس کی ریاستی سوچ جہاں  دفاعی ہے وہیں غُلامی  سے کوسوں دور۔ جہاں  دنیا کی دیگر ریاستیں دباؤ کے آگے جھک کر وقتی مفادات خرید لیتی ہیں، وہاں ایران نے اپنی مزاحمت و مقاومت سے دنیا کو  مسلسل یہ پیغام دیا ہے کہ خودداری کی قیمت ہوتی ہے، یہ بے قیمت نہیں ہوتی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی سیاست فوری  معاشی مفادات  کی اسیر ہے اور  ایران کی سیاست طویل المدت مزاحمت کی قائل۔ ایک طرف ٹوئٹس ہیں جو پالیسی بن جاتے ہیں اور  دوسری طرف نظریہ ہے جو نسل در نسل  منتقل ہورہا ہے۔ ایک طرف  امریکی  ریاست  دوسروں پر دباؤ  ڈال کر  اپنی ساکھ بچانے کی خاطر   طاقت کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہے اور طرف ایرانی ہیں جو مقاومت و مزاحمت سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ   اس وقت امریکہ  اپنے گرم و نرم اسلحے کے ساتھ ایران کے سامنے آ چکا ہے۔ جنگ کا یہ ماحول گرم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ ریاستیں ہیں  جو اس کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی غلبے کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں اور اب  ایران اسی انکار کی علامت بن گیا ہے۔
امریکہ کے لیے ایران ایک مسلسل چیلنج  کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔ ایران کا علاقائی اثرورسوخ چاہے وہ عراق، لبنان، فلسطین، شام یا یمن میں ملیشیا کے ذریعے ہی  ہو بہر حال  امریکی اثر و رسوخ کے لیے مستقل دھچکا ہے۔ ایرانی مقاومتی اتحاد ی صرف  مقامی تنازعات تک محدود نہیں وہ  امریکہ کے عالمی مفادات، اس کے اتحادیوں اور بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
  1979 کے بعد  کی  تاریخ اٹھاکر دیکھیں۔ اسلامی جمہوریہ  ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد کسی دوسرے ملک کے خلاف براہِ راست جارحانہ جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ اس کے باوجود یران ،  امریکہ  اور اس کے حاشیہ برداروں کی زد پر ہے۔ ان کی طرف سے صبح و شام  یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ ایران  دوسرے ممالک  پر اپنا انقلاب نافذ کرنے کے درپے ہے۔وہ ایران کو مسلسل دہشت گرد اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
  اس کے   برعکس  امریکہ نہ صرف دوسری جنگِ عظیم میں جاپان پر دومرتبہ  ایٹم بم استعمال کر چکا ہے نیز کوریا، ویتنام، عراق، افغانستان، پانامہ، یوگوسلاویہ اور لیبیا سمیت کئی ممالک میں براہِ راست فوجی حملے بھی کر چکا ہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ نواز  عناصر کی طرف سے  امریکی جارحیت کو قابلِ قبول، جائز اور  اخلاقی عمل کے طور پر پیش کرنا ایک معمول کی بات ہے۔
ایران کا قصور یہ ہے کہ  ایران کا میزائل اور بیلسٹک پروگرام امریکہ کے دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک مسلسل ہراساں کرنے والا عنصر ہے۔ ہر میزائل ٹیسٹ، ہر راکٹ لانچ، امریکی فوجی اور نیوی کی حکمت عملی کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتا ہے، اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے۔ ایران کی ممکنہ نیوکلیئر صلاحیتیں تو اس خطرے کو عالمی پیمانے پر بڑھا دیتی ہیں، کیونکہ  اس سے امریکہ کے لیے ایٹمی توازن کے اصول کو ہر وقت چیلنج کا سامناہے۔
ایران کا یہ جرم بھی کوئی کم نہیں کہ  سائبر اور ٹیکنالوجیکل محاذ پر بھی ایران امریکہ کے لیے ایک حقیقی رقیب ثابت ہواہے۔وہ امریکہ جو ساری دنیا کی ٹیکنالوجی کی قیادت کرنے کا دعوے دار ہے اسے  ایرانی ہیکرز اور ریاستی سپانسرڈ کی طرف سے گونا گوں پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ایرانی سائبر مہمات کے ماہرین  امریکی انفراسٹرکچر، مالیاتی نظام اور دفاعی معلومات پر براہِ راست حملے کرنے کی صلاحیّت رکھتے ہیں، اور اسے ثواب اور دفاعی جہاد بھی سمجھتے ہیں  جس سے امریکہ کو اپنے دفاعی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے  شب و روز  اضطراب کا سامناہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ   ایران کی خارجہ پالیسی کا  خود مختاری پر مبنی انداز امریکہ کی بالادستی کو ٹھکراتا ہے۔ خلیج فارس میں کسی چھوٹی کشیدگی کی ایک جھڑپ بھی عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، امریکی اتحادیوں کو دباؤ میں ڈال سکتی ہے، اور امریکی عسکری کارروائی کے لیے محاذ کھول سکتی ہے۔ ایران کی مستقل حیثیت اور اس کا سفارتی و سیاسی نیٹ ورک، امریکہ کے لیے یہ پیغام ہے  کہ  امریکی ریاست ہر لمحے ایک ایسے  نازک توازن پر کھڑی ہے  جسے ایران اپنے ایک اشارے سے درہم برہم کر سکتا ہے۔ظاہر ہے اس ساری صورتحال کا مقابلہ امریکہ جرات، بہادری، شجاعت اور جوانمردی سے نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اگر آپ تجزیہ و تحلیل کریں تو آپ دیکھیں  گے کہ  امریکی  جبر و استبداد نیز مکروہات  کیلئے اخلاقی جواز تراشنا باقاعدہ  ایک اکیڈمک کارروائی ہے۔
امریکی مظالم کو خوبصورت بیانیوں میں ڈھالنے کیلئے وائٹ ہاؤس، محکمۂ دفاع ﴿پینٹا گون﴾اور محکمۂ خارجہ  جیسے اداروں میں موجود تھنک ٹینکس  امریکی تسلط نیز جنگ و جبر  کو الفاظ کی تراش خراش سے مہذب، اور مداخلت کو اصطلاحات کی آرائش سے معقول بنانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے تھنک ٹینک امریکی حملوں کو دہشت گردی کا  ردِعمل اور  امریکی سایسی و سفارتی نیز عسکری  و نفسیاتی تشدد کو  استحکام کا ذریعہ  قرار دیتے ہیں۔  یہ تھنک ٹینکس  بیانیہ بنانے کیلئے  مین اسٹریم مغربی میڈیا  کو استعمال میں لاتے ہیں جو کہ  اسٹرٹیجک ابلاغ  کا خاموش مگر مؤثر ہتھیار ہے۔امریکی تھنک ٹینکس کے فراہم کردہ قالب کے اندر رہتے ہوئے  میڈیا  امریکی تشدد کو تکنیک میں، جنگ کو ضرورت میں، اور ہلاکتوں کو اعداد و شمار میں بدل دیتا ہے۔ پھر لوگ امریکی جارحیّت و جبر پر سوال اٹھانے کے بجائے  اعدادوشمار گننے  اور جنگ کو ایک  اسٹرٹیجک آپریشن سمجھنے لگتے ہیں۔یوں  رائے عامہ  ،    سُر پاورز کے مفاد کی ہم آواز ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  کالجز و یونیورسٹیز نیز پالیسی ریسرچ اداروں کا کردار شروع ہو جاتاہے۔یہ  ایسے ادارے ہیں  جو اسٹرٹیجک تھنکنگ  کی پیداوار  کے مراکز کہلاتے ہیں۔ یہ ادارے غیر جانبداری کے لبادے میں جغرافیائی سیاست ، طاقت کے خلا  اور عالمی استحکام کے بیانیے تراشتے ہیں، جن کے ذریعے مداخلت کو ناگزیر اور جارحیت کو عقلی بنایا جاتا ہے۔  البتہ سیاسی معیشت  کا تنقیدی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ یہ علم اکثر ریاستی ڈھانچوں اور دفاعی صنعت کے مفادات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔  ان اداروں کی تحقیقات میں تجزیہ  و تحلیل کا عنصر کم اور تاویل و  توجیہ کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔
بالاخر یہ سب عناصر مل کر ایک  بین الاقوامی قانونی و ادارہ جاتی نظام  کو تشکیل دیتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو اقوامِ متحدہ، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کے طور پر نظر اتا ہے۔ یہ  نظام عملاً طاقت کے عالمی عدم توازن  کے تابع ہونے کے باوجود   بظاہر ضابطۂ قانون اور ریاستی خودمختاری کا امین  ہوتاہے ۔ اس نظام کے تحت  ویٹو پاور  اور سفارتی دباؤ کے ذریعے بڑی طاقتیں قانون کو اپنے مفادات کے حق میں موڑ لیتی ہیں لیکن  کمزور ریاستوں پر یہی قوانین بے رحمانہ انداز میں  فوری اور سختی سے نافذ ہو جاتے ہیں۔
ہماری آج کی دنیا میں اگر فلم، ٹیلی وژن ، ناول ، افسانہ، ڈرامہ، سوشل میدیا اور پاپولر کلچر نہ ہوتو عام آدمی یہ سب ہضم نہ کر سکے۔ لہذا کیمرے اور قلم کی مدد سے  عسکری جبر و استبداد کو نجات، اخلاق اور استحکام کے استعاروں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ثقافتی بیانیہ  غلاموں کو غلامی پر رضامند کرنے  کا فریضہ انجام دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تشدد اور جبر ایک فطری ضرورت، دوسروں پر ناجائز  غلبہ جائز، اور جنگ و جارحیّت  قابلِ قبول محسوس ہونے لگتی ہے۔
بالآخر، اکیڈمیا (علمی دنیا) اور لبرل بین الاقوامی اخلاقیات بھی اسی اسٹرٹیجک بیانیے کا حصہ بن جاتی ہیں، جہاں جنگ کو جمہوریت اور انسانیت کے اخلاقی پردوں میں لپیٹ کر جنگ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ امریکہ کے ایٹمی حملے، جن میں لاکھوں شہری ہلاک ہوئے، آج بھی اکثر تاریخی مجبوری یا جنگی ضرورت کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، نہ کہ ریاستی دہشت گردی کے طور پر۔
اکیڈمیا (علمی دنیا) امریکی اسٹرٹیجک بیانیے میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جہاں جنگ اور عسکری مداخلت کو اخلاقی اور نظریاتی رنگ دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی پروفیسرز، تحقیقی مراکز اور علمی جرائد نہ صرف نظریاتی فریم ورک (فکری ڈھانچہ) فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے تجزیے  امریکی پالیسی سازوں کے لیے جواز بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کے دوران بعض محققین نے اسے "انسانی ہمدردی پر مبنی مداخلت" اور "جمہوریت کے فروغ"  کے عنوانات  سے  پیش کیا، جس سے عوامی اور بین الاقوامی رائے میں اسے جائز اور اخلاقی قرار دینے کی بنیاد رکھی گئی۔
مزید برآں، کئی تحقیقی ادارے جیسے بروکنگز انسٹیٹیوٹ اور کارنیگی اینڈاؤمنٹ، بظاہر غیر جانبدار علمی رپورٹیں شائع کرتے ہیں لیکن ان میں  تحقیقی تجزیات  طاقت کے مفادات کے مطابق رنگین ہو جاتے ہیں۔امریکی اکیڈمیا (علمی دنیا) نہ صرف دنیا بھر میں  امریکی عسکری مداخلت کے لیے نظریاتی جواز فراہم بھی کرتی ہے اور  عوام اور پالیسی سازوں کے ذہن میں جنگ کو اخلاقی اور فطری عمل کے طور پر قبول کروانے میں بھی  مدد دیتی ہے۔ یہ علمی دائرہ بیانیاتی غلبےکی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جہاں اخلاقی اور فکری زبان طاقتوروں کیلئے ہتھیاربن جاتی ہے۔
پس " امریکی جارحیت کی دنیا میں مقبولیت" کسی ایک ادارے کے بجائے  ایک ہمہ گیر اسٹرٹیجک و سیاسی نظام کا ثمرہے۔یہ  ایسا نظام  ہے جو کمالِ مہارت کے ساتھ عوامی  زبان سے  اپنے لئے جواز، عالمی قانون سے تحفظ، علمی مراکز سے توثیق، میڈیا سے اشاعت اور ثقافت سے قبولیت حاصل کرتاہے۔یہی وجہ ہے کہ  آپ کو دنیا میں ہر جگہ امریکی بندوق کے ہمراہ  مفہوم، معنی اور تشریح کی نرم جنگ نظر آئے گی۔
اب دوسری طرف  ایران امریکی بیانیہ ساز اداروں کا  بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ریاست، میڈیا، تھنک ٹینکس اور اکیڈمیا—کا مقابلہ متبادل بیانیہ (CounterNarrative) کی تشکیل کے ذریعے جاری ہے۔ جہاں امریکہ اپنی طاقت کو “عالمی نظم” اور “ذمہ دار قیادت” کے طور پر پیش کرتا ہے، وہاں ایران نے لمحہ بھر کیلئے بھی  “مزاحمتی سیاست” اور “خودمختاری کی حفاظت” سے غفلت نہیں کی۔ جس کی وجہ سے ایران کی عسکری حیثیت کو دنیا میں  اخلاقی طاقت بھی مل چکی ہے۔
ریاستی سطح پر ایران کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا انقلابی و سامراج مخالف بیانیہ ہے۔ ایرانی قیادت امریکہ کو ایک مداخلت پسند، سامراجی اور دوہرے معیار رکھنے والی طاقت کے طور پر  بے نقاب کرتی ہے، خاص طور پر فلسطین، عراق اور افغانستان کی مثالوں کے ذریعے۔ یہ بیانیہ امریکی خارجہ پالیسی کے اخلاقی دعوؤں کو ملیامیٹ کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ قانون نہیں بلکہ مفادات کی پیروی کرتا ہے۔
میڈیا کے محاذ پر بھی  ایران مغربی مین اسٹریم میڈیا کا مقابلہ ریاستی و نیم ریاستی بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے کرتا ہے، جیسے پریس ٹی وی اور العالم۔ یہ میڈیا ادارے امریکی خبروں کے پس پردہ حقائق کو سامنے لاتے ہیں۔ جہاں امریکہ “سکیورٹی” کی بات کرتا ہے، وہاں یہ میڈیا “تباہی” کے حقیقی مناظر دکھاتا ہے،  جہاں امریکہ “مداخلت” کو ناگزیر کہتا ہے، وہاں یہ “خودمختاری کی پامالی” کے دلائل بیان کرتا ہے۔ ایرانی  چینلز  عالمی رسائی محدود  ہونے کے باوجود  امریکی بیانیے کی اجارہ داری کا مکمل توڑ کرتے ہیں ۔
امریکی تھنک ٹینکس اور علمی اداروں کے مقابلے میں ایران روایتی مغربی اکیڈمیا کا حصہ بننے کے بجائے نظریاتی مزاحمت کی حکمت عملی اپناتا ہے۔ ایرانی دانشور اور ادارے بین الاقوامی تعلقات کو لبرل یا ریئلسٹ فریم کے بجائے سامراج مخالف، تہذیبی اور تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ اس زاویے سے امریکہ  ایک جمہوری  ریاست کے بجائے  ایک  استبدادی نظام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ طریقہ کار مغربی اکیڈمک معیار پر پورا نہ بھی اترے، تب بھی وہ ایک متبادل فکری میدان قائم کر دیتا ہے۔
ثقافتی سطح پر ایران فلم، ادب، مذہبی خطابت اور علامتی سیاست کے ذریعے امریکی بیانیے کا مقابلہ کرتا ہے۔ “شہادت”، “مزاحمت” اور “قربانی” جیسے تصورات کو مرکزی مقام دے کر ایران طاقت کے مغربی تصور کو چیلنج کرتا ہے، جہاں کامیابی کا معیار عسکری برتری ہوتی ہے۔ اس سے موت  بھی زندگی  بن جاتی ہے۔آخرکار، ایران کی سب سے مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ وہ امریکی بیانیے کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اسے متنازع  و منفور بنا دیتا ہے۔ ایران اپنے محدود وسائل کے ساتھ امریکی بیانیے کی  عالمگیریت کو توڑنے میں بڑی حد تک کامیاب چلا آ رہا ہے۔  ایران اور امریکہ کی معاصر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بیدار اقوام صرف  گرم اسلحے سے جنگیں نہیں لڑتیں  بلکہ  میدان جنگ میں اترنے کے ساتھ ساتھ وہ  بیانیہ سازی کیلئے مقالات بھی لکھتی ہیں اور  اصطلاحات کے معنی بھی طے کرتی ہیں۔
آئیے آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں بحیثیتِ پاکستانی  ہم نے امریکہ و ایران کے باہمی خلفشار سے کچھ سیکھا ہے یا نہیں؟ کیا ہمیں یہ بات سمجھ آئی ہے کہ  دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر زمین و آسمان کو خاک میں ملانے سے دریغ نہیں کرتیں، اور ہم جیسے لوگ ان جنگوں میں غلیل کے پتھروں کی مانند استعمال ہوتے ہیں۔ نیز  کیا ہمیں یہ حقیقت سمجھ آئی ہے کہ اندرونی سیکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ واحد دیواریں ہیں جو عالمی طوفان کے توپ خانے کے اثرات سے بچا سکتی ہیں، اور اگر یہ ٹوٹ جائیں تو ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے گا۔
پاکستانی قوم کے لیے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ بیانیہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، جذبات اور خوف کی آگ میں بہنا موت کے منہ میں کودنے کے مترادف ہے، ہر خبر اور ہر تصویر کو دھواں سمجھ کر پرکھنا شعور کی تیز دھار ہے، اپنے موقف کو دلیل، حقائق اور قومی مفاد کی بنیاد پر ڈھانپنا اور عالمی سطح پر مستقل انداز میں پیش کرنا حکمت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اندرونی سیکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ دیواریں ہیں جو ہمیں عالمی طوفان کے توپ خانے سے بچا سکتی ہیں، جذبات کی جھیل میں ڈوبنے کے بجائے عقل اور منصوبہ بندی کی تلوار تھامنا، دباؤ کے آگے نہ جھکنا، اور اپنی تاریخ  خود لکھنا یہی دانش و بقاء کی نشانی ہے، یاد رکھیں  کہ دنیا  کو بڑی طاقتیں صرف گرم اسلحے سے  نہیں چلاتیں، اس کیلئے  سوچنے، سمجھنے اور ثابت قدم رہنے  والے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جنگ کا خوف محض دھواں ہے لیکن علم و دانش کی تیز دھار ہر طوفان کو چیر کر راستہ روشن کر سکتی ہے۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

"غزہ امن بورڈ" کی نرمی اور مسٹر ٹرمپ" کی گرمی

"غزہ امن بورڈ" کی  نرمی اور مسٹر ٹرمپ" کی گرمی
ڈاکٹر نذر حافی :
غزہ امن بورڈ   پر بات کرنے سے پہلے ڈیووس کی بات کیجئے۔  ڈیووس سوئٹزرلینڈ کا ایک چھوٹا سا پہاڑی شہر ہے۔ آپ اسے آج کے قارون کی جنّت یا  دنیا کے مہذّب مافیا  کی فردوسِ بریں کہہ سکتے ہیں۔  ہر سال جنوری میں  ایک اندازے کے مطابق عالمی اشرافیہ کے  اڑھائی ہزار  کے لگ بھگ مندوبین ڈیووس جاتے ہیں۔ اس جہت سے  یہ عالمی اشرافیہ کے فیصلہ سازوں کا سب سے بڑا  مرکز ہے۔ یہ  بھی قابلِ ذکر ہے کہ " ڈیووس میں عالمی اشرافیہ کا  نیٹ ورک"  کوئی  قانونی ادارہ نہیں اور  نہ ہی اس کی دنیا میں کوئی سیاسی یا قانونی حیثیت ہے۔ اس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ ہر سال جنوری میں  ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس یہیں منعقد ہوتی ہے۔
 یہاں پر دنیا کے طاقتور لوگ،بند کمروں میں،کسی جمہوری یا عوامی مینڈیٹ کے بغیر،اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، قوانین، بیانیے اور فیصلے طے کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ڈیووس   کے مقام کو عالمی اشرافیہ کی  اقوامِ متحدہ کے دفتر  کا درجہ حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق اشرافیہ کے اسٹیک ہولڈر زکا اعتماد اور شراکت   حاصل ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ دنیا میں نرمی سے تبدیلی  لانے کی صلاحیّت  رکھتا ہے۔
اگرچہ ڈیووس شہر سوئٹزرلینڈ میں ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی کارپوریشنز امریکی ہیں، عالمی مالیاتی نظام پر امریکہ کا کنٹرول ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی  میں  امریکہ سب سے آگے ہے اور عالمی سیکیورٹی آرکیٹیکچر  کی بھی امریکہ قیادت کر رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کو  کارپوریشنز، مالیاتی ادارے اور طاقتور ریاستوں کی اشرافیہ  تشکیل دیتی ہے اور ان سب میدانوں میں امریکی اشرافیہ سب سے آگے ہے۔ اس کے نتیجے میں  اقوامِ متحدہ نجی شعبے اور کارپوریٹ دنیا تک رسائی کے لیے WEF  کا  یعنی امریکی اشرافیہ کا محتاج  بن کر رہ گیا ہے۔ یوں عالمی فیصلے اقوامِ متحدہ  کے نمائندوں اور اداروں  کے بجائے ڈیووس  میں بیٹھ کر عالمی اشرافیہ  امریکہ کی قیادت میں خود کرتی ہے۔ ڈیووس میں ہفتوں و  مہینوں جاری رہنے  والی بظاہر غیر رسمی اور دانشورانہ گفتگو حقیقت میں عالمی پالیسیوں کے خدوخال طے کرتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ  یہاں  امریکہ اپنی معاشی ترجیحات ، نجکاری، منڈی کی آزادی، مالیاتی کنٹرول، اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کو عالمی معیار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے برعکس  اقوامِ متحدہ  اگرچہ  ایک ریاستی، قانونی اور عوامی نمائندگی پر مبنی ادارہ ہے لیکن  امریکہ کی قیادت میں  عالمی اشرافیہ نے  اقوام متحدہ کو صرف ایک علامتی ادارے کے طور پر زندہ  رکھا ہوا ہے ۔  اس وقت  دنیا میں اقوامِ متحدہ  کا کردار فقط ایک  وعظ و نصیحت کرنے والے خطیب کا سا رہ گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ  ضمیر، اصولوں اور انسانیت کی بات کرتا ہے، اور   ڈیووس  کے دفتر میں بیٹھ کر ہر سال ورلڈ اکنامک فورم اور اقوام متحدہ کے اراکین  ایک دوسرے سے سودے بازی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک انسانیت سے مراد انصاف، مساوات، انسانی وقار اور مظلوم کی آواز ہے، اور ورلڈ اکنامک فورم کے نزدیک انسانیت سے مراد طاقتور ممالک  کی اقتصادی برتری، عالمی مارکیٹ کا استحکام اور بڑی طاقتوں کے  سرمائے  کا تحفظ اور اضافہ ہے۔ پس ڈیووس کے مقام پر اقوام متحدہ  کے نعروں اور ورلڈ اکنامک فورم کے درمیان لین دین ہوتا ہے۔ ڈیووس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ در اصل  واشنگٹن طے کرتا ہے۔ واشنگٹن  ڈیووس کواپنے معاشی ماڈل کو "عالمی معیار"بنانے، اپنے اتحادیوں کو لائن میں رکھنے، اور اپنے  مخالفین کو عالمی اشرافیہ کی طرف سے مشترکہ  پیغام دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ المختصر یہ کہ ڈیووس میں فیصلے کرنے والے،نہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں،نہ پارلیمان کے، اور نہ کسی عالمی عدالت کے۔  یہ بندوقوں والا مافیا نہیں،یہ ٹائی سوٹ والا مافیا ہے۔ یہ اشرافیہ کا  ایک ایسا  نیٹ ورک ہے جس میں مافیا کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔
 آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ  ڈیووس عالمی  بحرانات کو خاموشی و نرمی سے مینیج کرکے منافع  حاصل کرنے کا مرکز ہے  جبکہ اس مرکز کی  سخت پالیسیوں جیسے جارحانہ خارجہ پالیسی، استبدادی تجارتی جنگوں، دوسرے ممالک پر بے رحمانہ عسکری پابندیوں اور عسکری دھمکیوں  کے اظہار کا نام  ٹرمپ  و امریکہ ہے۔  ڈیووس دنیا کے سامنے بظاہر نرم و ملائم انداز میں  مسکراتا رہتا ہے اور امریکہ دنیا کو  طاقت سے دباتا رہتا ہے۔ امریکہ دنیا پر زبردستی اپنے  فیصلے مسلط کرتا ہے،  اور ڈیووس انہیں “اصلاحات” اور “عالمی ضرورت” کے نام پر  دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ امریکہ عسکری اور سفارتی سطح پر جو ظالمانہ و جارحانہ  کردار ادا کرتا ہے، ڈیووس اس کردار کو نارملائز کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
اب اس کے بعد "غزہ امن بورڈ"  کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم  کے 56ویں سالانہ اجلاس کے دوران "غزہ امن بورڈ" کا باقاعدہ اعلان کیا اور اس موقع پر  منشور (چارٹر) پر دستخط کیے ۔یہ بورڈ غزہ میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی ایک شکل کے طور پر قائم کیا گیا ، جس میں مختلف ممالک شامل ہوئے۔ڈیووس فورم نے اس اقدام کی میزبانی  کرتے ہوئے  تقریب کیلئے  جگہ کا انتظام  اور  عالمی اشرافیہ   کے منظورِ نظر  رہنماؤں کو جمع کیا ۔
غزہ جیسے معاملات میں ٹرمپ کی کھلی اسرائیل نواز پالیسی،اور ڈیووس فورم کی خاموشی،درحقیقت ایک ہی بیانیے کے دو رخ ہیں۔امریکہ سخت و گرم  چہرے کے ساتھ جبکہ ڈیووس فورم نرم و ملائم اور   مہذب شکل و صورت کے ساتھ۔ دونوں کا مقصد ظلم کے تسلسل کو نارمل کر کے  غزہ کے بحران سے   منافع حاصل کرنے کے سوا کچھ اور نہیں۔ غزہ امن بورڈ ظالم کا ہاتھ روکنے کیلئے نہیں بلکہ مظلوم کو دبانے،  مظلوموں کی  لاشوں پر کھڑے ہو کر تشویش ظاہر  کرنے، جن کے ہاتھوں میں بم ہیں،  ان سے  امن کی بھیک مانگنے، غزہ کو  فلسطین سے الگ مسئلہ بنا کر زیرِ بحث  لانے، اور غزہ کے بچوں  کو انصاف دینے کے بجائے اُن کے آنسو پونچھنے کیلئے ہے۔ مختصراً یہ  کہ یہ بورڈ ظُلم کو نارمل کر کے عالمی ضمیر کو سلانے کا  "لوری پروگرام" ہے۔ پھر بھی بعض   لوگ پوچھتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ  کیسے امن قائم کرے گا؟ اُن پوچھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکہ کیلئے غزہ میں امن قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ امریکہ  عراق، افغانستان، لیبیا، اور شام کی مانند  غزہ  میں بھی لوگوں کو   اُن کا حق دینے کے  بجائے اُنہیں  "اسرائیلی  درندوں" کے حوالے کر کے  امن قائم کرے گا۔ یوں غزہ کا محاصرہ برقرار رہے گا، اور  اسرائیلی بمباری  بھی جاری رہے گی، پھر کچھ عرصے کے بعد لوگ غزہ کے مظالم کو نارمل لینا شروع کر دیں گے اور اس دوران یہ  "امن   بورڈ" مسلسل   پریشانی کے بیانات داغتا  اور فکر مند ی کا راگ الاپتا  رہے گا۔یہ ایک عالمی سچائی ہے کہ عالمی  طاقتوروں کے درمیان منافع کی شراکت کا  ایک ہی اصول ہے کہ   انسان مرتے ہیں تو مر جائیں،  شہر مٹتے ہیں تو مٹ جائیں لیکن اِن لاشوں اور کھنڈرات سے ہمیں مسلسل منافع ملتے رہنا چاہیے۔  اب آپ سمجھے کہ غزہ امن بورڈ    نرم اور مسٹر ٹرمپ گرم کیوں ہیں؟

بدھ، 28 جنوری، 2026

جدید تعلیم کے نام پر دھبّہ

جدید تعلیم کے نام پر دھبّہ : 
نعیم الدین خالد :
ٹیوٹا ، ڈائی ہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں۔ جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔ ایل – جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے ۔2014 میں سام سنگ کا ریوینیو305 بلین ڈالرز تھا ۔
 "ایسر" لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی "ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن" کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔ اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔  خدا کو یاد کرنے کے لئے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں ۔ دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ جبکہ دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی تمام ممالک میں نظر آئینگے ۔ وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔
 ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے۔ باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔ دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں ۔ آپ دل پرہاتھ رکھ کر بتائیں ۔ بی – ای ،  بی – کام ، ایم – کام ، بی – بی – اے ، ایم – بی – اے ، انجنئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں جی – پی کے لئیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کون سا تیر مار رہے ہیں ؟ آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔لاکھوں روپے خرچ کر ،  یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ہم اس قدر "وژنری " ہیں ۔کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اس لئے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے ۔ آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں ۔جبکہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ 
پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔اور دوسری طرف لے دے کر ایک " مری " ہی ہمارے لئے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے ۔چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔  چینیوں کے تو یہ بات سمجھ آگئی ہے ۔ کاش ہمارے ارباب اختیار کو بھی سمجھ آجائے ۔

پیر، 26 جنوری، 2026

غزہ امن بورڈ اور امریکی پالیسیوں کا تسلسل

غزہ امن بورڈ  اور امریکی پالیسیوں کا تسلسل

ڈاکٹر نذر حافی

غزہ امن بورڈ  کی  بے جا حمایت یا کھوکھلی  مخالفت  سے کسی کو کیا ملے گا۔  ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان جیسے  ایٹمی و اسلامی ملک  کو اس بورڈ میں شامل کئے  بغیر امریکہ اس منصوبے میں  کامیاب ہو سکتا تھا؟ ا س بارے میں  کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں   امریکی پالیسیوں پر بھی  ایک طائرانہ نظر ڈالنی ہوگی۔  ہمارے سامنے واشنگٹن ہر نئے روز کے ساتھ  جمہوریت  ، تبدیلی، ذمہ دار قیادت اور  انسانی حقوق  پر مبنی عالمی نظام کی بات کرتا ہے۔  اس کے باوجود  ساری دنیا میں کہیں بھی  امریکہ کا کردار کسی ثالث یا ضامنِ امن   کا دکھائی نہیں دیتا۔  بطورِ مثال  ایک طرف تو   امریکہ کی طرف سے ایران کو  جہاں   جوہری عدم پھیلاؤ کے بھاشن دئیے جاتے ہیں  وہیں   دوسری طرف ایران کے ساتھ  اپنے کئے گئے معاہدوں سے  امریکہ اپنے مفادات کے مطابق   یک طرفہ  طور پر دستبردار ہو جاتا ہے۔   ایک جانب ایران کو سفارت کاری کی دعوت، اور  دوسری جانب معاشی جنگ، نیز  ایران کے اندر  خفیہ کارروائیاں ، شورش اور عدم استحکام۔ یعنی امریکہ کے بیان کئے جانے والے   اصول  زبردستی  دوسروں پر  تو لاگو کئے جاتے ہیں لیکن خود امریکہ  پر نہیں۔ 

امریکی پالیسیوں کو سمجھنے کیلئے شام کے معاملے کو بھی ایک نظر دیکھ  لیجئے۔ شام   میں واشنگٹن نے  سیاسی بحران کو  جمہوری طریقے سے حل کرنے  پر دہشت گردوں کو حکومت سونپنے  کو ترجیح دی۔ یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر  دمشق کا کنٹرول دہشت گردوں کے ہی حوالے کر دیا گیا۔ یوں ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکہ نے   شام کے عوام پر  براہِ راست تشدد کرنے سے زیادہ مہلک راستہ اختیار کیا۔امریکہ نے شام پر  بم نہیں برسائے چونکہ  بم وقتی طور پر  انسانوں کو مارتے ہیں لیکن سیاسی خلا نسلوں کو برباد کردیتا ہے۔  سب جانتے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں پر شور اور جمہوریت کیلئے واویلا کرنے والے امریکہ نے شام میں جو کیا وہ جمہوریت،  انسانیت اور اخلاقیات کے عین مخالف ہے۔

اسی طرح لبنان اور اسرائیل کے تناظر میں بھی  امریکی پالیسی  لبنان کے اندر طاقت کے عدم توازن کو جان بوجھ کر برقرار رکھنے کی ایک مثال ہے۔ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں پر تشویش کو بنیاد بنا کر امریکہ کی طرف سے  اسرائیل کو غیر مشروط عسکری برتری فراہم کرنے سے مشرقِ وسطی میں  یہ مسئلہ حل نہیں ہُوا بلکہ عدم استحکام کو  مزید فروغ ملا۔  امریکی منصوبہ ساز یہ جانتے ہیں کہ  جب ایک فریق کو مکمل استثنا اور دوسرے پر  مکمل دباؤ ہو، تو نتیجہ دائمی تصادم  کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ امریکہ نے مرحلہ بہ مرحلہ ثابت کیا ہے  کہ دیگر ممالک کے ساتھ  کھلی جنگ معاشی و  سیاسی طور پر مہنگی اور مسلسل مداخلت اسٹرٹیجک طور پر فائدہ مند ہے۔

اتنی سی  بات تو سب کو سمجھ آتی ہے کہ امریکہ طاقت کو قانون کی جگہ  استعمال کرتا ہے ۔ جو بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے  کہ  امریکہ  قانون کی جگہ  طاقت  کے استعمال کو اخلاقیات کے لبادے میں  پیش کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے  امریکی طاقت، انسانی دلائل  اور جمہوریت کو مسخ کردیتی ہے اور ہر انٹرنیشنل فورم پر  امریکی بیانیہ  عدل و انصاف کا جنازہ نکال دیتا ہے۔ یہ سب ہونے کے باوجود سادہ لوح  افراد امریکی مداخلت کو  عوامی تحفظ، اس کے قبضے  کو شراکت داری ، اور تباہی کو استحکام   سمجھتے رہتے ہیں۔

اب آپ کو اس پسِ منظر کے ساتھ غزہ امن بورڈ  کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بورڈ  بظاہر امن کی بشارت لئے ہوئے ہے لیکن  یہ وہ  امن نہیں جو انصاف کے بطن سے جنم لیا کرتا ہے۔ یہ وہ امن  ہے جو  غاصب اسرائیل  کی گود میں پرورش پائے گا۔ یہ  امن مظلوم کو تحفظ  دے کر نہیں بلکہ  ظلم کو  سائنٹفک انداز میں منظّم کر کے  قائم کیا جائے گا۔

یہ  امریکہ   کا سب سے خطرناک روپ ہے ۔ اس میں امریکہ  بارود اور  بیانیہ  دونوں کا استعمال کرتا ہے۔غزہ امن بورڈ  اسی بارود اور  بیانیے یعنی ہائبرڈ وار کا تسلسل ہے۔ اس تسلسل  کا ثمر  یہ ہے کہ جو  قوتیں کسی قوم اور ملک کو تباہ کرتی ہیں وہی اس کی  تعمیر اور اس میں قیامِ امن   کے نام پر از سرِ نو منافع کماتی ہیں۔ امریکی پالیسی یہی ہے کہ  کسی بھی مظلوم و  محکوم قوم کو سب سے پہلے ایک سیاسی وجود و سیاسی قیادت  سے  محروم کر کے اُسے ایک انتظامی  مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے۔ امریکہ  غزہ  کو بھی اب ایک قوم  کے بجائے   فلسطین سے جداگانہ  ایک کیس، ایک بحران، ایک “ہیومینیٹیرین چیلنج” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ 

دنیا نے یہ سمجھنے میں بہت دیر کردی ہے کہ امریکہ  کسی بھی سر زمین پر  قبضے سے پہلے لوگوں کی  زبان پر قبضہ کرتا ہے۔جب چاہتا ہے تو طالبان و داعش کو عام  لوگوں کی زبان سے مجاہدین اسلام کہلواتا ہے اور  جب چاہتا ہے  تو  دہشت گرد اور پھر جب چاہتا ہے تو حکومت ہی اُن کے حوالے کر دیتا ہے۔  غزہ امن بورڈ  یہی تو ہے، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ  آزادی کی آواز کو  مؤخر کر کے   فوری امن  کے نعرے سے لوگوں کو دھوکہ دیا جائے۔  یوں فلسطین پر  غاصب اسرائیل کا قبضہ بھی باقی رہے گا اور  دنیا بھر میں اسرائیل پر اٹھنے والے سوالات بھی دب جائیں گے۔

المختصر یہ کہ وقت امریکہ غزہ امن بورڈ  کے لبادے میں تلوار کے بجائے دنیا کی رضامندی سے فلسطین پر اسرائیل کا  قبضہ  مستحکم کرنے کے درپے ہے۔ جب محکوم دنیا کے نمائندے اور اسلامی ممالک خود  ایک ایسی  میز پر بیٹھ جائیں گے جہاں فلسطین کے حوالے سے فیصلے پہلے ہی طے شدہ ہوں گے تو امریکہ  کو  طاقت کے استعمال کا ا جواز مل جائے گا۔  ایک مرتبہ پھر سوچئے کہ کیا پاکستان جیسے  ایٹمی و اسلامی ملک  کو اس میز پر بٹھائے بغیر امریکہ اس منصوبے میں  کامیاب ہو سکتا تھا؟  ہماری دانست میں آگے چل کر یہ ہونے والا ہے کہ یہ بورڈ  فلسطین پر  اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنے کیلئے ایسی صورتحال پیدا کرے گا کہ   نہ مکمل جنگ ہوگی اور  نہ مکمل امن،  نہ مکمل غلامی  ہوگی اور  نہ مکمل آزادی۔ یہ  ایک ایسا جھولتا ہوا جال  ہوگا   جو اس  بحران  کو اس حالت میں بدل دے گا کہ  وہ  اسرائیل کیلئے قابلِ کنٹرول  بھی رہے گا  اور   دنیا خاموش بھی رہے گی  نیز  یہ صورتحال امریکی مفادات و منافع کے لیے  سود مند بھی ثابت ہو گی۔ 

یاد رکھئے !امریکہ ایک ایسی ریاست ہے  جو کسی ملک کے بحران یا مسائل کو حل نہیں کرتی بلکہ اُس کے مسائل کو  اُجاگر اور  منظّم کر کے اُس سے اپنے مفادات حاصل کرتی ہے۔ علومِ سیاسی میں ایسی ریاست کو ہیجیمونک ﴿ Hegemonic ﴾کہتے ہیں۔ ہیجیمونک اُس طاقت یا رویّے کو کہتے ہیں جس میں کوئی ریاست اپنی طاقت کو ہی قانون  کا درجہ دیتی ہے ،  وہی بیانیہ طے کرنے والی، اور  دنیا میں “نارمل” کی تعریف  وضع کرنے والی بھی ہوتی ہے۔ لہذا  مشرقِ وسطیٰ اس ہیجیمونی امریکی ریاست کے لیے ایک اسٹرٹیجک  لیبارٹری سے زیادہ کچھ اہمیّت  نہیں رکھتا۔ اس منطقے میں امریکہ سالہا سال سے  اپنی سیاست و  طاقت کے تجربات کرتا چلا آ رہا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں  دیگر ریاستوں کی خود مختاری کی حدود،  انسانی حقوق کے قوانین کی تفسیر، اور انسانی جانوں کی قیمت معیّن کی جاتی ہے۔ چنانچہ  امریکہ کے نزدیک  امن محض  ایک وقتی حربہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر کہیں بھی  اپنا لیا جاتا ہے اور حسبِ ضرورت اسے  ترک  یا دفن کر دیا جاتا ہے۔

کیا ہمارے پالیسی ساز افراد نے اس پر سوچا ہے کہ غزہ امن بورڈ  کس چیز کو  امن کا نام دے رہی ہے؟  کیا امن وہ ہے جس میں ظلم  کو قانونی شکل میں منظّم کیا جائے؟  اور جس میں  طاقتوروں کے خلاف مظلوم   کی بات  اور مطالبے کا کوئی وزن ہی نہ رہے؟ کیا انصاف کو مؤخر و مسترد  کرنے کا نام  امن ہے۔ ؟  کیا غزہ کو فلسطین سے کاٹنا  اور جداگانہ پیش کرنا مظلوم فلسطینیوں کی مدد ہے؟  یہ   ظلم کو منظم انداز میں قانونی قالب    میں ڈھالنے کا عمل ہے نہ کہ امن ۔ اب ہر پاکستانی پر یشان ہے کہ کیا پاکستان فلسطینیوں پر ظلم کو منظّم کرنے اور اُسے قانونی شکل دینے  جا رہا ہے؟  کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ    امریکہ کے   اسی طرزِ عمل نے  ساری دنیا میں بین الاقوامی قانون  کو طاقتور کے لیے مفید  اور کمزور کے لیے سزا  بنا دیا ہے۔ ہمیں  یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ ظلم کو منظم کرنے سے  ظالم  اور غاصب چھینی ہوئے چیز کا  "حقدار " نہیں بن جاتا۔ آج غزہ امن بورڈ  کی بے جا حمایت یا کھوکھلی  مخالفت کے بجائے اس بورڈ   کی حقیقت کو  سمجھنے کی ضرروت ہے۔ ورنہ آج فلسطین ہے تو کل کشمیر۔۔۔آج ایران ہے تو کل پاکستان۔۔۔


ہفتہ، 24 جنوری، 2026

مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!

مشرق وسطیٰ ۔۔۔مجھے خوف جنگ سے نہیں!

ڈاکٹر نذر حافی
امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے  میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے۔   مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں اس امریکی بحری بیڑے کو یزید کی جدید صورت میں پہچان لوں گا، ویسے ہی مجھے اپنی خاموشی کو بھی  توڑنا پڑے گا۔  میرے لئے  مسئلہ یہ نہیں کہ بحرِ ہند میں بحری جہاز کیوں پہنچ گئے ،  مسئلہ یہ ہے کہ میرے ضمیر کے ساحل پر کب سے خاموشی کا پہرہ لگا ہوا ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب میں یہ خبر سنتا ہوں کہ ایران سے کشیدگی کے نام پر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے،بحری بیڑا بحرِ ہند تک آ پہنچا ہے، طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے، ہزاروں اضافی فوجی، اور العدید ایئر بیس ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہوتی۔ طاقتور جب خوف زدہ ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہتھیار حرکت میں آتے ہیں، دلیل نہیں۔ یہی تو یزید یوں کا پرانا وطیرہ ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ صہیونی لے پالک میڈیا  مجھے محض جغرافیائی تجزیہ فراہم کرتا ہے، اخلاقی و دینی جرات  نہیں۔ میں خبریں سنتا ہوں اور  اسے “خطے کی صورتحال” کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہوں، جیسے یہ محض شطرنج کی بساط ہو۔۔۔کچھ بحری جہاز، کچھ فضائی اثاثے، پانچ ہزار سات سو اضافی اہلکار۔۔۔اور  ان اعداد و شمار کے  نتیجے میں  جو  انسان ، بستیاں ، مائیں اور بچے  اُجڑیں گے مجھے اُن سے کوئی سروکار نہیں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب امریکی صدر ایران کے اندرونی احتجاج کو جواز بنا کر ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیتا ہے  تو میرا  جمہوریت، امن، استحکام، اور  سلامتی جیسے الفاظ سے میرا اعتماد  اٹھ جاتا ہے۔ میں اس بد اعتمادی کے باوجود  امریکہ کو  سامراج کہنے سے ہچکچاتا ہوں، کیونکہ اگر ایک مرتبہ  سچ بول دیا تو تو پھر میرا سکون خطرے میں پڑ جائے گا۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ وہی فضا ہے جو گزشتہ برسوں میں بھی تھی۔وہی تناؤ، وہی نقل و حرکت، وہی عالمی بےچینی اور میں تب بھی تماشائی تھا، آج بھی ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ طاقتور کیسے جمع ہوتے ہیں لیکن میں یہ نہیں پوچھتا کہ ان کا رخ کس طرف ہے، کیونکہ رخ کا سوال آخرکار مجھے کسی ایک طرف کھڑا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے، اور میں غیرجانبداری کو آج بھی اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھتا ہوں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج  ہمارے درمیان ہوتے تو وہ اس بحری بیڑے کو دیکھ کر خاموش نہ رہتے۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ یہاں پر  امریکا کیا کر رہا ہے بلکہ وہ یہ پوچھتے کہ  اس کے مقابلے کیلئے تم کیا کر رہے ہو؟کیا تم اس پیش قدمی کو “اسٹریٹجک موو” کہہ کر قبول کر رہے ہو؟کیا تم بموں کو امن اور فوجی اڈوں کو استحکام کا نام دے کر مطمئن ہو گئے ہو؟یا پھر تم نے بھی، میری طرح، حساب کتاب کو اصولوں پر ترجیح دے دی ہے؟

یقین جانئے! مجھ جیسے لوگوں کو امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں مسئلہ حسینؑ  سے ہے۔  حسینؑ جو خاموش نہیں رہتے، جو سوال کرتے ہیں، جو مجھ سے بیعت مانگتے ہیں۔ امریکہ سے مجھے  کوئی خطرہ نہیں لیکن  حسینؑ سے مجھے خطرہ ہے،  کیونکہ میرا سکون داؤ پر لگتا ہے، اور  مجھ جیسے لوگ  اپنے  سکون کو بچانے کے لیے ہی تو  غلط راستوں اور غلط دوستوں  کا انتخاب کرتے ہیں۔

مجھے خوف ہے کہ  اگر  آج وقت کا حسینؑ  ظہور کرے تو میں خوش نہیں بلکہ مضطرب ہو جاوں گا۔ان کی موجودگی سے میرے آرام میں خلل پڑے گا، اور میری بساط اُلٹ جائے گی۔ ۔ وہ مجھے یہ اجازت نہیں دیں گے کہ میں بیک وقت نیک بھی دکھائی دوں اور محفوظ بھی رہوں، اس لیے کہ جرات ہمیشہ ٹکراو کا باعث بنتی ہے۔ حسینؑ میرے لیے مسئلہ ہیں، اس لیے کہ وہ مجھے بدلنا چاہتے ہیں، اور انسان کو سب سے زیادہ خوف اپنی تبدیلی سے آتا ہے۔

مشرقِ وسطی ٰ کے میدان میں آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں حق کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑتا کہ  جب وہ کمزور ہوتا ہے بلکہ اس وقت بالکل  چھوڑتا ہوں جب وہ مہنگا پڑتا ہے۔ میں اصولوں کا نہیں، حساب کتاب و نفع نقصان  کا آدمی ہوں۔ مجھے وہ سچ پسند ہے جو نفع دے، اور وہ حق قابلِ قبول ہے جو نقصان نہ مانگے۔ جہاں قیمت ادا کرنی پڑتی  ہے، وہاں میں تاویلیں تراشتا ہوں، مصلحتوں کے پردے لٹکاتا ہوں، اور ضمیر کو خاموش کر دیتا ہوں، کیونکہ ضمیر جاگتا رہے تو زندگی آسان نہیں رہتی۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنے خوف کو عقلمندی  کا نام دیا ہوا ہے، اپنی بزدلی کو حکمت کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے، اور اپنی پسپائی کو مصلحت کہتا ہوں ۔ میں نے  لوگوں کے سامنے اپنی بے جا خاموشی کو شرافت اور بےعملی کو دینداری بنا کر پیش کیا ہوا ہے  ۔ میرے  انہی خوش نما لفظوں نے ظلم کو  عام اور ظالموں کو مضبوط کیا ہوا ہے، اور انہی مہذب اصطلاحوں سے ہر دور میں ایک خاموش، منظم اور باقاعدہ کربلا وجود میں آتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو نہ حسینؑ کے خیمے میں ہوتا، نہ یزید کے لشکر میں۔ میں تو کنارے کھڑا  غیرجانبدار کہلاکر یزید کی مدد کرتا کیونکہ ظالموں کے مدد گاروں کیلئے  غیرجانبداری ایک اچھی اصطلاح ہے۔ میرے حالات بتا رہے ہیں کہ میں  اگر دس محرم الحرام ۶۱ ھجری میں موجود  ہوتا تو انتظار کرتا کہ انجام کیا ہوتا ہے، فتح کس کی ہوتی ہے، تاریخ کس کے حق میں لکھی جاتی ہے، کیونکہ میں حق کو نہیں، نتیجے کو ماننے کا عادی ہوں۔ میں انتظار کرتا اور  جب سب  کچھ ختم ہو جاتا، تو میں آنسو بہانے والوں میں سب سے آگے ہوتا، یہ کہتا ہوا کہ دل تو شروع سے حسینؑ کے ساتھ تھا۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے دین وہاں تک عزیز ہے جہاں تک وہ مجھے بےنقاب نہ کرے۔ وہ دین جو میری خاموشی پر سوال اٹھائے، میری مصلحت کو بے نقاب کرے، اور مجھے حق اور فائدے کے درمیان کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرے، وہ دین مجھے ناگوار گزرتا ہے۔ مجھے عبادت پسند ہے،  ذمہ داری نہیں کیونکہ ذمہ داری انسان سے اس کا عذر چھین لیتی ہے۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اگر حسینؑ آج آ جائیں تو میں انہیں خاموش کرانا چاہوں گا۔تلوار سے نہیں، تہذیب سے، مخالفت سے نہیں، مصلحت سے،  یہ کہہ کر کہ حالات نازک ہیں، وقت مناسب نہیں، وحدت خطرے میں ہے۔ میں وہی کروں گا جو ہر دور میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر حسین آ جائیں تو میرا  اُن کے حوالے سے کوئی موقف نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی تو ایک گول مول سا موقف۔ اسی لئے تو  میں نے کربلا کو ایک رسم بنا دیا ہے تاکہ مجھے کسی موقف کی ضرورت نہ پڑے۔ میں نے آنسوؤں کو جنت کا بدل بنایا، ماتم کو قیام کا بدل، اور مجلس کو انقلاب کا بدل۔ یوں میں نے خود کو مطمئن بھی کر لیا اور خود کو دیندار بھی سمجھ لیا، بغیر کچھ بدلے، بغیر کچھ دیے، کیونکہ علامتیں اختیار کرنا آسان ہے، اور کردار  تبدیل کرنا مشکل۔
مجھے جیسے لوگوں کیلئے حسینؑ جب صرف شہید ہوں تو قابلِ محبت ہوتے ہیں، مگر جب زندہ ہوں تو ناقابلِ برداشت، کیونکہ زندہ حسینؑ  روکتے اور ٹوکتے ہیں۔ وہ نہ غیرجانبداری کی اجازت دیتے ہیں، نہ بےقیمت ایمان کی۔ وہ یا تو انسان کو ت بدل  دیتے ہیں، یا نیا بنا دیتے ہیں اور میں ان دونوں کاموں  سے خوف زدہ ہوں۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیش قدمی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں ۔۔۔امریکہ سے نہیں حسینؑ سے خوف زدہ ہوں۔ مجھے خوف  جنگ سے نہیں، مجھے خوف اس بات سے ہے کہ کہیں حسینؑ کا استغاثہ  مجھے دوبارہ نہ سنائی دے جائے۔

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی طلبا کے لیے تین روزہ خصوصی اقتصادی تربیتی ورکشاپ کا اعلان

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی طلبا کے لیے تین روزہ خصوصی اقتصادی تربیتی ورکشاپ کا اعلان :
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): جامعۃ الرضا اسلام آباد کے زیرِ اہتمام دینی طلبہ کی معاشی و اقتصادی خود کفالت کے فروغ کے لیے تین روزہ خصوصی ورکشاپ بعنوان “تربیتِ اقتصادی برائے دینی طلبا” کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ورکشاپ 13، 14 اور 15 فروری 2026 کو جامعۃ الرضا اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔
اس تربیتی پروگرام کا مقصد دینی طلبا کو موجودہ دور کے معاشی تقاضوں سے آگاہ کرنا اور انہیں خود کفالت کے عملی اصولوں سے روشناس کرانا ہے۔ ورکشاپ میں جامعہ کے موجودہ طلبا کے ساتھ ساتھ سابق طلبا (Alumni) کو بھی بذریعہ رجسٹریشن شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق رجسٹریشن کروانے والے مہمان طلبا کے لیے قیام و طعام کا مناسب انتظام بھی کیا جائے گا۔ جامعۃ الرضا کے ذمہ داران نے متعلقہ اور دلچسپی رکھنے والے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن مکمل کرائیں۔رجسٹریشن اور مزید معلومات کے لیے فون نمبر5398135 0345 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
 

جمعہ، 23 جنوری، 2026

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں کیرئر گائیڈنس کی خصوصی کلاسز کا انعقاد :

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں کیرئر گائیڈنس کی خصوصی کلاس کا انعقاد :
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): جامعۃ الرضا اسلام آباد میں طلبا کی تعلیمی و پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے کیرئر گائیڈنس کی دو روزہ خصوصی کلاسز منعقد کی گئیں۔ اس سیشن کا مقصد دینی طلباکو مستقبل کے مؤثر کیرئر انتخاب، اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔
کلاسز کے دوران حجۃ الاسلام ڈاکٹر  غلام جابر محمدی صاحب  نے طلبا کو اپنی صلاحیتوں کی درست شناخت، کیرئر پلاننگ، تعلیمی اہداف کے تعین اور عملی میدان میں کامیابی کے لیے درکار اسکلز کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر بدلتے ہوئے تعلیمی و پیشہ ورانہ رجحانات اور  مقامی  ضروریات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔جامعۃ الرضا اسلام آباد کے  طلبا  نے ان خصوصی کلاسز کے دوران اپنی عملی زندگی کے حوالے سے سوالات بھی کئے  جن کےتسلی بخش  جوابات دئیے گئے۔ یاد رہے کہ  حجۃ الاسلام ڈاکٹر  غلام جابر محمدی صاحب   جامعۃ المصطفی العالمیہ شعبہ پاکستان کے مسئولِ تعلیم ہیں۔ انہوں اپنے تجربات کی روشنی میں  طلبا کے سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ بعد ازاں اساتذہ کرام  کو بھی اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد کی انتظامیہ اور طلبا نے اس موقع پر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ بھی ان سے مزید استفادہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں فری لانسنگ کی تعارفی کلاس کا انعقاد

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں فری لانسنگ کی تعارفی کلاس کا انعقاد:

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): جامعۃ الرضا اسلام آباد میں طلبا کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فری لانسنگ کی ایک تعارفی کلاس منعقد کی گئی۔ اس تعارفی سیشن کا مقصد طلبا کو آن لائن روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل اسکلز اور خود کفالت کے جدید ذرائع سے آگاہ کرنا تھا۔


کلاس کے دوران سوفٹ وئیر انجینئر محمد اسماعیل اطلسی صاحب نے  فری لانسنگ کے بنیادی اصول، مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے طریقۂ کار، اسکل ڈویلپمنٹ اور گھر بیٹھے باعزت روزگار کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے طلبا کو محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ جدید مہارتیں حاصل کرنے کی تلقین کی۔

اس موقع پر طلبا  نے  مختلف سوالات بھی کئے اور بعد ازاں فیڈ بیک دیتے ہوئے   سیشن کو  انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیا۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی  طلبا کی  دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے  اور سوسائٹی کی کاوشوں سے  مستقبل میں اس نوعیت کے مزید پروگرامز بھی  منعقد کیے جائیں گے۔

آپ کی پسند

اتوار، 18 جنوری، 2026

مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا

ٹرمپ کا واویلا۔۔۔ مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا

ڈاکٹر نذر حافی

پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بے نقاب ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران  کی سڑکوں  پر آگ اور دھواں دیکھ کر پاکستان میں بھی مذکورہ لابی نے جشن منایا۔ ایران اپنے  وسیع جغرافیہ، قدرتی وسائل، اسٹریٹجک محلِ وقوع، قدیم تہذیب اور خطے میں ایک باصلاحیت قوم ہونے کی وجہ سے، برسوں سے امریکہ و اسرائیل  کی نظر میں  ایک ممکنہ حریف رہا ہے۔ اب اسرائیل کے غزہ پر حملوں نے اس مسابقت کو خونی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں میں بدل دیا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں موجود امریکی و اسرائیلی پراکسیز کو ایران نے کبھی گھاس ہی نہیں ڈالی۔  اس دوران  ایران میں منافقین کی مانند  پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بھی  ایران کے   اسلامی نظام کے خاتمے کے لیے بے تاب نظر آئی۔ امریکہ جیسی استبدادی طاقتیں  جو اقوام کے حقِ خودارادیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہیں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے ایک مرتبہ پھر ملت پاکستان پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان لوگوں کے اور  امریکہ و  اسرائیل کے اہداف لازماً ایک جیسے ہیں۔

المختصر یہ کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کا تجربہ بھی ایران میں طاقت کے ڈھانچے کو بدلنے میں فوجی مداخلت کی ناکامی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق  حالیہ دنوں میں بھی امریکہ میں حکومت کے اندر ایران کے  حوالے سے اختلافات موجود رہے۔ ٹرمپ کے بعض مشیر، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں، کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل غیر فوجی حل اور ایرانی حکومت سے مذاکرات پر زور دیتے رہے۔ایران میں جاری بحران فی الحال تھم تو گیا ہے تاہم  ملک گیر احتجاجات ، ریاستی کریک ڈاؤن اور امریکہ کی ممکنہ فوجی مداخلت پر  ابھی تک بحث جاری ہے۔

منگل، ۱۳ جنوری کو ڈیٹرائٹ کے دورے کے موقع پر سی بی ایس نیوز کو ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ “فتح” کے خواہاں ہیں، اور اس کی وضاحت کے لیے انہوں نے وینزویلا میں نکولس مادورو، عراق میں ابو بکر البغدادی، پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مثالیں پیش کیں۔ وہ مسلسل واویلا مچا رہے تھے کہ مجھے پکڑو نہیں تو میں ماروں گا۔

اسی دوران ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ “مدد راستے میں ہے”۔  یاد رہے کہ پاک بھارت جنگ کے موقع پر کئی مرتبہ امریکی صدور نے  ایسے اعلانات پاکستان کی مدد کیلئے بھی کئے تھے۔ ابھی تک وہ مدد بھی راستے میں ہی ہے۔ موجودہ بحران میں وائٹ ہاؤس نے بھی اعلان کیا کہ امریکی صدر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔امریکی کانگریس میں بھی بعض ریپبلکن رہنماؤں کا لہجہ شرمناک حد تک مزید سخت ہو گیا۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈزی گراہم کا دعویٰ تھا کہ ایران میں  مظاہرین اس یقین کے ساتھ سڑکوں پر نکلے ہیں کہ انہیں واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی یورپ کی طرف سے بھی قابلِ ذکر ردِعمل سامنے آیا ۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن کے دورے کے دوران اپنے ملک کے چانسلر فریڈرک میرس کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “تہران میں برسرِ اقتدار قیادت اب کسی قسم کی مشروعیت نہیں رکھتی”۔میرس اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ ان کے خیال میں اسلامی جمہوریہ اپنے “آخری دنوں اور ہفتوں” میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے مضحکہ خیز بیانات آئے روز جاری ہوتے رہے ۔

امریکہ و یورپ نے سول سوسائٹی،  انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے  فوجی مداخلت کا بین بھی بجایا۔ یہ ایران کے قومی موقف کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ تھی۔  ایران کی مضبوط اعصاب کی مالک حکومت نے اس نفسیاتی جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں نہ تو ایران میں طاقت کا ڈھانچہ بدلا اور نہ ہی امریکی و اسرائیل  اور یورپ نے ایرانی عوام کو کوئی  معاشی فائدہ پہنچایا اور نہ ہی منافقین کی کوئی  قابلِ ذکر مدد کی۔

حالیہ احتجاجات کو ایرانی حکومت کی طرف موڑنے میں امریکہ و اسرائیل نیز یورپ  کی ناکامی  اور ایران کے ساتھ اسرائیل کی  بارہ روزہ جنگ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل اور ان کی پاکستان سمیت  ساری دنیا میں موجود پراکسیز کے مقابلے میں ملتِ ایران بہت زیادہ  مستحکم و مضبوط ہے ۔ لہٰذا  اقتصادی پابندیوں اوراحتجاجات کے ذریعے ایران میں اسلامی  نظام کی کمزوری یا کسی فوجی حملے کے ذریعے رجیم کی تبدیلی  امریکہ و اسرائیل کیلئے ممکن نہیں۔

"عورت، زندگی، آزادی، روٹی، کپڑا  اور مکان "  یہ سب نعرے ایرانی عوام کو فریب نہیں دے پائے۔ ایران کی سول سوسائٹی، چاہے وہ اندرونِ ملک ہو یا بیرونِ ملک،  کسی کو   یہ اجازت نہیں دیتی  کہ وہ ایران کو تھالی میں رکھ کر امریکہ و یورپ کو پیش کر دے۔ ایرانی عوام کے اندر اسلامی انقلاب کے عنوان سے  ایک  ایسا ہمہ گیر اور جامع اتحاد موجود ہے  جسے استعماری طاقتیں متزلزل کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔

ایرانی عوام بخوبی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت  کا خاتمہ یقینی طور پر ایک ایسا  خلا پیدا کرے گا، جسے استعمار کی لے پالک سیاسی، سفارتی ، سکیورٹی اور عسکری قوتیں پُر نہیں کر پائیں گی۔ جو کچھ  افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں امریکی فوجی حملوں کے بعد رونما ہوا وہ سب ایرانی عوام کے سامنے ہے۔ امریکہ نے سارے خطے کے ممالک کے لیے نہایت تلخ اسباق چھوڑے ہیں۔ جہاں بھی امریکی مداخلت کے باعث عوام کو  اپنے مستقبل کے تعین میں آزادانہ اور خودمختار کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بدترین اور تاریک انجام سے دوچار ہوئے ۔ لہذا جب بھی امریکہ کسی فوجی کارروائی کی غلطی کرے گا تو ایرانی عوام  اُسے خوش آمدید کہنے کے بجائے امریکہ کے  تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، یہ ردِّ عمل ساری دنیا میں متوقع ہے ۔ظاہر ہے کہ  ایسی صورتِ حال کے نتائج  امریکہ کیلئے  انتہائی تباہ کن  اور پریشان کُن ہوں گے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران میں کوئی بڑی  فوجی مداخلت لازماً اسلامی جمہوریہ کے بجائے اسرائیل کے  خاتمے پر منتج ہوگی چونکہ  ایران  کے عوام،  آخری سانس تک اپنی سرزمین اور قدرتی وسائل کا تحفظ  کریں گے۔ایرانی عوام کے  مضبوط قومی نظریات اور انقلابی  تاریخ   کے باعث امریکہ کیلئے ایران  ہرگز عراق، شام یا وینزویلا ثابت نہیں ہو گا۔  اس لئے امریکہ و اسرائیل کو  “فوجی مداخلت کا سودا”  بہت مہنگا پڑے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ امریکی ہٹ دھرمی کے باعث آج بدقسمتی سے بین الاقوامی برادری  کی آواز رفتہ رفتہ دب چُکی ہے۔ وہ برادری جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگی مجرموں کے لیے منصفانہ عدالتیں قائم کیں، اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ مرتب کیا، اور جس نے اقوامِ عالم کو  فلاحی ریاستوں اور یورپی یونین جیسے اداروں کی تشکیل کے ذریعے ایک بہتر ین دنیا کا خواب دکھایا تھا، آج وہ محض چند شاندار عمارتوں،  کچھ  ملازمین اور مذمتی یا حمایتی بیانات کے انبار تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

بین الاقوامی برادری  کو امریکہ کے مقابلے میں  ایرانی عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی  اور بشردوستانہ رویہ اپنانا چاہیے تاکہ  ایرانی قوم کی خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کا تحفظ قائم رہے۔امریکی آمریت اور استبداد کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے باشعور عوام کی شاندار جدوجہد، ان کے پُرامن مزاحمتی طریقوں، اپنے نظام کی حمایت میں مظاہرین کی سڑکوں پر مسلسل موجودگی اور روز بروز بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے  کی ہمّت  کو دیکھتے ہوئے  یہ واضح ہے کہ ایران میں ایرانی عوام کے نصب العین کے مطابق

 اسلامی نظام کا مستقبل نہایت ہی روشن اور امید افزا ہے۔

آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے چلیں کہ پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی سے خود پاکستان کو بھی چوکنا رہنا چاہیے۔ ان کی فطرت میں پاکستان کی دشمنی رچی بسی ہے۔ ان  کے عقائد میں  قائداعظم  کو کافراعظم  کہنا اور پاک فوج کو ناپاک فوج کہنا شامل ہے۔ یہ امریکی ڈالروں کیلئے ماضی میں بھی ان گنت پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کے لے پالک  ان خوارج و منافقین کو ایران کی طرح پاکستان میں بھی ناکام بنانا ساری ملت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔  ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ایرانی عوام کی طرح اپنے وطن کی حفاظت کیلئے متحد ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کے دفاع کیلئے  متحد ہو جائیں تو پھر بے شک ٹرمپ یہ واویلا مچاتا رہے کہ مجھے پکڑو ! مجھے پکڑو!نہیں تو میں ماروں گا۔۔۔

 


جمعہ، 16 جنوری، 2026

INTRODUCTION TO FREELANCING

INTRODUCTION TO FREELANCING
Guest Speaker
Software Engineer
Mr. Muhammad Ismail Atlasi

Date & Time
Saturday | 3:00 PM

Jamia-tul-Raza, Students Society Islamabad



جمعرات، 15 جنوری، 2026

ہفتہ وار درسِ اخلاق ، حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی اخلاقی خصوصیات اور آپؑ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد

 ہفتہ وار درسِ اخلاق ، حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی اخلاقی خصوصیات اور آپؑ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد
اسلام آباد: جامعۃ الرضا اسلام آباد میں ہفتہ وار درسِ اخلاق کا اہتمام کیا گیا، جس میں حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی اخلاقی خصوصیات اور آپؑ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔درسِ اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے مدیر مدرسہ جامعۃ الرضا،  مولاناحسنین عباس گردیزی  صاحب نے کہا کہ حضرت امام کاظمؑ صبر، بردباری، تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ تھے۔ آپؑ نے سخت ترین حالات اور قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اللہ کی رضا کو مقدم رکھا اور حق و صداقت کے راستے سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ سے محبت پاکیزہ قلوب کا ظرف ہے، اور جس شخص کو عشقِ اہلِ بیتؑ نصیب ہو جائے وہ کبھی خدا کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا۔ عشقِ اہلِ بیتؑ انسان کو گناہوں سے دور اور نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔
حجۃ الاسلام مولاناحسنین عباس گردیزی صاحب نے شرکاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم حقیقی معنوں میں خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہوگا اور خود کو گناہوں سے دور رکھنا ہوگا۔ تقویٰ، اخلاقِ حسنہ اور اہلِ بیتؑ کی سیرت پر عمل ہی کامیابی کا راستہ ہے۔درسِ اخلاق کے اختتام پر حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی شہادت پر عقیدت و احترام کا اظہار کیا گیا اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بدھ، 14 جنوری، 2026

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دوسری ٹرم کے نتائج کا اعلان، مدیرِ محترم کا طلبا سے خصوصی خطاب

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دوسری ٹرم کے نتائج کا اعلان، مدیرِ محترم کا طلبا سے خصوصی خطاب
اسلام آباد: جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دوسری ٹرم کے نتائج کے موقع پر ایک نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادارے کے مدیرِ محترم  حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے طلبا سے جامع اور بصیرت افروز خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ماہِ رجب کی فیوض و برکات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور انسانی زندگی میں معنویت اور روحانیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔مدیرِ محترم نے کامیاب ہونے والے اور پوزیشن ہولڈر طلبا کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور ان کی محنت و لگن کو سراہا، جبکہ دیگر طلبا کو مزید محنت، مستقل مزاجی اور تعلیمی بہتری کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے کی تلقین کی۔
اس موقع پر جامعہ کے اساتذۂ کرام بھی موجود تھے، جنہوں نے طلبا کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ نشست کا اختتام دعا ئے سلامتیِ امام زماں ؑ کے ساتھ ہوا۔


ہفتہ، 10 جنوری، 2026

امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل اسٹریٹیجی Regime Change

امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل  اسٹریٹیجی

 ڈاکٹر نذر حافی

بغیر ایک گولی چلائے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کوکچھ نے حیرت سے اور کچھ نے  عبرت کے طور پر دیکھا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ  امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں رجیم چینج ایک مستقل ہتھیار ہے۔ اس وقت  ایران،چین،روس،عراق،مشرق وسطیٰ،شمالی کوریا،اس کے علاوہ، افریقہ کے کئی ممالک جیسے صومالیہ، سوڈان، نائجر، برونڈی، ایریٹیریا اور دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی امریکہ کے تعلقات میں سفارتی اختلافات، پابندیاں، اور سلامتی کے ایشوز  کھڑے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں گرین لینڈ-ڈنمارک اورامریکہ کے تعلقات میں ایک غیر معمولی کشیدگی اور شدید سفارتی تناؤ چل رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِن دِنوں  میں چند بار کھل کر کہا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ اپنے ساتھ  "ملانے" کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات ہیں  اور یہ  آڑیک کے راستوں پر کنٹرول کا بہترین مقام ہے ۔ لہذا  امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ  اگر آسان طریقہ سے  ممکن نہ ہوا تو  مشکل طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ کے چند رجیم چینج آپریشنز پر بھی ایک نظر ڈالئے۔ ایران میں 1953 میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹا کر شاہ محمد رضا پہلوی کو بحال کیا گیا، جس میں CIA اور برطانوی خفیہ ادارے MI6 کی مشترکہ کارروائی نے واضح کردار ادا کیا۔ اسی طرح 1954 میں گواٹے مالا میں خاویر أربنز کو امریکہ کی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک طویل فوجی حکومت قائم ہوئی۔ چلی میں 1973 میں صدر سلیم آلینڈ کی حکومت کو فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹایا گیا اور جنرل آگوستو پینوشے کا اقتدار قائم ہوا، جبکہ کانگو میں 1960 کی دہائی میں وزیر اعظم پاتریس لومومبا کی برطرفی اور قتل امریکہ کی مداخلت کا حصہ تھی۔ ویتنام میں جنوبی ویتنام کی حکومتوں کو امریکی حمایت یافتہ بغاوتوں اور فوجی مداخلتوں کے ذریعے کمزور کیا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور ایک طویل خانہ جنگی شروع ہوئی۔ ہاؤتی میں امریکہ کی مداخلت کے ذریعے منتخب حکومتوں کی تبدیلی اور فوجی دباؤ معمول رہا، جبکہ عراق میں 2003 میں صدام حسین کو ہٹا کر ملک میں سیاسی انتشار اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا راستہ کھولا گیا۔

 لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا، جس میں NATO بمباری اور امریکہ کی حمایت یافتہ باغیوں کی شمولیت نے ملک کو خانہ جنگی اور انسانی بحران میں دھکیل دیا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ باغیوں اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعے جاری مداخلت نے خانہ جنگی کو طول دیا اور انسانی حقوق کے بحران کو بڑھایا۔

وینزویلا میں 2002 میں صدر ہگو چاویز کے خلاف فوجی بغاوت کی امریکی حمایت ایک اور مثال ہے، جہاں اقتدار کی عارضی تبدیلی کی کوشش کی گئی۔ اور حالیہ برسوں میں پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مبینہ طور پر امریکی اثر و رسوخ، سفارتی دباؤ، سیاسی اور میڈیا مہمات استعمال کی گئیں، جس کے نتیجے میں منتخب حکومت برطرف ہوئی ۔ ایسے واقعات اس سچ کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ریاستیں اس دن کمزور نہیں ہوتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس دن ٹوٹتی ہیں جب دشمن کو حملے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ایران میں بار بار ہنگامہ آرائیاں اور  ہنگاموں میں ٹرمپ انتظامیہ کی براہِ راست مداخلت اور بلوائیوں کی حوصلہ افزائی یہ سب  رجیم چینج آپریشن کا حصّہ  ہے ،اس آپریشن کی ہر بار ناکامی امریکہ کیلئے یہ پیغام ہے کہ   ہر روز ایران ماضی کی نسبت مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف  امریکہ کے اندر داخلی سطح پر پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں، جیلخانوں کی غیر انسانی اور دگرگون حالت، فوجداری قوانین کی خامیاں، اور ملزموں پر پولیس کے غیر قانونی تشدد کے مظاہر بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔۔۔تو اب یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ کیا امریکہ دن بدن طاقتور ہو رہا ہے یا کمزور؟ اب تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا دنیا کے  دیگر ممالک کے پاس امریکہ کی رجیم چینج حکمت عملی کو سمجھنے والا  کوئی قاسم سلیمانی موجود ہے یا نہیں؟ شہید سلیمانی کا فن جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو دشمن کے دروازے پر ہی روکنا تھا۔ انہوں نے  امریکہ سے دفاع کیلئے ایران کے گرد ایسا علاقائی اتحاد وجود میں لایا کہ امریکہ کیلئے ہر ممکنہ مداخلت ایک نہیں، کئی محاذ کھولنے کے مترادف تھی۔

 عراق میں عوامی اتحاد، شام میں مقاومت کی موجودگی، لبنان میں حزب اللہ کا توازن اور یمن میں اصولی موقف ۔۔۔یہ سب عسکری فتوحات نہیں بلکہ عسکری انشورنس تھیں۔ ان کے ہوتے ہوئے امریکہ کیلئے ایران میں کسی گرفتاری کی کوشش، کسی رجیم چینج یا کسی براہِ راست مداخلت کا مطلب فوری انتقام تھا ۔ یہی فرق ہے ایران اور وینزویلا میں۔ وینزویلا کے پاس تیل اور دیگر معدنی وسائل تو ہیں مگر ایک قاسم سلیمانی نہیں، معدنیات ہیں مگر سوچ نہیں، جغرافیہ ہے مگر حکمتِ عملی نہیں۔ چنانچہ اس کی دولت نے اسے طاقتور بنانے کے بجائے دشمن کیلئے لقمہ بنا دیا ہے۔ وینزویلا کی جغرافیائی حیثیت، کیریبین کا ساحل، پاناما نہر کی قربت اور امریکی منڈیوں سے نزدیکی، اسے عالمی توانائی کا مرکز بنا سکتی تھی لیکن قاسم سلیمانی جیسی بصیرت نہ ہونے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

 وینزویلا کا تیل، گیس، سونا اور معدنیات محض نام کی حد تک فائدہ مند ہیں، اگر انہیں قومی استعمال میں لانے اور عوام کیلئے مفید بنانے والا کوئی دماغ موجود ہوتا تو وینزویلا خود ایک بڑی طاقت بن چکا ہوتا ۔ ایک اچھی پلاننگ کی کمی کے سبب وسائل کی فراوانی کے باوجود وینزویلا امریکہ کی گرفت میں آ گیا، جبکہ پابندیوں کے باوجود ایران ناقابلِ گرفت رہا۔

رجیم چینج جیسے واقعات ہر اُس ریاست کے لیے وارننگ ہیں جو یہ سمجھتی ہے کہ قدرتی وسائل اور عسکری ہتھیاروں سے کسی ریاست کا دفاع کیا جا سکتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصل طاقت وہ ہتھیار نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں بلکہ وہ قیمتی دماغ ہوتے ہیں جو دشمن کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ جہاں دشمن کو اُلجھانے والے دماغ ختم ہو جائیں ، وہاں دشمن کو ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس وقت  دنیا میں ہر جگہ جنگ گولی کی نہیں دماغ کی ہے۔لہذا دنیا میں ہر جگہ ضرورت بھی گولی کی نہیں قاسم سلیمانی جیسے دماغوں کی ہے۔ یہ وقت کی پکار بھی ہے اور دنیا کی ضرورت بھی کہ ہتھیاروں سے زیادہ قاسم سلیمانی جیسے دماغ پیدا کرنے پر توجہ دیجئے۔

آپ کی پسند 


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...