
Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
جمعہ، 31 جنوری، 2025
طالبان اور اقتدار کا خُمار

جمعرات، 30 جنوری، 2025
تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں
بدھ، 29 جنوری، 2025
کیا ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں؟
منگل، 28 جنوری، 2025
دی ایمز کا دورہ اور کئی اہم نکات
پیر، 27 جنوری، 2025
مولودِ کعبہ کون؟

اتوار، 26 جنوری، 2025
دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے
دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے
کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:۔ پروفیسر سید امتیاز علی رضوی
کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:
پروفیسر سید امتیاز علی رضوی:
جمعہ، 24 جنوری، 2025
محمد صغیر فلسفی
میرے والد مرحوم کا نام اخوندمحمد تقی محمد ہے اور میں سکردو بلتستان سے ہوں۔ ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول میں حاصل کی اور وفاق المدارس سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ بی اے بھی کیا۔ دینی تعلیم کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا کیونکہ ہمارے خاندان میں علمائے کرم کی بہت عزّت کی جاتی ہے۔ خود میرے دادا جان اور میرے والد بھی ایک اچھے عالم دین تھے، میرے والد صاحب اپنے گاؤں کے ایک بہترین امام جماعت اور مرکزی خطیب بھی تھے لیکن 23 اگست 2021 کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
میں بچپن سے ہی اپنے محلے کے مدرسے کے ایک قران سینٹر میں بچوں کو قران اور احکام پڑھاتا رہا اور ساتھ ساتھ مجھے کسی دینی مدرسے میں پڑھنے کا شوق بھی تھا۔ میں شروع میں مدرسے کی تعلیم کے لیے عروہ الوثقیٰ چلا گیا پھر وہاں ڈیڑھ سال پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ جامعہ الرضا اسلام آباد میں داخلہ لیا۔
دینی طالب علم بننے کے بعد میں اپنے اپ کو ایک اچھا اور خوش بخت انسان سمجھنے لگنے لگا اور پہلے سے زیادہ خود سازی پر توجہ دینا شروع کر دی۔ ابھی جامعۃ الرضا اسلام آباد میں میرا حالیہ سیمسٹر بھی اچھا رہا ۔ میں نے جامعۃ الرضا میں اپنے کاموں کو منظم انداز میں انجام دینا سیکھا۔ یہاں کتابوں کا مطالعہ اور قرائت قرآن نیز بچوں کو قرآن پڑھانے جیسے میرے مشاغل بھی بطریقِ احسن جاری رہے۔
میں اپنے تمام دوستوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اپنے امور کو اس طرح منظم کریں کہ جب آپ فارغ التحصیل ہو کر معاشرے میں قدم رکھیں تو آپ کی تعلیمی و تربیتی صلاحیتیں بھرپور انداز میں نکھر چکی ہوں۔ سُست اور کاہل افراد معاشرے کا بوجھ اٹھانے کے بجائے معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں۔ میری آئیڈیل شخصیت رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں اور میری پسندیدہ کتابیں ڈھائی سو سالہ انسان اور اخلاقی کتابیں ہیں۔میری پسندیدہ غذا وں میں سرِ فہرست بریانی ہے اور مشاغل و کھیلوں میں سیر و تفریح، کوہ پیمائی، والی بال اور فٹ بال ہیں۔ میں نے اب تک کراچی، اسلام آباد، کشمیر ، لاہور اور مری جیسے مقامات کی سیر کی ہے ۔خدا نے مجھے قران پڑھانے، صوت و لحن اور قرائت و تجوید جیسی مہارتوں پر کام کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔
ابھی اعلی دینی تعلیم کیلئے اپنے اساتذہ اور مدیرِ مدرسہ کی ہم آہنگی اور شفقت کے باعث بیرونِ ملک جا رہا ہوں۔ یہ سب اللہ تعالی کی توفیق اور میرے شفیق اساتذہ اساتذہ کی محنت کا ثمر ہے۔ جامعۃ الرضا کے اساتذہ کو میں نے انتہائی محنتی، بااخلاق اور اپنے مضامین میں ماہر پایا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں اساتذہ ہر وقت ہر طالب علم کو حقیقی معنوں میں علم کی تلاش میں سعی و کوشش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ میں یہاں بھی اپنے اساتذہ کی اجازت سے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن پڑھانے کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ اس کی وجہ سے مجھے اپنی تدریس اور قرآن سکھانے کی مہارت کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اگر میری کوئی اچھی پہچان ہے یا مجھے کوئی توفیق نصیب ہے تو وہ میرے رب کا کرم اور میرے شفیق اساتذہ کے ہی باعث ہے۔
مجھے ابھی تک جن شخصیات سے ملنے کا شوق ہے وہ رہبر معظم سید علی خامنائی اور سید علی سیستانی ہیں ۔ میری زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ میں اپنے اپ کو امام زمانہ کا ایک سچا سپاہی ثابت کروں اور اپنی تمام تر زندگی ان کی رضا میں گزار دوں۔ میرے نزدیک سب سے بڑا ادمی وہی ہے جس کے ذریعے لوگ خدا سے جڑے رہتے ہیں اور خدا کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اچھی عادتوں کو اپناتے ہیں اور معاشرے میں ایک دوسرے کیلئے اچھے ثابت ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک ایک دینی طالب علم کیلئے دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم دونوں لازم ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں یہ دونوں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ میرا ہر وہ دوست میرا بہترین دوست ہے جو خود سازی کردار سازی کرانے میں میرے مددگار اور معاون ثابت ہوئے
جامعۃ الرضا کے ہاسٹل کی زندگی کے بارے میں یہ کہوں گا کہ جیسے ہر باغ سے اگر ایک ایک پھول کو لے کر کسی ایک جگہ جمع کرنے سے وہ جگہ مزید خوشبودار ہو جاتی ہے اسی طرح میں نے جامعۃ الرضا کی ہاسٹل لائف میں اپنے مختلف علاقوں کے طالب علم دوستوں کی اچھائیوں، حُسنِ معاشرت، اور تقوی و نیکی کی مہک کو قریب سے محسوس کیا ہے۔
باقی آئمہ معصومین ؑ، والدین، اور تمام اساتذہ کرام کی دعاوں کا محتاج ہوں، خدا مجھے دنیا اور اخرت میں کامیاب کرے۔میری ایک خواہش ابھی باقی ہے کہ اپنی زندگی میں حافظ قرآن بنوں، ان شااللہ آپ سب کو یہ خوش خبری بھی سناوں گا۔
پارافیلیا اور احتیاطی تدابیر

جمعرات، 23 جنوری، 2025
صرف پارہ چنار آزاد ہے!

بدھ، 22 جنوری، 2025
فنِّ مطالعہ
مسلمانوں کا علمی روگ
.jpg)
جب بھی کوئی منصف مزاج انسان مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو ششدر رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر روگ کا علاج ہے البتہ شاید علمی روگ کا کوئی علاج نہیں ۔ خصوصاً جب کوئی ملت اپنے علمی روگ کو ہی مقدّس سرمایہ سمجھ بیٹھے۔ آئیے اپنے علمی روگ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ اس کیلئے ہمیں چند سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے ہونگے۔ کیا سُنّت رسول کو ترک کرنے کا آغاز حیاتِ پیغمبر میں ہی ہوچکا تھا؟
جب سُنّتِ رسول، قرآن مجید کی تفسیر ہے تو پھر کیا کسی اور کی تفسیر قرآن کی جگہ لے سکتی ہے؟
کیا صدرِ اسلام میں ایسا ہوا ہے کہ خود مسلمانوں نے ہی اپنے رسول ؐکی احادیث کو لکھنے پر پابندی لگا دی تھی۔؟
اگر صدرِ اسلام میں ایسا ہوا ہے تو احادیث کا یہ علمی خلا ہمارا مقدّس سرمایہ ہے یا ہمارا خسارہ؟
سب سے پہلے یہ تو طے کیا جائے کہ نبی اکرمؐ سے جو بھی قول، فعل اور تقریر کی صورت میں صادر ہُوا اُسے سُنّت مانا جاتا ہے یا نہیں؟
نبی ؐ کا قول اور فعل تو ہمارے عرف کے مطابق سُنّت ہی ہے لیکن تقریر سے مراد وہ نہیں، جو ہمارے ہاں لغت یا عرف کے مطابق ہے بلکہ اصطلاحِ علمِ حدیث میں تقریر سے مراد ایسا فعل ہے، جو رسولؐ کے سامنے کیا گیا، مگر رسولؐ نے نہ تو اِس کے کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا بلکہ اِس پر سکوت فرمایا۔
رسولؐ کا قول، فعل اور تقریر دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ یعنی قرآن مجید کی جو تفسیر نبی اکرمؐ نے کی، اُسے سُنّت کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج امرِ پروردگار ہمارے پاس قرآن مجید اور سُنّت رسول کی شکل میں موجود ہے۔ ہمیں فراخدلی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ سُنّت رسول درحقیقت تفسیر قرآن ہے۔ چنانچہ دینِ اسلام میں خدا کے امر کو بندوں تک پہنچانے کیلئے جو اہمیت قرآن مجید کی ہے، وہی سُنّت رسول ؐ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی علوم میں بطورِ منبع قرآن مجید کے ساتھ سنّتِ رسول کا ہونا لازمی امر ہے۔
یہ کسی ایک اسلامی فرقے کا منہج نہیں بلکہ اس پر قرآنی نصوص موجود ہیں کہ اُمّت پر سُنّت رسول کی پیروی لازم ہے اور سُنّت رسول دراصل عملی قرآن ہے۔ سُنّت رسول کی پیروی اور اطاعت پر تاکید کرنے والی صرف چند آیات ملاحظہ فرمائیں: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَهًْ حَسَنَهًْ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّهَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّهَ کَثِیرًا(احزاب، آیه ۲۱) تم میں سے اس کیلئے رسول اللہ بہترین نمونہ عمل ہیں، جو اللہ اور قیامت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔ قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّهُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ. قُلْ أَطِیعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِینَ(آل عمران، آیات 31 و ۳۲) کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا -وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘‘ ( حشر:۷) اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں، وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں (اس سے) باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔ اگر سُنّت رسول کو اُس کے حقیقی مقام کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر مان لیا جائے تو اس کے مندرجہ زیل دو بنیادی فوائد ہیں:
۱۔ قرآن مجید کا درست فہم: اپنی اپنی آرا اور اپنے اپنے اکابرین کی باتوں کے بجائے سُنّت رسولؐ کو قرآن کا ماخذ بنانے کا نتیجہ قرآن مجید کا درست فہم ہے۔ یہی درست فہم ہر انسان کی نجات کیلئے ضروری ہے
۲۔ مسلمانوں میں وحدت: جب مسلمان اپنی آرا اور ذاتی مصلحتوں کے بجائے قرآنی مفاہیم کو سُنّت رسول سے سمجھیں گے تو یقیناً ان کے درمیان وحدت اور اتفاقِ رائے کو فروغ ملے گا۔ آج مسلمانوں میں انہی دوچیزوں کا فقدان ہے۔ ایک متنِ قرآن مجید کا درست فہم کیا ہے؟ اس پر مسلمانوں کا خود سے قطعاً اتفاق نہیں اور دوسرے تمام دینی، سیاسی اور سماجی مسائل بر بطورِ امت مسلمان ہرگز متفق نہیں۔ کہیں اس فقدان کی جڑیں سُنّت رسول ؐ سے منہ پھیرنے میں تو نہیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں جب تاریخِ اسلام پر نگاہ ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سُنّت رسول کو ترک کرنے کا آغاز حیاتِ پیغمبر میں ہی ہوچکا تھا۔ ایک عام مسلمان تو اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے لیکن جو مسلمان تحقیق کے ساتھ بات کرنے کا عادی ہے اس کیلئے حدیث قرطاس و قلم یا المیہ جمعرات ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
یہ سنہ 11 ہجری میں صفر کے مہینے کے آخری ایّام کی بات ہے۔ جب رسولِ خدا نے اپنی وفات سے صرف چار دن پہلے اپنی عیادت کیلئے جمع ہونے والے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ قلم اور دوات لاؤ، تاکہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جاؤ، لیکن اس وقت حضرت عمر بن خطاب نے کہا کہ “بیماری نے نبیؐ پر غلبہ پالیا ہے اور ہمارے لیے خدا کی کتاب کافی ہے۔” اپنی اہمیت کی وجہ سے یہ حدیث چھ مرتبہ بخاری شریف میں اور تین مرتبہ صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہے۔ ایک مقام پر اس کا متن کچھ یوں ہے:
ائتونى بکتاب اکتب لکم کتاباً لا تضلّوا بعده، قال عمر: إنّ النبىّ غلبه الوجع، وعندنا کتاب الله حسبنا، مجھے کاغذ کا ایک ٹکڑا دو، تاکہ میں تمہارے لیے وصیّت لکھوںم تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو جاؤ، حضرت عمر ؓنے کہا: نبی ؐپر بیماری غالب ہے، لہذا ﴿وصیّت کو چھوڑیں﴾ کتاب الٰہی! ہمارے پاس ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ اس وقت وہاں موجود صحابہ کرامؓ نے حضرت عمرؓ کے ساتھ جھگڑا شروع کیا، یہ جھگڑا اتنا شدید ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ﴿ قوموا عنی﴾ کہ اٹھو اور میری آنکھوں کے سامنے سے چلے جاؤ، میرے سامنے اس طرح جھگڑا کرنا یہ تمہیں زیب نہیں دیتا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بعد ازاں رو کر یہ کہا کرتے تھے کہ سب سے بڑی مصیبت اس وقت ہوئی، جب کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی تحریر کے درمیان کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیّت کو انہوں نے نہ لکھنے دیا۔ شاید ہی کوئی اس کا اندازہ لگا سکے کہ ایسا کرنے سے خود اللہ کے رسولؐ کو کتنا دکھ پہنچا ہوگا۔ بہر حال ایک محقق کے سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ رسول ؐ کی سُنّت و احادیث کو ترک کرنے کا رویہ خود زمانہ پیغمبر ؐ میں موجود تھا۔ اس کی متعدد مثالیں اور بھی موجود ہیں، جن میں سے ہم نے فقط المیہ جمعرات یا واقعہ قرطاس و قلم کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اہلِ بیت رسول ؐ کو نظر انداز کرکے سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کو تشکیل دینا بھی حضور نبی ؐ کی احادیث کو پسِ پُشت ڈالنا ہے۔ اگر اُمّت احادیث پیغمبر اور سُنّت پیغمبر کی اہمیت کی قائل ہوتی تو نبی ؐ کی وصیّت کو بھی لکھتی اور نبیؐ کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں جا کر اپنی رائے سے اُمّت کی قیادت کا فیصلہ کرنے کے بجائے نبیؐ کی سُنّت اور احادیث سے استدلال کرتی اور نبی ؐ کی احادیث کے مطابق اہلِ بیت رسولؐ کو مسئلہ خلافت میں کم از کم شریک تو کرتی۔ یہ سراسر احادیث رسول ؐ کو خاطر میں نہ لانا ہے۔
تاریخی و حدیثی شواہد کے مطابق صدرِ اسلام میں ہی مختلف مصلحتوں کی بنا پر احادیث اور سُنّت رسول سے منہ موڑ نے کا عنصر مسلمانوں کے ہاں موجود تھا۔ خلیفہ دوّم کے زمانے میں پہلی ہجری میں ہی سرکاری سطح پر منعِ تدوینِ حدیث کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ سرکاری طور پر اس منع تدوین حادیث کے مندرجہ زیل نتائج نکلے:
۱۔ حقیقی احادیث پر تو پابندی لگ گئی لیکن جعلی احادیث کا دروازہ کھل گیا۔
۲۔ قرآن مجید کی حقیقی اور نبوی تفسیر کے بجائے تفسیرکے نام پر اپنی رائے بیان کرنے کا آغاز ہوا اور اسے عروج ملا۔
۳۔ حدیث جو کہ درحقیقت قرآن مجید کی تفسیر تھی، بعد ازاں وہ خود محتاجِ ِ تفسیر ہوگئی۔
۴۔ احادیث کے بجائے اسلامی کتابوں میں داستانوں اور کہانیوں کو فروغ ملا۔
بہرحال حضرت عُمَر بن عَبدالعَزیزؓ (۶۳-۱۰۱ق) کے زمانے تک یعنی ایک سو سال تک جہانِ اسلام میں سرکاری سطح پر احادیث لکھنے پر پابندی رہی۔ اُس کے جو ثمرات نکلے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ آج احادیثِ نبوی قرآن مجید کی تفسیر کرنے کے بجائے خود محتاجِ تفسیر ہیں اور اب احادیث کی جانچ پرکھ اتنا مشکل فن بن چکا ہے کہ یہ عام مسلمان کے بس کا روگ ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر روگ کا علاج ہوتا ہے، لیکن شاید علمی روگ کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب کوئی ملت اپنے علمی روگ کو ہی اپنا علمی سرمایہ سمجھ بیٹھے۔ آخر میں پڑھے لکھے احباب کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ علمی خلا ایک روگ ہوتا ہے، اسے مقدّس نہ سمجھئے، اس کا درمان سوچئے۔ اس خلا کو مقدّس سمجھنا ثواب نہیں بلکہ اس خلا کو پُر کرنا ثواب ہے۔
منگل، 21 جنوری، 2025
کامیابی کا فارمولہ
پیر، 20 جنوری، 2025
اسلام کا تعلیمی نظام
اس دنیا میں انسان ایک مسافر کی مانند حرکت میں ہے۔ جو اپنی منزل تک پہنچے گا، وہی انسان کامیاب کہلائے گا۔ انسان کو اس کی منزل تک پہنچانے کا واحد ذریعہ اسلامی تعلیم و تربیت ہے۔ انسان کو اس کی خلقت کے مقصد تک پہنچانے کیلئے، اللہ تعالیٰ نے کتابوں، معجزات اور روشن دلیلوں کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام کو مبعوث کرنے کے علاوہ انسان کو عقل، ارادے، اختیار اور علم جیسے وسائل بھی عطا کئے ہیں۔ اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جہلا کی تعلیم و تربیت کو علماء پر لازم قرار دیا ہے۔


















.jpg)





