زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 31 جنوری، 2025

طالبان اور اقتدار کا خُمار


ڈاکٹر نذر حافی:
سارا جھگڑا پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔ طالبان کے  جتھے پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ ۲۰۲۲ سے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان  میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ابھی تک پارہ چنار کاعلاقہ طالبان کے محاصرے میں ہے۔ لوئر کرم میں ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کے بعد  آج ۳۱ جنوری ۲۰۲۵ کو اپر کرم کے علاقے بوشہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر سعید منان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
  یاد کیجئے !یہ اگست ۲۰۲۱ کی بات ہے کہ جب   طالبان  کو تھالی میں رکھ کر اقتدار دے دیا گیا تھا۔ پاکستان کے اُس وقت کے  وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے طورخم کراسنگ پر طالبان کے ساتھ مل کر  ایک پریس  کانفرنس کی تھی۔ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ   گویا طالبان کو یوں تھالی میں رکھ کر  حکومت دلوانا پاکستان کا ہی نقشہ تھا۔ افغان طالبان اقتدار میں آئے تو پاکستانی سقراط  اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ اب خطّے  میں بھارت تنہا ہو جائے گا اور  حالات پر ہماری گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ ہمارے سقراط اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ طالبان  ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا چونکہ  یہ لائن پشتونوں کو تقسیم کرتی ہے۔آج طالبان نے اپنی طاقت سے یہ منوا لیا ہے کہ  مضبوط طالبان کیلئے کمزور پاکستان ضروری ہے لہذا پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے طالبان بھارت کے ساتھ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
خیر شیخ رشید صاحب  اینڈ کمپنی کے خواب  خواہ مخواہ نہیں تھے۔ ان کے پیچھے  جہاد کے نام پر جتھہ سازی کی ایک مکمل تاریخ بھی تھی۔ اس سے پہلے  گزشتہ تین دہائیوں میں سارے طالبان رہنماوں اور مجاہدین کو  پاکستان کے  دینی مدارس سے لانچ کیا گیا تھا۔  طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر  بھی پاکستان کے  دارالعلوم حقانیہ  کے طالب علم تھے۔طالبان کی یوں  حیران کن طور پر  اقتدار میں واپسی کو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے غلامی کی بیڑیاں توڑ دینے  سے تعبیر کیا تھا۔ ہمارے  طالبان بھائیوں  کو اقتدار کا نشہ لگنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی شرح میں پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔   پاکستان سینٹر فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی نے  اپنی ریسرچ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ   سال ۲۰۲۴ میں نومبر کے مہینے میں طالبان جتھوں نے سب سے زیادہ حملے پاکستان میں کئے ہیں۔  
جس وقت ہمارے سقراط طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کا جشن منا رہے تھے۔ اس وقت امریکہ پاکستان کی بربادی کا منصوبہ عملی کر چکا تھا۔   یہ تو بعد میں ۲۰۲۲ میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ۷.۲ ارب ڈالر کا جنگی سازوسامان امریکہ نے افغانستان میں ہی چھوڑ دیا تھا۔  یہ جنگی سازوسامان بعد میں سب سے زیادہ پاکستان ہی  کے خلاف استعمال ہوا اور آج تک پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے مسلسل غیر محفوظ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل کے مشہورِ زمانہ "مجاہدین بازار"  میں امریکہ کے متروکہ عسکری سامان کی جرائم پیشہ عناصر  کھلے عام خریدوفروخت کرتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ  تین لاکھ اٹھاون ہزار پانچ سو تیس رائفلیں، چونسٹھ ہزار مشین گنیں،چھبیس ہزار گرینیٹڈ لانچراور تقریبا تئیس ہزار ہمویز(تمام اقسام کی سطحوں پر چلنے والی گاڑیاں) وغیرہ  سے طالبان کو نواز کر افغانستان سے خارج ہوا تھا۔ پاکستان کے عسکری اداروں کو ملک کے اندر جن دہشت گرد نیٹ ورکس کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ نیٹ ورکس یہی امریکہ کا متروکہ اسلحہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان  کی  سیکورٹی فورسز ، عبادت گاہوں، سکولوں اور پبلک مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے سارے ڈانڈے افغانستان اور طالبان  ہی سے ملتے ہیں۔  افغان حکومت اپنے ملک میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے ہر مطالبے کے جواب میں طالبان حکومت کا مطالبہ ہے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ اس کے باوجود  پاکستان میں افغان جتھوں کا مضبوط  سے مضبوط تر ہوتے جانا یہ واضح کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جڑیں پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے اندر بھی ہیں۔ 
بہر حال حقیقتِ حال یہ ہے کہ  طالبان نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات اپنے ملکی مفادات کے مطابق متوازن رکھے ہوئے ہیں جبکہ  پاکستان نے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض جذباتی انداز میں پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی تشکیل دینے والے اس سچائی سے فرار کر رہے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات صرف طالبان کیلئے ضروری نہیں بلکہ ہندوستان کیلئے بھی ضروری ہیں چونکہ ہندوستان بھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان کے جتھے اور افغانستان کی سرزمین ہندوستان کے خلاف استعمال ہو۔ اب بیچ میں رہ گیا ہے پاکستان اور اس کی ٹھنڈی ٹھار جہاد انڈسٹری ۔  
تین اطراف سے افغانستان سے متصل ضلع کرّم  کو طالبان نے گھیر رکھا ہے۔ پشاور سے پاراچنار کے درمیانی علاقے پر ہماری قیمتی ایسٹس یعنی ناراض طالبان کا قبضہ ہے۔  یہ قبضہ اس لئے بھی ختم نہیں کرا جا سکتا چونکہ ماضی کے قیمتی ایسٹس نئی مارکیٹ میں بِک چکے ہیں۔  پاکستان کی ریاستی پالیسیاں بنانے والوں   کی خدمت میں بس اتنی ہی عرض ہے کہ جو آنکھ راستے اور کھائی میں فرق نہ کر سکے اُسے دوسروں کو راستہ دکھانے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کُرم کا  جھگڑا  سُنّی اور شیعہ کا نہیں بلکہ سارا جھگڑا ہمارے ریاستی اداروں کی طرف سے  پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔











جمعرات، 30 جنوری، 2025

تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں


 رپورٹ: حسن کاظمی متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد: رسول اللّٰہ  ؐکی بعثت کا عالی ترین  ہدف   انسانوں کا تذکیہ نفس کرنا تھا ۔  آیات الہی کی تلاوت ، کتاب و حکمت کی تعلیم اور عبادات  کو تذکیہ نفس کے بغیر  خدا کی بارگاہ میں قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ ایک عالم دین وہی ہے جو اپنے نفس کی غلامی کرنے کے بجائے  اپنا  تذکیہ نفس اور اپنا مجاسبہ کرتا رہتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔اسی طرح امام خمینی ؒ نے علماء کی محفل میں اپنے درس میں فرمایا تھا کہ کوئی چاہے  جتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اگر اس نے تذکیہ نفس نہ کیا ہو تو پھر وہ بات نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر سے شیطان بولتا ہے۔
تفصیل کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام آباد کے ہفتہ وار درس اخلاق سے حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے درس میں طلبا کو اپنی تمام تر توجہ معنویت، خدا کی رضایت اور معصومینؑ سے توسّل کرنے پر مرکوز کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں، انبیا اور معصومین فقط ہماری دنیاوی حاجات کو پورا کرنے کیلئے اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے بلکہ ہمیں اپنی روحانی مشکلات، گناہوں سے نجات اور تعلیم کے حصول میں آسانی کیلئے بھی اُن سے توسّل کرنا چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ  دینی طالب علموں کیلئے اپنی تربیت ، خود احتسابی اور اپنے اندر خوفِ خدا پیدا کرنا ان کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔  

بدھ، 29 جنوری، 2025

کیا ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں؟


 ڈاکٹر نذر حافی:
جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔ ۵ فروری نزدیک ہے۔ تمام عزیز ہم وطن اس روز چھٹی منائیں گے۔ کچھ کو اس روز کشمیر کی آزادی کے نعرے لگانے کا شوق بھی ہے ۔ ان نعرے لگانے والوں میں سے اکثر کو یہ خبر بھی نہیں ہو گی  کہ ابھی چند دن پہلے تاریخ میں پہلی باربھارتی  ٹرین دہلی سے  کشمیر کے سری نگر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی ہے۔ کبھی ہم کہتے تھے کہ  کشمیر اور ہندوستان   کے درمیان صرف جغرافیائی فاصلہ ہی نہیں بلکہ  تاریخ،  زبان، کلچر اور تہذیب و ثقافت کا  فرق بھی قابلِ مشاہدہ ہے۔ ہم آج بھی  باتیں کرنے  تک ہی محدود ہیں  جبکہ بھارت ان فاصلوں کو سمیٹتا جا رہا ہے۔بہر حال مذکورہ فاصلہ اور تفریق مطالعہ پاکستان کے علاوہ اب اور  کہیں بھی حائل نہیں۔
یہ کریڈٹ اہلِ کشمیر کو جاتا ہے کہ وہ جدوجہدِ آزادی کو اپنی بصیرت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تیسری نسل میدان میں تنِ تنہا  کھڑی ہے اور اس کے چہرے  پرتھکاوٹ اور خوف  کے کوئی آثار نہیں۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کی  جرات  و بصیرت کے ساتھ پاکستانی سفارتکاری ہم آہنگ ہوجائے ۔ 
اپنے ماضی کی تاریخ میں کشمیریوں نے اقوامِ عالم پر یہ ثابت کیا ہے کہ مظلوم کی طاقت  اُس کی جدوجہد میں مضمر  ہوتی ہے۔ جب کوئی مظلوم ہوتا ہے، تو اس کی جدوجہد سے اُس کی بصیرت،  ایمانداری، ہمت، اور عزم کا پتہ چلتا ہے۔ مظلوم اپنی مشکلات  کے باوجود سخت اور نامساعد حالات میں صبر کرتا ہے اور اپنے حقوق کے لئے  سچائی کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسی کھڑے رہنے کا نام ہی جدوجہد اور اسی کا نام مظلوم کی طاقت ہے۔
کشمیر  کے لوگ دہائیوں سے ظلم، جبر، روزانہ کی بنیاد پر تشدد، گمشدگیوں، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ١٩٤٨ء میں کشمیر اور فلسطین دونوں ریاستوں سے حقِ خود ارادیت کا   وعدہ کیا تھا لیکن اب بغیر حقِ خود ارادیت کے دونوں کو  تقسیم کر کے دو دو ریاستیں بنانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔ اس دوران دنیا کے کئی ممالک نے فلسطین کیلئے موثر آواز بلند کی ہے لیکن کشمیریوں کو  عالمی سطح پر مسلسل بے حسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بے حسی بے سبب نہیں، اس کے پسِ پردہ محرکات پر توجہ دی جانی چاہیے۔  
گزشتہ دنوں یہ ٹرین دہلی سے سری نگر نہیں پہنچی بلکہ یہ حقِ خود ارادیت کے انکار کے بعد، اب  کشمیریوں کی شناخت پرایک  بڑا  اور کارگرحملہ ہے۔ اب یہ رونا رونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ بھارتی حکومت  انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی سوفٹ وار  اور دہشت گردی کو کشمیریوں کے خلاف  ہائبرڈ ٹولز کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کیلئے کیا کر رہا ہے؟ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ   اقوامِ متحدہ  کسی کو بھی  اپنی قراردادوں پر عمل درآمد  کیلئے مجبور نہیں کر سکتی تو پھر یہ عملدرآمد کیسے ہوگا؟
جذباتی نعرے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچاتے اور زمینی حقائق کو عقلمند کبھی بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ عصرِ حاضر میں بات صرف پاکستان اور ہندوستان کی نہیں بلکہ چین بھی اس مسئلے کا ایک مضبوط  فریق ہے۔کئی سالوں سے مذکورہ  تینوں ممالک کے درمیان کشمیر ایک  تھالی میں پڑی ہوئی روٹی کی مانند  تقسیم ہونے کو ہے۔ اس تقسیم کے راستے میں رکاوٹ فقط اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہیں۔ اب کشمیری  لوگ اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کریں یا اقوامِ متحدہ کو بُرا بھلا کہیں؟
کشمیر پر مغلوں کے قبضے  سے پہلے  اپنی تاریخ میں کشمیر کبھی غلام اور بے بس  نہیں رہا اور  کشمیر میں کبھی بھی نفرت، تعصب اور مذہبی جنون نے راج نہیں کیا۔ آج کشمیر پر غیروں کے خوف کے سائے کیوں ہیں اور یہاں اپنوں سے نفرت کا بیج کس نے بویا ہے؟
کشمیر میں اسلام کا ظہور بھی کسی خون خرابے کے بغیر ہوا۔ سید شرف الدین موسوی المعروف بلبل شاہ ایک مبلغ تھے نہ کہ کوئی عسکری سپہ سالار۔ وہ رنچن شاہ کے دور حکومت میں ۷۲۴ قمری بمطابق ۱۳۲۴ عیسوی میں خراسان سے  تبلیغِ اسلام کی غرض سے کشمیر آئے۔ رنچن آبائی طور پر  ایک بدھ مت حکمران  تھا۔ وہ بدھ مت تھا لیکن ظالم نہیں۔ اس کے دربار میں  مذاہب  و فرق کا  علمی مباحثہ و مکالمہ اور مناظرہ روزانہ کا معمول تھا۔ بلبل شاہ  بھی اسی دربار میں بادشاہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ان کے معقول دلائل نے بادشاہ کے  تصوّر روحانیت کو دگرگوں کر دیا۔بلبل شاہ کے علمی دلائل سے  بادشاہ کے قدیمی مذہبی اعتقادات میں رخنہ پڑا اور اُس نے اپنے  لئے جدید مذہب یعنی اسلام  کا اعلان کر دیا۔ گویا بادشاہ کو جس حقیقت اور سچائی کی تلاش تھی وہ بادشاہ کو مل گئی۔ اس خوشی میں بادشاہ کی رعایا بھی شکرانے کے طور پر مسلمان ہو گئی۔ یوں تبدیلی مذہب کیلئے  ساری ریاست میں نہ خون کا ایک قطرہ گرا اور نہ کسی کی گردن اُڑائی گئی۔
یہ ایک مذہبی مکالمہ تھا جو تہذیبی تبدیلی اور ایک نئے تمدّن کا باعث بنا۔ بعد ازاں جتنے بھی  مبلغین ِاسلام کشمیر میں داخل ہوئے انہوں نے کبھی بھی لشکر کشی یا عسکریت پسندی کا سہارا نہیں لیا۔ رفتہ رفتہ  اسلام کو فروغ ملتا رہا اور  ایک شعوری بلوغ کے طور پر  اسلامی تمدّن جوان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اسلامی تمدّن کی آغوش میں  سلطان زین العابدین بڈشاہ (عظیم بادشاہ)  جیسا بے مثال حکمران تخت پر جلوہ افروز ہوا۔
ان میں سے کسی نے بھی حصولِ اقتدار کیلئے مذہبی کارڈ نہیں کھیلا۔ رعایا سب کی رعایا اور حکمران سب کے حکمران تھے۔زمانےکے نشیب و فراز میں کئی کشمیری خاندان  یونہی سماجی ارتقاء اور مقامی تبدیلیوں  کے مطابق  برسرِ اقتدار آتے رہے۔ اسی طرح بغیر کسی مسلکی یا مذہبی نعرے کے  ۱۵۶۱ء میں چک خاندان بھی برسرِ اقتدار آیا اور اُس نے ۱۵۸۶ء تک کشمیر پر کسی نہ کسی شکل میں  حکومت کی۔چک خاندان  ۹۲۷ھ، ۹۲۸ھ اور ۹۲۹ ھ میں مغلوں کو تین دندان شکن شکستیں  دے چکا تھا۔کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ۱۵۴۰ء میں مغلوں کو کشمیر کے مقامی مذہبی جنونیوں  مولوی قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور نے  ریاست  پر حملے کی دعوت دی۔  انہوں نے  چک خاندان کے خلاف مسلکی کارڈ استعمال کرتے ہوئے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے  سے کشمیر میں مذہبی منافرت کا آغاز ہوا اور بعد ازاں  ہندومسلم فسادات اور ناامنی کا دروازہ بھی کھلا۔ ۱۵۴۰ء میں منگول کمانڈر مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ نے پہلی مرتبہ کشمیر کو ایک ریاست سے روٹی میں تبدیل کیا اور آج تک اس ریاست کو روٹی کی مانند نوچا اور چبایا جا رہا ہے۔
۵ فروری کو  ضرور منائیں لیکن عوام کو یہ بھی بتائیں کہ کشمیر جو ایک  خودمختار،  مہذب، متمدن اور باوقار ریاست تھی وہ کیسے ایک روٹی میں تبدیل ہوئی!۔تاریخ کشمیر کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ  جب مذہب دوسروں کا حق تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کی حق تلفی کیلئے استعمال ہونے لگے تو پھر وہ  ایک ریاست کو بھی  ایک روٹی میں تبدیل کر دیتا ہے۔۵ فروری منانا اور مخلوق خدا کو سچ نہ بتانا یہ مخلوقِ خدا پر ظلم ہے اور جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔






منگل، 28 جنوری، 2025

دی ایمز کا دورہ اور کئی اہم نکات

دی ایمز کے دورے کے دوران کئی اہم نکات ہمارے سامنے آئے۔ رپورٹ: سید حسن کاظمی:  متعلم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد: صحت افزا مقام، دلکش عمارت، پُرسکون ماحول، با اخلاق اور شفیق اساتذہ  اور منظم عملہ  ۔۔۔ایک بہترین تعلیمی ادارے کی اہم خصوصیات یہاں موجود تھیں۔ جب ہم لوگ دی ایمز  پہنچے تو ایمز سکول اینڈ کالج کا تمام تر اسٹاف بطورِ خود کار اپنی مصروفیات میں مشغول تھا۔
  ریسیپشن کے متعلقہ عملے  نے ہمیں  خوش امدید کہا اور دیگر اسٹاف اپنے متعلقہ کاموں میں معمول کے مطابق مصروف نظر آیا۔  ہم نے کسی کو فارغ نہیں پایا۔  نزدیک سے  مختلف کلاس رومز میں تدریسی عمل کو بھی دیکھا اور  مختلف لیبز کا بھی مشاہدہ کیا۔ یقیناً  دی ایمز کے  خوش قسمت   اسٹوڈنٹس  ان سہولیات سے بھرپور استفادہ کرتے ہونگے۔دی  ایمز سکول اینڈ کالج کی لائبریری بھی بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی تھی۔ چھوٹے بچوں کیلئے ایک الگ لائبریری بھی موحود تھی۔  البتہ بچوں سے یہ سوال پوچھنا میں بھول گیا  کہ وہ ان ساری سہولیات سےاستفادہ کرنے کیلئے اپنا روزانہ کا شیڈول کس طرح مرتب کرتے ہیں؟  جہاں ادارے کی انتظامیہ نے یہ ساری سہولیات فراہم کی ہیں وہاں طلبا اور والدین میں بھی ان سہولیات سے استفادہ کرنے اور آگے بڑھنے  کا شوق  بھی ضروری ہے۔
 ادارے کے پرنسپل سر روزی علی نے تعلیم انسانیت اور اپنے آئندہ کے منصوبوں کا مختصر اور جامع تعارف کرایا۔ یاد رہے کہ دی ایمز کی طرف سے اسٹوڈنٹس کو سکول لانے اور لے جانے کیلئے معقول چارجز کے ساتھ  ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔روزانہ کئی بسوں سے طلبا سکول آتے اور جاتے ہیں۔  والدین کیلئے خوش خبری ہے کہ سکول کے تمام شعبہ جات خصوصاً  سکول کی بس سروس کے بارے میں فیڈ بیک کا ایک موثر نظام موجود ہے۔ آپ بغیر کسی پریشانی اور الجھن کے اپنا پیغام سکول کی انتظامیہ تک پہنچا سکتے ہیں اور اس پر ہونے والے ایکشن کے بارے میں استفسار کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں  ادارے کے  سی ای او سید امتیاز علی رضوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا ہر جملہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل تھا۔ سو ایک جملہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
دوسروں کی دیکھا دیکھی سکول، کالج، یونیورسٹی یا دینی مدرسہ بنانے کی دوڑ میں نہ لگ جائیں۔ یہ سب اچھے کام ہیں لیکن کوئی بھی کام کرنے سے پہلے آپ یہ دیکھیں کہ ملک و قوم کو اس وقت کس کام کی اشد ضرورت ہے اور آپ کس کام کو ضرورت کے عین مطابق  بطریقِ احسن انجام دینے کی صلاحیّت اور توان رکھتے ہیں۔  

پیر، 27 جنوری، 2025

مولودِ کعبہ کون؟



نذر حافی:
:بہت ساری  خلاف حقیقت اور خلافِ عقل  باتوں کے اسلامی کتابوں میں پائے جانے اور ان پر    پر اسلام کی مُہر  لگنے کی وجہ سے  عام لوگ انہیں  اسلامی مسلمات میں شامل کر لیتے ہیں۔اس مسئلے کو آپ مارکیٹ میں  موجود جعلی کرنسی کے وجود سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی ، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ ایسا ہی دینِ اسلام کے ساتھ ہوا۔ احادیث اور تاریخِ اسلام کے حوالے سے بہت زیادہ ایسے واقعات، مفروضات اور بیانات گھڑ لئے گئے  ہیں جو قرآن و سُنّت نیز قطعیّاتِ تاریخ و عقل سے مطابقت نہیں رکھتے۔مثال کے طور پر  ہم جسے اسلامی سال کہتے ہیں، اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز نبیؐ کی ہجرت سے ہوا۔ حالانکہ نبی ؐ کے زمانے میں اور خلیفہ اوّل کے سارے دور میں کسی اسلامی سال کا تصوّر ہی نہیں تھا۔ نہ ہی نئے اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے کی کہیں فضیلت نقل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سال کو قرآن و حدیث میں اسلامی کہا گیا ہے۔  مزے کی بات یہ ہے کہ نبی ؐ نے  ہجرت  بھی محرم الحرام کے بجائے ربیع الاوّل میں کی ہے۔ 
اب جن لوگوں نے محرم الحرام سے شروع ہونے والے مہینے کو اسلامی سال کہنا شروع کیا ہے، ان کی اس فکر کا اسلامی ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں، ان کا محرک کچھ اور ہے جس کی الگ سے تحقیق کی جانی چاہیے۔
اسی طرح  مسلمانوں کے ہاں اسرائیلیات کا رواج  بھی جعلیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اسرائیلیات وہ معلومات اور روایات ہیں جو اسلامی متون، خاص طور پر قرآن و حدیث میں غیر مسلم مصادر، خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں کی  کتابوں سے شامل ہو گئی ہیں۔ یہ معلومات عام طور پر تورات، انجیل اور دیگر یہودی و عیسائی کتابوں سے اخذ ماخوذ ہیں، یہ غیر مستند تو ہوتی ہی ہیں اور  بعض اوقات افسانوی  قالب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ایسی من گھڑت معلومات کتب تاریخ ، احادیث  یا تفسیر کے ذیل میں شامل  ہیں۔
نمونے کے طور پر قصص انبیا کے واقعات  میں بہت سارے انبیا کے  ایسے حالات کو  بیان کیا گیا ہے  جو قرآن مجید یا مستند  احادیث میں کہیں بھی  ذکر نہیں ہوئے۔ علوم حدیث میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کیلئے  متعدد اصطلاحات رائج ہیں ۔ جیسے:موضوع ،ضعیف ،منکر  ،معلق ،متنازعہ ،مردود، منسوب ،موصول،غریب ،مقلوب ۔۔۔
مذکورہ بالا مقدمے کا مقصد فقط یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں  کی بنیادی کتابوں میں  جعلسازی کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جعلسازی کے یہ محرکات اسلام کے ابتدائی دور سے ہی موجود تھے اور اس جعلسازی کے کئی  مقاصد  تھے بعض اوقات غلط عقائد کی ترویج، سیاسی مقاصد کی تکمیل یا ذاتی مفاد حاصل کرنا  بھی ہوتا تھا۔ مسلم سکالرز نے کبھی بھی اس جعلسازی کو تقدس کا درجہ نہیں  دیا بلکہ مختلف اصطلاحات کے ساتھ کی نشاندہی کی ہے۔  اب آئیے اس جعلسازی کے محرکات میں سے  ایک بڑے محرک کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 
مسلمانوں کے درمیان اسرائیلیات اور دیگر غیر حقیقی متون کی نشرو اشاعت کے کئی اسباب ہیں۔ ان سب پر تو اس وقت  روشنی نہیں ڈالی جا سکتی لیکن  چند ایک اسباب کا ہم مختصراً ذکر کئے دیتے ہیں۔   اسلام کے ابتدائی دور میں ہی  مختلف سیاسی گروہ اور حکمران اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور اپنے مخالفین کے خلاف دلیل پیش کرنے کے لیے کبھی احادیث لکھنے سے منع کرتے تھے اور کبھی  جعلی احادیث گھڑتے تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان   ایسی باتیں آج بھی مشہور ہیں جو صحابہ کرام کے عہد میں اصلاً  وجود ہی نہیں رکھتی تھیں:
۱۔ خود کسی بھی صحابی نے خود کو اہل بیتِ رسول ؐ سے افضل کہنا تو دور کی بات اپنے آپ کو اہلِ بیت  کے برابر  بھی نہیں کہا  بلکہ صحابہ کرام اپنے آپ کو اہلِ بیت کا خادم اور غلام کہنے میں فخر کرتے تھے لیکن اہلِ بیت کے مقابلے میں جعلی فضائل و مناقب گھڑنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے صحابہ کراؓم کو اہلِ بیت سے افضل یا اہلِ بیتؑ کے برابر کہنا شروع کر دیا۔ حتی کہ کچھ لوگوں نے درود شریف میں بھی  اصحاب کو شامل کر لیا جبکہ ایسا درود شریف کبھی بھی  نبی اکرم ؐ یا صحابہ کرام ؓ کی زبانوں پر جاری نہیں ہوا۔
۲۔ ہم فلاں نبی کی اولاد میں سے ہیں، اللہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہمارے برے اعمال ہمارے اباواجداد کی وجہ سے بخش دئیے جائیں گے، ہمیں اچھے اعمال کی کوئی ضرورت نہیں  اور ہم سیدھے  جنّت میں چلے جائیں گے۔ یہ سراسر بنی اسرائیل کا باطل عقیدہ ہے اور قرآن مجید نے متعدد آیات میں اس عقیدے کی نفی کی  ہے ۔ اسلامی کتابوں میں جعلیات و   اسرائیلیات کی وجہ سے ابھی بھی  بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم بغیر  اعمالِ حسنہ کے جنت میں جائیں گے۔ اسلامی معاشرے میں بعض اوقات غیر مسلم ثقافتوں اور روایات کا اثر بھی جعلی روایات کی تخلیق کا سبب بنا۔ خصوصاً اسرائیلیات (یہودی اور عیسائی روایات) کو بعض اسلامی متون میں شامل کیا گیا، جو بعد میں جعلی روایات کے طور پر پھیل گئیں۔
۳۔   مختلف فرقوں کے درمیان اپنے عقائد کو جواز فراہم کرنے کے لیے جعلی روایات یا احادیث گھڑی گئیں۔ متعدد فرقے  اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسے افسانے یا جھوٹے بیانات ایجاد کرتے رہے جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے تھے۔
۴۔ ذاتی مفاد اور شہرت
علمِ رجال کے مطابق    بعض افراد یا راوی اپنے ذاتی مفاد یا شہرت کے لیے جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ وہ کسی خاص شخصیت کے حوالے سے روایات بناتے تاکہ اپنی شناخت یا مقام کو بڑھا سکیں۔      بعض اوقات لوگ اسلامی شخصیات کے بارے میں معجزات اور غیر معمولی واقعات کی کہانیاں گھڑتے تھے تاکہ لوگوں میں ان شخصیتوں کے بارے میں عقیدت اور احترام پیدا کر سکیں۔ اموی اور عباسی بادشاہوں سے انعامات لینے کیلئے  اہلِ بیت ؑ کے مقابلے میں بعض صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرضی معجزات اور غیر معمولی واقعات کی جھوٹی روایات  وضع  کی گئیں ۔
۵۔دینی تعلیمات کی ترویج یا تشہیر
   بعض اوقات لوگوں نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کو پھیلانے کے لیے جعلی احادیث گھڑیں، جن میں نیکی کرنے، صدقہ دینے ، کثرت سے تلاوت کرنے یا  مستحب عبادت کی اہمیت پر زور دیا جاتا تھا۔لوگوں کو زیادہ عبادت یا صدقہ دینے کی ترغیب دینے کے لیے جعلی روایات گھڑی گئیں، جن میں بتایا گیا کہ زیادہ نیک عمل کرنے سے خدا کی طرف سے بڑے بڑے درجات و انعامات ملتے ہیں۔
۶۔غفلت اور  کمزور حافظہ
   بعض اوقات جعلی احادیث صرف راویوں کی غفلت یا کمزور حافظے  کی وجہ سے بھی  اسلامی متون میں شامل ہوئیں۔ بعض اوقات  راوی کسی حدیث کو سن کر اسے اس طرح بیان کرتا  تھا کہ  وہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی تھی۔
مذکورہ بالا تمام عوامل اپنی جگہ بجا ہیں لیکن ان سب سے ایک بڑا عامل خود فضائل و مناقب علی ابن ابیطالبؑ کے مدّمقابل فضائل و مناقب تراشنے کی  کارروائی ہے۔  حضرت علی ؑ اپنی جامعیّت کے اعتبار سے  اہلِ بیت میں سے بھی ہیں اور صحابہ کرام میں سے بھی۔ ایک طرف تو آپ کی شخصیت اتنی جامع ہے کہ آپ اہلِ بیت، صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں سے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ فضال و مناقب میں کوئی بھی  دوسری شخصیت آپ کی گردِ پا کو نہیں پہنچتی خواہ  وہ شخصیت  اہل بیت میں سے ہو، صحابہ کرام میں سے ہو یا خلفائے راشدین میں سے ۔ 
صدرِ اسلام میں ہی یہ حقیقت واضح تھی کہ جہانِ علم و عمل میں آپ جیسی جامعیّت کسی کو حاصل نہیں۔ سو آپ کے  معنوی و ایمانی قد و کاٹھ  کے مطابق  آپ کے حریفوں کیلئے کوئی دوسری شخصیت تراشنا ممکن ہی نہیں تھا، سو آپ  اور اہلِ بیتِ رسول کے ہاتھوں شکست خوردہ گروہوں نے  آپ کی ہر فضیلت کے مقابلے میں کسی نہ کسی کی ایک فضیلت ضرور گھڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے فضائل  میں سے ایک آپ کا مولودِ کعبہ ہونا ہے۔سو  آپ کے حریف  گروہوں نے ایک مرتبہ پھر جلد بازی اور عجلت سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ  حکیم بن حِزام بھی کعبے میں متولد  ہوئے۔  فریقِ مخالف کا مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت علی ؑ کا  کعبے میں پیدا ہونا کوئی فضیلت نہیں اور اگر ہے تو پھر حکیم بن حِزام بھی اس فضیلت کے حامل ہیں۔
بلاشُبہ ایسی فضیلت گھڑنے سے حضرت حکیم بن حِزامؓ کا  کوئی تعلق نہیں۔ یہ  جعلی افسانہ  بھی دیگر اسلامی افسانوں کی مانند   اہلِ بیتؑ کے مخالفین نے گھڑا ہے۔ آئیے اس افسانے کا تجزیہ کر کے دیکھتے ہیں کہ حقیقتِ حال کیا ہے:
 حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی نفی ایک تو خود علوم حدیث کی رو سے ہی ہو جاتی ہے لہذا جن لوگوں نے  حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی بات کی ہے انہوں نے اس پر جرح و تعدیل نہیں کی بلکہ فقط یہ کہہ کر  گزارہ کیا ہے کہ فلاں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ  فلاں بات درست ہے چونکہ ارسطو نے کہی ہے۔  خود سے تحقیق کئے بغیر فقط ارسطو کی بات کہہ کر کسی  بات کو درست یا  غلط کہہ دینا یہ علمی و تحقیقی روش نہیں۔ 
دوسری اور اس سے بھی  محکم ترین دلیل یہ ہے کہ  تمام تر تاریخی اسناد  اور قطعیات کے مطابق زمانہ جاہلیت میں حاملہ عورتوں کا کعبے کے اندر داخل ہونا ممنوع تھا۔ جن لوگوں نے   حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کا لکھا ہے انہوں نے دروازے سے داخل ہونا لکھا ہے جو کہ زمانہ جاہلیت میں ممنوع تھا  لہذا مادرِ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں لیکن حضرت علی ؑ کی مادرِ گرامی کا کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ آپ دروازے سے داخل ہوئیں بلکہ سب نے لکھا کہ مادرِ علیؑ نے دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر  خدا سے دعا کی، جس کے بعد دیوارِ کعبہ شق ہوئی  اور آپ دیوار سے داخل ہوئیں۔ پس اس سے ہر صاحبِ شعور کیلئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مادرِ علی ؑ کا دیوارِ کعبہ سے کعبے میں داخل ہونا تاریخ اسلام کے مسلمات اور معجزات میں سے ہے جبکہ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے  میں تولد کی داستان دیگر جعلی روایتوں کی مانند گھڑی گئی ہے۔
ایسی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جیسے اگر یہ حدیث ہے کہ  حسنؑ و حسین ؑ جنت کے  جوانوں کے سردار ہیں، تو کچھ لوگوں نے عجلت میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ فلاں   فلاں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنت میں بڑھاپے کا عارضہ قابلِ تصوّر نہیں ہے۔
اسی طرح اگر یہ حدیث  موجود تھی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے  تو کچھ لوگوں نے اس میں یہ اضافہ کر دیا کہ  کوئی اس شہر کی کھڑکی ہے، کوئی چھت ہے اور کوئی روشندان۔ صاحبانِ عقل بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کی چھت، کھڑکی یا روشندان نہیں ہوتے۔ 
بہر حال  جو لوگ خانہ کعبے میں حضرت علی ؑ کی ولادت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ  کعبے کی بلند و بالا عمارت میں کوئی عورت کیسے داخل ہو سکتی ہے اور  حاملہ عورتوں کے کعبے کے نزدیک ہونے کی ممانعت کے باعث کوئی عورت کیسے کعبے کے نزدیک ہو سکتی ہے تو حضرت حکیم بن حِزامؓ کی ولادت کا افسانہ تراش کر انہوں نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ اُس زمانے میں حاملہ خواتین کیلئے  خانہ کعبے کے نزدیک جانے کی ممانعت نہیں تھی۔  
دیوارِ کعبہ کو پکٹر کر حضرت فاطمہ بنتِ اسد کی خدا سے دعا، پھر اللہ نے مادرِ علی ابن ابیطالبؑ کو  دروازے کے بجائے دیوار سے اپنے گھر میں  بلاکر قیامت تک کیلئے یہ ثابت کردیا کہ علی ابن ابیطالبؑ کی کعبے میں ولادت ایک ٹھوس سچائی ہے اور حضرت علیؑ  اپنے فضائل و مناقب میں  لاشریک ہیں۔ کوئی دوسرا چاہے اہلِ بیت ؑ سے ہو، صحابہ کرام سے یا خلفائے راشدین سے کوئی بھی فضائل و مناقب میں حضرت علیؑ کا  شریک یا برابر نہیں۔
آخر میں صاحبانِ جرح و تعدیل کیلئے ہم بغیر سُنّی و شیعہ، وہابی و دیوبندی یا اہلِ حدیث یا سلفی کی کسی تفریق کے چند مستند منابع  حضرت امام علی ؑ کے مولودِ کعبہ  ہونے کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔ تمام منصف مزاج انسان تحقیق کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ آپ  آزادانہ کسی بھی مسلک کے رجالی اصولوں پر اس واقعے کو پرکھیں اور خود فیصلہ کریں:
1. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵.
2. سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۰۱ق، ص۲۰
3. ابن صباغ، الفصول المهمة، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۱
4. حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۲۶
5. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۸۳
6. گنجی شافعی، کفایة‌ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۷۰۷
7. ابن مغازلی، مناقب الامام علی بن ابی‌طالب، ۱۴۲۴ق، ص۵۸-۵۹؛ ابن حاتم شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۲۵
8. شیخ صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۳۵
9. شیخ صدوق، معانی الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۶۲
10. شیخ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۲
11. محمدی ری‌شهری، دانش‌نامه امیرالمؤمنین ،۱۳۸۹ش، ج۱، ص۷۸
12. طبری، تحفة الابرار، ۱۳۷۶ش، ص۱۶۵-۱۶۴
13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۹
14. قرشی اسدی، جمهرة نسب قریش و اخبارها، ۱۳۸۱ق، ص۳۵۳
15. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵
اب دوسری طرف اسی طرح ہم  حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے واقعہ کے  حوالے سے سب سے پہلی حدیث کو ہی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، باقی کا جائزہ آپ خود  علمِ رجال کی روشنی میں کر لیجئے۔
حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں پہلی روایت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة، وکانت أمه ولدته فی الکعبة  " حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال زندگی کی، اور ان کی ماں نے انہیں کعبے میں جنم دیا۔ یہ جملہ   هشام بن محمد بن سائب کلبی متوفای (204 ه. ق)  کی کتاب میں ہے۔ ﴿کلبی، جمهره انساب العرب، ص 13﴾ 
پھر باقی بعد والوں نے اسی کتاب سے  آگے اس جملے کونقل کرنا شروع کر دیا۔ یعنی  یہاں وہی رویّہ دیکھنے میں آ رہا  ہے کہ ارسطو نے کہہ دیا سو  اب یہی درست ہے۔ پہلی بات  تو یہ ہے کہ  کلبی کو اہل سنّت علمائے رجال  بطورِ شیعہ اور غالی بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ   کلبی کی کتاب میں یہ کلبی نے لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ کلبی کی کتاب  میں حسن بن حسین سکری (212-275 ه. ق) نے ابی جعفر محمد بن حبیب بن امیه بغدادی (ت 245 ه) کے واسطے سے  یہ بات نقل کی ہے۔ 
ایک تو یہ متن بتا رہا ہے کہ کلبی کی اصل عبارت  " وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة"  حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال عمر کی " کے ساتھ بعد میں  " وکانت أمه ولدته فی الکعبة  "   ان کی ماں نے اُنہیں  کعبے میں جنم دیا "کا  اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ  کلبی  اور سکری خود  تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے  جبکہ حکیم بن حِزم کی ولادت زمانہ جاہلیت میں عام الفیل سے بھی پہلے کی ہے۔ یوں  یہ سند کلبی اور سکری پر ہی ختم ہو جاتی ہے جس کے بعد یہ عبارت  علم حدیث کی رو  تمام علما  کے نزدیک  معتبر نہیں رہتی۔ 
اب آگے جو لوگ اپنی کتابوں میں نقل کرتے گئے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پرکھے ہی کرتے گئے ورنہ کسی بھی صورت میں کلبی کی کتاب ، سند یا روایت اہلِ سُنّت کے  علمائے رجال کے نزدیک  معبتر نہیں ہے۔
 بہرحال ہمارا مقصد  یہ یاد دلانا تھا کہ یاد رکھئے!  جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی ، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ لہذا دھوکہ نہ کھائیے اور آزادانہ طور پر تاریخ اسلام کو مسلمات اور عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھئے۔  تاریخِ علم نیز عقل و منطق کے مطابق کوئی بھی بات اس لئے درست نہیں ہوتی کہ فلاں شخص  نے کہی یا اپنی کتاب میں لکھی ہے  بلکہ اُس کا حقیقت ہونا ٹھوس شواہد سے ثابت  کرنا پڑتا ہے۔  
نوٹ: حضرت حکیم بن حِزامؓ  کی شخصیت اور خدمات کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون ہم الگ سے لکھیں گے تاکہ  صاحبانِ علم و تحقیق کیلئے یہ حقیقت مزید روشن ہو جائے۔



اتوار، 26 جنوری، 2025

دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے

دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے        

رپورٹ: سبطین حیدر متعلم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد 
25فروری کو جامعۃ الرضا کے سال اول اور سال سوم کے طلبا نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کا مطالعاتی دورہ کیا۔اس دوران دی ایمز سکول اینڈ کالج کے اسٹاف کی طرف سے ہمیں بڑے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ہم نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کے مختلف شعبوں کی لیبارٹریزاورلائبریری کا بھی وزٹ کیا۔اس موقع پر دی ایمز سکول اینڈ کالج کے پرنسپل محترم روزی علی نے بھی مہمان طلباء سے گفتگو کی۔دی ایمز سکول اینڈ کالج کے CEO  پروفیسر امتیاز رضوی صاحب نے ہمیں ایک مختلف انداز میں آگے بڑھنے، تعلیم حاصل کرنے اور سوال کرنے کی دعوت دی۔  تفصیلات کے مطابق جامعتہ الرضا کے طلباء کا مطالعاتی دورہ بروز ہفتہ25/01/2025  کو ہوا۔اس میں جامعۃ الرضا کی دو کلاسز سال اول اور سال سوم نے شرکت کی۔ 
صبح ساڑھے دس بجے ہم دی ایمز سکول اینڈ کالج کی طرف روانہ ہوئے جہاں  دی ایمز کی انتظامیہ نے ہمیں خوش آمدید کہا۔
وہاں سکول کے ایڈمن محترم یثرب صاحب  نے ہمیں مختلف کلاسز کا وزٹ کرایا۔ ہمیں مختلف شعبوں کے لیبز میں بھی لے جایا گیا۔  بیالوجی لیب ، کیمیسٹری لیب اور فزکس لیب نیز  اسٹوڈیو نیز اسپورٹس کا میدان بھی ہمارے دورے میں شامل تھا۔ اس کے بعد ایک کانفرنس ہال میں پروفیسر ذوالفقار علی صاحب نے ہمیں اپنے پورے اسٹاف کی طرف سے خوش آمدید کہا اور  دی ایمز سکول اینڈ کالج  کا Vision اور Mission بیان کیا۔ ان کے بعد دی ایمز سکول اینڈ کالج کے پرنسپل محترم روزی علی صاحب نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم سے بہت موثر اور جامع گفتگو کی۔ 

کچھ ہی دیر کے بعد ریفریشمنٹ کے دوران ہماری ملاقات ایمز سکول اینڈ کالج کے CEO سید امتیاز علی رضوی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ہوئی۔  انہوں نے ہمیں وقت کی قدر کرنے اور جدید دور میں دینی علوم اور علمائے دین کی اہمیت کے حوالے سے انتہائی اہم نکات بیان کئے۔ ان کی گفتگو کے دوران  جامعۃ الرضا کے طلبا نے ان  سے مختلف سوالات کئے ۔انہوں نے جہاں سوالات کے جوابات دئیے وہیں ہمیں علمی دنیا میں سوال اٹھانے کی اہمیت بھی بتائی۔  یہ مطالعاتی دورہ بظاہر مختصر سا تھا لیکن درحقیقت اپنے ہمارے بہت زیادہ معلومات، تجربات اور پیغامات لئے ہوئے تھا۔




کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:۔ پروفیسر سید امتیاز علی رضوی

کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:

 پروفیسر سید امتیاز علی رضوی:

 اس مرتبہ کا مطالعاتی دورہ ہمارے لئے توقع سے زیادہ دلچسپ اور مفید رہا۔۲۵  جنوری ۲۰۲۵ کو ہم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد سے دی ایمزسکول اینڈ کالج کی طرف بذریعہ بس روانہ ہوئے۔ دن کے ساڑھے دس بجے تھے اور  بس میں مدیرِ مدرسہ حجۃ الاسلام سید حسنین عباس گردیزی صاحب کی موجودگی سے  لمحہ بہ لمحہ ایک روحانی اور معنوی احساس ہمارے شاملِ حال تھا۔ 

رپورٹ : جامعۃ الرضا میڈیا سیل: سید حسن کاظمی، تاثیر رضا، سبطین حیدر:
  یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ایک مطالعاتی دورے کا مقصد فقط گھومنا پھرنا  اور وقت گزارنا نہیں ہوتا بلکہ  اس کے ذریعے طلباء کو نئے تجربات، مختلف شعبوں کی حقیقتوں اور علمی دنیا کے  حقیقی حالات کا براہ راست سامنا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے  طلباء  کتابی دنیا سے  نکل کر باہر کی دنیا سے اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں۔ 
ہم لوگ جیسے ہی ایمز کالج کے نزدیک  بس سے اترے تو کالج کی انتظامیہ نے انتہائی نظم و ضبط ا ور محبت بھرے انداز میں ہمارا استقبال کیا۔ کالج میں صفائی ستھرائی، علمی ماحول، دیواروں پر موجود تصاویر ، کمپیوٹر لیب ، لائبریری، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی، میڈیا۔۔۔ وغیرہ کی لیبز۔۔۔ یوں لگا جیسے ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں ہر قدم پر یہی  سوچ رہا تھا کہ ہم پاکستانی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ 
ہم نے مختلف کلاسز کا وزٹ بھی کیا۔ اساتذہ کے تدریسی طریقہ کار ، کلاس رومز کا ماحول اور طلبا کا پڑھنے کا انداز یہ بتا رہا تھا کہ وطنِ عزیز اور انسانیت کی خدمت کیلئے نہمارے تعلیمی اداروں کا  کم از کم  اتنا معیار تو ہونا چاہیے۔میں نے کئی مرتبہ یہ سوچا کہ اگر میں  آج دی ایمز کالج اینڈ سکول کا وزٹ نہ کرتا تو یقینا ایک بہت بڑی علمی تجربے سے محروم رہتا۔
ایسے مطالعاتی  دورے طلباء میں  نئی تعلیمی روشوں کو دیکھنے، تنقیدی سوچ کے ابھرنے، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، اور سیکھنے کی مہارت  میں اضافہ کرتے ہیں۔ آگے چل کر یہ اضافہ ہی  ان کی ذہنی و فکری   وسعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

خود اس طرح گروپ کی صورت میں وزٹ کرنے سے طلبا کی مدیریتی صلاحیتیں بھی نکھرتی ہیں اور باہمی روابط بھی  مضبوط ہوتے ہیں، جو اُن کی  تعلیمی اور ذاتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسے دورے طلباء کو ٹیم ورک اور قیادت کی مہارتوں کو بہتر بنانے کا موقع دیتے ہیں، کیونکہ گروپ کی صورت میں  وزٹ کرنا  در اصل   ایک دوسرے کے  مزاج اور خیالات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔
دی ایمز  کی طرف سے محترم یثرب صاحب ہماری رہنمائی کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں دی ایمز کی چھت سے وادی کے خوبصورت مناظر اور دی ایمز کے اسپورٹس گراونڈ کا بھی نظارہ کرایا۔  ان کے  بعد ہم ایک کانفرنس ہال میں پہچے جہاں   ڈاکٹر  ذوالفقار  صاحب  نے  دی ایمز سکول اینڈ کالج  کی انفرادیت، اس کے ویژن اور مشن پر گفتگو کی۔ یہیں پر دی ایمز کے پرنسپل محترم علی روزی صاحب سے بھی  ہماری ملاقات ہوئی۔  علی روزی صاحب  نے مختصر ووقت میں دی ایمز کی ایک اجمالی پکچر ہمارے سامنے رکھ دی۔ اُن کا ہر جملہ ہمارے لئے امید اور روشنی کی ایک کرن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کو ماضی میں کن مشکلات کا سامنا  رہا اور کیسے کیسے حالات سے گزرنے کے بعد  دن رات کی محنت شاقہ سے یہ ادارہ  موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری منزل نہیں بلکہ ہم نے ابھی بہت آگ جانا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے نورالھدی ٹرسٹ کے اراکین اور خصوصوی طور پر دی ایمز کے  CEO پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب کے وژن، پالیسیز اور حکمت عملی پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔ 

  اس کے ساتھ ہی  ہمیں ریفریشمنٹ  کے لئے ایک ہال میں لے جایا گیا۔ وہاں چائے اور سموسوں کے ساتھ ہماری خاطرتواضع کی گئی۔ ہمارے لئے سب سے حیران کن ہر شعبے کا ڈسپلن تھا۔ دینی طلباء کے لیے مطالعاتی دورے کا مقصد فقط معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی ارتقا بھی پیشِ نظر ہوتاہے۔ ایسے دورے  دینی طلباء کو معاشرتی تقاضوں اور مطلوبہ مہارتوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔  ابھی ہم محوِ گفتگو ہی تھے کے دی ایمز کے  سی ای او سید امتیاز علی رضوی  صاحب ہماری بزم میں تشریف لے آئے۔
  اگرچہ وہ اچانک تشریف لائے لیکن ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم سب انہی کے منتظر تھے۔ انہوں نے باتوں ہی باتوں میں کئی کتابوں کے مطالعے سے زیادہ اپنا عملی تجربہ  ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ان کی فکر آمیز گفتگو کا خلاصہ یہی تھا کہ انسان کے پاس سب سے بڑی طاقت سوچنے کی ہے اور انسان جتنا اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے، اس کی سوچنے کی صلاحیت اتنی ہی ترقی کرتی ہے۔ تیز ترین دور میں کُند دماغ کے ساتھ زندگی بسر کرنا ممکن نہیں۔  انہوں نے کہا کہ  عقل کے ارتقا اور فروغ کیلئے دینی علوم بہترین وسیلہ ہیں۔ دینی طالب علم یہ جان لیں کہ محنت کے بغیر  کچھ بھی نہیں ملتا۔ کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں، اس کے لئے دماغ لڑائیں، آپ لوگ بہت کچھ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ  اپنی فیلڈ میں   دماغ لڑائیں اور محنت کریں۔


جمعہ، 24 جنوری، 2025

محمد صغیر فلسفی



محمد صغیر فلسفی:    
جامعۃ الرضا کا نصاب ِ تعلیم میری صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے ممدومعاون ثابت ہوا۔ محمد صغیر فلسفی  جامعۃ الرضا اسلام آباد کے بعد جامعۃ المصطفی العالمیہ قم المقدس کیلئے عازمِ سفر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اعلی تعلیم کیلئے  قم المقدس جانا میرے لئے بہت بڑی سعادت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات تب ہو گی جب میں  اپنے دین اور  ملت کے لیے ایک اچھا  اور مفید انسان ثابت ہوں گا۔ خدا مجھے یہ توفیق دے کہ میں  ایک بہترین مبلغ  اور ایک عالم باعمل بنوں۔

میرے والد مرحوم  کا نام  اخوندمحمد تقی محمد ہے اور میں  سکردو بلتستان سے ہوں۔  ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، میں نے  ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول میں حاصل کی اور  وفاق المدارس سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ  بی اے بھی کیا۔ دینی تعلیم کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا کیونکہ ہمارے خاندان میں علمائے کرم کی بہت عزّت کی جاتی ہے۔  خود میرے دادا جان اور  میرے والد بھی ایک اچھے عالم دین تھے،   میرے والد صاحب اپنے گاؤں کے ایک بہترین امام جماعت اور مرکزی خطیب بھی تھے لیکن 23 اگست 2021 کو وہ  اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

 میں بچپن سے ہی اپنے محلے کے مدرسے کے  ایک قران سینٹر میں بچوں کو قران اور احکام پڑھاتا رہا  اور  ساتھ ساتھ مجھے کسی دینی مدرسے میں پڑھنے کا شوق بھی تھا۔  میں  شروع میں مدرسے کی تعلیم کے لیے عروہ الوثقیٰ چلا گیا پھر  وہاں ڈیڑھ سال پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ جامعہ الرضا  اسلام آباد میں داخلہ لیا۔ 

دینی طالب علم بننے کے بعد  میں اپنے اپ کو ایک اچھا اور خوش بخت انسان سمجھنے  لگنے لگا اور پہلے سے زیادہ  خود سازی پر توجہ دینا شروع کر دی۔ ابھی جامعۃ الرضا اسلام آباد میں میرا حالیہ سیمسٹر  بھی اچھا رہا ۔ میں نے جامعۃ الرضا میں  اپنے کاموں کو منظم انداز میں انجام دینا سیکھا۔ یہاں کتابوں کا مطالعہ اور قرائت قرآن نیز بچوں کو قرآن پڑھانے جیسے میرے مشاغل بھی بطریقِ احسن جاری رہے۔

میں اپنے تمام دوستوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اپنے امور کو اس طرح منظم کریں کہ  جب آپ فارغ التحصیل ہو کر  معاشرے میں قدم رکھیں تو آپ کی تعلیمی و تربیتی صلاحیتیں بھرپور انداز میں نکھر چکی ہوں۔ سُست اور کاہل افراد معاشرے کا بوجھ اٹھانے کے بجائے معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں۔ میری  آئیڈیل  شخصیت رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں اور  میری  پسندیدہ کتابیں ڈھائی  سو سالہ انسان اور اخلاقی کتابیں ہیں۔میری پسندیدہ غذا وں میں  سرِ فہرست بریانی ہے  اور مشاغل و کھیلوں میں سیر و تفریح، کوہ پیمائی،  والی بال اور فٹ بال ہیں۔ میں نے اب تک کراچی، اسلام آباد، کشمیر ، لاہور  اور مری جیسے مقامات کی سیر کی ہے ۔خدا نے  مجھے قران پڑھانے، صوت و لحن اور قرائت و تجوید جیسی مہارتوں پر کام کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔

ابھی اعلی دینی  تعلیم کیلئے اپنے اساتذہ اور مدیرِ مدرسہ کی ہم آہنگی اور شفقت کے باعث   بیرونِ ملک جا رہا ہوں۔ یہ سب اللہ تعالی کی توفیق اور  میرے شفیق اساتذہ  اساتذہ کی محنت کا ثمر ہے۔  جامعۃ الرضا کے اساتذہ کو میں نے  انتہائی محنتی، بااخلاق اور اپنے مضامین میں ماہر پایا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں اساتذہ  ہر وقت ہر طالب علم کو حقیقی معنوں میں  علم کی تلاش میں سعی و کوشش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔  میں یہاں بھی اپنے اساتذہ کی اجازت سے  اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن پڑھانے کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ اس کی وجہ سے مجھے اپنی  تدریس اور قرآن سکھانے کی مہارت کو نکھارنے کا موقع ملا۔

 اگر میری کوئی  اچھی پہچان ہے  یا مجھے کوئی توفیق نصیب ہے تو وہ میرے رب کا کرم اور میرے شفیق اساتذہ کے ہی باعث ہے۔

مجھے ابھی تک  جن شخصیات سے ملنے کا شوق ہے وہ رہبر معظم سید علی خامنائی اور سید علی سیستانی ہیں ۔ میری زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ میں اپنے اپ کو امام زمانہ کا ایک سچا سپاہی ثابت کروں  اور اپنی تمام تر زندگی ان کی رضا میں  گزار دوں۔ میرے نزدیک سب سے بڑا ادمی وہی ہے جس  کے ذریعے لوگ خدا  سے جڑے رہتے ہیں  اور خدا کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اچھی عادتوں کو اپناتے ہیں اور معاشرے میں  ایک دوسرے کیلئے اچھے ثابت ہوتے ہیں۔

 میرے نزدیک  ایک دینی طالب علم کیلئے  دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم دونوں لازم ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں یہ دونوں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔  میرا ہر وہ دوست میرا بہترین دوست ہے جو خود سازی کردار سازی کرانے  میں میرے مددگار اور معاون ثابت ہوئے 

جامعۃ الرضا کے  ہاسٹل کی زندگی کے بارے میں یہ کہوں گا  کہ جیسے ہر باغ سے اگر ایک ایک پھول کو لے کر کسی ایک جگہ جمع کرنے سے وہ جگہ  مزید خوشبودار ہو جاتی ہے اسی طرح میں نے  جامعۃ الرضا کی ہاسٹل لائف  میں  اپنے  مختلف علاقوں کے طالب علم دوستوں کی اچھائیوں، حُسنِ معاشرت، اور تقوی و نیکی  کی مہک کو قریب سے محسوس کیا ہے۔

باقی آئمہ معصومین ؑ، والدین،  اور تمام اساتذہ کرام کی دعاوں کا محتاج ہوں،  خدا مجھے دنیا اور اخرت میں کامیاب کرے۔میری ایک خواہش ابھی باقی  ہے کہ  اپنی  زندگی میں  حافظ قرآن بنوں، ان شااللہ آپ سب کو یہ خوش خبری بھی سناوں گا۔ 



پارافیلیا اور احتیاطی تدابیر


نذر حافی:
پاکستان میں صحت کے حوالے سے تو لوگوں میں آگاہی بڑھ رہی ہے، لیکن پارافیلیا جیسے موضوعات پر بحث ،تعلیم اور آگاہی  کا فقدان ہے۔ دماغ کو جیسے پیٹ کی بھوک محسوس ہوتی ہے، ویسے ہی جنسی بھوک بھی۔ ہمارے ہاں جب بھی کہیں جنسی ہراسانی کا واقعہ سامنے آتا ہے تو واویلا مچ جاتا ہے۔ ساری قوم کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ مجرم کو سخت سزا  دی جائے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سزائیں ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہیں۔
 اگر ہم جنسی بھوک کے بھڑکنے کے عمل کو سمجھ لیں تو کافی حد تک ہم خود بھی اپنے خاندان کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ جنسی بھوک کے بھڑکنے کے عمل کو اس مثال سے سمجھئے!۔ تمام چھوٹے بڑے تاجر، مافیاز اور سوداگر اپنی  اپنی اجناس اور پروڈکٹس کو فروخت کرنے کیلئے عوام میں "اپنی اپنی پروڈکٹ کی نسبت" طلب اور بھوک کے احساس کو بڑھکاتے ہیں۔ مختلف طرح کے اشتہارات، بیانات، جملات، تصاویر اور کلپس سے لوگوں کو مرعوب اور متاثر کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک عام  آدمی جا کر اُن کی پروڈکٹس کو خریدنا شروع کر دیتا ہے۔
منشیات کی فروخت سے لے کر جنسی تشدد کے پیچھے ہر جگہ یہی طلب اور بھوک بھڑکانے کی سیاست کارفرما ہے۔ کہنے کو تو ہمارے ہاں سب سے بُرا اور ناپسندیدہ فعل جنسی بے راہروی کو سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ برائی اتنی عام ہوچکی ہے کہ مولوی منظور مینگل صاحب اپنے کلپس میں دینی مدارس کے اندر جنسی بےراہروی کے عام ہونے کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں اور آئے روز مختلف قاری و حافظ قرآن اور منقبت خوان صاحبان کے ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ جب اپنے آپ کو شیخ الحدیث، قاری قرآن اور حافظ قرآن کہنے والوں میں اس بیماری کی شرح اتنی بلند ہے تو پھر سیاستدانوں اور عام لوگوں کی کیا بات کی جائے۔
جنسی انحراف ایک بیماری ہے جسے "Paraphilia" پارافیلیا کہتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں یہ جنسی انحراف ایک جرم سے بڑھ کر سماجی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس بیماری کی روک تھام نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ کسی بھی بیماری کے سائنٹفک علاج کے بجائے پھکیاں، ٹونے اور تعویز سے کام نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ بیماری بگڑ نہ جائے۔ پیرافیلیا دراصل ایک احساساتی بیماری ہے۔ اس کی ابتدا کسی نامحرم کو دیکھنے، یا نامحرم کی تصویر یا نامناسب جنسی تصورات سے ہوتی ہے۔ آپ اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ہاں ٹی وی اور موبائل کی اسکرین سے لے کر صابن و گاڑیوں پر بنی ہوئی تصاویر اور دیواروں پر لگے ہوئے پوسٹرز۔۔۔ یہ سب چوبیس گھنٹے لوگوں میں جنسی بھوک بھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق اس بیماری کی کئی قسمیں اور شکلیں ہیں۔جنسی بیماری کی بعض ایسی اقسام ہیں کہ جن کے مریض اپنی برہنہ تصاویر بنانے اور انہیں نشر کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح تنگ اور ٹائٹ لباس پہننے والے لوگ بھی، فحش ہنسی مذاق کرنے والے حضرات اور جنسیات پر مبنی کہانیاں اور لطیفے سنانے والے بھی اسی قبیل میں شامل ہوتے ہیں۔ المختصر وہ سارے عوامل جنسی انحراف میں آتے ہیں، جو ایک عام شخص کو عُرف سے ہٹ کر جنسی لذّت حاصل کرنے پر ابھارتے ہیں۔کسی بھی سماجی بیماری کا فوری علاج ضروری ہے، تاہم اس کا آغاز اپنے آپ سے کرنا چاہیئے۔اس حوالے سے مندرجہ ذیل نکات والدین کیلئے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں:۔
۱۔ سب سے پہلے اپنے موبائل، کمپویٹر، گھر، دکان وغیرہ کو نامناسب تصاویر، ڈراموں، کلپس اور فلموں سے پاک کریں۔
۲۔ اگر آپ کوئی ایسی چیز گھر میں لاتے ہیں، جس پر نامناسب تصویر ہے تو سب سے پہلے اُس تصویر کو کھرچ ڈالیں۔
۳۔ والدین خود ایسی محافل میں اور ایسے مقامات پر نہ جائیں، جہاں پر مرد و زن بغیر حجاب کے گھومتے پھرتے ہوں، مجبوری کی صورت میں اپنے بچوں کو ہمراہ نہ لے جائیں۔
۴۔ اپنے بچوں کو عبادات سے زیادہ فلسفہ عبادات اور دین کا حکیمانہ پہلو سمجھائیں۔
۵۔ بچوں کی بروقت ازدواج اور شادی کیلئے اُن کے بلوغ سے پہلے منصوبہ بندی کرکے رکھیں۔
۶۔ بچوں کو سادہ اور نسبتاً آرادم دہ لباس کا عادی بنائیں، بچوں میں یہ شوق پیدا کریں کہ وہ لباس اور شکل و صورت میں فلمی ایکٹرز کے بجائے نیک اور مومن لوگوں کی شباہت اختیار کریں۔
۷۔ بچوں کو دستک دے کر گھر اور کمرے میں داخل ہونے کا عادی بنائیں اور سوتے وقت بچوں کے کمروں کو مکمل تاریک نہ ہونے دیں۔
۸۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ آپ کا جسم خدا کی طرف سے آپ کے پاس امانت ہے، اسے کوئی نہ چھوئے۔
۹۔ پاکستان میں جو خواتین نامناسب لباس پہن کر عورت کی آزادی کی بات کرتی ہیں، وہ دراصل اپنے عریاں بدن کے ساتھ لوگوں کی جنسی بھوک بھڑکا کر عورت کی آزادی کو مزید خطرے میں ڈال رہی ہیں، والدین کو ایسے لوگوں کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
۱۰۔ اگر آپ اپنے اردگرد کسی کو جنسی مریض پائیں تو اُسے فوراً ماہر نفسیات کے پاس لے جائیں، اس کا علاج ہیروئن کے نشے کی مانند مشکل ضرور ہے، لیکن ممکن ہے۔
۱۱۔ پارافیلیا کی جڑیں انسان کے دماغ میں ہوتی ہیں، لہذا اپنے بچوں کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ کسی وقت فارغ ہیں یا چھٹی کا مطلب فراغت ہے۔ بچوں کے اوقاتِ کار کو اُن کی عمر کے مطابق تقسیم کریں۔ اُنہیں اکیلے دوستوں کے ساتھ کلبوں میں کھیلنے کودنے، نامناسب اوقات میں گھر سے باہر جانے، زیادہ دیر تک خواہ مخواہ کچھ سوچتے رہنے یا رات کہیں اور بسر کرنے کی فرصت ہرگز نہ دیں۔
۱۲۔پارافیلیا  کے مریض  کو جنسی طور پر  مختلف چیزوں، آوازوں یا تصویروں  کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے۔حتی کہ بعض افراد مخصوص اشیاء جیسے  موسیقی، گانا، ڈانس، دیوار،  جانور یا  مخصوص حالات جیسے کسی دوسرے شخص کا  ہنسنا ،رونا یا  درد کی آواز سے بھی متحرک ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں مریض اچانک  خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
کسی کے نامناسب بدن، تصویر یا کلپ کو دیکھ کر ایک جنسی مریض اپنے وجود میں جنسی تحریک محسوس کرتا ہے۔ قدم قدم پر ہر نامناسب منظر اُس کے دماغ میں دیا سلائی کی مانند چنگاری سلگاتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ تخیل اور تصوّرات کیلئے پٹرول اور گرم لاوے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ایک دماغ کے اندر بار بار جنسی عمل کی چنگاریاں شعلہ ور ہوتی ہیں تو بالاخر ایک جنسی مریض کا وجود لاوے کی طرح پھٹنے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب ایسا مریض کسی بھی انسان، جانور، بچے۔۔۔ پر حملہ کر دیتا ہے۔ باعرض معذرت یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ خواتین چونکہ زیادہ حسّاس ہوتی ہیں، لہذا ہر طرح کے انحرافات اُن میں زیادہ آسانی سے جنم لیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ خواتین اپنے حجاب کے حوالے سے زیادہ محتاط رہیں اور مرد حضرات  بھی  جلوت و خلوت میں دینی آداب و اخلاق کی پابندی کریں۔



جمعرات، 23 جنوری، 2025

صرف پارہ چنار آزاد ہے!





ڈاکٹر نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

پارہ چنار جانے والی روڈ پر کون قابض ہے؟ کیا صرف مسافر گاڑیاں ہی غیر محفوظ ہیں؟ اس وقت سرکاری قافلے، فوجی گاڑیاں، ایمبولینسز اور اشیائے خوردونوش تک کا اس روڈ سے گزرنا ناممکن ہے۔ گزشتہ دنوں سات خواتین اور ایک بچی سمیت ۴۴ مسافروں کے قتل نے ایک مرتبہ پھر پارہ چنار روڈ کے مسئلے کو اجاگر کیا۔حکمران ، سیاستدان ،سیکورٹی فورس اور گرینڈ جرگہ ابھی تک لوگوں کو یہ نہیں بتا سکا کہ پشاور سے پارہ چنار تک کے درمیانی علاقے پر کس کا قبضہ ہے؟۔کیا ریاست کے اندر کوئی دہشت گرد گروہ اتنا قوّی ہے کہ پاک آرمی اُس سے ایک روڈ بھی  آزاد نہ کرا سکے؟
اس خدشے کو  اس وقت اور بھی تقویّت ملی جب ۱۶ جنوری ۲۰۲۵ کو بگن میں کئی دہشت گرد جتھوں  نے  پارا چنار جانے والے سرکاری اہلکاروں پر حملہ کیا۔  انہوں نے  کئی ٹرکوں سے اربوں کا سامان لوٹا، گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا، متعدد حکومتی ملازمین  نیز ٹرک ڈرائیورز اور گاڑیوں میں موجود لوگوں کو شہید، اغوا اور لاپتہ کر دیا۔
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ پارہ چنار کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک دو سال کا معاملہ نہیں بلکہ کئی سالوں کا قصّہ ہے۔  پارا چنار کو شیعہ علاقہ کہہ کر  لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والے مسافروں کے مطابق اب کوئی مانے یا نہ مانے پشاور سے پارہ چنار کے درمیانی  علاقے میں دہشت گردوں کی جنت "ایک الگ ریاست " کا  روپ دھار چُکی ہے۔
ذیشان حیدر ضلع کرم پارہ چنار سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک اُستاد ہیں اور عوامِ علاقہ انہیں ماسٹر ذیشان حیدر کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے علاقے کا رہنے والا ہوں کہ جو قدرتی حُسن سے تو مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سےبدامنی کا شکار ہے۔یہ بدامنی قیامِ پاکستان سے چلی آ رہی ہے اور ایسی بدامنی ہے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ یہاں کچھ چیزوں کو بطورِ ٹول استعمال کرکے ضلع کرم کو مسلکی جنگ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔  خاص کر زمینی تنازعات کے سلسلے کو۔۱۹۶۲ پھر ۱۹۷۲اور ۱۹۸۷ میں اور پھر ۲۰۰۷ میں اہالیانِ  ضلع کُرم پر ظلم کی انتہا کی گئی۔اس کے بعد ۲۰۱۲ تک اس علاقے کو سارے پاکستان سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا گیا۔ یوں چار سال تک پارہ چنار کو ریاستِ پاکستان سے جدا رکھنے کا تجربہ کیا گیا۔
اس دوران مقامی آوازوں کو دبانے کیلئے پارا چنار میں مسلسل خود کش حملوں کا سلسلہ شروع  ہوا اور پاکستانی قوم کو خود کُش دھماکے تو نظر آتے رہے لیکن لوگ اس بات سے غافل رہے کہ پارہ چنار اس وقت ریاستِ پاکستان سے کٹ چکا ہے۔
اگر آپ پارہ چنار کے مقامی لوگوں سے گفتگو کریں تو مقامی لوگوں کی گفتگو  سے واضح ہوتا  ہے کہ گویا ملک میں کسی ٹیبل پر  پارہ چنار کو پاکستان سے کاٹ کر  افغانستان کی گود میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے ۔مقامی لوگ اس واقعے کو نہیں بھول سکتے وہ  کہتے ہیں کہ جب ہمیں سارے پاکستان کو کاٹ کر علیحدہ کردیا گیا تو ہم  نے  اس مشکل وقت میں اپنے ملک کو بھی بچانا تھا اور اپنی زندگیوں کو بھی۔ ہمارے پاس سوائے مظلومانہ احتجاج کے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم نے انتہائی مشکل حالات میں ملک دشمن سازشوں کا صبر اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔
ماسٹر ذیشان کے مطابق ۲۰۲۱   تک ہم نے ملک دشمن عناصر کی ساری سازشوں کو خاک میں ملا دیا ۔ چنانچہ زخم خوردہ عناصر نے  پیواڑ میں ایک جنگل کا تنازعہ کھڑا کیا۔ انہوں نے ۱۱ بندوں کو شہید کر کے ہمیں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی لیکن ہم پہلے سے ہی دشمن کی سازشوں کو پہچان چکے تھے۔ اس ناکامی کے بعد  شکست خوردہ ذہنیت نے تری منگل سکول میں اُستادوں کو شہید کر دیا۔  چار اساتذہ اور تین مزدوروں کو دن دیہاڑے کلہاڑیوں اور چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا گیا۔ یہ شہادتیں بھی وطنِ عزیز پاکستان کے ساتھ ہماری وفاداریوں کو تبدیل  نہ کر سکیں۔ میڈیا اور سرکاری ادارے یہاں بھی  اصل حقائق پر پردہ ڈالنے سے باز نہیں آئے۔ 
ماسڑ ذیشان کی بات جاری رہے گی تاہم راقم الحروف کے مطابق مسافروں، مہمانوں،  اپنے اُستادوں اور محسنوں کو قتل کرنا پختونوں اور اہلِ سُنّت کی اخلاقی و سماجی  اقدار کے خلاف ہے۔ماسٹر ذیشان  اپنی رُندھی ہوئی آواز  میں کہتے ہیں کہ سرکار نے اساتذہ کے  قاتلوں سے قصاص نہیں لیا ۔ یہ خود بخود  ریاست کی کمزوری اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ اس کے بعد  ریاست کی کمزوری عیاں ہو گئی اور دہشت گردوں کی طرف سے عام عوام کا مسلسل قتلِ عام شروع ہوا اور  گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں لوگ  اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔  ان کی گفتگو سے عیاں تھا کہ اگر ریاست کا بس چلتا تو ریاست یوں پارہ چنار کے ننھے منے بچوں کو بھوک و پیاس اور غذائی قلت سے بلک بلک کر نہ مرنے دیتی۔
ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ چاہے شیعہ ہیں یا اہلِ سُنّت دونوں ہی مظلوم اور بے گناہ ہیں اور دونوں کو ہی بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ ماسٹر صاحب کی باتوں سے یہ  تلخ حقیقت  جھلک رہی ہے کہ ۲۱ اکتوبر ۲۰۲۴ سے اب تک پشاور سے پارہ چنار کا  درمیانی علاقہ  ایک مرتبہ پھر ریاستِ پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس وقت  پارہ چنار کے لوگ خود اپنی سرزمین کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن اس کے ارد گرد دہشت گردوں   اورطالبان نیز  افغان فورسز کی رِٹ قائم ہے۔
دوسری طرف ہمارے نزدیک یہاں پر یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ افغانستان پر  طالبان  کا قبضہ  ہوتے ہی  افغان بارڈر  پر سرحدی کشیدگی اور تناو میں نیز بلوچستان لبریشن آرمی  اور پاکستان کے اندر بھی  طالبان و طالبان نواز  دھڑوں کی سرکشی میں  خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں افغان حکومت کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے یہ نیا ثبوت پیش کیا ہے کہ  اسی ماہ ۱۱ جنوری کو بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں ہونے والی دہشت گردی میں محمد خاں احمد خیل ولد حاجی قاسم  ملوث تھا کہ جو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع وزیر خوا کے گائوں پلورائی کا رہائشی تھا۔ ۲۰ جنوری  ۲۰۲۵کو  اس دہشت گرد کی لاش افغان حکومت کے حکام کے حوالے کر دی گئی۔ یہ  پاکستان میں افغانستان کی مداخلت کا ایک تازہ ثبوت ضرور ہے  لیکن پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کے پیچھے افغان دہشت گرد ملوث پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں مقیم طالبان نواز دہشت گرد اور سرکاری سہولتکار افغان دہشت گردوں کو ہر طرح کا تعاون فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے متعدد علاقوں خصوصا پشاور سے پارہ چنار کے درمیانی علاقے پر ریاست کی رِٹ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
سرکاری ترجمان کے مطابق اس وقت بھی لوئر کرم  کے  مقبوضہ  علاقے میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، دن بھر گن شپ ہیلی کاپٹر کی پروازیں جاری رہیں، آپریشن کل بھی جاری رہے گا۔۔۔حقیقتِ حال یہ ہے کہ اس منطقے میں  اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے بجائے اصل  مسئلہ ریاست کی رِٹ کا ہے جو کئی سالوں سے ریاست کھو چکی ہے۔ خود کش دھماکوں کی مانند غذائی قلت اور مسافروں پر حملے، قافلوں کی لوٹ مار جیسے مسائل دراصل ریاست کی کمزوری کی کھلی  دلیل ہیں۔
ہماری ملت پاکستان سے یہ گزارش ہے کہ کمزور اذہان کیلئے غوروفکر کرنا اُسی طرح مشکل ہے جیسے کمزور  کندھوں کیلئے کسی بھاری بوجھ کو اٹھانا۔  ریاست کا بوجھ کمزور  اور تنگ نظر افراد نہیں اٹھا سکتے۔  کسی بھی تنگ نظر  شخص  کو آپ جتنے بھی حکیمانہ مشورے دیں وہ اُن سے خیر کے بجائے شر ہی پھیلاتا ہے چونکہ وہ اپنی سوچ کے مطابق ہی آپ کی باتوں کی تفسیر کرتا ہے۔لہذا ہمیں قومی مسائل کو افغانستان کے سہولتکاروں، مفاد پرست عناصر، ریاست کے دشمنوں،   ضِدی،  ہٹ دھرم، متعصب اور تنگ نظر افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔پارہ چنار کو  بار بار ریاست سے کاٹنے کا تجربہ کبھی بھی دانشمندانہ  نہیں ہو سکتا۔  یہ وقت ہے کہ ہم اس حماقت کی نشاندہی کریں۔ اہالیانِ پارہ چنار  نے برسوں کے محاصرے کے باوجود  دہشت گردوں سے شکست نہیں کھائی لیکن باقی سارا پاکستان  دہشت گردوں سے پارہ چنار کو واپس لینے میں شکست کھا چکا ہے اور بحیثیتِ پاکستانی  ہمارے لئے یہ بہت خوفناک سچائی ہے۔ اس سچائی کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت سارے پاکستان میں صرف پارہ چنار آزاد ہے۔ باقی ہم سب دہشت گردوں کے آگے فکری طور پر مغلوب ہو چکے ہیں۔




 


بدھ، 22 جنوری، 2025

فنِّ مطالعہ


کاوشِ فکر: عارف بلتستانی:
مطالعے کی بھی اقسام ہوتی ہیں۔ گزشتہ شب اپنے استاد جناب نذر حافی صاحب کا ایک خوبصورت کالم ”مطالعہ کے نام پر مطالعہ ہی کیجئیے“ پڑھنے کا موقع ملا۔  انہوں نے بہت سادہ اور آسان الفاظ میں مطالعہ کرنے کے بارے میں مفید نکات بیان کئے ہیں۔ مطالعے کی اقسام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر مطالعہ کرنے کی دو اقسام ہیں:  ایک : عام مطالعہ یا مطالعہ برائے مطالعہ (casual reading) : ایسا مطالعہ جسے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے اخبارات و جرائد، ڈائجسٹ و کہانیاں اور روز مرّہ کی خبریں، مضامین اور کالمز وغیرہ۔ یہ مطالعہ مختلف جہتوں سے مفید ضرور ہوتا ہے، لیکن 
اس کی بنیاد پر آپ کوئی علمی کام انجام نہیں دے سکتے۔ 
دو : سنجیدہ مطالعہ (serious reading) مطالعہ برائے تو لیدِ نظریات: ایسا مطالعہ جسے حافظے میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب انسان چاہے اسے اپنی ذاتی یادداشت میں محفوظ کرے یا کسی کاپی یا ہارڈ ڈسک میں۔ سنجیدہ اور تولیدی یا پیداواری مطالعے کے کچھ لوازمات ہیں، جن کی رعایت کر کے ہم اپنے مطالعے سے تو لیدِ علم کا کام لے سکتے ہیں ”
  راقم الحروف کو مطالعے سے خاص شغف ہے۔ اس کی خاص وجہ شہداء کے حالاتِ زندگی سے دلچسپی  اور کچھ خاص کتاب دوست، احباب ہیں۔ ساتھ ساتھ  کچھ اساتذہ بھی ایسے ملے جو لکھنے لکھانے، سیکھنے سکھانے اور پڑھنے پڑھانے پر زور دیتے تھے اور دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مطالعے کی افادیت پر مجھے بھی  ایک کالم لکھنے کا موقع ملا۔ اس کالم  میں  میں نے اس غرض سے مطالعے کی اہمیت اور افادیت پر قلم اٹھایا ہے کہ ہمیشہ چراغ سے چراغ جلتے رہنا چاہیے۔
اس سوشل میڈیا اور اے آئی کے دور میں کسی کے پاس کتابوں کے  مطالعے کے لئے ٹائم ہی کہاں ہے۔ وقت ملے بھی تو ٹِک ٹاک ،   ایکس، انسٹا، فیسبک، واٹس ایپ  پر ہی ساراوقت  گزر جاتا ہے۔ بعد ازاں انسان  ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے  کہ مطالعے کے لئے وقت نہیں بچا۔ جو لوگ شادی شدہ ہیں یا جاب پر جاتے ہیں وہ بھی مطالعے کی عادت سے دور رہنے میں مثتثنی نہیں۔
سو میں نے  سوچا کہ کیوں نہ اپنے قلمی دوستوں کو  یہ بتا دوں کہ اگر  آپ لوگ واقعی میں مطالعہ کرنا چاہتے ہیں  تو آپ کے ہاتھ میں موجود یہی موبائل بھی ایک  بہترین کتاب ہے۔ ابھی ایسی ایسی آڈیو بکس  ایپ موجود ہیں، جن کے ذریعے  آپ اپنے من پسند موضوعات پر مشتمل کتابوں کو چند گھنٹوں میں با آسانی  سن سکتے ہیں۔آپ راستہ چلتے ہوئے کنسٹریشن (تمرکز) کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ جس زبان میں آپ سن رہے ہیں اس کا بہترین لب و لہجہ اور ذخیرہ الفاظ کا ایک سمندر  ان ایپس کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
میرے مطابق شروع میں داستان، ناولز، کہانیاں، افسانے خاص کر شہداء کے حالات زندگی بہترین انتخاب  ہیں۔ جب کتاب سننے کی عادت ہو جائے تب آسانی سے اپنے موضوعات کی کتابوںاو  فن و ہنر کی کتابوں کو سننا شروع کریں اور وقت ضائع ہونے سے بچائیں۔ جو وقت کو ضائع کرتا ہے وقت  بھی اسے ضائع کردیتا ہے۔
آپ قارئین کی خدمت میں آڈیوز کتابوں کی ایک فہرست پیشِ خدمت ہے۔ آپ پلے سٹور یا ایپ سٹور سے ڈانلوڈ کریں اور اپنی من پسند کتابیں سنیں اور وقت کے ساتھ چلیں۔ Taaghche، Audible، Audiobooks، Fidibo، Play Books، Kindle، Libby، Online Bibiotheek، Read and Listen book، PocketBook Libby، Oodles book، Kobo books
arifbaltistani125@gmail.com

مسلمانوں کا علمی روگ


ڈاکٹر نذر حافی:
جب بھی کوئی منصف مزاج انسان مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو ششدر رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر روگ کا علاج ہے البتہ شاید علمی روگ کا کوئی علاج نہیں ۔ خصوصاً جب کوئی ملت اپنے علمی روگ کو ہی مقدّس سرمایہ سمجھ بیٹھے۔ آئیے اپنے علمی روگ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ اس کیلئے ہمیں چند سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے ہونگے۔ کیا سُنّت رسول کو ترک کرنے کا آغاز حیاتِ پیغمبر میں ہی ہوچکا تھا؟ 
جب سُنّتِ رسول، قرآن مجید کی تفسیر ہے تو پھر کیا کسی اور کی تفسیر قرآن کی جگہ لے سکتی ہے؟
 کیا صدرِ اسلام میں  ایسا ہوا ہے کہ خود مسلمانوں نے  ہی  اپنے رسول ؐکی احادیث کو لکھنے پر پابندی لگا دی  تھی۔؟
 اگر صدرِ اسلام  میں ایسا ہوا ہے تو  احادیث کا یہ علمی خلا ہمارا مقدّس  سرمایہ ہے یا ہمارا خسارہ؟ 
سب سے پہلے یہ تو طے کیا جائے  کہ نبی اکرمؐ سے جو بھی قول، فعل اور تقریر کی صورت میں صادر ہُوا اُسے سُنّت مانا جاتا ہے یا نہیں؟
نبی ؐ کا قول اور فعل تو ہمارے عرف کے مطابق  سُنّت ہی ہے لیکن تقریر سے مراد وہ نہیں، جو ہمارے ہاں لغت یا عرف کے مطابق ہے بلکہ اصطلاحِ علمِ حدیث میں تقریر سے مراد ایسا فعل ہے، جو رسولؐ کے سامنے کیا گیا، مگر رسولؐ نے نہ تو اِس کے کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا بلکہ اِس پر سکوت فرمایا۔
 رسولؐ کا قول، فعل اور تقریر دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ یعنی قرآن مجید کی جو تفسیر نبی اکرمؐ نے کی، اُسے سُنّت کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج امرِ پروردگار ہمارے پاس قرآن مجید اور سُنّت رسول کی شکل میں موجود ہے۔ ہمیں فراخدلی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ سُنّت رسول درحقیقت تفسیر قرآن ہے۔ چنانچہ دینِ اسلام میں خدا کے امر کو بندوں تک پہنچانے کیلئے جو اہمیت قرآن مجید کی ہے، وہی سُنّت رسول ؐ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی علوم میں بطورِ منبع قرآن مجید کے ساتھ سنّتِ رسول کا ہونا لازمی امر ہے۔
یہ کسی ایک اسلامی فرقے کا منہج نہیں بلکہ اس پر قرآنی نصوص موجود ہیں کہ اُمّت پر سُنّت رسول کی پیروی لازم ہے اور سُنّت رسول دراصل عملی قرآن ہے۔ سُنّت رسول کی پیروی اور اطاعت پر تاکید کرنے والی صرف چند آیات ملاحظہ فرمائیں: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَهًْ حَسَنَهًْ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّهَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّهَ کَثِیرًا(احزاب، آیه ۲۱) تم میں سے اس کیلئے رسول اللہ بہترین نمونہ عمل ہیں، جو اللہ اور قیامت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔ قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّهُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ. قُلْ أَطِیعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِینَ(آل عمران، آیات 31 و ۳۲) کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا -وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘‘ ( حشر:۷) اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں، وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں (اس سے) باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔ اگر سُنّت رسول کو اُس کے حقیقی مقام کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر مان لیا جائے تو اس کے مندرجہ زیل دو بنیادی فوائد ہیں:
۱۔ قرآن مجید کا درست فہم: اپنی اپنی آرا اور اپنے اپنے اکابرین کی باتوں کے بجائے سُنّت رسولؐ کو قرآن کا ماخذ بنانے کا نتیجہ قرآن مجید کا درست فہم ہے۔ یہی درست فہم ہر انسان کی نجات کیلئے ضروری ہے
۲۔ مسلمانوں میں وحدت: جب مسلمان اپنی آرا اور ذاتی مصلحتوں کے بجائے قرآنی مفاہیم کو سُنّت رسول سے سمجھیں گے تو یقیناً ان کے درمیان وحدت اور اتفاقِ رائے کو فروغ ملے گا۔ آج مسلمانوں میں انہی دوچیزوں کا فقدان ہے۔ ایک متنِ قرآن مجید کا درست فہم کیا ہے؟ اس پر مسلمانوں کا خود سے قطعاً اتفاق نہیں اور دوسرے تمام دینی، سیاسی اور سماجی مسائل بر بطورِ امت مسلمان ہرگز متفق نہیں۔ کہیں اس فقدان کی جڑیں سُنّت رسول ؐ سے منہ پھیرنے میں تو نہیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں جب تاریخِ اسلام پر نگاہ ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سُنّت رسول کو ترک کرنے کا آغاز حیاتِ پیغمبر میں ہی ہوچکا تھا۔ ایک عام مسلمان تو اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے لیکن جو مسلمان تحقیق کے ساتھ بات کرنے کا عادی ہے اس کیلئے حدیث قرطاس و قلم یا المیہ جمعرات ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
یہ سنہ 11 ہجری میں صفر کے مہینے کے آخری ایّام کی بات ہے۔ جب رسولِ خدا نے اپنی وفات سے صرف چار دن پہلے اپنی عیادت کیلئے جمع ہونے والے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ قلم اور دوات لاؤ، تاکہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جاؤ، لیکن اس وقت حضرت عمر بن خطاب نے کہا کہ “بیماری نے نبیؐ پر غلبہ پالیا ہے اور ہمارے لیے خدا کی کتاب کافی ہے۔” اپنی اہمیت کی وجہ سے یہ حدیث چھ مرتبہ بخاری شریف میں اور تین مرتبہ صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہے۔ ایک مقام پر اس کا متن کچھ یوں ہے:
ائتونى بکتاب اکتب لکم کتاباً لا تضلّوا بعده، قال عمر: إنّ النبىّ غلبه الوجع، وعندنا کتاب الله حسبنا، مجھے کاغذ کا ایک ٹکڑا دو، تاکہ میں تمہارے لیے وصیّت لکھوںم تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو جاؤ، حضرت عمر ؓنے کہا: نبی ؐپر بیماری غالب ہے، لہذا ﴿وصیّت کو چھوڑیں﴾ کتاب الٰہی! ہمارے پاس ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ اس وقت وہاں موجود صحابہ کرامؓ نے حضرت عمرؓ کے ساتھ جھگڑا شروع کیا، یہ جھگڑا اتنا شدید ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ﴿ قوموا عنی﴾ کہ اٹھو اور میری آنکھوں کے سامنے سے چلے جاؤ، میرے سامنے اس طرح جھگڑا کرنا یہ تمہیں زیب نہیں دیتا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بعد ازاں رو کر یہ کہا کرتے تھے کہ سب سے بڑی مصیبت اس وقت ہوئی، جب کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی تحریر کے درمیان کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیّت کو انہوں نے نہ لکھنے دیا۔ شاید ہی کوئی اس کا اندازہ لگا سکے کہ ایسا کرنے سے خود اللہ کے رسولؐ کو کتنا دکھ پہنچا ہوگا۔ بہر حال ایک محقق کے سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ رسول ؐ کی سُنّت و احادیث کو ترک کرنے کا رویہ خود زمانہ پیغمبر ؐ میں موجود تھا۔ اس کی متعدد مثالیں اور بھی موجود ہیں، جن میں سے ہم نے فقط المیہ جمعرات یا واقعہ قرطاس و قلم کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اہلِ بیت رسول ؐ کو نظر انداز کرکے سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کو تشکیل دینا بھی حضور نبی ؐ کی احادیث کو پسِ پُشت ڈالنا ہے۔ اگر اُمّت احادیث پیغمبر اور سُنّت پیغمبر کی اہمیت کی قائل ہوتی تو نبی ؐ کی وصیّت کو بھی لکھتی اور نبیؐ کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں جا کر اپنی رائے سے اُمّت کی قیادت کا فیصلہ کرنے کے بجائے نبیؐ کی سُنّت اور احادیث سے استدلال کرتی اور نبی ؐ کی احادیث کے مطابق اہلِ بیت رسولؐ کو مسئلہ خلافت میں کم از کم شریک تو کرتی۔ یہ سراسر احادیث رسول ؐ کو خاطر میں نہ لانا ہے۔
تاریخی و حدیثی شواہد کے مطابق صدرِ اسلام میں ہی مختلف مصلحتوں کی بنا پر احادیث اور سُنّت رسول سے منہ موڑ نے کا عنصر مسلمانوں کے ہاں موجود تھا۔ خلیفہ دوّم کے زمانے میں پہلی ہجری میں ہی سرکاری سطح پر منعِ تدوینِ حدیث کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ سرکاری طور پر اس منع تدوین حادیث کے مندرجہ زیل نتائج نکلے:
۱۔ حقیقی احادیث پر تو پابندی لگ گئی لیکن جعلی احادیث کا دروازہ کھل گیا۔
۲۔ قرآن مجید کی حقیقی اور نبوی تفسیر کے بجائے تفسیرکے نام پر اپنی رائے بیان کرنے کا آغاز ہوا اور اسے عروج ملا۔
۳۔ حدیث جو کہ درحقیقت قرآن مجید کی تفسیر تھی، بعد ازاں وہ خود محتاجِ ِ تفسیر ہوگئی۔
۴۔ احادیث کے بجائے اسلامی کتابوں میں داستانوں اور کہانیوں کو فروغ ملا۔
بہرحال حضرت عُمَر بن عَبدالعَزیزؓ (۶۳-۱۰۱ق) کے زمانے تک یعنی ایک سو سال تک جہانِ اسلام میں سرکاری سطح پر احادیث لکھنے پر پابندی رہی۔ اُس کے جو ثمرات نکلے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ آج احادیثِ نبوی قرآن مجید کی تفسیر کرنے کے بجائے خود محتاجِ تفسیر ہیں اور اب احادیث کی جانچ پرکھ اتنا مشکل فن بن چکا ہے کہ یہ عام مسلمان کے بس کا روگ ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر روگ کا علاج ہوتا ہے، لیکن شاید علمی روگ کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب کوئی ملت اپنے علمی روگ کو ہی اپنا علمی سرمایہ سمجھ بیٹھے۔ آخر میں پڑھے لکھے احباب کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ علمی خلا ایک روگ ہوتا ہے، اسے مقدّس نہ سمجھئے، اس کا درمان سوچئے۔ اس خلا کو مقدّس سمجھنا ثواب نہیں بلکہ اس خلا کو پُر کرنا ثواب ہے۔











منگل، 21 جنوری، 2025

کامیابی کا فارمولہ

نذر حافی:

ناکامی اور کامیابی دونوں کے پیچھے اسباب و عوامل ہوتے ہیں۔اسباب و عوامل سے غفلت کوئی معمولی غفلت نہیں ۔ کامیاب ہونے کیلئے ناکامی کے اسباب سے دوری ناگزیر ہے۔اس دوری کے بعد اگلے مرحلے میں کامیابی کے اسباب پر تمرکز اشخاص  کو ایک واضح سمت میں سرعت کے ساتھ  آگے بڑھاتا ہے۔ناکامی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ویژن ، پالیسی اور مشن کے بغیر تحرّک ہے۔ 



 ایک مضبوط ویژن کو معیاری منصوبہ بندی اور  معیاری منصوبہ بندی کو ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔  جب کوئی ٹیم ایک بڑے ویژن کی خاطر کی جانے والی اسٹینڈرڈ پلاننگ کو مضبوطی سے اپنا لیتی ہے تو  وہ  پلاننگ” مشن” بن جاتی ہے۔
انسانی عقل کا دستور یہ ہے کہ کسی بھی میدان میں کامیابی کیلئے انسان  کی تمام کوششوں کو ایک نکتے پر متمرکز ہوجانا چاہیے۔انسان جس نکتے پر متمرکز ہوجاتا ہے اور اُس پر  اپنے حواسِ خمسہ کو مرکوز کر لیتا ہے وہی انسان کا  ویژن  ہوتا ہے۔ وہ ایک نکتہ جتنا واضح اور روشن ہوگا ، انسان کے حواسِ خمسہ اُس پر اُتنے ہی مرکوز رہیں گے۔ ایسے نکتے کو دین کی زبان میں توحید کہتے ہیں اور   ٹیم میں وحدت کے اس عمل کو  اتحاد کہتے ہیں۔ جس انسان کے پاس ویژن نہیں ہوتا ، اُس کی کوششیں پراگندہ اور معمولات زندگی منتشر ہوتے ہیں۔ پس کسی بھی فرد یا تنظیم کے مستقبل میں مقام اور  سمت کو “ویژن” طے کرتا ہے۔ہمیں اعتراف ہے  کہ  انسان مستقبل کیلئے  خواب بھی  دیکھتا ہے۔ تاہم خواب اور ویژن میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ خواب کیلئے کوئی شخص سخت محنت نہیں کرتا اور اپنے آرام و سکون  نیز جان و مال کی قربانی نہیں دیتا جبکہ ویژن کیلئے ایک شخص ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے آمادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح خواب کا تعلق جذبات و احساسات سے ہوتا ہے جبکہ ویژن کا تعلق سنجیدگی، اہداف اور منزل سے ہوتا ہے۔
خواب دیکھنے والے افراد عموماً باتونی، جذباتی اور سُست مزاج کے ہوتے ہیں جبکہ اپنے لئے ویژن  طے کر لینے والے افراد  سنجیدگی کے ساتھ اپنے تمام اعضاوجوارح کے ہمراہ اپنی منزل کی طرف حرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
خواب دیکھنے والے افراد کیلئے ناکامی اور کامیابی تقریباً برابر ہوتی ہے۔ ناکام ہونے پر وہ آسانی کے ساتھ اپنی فیلڈ تبدیل کر لیتے ہیں جبکہ ویژن والے افراد کامیابی کیلئے مرکھپ جاتے ہیں اور ناکامی کی امکانی صورت کے پیشِ نظر بی پلان، سی پلان۔۔۔ رکھتے ہیں۔یہ واضح ہے کہ کسی بھی ادارے، تنظیم یا گروپ کے ممبران کو  خواب کے بجائے  ویژن متحد کرتا ہے اور ٹیم ورک کو فروغ دیتا ہے۔
ویژن طے کرنے کے بعد اہداف کا تعین کیا جانا ضروری ہے۔کچھ اہداف مختصر دورانئے کے لئے ہوتے ہیں  اور کچھ طویل مدت کے لئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ عارضی اور وقتی اہداف ہوتے ہیں اور کچھ پائیدار اور دائمی۔

اہداف طے کرنے کے بعد ویژن اور اہداف کے حصول کیلئے ایک جامع  حکمت عملی یا لائحہ عمل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسی حکمت عملی تدریجی ، مرحلہ وار، لچکدار اور تفصیلی ہونی چاہیے۔اس کے ساتھ ہی اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہنی چاہیے۔
ایک بہترین منصوبہ بندی وہ ہوتی ہے  جس میں سب سے پہلے طویل مدتی اور مختصر  مدت کے اہداف کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ہر ہدف کے حصول کا وقت مقرر کریں۔  اسی طرح سب سے زیادہ اہم اہداف کو اولویّت میں رکھا جانا چاہیے۔اولویّت طے کرنے کے بعد اُن سرگرمیوں  کا ذکر اُن کے انجام دینے کے اوقات کے ساتھ کیا جاتا ہے جنہیں انجام دے کر اہداف کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ہر ہدف کی مانند ہر سرگرمی کا وقت بھی معیّن کریں۔
پالیسی پر عملدرآمد کیلئے ایسی ٹیم بنائیں جو آپ کے ویژن سے متفق ہو اور جو آپ کے اہداف کی اہمیّت کو اچھی طرح سمجھتی ہو۔ایک مطلوبہ ٹیم صلاحیتوں کی درست تشخیص اور ویژن پر اٹل  اتفاق سے وجود میں آتی ہے۔ایک ٹیم کے لیے بہترین فرد کا انتخاب کرتے  ہوئے کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جو آپ کی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد اپنی مہارتوں میں اضافے کیلئے تگ و دو کرنے والا ہو۔ اُس کی مہارتیں آپ کی ٹیم کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔اُس میں اداب و احترام کے ساتھ  موثربات کرنے اور  آپ کے ادارے کے قانون کی اہمیت کو سمجھنے کی صلاحیّت ہونے چاہیے۔ایسا آدمی ٹیم کی اہمیت کو سمجھتا ہو اور اسے دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا آتا ہوا۔ دوسروں کی شکایات کے بجائے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ اور فعال ہو۔ ٹیم میں ایسے شخص کو لیں جو اپنی ذمہ داری کا بوجھ دوسروں پر نہ ڈالے، اور اس کے اپنے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ شروع سے ہی اپنے ویژن کے راستے میں مشکلات کو حل کرنے کیلئے سوچنے والے اور شکایات کو قانونی طور پر  دور کرنے والے خوش مزاج افراد کا انتخاب کریں۔
ایسے افراد آپ کی ٹیم کیلئے بہت مفید ہوتے ہیں جو آپ کے ادارے کی ترقی کے علاوہ اپنی ذات کے ارتقا کی خاطر سیکھنے ، آگے بڑھنے اور  ہر طرح کی ترقی کا عزم  رکھتے ہیں۔ایسا فرد ٹیم کیلئے بہت قیمتی ہوتا ہے جس کے کام کرنے کا انداز قانونی، اخلاقی اور منظم ہوتا ہے۔
ایک بہترین اور باصلاحیّت  ٹیم تشکیل دینے کے  فوائد میں سے چند ایک یہ ہیں کہ مختلف مہارتوں کے حامل افراد مل کر زیادہ مؤثر  انداز میں اپنے منصوبے پر عملدرآمد کر سکتے ہیں،  ایک مضبوط ٹیم کی مشترکہ کوششیں پیچیدہ  سے پیچیدہ مسائل کو  خوش اسلوبی سے حل کر دیتی ہیں۔اس کے علاوہ  ایک قانون کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے سے پروفیشنل  اعتماد بڑھتا ہے، جس سے کام کی کیفیت  اور معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹیم ورک کے دوران ایک دوسرے کو دیکھ کر قائدانہ صلاحیتوں، فیصلہ کرنے کی مہارتوں اور فعال رہنے کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے  ایک دوسرے کے علم اور تجربے  نیز عقل میں شرکت اور استفادے کا موقع ملتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سے  تقسیم کار کی بدولت کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اہداف کو حاصل کیا جاتا ہے، جس سے شخص اور ادارہ دونوں  تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔
آخر میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ عصر حاضر میں، علم کے معیارات، ایجادات کی میزان،  ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار اور جدید چیلنجز کے پیش نظر، ویژن، پالیسی، مشن اور ٹیم ورک  کو سمجھنےکی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کامیابی کے لیے ان چاروں عناصر کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ عناصر ایک ادارے کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ افراد کو ایک مشترکہ ٹیم کی شکل میں متحد بھی کرتے ہیں۔
ایک حقیقی اور مطلوبہ ٹیم میں مختلف مشورے، ہُنر، مہارتیں، خیالات، اور نقطہ نظر شامل ہوتے ہیں، جو کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ عصر حاضر میں جہاں چیلنجز پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، وہاں ٹیم ورک ان کی مؤثر انداز میں شناخت اور حل کے لیے ناگزیر ہے۔
جب  کسی ادارے کے ویژن   اور پالیسی کو  ایک مضبوط ٹیم مل جاتی ہے تو  یہ ایسے ادارے ایک طاقتور حقیقت بن جاتے ہیں ۔ ایک واضح ویژن  اور ٹھوس پالیسی کے تحت کام کرنے والی ٹیم زیادہ مؤثر، تخلیقی، اور مستقل مزاج ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مقاصد کو تیزی سے حاصل کرتی ہے ، بلکہ  دوسروں کیلئے بھی نمونہ عمل اور روشن  مثال بن جاتی ہے۔اس لیے، ہر فرد اور ادارے کو چاہیے کہ وہ ویژن ، پالسی اور ٹیم ورک  پر توجہ مرکوز کرے تاکہ وہ موجودہ دور کے چیلنجز کا حقیقی معنوں میں جواب دے سکے۔ ورنہ جو عمارتیں حالاتِ حاضرہ کی ضروریات پوری نہیں کرتیں  وہ آثارِ قدیمہ کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ ہمارے اردگرد بہت ساری ایسی جدید عمارتیں موجود ہیں جو صرف دیکھنے میں جدید ہیں لیکن در حقیقت آثارِ قدیمہ کا حصّہ ہیں۔

پیر، 20 جنوری، 2025

اسلام کا تعلیمی نظام

نذر حافی:

اس دنیا میں انسان ایک مسافر کی مانند حرکت میں ہے۔  جو اپنی منزل  تک پہنچے گا، وہی انسان کامیاب کہلائے گا۔ انسان کو اس کی منزل تک پہنچانے  کا واحد ذریعہ اسلامی تعلیم و تربیت ہے۔ انسان کو اس کی خلقت کے مقصد تک پہنچانے کیلئے، اللہ تعالیٰ نے کتابوں، معجزات اور روشن دلیلوں کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام کو مبعوث کرنے کے علاوہ انسان کو عقل، ارادے، اختیار اور علم جیسے وسائل بھی عطا کئے ہیں۔ اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جہلا کی تعلیم و تربیت کو علماء پر لازم قرار دیا ہے۔

اسلام کے نزدیک قابلِ اطمینان تعلیمی ادارے
 اسلامی تعلیمات کی رو سے ہر سکول اور مدرسہ نیز نظامِ تعلیم و تربیت قابلِ اطمینان نہیں۔ تعلیم و تربیت دینی ہو یا دنیاوی، اس وقت مطلوبہ اور قابل اطمینان ہوگی، جب وہ اسلام کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ بلاشبہ اتنی بڑی عمارت کی تعمیر سے پہلے ایک جامع منصوبے، مطلوبہ وسائل کے تخمینے اور درست نقشے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم مرحلہ اسلامی تعلیم و تربیت کے قواعد کی شناخت کا بھی ہے۔ بنیادی قواعد کو اصول بھی کہا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیم و تربیت کے قواعد
 ایسے قواعد اور اصول جن پر عمل کئے بغیر اسلامی تعلیم و تربیت ممکن نہیں، انہیں اسلامی تعلیم و تربیت کے مبانی بھی کہا جاتا ہے۔ اصول و قواعد اور منابع میں بھی فرق ہے۔ اصول و قواعد اُن ضوابط کو کہتے ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہماری دلیل تشکیل پاتی ہے اور ان اصولوں کو ہم جن مدارک سے اخذ اور مستند کرتے ہیں، انہیں منابع کہتے ہیں۔
اسلامی تعلیم و تربیت کا ہدف
ہدف کا مطلب مقصد ہے۔ کوئی بھی چیز جسے نشانہ بنایا جائے، اُسے ہدف کہا جاتا ہے۔ لیکن تعلیم و تربیت میں ہدف کا مطلب وہ آخری اور مطلوبہ صورتحال ہے، جس کا شعوری طور پر انتخاب کیا جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے مناسب تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں انجام جاتی ہیں۔ مسلمان دانشمندوں نے تعلیم و تربیت کے لئے مختلف اہداف کا تذکرہ کیا ہے، تاہم ایک مشترکہ ہدف جسے سعادت حقیقی اور کمال مطلق کہا گیا ہے، وہ قربِ خداوندی ہے۔ پس اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت میں کوئی انسان چاہے تجربی علوم پڑھے یا دینی متون، یہ علوم اُسے قربِ خداوندی تک پہنچانے کا وسیلہ ہیں اور اس جہت سے ان کے دینی و تجربی ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس فرق کا خاتمہ نظامِ تعلیم و تربیت کی حقانیت اور جامعیت پر منحصر ہے۔اب ہم اسلامی تعلیم و تربیت کے صرف تین جامع ترین اور اساسی اصولوں کو بطورِ نمونہ پیش کر رہے ہیں۔
اسلامی تعلیم و تربیت کے اصول:
۱۔ علمی اصول ۲۔ فلسفیانہ اصول ۳۔ دینی اصول
اب آیئے ان اصولوں کی شناخت اور اہمیت پر قدرے روشنی ڈالتے ہیں:
1۔ علمی اصول
ایک مربی کیلئے انسان کی تعلیمی و تربیتی ضروریات کا جاننا ضروری ہے۔ اُسے ضروریات کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ کون سے علوم اس ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔ ایسے علوم جو تعلیمی و تربیتی مقاصد کو پورا کرنے میں براہ راست استعمال ہوتے ہیں، وہ ایسے علوم ہیں جو انسانوں کی جسمانی اور ذہنی ضروریات سے بحث کرتے ہیں۔ لہذا تعلیم و تربیت کی موثر حکمت عملی کے تعین میں علمِ نفسیات سمیت دیگر معاشرتی علوم براہ راست مددگار ہیں۔ پس اسلامی نظام تعلیم و تربیت کو ان علوم کے قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہونا چاہیئے۔
۲۔ فلسفیانہ اصول
ایک مربی کے مطالعات میں یہ ہونا چاہیئے کہ انسان اپنے بارے میں، کائنات کے بارے میں، موجودات کے بارے میں، اپنے اور دیگر موجودات کے درمیان تعلق اور وجود میں آنے کے بارے میں ماضی میں کیا سوچتا رہا ہے اور حال و مستقبل میں اس کی سوچ کا دائرہ کہاں تک وسیع ہونے کا امکان موجود ہے۔ ہر شعوری تحریک اور مکتب کے پیچھے اُس کا مخصوص فلسفہ ہوتا ہے۔ فلسفے کی مختلف تشریحات اور تعریفوں سے قطع نظر علم فلسفہ ایسے موضوعات کی تحلیل کرتا ہے، جو تجربی سائنس کے دائرے میں نہیں آتے۔ فلسفی گہری عقلی روش یعنی عمیق اور لچکدار تنقید کے ساتھ کائنات کے بارے میں انسانی سوچ، افراد کے انفرادی و اجتماعی رویّوں نیز ان کے عمل و ردعمل کا منظم طریقے سے جائزہ لیتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ فلسفیانہ مکاتب کو سمجھے بغیر ہی کوئی شخص انسان کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائے اور وہ مطلوبہ اہداف تک بھی پہنچ جائے۔
تعلیم و تربیت کے لئے فلسفیانہ اصولوں کا جاننا اور ان سے عملاً استفادہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ فلسفیانہ اصول و قواعد مزید تین قواعد میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں:
الف:۔ اصول ِمعرفت، ب۔ شناختِ دنیا کا اصول، ج۔ شناختِ انسان کا اصول، د۔ اقدار کا اصول
الف: اصول ِمعرفت
تعلیم و تربیت کا مقصد ہی انسان کو ایک ہدف کی طرف لے جانا ہے۔ انسان کے ذہن اور دماغ کو سمجھے بغیر اسے اپنے ہمراہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس مقصد کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا انسان کے اردگرد کچھ ایسے حقائق بھی موجود ہیں، جو اس کی عقل میں نہیں سما سکتے؟ اگر ہمارا جواب ہاں میں ہوگا تو ہم ان حقائق کی معرفت کو حاصل کرنے کی جستجو کریں گے اور انسان کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہمارا تعلیمی پروگرام اُس شخص سے قطعاً مختلف ہوگا، جس کا یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ انسان کے دماغ میں آسکتا ہے، وہی حقیقت ہے اور اس سے ماوریٰ کچھ بھی نہیں۔
یہاں پر یہ جاننا ضروری ہے کہ معرفت اور شناخت کسے کہتے ہیں؟ معرفت کی شرائط اور لوازم کیا ہیں؟ کیا معرفت اور شناخت کے درجات اور اقسام ہیں؟ کیا معرفت گھٹتی اور بڑھتی ہے؟ کیا حقائق کے بارے میں سب افراد کو یکساں معرفت حاصل ہوسکتی ہے؟ کیا معرفت کو باطل بھی کیا جا سکتا ہے؟ معرفت اور شناخت کے حصول کے وسیلے کون سے ہیں؟ استاد، کلاس، مراقبہ، کتابیں، تجربہ، شہود، الھام، وحی۔۔۔ ان میں سے کونسا وسیلہ کس انسان کیلئے کن حالات میں کارآمد ہوتا ہے؟ کیا معرفت کو ایک مقام یا ظرف سے دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے؟ معرفت کا ڈھانچہ کیسا ہے؟ معرفت کی ماہیت مفرد ہے یا مرکب؟ یعنی معرفت بذات خود ایک مستقل علم ہے یا دیگر علوم سے مرکب ہے؟ انسان کی معرفت کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟
کیا انسان اس جہان کے علاوہ کسی اور جہان کی معرفت اور شناخت بھی حاصل کرسکتا ہے؟ کسی کے بارے میں معرفت کا کیا مطلب ہے؟ کیا معرفت سچی اور جھوٹی بھی ہوسکتی ہے؟ ہمیں کسی چیز کی معرفت ہو یا نہ ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تعلیم و تربیت میں معرفت اور شناخت سے کیا مراد ہے۔؟
 انسانی ذہن کو ایک ہدف تک پہنچنے کیلئے ایسے ہزاروں سوالوں کے جوابات چاہیئے ہوتے ہیں۔ معرفت اور شناخت کے اصولوں سے آگاہی کے بغیر انسان کو کسی قسم کی جامع اور حقیقی معرفت عطا نہیں کی جا سکتی اور حقیقی معرفت کے بغیر انسان اپنے حقیقی ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس تعلیم و تربیت کے مربی کو معرفت کے اصولوں سے آگاہ ہونا چاہیئے۔
ب۔ شناختِ دنیا کا اصول
شناختِ دنیا کا اصول، اسے جہان بینی بھی کہا جاتا ہے۔ انسان اس دنیا کی مخلوق ہے، نسل انسانی کی حیات، بقاء اور ارتقاء کیلئے انسان مجبور ہے کہ اس جہان اور دنیا کو اچھی طرح پہچانے۔ دنیا کے بارے میں اس کے نظریات واضح اور روشن ہونے چاہیئے۔ اس سلسلے میں دانشمند مختلف آراء رکھتے ہیں، کچھ دنیا کو مادے کے علاوہ ایک روحانی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اس جہان کے اعتبار سے روح اور مادے کے اختلاط کے قائل ہیں۔ انہیں ہر ذرّے میں ایک روحانی توانائی جلوہ گر نظر آتی ہے۔ 
لہذا ان کے ہاں سائنس و مادہ اور تعلیم و تربیت سب کچھ روحانیت سے آمیختہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس کے برعکس، کچھ دانشمندوں کے نزدیک یہ جہان اور دنیا ایک مادی حقیقت ہے۔ ان کے نزدیک سائنسی علوم اور تعلیم و تربیت کو مادے اور اس کی مختلف حالتوں تک ہی محدود رہنا چاہیئے۔ ظاہر ہے یہ دو طرح کی سوچ دراصل دو طرح کے نظام تعلیم و تربیت کو جنم دیتی ہے۔ لہذا ایک مربی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تعلیمی منصوبہ بندی میں آئیڈیالوجی اور نظریات کو مبہم نہ ہونے دے، ورنہ مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہونگے۔
ج۔ شناختِ انسان کا اصول
اسلامی تعلیم و تربیت کے قواعد کی رو سے انسان کی تعلیم و تربیت سے پہلے خود اس کی اپنی شناخت ضروری ہے۔ آیا انسان فقط مادی جسم کا نام ہے یا یا وہ مادی بدن اور روح سے مرکب ہے؟ وہ صرف مادی جسم اور ضروریات رکھتا ہے یا اس کی ایک روح بھی ہے اور اس کی روحانی تعلیم و تربیت کی بھی ضرورت ہے؟ اپنے بدن کا تو ہر انسان کو شعور ہے لیکن کیا روح کی معرفت، شعور اور تعلیم و تربیت و ارتقاء بھی اس کیلئے ممکن ہے؟ 
جب ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ انسان کیا ہے تو پھر ہم اس کی تعلیم و تربیت کا بھی ٹھیک طریقے سے بندوبست کر پائیں گے۔ انسان کی شناخت ایک بہت ہی پیچیدہ موضوع ہے، انسان شناسی کی اصطلاح انسان کے وجود کے طول و عرض کی وضاحت کے لئے استعمال ہوتی ہے، کسی بھی تعلیمی نظام میں سب سے زیادہ اہمیت انسانی ادراکات کی ہے۔ کیونکہ تعلیمی نظام کے تمام اجزاء، بشمول تصورات، اہداف، اصول اور طریق کار، سب کا تعلق انسانی ادراک کے احوال اور طول و عرض سے ہے۔ انسان کے بارے میں درست شناخت کے بغیر ہم انسان کو کسی مقصد یا ہدف کی طرف حرکت نہیں دے سکتے، یعنی انسان کو جانے اور پہچانے بغیر اُسے اس کے ہدف تک پہنچانا ممکن نہیں، لہذا انسان کو جاننا اور اس کی خصوصیات کو پہچاننا تعلیم کی اساسی شرائط میں سے ایک ہے۔ انسان کے بارے میں ہمارا مشاہدہ اور علم جتنا گہرا ہوگا، اس کی تعلیم کے لئے منصوبہ بندی اتنی ہی معیاری، موثر اور اسے مقصد تک پہنچانا اتنا ہی آسان ہوگا۔
د۔ اقدار کا اصول
دینی اقدار اور سیکولر اقدار کا فرق انسان کی عملی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔ سیکولر اخلاق و کردار جلد اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاو کے علاوہ کچھ نہیں، جبکہ اسلامی اقدار میں انسان کا بااخلاق ہونا دراصل اس کا الِہیٰ تر ہونا ہے۔ الِہیٰ اور غیر الِہیٰ اقدار و اخلاق اور کردار کی شناخت بہت ضروری ہے، ایک مربی کیلئے اقدار کے منابع اور اقسام کو جاننا ضروری ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ اقدار و اخلاق اور اقدار کے حسن و قبح کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اگر مربی اقدار و اخلاق اور کردار کے استخراجی و استنباطی قواعد سے آشنا نہ ہو تو وہ مطلوبہ اخلاق و کردار کے حامل افراد بھی تیار نہیں کرسکتا۔ پس اسلامی نظام تعلیم و تربیت کی عمارت الِہیٰ اقدار کی شناخت اور اُن کی پرورش کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔
3۔ دینی اصول
انسان کے اہداف کا تعین دین کرتا ہے۔ ایک دیندار انسان اپنے لئے صرف اسی ہدف کو قبول کرتا ہے، جس کی تصدیق اس کا دین کرے۔ انسان کے ہدف کے تعین اور تصدیق کے عمل کو ہدایت کہا جاتا ہے۔ جو شخص توحید کی شناخت اور اس پر ایمان رکھتا ہے، وہ کسی طور بھی کسی مادی ہدف کیلئے اپنی زندگی کو صرف کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص ملحد اور سیکولر نظریات کا ہوتا ہے، وہ صرف اُسی کام کو انجام دیتا ہے، جس میں اُس کا مادی فائدہ ہوتا ہے۔ پس اسلامی تعلیم و تربیت کی منصوبہ بندی کیلئے دینی عقائد اور اصولوں کی پیروی کرنا اشد ضروری ہے۔
نتیجہ اور حاصلِ بحث:
درحقیقت اسلامی تعلیم و تربیت وہی ہے، جو انسان کو قربِ الِہیٰ تک پہنچائے، یہ تعلیم و تربیت چاہے دینی مدرسے سے حاصل ہو یا یونیورسٹی سے۔ ہم دینی مدارس اور یونیورسٹیوں سے اتنا بڑا اور عظیم ہدف تبھی حاصل کرسکتے ہیں، جب ہمارا نظامِ تعلیم و تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق درست اصولوں اور ٹھوس قواعد پر مبنی ہو۔ ان قواعد اور اصولوں کا استنباط، ان کی شناخت، تاثیر اور اہمیت پر بحث آج کے اسلامی معاشرے کی اوّلین ضرورت ہے۔


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...