زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 28 مارچ، 2025

عوام کو توہین اور اختلافِ رائے کا فرق سمجھائیں

عوام کو توہین اور اختلافِ رائے کا فرق سمجھائیں:
حافظ سید ذہین علی نجفی: 
حالیہ برسوں میں ہمارے معاشرتی تانے بانے میں ایک سنگین رجحان ابھرا ہے جس میں توہین کے نام پر انارکی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یہ رجحان تکفیری ذہنیت کا نمائندہ ہے، جو نہ صرف دین کے حقیقی فہم سے بے بہرہ ہے، بلکہ ان عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے جو ملک میں بدامنی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہاں پر یہ ضروری ہے کہ عوام کو توہین اور اختلافِ رائے  کا فرق  سمجھایا جائے۔توہین  کسی کو گالی دینا ہے جبکہ اختلاف رائے کسی کی رائے کو رد کرنا ہے۔  اختلافی رائے  ہر گز توہین نہیں ہوتی۔ اگر اختلافی رائے کو توہین  مانا جائے  تو پھر اسلامی کتب میں موجود تاریخی واقعات کو بھی توہین قرار دینا  پڑے گا۔  
عوام چونکہ اختلافِ رائے اورتوہین کے فرق کو نہیں جانتےاس لئے بعض عناصر ملک میں امن و مان کو پامال کرنے کیلئے  توہین کے نام پر عوام کے  مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور عوام کو مشتعل کر کے معاشرتی انتشار پیدا کرتے ہیں۔ یہ تکفیری ذہنیت اسلامی تعلیمات کے برعکس شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ قرآن مجید کی رہنمائی اس حوالے سے  ہمیں ایک مضبوط لائحہ عمل فراہم کرتی ہے یہ رہنمائی  قیامت تک ہماری  ہدایت کا ذریعہ ہے۔
قرآن میں ان لوگوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے:
"اور جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔" (البقرہ: 11-12)
یہ آیت اوراس جیسی کئی دیگر آیات  ہمیں بتاتی ہیں کہ بعض افراد جو خود کو اصلاح کنندہ سمجھتے ہیں، درحقیقت فتنہ و فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف حکمت و موعظہ حسنہ سے دعوت دینے کا حکم دیا ہے:
"لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت و موعظہ حسنہ سے، اور اگر بحث و مباحثہ ہو جائے تو بھی اچھے انداز میں بات کرو۔" (النحل: 125)اسلامی دعوت حکمت، نرمی اور احترام پر مبنی ہے، اور کسی بھی صورت میں تشدد یا شدت پسندی کی اجازت نہیں دیتی۔
تکفیری عناصر فوراً قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں  اور فردی طور پر فیصلہ سنا دیتے ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کی حاکمیت  کو اہمیت دی گئی ہے۔  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر کسی سے  کوئی جرم سرزد ہو تو اس کا فیصلہ ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ فردی طور پر۔لہٰذا، ضروری ہے کہ ہم قانون کے مطابق مسائل حل کریں اور اسلام کی اصل روح کو سمجھیں تاکہ معاشرتی استحکام متاثر نہ ہو۔
اسلام کی بنیاد عدل، حکمت اور صبر پر رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ (ص) اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دین کے نام پر انتشار کو فروغ دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ نرمی اور حکمت سے بات  کرنے پر متعدد احادیثِ نبوی  شاہد ہیں۔رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
"إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ"
نرمی جس بھی شے میں ہو، اسے حسن دے دیتی ہے، اور جس سے نکال دی جائے، اسے بے رونق کر دیتی ہے۔
امام علی (ع) فرماتے ہیں:
"الْحِلْمُ غِطَاءٌ سَاتِرٌ، وَ الْعَقْلُ حِصْنٌ حَامٍ، فَاسْتُرْ خَلَلَ خُلُقِكَ بِحِلْمِكَ، وَ قَاتِلْ هَوَاكَ بِعَقْلِكَ."
(بردباری ایک چھپانے والی ڈھال ہے، اور عقل ایک محفوظ قلعہ ہے۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
"إِيَّاكُمْ أَنْ تَقْضُوا عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ أَنْ تَسْمَعُوا مِنْهُ، فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حُجَّةٌ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"
(کسی پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اس کی بات ضرور سنو، ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل ہو جس سے تم بے خبر ہو۔)
پس ہمیں  نرمی، حکمت اور صبر کو اپنانا چاہیے اور شدت پسندی اور تکفیر سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تمام معاملات میں قانون،  اور عدل و  انصاف کے اصولوں کو مدنظر  رکھنا ضروری ہے۔ اختلاف کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ بات اورمعاملات کو سدھارنے کی سوچ کو فروغ دینا اسلام اور قانون کا  پہلا تقاضا ہے۔

جمعرات، 27 مارچ، 2025

دنیا کے تین جابر حکمران اور انسانیت کی سسکیاں

منظوم ولایتی:     
آج دنیا کی حالت عجیب ہے۔ افریقہ ہو یا ایشیا، یورپ ہو یا امریکہ ہر سو بے چینی کا راج ہے۔ امن و سکون گویا خواب ہو چکا ہے۔ جنگ کے طبل بج رہے ہیں، دھمکیوں کے تیر برس رہے ہیں، اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔  
اس وقت دنیا پر تین ایسے حکمران مسلط ہیں جن کے موڈ کا کوئی پلہ نہیں۔ ان کے لیے ان کی اپنی ہی بات "حتمی حکم" ہے۔ بڑے بڑے مفکرین حیران ہیں کہ انسانیت نے کون سا قصور کیا ہے جو یہ جابر حکمران اس پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مشاورت کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور اپنی انا کو ہی ریاستی پالیسی بنا لیتے ہیں۔  
ان تینوں کے نام ہیں:    مودی، نیتن یاہو اور ٹرمپ  ۔ یہ تینوں اپنی رائے کے سوا کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں۔ مودی کی فاشسٹ حکومت نے نہ صرف کشمیریوں، بلکہ کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں اور سکھوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔  
دوسری طرف، نیتن یاہو نے غزہ پر دوبارہ حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سینکڑوں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے فلسطینیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ یہ قتلِ عام تاحال جاری ہے، اور معلوم نہیں کہ اس کی انتہا کہاں ہوگی۔  

اور پھر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے "جرم" میں جنوبی افریقہ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا۔ لیکن نیلسن منڈیلا کی قوم نے کیپ ٹاؤن ہوائی اڈے پر اپنے سفیر کا شاندار استقبال کر کے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ         "مظلوم کی حمایت کرنا ہمارے لیے اعزاز ہے، نہ کہ شرمندگی!"         یہ جنوبی افریقہ کی انقلابی روایت ہے کہ وہ حماس-اسرائیل جنگ کے پہلے دن سے ہی فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے رہا ہے، حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف جیسے فورمز پر اسرائیل کو رسوا کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔  
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ فلسطین-اسرائیل جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی دنیا میں مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے والے بے خوف لوگ موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ظالم کے چہرے سے نقاب اکھاڑ پھینکا جائے اور انسانیت کو جنگ کی بجائے امن کی طرف لے جایا جائے۔  
یوم القدس آنے والا ہے—وہ دن جب دنیا بھر کے مظلوم اپنے گھروں سے نکل کر مستکبرین کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہماری پہچان  "ظلم ستیز" کے طور پر ہوگی یا پھر ہم خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔ حق کی بات ہر حال میں کہنی چاہیے، خاص طور پر یوم القدس کے موقع پر۔  
        بقول شاعر:          
ہم کل بھی سرِدار صداقت کے امیں تھے
ہم آج بھی انکار ِ حقیقت نہ کریں گے

یوم القدس صرف ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق

یوم القدس صرف ایک دن کا  احتجاج نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔جامعۃ  الرضا شعبہ تحقیق
رپورٹ: ریاض احمد مطہری  متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
جامعہ رضا کے شعبہ تحقیق کی جانب سے  یوم القدس  پر روشنی ڈالنے کیلئے  ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔  اس موقع پر  جامعۃ الرضا کے طلبا  نے  مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنےمطالعات کا خلاصہ پیش کیا۔  انہوں نے اپنے مطالعات میں عالمی اسلامی اتحاد، استعماریت کے خلاف جدوجہد، اور اسلامی نظریۂ مقاومت  کو بھی محور بنایا ۔  
بلاشبہ حضرت   امام خمینیؒ  نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو  یوم القدس  قرار دے کر صرف ایک احتجاجی دن ہی نہیں، بلکہ  مسلم اُمہ کی سیاسی بیداری اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی  کا ایک نظریاتی ڈھانچہ پیش کیا ہے ۔ چنانچہ یوم القدس کے روز ساری دنیا کے مسلمان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ مختلف انداز میں اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔  ایسا کرنا  نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، بلکہ بین الاقوامی انسانی اقدار اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج  حق خودارادیت  کے اصولوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔  یوم القدس کی اہمیّت پر روشنی ڈالنے کیلئے جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کے زیرِ اہتمام مجلسِ مذاکرہ میں مندرجہ زیل نکات اخذ کئے گئے:  
۱۔  بیت المقدس کی حفاظت  محض فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری مسلم اُمہ کا  دینی و اخلاقی فریضہ  ہے۔  
۲۔ فلسطین پر صہیونی قبضے اور اسرائیلی ظلم کے خلاف  علمی بصیرت، سیاسی اتحاد، اور مستقل مزاجی  سے کام لینا ضروری ہے۔  
۳۔ یوم القدس کا مقصد صرف مظلوموں کی ہمدردی نہیں، بلکہ  استعماری طاقتوں کے خلاف ایک منظم عالمی تحریک  کو فروغ دینا ہے۔  
۴۔  عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ قدس کی آزادی کا دروازہ یوم القدس ہے۔
۵۔    یوم القدس صرف ایک دن کا  احتجاج نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر  ایک نظریاتی تحریک ہے۔
نشست میں شرکانے کہا کہ یوم القدس ایک  علمی اور فکری تحریک  ہے جو اسلامی اصولوں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات، اور قانونی جواز کو یکجا کرتی ہے۔یہ  تحریک بین الاقوامی برادری  کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو صرف ایک علاقائی تنازعہ نہ سمجھے، بلکہ  انسانی حقوق کی عالمی جنگ  کے طور پر دیکھے۔ یوم القدس مسلمانوں کو ان کے  تاریخی اور تہذیبی ورثے  سے جوڑتے ہوئے،  ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے  کی ترغیب دیتا ہے۔  

فلسطین کا دکھ کون سمجھا ہے؟

 فلسطین کا دکھ  کون سمجھا ہے؟
ڈاکٹر نذر حافی:
سوچیں کہ اگر اچانک آپ کو  اپنے خوشحال اور ہنستے بستے   گھر سے بے دخل کر دیا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ اگر آپ کو  اپنے گھر سے نکال کر خانہ بدوش بنا دیا جائے اور آپ سے اپنے شہر گاوں اور علاقے میں  واپسی کا حق چھین لیا جائے تو پھر آپ کس  طرح صحراوں وبیابانوں میں زندگی بسر کریں  گے؟   جب ساری دنیا مل کر  آپ   کے گھر میں اجنبی لوگوں کو اور آپ کو بیوی بچوں سمیت   خیموں میں رکھنے  کا فیصلہ کر لے تو پھر  آپ اپنے بیوی بچوں اور اہلِ خانہ کے تحفظ کیلئے  کس سے مدد مانگیں  گے؟ کئی سالوں سے فلسطینی عوام  اسی درد کو جھیل رہے ہیں۔ کیا عرب ممالک  سمیت دنیا بھر کے سُنّی کہلانے والے ممالک نے اسرائیل کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک    فلسطینیوں کی  مایوسی، ناامیدی اور کسمپرسی میں اضافے کے سوا کچھ اور کیا ہے؟ 
ایسے میں وہ لوگ جو  عالمِ اسلام کو سُنّی وہ شیعہ کی نگاہ سے پرکھتے ہیں، وہ خصوصی توجہ فرمائیں!۔ کیا   اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے پاس یہ سنہری  موقع ہر لمحے موجود نہیں کہ ایران اپنے آپ کو مضبوط کرنے کیلئے  مذہبی ہم آہنگی کا نیا  اسرائیل نواز بیانیہ  پیش کرے۔ یعنی ایران یہ کہے کہ ہم نے عرب ریاستوں اور دنیا کے اہلِ سنّت ممالک کے ساتھ مل کر مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کی خاطر یہ مشترکہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم نئے فریم ورک میں فلسطین کے لیے    عسکری مزاحمت    کو ترک کر کے فقط    سفارتی حل    نکالیں گے اور اسرائیل اب  ایک زمینی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا اور اس کے ساتھ مل کر ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرنا ہم سب کے اور فلسطینیوں کے وسیع تر مفاد میں ہے۔  
کیا آج  ایسا بیانیہ تشکیل دینا ایران کیلئے کوئی مشکل کام ہے؟ خصوصاً اس وقت کہ جب عرب ممالک سمیت دنیا کے تمام اہل سنت ملک بشمول پاکستان اسی بیانئے کا پرچار کر رہے ہیں ، کیا اس وقت ایران    دنیا بھر کے شیعہ علما کے ذریعے ایسی فضا نہیں تیار کر  سکتا کہ اہلِ تشیع کے بچے بچے کی زبان پر یہ جملہ ہو کہ  "مسلمانوں  اور فلسطینیوں کے  وسیع تر مفادات میں اسرائیل کے ساتھ محدود تعاون جائز ہے"۔  
بھلا یہ ایران کیلئے کوئی مشکل کام ہے کہ وہ        شرعی  تقاضوں اور فقہی اجتہاد میں اپنے مفاد کیلئے  لچک  دکھائے؟  اس کام کیلئے ایران کو کوئی زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف حضرت   امام خمینی کے نظریہ ولایت فقیہ    کی جدید تشریح کرتے ہوئے بین المذاہب تعاون کو ترجیح  دینے کا کام کرنا ہوگا۔ ایران چاہے تو وسیع تر ایرانی و اسلامی  مفادات کا نام استعمال کر  کے ان مفادات  کی خاطر عارضی سفارتی لچک  کے جائز ہونے کیلئے رائے عامہ ہموار  کر سکتا ہے اور ایسا کرنا  ایران کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس سے  عرب ریاستوں سمیت دنیا بھر کے سُنّی ممالک، مکمل یورپی دنیا، امریکہ و اسرائیل نیز تبرّایی شیعہ بھی خوش ہو جائیں گے  اور ایران کی مقبولیّت میں یکدم بے پناہ اضافہ ہو گا۔یہ بیانیہ ساری اہلِ سُنّت دنیا میں  ایران کو سنی عوام میں    مذہبی طور پر  ایک معتدل ریاست  اور بھائی بھائی﴿ میٹھے میٹھے بھائی، اسلامی بھائی،  مکی بھائی، مدنی بھائی، تبلیغی بھائی، تحریکی بھائی، ۔۔۔﴾ ثابت  کرے گا۔
بات صرف اہلِ سُنّت کا میٹھا میٹھا بھائی بننے تک محدود نہیں بلکہ اس سے فوری طور پر ایران کی خلیجی ریاستوں نیز   پاکستان  و انڈونیشیا سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اقتصادی راہداریوں اور تجارت کوبے تحاشہ فروغ ملے گا۔ساری دنیا میں اہلِ تشیع کیلئے نرمی اورآسانیاں پیدا ہونگی، شیعہ مراجع کے بینک کاونٹس اسلامی ممالک سمیت تمام دنیا میں فعال ہونگے اور ایرانی اقتصاد و فلاح و بہبود کو ناقابلِ یقین عروج ملے گا۔بلاشبہ اس سے  ایران کی سعودی عرب و ترکی  کے ساتھ مفاہمت ہو جائے گی اور غیر مسلم دنیا تو پہلے ہی ایران کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کا اشارہ دینے کی منتظر ہے اس سے ایران پر    پابندیوں کا خاتمہ ہو گا۔ ایران کے  سیاسی و بین الاقوامی اثر و رسوخ،  داخلی خوشحالی، جی ڈی پی، تیل کی برآمدات،  توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں اضافہ ہو گا۔
 ایران چاہے تو صرف اپنے     العالم ، پریس ٹی وی  نیز  دنیا بھر کے شیعہ دینی مدارس کے چینلز ، منبر و محراب نیز سوشل میڈیا   کو استعمال کر کے انافانا  بڑےپیار اور محبّت سے وہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے جس کا دنیا کی تمام سُنّی ریاستیں   بشمول سعودی عرب و ترکی  آج تک صرف خواب دیکھ رہی ہیں۔ 
یہ ایران کیلئے کوئی مشکل مسئلہ نہیں کہ ایران جیوپولیٹیکل ری کیلکولیشن کیلئے   "شیعہ و سنی اتحاد" کو نئے سرے سے تشکیل دے ،  اس تشکیلِ نو میں فلسطین کے مسئلے کے    عسکری حل کو مکمل طور پر حذف کر دے،  مسلم ممالک کے درمیان    اقتصادی انضمام    پر زور دے، اور یہ سارا کام  حضرت  امام خمینی کے "ولایت فقیہ" کے نظریے میں موجود لچک کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے نام پر بڑے پیار سے ممکن ہے۔ اس کام کیلئے ایرانی  تھنک ٹینکس اپنے ہی ملک سے ابتدا کر سکتے ہیں۔  سیستان و بلوچستان میں  موجود اہلِ سُنّت کے دینی مدارس و مراکز کی وساطت سے الازہر یونیورسٹی    اور    جامعہ دیوبند     نیز سعودی عرب  کے سلفی مدارس  کے ساتھ ایسی مشترکہ کانفرنسز کا انعقاد  کروایا جا سکتا ہے   کہ جن میں اہلِ سُنّت علما اسرائیل کے تسلیم کئے جانے کے فوائد و ثمرات پر روشنی ڈالیں اور کچھ عرصے کے بعد  اس فضا کو ایران اہلِ سُنّت اکابرین کی تشخیص قرار دیتے ہوئے ان سے موافقت کے نام  پر اس فضا کو  اپنے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے بطورِ بہانہ  استعمال کرے۔  
سوچیں کہ اگر اچانک آپ کو  اپنے خوشحال اور ہنستے بستے   گھر سے بے دخل کر دیا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ اگر آپ کو  اپنے گھر سے نکال کر خانہ بدوش بنا دیا جائے اور آپ سے اپنے شہر گاوں اور علاقے میں  واپسی کا حق چھین لیا جائے تو پھر آپ کس  طرح صحراوں و  بیابانوں میں زندگی بسر کریں  گے؟   جب ساری دنیا مل کر  آپ   کے گھر میں اجنبی لوگوں کو اور آپ کو بیوی بچوں سمیت   خیموں میں رکھنے  کا فیصلہ کر لے تو پھر  آپ اپنے بیوی بچوں اور اہلِ خانہ کے تحفظ کیلئے کسے پکاریں گے؟کئی سالوں سے  فلسطینی عوام  اسی درد کو جھیل رہے ہیں۔  کیا عرب ممالک  سمیت دنیا بھر کے سُنّی کہلانے والے ممالک نے اسرائیل کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک    فلسطینیوں کی  مایوسی، ناامیدی اور کسمپرسی میں اضافے کے سوا کچھ اور کیا ہے؟  
جولوگ فرقہ واریت کی نگاہ سے ایران کو دیکھتے ہیں اور جو  ایران کو ایک شیعہ ملک کہتے ہیں اور ایران کے اسلامی انقلاب کو طنزاً  شیعہ انقلاب کہتے ہیں،انہیں ایران کی قدر اہلِ فلسطین سے پوچھنی چاہیے۔ انہیں یہ ماننا چاہیے کہ اگر فلسطینیوں کی خاطر  ایران ساری دنیا کی مخالفت مول لئے ہوئے ہے تو پھر   صرف ایران ہی شیعہ نہیں ہے بلکہ اسلام بھی شیعہ ہی ہے  چونکہ  دونوں کی بات، سوچ، فکر اور راستہ ایک ہی ہے کہ ظالم کی مخالفت کرو چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کی مدد و نصرت کرو خواہ  غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔جو افراد زیادہ تجزیہ و تحلیل نہیں کر سکتے انہیں بھی یہ نظر آ رہا ہے کہ کربلا سے لے کر فلسطین  تک اور حسین ابن علی ؑ سے لے کر سید حسن نصراللہ تک جہاں اسلام ہے وہاں ہی تشیع ہے۔  مسلمانوں کے درمیان اسلامی وحدت سے لے کر مسلمانوں کیلئے جان دینے تک اہلِ تشیع کا وہی موقف ہے جو اسلام کا موقف ہے اور موجود دور میں اپنے فلسطینی اہلِ سُنّت بھائیوں کیلئے سید حسن نصراللہ کی شہادت نے ایک مرتبہ پھر اسلام اور تشیع کے ایک ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے؟ کیا  عقل و شعور اور منصف مزاجی  کی کسوٹی پر ہم یہ سمجھنے کیلئے آمادہ ہیں کہ ایران کیا ہے؟

منگل، 25 مارچ، 2025

جامعتہ الرضا (ع) کے طلباء و اساتذہ کی اعتکاف کی سعادت سے بہرہ مند ی

رپورٹ حسن کاظمی:متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
اللہ کے فضل و کرم سے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جامعتہ الرضا (ع) کے  طلباء کے ساتھ ساتھ مدرسہ کے پرنسپل محترم  مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کو بھی اعتکاف کی عظیم سعادت نصیب ہوئی۔ یہ روحانی پروگرام 21 رمضان المبارک سے 23 رمضان المبارک تک جاری رہا، جس میں معتکفین نے مسجد میں عبادت، ذکر و اذکار اور قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہ کر اپنی روح کو تازگی بخشی۔  
اختتامی تقریب کے موقع پر جامعتہ الرضا (ع) کے دیگر طلباء و اساتذہ نے معتکفین کو مبارکبادپیش کی اور ان کی عبادت و ریاضت کرنے کے جذبے کو سراہا۔ یہ اعتکاف نہ صرف شرکاء کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنا، بلکہ پورے مدرسے کے لیے روحانی تجدید کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔  اس دوران طلبا و اساتذہ نے وطن عزیز پاکستان کی خوشحالی و ترقی ، تمام عالم بشریت کی فلاح و بہبود، خصوصا غزہ، فلسطین، کشمیر، اور یمن کے مظلوموں کیلئے دعائیں کیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام معتکفین کی قبولیتِ عبادت فرمائے اور آئندہ بھی جامعتہ الرضا (ع) کو ایسے مبارک پروگراموں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

پیر، 24 مارچ، 2025

عقیدہ امامت اورعقیدہ ختمِ نبوّت کا تعلق

ڈاکٹر نذر حافی:
ختم نبوت کے بعد ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانیت کو ہدایت کرنے کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے؟ کیا اب انسان کو رہنمائی کا کوئی ذریعہ میسر نہیں رہا؟  نبوّت تو ختم ہو گئی، اب کیا ہدایت بھی ختم ہو گئی ہے؟  یعنی کیا ختمِ نبوّت کا مطلب ختمِ ہدایت و ختمِ تعلیم و تربیّت بھی ہے؟ اگر ہدایت بھی ختم ہو گئی ہے تو پھر قیامت تک کے پیدا ہونے والے لوگوں کی ہدایت کون کرے گا؟  کیا جو لوگ ختمِ نبوّت کے بعد عقیدہ امامت کا انکار کرتے ہیں، اُن کے پاس  قیامت تک  انسانیت کو ہدایت فراہم کرنے کا خدا و رسولؐ کی طرف سے  کوئی  ایک  متفقہ،  مشترکہ ، مستند اور معتبر ذریعہ موجود ہے؟
کیا ہمیں نبیؐ کے بعد قرآن و حدیث کی درست تفسیر و تشریح معلوم کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ضرورت ہے تو پھرنبی ﷺ کے بعد شریعت کی ٹھیک علمی  تشریح اور اس پر عمل درآمد کے لیے  ایسا  کون ہے جسے خود رسولؐ نے اپنے عِلم کا جانشین اور وارث قرار دیا ہے؟جب نبی ؐ کے بعد ہمارے پیارے  نبیؐ کے علم کا جانشین ہی ہمارا امام نہیں ہو گا تو پھر  کیا معاشرے میں ہمارے نبی ؐکے علم  کے بغیر  عدل و انصاف  نافذہوگا؟ کیا عقل و منطق اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ  جس طرح کائنات کا ہر نظام ایک مرکز کے گرد گھومتا ہے، اسی طرح انسانیت کو بھی ایک مرکزِ ہدایت کی ضرورت ہے جو اسے گمراہی اور انتشار سے بچائے۔؟
آپ تھوڑی سی منصف مزاجی سے کام لیں اور اپنے ضمیر اور عقل کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیں ۔انسان کی فطرتِ سلیم یہ  گواہی دیتی ہے کہ ختمِ نبوّت کے بعد  امامت کا عقیدہ  صرف ایک مذہبی ضرورت ہی نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی، قومی، منطقی اور علمی ضرورت بھی ہے ۔یہ ضرورت انسان کو  ختمِ نبوّت کے بعد  درست  ہدایت و تربیّت  حاصل کرنے کیلئے بے چین کرتی ہے۔
صاحبان فکر و نظر بخوبی جانتے ہیں کہ ختم نبوت کا مطلب ہرگز ختم ہدایت نہیں ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ صرف یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، اور ان کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ تاہم ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا چونکہ قیامت تک بنی نوعِ انسان کو قدم قدم پر ہدایت کی ضرورت ہے۔  لہذا   ختمِ نبوّت کے بعد لوگوں کی ہدایت کا فریضہ سو فیصد اُنہی لوگوں کے سُپرد کیا ج سکتا ہے جو اس منصب کے حقیقی اہل ہیں۔ ختمِ نبوّت کے بعد امام  کا کردار  سو فیصد یہی ہے کہ وہ بغیر کسی غلطی ، کوتاہی یا بھول چوک کے  قرآن و سنت کی  درست تشریح کرے، دین کی حفاظت کرے، اور انسانیت کو راہِ راست پر گامزن رکھے۔ المختصر یہ کہ  امامت ہدایت کا وہ ذریعہ ہے جو ختم نبوت کے بعد انسانیت کوسو فیصد  گمراہی سے بچاتا ہے۔پس امامت کا بنیادی مقصد ختمِ نبوّت کو اُس کی حقیقی صورت میں باقی رکھتے ہوئے  دین کی حفاظت اور اسے نافذ کرنا ہے۔ امام صرف اور صرف  قرآن و سنت کی روشنی میں انسانیت کی رہنمائی و تربیّت  کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ رہنمائی  اور تربیّت حاصل کرنے کیلئے امام کی معرفت حاصل کرنا اور اُس کے مقام و مرتبے کو پہچاننا  ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اس معرفت اور پہچان کے بغیر  ختمِ نبوّت کے بعد امام کے گِرد  امت متحد نہیں ہو سکتی۔  
   چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں امامت کے تسلسل کو  متعدد آیات میں واضح کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:  
"اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعے حضرت ابراہیم کا امتحان لیا اور انھوں نے پورا کر لیا تو اللہ نے کہا: ہم تمہیں لوگوں کا امام بنا رہے ہیں۔" (سورۃ البقرہ)  
   قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں امامت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔جیساکہ ارشاد پروردگار ہے:"یوم ندعوا کل اناسٍ بامامہم" (اس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے)۔  
   اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "یكون اثنا عشراً امیراً" (میرے بعد بارہ امیر ہوں گے)۔ ان میں سے بارہواں امام حضرت امام مہدیؑ ہوں گے، جو زمین پر عدل و انصاف قائم کریں گے۔اس حدیث کی صداقت کا انحصار بھی نبی ؐ کے بعد بارہ آئمہ کے وجود پر منحصر ہے۔
یاد رکھئے کہ عقیدہ امامت کو نہ سمجھنے والے لوگ قیامت تک   قرآن و حدیث کی  کسی ایک تفسیر پر متحد نہیں ہو سکتے۔ اس عدمِ اتحاد کی بنایدی وجہ یہ ہے کہ   ختم نبوت کے بعد انسانیت کو  جس روحانی اور عملی رہنمائی کی ضرورت ہے  وہ قرآن و حدیث کی سو فیصد  درست تفسیر کے بغیر ممکن نہیں۔جب تک قرآن و سُنّت کی من مانی تفاسیر ہوتی رہیں گی نِت نئے مسائل اور اختلافات جنم لیتےرہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ نبی ؐ کو ختم النبین ماننے  والا ہر عقل مند انسان یہ ضرور سوچتا ہے کہ  نبی ﷺ کے بعد میرے لئے  کون ہدایت کا سرچشمہ ہے اور مجھے سو فیصد قرآن و حدیث کی درست تفسیر کون بتانے کا مجاز ہے؟
     یقیناً نبی ؐ کے بعد تمام  امور کو علم اور عدل و انصاف کے ساتھ  چلانے کیلئے ایک منسجم نظام کی ضرورت ہے ۔ یہ نظام دینِ اسلام کے اندر ہی موجود ہے اور اِسی نظام کے تسلسل کےطورپر  امام مہدیؑ کا ظہور ہوگا۔    زمین پر  علمِ نبویؐ اور عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کا مظاہرہ امام مہدی ؑ کے دور میں لوگ دیکھیں گے۔ ختمِ نبوّت کے بعد حضرت امام مہدی ؑ کا ظہور عقلی طور پر امامت و ہدایت کے  ایک منظّم   ارتقا، اور تسلسل کا نتیجہ ہے نہ کہ  اچانک کسی حادثے کا۔
ختمِ نبوّت کے بعد امامت کا سلسلہ دینِ اسلام کے اندر پہلے سے موجود ہے ، جس کا سب سے پہلا اعلان دعوتِ ذوالعشیر میں ہی کیا گیا تھا۔ اسلام کی پہلی دعوت میں ہی اس کا ذکر اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ  مسلمان کرپٹ، بدکار اور گنہگار ہونے کے بجائے  اپنی روحانی تکمیل ، تعلیم ، ہدایت اور تربیت کے ساتھ  زمین پر اللہ کے احکامات کو نافذ کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:  
-  "ولقد کتبنا فی الذبور من بعد الذکر ان الارض یرثہا عبادی الصالحون"  (ہم نے زبور میں یہ لکھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے)۔  
جو لوگ عقیدہ امامت کو نہیں سمجھتے اُن کے پاس اس کا کوئی لائحہ عمل نہیں کہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور  کا تسلسل کیا ہے؟ اس ظہور کیلئے دنیا میں تبدیلیاں کیسے آئیں گی؟   اللہ کا آخری دین اور کتاب مکمل طور پر  ساری دنیا میں کیسے نافذ ہوگا؟  ختم نبوت کے بعد عالمِ بشریّت  کے لیے قرآن و سُنّت کی درست تفسیر و تشریح، حقیقی  ہدایت، مطلوبہ تربیّت،  شفاف عدل، اور مکمل علمی و عملی رہنمائی کا  ذریعہ کیا ہے؟  کیا نبیؐ نے  قیامت تک جہانِ اسلام کو  اسی طرح  اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر بددیانتی، اغیار کی غلامی، پسماندگی اور جہالت میں سرگرداں رہنے کیلئے چھوڑ دیا تھا؟  یقیناً ایسا کرنا خلاف حکمت ہے اور نبیؐ تو  اس کائنات کی حکیم ترین و داناترین شخصیت ہیں۔ عقیدہ امامت کے بغیر ختمِ نبوّت کی بات کرنے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں کہ نبیؐ کے بعد  ایک طرف تو اُمّت کی نادانی و سرگردانی ہےاوردوسری طرف نبیؐ کی حکمت و دانائی۔۔۔ کیا یہ حکیم و دانا نبیؐ اپنے بعد اپنی اُمّت کو ہدایت کا کوئی ترقی یافتہ اور بہترین نظام دینا بھول گیا تھا؟ یقیناً نبی خاتمؐ نہیں بھول سکتے، جو بھی بھول  چوک ہے وہ اس امت کی طرف سے ہے۔

شبِ قدر ، یومِ علیؑ اور یومِ پاکستان —تقدیر، تاریخ اور تعبیر کی ایک محفل

رپورٹ: نقی حسین جعفری/ سید قاسم علی کاظمی﴿جامعۃ الرضا اسلام آباد﴾
تاریخی اور مذہبی ایام کو منانا محض رسمی تقریبات کا حصہ نہیں بلکہ ان کے پس پردہ ایک گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں، ان کی جدوجہد، اور ان کے پیغام کو یاد رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے مواقع ہمیں ماضی کے آئینے میں اپنا محاسبہ کرنے اور اپنے کردار کی درستگی کا بھی موقع دیتے ہیں۔یہ مناسبتیں ہمارے شعور کی بیداری، ہمارے عقائد کی پختگی اور ہماری قومی و دینی شناخت کی مضبوطی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
مورخہ ۲۳ مارچ ۲۰۲۵ کی شب اعمالِ شبِ قدر انجام دینے سے کچھ دیر پہلے جامعہ الرضا کے پرنور کانفرنس  ہال میں ایک بابرکت نشست کا انعقاد ہوا۔ اس نشست میں شعبہ تحقیق کے طلبا نے نہایت دلجمعی سے شرکت کی اور تین اہم موضوعات شبِ قدر ، یومِ علیؑ  اور یومِ پاکستان  پر تقدیر، تاریخ  اور تعبیر کے حوالے سے  اپنے مطالعات  کو  حاضرین کے سامنے پیش  کیا۔ اس روحانی و فکری نشست کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں، خاص طور پر شبِ قدر، وہ متبرک لمحات ہیں جنہیں قرآنِ مجید نے "خیرٌ من ألفِ شھر" یعنی "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا ہے۔ یہ وہ راتیں ہے جن میں کلامِ الٰہی کا نور عالمِ لاہوت سے عالمِ ناسوت میں منتقل ہوا، جب جبرائیلِ امین نے  پیامِ ربانی  کو  نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ مطہر پر نازل کیا۔
جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کے طلبا  نے اس رات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات مغفرت و بخشش کی رات ہے، تقدیر کے فیصلے لکھےجاتے ہیں اور فرشتے زمین پر رحمتیں لے کر اُترتے ہیں۔ یہ رات ہمیں اپنی زندگیوں کا محاسبہ کرنے اور دل کو خدا کی یاد سے منور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ شبِ قدر کی اصل حقیقت خلوصِ دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارنے اور گناہوں سے معافی مانگنے میں پنہاں ہے۔ اس موقع پر یومِ علیؑ کی مناسبت سے بھی انہوں نے کئی اہم نکات پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ ماہِ مبارک رمضان میں محرابِ کوفہ میں ایک ایسی ہستی نے جامِ شہادت نوش کیا جو عدل و انصاف کا مظہر، علم کا خزانہ اور شجاعت کا مینار تھی۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت صرف ایک عظیم شخصیت کا فراق نہیں، بلکہ انسانیت کے ایک اعلیٰ ترین نمونے  کا بچھڑ جانا ہے۔
طلبا  نے مولائے متقیان کے عدل، ان کے زہد و تقویٰ، علم و حکمت اور ان کی زندگی کے مثالی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امام علیؑ کی سیرت، ان کا طرزِ حکومت اور ان کی شفقت آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ یوم علیؑ کے موقع پر طلبا نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آج ہم انسانیت کی حقیقی فلاح چاہتے ہیں تو علیؑ کی سیرت اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
اس موقع پر یومِ پاکستان ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔یہ وہ تاریخی دن ہے کہ  جب منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلمانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ کیا تھا۔ مولوی اے کے فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی تھی  جس کی تائید قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم رہنماؤں نے کی طرف سے کی گئی۔ یہ قرارداد فقط ایک کاغذ کا ٹکڑا نہ تھا، بلکہ ایک عظیم خواب کی تعبیر تھی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کی امید دلائی،  ایک ایسا وطن جہاں دین و ثقافت کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کی جا سکے۔
طلبا نے اس قرارداد کی روح کو سمجھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اُس عزم اور حوصلے کو سراہا جو لاکھوں مسلمانوں نے اپنی آزادی کے لیے دکھایا اور  قائداعظم کی دور اندیش قیادت اور بے مثال جدوجہد کے باعث بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان  وجود میں آ گیا۔یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد دلاتا ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ آزادی کا یہ تحفہ بے شمار جانوں کی قربانی کے بعد ملا ہے، جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔نشست کے اختتام پر  طلبا نے شبِ قدر کی خیروبرکت نصیب ہونے، فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی اور دنیا میں امن و بھلائی  نیز  وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی اور ترقی کیلئے اجتماعی دعا کی۔

اتوار، 23 مارچ، 2025

دانشمندوں کی اقسام

ڈاکٹر نذر حافی 
دانش مند دو طرح کے ہوتے ہیں، مسائل حل کرنے والے اور مسائل پیدا کرنے والے۔ ہمارے ہاں دانشمندوں کی صرف دوسری قسم ہی پائی جاتی ہے۔ یہ بھی جان لیجئے کہ پوری دنیا میں دانشمند اقلیت میں پائے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اکثریت میں۔ خصوصا وٹس اپ اور فیس بک کے مارکیٹ میں آنے سے ان کی تعداد میں اندھادھند اضافہ ہوا ہے۔شروع شروع میں ان کی آبادی میں خوفناک اضافے کو دیکھ کر ہمارے ایک دوست روزانہ وٹس اپ کے دو تین نئے گروپ بنایا کرتےتھے۔ پھر وہ سب سے کہا کرتے تھے کہ یار مجھے کچھ فعال سوشل ایکٹوسٹ کے نمبرز دو۔ ایک دن ہم نے ان سے ان فعال سوشل ایکٹوسٹ کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ پوچھی تو مسکرا کر بولے کہ آج کل وٹس اپ کے گروپس میں مجھے روزانہ کچھ ذہنی مریضوں کو قید کرنا ہوتا ہے۔ اگر انہیں آزاد چھوڑا جائے تو یہ دوسرے گروپوں میں جا کر مخلوقِ خدا کو تنگ کرتے ہیں۔لہذا میں چاہتا ہوں کہ یہ میرے گروپوں میں ہی ایک دوسرے پر خودکُش حملے کرتے رہیں تاکہ مخلوقِ خدا اِن کی دہشت گردی سے امان میں رہے۔ 
پھر انہوں نے توبہ توبہ کرتے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور بڑے رازدارانہ لہجے میں بولے کہ میاں !کسی بھی وٹس اپ گروپ کا ایڈمن اگر تھوڑی دیر کیلئے سو جائے یا غلطی سے کوئی کتاب پڑھنے لگ جائے تو ان دانشمندوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ یہ اُس وقت تک گروپ میں اُدھم مچائے رکھتے ہیں جب تک ایڈمن کو یہ یاد نہ آ جائے کہ اُس نے ایک وٹس اپ گروپ کا شوق بھی پال رکھا ہے۔پھر وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولے، یہ وٹس اپ اور فیس بکی دانشمند بات سے بات نکالنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جتنی گفتگو کرتے جاتے ہیں اُتنا ہی جھگڑا مزید لمبا ہوتا جاتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ دنیا کے دانشمند مسائل اور جھگڑے حل کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کے دانشمند مسائل اور جھگڑے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لمبے بھی کرتے ہیں۔ اپنے دوست کی اس بات سے مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اگر ہمارے ہاں کے دانشمند اپنا کام چھوڑ دیں تو دیگر ممالک کے دانشمند بے روزگاری سے ہی مرجائیں گے ۔چونکہ اگر مسائل پیدا نہیں ہونگے تو وہ حل کیا کریں گے۔
ہمارے ہاں کچھ دانشمند ایسے بھی ہیں کہ جن کے نزدیک کتابوں اور اخبارات کے چھاپنے کا زیادہ فائدہ صرف پکوڑے بیچنے والوں کو ہی ہوتا ہے۔ پکوڑے ویسے بھی صحت کیلئے مضر ہیں اور جب انہیں گندے اور ردّی کے اخبارات و جرائد میں لپیٹ کر بیچا جاتا ہے تو اس سے ان کا ضرر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اب رہی بات لکھنے کی تو گپ شپ کے شوقین دانشوروں کے مطابق لکھنا لکھانا تو بالکل ممنوع ہونا چاہیے، خاص کر کلاسوں میں استاد حضرات جو تحقیق وغیرہ کا کام دیتے ہیں اُس پر تو کوئی سخت پابندی ہونی چاہیے۔ رہی بات کالمز اور خبروں کی تو یہ سب کچھ تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ ان گپی دانشوروں کا کہنا ہے کہ لکھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں، نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، دوریاں جنم لیتی ہیں اور غیبت وحسد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لہذا ان کے نزدیک مسائل کا حل دوسروں کے ہاں جا کر گھنٹوں آلتی پالتی مار کر خوب گپیں لگانا ہے۔ جہاں بات گپ شپ سے نہ چلے خاموشی اختیار کرنے، منّت سماجت سے کام نکالنے اور حسبِ استطاعت کچھ لے دے کرمعاملہ نمٹانے میں ہی عافیت ہے۔
اچھا تو یاد آیا کہ ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک اور بھی قسم ہے۔یہ ایسے دانشمند ہیں جو ہر وقت ، میں۔۔۔۔ میں ۔۔۔میں۔۔۔ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی آپ غلطی سے ان کے درمیان پھنس جائیں تو آپ کو ایسے محسوس ہوگا کہ جیسے آپ عید قربان کے دنوں بکرا منڈی میں آگئے ہیں۔ کوئی سی بھی بات ہو۔۔۔میں،میں،میں کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ ان، میں، میں، کرنے والوں میں اکثر ایسے مہا دانشمند ہیں کہ جو اصلاً دو جملے بھی نہیں لکھ سکتے، یا پھر خیر سے ایک جملہ بھی ٹھیک سے نہیں لکھ پاتے، البتہ اپنی میں۔۔۔ میں۔۔۔ سے یہ عالمِ امکان کو زیروزبر کرنے کے ماہر ہوتے ہیں اور ہر جگہ اپنے آپ کو ہرفن مولا ثابت کرتے ہیں۔ آپ دنیا کا کوئی مسئلہ ان کے سامنے پیش کریں یہ اس کے بارے میں اپنا سنہری تجربہ آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔
آپ خطابت کی بات کریں تو یہ ضرور مشورہ دیں گے ، آپ صوت و لحن کی بات کریں تو ان کی ماہرانہ رائے بڑے بڑے قاریوں پر بھاری ہو گی، آپ عالمی اقتصاد کے مسائل چھیڑیں تویہ ان مسائل کی گتھیاں سلجھانے لگیں گے، آپ مدیریت کی بات کریں تو یہ اس میں بھی میں ،میں کرتے نظر آئیں گے۔ اگر آپ کسی میٹنگ میں ان کو بلا لیں تو یہ یاتو اتنی لمبی بات کریں گے کہ کسی اور کو بولنے کا موقع ہی نہیں ملے گا اور یا پھر کسی اور کے ساتھ ایسا جھگڑا شروع کریں گے کہ ساری میٹنگ اسی جھگڑے کوہی ختم کرانے میں ہی ختم ہو جائے گی۔
ان کے پاس، میں۔۔۔میں۔۔۔ کی طرح چند رٹے رٹائے جملے بھی ہوتے ہیں،مثلاً میں نہ ہوتا تو پھر پتہ چلتا، میں نے تو دنیا گھوم کر دیکھی ہے، میں تو تنظیمی ہوں، میں تو سینئر ہوں۔۔۔میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔۔۔ میں تو انقلابی ہوں، میں ہوتا تو یوں کرتا۔۔۔میں تو اتنا تجربہ رکھتا ہوں، میں تو۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔سونے پر سہاگہ تو یہ ہے کہ ایسے دانشمند فیڈبیک کے بنیادی اصولوں سے بھی آگاہ نہیں ہوتے اور اگر یہ کہیں پر اپنے کمنٹس کے ذریعے تیر مارنا بھی چاہیں تو سیدھا وہاں مارتے ہیں جہاں نہیں مارنا ہوتا۔
یہ ٹھیک ٹھاک اور چپ چاپ بندے کے ساتھ سینگ پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی فوری طور پر کہیں سے رپورٹنگ کرے یا کوئی خبر نقل کرے کہ فلاں جگہ فلاں حادثے میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں تو ایسے دانشمند فوراً کمنٹس میں لکھیں گے کہ” ہلاک نہیں شہید ہوئے “ اس کے بعد یہ بحث کو کھینچ کر ہلاک اور شہید میں ایسا الجھا دیں گے کہ اصل خبر ان کی قیل و قال میں ہی دفن ہوجائے گی۔
علاوہ ازیں ایسے اشرف المخلوقات دانشمند بھی بکثرت موجود ہیں جو سارے مسائل کو لغت اور اصطلاح کی روشنی میں کُلی طور پرحل کرنا چاہتے ہیں۔مثلاً اگر کہیں پر شراب کی خرید و فروخت کا دھندہ ہورہا ہو اور آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں یا کوئی میدانی تحقیق کریں تو فوراً یہ دانشمند ناراض ہوجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک شراب فروشی اور شراب خوری کا علاج یہ ہے کہ آپ زمینی تحقیق کرنے کے بجائے شراب پر ایک علمی اور کتابی مقالہ اس طرح سے لکھیں :۔
شراب در لغت۔۔۔۔ شراب در اصطلاح۔۔۔۔شراب کا تاریخچہ۔۔۔۔ شراب کے طبّی فوائد و نقصانات ۔۔۔دینِ اسلام میں شراب کی حرمت۔۔۔۔شرابی کے لئے دنیا و آخرت کی سزائیں۔۔۔اور آخر میں حوالہ جات
آپ انہیں لاکھ سمجھائیں کہ قبلہ میڈیا میں میڈیم کے بغیر لکھا ہوا ایسے ہی ہے جیسے آپ نےکچھ لکھا ہی نہیں لیکن وہ اپنی ہی بات پر ڈٹے رہیں گے۔
نوٹ کر لیجئے کہ ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک بہت ہی نایاب قسم بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تعداد میں جتنےکم ہیں معاملات کو بگاڑنے میں اتنے ہی ماہر ہیں۔ یہ ایک چھوٹے سے مسئلے میں پہلے غبارے کی طرح خوب ہوا بھرتے ہیں۔ ذرّے کو بڑھا چڑھا کر ماونٹ ایورسٹ جتنا کر کے چھوڑتے ہیں اور جب ایک چھوٹا سا مسئلہ انتہائی سیریس اور گھمبیر ہوجاتا ہے تو پھر آخر میں یہ اس کا حل ایک چھوٹی سی مذمت یا معذرت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
مثلاً اگر اسلام آباد میں کہیں پر خود کش دھماکہ ہوجائے اور آپ علاقے کو فوکس کرکے وہاں کے سیاستدانوں،، بیوروکریسی, مقامی مشکوک افراد اور دیگر متعلقہ لوگوں اور اداروں کے بارے میں زبان کھولیں تو یہ نایاب دانشمند فوراً ناراض ہوکر میدان میں کود پڑتے ہیں۔اس وقت ان کے بیانات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:
خود کش دھماکے کہاں نہیں ہورہے، پاکستان، عراق، شام، افغانستان وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور ان دھماکوں میں مارے جانے والے لوگوں کی اپنی غفلت کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ لوگ خود بھی اپنے ارد گرد کھڑی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد پر نگاہ نہیں رکھتے، ہم عوام کی غفلت کی مذمّت کرتے ہیں۔
ایسے ماہرین کسی بھی سادھے سے مسئلے کو پیچیدہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، کسی بھی مقامی ایشو کے ڈانڈے بین الاقوامی مسائل سے جوڑتے ہیں اور آخر میں ایک سطر کا مذمتی بیان دے کر یا لکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔
ان کی ایک مثال اور بھی ملاحظہ فرمائیں، مثلاً اگر آپ انہیں یہ کہیں کہ پاکستان کے فلاں علاقے میں ایک مافیا رشوت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ یعنی فلاں جگہ پر مافیا انسانوں کا خون پی رہا ہے تو اس کے بعد ہمارے ہاں کے ”نایاب دانشمند“ کچھ اس طرح سے قلمطراز ہونگے کہ دنیا میں جب تک پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہوتا اس وقت تک لوگ ایک دوسرے کا خون پینے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں پینے کا صاف پانی میسّر نہیں ہم وہاں کے محکمہ واٹر سپلائی کی مذمت کرتے ہیں۔
اب آئیے دانشمندوں کی ایک تبلیغی جماعت کا حال بھی جانئے۔ یہ دانشمند ہر وقت بوریا بستر باندھ کر دوسروں کی اصلاح کے پیچھے پڑے رہتےہیں۔ فلاں نے یہ کہا،فلاں نے یوں کردیا، فلانے کی اتنی بیویاں ہیں، فلاں کے اتنے بچے ہیں، فلاں کتنے عرصے بعد موبائل یا گاڑی تبدیل کرتا ہے اور فلاں روزانہ اتنا خرچہ کرتا ہے ۔۔۔ ان کے پاس مختلف علاقوں کی اہم شخصیات اور اداروں کے نقائص اور عیوب کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہوتا ہے۔لیکن انہیں اپنی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی کہ ہم کتنے پانی میں ہیں!
مذکورہ اقسام کے علاوہ بھی ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک ایسی قسم بھی ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے آپ کوئی مسئلہ بیان ہی نہیں کر سکتے۔مثلا اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں جگہ پر پولیس والے ناکہ لگاکر رشوت لیتے ہیں تو یہ فورا بولیں گے کہ اجی! ابھی ہم کل ہی تو آئے ہیں ،ہم سے تو کسی نے رشوت نہیں لی۔ آپ انہیں لاکھ سمجھائیں کہ دانشمند صاحب آپ سے تو کسی نے رشوت نہیں لی ،اس لئے آپ کا تو مسئلہ ہی نہیں، آپ کیوں بول رہے ہیں، جن سے رشوت لی گئی ہے انہیں بولنے دیں،یہان کا مسئلہ ہے۔ لیکن مجال ہے کہ یہ خاموش ہوجائیں ۔۔۔
ان کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے دو آدمی جوتا خریدنے اکٹھے دکان پر جائیں اور دونوں باری باری جوتےے کو پہن کر چیک کریں۔ ان میں سے ایک کہے کہ یہ جوتا میرے پاوں میں پورا نہیں ہے جبکہ دوسرا چیخنے لگ جائے کہ میں نے ابھی ابھی پہن کر دیکھا ہے کہ پورا ہے۔ اب چیخنے والے کو کون سمجھائے کہ تم کیوں چیخ رہے ہو، جس کو پورا نہیں ہے اسے بولنے دو یہ اس کا مسئلہ ہے۔
اسی طرح ہمارے ہاں ایک حلقے کے نزدیک صرف تنقید کرنے اور بہ اصطلاح دیگر کیڑے نکالنے کو ہی دانشمندی سمجھا جاتا ہے۔ اس حلقے میں ایسے افراد حلقہ بنائے بیٹھے رہتے ہیں جو دوسروں کی ذات اور کاموں میں دن رات خامیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
ان عظیم دانشمندوں کی بدزبانی کا علاج ان کا پیٹ ہوتا ہے۔ ان کی تنقید سے بچنے کا واحد فارمولہ یہی ہے کہ ان کے ساتھ بنا کر رکھئے اور انہیں کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہیے۔حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے یومِ آزادی کے روز بھی کہ جب ملت پاکستان، جشنِ آزادی کے کیک کاٹ رہی ہوتی ہے ،چاند میری زمین پھول میراوطن اور اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں جیسے ترانوں سے خوشی کا اظہار کررہی ہوتی ہے، نیز پورے ملک میں ملکی سلامتی اور ترقی کے لئے دعائیں کی جارہی ہوتی ہیں اورنئی نسل کے سامنے تاریخ پاکستان کو بیان کیا جارہاہوتا ہے ۔۔۔اس وقت بھی اگر انہیں کیک کا ایک ٹکڑا تھوڑا سا چھوٹا مل جائے تو یہ منہ بسور کر حالات کا ماتم کرنے لگ جاتے ہیں اور آنسو بہانے شروع کر دیتے ہیں کہ اقبال تیرے دیس کا میں کیاحال سناوں۔۔۔یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے۔۔۔کیک نہ ملنے پر یہ اتنے رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ پھر انہیں پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثبت پہلو،تعمیروترقی اور پیشرفت نظر نہیں آتی ۔
اب کچھ ایسے دانشمندوں کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جو پاکستان میں تعلیمی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ان کا ہم وغم بہت سارے سکول اور یونیورسٹیاں کھولنے کا ہوتا ہے، نظامِ تعلیم میں تبدیلی تو اِن کے ایمان کا حصہ ہے۔البتہ ان میں سے بہت سارے ایسے بھی ہیں جو خود میٹرک پاس بھی نہیں ہیں اور بعض نے بمشکل پرائیویٹ طریقے سے ایف اے یا بی اے کیا ہوتا ہے اور جنہوں نے کسی ادارے سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی بھی ہوتی ہے تو ان کا موضوع علم التعلیم نہیں ہوتا۔
ایسے دانشمند آج کل ہمارے ہاں بڑی دیدہ دلیری سے تعلیم کے نام پر چندے اکٹھے کررہے ہیں اور ملک و ملت میں تعلیمی انقلاب کے لئے مصروف ہیں۔ یعنی ہے ناں مزے کی بات کہ ایک شخص علمُ التعلیم پڑھے بغیر یا تو میٹرک فیل ہے، یا پرائیویٹ کچھ تھوڑا بہت پڑھا ہے اور یا پھر ایم بی بی ایس، کسی دینی مدرسے کا پڑھا ہوا یا ایل ایل بی وغیرہ ہوتا ہے لیکن وہ جدید نظام تعلیم میں تبدیلی کی بات کرتا ہے۔
اسی طرح کچھ ایسے بھی دانشمند ہیں کہ وہ دینی نظام تعلیم میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، دن رات دینی مدارس کو کوستے رہتے ہیں، ان کے کلاس فیلوز سے اُن کی اپنی تعلیمی حالت کے بارے میں پوچھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عالی جناب ابتدائی دو تین سالوں کے بعد ہی دینی تعلیم میں نکٹھو ثابت ہو گئے تھے، پھر انہوں نے اپنی اصلاح کے بجائے دینی مدارس کی اصلاح کا مشن شروع کر دیا تھا جسے ابھی بھی انہوں نے جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔
اب ان دانشمندوں کا ذکر بھی ضروری ہے جو صرف وبائی امراض یا آسمانی آفات کے وقت نمودار ہوتے ہیں، ایسے اوقات میں یہ بڑے مقدس ناموں کی پھکیاں ، معجونیں، تعویز، دم اور ورد لے کر آجاتے ہیں، مثلا: مکی سرمہ، مدنی کنگھی، غوثیہ ختم، نجفی معجون، قمی تعویز، مشہدی اگربتیاں اور ۔۔۔حتی کہ اگر کرونا کا کوئی شریف النفس مریض بھی ان کے ہاتھ لگ جائے تو یہ اُس پر بھی اپنا دستِ شفقت پھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اب بھلا ان دانشمندوں کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ جو ایڈمن کے ڈر سے لوگوں کو اُن کے پرسنل نمبروں پر تھوک کے حساب سے پوسٹیں بھیجنی شروع کر دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر بہت مہربان، نرم دِل اور بااخلاق ہوتے ہیں۔ یہ آنکھیں بند کر کے ٹھکا ٹھک پوسٹیں فارورڈ کرنے کو انسانیت کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ خصوصا اگر کسی کی مجلسِ ترحیم یا نذر ونیاز کی پوسٹ ہو تو ان کی دلی تمنّا یہ ہوتی ہے کہ دنیا کے ہر غریب ، فقیر اور بھوکے تک یہ پوسٹ پہنچ جائے۔
بعض اوقات تو یہ مخلوقِ خدا کے ساتھ ہمدردی میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ اگر کسی نے یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ آج شام پانچ بجے میری والدہ کی برسی ہے ۔ آپ سب کو اس میں شرکت کی دعوت ہے نیز طعام اور لنگر کا بھی وسیع انتظام ہے۔اس کے بعد یہ مہربان روحیں سارا دن آنکھیں بند کر کے اس پوسٹ کو فارورڈکرتی رہتی ہیں ،ان کی آنکھیں تب کھلتی ہیں جب شام کو لوگ ان کے گھروں میں پہنچ جاتے ہیں، اس وقت انہیں خیال آتا ہے کہ اوہو! ہماری والدہ کی برسی نہیں تھی بلکہ۔۔۔میسج کو فارورڈ کرنے سے پہلے اس میں اصلاح کرنی چاہیے تھی۔
قارئینِ کرام ! اپنے اپنے وٹس اپ گروپ چیک کیجئے، فیس بُک پر بھی ایک نگاہ ڈالئے اور اپنے پیارے دانشمندوں کے بیانات، تقاریر، کمنٹس ، نگارشات اور تحقیقات کا جائزہ لیجئے اور پھر خوب ہنسیے، کہتے ہیں کہ ایک شخص اخبار پڑھتے ہوئے زور زور سے ہنس بھی رہا تھا،کسی نے پوچھا کہ بھائی کیا کوئی خاص خبر ہے،کیوں ہنس رہے ہو !؟اس نے کہا کہ نہیں کوئی خاص خبر تو نہیں البتہ میں اس لئے ہنس رہاہوں چونکہ اس میں لکھا ہے کہ ہنسنے سے خون پیدا ہوتا ہے۔اپنے دانشمندوں کی دانش مندی پر آپ بھی ہنسیے اور خون پیدا کیجئے۔

۲۳ مارچ کی سیاسی، نظریاتی اور سماجی

  ڈاکٹر نذر حافی 
قراردادِ لاہورنے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا تعین کیا۔ اس قرارداد کو منظور کرتے ہوئے پہلی مرتبہ مسلم لیگ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق اور ان کی خودمختاری کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی نظام کا خواب دیکھنے کی ابتدا کی۔ اس دن کے بعد مسلم لیگ کے  سیاسی مقاصد کو ایک ٹھوس اور واضح شکل ملنا شروع ہو گئی۔   مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی الگ ریاست کے قیام  کا خواب آگے چل کر پاکستان بننے پر منتہج ہوا۔ یہی خواب   بنیادی طور پر مسلم لیگ کا   پولیٹیکل ایجنڈا ثابت ہوا، جس سے  مسلم لیگ کی پولیٹیکل آٹونومی (Political Autonomy) کو  کی شرح میں اضافہ ہوا۔
۲۳ مارچ کا دن ہمیں تاریخ پاکستان کے مختلف  زاویوں کو سامنے رکھنے کی دعوت دیتا ہے، جن میں خاص طور پر ۱۹۳۶-۱۹۳۷ کے انتخابات میں مسلم لیگ کو ہونے والی سیاسی ناکامی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی پولیٹیکل ریکنسلی ایشن (Political Reconciliation) کا تذکرہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شکست نہ صرف مسلم لیگ کے سیاسی منظرنامے پر اثرانداز ہوئی، بلکہ اس سے  مسلمانوں کے  ایک نئے سیاسی عہد کا آغاز بھی  ہوا،  جس کا اظہار ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو قراردادِ لاہور  کی شکل میں  سامنے آیا۔ قراردادِ لاہور نے مسلم قوم کے لیے ایک علیحدہ وطن کے تصور کو حقیقت کی شکل دینے کی بنیاد فراہم کی جسے پولیٹیکل سوشیل کنٹریکٹ (Political Social Contract)  کے طور پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔
آج قراردادِ لاہور کی اہمیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یونینسٹ پارٹی  اور مسلم لیگ کے درمیان موجود نظریاتی فرق کو مدنظر رکھیں۔ یونینسٹ پارٹی کے سربراہ مسٹر سکندر حیات کے مطابق، ان کا تیار کردہ مسودہ اس سے مختلف تھا جو شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کیا۔ یونینسٹ پارٹی ہندوستان کو سات انتظامی علاقوں میں تقسیم کرنے کی حامی تھی، جب کہ مسلم لیگ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی خواہاں تھی۔ اس نظریاتی اختلاف نے بالآخر ایک گہری پولیٹیکل پولرائزیشن (Political Polarization) کی شکل اختیار کی۔
قراردادِ لاہور کی تیاری کے دوران مسلم لیگ کو علامہ مشرقی اور ان کی خاکسار تحریک سے سنگین خطرات  کا سامنا تھا۔ اس تاریخی موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو قرارداد کی منظوری تو ہو گئی تاہم  علامہ مشرقی کے ساتھ مسلم لیگ کا نظریاتی
اختلاف ایک شدید قسم کے خوف کی صورت میں لوگوں پر چھایا رہا۔ بعد ازاں   26 جولائی 1943  کو علامہ مشرقی کے ایک جوشیلے  پیروکار "رفیق صابر مزنگوی" نے چاقو کے ساتھ قائداعظم  پر قاتلانہ حملہ بھی کیا۔
سیاسی مخالفت میں جان لینے تک  چلا جانا یہ بھی تاریخ پاکستان کا حصہ ہے۔استحکامِ پاکستان کیلئے  ایسے لوگوں کو پہچاننا اور ان کے مقابلے میں  قائداعظم کی استقامت کے مختلف پہلووں کا سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔قاتلانہ حملے میں قائداعظم کی جان بچ گئی، حملہ آور کا تعلق تحریکِ خاکسار ، مجلسِ احرار، اور اتحادِ ملت جیسی تنظیموں سے تھا،  یہ سب تنظیمیں قائداعظم، مسلم لیگ اور قیامِ پاکستان کے خلاف تھیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس سانحے کا ایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ  حملہ آور کا نام محمد صادق تھا، جسے مولانا ظفر علی خان نے "کامریڈ" (Comrade) کا لقب دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔  اس قاتلانہ حملے  کو  قائداعظم کے بھانجے اکبر اے پیر بھائی نے   "جناح فیسز این اسیسن " نامی  اپنی کتاب  (جناح پر قاتلانہ حملہ) میں کچھ یوں تحریر کیا ہے:
پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ آور کا اصل نام محمد صادق تھا۔ وہ مجلس احرار اور اتحاد ملت جماعتوں کا رکن رہا تھا۔مولانا ظفر علی خان نے ان کی کارکردگی سے خوش ہوکر انھیں کامریڈ کا خطاب دیا تھا جسے ترجمہ کر کے انھوں نے اپنا نام رفیق رکھ لیا تھا۔ صابر اس  کا تخلص تھا اور وہ مزنگ (لاہور) کا رہنے والا تھا۔ یوں اس  کا نام رفیق صابر مزنگوی مشہور ہوگیا۔
 یہ واقعہ  واضح کرتا ہے کہ پاکستان اور قائداعظم  کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے اُس زمانے میں بھی موجود تھے۔یہ الگ بات ہے کہ قائداعظم نے ان کے مقابلے میں استقامت دکھائی لیکن وہ لوگ آج بھی پاکستان میں مختلف صورتوں میں دہشت گردی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر ہم اس سیاسی فضا کو مزید گہرائی سے دیکھیں، تو ہمیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ۱۹۴۰ کی قرارداد کے ساتھ مسلمانوں کیلئے  ایک نیا دور شروع ہو رہا تھا، جس میں مسلم لیگ نے ایک علیحدہ وطن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ تاہم، اس دوران مولانا ظفر علی خان جیسے اہم سیاسی رہنماؤں کی مخالفت مسلم لیگ کے لیے مسلسل چیلنج بنی رہی۔ ان کی تحریکِ خلافت کے دوران مسلم لیگ  اور دوقومی نظریے کے خلاف جو موقف اختیار کیا گیا وہ ہر باشعور  پاکستانی کو خون کے آنسو رُلانے کیلئے کافی ہے۔
خلافت کمیٹی کا گاندھی جی کے ساتھ یارانہ بھی اس دور کی ایک اہم تاریخی حقیقت ہے۔ خلافت کمیٹی نے گاندھی جی  کے ساتھ مل کر ایسی بے شمار کارروائیاں کیں  کہ جنہوں نے مسلم لیگ کے دوقومی نظریے کو چیلنج کیا۔ اس کے علاوہ  ان کی جانب سے تحریکِ عدمِ موالات (Non-Cooperation Movement) کا آغاز اور مسلمانوں کے لیے ہجرت کا فتویٰ بھی ایک سنگین غلط حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کے ذریعے مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا نیز  مسلم لیگ کو  دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی۔
مذکورہ بالا واقعات  کا جائزہ لینے سے ہمیں یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ ۲۳ مارچ کا دن نہ صرف ایک قرارداد کی منظوری کا دن ہے بلکہ یہ قائداعظم کے نظریاتی مخالفین کو سمجھنے اور پہچاننے کا دن بھی ہے۔ اس دن کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ  دن ہمیں پاکستان کو بچانے کیلئے پاکستان  کے مخالفین کو پہچاننے کی بصیرت  اور فرصت عطا کرتا ہے۔  لہذا، ہمیں ۲۳ مارچ کو صرف ایک تاریخی دن کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس دن کی سیاسی، نظریاتی اور سماجی جہتوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے ماضی سے سیکھ کر اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔

امام علیؑ کے حقیقی قاتل

حجت الاسلام و المسلمین محمد صادق تہرانی نے اپنی یادداشت میں امام علی علیہ السلام کی شہادت میں معاویہ کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کی یہ یادداشت ایک ایسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ایک سیاہ دھبے کی مانند ثبت ہے۔
جب طلحہ اور زبیر نے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، تو وہ معاویہ کی حمایت اور تحریک کا حصہ بنے۔ معاویہ نے دونوں کو خفیہ خطوط کے ذریعے بیعت کی دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ حضرت علی علیہ السلام کو شکست دے کر ان کے خلاف کامیاب ہو گئے تو حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی عبد اللہ بن عامر، جو اس وقت بصرہ کے والی تھے، کو ان دونوں کی مالی مدد کے لیے حکم دیا تاکہ ان کی تحریک کامیاب ہو سکے۔
جنگ جمل کے بعد معاویہ نے جنگ صفین کا آغاز کیا، جس کا مقصد فقط حضرت علی علیہ السلام کو شکست دینا تھا۔ اس جنگ میں، امام کی فوج کی شاندار فتح کے بعد، عمرو عاص نے چالاکی اور فریب سے فیصلہ حکومتی حلقوں میں منتقل کر دیا اور یوں ایک مخلصانہ فتح کو ناکامی میں بدل دیا۔ صفین میں استعمال ہونے والی چالبازیوں کا یہی تسلسل تھا جس نے مسلمانوں کے درمیان تفرقات اور فرقہ واریت کو ہوا دی اور اس طرح نہروان کی جنگ کی راہ ہموار کی۔ معاویہ کا دشمنی اور کینہ یہیں تک محدود نہ رہا، بلکہ اس نے امام علی علیہ السلام کی فضیلتوں کو مٹانے کے لیے ایک منظم منصوبہ تیار کیا۔
اس حوالے سے ایک تاریخی واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں معاویہ نے مغیرہ بن شعبہ کو ایک خط لکھا جس میں اس سے کہا: "علی کے عیب بیان کرو، تاکہ ان کی عظمت کو عوام کے سامنے کم کیا جا سکے۔" (2) طبری اپنی تاریخ میں مغیرہ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ اس نے صعصعہ کو کہا تھا: "اگر علی کی فضیلتوں کا ذکر کیا گیا تو ہم ان فضائل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں، لیکن اب معاویہ کے دور میں ہمیں علی کے عیوب کو اجاگر کرنا ہے۔"
ایک اور موقع پر، معاویہ نے ابن عباس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے پورے ملک میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے خاندان کی عظمت کو بیان کرنے سے منع کیا تھا۔ (4)
علامہ امینی اس حوالے سے لکھتے ہیں: "اس طرح کی خدمت گزاری کے نتیجے میں علی پر لعنت کرنا ایک معمول بن گیا اور یہ بات لوگوں کے لیے فطری ہو گئی۔ یہ سلسلہ چالیس سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ عمر بن عبد العزیز نے اس پر پابندی لگائی۔ اس دوران تمام بڑے شہروں میں علی پر لعنت کی جاتی تھی۔" (5)
اس سب کے باوجود، جب ہم امام علی علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس قتل میں معاویہ اور اس کے مشیر عمرو عاص کا ہاتھ تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ اشعث بن قیس اور ابن ملجم مرادی بھی اس سازش کا حصہ تھے۔
محترم محقق حجت الاسلام و المسلمین "نجاح الطائی" نے اپنی کتاب "کیا معاویہ نے علی کو قتل کیا؟" (7) میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اگر ہم قریش اور معاویہ کے خاندان کے ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ بات بے گلہ ہو جاتی ہے کہ ان کا مخالفین کے ساتھ رویہ کیا رہا۔ وہ حضرت طالب بن ابی طالب کو شہید کرتے ہیں، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو شہید کرتے ہیں، اور کئی دیگر بزرگوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ اسی طرح امام حسن علیہ السلام کو معاویہ کے ہاتھوں شہید کیا جاتا ہے، اور بہت سے دیگر اہم واقعات بھی ان کی فہرست میں شامل ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ امام علی علیہ السلام کی شہادت بھی اسی گروہ کے منصوبے کا حصہ تھی، کوئی بعید بات نہیں۔ معاویہ اور اس کے معاونین عمرو عاص اور اشعث بن قیس نے اس سازش میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سازشوں نے امام علی علیہ السلام کے قتل کو ممکن بنایا۔
یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ عمرو بن عاص، جو معاویہ کا معاون تھا، نے صفین میں چالبازیوں کا سہارا لیا اور امام علی علیہ السلام کو دھوکہ دیا۔ پھر مصر میں اس نے اپنے اقدامات سے امام علی علیہ السلام کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ابن ملجم مرادی وہ شخص تھا جس نے امام علی علیہ السلام کو قتل کیا۔ اس کا تعلق مصر سے تھا اور وہ معاویہ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ تیار کیا تھا۔
تمام شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاویہ اور اس کے معاونین، عمرو عاص اور اشعث بن قیس، نے امام علی علیہ السلام کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اس سازش کو عملی طور پر ابن ملجم مرادی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
جب معاویہ کو امام علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی، تو وہ خوش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے غلام سے کہا کہ میرے لیے گانا گاؤ، کیونکہ آج میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی ہے۔ اس نے ثمرة بن جندب کو 400 ہزار درہم دیے تاکہ وہ یہ کہے کہ آیت 207 سوره بقرہ جو امام علی علیہ السلام کی فضیلت میں نازل ہوئی تھی، دراصل ابن ملجم کے بارے میں ہے۔ (40)(41)
مذکورہ بالا مباحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ  امام علی علیہ السلام کی شہادت صرف ایک فرد کی زندگی کا خاتمہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عظیم منصوبے کا اختتام تھا، جس کی حقیقت تاریخ کے صفحات پر ایک سیاہ دھبے کی مانند ثبت ہے۔ معاویہ اور اس کے ساتھیوں کی چالبازیاں اور سازشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اس کی دشمنی کسی حد تک بھی انسانیت کی قدروں سے ماورا تھی۔ جنگ صفین، جنگ جمل اور دیگر اہم واقعات میں معاویہ کا کردار اس کی ذاتی عناد کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت اس نے نہ صرف امام علی علیہ السلام کی سیاسی طاقت کو چیلنج کیا، بلکہ ان کی روحانی عظمت کو مٹانے کے لیے ایک منظم اور متقابل حکمت عملی اپنائی۔
جیسے ہی امام علی علیہ السلام کی شہادت کا وقت آیا، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھی، جس میں معاویہ، عمرو عاص اور اشعث بن قیس کے کردار نے اس منصوبے کو حقیقت میں بدل دیا۔ ابن ملجم مرادی کی خون آلود تلوار کے ذریعے اس سازش کا تکمیل تک پہنچنا اس بات کا غماز تھا کہ دشمنوں کے عزائم کس قدر گہرے اور پیچیدہ تھے۔
اس تمام سلسلے کی گہرائی میں یہ سبق چھپا ہے کہ تاریخ میں طاقت کے حصول کے لیے انسانیت کو کس طرح پامال کیا جا سکتا ہے، اور کس طرح ایک عظیم شخصیت کو مٹانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے نتیجے میں ہمیں یہ سچائی سمجھ میں آتی ہے کہ صرف طاقت کا کھیل نہیں، بلکہ حقیقت کی تقدیر کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی سانحہ تھا، بلکہ اس میں انسانی فطرت کی پیچیدگیاں اور اس کی گہرائی بھی چھپی ہوئی تھی، جس سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ کبھی کبھار انسان اپنے غرور میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ عظمتوں کو مٹانے کے لیے بے شمار چالبازیاں کرتا ہے، مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے اس کے پیچھے کتنی سازشیں کیوں نہ ہوں۔
بشکریہ: رپورٹ شبستان نیوز ایجنسی  و  دیگر ذرائع 

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

علامہ ناصرعباس جعفری صاحب

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری صاحب 
:تبرید حسین:
پاکستان میں مذہبی سیاست عموماً مسلکی شناخت، جذباتی نعروں اور محدود دائرۂ اثر تک سمجھی جاتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں علامہ راجہ ناصر عباس کا قومی سیاست میں ابھرنا محض ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری تبدیلی کی علامت ہے، جو اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ایک شیعہ عالمِ دین قومی سیاست میں مسلک سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانی شہریوں کی نمائندگی کر سکتا ہے؟
علامہ راجہ ناصر عباس کا سیاسی سفر اس سوال کا عملی جواب بن کر سامنے آتا ہے۔
پاکستان کی مذہبی و سیاسی تاریخ میں علامہ راجہ ناصر عباس کا ظہور محض ایک فرد کی سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری تبدیلی کی علامت ہے۔ بطور شیعہ عالمِ دین ان کا قومی سیاست میں فعال کردار ایک ایسے سماجی و سیاسی ماحول میں سامنے آیا جہاں مذہبی علما کو عموماً مسلکی دائرے تک محدود تصور کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے اس روایت کو چیلنج کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایک عالمِ دین قومی سیاست میں اصولی، وسیع النظر اور ہمہ گیر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ دینی تشخص اور جمہوری سیاست ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ باہم مل کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس کی سیاست کا امتیاز یہ رہا کہ وہ محض اقتدار کے حصول یا صرف شیعہ قومی حقوق کے گرد محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا بنیادی محور وسیع تر انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور پاکستانی شہریوں کے اجتماعی مفادات رہے۔ بطور شیعہ عالمِ دین انہوں نے پہلی مرتبہ اس تصور کو عملی شکل دی کہ ایک مذہبی رہنما اپنی مسلکی شناخت سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر تمام شہریوں کی آواز بن سکتا ہے۔ انہوں نے ایوانوں میں پہنچ کر فرقہ وارانہ تقسیم کے بجائے قومی وحدت، انسانی وقار، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کی بات کی اور ہر موقع پر اس امر پر زور دیا کہ پاکستان تمام مکاتبِ فکر اور طبقات کا مشترکہ وطن ہے۔
ایک شیعہ عالم ہونے کے ناتے انہیں نہ صرف عمومی سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا بلکہ خود شیعہ معاشرے کے اندر سے بھی تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے۔ روایتی شیعہ مذہبی سیاست کے عادی بعض حلقے ایک عالمِ دین کو قومی اور غیر مسلکی سیاسی کردار میں قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھے۔ اس مخالفت کی بنیادی وجہ فکری بلوغت کا فقدان اور سیاست کو محض مسلکی مفادات تک محدود دیکھنے کا رجحان تھا۔ ایسے حلقوں کے نزدیک ایک شیعہ عالم کا کردار ابھی تک احتجاج، محدود نمائندگی اور داخلی مسائل کے گرد گھومتا ہے، جب کہ علامہ راجہ ناصر عباس نے اس تصور سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق، آئینی انصاف، شہری آزادیوں اور قومی یکجہتی کو اپنا بیانیہ بنایا۔
انہوں نے اس اندرونی مخالفت کے باوجود نہ ردِعمل کی سیاست اختیار کی اور نہ ہی اپنے مؤقف میں لچک پیدا کی۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر کے مذہبی حلقوں اور علما کے ساتھ بھی روابط استوار کیے اور مشترکہ نکات کو اجاگر کیا اور اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد بین المسلمین کی توانا آواز بننے کیساتھ ساتھ تکفیری عناصر کو پس دیوار لگا دیا۔ 
ان کی سیاسی اور دینی خدمات اور بصیرت اس بات کی غماز ہیں کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد بلند، تو محدود وسائل اور مخالفتوں کے باوجود بھی بڑا کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نہ صرف شیعہ برادری بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک ایسی آواز ہیں جو حق، انصاف، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بات کرتی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کی قومی سیاست میں شمولیت ایک ایسے دور میں ہوئی جب مذہبی شناخت رکھنے والے افراد کو عمومی طور پر صرف اپنے مسلک یا محدود دائرے تک مؤثر سمجھا جاتا تھا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو عملی طور پر غلط ثابت کیا۔ پہلی مرتبہ ایک نمایاں شیعہ عالمِ دین کی حیثیت سے قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف اپنی جماعت بلکہ وسیع تر عوامی حلقوں میں بھی اعتماد حاصل کیا۔ ان کی تقاریر، پارلیمانی موقف اور عوامی رابطہ مہمات میں ہمیشہ قومی مسائل—جیسے آئین کی بالادستی، جمہوریت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف—کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، جس کے باعث مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام نے انہیں سنجیدگی سے سنا اور قبول کیا۔
حتی سینیٹ آف پاکستان میں ان کا یہ رویہ قومی سطح پر ایک شیعہ سیاسی کردار کی مثبت شناخت کا باعث بنا، جو پہلے کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز صرف ایک مسلک کی نمائندہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی آواز کے طور پر جانی جانے لگی۔ 
یہ ایک نمایاں حقیقت ہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس اگر چاہتے تو آسانی سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جھک کر یا ساز باز ( ڈیل) کر کے چند ذاتی یا جماعتی مفادات حاصل کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اس راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس کے برعکس انہوں نے قومی مفادات، آئینی بالادستی اور انسانی قدروں اور فسطائیت کے خلاف کھڑا ہونے کو ترجیح دی، چاہے اس کی قیمت سیاسی تنہائی یا دباؤ کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنا پڑی۔ یہی پہلو ان کے کردار کو عام شیعہ یا دیگر مذہبی رہنماؤں سے ممتاز بنا رہا ہے۔
علما کے تقدس کے عمومی اور محفوظ خول سے باہر نکل کر عوامی اور جمہوری جدوجہد کا حصہ بننا آج کے فسطائی ماحول میں غیر معمولی جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسے دور میں، جب عدالتیں دباؤ میں ہوں، میڈیا یا تو خاموش کر دیا گیا ہو یا خرید لیا گیا ہو، اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھا جائے، وہاں ایک عالمِ دین کا عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا محض سیاسی عمل نہیں بلکہ اخلاقی مزاحمت بن جاتا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسی مشکل راستے کا انتخاب کیا، جہاں تقدس کی آڑ میں خاموش رہنا آسان تھا، مگر ظلم کے خلاف بولنا ضروری۔ 
بدقسمتی سے شیعہ قوم آج بھی نیم خواندہ ذاکرین اور خطیبوں کے جذباتی اور محدود بیانیوں میں الجھی ہوئی ہو، اس کے لیے ایک ایسے شیعہ عالم کا سیاسی کردار فوراً ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا جو مسلکی دائرے سے نکل کر قومی اور انسانی مسائل کی بات کرے۔ ایسے سماج میں مذہبی قیادت کو اب بھی روایتی خطابت، احتجاج اور محدود مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ فکری رہنمائی اور قومی شعور کے حوالے سے۔ اسی لیے علامہ راجہ ناصر عباس جیسے کردار کی قبولیت وقت مانگتی ہے، کیونکہ یہ کردار روایت نہیں بلکہ تبدیلی کی علامت ہے، اور ہر تبدیلی ابتدا میں مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔
آخر میں ایک نہایت اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا، خصوصاً اس تناظر میں کہ شیعی حلقوں میں بالعموم یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں مذہبی استعاروں کا استعمال کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ موضوع اپنی جگہ ایک مستقل کالم کا متقاضی ہے۔ تاہم اتنا ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ حسینؑ اور کربلا کسی ایک مسلک کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ ہر دور میں، ہر مذہب اور ہر برادری کے اہلِ فکر نے امام حسینؑ کی ذات سے ظلم، جبر اور فسطائیت کے خلاف رہنمائی حاصل کی ہے۔
مثال کے طور پر موجودہ عہد میں اگر نیلسن منڈیلا جیسے عظیم رہنما امامِ حریت، امام حسینؑ سے رہنمائی لیتے ہیں اور اس کا برملا اعلان بھی کرتے ہیں تو نہ مجھے اور نہ ہی آپ کو اس پر اعتراض کا کوئی حق حاصل ہے، کیونکہ حسینؑ صرف شیعوں کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے امام اور نجات دہندہ ہیں۔
البتہ راجہ صاحب سے یہ گزارش ضرور ہے کہ جس طرح آپ نے سیاسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنا قد بلند کیا ہے، اسی طرح بہتر ہوگا کہ سیاسی جدوجہد کے لیے کفر و اسلام کی جنگ جیسی تعبیرات کے بجائے آئینی اور جمہوری جدوجہد کی زبان اختیار کی جائے، تاکہ بات زیادہ جامع، مؤثر اور قابلِ قبول ہو۔
تبرید حسین 
(لندن)
19 دسمبر 2025
11 بجے صبح



خلافت ِ بلافصل کا انکار۔۔۔ اثرات و نتائج

ڈاکٹر نذر حافی:
امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل ایک مبنی بر حقیقت  اور غیر متنازعہ  مسئلہ ہے۔یہ کوئی تاریخی بحث نہیں بلکہ اس کا اعلان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  دعوتِ ذوالعشیر سے لے کر غدیر خم تک باربار کیاہے۔   نبیؐ جانتے تھے کہ  امام علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت سے  قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے   ایک مضبوط سیاسی اتحاد، روحانی تکمیل اور اخلاقی ترقی کا راستہ کھلا رہے گا۔
یہاں خلافتِ بلافصل کا مفہوم سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان نہ صرف ایک دینی حکم کے طور پر کیا بلکہ یہ ایک غیر متنازعہ سیاسی فیصلہ (undisputed political decision) تھا تاکہ مسلمانوں کو  نبی ؐ کے بعد کسی بھی قسم کی تاخیر یا تعطل کے بغیر قیادت و رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اگر اس فیصلے کو فوراً تسلیم کر لیا جاتا، تو  مسلمانوں  کے درمیان  اختلافات کی جگہ اتحاد  و  عدل کی مضبوط بنیادیں استوار ہو جاتیں، نیز  سیاسی و سماجی، تعلیمی و سائنسی اور تربیتی و اخلاقی  استحکام میں اضافہ ہوتا۔
خلافت بلافصل کے انکار نے مسلمانوں کے ہاں  ایک سنگین سیاسی بحران (political crisis) کو جنم دیا، جس نے مسلمانوں کو نہ صرف داخلی سطح پر تقسیم کیا بلکہ بعد کے ادوارمیں  اس کے سماجی و سیاسی اثرات بھی نمایاں ہوئے۔ خلافت کے انکار نے امت مسلمہ کو مختلف مکاتب فکر (schools of thought) میں تقسیم کر دیا، جس کے نتیجے میں اسلامی وحدت اور بھائی چارےکو شدید دھچکا لگا۔ اس کا اثر سماجی سطح  پر بھی محسوس ہوا، جہاں مسلمانوں کی یکجہتی اور ہم آہنگی متاثر ہوئی اور متعدد سیاسی تصادم (political conflicts) ہوئے، جیسے جنگ جمل ، جنگ صفین اور جنگ نہروان بعد ازاں کربلا۔۔۔اور پھر مکمل ملوکیّت و استبداد۔ ماضی میں مسلمانوں کے درمیان صرف خونریز جنگیں اور فسادات ہی نہیں ہوئے بلکہ  اسلامی دنیا  میں سیاسی و سماجی ہم آہنگی ہمیشہ کیلئے پامال ہو گئی۔
نبی ؐ کے فوراً بعد بلا فاصلہ حضرت  امام علی علیہ السلام کی حکومت یعنی بغیر کسی وقفے کے میرٹ،  تعلیم و تربیّت، ہدایت،  قانون کی بالادستی (rule of law)، انصاف (justice) اور مساوات (equality) کا جاری رہنا۔ اس کے برعکس  امام علی علیہ السلام کی خلافت ِ بلافصل کا  انکار  یعنی   مسلمانوں کی طرف سے تعلیم و تربیت،  میرٹ، عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی سے انکار تھا۔ اس انکار سے مسلمان آنکھیں نہیں چُرا سکتے چونکہ  امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل  کے انکار کے سے مسلمانوں کے ہاں اطاعتِ رسولؐ کی ساکھ (credibility)  متاثر ہوئی، اور یہیں سے اسلامی معاشرےمیں    پسماندگی ، جہالت اور انصاف کے فقدان (lack of justice) کا اژدھا سامنے آیا۔
حضرت امام علیؑ کی خلافت بلافصل کے انکار نے  اسلامی معاشرے  پر ایک سنگین بوجھ ڈالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا  اُمّت کی ہدایت و تربیّت کیلئے اہل بیت کے بارے میں جو خاص موقف تھا وہ مسلمانوں پر   مبہم ہوگیا۔اس ابہام سے بعض مسلمانوں کے اندر  تعلیمات نبوی کے ساتھ ایک فکری تضاد پیدا ہو گیا۔   اس فکری تضاد کے باعث انہوں نے صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؑ کو  ایک جیسا کہنا اور سمجھنا شروع کر دیا۔ حالانکہ رسولؐ نے اہلِ بیت ؑ کی خاص طور پر یہ  تربیّت کی تھی کہ وہ  آگے چل کر  ساری اُمّت بشمول صحابہ کرام کی ہدایت و تربیّت کریں۔ یعنی نبی ؐ کے بعد اہلِ بیت کا اُمّت کو ہدایت کرنا یہ ختم نبوّت کہ مہر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قیامت تک  نہ کوئی کتاب نازل ہو گی  اور  نہ ہی کوئی نبی  آئے گا لیکن  اب قیامت تک  عالمِ بشریت  کی ہدایت آخری نبی کی تعلیمات کے مطابق اہلِ بیت نبیؐ کرتے رہیں گے۔ 
اسی خلافتِ بلافصل نے مسلمانوں میں سیاسی احساسِ کمتری بھی پیدا کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ حکمرانوں کے جبرواستبداد اور لوٹ مار سے بھری پڑی ہے لہذا  آج ساری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کوئی آئیڈیل اور متفقہ سیاسی نظام نہیں۔  گزشتہ چودہ سو سال سے اسلامی معاشرہ سیاسی طور پر  حکومت کی تشکیل میں بے چینی اور عدم استحکام (instability) سےروبر ہے۔ یہ عدمِ استحکام جہاں مسلمانوں  میں فرقہ واریت کا  باعث ہے وہیں عالمی سطح  پر اسلام کے پیغام کی تفہیم میں بھی رکاوٹ ہے۔اسلام کی عالمی ساکھ پر بھی خلافتِ بلافصل کے انکار کے منفی اثرات  آج قابلِ مشاہدہ ہیں۔
 دشمنان اسلام  آج مسلمانوں کے  جن داخلی اختلافات اور تنازعات کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈاکرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ، ان اختلافات کے وجود سے  اسلامی تعلیمات کی معنوی صداقت (moral integrity) پر بھی سوالات اُٹھتے ہیں۔ ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ  اگر امام علی ؑ کا انکار نہ کیا جاتا تو آج یہ تضادات اور یہ سوالات وجود میں ہی نہ آتے ۔
ایک صادق اور امین نبیؐ کی امُت میں آج  روحانی اور اخلاقی فقدان بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ نبیؐ کے بعد  امام علی علیہ السلام کی شخصیت مسلمانوں کے لیے ایک مستحکم اخلاقی نمونہ (moral exemplar) تھی، اور ان کی خلافت کا انکار مسلمانوں کے روحانی اور اخلاقی زوال کا باعث بنا۔  بلا شُبہ حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل  اسلامی دنیا  میں ایمانداری، معاشی و اقتصادی ترقی، اور  سائنسی و علمی پیشرفت کی ضامن تھی۔
اس خلافتِ بلافصل کا انکار ایک ایسی تاریخی غلطی کے طور پر ہمارے سامنے ہے کہ جس کا خمیازہ صدیوں سے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ یہ انکار مسلمانوں کو میرٹ، عدل و انصاف،  تعلیم و تربیّت، اطاعتِ رسول، اطاعتِ قرآن اور اتحاد و وحدت سے محروم کر دینے کا سبب بنا، اور اس کاثمر فرقہ واریت، سیاسی عدم استحکام، روحانی بحران نیز طرح طرح کے بحرانات کی صورت میں نکلا۔
دعوتِ ذوالعشیر سے لے کر غدیرِ خم تک خلافت علی ؑکے بارے میں نبیؐ کی باربار کی   تاکید سے یہ واضح اورروشن ہو جاتا ہے کہ در اصل امام علیؑ  کو نبویؐ معاشرے میں حضورؐ کے بعد حکومت کرنے کیلئے سیاسی اور مذہبی طور پر واضح   مینیڈیٹ   (political and religious mandate) حاصل تھا۔ امام علی ؑ کو یہ واضح مینیڈیٹ اُمّت کے درمیان سیاسی استحکام (political stability)،  اجتماعی ہم آہنگی  (social cohesion) اور رہبری کی غرض سے دیا  گیا تھا۔ یہ مینیڈیٹ  ایک قانونی اور نظامِ  عدل پر مبنی نظام (legal and judiciary-based system)  معاشرے کے قیام کیلئے تھے۔ نبیؐ کے بعد حضرت امام علی ؑ کی   اس واضح برتری اور مینیڈیٹ کے انکار کو بعض لوگوں نے اپنا مذہبی عقیدہ بھی بنا لیا۔ ایسے لوگ اپنے عقیدے کو ہزار طریقوں جسٹیفائی کرتے رہیں ہمیں اس کے غلط یا درست ہونے سے کوئی غرض نہیں۔ویسے بھی موجودہ دور میں  ان کے عقیدے کے ثمرات ہر صاحبِ عقل و شعور کے سامنے آشکار اور واضح ہیں۔
حضرت امام علی ؑ کی خلافتِ بلافصل کے عقیدے سے مسلمان فکری طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ وہ ہے کہ جنہوں نے اس خلافتِ بلافصل کا انکار کر دیا اور اُس کے بعد کے حالات میں آج تلک  سرگرداں و پریشاں ہیں۔  وہ نہیں جانتے کہ وہ آج کس کی معِیّت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ دوسرا گروہ  اس عقیدے پر آج بھی قائم ہے اور وہ  ایک مرتبہ پھر اپنے نبیؐ کی  احادیث کی روشنی میں حضرت امام مہدیؑ کا منتظر ہے۔
ارباب فہم و سخن کیلئے عرض کرتا چلوں کہ اگر انسان حقائق سے نظریں چُرا بھی لے تو اس کے باوجود حقائق اُس سے نظریں نہیں چُراتے۔ لوگ منبر و محراب اور قرطاس و قلم سے امام علیؑ کی خلافتِ بلافصل کے انکار پر جتنے مرضی ہے دلائل لاتے رہیں لیکن معاشرے میں اس انکار کے چودسو سالہ منفی  اثرات بتا رہے ہیں کہ یہ انکار دلیل پر نہیں  بلکہ ضِد پر قائم ہے۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے یہ انکار  میرٹ اور مینیڈیٹ کا انکار ہے۔جب تک منبر و محراب اورقرطاس و قلم سے یہ انکار ہوتا رہے گا معاشرہ برائیوں اور جہالت  کی صورت میں  اس کا خمیازہ بھگتتا رہے گا۔آپ عمل جاری رکھیں گے تو   ردِّ عمل جاری رہے گا۔

بدھ، 19 مارچ، 2025

شبِ قدر میں قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں غوروفکر کرنا افضل ترین عبادت ہے،جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق

شبِ قدر میں قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں غوروفکر کرنا افضل ترین عبادت ہے،جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق:
:رپورٹ: نقی حسین جعفری: مورخہ  ۱۹ مارچ ۲۰۲۵ کو شبِ ضربت امیرالمومنینؑ کی مناسبت سے  اعمالِ شبِ قدرکے مقدمے کے طور پر  جامعۃ الرضا  کے شعبہ تحقیق نے  غوروفکر اور تدّبر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر  جامعۃ الرضا کے طلبا نے شبِ قدر اور  شبِ ضربتِ مولا علی علیہ السلام کی مناسبت سے غور وفکر اور تدّبر کے موضوع پر  اپنےمطالعات کا خلاصہ پیش کیا۔ اس مجلس میں تدبّر اور غور و فکر کی اہمیت پر بھی خصوصی گفتگو کی گئی۔ یہاں ہم اس مجلس ِ مذاکرہ کے اہم نکات پیش کر رہےہیں:
برادر واصف رضا نے معرفتِ  قرآن اور معرفتِ امام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور  کہا کہ  اگر انسان کے پاس معلومات ہوں لیکن  معرفت کی روشنی نہ ہو تو ایسی معلومات بےسود ہیں۔ انہوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی یہ حدیث بھی نقل کی 
"مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً"
جو شخص اپنے زمانے کے امام  کی معرفت کے بغیر  مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
انہوں نے  کہا کہ معرفت  کا حصول ایک وسیع موضوع ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معرفت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں صرف معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ  معلومات میں  تدبّر اور غور و فکر کرنا  چاہیے تاکہ ہم حقائق  کی گہرائی میں اُتر سکیں اور اس کے بعد   حقائق  کو اپنی زندگی میں لاگو کر سکیں۔
برادر محمد دانیال نے  قرآن اور سیرتِ امام علی ؑ میں غوروفکر کے تناظر میں کہا کہ  تدبّر اور غور و فکر کے بغیر ہم قرآن اور امام علی ؑ سے حقیقی رہنمائی نہیں لے سکتے۔ انہوں نے کہ ہمیں شبِ قدر میں  تعلیماتِ قرآن و امام علی ؑ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اوروحدت کو فروغ دینا چاہیےاور امریکہ و اسرائیل جیسے دشمنوں کی سازشوں کو عوام پر آشکار کرنا چاہیے۔ 
اس موقع پر برادر علی عسکری نے  قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں تفکر کی اہمیّت  کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ  معاشرے کے مستضعف طبقات جیسے  بیواوں، یتیموں اور غربا و فقرا  کی دستگیری ،  ان کی کفالت کرتے اور ان کی تعلیم و تربیّت کیلئے بھی ہمیں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن اور امام علی  علیہ السلام  انسانی ہمدردی کے مبلّغ ہیں۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ  قرآن و امام کی سیرت پر غور و فکر سے  ہمیں یہ تحریک ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں انسانیت کی خدمت کو اولویت دیں۔
برادر ذوہیر حسن نے  قرآن اور امام علی علیہ السلام کی حکمت و دانائی کی جانب توجہ دلائی اور ذکر کیا کہ کس طرح ابو سفیان نے امام کے پاس آ کر خلیفہ اول کے خلاف مہم  چلانی چاہی اور کہا: "اگر آپ چاہیں تو میں مدینہ کو گھڑ سواروں اور پیدل افواج سے بھر دوں اور آپ کو آپ کا حق دلاؤں۔" لیکن امام علی علیہ السلام نے اسے  دندان شکن جواب دیتے ہوئے کہا کہ : "مجھے تمہارے عزائم کا علم ہے۔۔۔" آپ نے اس موقع پر تدبّر کی اہمیت کو واضح کیا اور کہا کہ امام علی علیہ السلام کا جواب اس بات کا غماز ہے کہ وہ ہر معاملے میں غور و فکر کے بعد فیصلہ کرتے تھے، اور یہی بات ہمیں بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ہر عمل اور ہر فیصلے میں تدبّر اور حکمت کو مدنظر رکھیں۔
اس موقع پر برادر علی حمزہ نے  بھی  تعلیمات قرآن اور امام علی علیہ السلام  میں  صبر  کی اہمیت پر غوروفکر کرنے کی توجہ دلائی۔انہوں نے  قرآن اور سیرت امام علی ؑ  سے چند واقعات نقل کر کے یہ نتیجہ دیا   کہ  آج ہمارے معاشرے میں صبر و تحمل کا فقدان نمایاں ہے ، ہمیں  غوروفکر اور  گہری تدبیر کے ساتھ اپنے سماج میں صبر و تحمل کو رواج دینا چاہیے۔
اسی طرح، دیگر  طلباء نے بھی اپنے مطالعات سے اخذ شُدہ  اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا۔  منتظمِ مجلسِ مذاکرہ نے آخر میں تمام نکات کی جمع آوری کر کے  یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ  غوروفکر کرے سے ہر عبادت کا ثواب کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے اور افضل ترین غوروفکر وہ ہے جو افضل ترین شب میں قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں کیا جائے۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے ساتھ اس محفل کا اختتام کیا گیا۔

منگل، 18 مارچ، 2025

حضرت امام علیؑ کی شہادت کا سیاسی پسِ منظر

کیا خوارج کا ظہور خواہ مخواہ ہو گیا تھا؟ کیا وہ قوتیں جو خوارج کی تشکیل میں ملوث تھیں اور جنہوں نے ان سے مسلسل سیاسی اور نظریاتی فائدہ اٹھایا، وہ  امام علیؑ کے  قتل سے لا عِلم تھیں؟ کیا قتلِ امام علیؑ کا الزام خوارج پر عائد کرنا اور اس کے سیاسی پسِ منظرکو بھول جانا دانشمندی ہے؟  کیا یہ جاننا ضروری نہیں کہ خوارج کا نظریہ اور ان کا ظہور کس سیاسی و تاریخی پس منظر میں ہوا؟ یہ سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمیں صرف سطحی تجزیے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ گہرائی سے اس تمام معاملے کی تحلیل کرنی چاہیے۔ یہ کہنا کہ خوارج کو صرف طالبان یا داعش کی طرح بدنام کیا گیا یہ ایک معقول تجزیے کا نتیجہ نہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی بغور جائزہ لینا ہوگا کہ ماضی میں ان گروپوں کے ظہور کے اسباب کیا تھے اور ان کے سیاسی و مذہبی بیانیے  کو کس طرح مختلف حالات میں "بیانیہ سازی" (narrative building) کے  لئے عوام کے سامنے  پیش کیا گیا۔
تحقیق: ڈاکٹر نذر حافی :
خوارج کے سیاسی  تناظر میں جب ہم نبی اکرمﷺ کے غزوات کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عہدِ نبویؐ میں  کفر کے نمائندہ قائدین میں سب سے نمایاں شخصیت ابو سفیان کی تھی ۔  اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ   فتح مکہ کے  روز   ابو سفیان کے لیے سوائے بیعتِ رسولﷺ کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ اس بات کو "سیاسی ضروریات" (political necessities) کے دائرے میں سمجھا جا سکتا ہے، جہاں  قریش کے ایک  طاقتور مگر مغلوب  سردار نے اسلام کے خلاف اپنی جدوجہد کی  بقا کے لیے  بانی اسلامؐ کے ساتھ ایک "تاریخی مفاہمت" (historical compromise) کی۔ آگے چل کر  تاریخ اسلام میں یہ مفاہمت مسلمانوں کے درمیان  ایک  سیاسی  تبدیلی  کا تسلسل ثابت ہوئی۔معتبر منابع کے مطابق   خلیفہ اوّل کے دور میں ابوسفیان نے امام علیؑ کو بغاوت پر اُکسانے کی کوشش کی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قریش کے مغلوب شُدہ سردار کی طرف سے   اقتدارکے حصول کے لیے  سازش اسی دور میں شروع ہو چکی تھی   جسے  "سیاسی سازش" (political conspiracy)  کہا جاتا ہے۔
اسی طرح، خلیفہ دوم کے قتل کی واردات میں ابو لولو فیروز کا کردار بھی اہم ہے۔ ابو لولو نامی شخص تو  مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا  اور مغیرہ بن شعبہ خود آلِ ابوسفیان کا ہم نوالہ و ہم پیالہ تھا۔  یہ شخص دراصل ایک "پراکسی" (proxy) تھا جس کا استعمال خلیفہ دوّم کے خلاف  سیاسی مفادات کے  حصول کیلئے کیا گیا۔ اس کی کہانی میں ہمیں واضح طور پر  "پولٹیکل گیمز" (political games) کی جھلک ملتی ہے۔ بظاہر  وہ اپنے ذاتی مفادات کے تحت خلیفہ دوم پر حملہ کرتا ہے  لیکن اس کے پیچھے دراصل مغیرہ بن شعبہ اور بنو امیہ کے مفادات کارفرما تھے۔ صاحبانِ دانش بخوبی جانتے ہیں کہ  اس وقت تو خلیفہ دوّم نے عجمی حضرات کے مدینے میں داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ پابندی کے اس دور میں  ابولولو کو  مدینے میں رہنے کی خصوصی اجازت مغیرہ بن شعبہ کی سفارش پر ہی ملی تھی۔  اس قتل کو "پریکٹیکل اسٹرٹیجی" (practical strategy) کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے اس وقت کی رائج خلافت  میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ۔
اسی طرح، خلیفہ سوم کے خلاف ہونے والی عوامی بغاوت کو ہم "سوشیل ڈسکانٹینٹ" (social discontent) کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جو کہ ایک وسیع تر سیاسی عمل کا حصہ تھی۔ اس بغاوت میں مروان بن حکم اور بنو امیہ کے سیاسی مفادات نظر آتے ہیں، جو اسلامی خلافت کو اپنے قابو میں لانے کے خواہاں تھے۔ اس سلسلے میں امام علیؑ کے اقتدار کے آغاز  کو اُس وقت کے "سیاسی جغرافیہ" (political geography) کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مختلف سیاسی طاقتوں کے مفادات آپس میں متصادم تھے۔ یہ تصادم واضح کرتا  ہے کہ خلافت کا ملوکیت میں تبدیل ہونا ایک " باہدف حکمت عملی" (strategic agenda) تھا اور اس تبدیلی کے پیچھے کئی سالوں کی "منظم سیاسی تدابیر" (organized political maneuvering) کارفرما تھیں۔
جب امام علیؑ  کو شہید کیا گیا  تو ان کے قتل میں جو لوگ شامل تھے، وہ صرف خوارج یا ابن ملجم جیسے افراد تک محدود نہیں تھے۔ یہ ایک "سیاسی سازش" (political conspiracy) تھی جس میں ماضی کی متصادم سیاسی طاقتوں کے مشترکہ  مفادات  کا حصول شامل تھا۔ ان سب  کا  مشترکہ مقصد  علی ابن ابیطالبؑ کو راستےسے ہٹانا تھا۔ منصوبہ ساز اپنے نقشے کے مطابق  جانتے تھے کہ اس قتل کے بعد اسلامی حکومت درخت پر کسی پکے ہوئے پھل کی مانند کس کی گود میں گرے گی۔ اس کے بعد ہم اس بات کو "سیاسی تجزیہ" (political analysis) کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں کہ خوارج یا ابن ملجم نے اسلامی حکومت کے درخت پر فقط کلہاڑا چلایا لیکن اس کا پھل نہ انہوں نے چکھا  اور نہ ہی  نقشے کےمطابق اُنہیں اس پھل میں سے کچھ چکھایا جانا تھا۔ پس  خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنا کی ایک  گہری حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امام علیؑ کے قتل کا  نقشہ  ابن ملجم اور خوارج کا تیار کردہ نہیں تھا   بلکہ  خوارج تو خود کسی اور کے نقشے کے مطابق وجود میں آئے تھے۔ خوارج نے تو اپنے وجود میں لائے جانے کے ہدف کو پورا کیا اور یوں  شہادتِ امام علی ؑ کے بعد  اصلی قاتل،  اسلامی اقتدار پر قابض ہو گئے۔
 اس بات کو "سیاسی تجزیہ" (political analysis) اور "تاریخی حقیقت" (historical truth) کے تناظر میں  سمجھنا ضروری ہے۔ ان اصل قاتلوں کو بے نقاب کرنے کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے ہم نہ صرف امام علیؑ کے قتل کے محرکات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس سے جڑے وسیع تر سیاسی  مفادات اور  اثرات کا آج بھی مشاہدہ  کر سکتے ہیں۔
امام علیؑ کے قتل کے بعد جو قوتیں اقتدار میں آئیں، ان کی سیاست اور حکمت عملی یہ بتاتی ہے کہ ان کی تدابیر  نے عام افراد کیلئے  اس قتل کو  سمجھنا مزید سنگین  اور مشکل بنا دیا۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ   ماضی کے خوارج ہوں یا آج کے خوارج   جو کہ ہمیشہ   ایسی کاروائیوں کا  الزام اپنے سر لیتے ہیں  اور یہ دراصل طاقتور گروہوں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔
کربلا کے میدان میں امام حسینؑ کے خطاب کو ہم "فلسفہ آزادی" (philosophy of freedom) کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جہاں امام حسینؑ نے ابو سفیان کے پیروکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اگر تم دین سے بے بہرہ ہو اور قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اپنی دنیا میں آزاد رہو۔" اس جملے میں امام حسینؑ نے نہ صرف مذہبی آزادی کی بات کی، بلکہ انسانیت کے اس بنیادی اصول کو بھی اجاگر کیا جو سیاسی اقتدار کے غلط استعمال کو چیلنج کرتا ہے۔ امام حسینؑ نے ایک "سیاسی تجزیہ" (political critique) پیش کیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح کچھ سیاسی حکام نے اسلامی تعلیمات کو اپنی طاقت کے لیے مسخ کر دیا ہے۔
حضرت زینبؑ کا خطاب بھی کربلا کے  "سیاسی بیانیے" (political discourse) کا حصہ تھا، جس میں انہوں نے یزید کے دربار میں ابو سفیان اور اس کے خاندان کے منفی سیاسی کردار کو بے نقاب کیا۔ حضرت زینبؑ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے ہمارے آزاد کردہ غلاموں کی اولاد! تم نے اپنی مستورات کو پردے میں بٹھا رکھا ہے، جبکہ رسول اللہ کی بیٹیوں کو بے پردہ در بدر پھرا رہے ہو۔" یہ جملے ایک "سیاسی تفصیل  " (political exposition)کے متقاضی  ہیں، جو نہ صرف فتح مکّہ کے روز  ابو سفیان کی بیعت  کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں  بلکہ اس امر  کو بھی ثابت کرتے ہیں کہ  اس دور میں مذہب اور سیاست کو کس طرح گمراہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ان تمام حقائق کو غیرجانبدار ہو کر جاننا ضروری ہے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ  ان حقائق  کو کسی اور نے نہیں بلکہ ماضی کی مقتدر نام نہاد اسلامی قوّتوں نے ہی نسل در نسل اقتدار کے مرکز پر اپنی گرفت مضبوط  رکھنے کیلئے ایک منظم حکمت عملی  کے  ساتھ  رعایا سے چھپایا  ہے۔ یہ  اسی صدیوں پر محیط   منظّم حکمت عملی کا  نتیجہ ہے کہ آج پورے جہانِ اسلام میں مسلمانوں کے پاس کوئی ایک ایسی جامع الشرائط شخصیت نہیں ہے کہ جس پر ساری دنیا کے  مسلمان بطورِ ملت  جمع ہو نے کیلئے سوچیں ۔ گویا ۱۴ سو سال پہلے ہی حضرت امام علی ؑ کو شہید کر کے قیامت تک کے مسلمانوں کو منتشر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔  کیا ہم بھول گئےہیں کہ خلیفہ سوّم کے قتل کے وقت بھی ایسا ہی انتشار وجود میں آیا  تھا۔ اُس زمانے میں  لوگوں نے اس خلا کو حضرت امام علی ؑ کی بیعت  کر کے  پُر کیا تھا۔ عقلِ سلیم کا یہ فیصلہ ہے کہ   چودہ سو سال پہلے کی طرح آج بھی  اس خلا کو صرف اِس  موجودہ زمانے کا علیؑ ہی پُر کر سکتا ہے۔
چودہ سو سال کے بعد بھی ۱۹ رمضان المبارک کی شب مسلمانوں کی عقل پر دستک دیتی ہے کہ مسلمانو! اس زمانے کا خلا پُر کرنے کیلئے اس دور کا علیؑ کون ہے؟  کیا ختم النبیین ؐ یہ بتا کر نہیں گئے کہ  تھے کہ میرے بعد میرا خلیفہ کون ہے ؟ میرے بعد کتنے علی ہونگے اور آخری علیؑ کی نشانیاں کیا ہونگی؟ مطمئن رہیں کہ جب بھی ہم ماضی کی سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر اس سوال کا جواب ڈھونڈیں گے تو ہمیں اپنے زمانے کے علیؑ کا سُراغ مل جائے گا۔ اپنے زمانے کے علی ؑ کو تلاش کیجئے لیکن  یہ جان لیجئے کہ علی کے سر کے زخم اور علی کے دل کے دُکھ  دونوں کا درد برابر ہے۔ابنِ ملجم کے خنجر کے لگائے ہوئے  زخم پر رونا اور علی کےدل کے  زخموں کا احساس نہ کرنا یہ علی ؑ کو نہ پہچاننے کی نشانی ہے۔ اس لئے کہ ظاہری زخم توغیروں کو بھی نظر آتے ہیں لیکن دل کے زخموں کو فقط  جاننے والے ہی جانتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہے کوئی جو علی ؑ کے دل کے دکھوں کو جانتا ہے؟ علی ؑ کے دِل کا ایک گہرا  دکھ " علی ؑ کے چاہنے والوں کا علیؑ کے دشمنوں کی سیاست کو نہ سمجھنا ہے"۔

جنگِ بدر آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے

جنگِ بدر آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ سترہ رمضان المبارک کو جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق  کی تحلیلی نشست۔
رپورٹ:واصف رضا متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
 اس جنگ  سے اسلامی ریاست کو مضبوطی ملی اور مسلمانوں کا حوصلہ بڑھا۔پاکستان جیسی اسلامی نظریاتی ریاست کی نوجوان نسل کو غزواتِ پیغمبر میں پوشیدہ حکمتوں سے آشنا کیا جانا چاہیے۔ غزوہِ بدر کے بعد   قریش کی طاقت کمزور ہو گئی اور ان کے کئی نامور سردار مارے گئے۔ اتنی بڑی کامیابی کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے پسِ منظر  پر غوروفکر کریں۔ اس جنگ کا ایک روش پہلو قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔   کچھ  قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا گیا، جبکہ کچھ نے مسلمانوں کو تعلیم دے کر رہائی پائی۔ اس کے علاوہ   مدینہ میں اسلامی حکومت کا وقار بڑھا اور کئی قبائل نے مسلمانوں سے اتحاد کر لیا۔ تحلیلی نشست میں اس طرح کے متعدد نکات پر طلبا نے روشنی ڈالی۔
یاد رہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو قریش مکہ مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مدینے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی دوران، مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان ایک بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے مکہ واپس جا رہا ہے، جس میں قریش کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ مسلمانوں نے قافلے کو روکنے کا ارادہ کیا، لیکن ابو سفیان کو خبر ہو گئی اور اس نے مکہ سے مدد طلب کی۔ چنانچہ قریش نے ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کر دیا۔اس پسِ منظر کے ساتھ جنگ بدر سترہ رمضان المبارک ۲ ھجری بمطابق کو مدینہ کے قریب بدر کے مقام پر ہوئی ۔ یہ اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی، جو مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان لڑی گئی ۔اس جنگ میں قریش کے ۷۰ افراد قتل ہوئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا، جبکہ ۷۰قیدی بنائے گئے۔ یوں مسلمانوں نے اللہ کی مدد اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی کے تحت شاندار فتح حاصل کی۔ مسلمانوں کے صرف ۱۴ افراد شہید ہوئے۔ 





 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...