زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 26 دسمبر، 2025

تحقیق کی اصطلاح کا غلط استعمال

تحقیق کی اصطلاح  کا غلط استعمال
ڈاکٹر نذر حافی
علم کی تلاش انسانی شعور کی سب سے بنیادی اور لازمی جستجو ہے۔ انسان فطرتاً تجسس و معرفت کا حامل ہے۔اس تجسس و معرفت کی جستجو کے  تین  اہم پہلو ہیں: مطالعہ ، تحقیق اور تالیف۔ اگرچہ تینوں  ایک دوسرے سے مربوط ہیں، مگر ان کے  طریقہ کار اور نتائج  میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
تحقیق ایک منظم، مربوط اور  بامقصد عمل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تحقیق محض خیالات کی بے ترتیب، یا  ترتیب شُدہ پیش کش یا معلومات کی اندھا دھند جمع آوری نہیں ہوتی بلکہ متعین ہدف کے تحت شواہد کی واضح ترتیب اور  باہمی منطقی و مفہومی  ربط سے نتائج تک پہنچنے کا نام تحقیق ہے ۔عصرِ حاضر کے علمی منظرنامے میں یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ بعض اہلِ علم حضرات لفظ تحقیق کو بے محل استعمال کر کے مفہومی خلط کا سبب بن رہے ہیں۔ اس خلط کے باعث اکثر طلبا  کئی سالوں تک یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ تحقیق کسے کہتے ہیں؟  چند اوراق کی نقل، چند مصادر کی ترتیب اور چند اقتباسات کی آمیزش کو تحقیق کا نام دینا، درحقیقت تحقیق کے مفہوم سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ تحقیق جمعِ مطالب کے بجائے  نظمِ افکار، ضبطِ منہج اور تہذیبِ استدلال کا نام ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ تحقیقی عمل کا سوال سے آغاز، فرضیے پر قیام اور آزمائش پر انجام ہوتا ہے۔ یہ عمل کبھی  حقیقت کی تلاش کیلئے اور کبھی صداقت کی توضیح کیلئے انجام پاتاہے۔ ہر علم میں اگرچہ تحقیق کے اصول مختلف ہوتے ہیں، تاہم ضبطِ طریق اور التزامِ منہج تحقیق کی مشترک بنیاد ہیں۔
تحقیق کو سمجھنے کیلئے اس کا مطالعہ کرنے کے ساتھ جو فرق ہے وہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔ تحقیق کے برعکس مطالعہ، فہمِ متن اور افزائشِ معلومات کا وسیلہ ہے۔ مطالعہ نظر کو وسعت دیتا ہے جبکہ تحقیق نظر کو جہت و سمت عطا کرتی ہے،  مطالعہ ذہن کو کچھ نیا سمجھنے کیلئے آمادہ کرتا ہے  جبکہ تحقیق ذہن کو سمجھنے کیلئے  منظم بناتی ہے۔ پس مطالعہ اور تحقیق کو مترادف سمجھنا نہ علمی ہے نہ منطقی۔  عام طور پر مطالعے کی رپورٹ کو تحقیق کہہ دیا جاتا ہے۔ مطالعے کی رپورٹ ایک علمی دستاویز ہے جس میں کسی موضوع پر موجود کتابوں، ماخذات  اور  مواد کا اقتباسات، مفاہیم  اور تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد طلبا یا قاری کو موضوع کی موجودہ معلومات سے روشناس کرانا اور سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اگرچہ مطالعے میں تلاش اور جستجو ضرور شامل ہوتی ہے لیکن  یہ عمل تحقیق کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ اس میں منظّم طریقہ کار،  سوال، فرضیہ اور تجرباتی یا منطقی جانچ کی خصوصیات موجود نہیں ہوتیں۔ یوں مطالعے کی رپورٹ  کو تحقیق کہنا یا سمجھنا  اتنا ہی غلط ہے جتنا کسی مطالعہ کرنے والے شخص کو محقق سمجھنا یا کہنا غلط ہے۔
یاد رہے کہ جامعات میں طلبا سے جو درسی رپورٹس یا مقالات طلب کیے جاتے ہیں، ان کا مقصد استنباطِ نتائج یا اثباتِ نظریات  کے بجائے “ تتبعِ منابع اور مشقِ مطالعہ” ہوتا ہے۔ ایسی تحریریں علمی تربیت کا  ابتدائی ذریعہ ہوتی ہیں لیکن بعض افراد انہیں  تحقیق کا بدل سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ جب تک طالبِ علم اصولِ تحقیق سے بہرہ مند نہ ہو، اس سے تحقیقی کاوش کی توقع عبث ہے۔
یہاں پر اس عبارت “ تَتَبُّعِ الْمَنَابِعِ وَ مَشْقِ الْمُطَالَعَةِ” کی مزید وضاحت ضروری ہے۔ جامعات میں طلبا سے جو درسی رپورٹس یا مقالات طلب کیے جاتے ہیں، ان کا بنیادی مقصد طلبا کو ایک تمرین کے طور پر  تحقیقی طریقہ کار سے روشناس کرانا اور ان میں مطالعہ و جستجو کی صلاحیت پیدا کرنا ہوتا ہے  نہ کہ ان سے باقاعدہ تحقیقی نتائج یا  کسی علمی نظریے کی تولید کی توقع رکھی جاتی ہے۔
تَتَبُّعِ الْمَنَابِعِ سے مراد یہ ہے کہ طالبِ علم مختلف کتب، مقالات اور مستند ماخذ کی تلاش کرے، ان کا مطالعہ کرے اور متعلقہ مواد کو جمع کر کے منظم انداز میں پیش کرے۔ اس مرحلے پر سارا  زور معلومات کی تلاش اور درست حوالہ جات کے استعمال پر ہوتا ہے، نہ کہ طالب علم کے  ذاتی تجزیے یا فیصلے پر۔
مَشْقِ الْمُطَالَعَةِ  ﴿مشقِ مطالعہ﴾  کا مقصد طلبا کو علمی متون کو سمجھنے، ان کے اہم نکات اخذ کرنے اور انہیں مربوط انداز میں تحریر کرنے کی عادت ڈالنا  ہوتاہے۔ اس عمل کے ذریعے طالبِ علم کے فہم، زبان اور اظہار کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اب آئیے تحقیق کی طرف۔ تحقیق کا مقصد  “ استنباطِ نتائج” ہوتا ہے۔ اس میں محقق دستیاب شواہد، دلائل اور تجزیے کی بنیاد پر کسی واضح نتیجے تک پہنچتا ہے۔ اس عمل میں جمع شُدہ معلومات کی منطقی، تاریخی و مفہومی تہذیب   و ترتیب سے  معقول نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ استنباطِ نتائج کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں۔۱۔ تحقیقی منہج ۲۔ تجزیاتی مہارت ۳۔علمی پختگی
 ۱۔  تحقیقی منہج ۔  ایک ایسا  منظم اور مقررہ طریقہ  جس کے تحت محقق مسئلے کی تحقیق کرتا ہے۔ اس میں سوالات کی تشخیص، مواد کا انتخاب، ڈیٹا کی جمع آوری، تجزیہ اور نتائج کی ترتیب شامل ہوتی ہے۔ بغیر تحقیقی منہج کے، محقق کا استنباط غیر منطقی یا بے بنیاد ہو سکتا ہے۔
۲۔تجزیاتی مہارت: تجزیاتی مہارت کو Analytical Skill بھی کہتے ہیں۔  یہ ایک ایسی علمی صلاحیت ہے جو محقق یا طالب علم کو مواد یا ڈیٹا کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔ اس میں سب سے پہلے معلومات کی تفہیم شامل ہے، یعنی مواد کو غور سے پڑھنا، اہم نکات کو پہچاننا اور غیر ضروری معلومات کو الگ کرنا۔ اس کے بعد اس صلاحیت کے ذریعے محقق مختلف عوامل کے باہمی تعلقات اور اثرات کو جانچتا ہے، تاکہ منطقی اور مستند نتائج اخذ کیے جا سکیں۔
مزید برآں، تجزیاتی مہارت محقق کو مواد کو منظم انداز میں تقسیم کرنے اور اس کا منطقی تجزیہ کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے معلومات کو ترتیب دینا اور ان سے درست استنباط کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ آخر میں، یہ مہارت نتائج اخذ کرنے میں معاون ہوتی ہے، یعنی دستیاب شواہد اور دلائل کی بنیاد پر معقول اور غیر جانبدارانہ نتائج تک پہنچنا۔ یوں، تجزیاتی مہارت تحقیق کی کامیابی اور علمی نتائج کی درستگی کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔
۳۔ علمی پختگی :  علمی پختگی  کا دوسرا نام Scholarly Maturity ہے۔ یہ صلاحیّت  کسی محقق یا طالب علم کو معلومات کے معیار اور اہمیت کو پرکھنے، نتائج کو منطقی انداز میں سمجھنے اور علم کے مختلف پہلوؤں میں متوازن فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ محقق دستیاب شواہد اور دلائل کا بغور تجزیہ کرے، مختلف نظریات اور نتائج میں توازن برقرار رکھے، اور اپنے نتائج یا رائے میں غلط فہمی، تعصّب یا قیاس سے بچتے ہوئے معروضی اور مستند فیصلہ کرے۔
مثال کے طور پر، اگر ایک محقق شہری نوجوانوں میں مطالعے کی عادت اور سوشل میڈیا کے اثرات کا مطالعہ کر رہا ہے، تو علمی پختگی کی مدد سے وہ ہر ڈیٹا پوائنٹ کو بغور پرکھے گا، مختلف عوامل کے اثرات کو محتاط انداز میں جانچے گا، اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے شواہد کی مکمل جانچ کرے گا۔ یوں، علمی پختگی تحقیق کے معیار اور ساکھ کو برقرار رکھنے اور قابل اعتماد نتائج تک پہنچنے کے لیے لازمی جزو ہے۔
سادہ الفاظ میں  تجزیاتی مہارت”کیسے تجزیہ کرنا ہے” سکھاتی ہے اور  علمی پختگی “ کس چیز کا  تجزیہ کرنا چاہیے، کسے تجزیہ کہتے ہیں  اور تجزیے کے دوران  کس طرح معروضی رہنا ہے”  سکھاتی ہے۔
اسی طرح اثباتِ نظریات سے مراد کسی نظریے یا فرضیے کو دلیل، شواہد اور منظم تجزیے کے ذریعے درست ثابت کرنا یا رد کرنا ہے۔ یہ مرحلہ اعلیٰ سطح کی تحقیق سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں سوال، فرضیہ اور آزمائش جیسے تحقیقی اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کا کام عام طور پر وہی شخص انجام دے سکتا ہے جو تحقیق کے اصول و قواعد سے باقاعدہ طور پر واقف ہو۔
اب اسے ایک مثال سے سمجھئے:
اگر کسی طالبِ علم کو “اسلامی معاشرے میں تعلیم کی اہمیت” پر درسی رپورٹ لکھنے کو کہا جائے تو  وہ مختلف کتابوں اور مضامین سے متعلقہ مواد جمع کرے گا (تتبعِ منابع)، اس مواد کو سمجھ کر منظم انداز میں پیش کرے گا (مشقِ مطالعہ)۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جائے گی کہ  وہ تعلیمی پسماندگی کے اسباب پر حتمی نتائج اخذ کرے (استنباطِ نتائج)، یا کسی نئے تعلیمی نظریے کو سائنسی انداز میں ثابت کرے (اثباتِ نظریات)۔
 اس کے بعد تحقیق اور تالیف کے درمیان فرق کو سمجھنا  بھی انتہائی ضروری ہے۔تالیف، لغوی اعتبار سے تالیفِ قلوب کی مانند، مختلف افکار کو یکجا کر کے ایک منظم قالب میں ڈھالنے کا نام ہے۔ اس میں محنت، حوصلہ اور ترتیب شرطِ اوّل ہیں۔ تاہم مؤلف اور محقق کے مابین کام کی  نوعیت کا فرق ہے۔مؤلف مصادر سے مواد اخذ کر کے اسے حسنِ ترتیب کے ساتھ پیش کرتا ہے جبکہ محقق مواد کو پرکھتا ہے، دلیل سے تولتا ہے اور فکر کی کسوٹی پر پرکھ کر نتائج اخذ کرتا ہے۔ محقق نہ صرف ناقلِ علم نہیں بلکہ خالقِ معنی  اور ناقدِ علمی ہوتا ہے،  وہ یا تو نظریہ قائم کرتا ہے، یا قائم شدہ نظریے کو دلیل سے مستحکم یا ردّ کرتا ہے۔نظریہ پردازی ذہنی استحکام، فکری گہرائی اور منہجِ محققانہ کی طالب ہے۔ اگرچہ تتبع و کاوش تحقیق کا دیباچہ بن سکتے ہیں، مگر محض جمع آوری کو تحقیق کہنا اہلِ علم کے شایانِ شان نہیں۔
 اس کے بعد اب ہم  قارئین کہ سہولت کیلئے تحقیق کی کچھ اقسام کا بھی ذکر کئے دیتے ہیں:
اہلِ منہج نے تحقیق کی متعدد اقسام بیان کی ہیں، تاہم علومِ سماجی و سیاسی میں تحقیق کو عموماً تین بنیادی صورتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ۱۔ اکتشافی تحقیق ۲۔ توصیفی تحقیق ۳۔ تبیینی تحقیق
۱۔ اکتشافی تحقیق
اکتشافی تحقیق کا مقصد مجہول کو معلوم بنانا اور مبہم کو واضح کرنا ہے۔ یہ تحقیق سوال کا آغاز تو ہے، مگر جواب کا اختتام نہیں۔ اس میں فرضیہ نہیں باندھا جاتا بلکہ مسئلے کا اجمالی خاکہ مرتب کیا جاتا ہے۔ یہ تحقیق فکر کو وسعت دیتی ہے اور تحقیقِ عمیق کے لیے زمین ہموار کرتی ہے۔ باالفاظِ دیگر اکتشافی تحقیق کا مقصد کسی ایسے مسئلے یا مظہر کی ابتدائی تفہیم حاصل کرنا ہوتا ہے جس کے بارے میں خاطر خواہ معلومات موجود نہ ہوں۔ اس نوع کی تحقیق محقق کو موضوع کے بنیادی خد و خال سے آگاہ کرتی ہے اور آئندہ تفصیلی تحقیق کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ اس میں عموماً کوئی فرضیہ قائم نہیں کیا جاتا بلکہ مسئلے کا عمومی اندازہ پیش کیا جاتا ہے۔
 ۲۔توصیفی تحقیق
توصیفی تحقیق کا ہدف حقیقت کی تصویر کشی ہے، نہ کہ اس کی تعبیر یا تعبیر پر حکم۔ اس میں مظاہر کی حدود، اوصاف اور ابعاد کو معروضی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تحقیق “کیا ہے” کا جواب دیتی ہے، “کیوں ہے” کا نہیں۔
 ۳۔تبیینی تحقیق
تبیینی تحقیق، جو تحقیقِ علمی کی معراج سمجھی جاتی ہے، متغیرات کے مابین علت و معلول کے روابط کی جستجو کرتی ہے۔ اگرچہ علومِ سماجی میں یہ روابط قطعی نہیں بلکہ احتمالی ہوتے ہیں، تاہم منہجِ استدلال اور ترتیبِ آزمائش اس تحقیق کو دیگر اقسام پر فوقیت عطا کرتی ہے۔ اسی لئے تبیینی تحقیق کو  سائنسی تحقیق بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں سوال، فرضیہ اور آزمائش کے مراحل واضح طور پر موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک سنجیدہ محقق کے لیے تبیینی تحقیق کی صلاحیت کا حصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تحقیق کی جامع تعریف درحقیقت اسی نوع پر صادق آتی ہے۔
المختصر یہ کہ مطالعہ ہمیں موجودہ علم کے بحر سے روشنی حاصل کرنے کی قوت عطا کرتا ہے، ذہن کو وسعت بخشتا اور ادراک کو تازگی دیتا ہے، مگر یہ روشنی محض معلومات کی روشنی ہوتی ہے، جو حقیقت کی گہرائیوں تک نہیں پہنچتی۔ تحقیق اس روشنی کو اندھیروں میں لے جانے والا چراغ ہے، جو سوالات کو غور و فکر کی طاقت عطا کرتا ہے، فرضیات کو آزمایش کے شکنجے میں پرکھتا، اور علم کی حقیقت تک پہنچنے کا راستہ روشن کرتا ہے۔ یہ دلائل، ثبوت اور تنقیدی سوچ کے ذریعے نئی بصیرت اور علمی تخلیق کی بنیاد رکھتا ہے۔ تالیف اس شعاع کو منظم اور ہم آہنگ شکل دینے کا فن ہے، جو مختلف ذرائع کی معلومات کو یکجا کر کے علم کی مکمل اور مربوط تصویر پیش کرتی ہے۔ اگر مطالعہ بنیاد ہے، اور تحقیق علم کی گہرائی و حقیقت کی روح ہے، تو تالیف اس علم کی جمالیات اور ترتیب ہے، جو قارئین کے لیے علم کو قابل فہم اور اثر پذیر بناتی ہے۔ یوں مطالعہ، تحقیق اور تالیف ایک دوسرے  سے مختلف بھی ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر نامکمل بھی۔ ایک روشنی دیتا ہے، دوسرا اسے حقیقت میں بدلتا ہے، اور تیسرا اسے حسن و ہمواری کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تینوں کو تحقیق کہہ دینا یہ تحقیق کی اصطلاح کا غلط استعمال ہے، اس غلط استعمال کی  وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔


جمعرات، 25 دسمبر، 2025

صحابہ کرامؓ

بدھ، 24 دسمبر، 2025

Artificial Intelligence سے ایک مکالمہ

Artificial Intelligence سے ایک مکالمہ   
پروفیسرسید امتیازعلی رضوی : 
جدید دور، مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence کا دور ہے۔ اس کی بدولت ہمارے بہت سے روزمرہ کے کام آسان ہو رہے ہیں۔ لیکن شاید ہم یہ سوچتے نہیں کہ ان AI ماڈلز کی علمی تربیت بھی انسانوں نے ہی کی ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے انہیں مسلسل مزید تربیت کی ضرورت ہے۔ شب 21 رمضان کو جب میں نہج البلاغہ سے امام علی علیہ السلام کے وصیت ناموں کا مطالعہ کر رہا تھا، تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ AI ٹولز کو بھی اس مطالعہ میں شامل کیا جائے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اس سوچ کے تحت میں نے AI ٹول کے ساتھ ایک مکالمہ کیا، جو نہایت دلچسپ اور معلوماتی ثابت ہوا۔ اس مکالمے کو میں یہاں عام فائدے کے لیے پیش کر رہا ہوں، تاکہ ہم سب کو یہ بات سمجھ میں آ سکے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کاموں میں تیزی اور پھرتی تو آ جاتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی انسانی ذہانت کا متبادل نہیں بن سکتی۔
 مکالمہ کچھ یوں تھا: 
میرا سوال: نہج البلاغہ میں کتنے خطبات اور مکتوبات وصیت کے عنوان سے ہیں؟
 ‏AI ٹول کا جواب: نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے ایک خاص خطبہ شامل ہے، جو امام علی علیہ السلام کی وصیت پر مشتمل ہے۔ 
میرا سوال: وصیت کے عنوان سے کون سا خطبہ ہے؟ ‏
AI ٹول کا جواب: نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے خطبہ نمبر 47 شامل ہے، جو امام علی علیہ السلام کی وصیت پر مشتمل ہے۔ یہ وصیت امام علی علیہ السلام نے اپنے بیٹوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو کی تھی۔ اس وصیت میں آپ نے اپنے بیٹوں کو تقویٰ، عدل، اور اخلاقی اقدار کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ وصیت نہج البلاغہ کے 
خطبات کے حصے میں شامل ہے اور امام علی علیہ السلام کی گہری حکمت اور رہنمائی کا عکاس ہے۔ 
میرا سوال: یہ تو مکتوبات کے حصے میں ہے، خطبات میں نہیں ہے۔ اپنی اصلاح کیجیے۔
 AI ٹول کا جواب: آپ بالکل درست فرمارہے ہیں۔ وصیت کے عنوان سے جو متن میں نے پیش کیا، وہ دراصل مکتوب (خط) ہے، نہ کہ خطبہ۔ نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے کوئی الگ خطبہ نہیں ہے، بلکہ یہ وصیت امام علی علیہ السلام کے مکتوبات کے حصے میں شامل ہے۔ اگر آپ کو نہج البلاغہ کے خطبات میں وصیت کے عنوان سے کوئی خاص خطبہ درکار ہے، تو وہ نہیں ہے۔ وصیت کا یہ متن مکتوبات کے حصے میں شامل ہے۔ معذرت خواہ ہوں کہ پہلے جواب میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ امید ہے کہ اب تفصیل واضح ہوگئی ہوگی۔ اگر مزید سوالات ہوں تو ضرور پوچھیں۔
میرا سوال: وصیت کے نام سے اور بھی مکتوب ہیں۔ کیا آپ کے علم میں ہے؟ ‏
AI ٹول کا جواب: جی ہاں، نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے ایک اور مکتوب بھی شامل ہے، جو مکتوب نمبر 24 ہے۔ یہ وصیت امام علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو کی تھی۔ اس وصیت میں بھی آپ نے اپنے بیٹے کو تقویٰ، عدل، اور اخلاقی اقدار کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے مکتوب نمبر 24 اور مکتوب نمبر 47 شامل ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی ایک کی مزید تفصیل درکار ہو تو ضرور بتائیں۔ 
میرا سوال: کیا ان دونوں کے علاوہ بھی کوئی مکتوب وصیت کے عنوان سے ہے؟ ‏
AI ٹول کا جواب: جی ہاں، نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے ایک اور مکتوب بھی شامل ہے، جو مکتوب نمبر 31 ہے۔ یہ وصیت امام علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو کی تھی۔ نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے مکتوب نمبر 24، مکتوب نمبر 31، اور مکتوب نمبر 47 شامل ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی ایک کی مزید تفصیل درکار ہو تو ضرور بتائیں۔ 
میرا سوال: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ مکتوب 24 اور مکتوب 25 بھی وصیت کے عنوان سے ہیں۔ ‏
AI ٹول کا جواب: جی ہاں، آپ بالکل درست ہیں۔ مکتوب 24 اور مکتوب 25 دونوں وصیت کے عنوان سے نہج البلاغہ میں شامل ہیں۔ میں نے پہلے صرف مکتوب 24 اور 31 کا ذکر کیا تھا، لیکن مکتوب 25 بھی وصیت کے عنوان سے ہے۔ 
میرا سوال: اب بتائیں کہ کتنے مکتوب وصیت کے عنوان سے ہیں؟ ‏
AI ٹول کا جواب: نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے تین مکتوبات شامل ہیں: 24, 25 اور 47۔ 
میرا سوال: مکتوب 23 اور 31 کو کیوں اس فہرست میں شامل نہیں کیا؟ کل پانچ مکتوب وصیت کے عنوان سے نہج البلاغہ میں ہیں۔ ‏ AI ٹول کا جواب: آپ کی وضاحت کے لیے شکریہ۔ آپ بالکل درست ہیں کہ نہج البلاغہ میں وصیت کے عنوان سے کل پانچ مکتوبات شامل ہیں۔ میں نے پہلے صرف تین مکتوبات (24، 25، اور 47) کا ذکر کیا تھا، لیکن مکتوب 23 اور مکتوب 31 بھی وصیت کے عنوان سے ہی ہیں۔ 
میرا سوال: آپ ایسی غلطیاں کیوں کرتے ہیں؟ ‏
AI ٹول کا جواب: میں آپ کی ناراضی اور پریشانی کو سمجھتا ہوں اور اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ میرے جوابات میں غلطیوں کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے، یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں درست اور مکمل معلومات فراہم کروں۔ 
غلطیوں کی ممکنہ وجوہات: 
1. ڈیٹا کی پیچیدگی: نہج البلاغہ ایک وسیع اور گہرا متن ہے، جس میں خطبات، مکتوبات، اور حکمت بھرے اقوال شامل ہیں۔ بعض اوقات ان کی درجہ بندی اور تفصیلات کو صحیح طور پر پیش کرنے میں چوک ہو جاتی ہے۔ 
2. انسانیت کا عنصر: میں ایک AI ماڈل ہوں، لیکن پھر بھی میں انسانوں کی طرح کامل نہیں ہوں۔ بعض اوقات معلومات کو غلط سمجھ لیتا ہوں یا انہیں صحیح طور پر ترتیب نہیں دے پاتا۔ 
3. سوال کی وضاحت: بعض اوقات سوال کی وضاحت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے میں صحیح جواب نہیں دے پاتا۔ اگر سوال میں مزید تفصیلات شامل ہوں تو میں بہتر جواب دے سکتا ہوں۔ 
میں کس طرح بہتر کر سکتا ہوں؟ 
1. مزید تحقیق: میں آپ کے سوالات کے جوابات دیتے وقت مزید محتاط ہوں گا اور معلومات کو دوبارہ چیک کروں گا۔ 
2. آپ کی رہنمائی: اگر آپ میرے جوابات میں کوئی غلطی محسوس کریں تو براہ کرم مجھے بتائیں، تاکہ میں اسے درست کر سکوں۔ 
3. مزید وضاحت: اگر میرے جوابات میں کچھ واضح نہ ہو تو براہ کرم مجھے مزید وضاحت کے ساتھ سوال کریں، تاکہ میں بہتر جواب دے سکوں۔ 
میں آپ کی رہنمائی اور تعاون کی قدر کرتا ہوں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے کوئی غلطی کی ہے تو براہ کرم مجھے بتائیں، تاکہ میں اسے درست کر سکوں اور آپ کو بہتر خدمت پیش کر سکوں۔ آپ کی مدد سے میں بہتر ہو سکتا ہوں۔
ہمارے بارے میں مزید جانئے

عِلم کی کثرت اورحِکمت کی قلت

عِلم کی کثرت اور حِکمت کی قلت
﴿حاصلِ مطالعہ﴾
ڈاکٹر نذر حافی
انسان ایک مقصد کے تحت پیدا ہوا ہے۔ خود اس کی پیدائش ایک مقصد تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ اُس  مقصد تک پہنچنے کے لیے اسے جتنی ضرورت  علم کی ہے اُتنی ہی  اجتماعی و معاشرتی تجربات کی بھی۔ اجتماعی و معاشرتی تجربات  کی عملی شکل کا نام ٹیم ورک  ہے۔ پس ہر انسان کو بیک وقت تعلیمی نور  اور ٹیم ورک کے   شعور دونوں کی ضرورت ہے۔ٹیم ورک  اور تعلیم کے امتزاج کے دعوے  آپ نے بھی بہت سُنے ہوں گے۔ ایسے دعوے خود بخود فرد کو مکمل اور معاشرے کو متوازن نہیں کرتے۔ ان دعووں کو سچ ثابت کرنے کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیم ورک  کے بغیر تعلیم ایسی روشنی ہے جو دیواروں سے ٹکرا کر بکھر جاتی ہے ۔ علم جب اجتماع کے کام نہ آئے تو وہ اُس چراغ کی مانند ہے جو کسی کی راہوں میں روشنی نہیں بکھیرتا۔ایسا علم  معاشرے کے ہاتھوں پر خوش قسمتی کی  کوئی لکیر کھینچے بغیر   فرد  کی تجوریوں کو بھرتا رہتا ہے اور  ایسی تعلیم قومی و اجتماعی  زندگی کے میدان میں ہمیشہ بے وُقعت اور بے وزن  ثابت ہوتی ہے۔ جہاں تک ٹیم ورک  اور تعلیم کے امتزاج کی بات ہے تو  یاد رکھئے کہ  ایک مستحکم ارادے، مسلسل مشق اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھائے بغیر  تعلیم اور ٹیم ورک  کا امتزاج ممکن ہی نہیں۔ٹیم ورک  سے محروم تعلیم انسان کو بولنا تو سکھا دیتی ہے لیکن توجہ سے  سننا ، گہرائی میں اُتر کر  سوچنا  اور دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا نہیں سکھاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غیر ٹیم ورک کے تعلیم یافتہ  شخص اپنی  "دانائی کا مرکز" خود کو ہی سمجھنے لگتا ہے اور اُس کا علم، خدمت کے بجائے برتری کے احساس میں ڈھل جاتا ہے۔ بغیر ٹیم ورک کے زندگی کے کچھ پڑھا لکھا ہوا  آدمی  چونکہ ٹیم کی اہمیّت کو نہیں سمجھتا چنانچہ  اُس کے سامنے    اختلافِ رائے  کا اظہار  اصلاح و  ارتقا    کے  کے بجائے  جنگ و جدال کا سبب  بن جاتا  ہے۔ اس کیفیت میں معاشرہ اہلِ علم سے فیض پانے کے بجائے ان کے باہمی ٹکراؤ کا  مشاہدہ کرتا ہے  جیسا کہ ہمارے ہاں آج کل عام ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ٹیم ورک  کے بغیر  سماجی ارتقا میں تسلسل  پیدا نہیں ہوتا۔  بغیر ٹیم ورک کے سماج میں  ہر فرد اپنی فہم کے مطابق ایک نیا  ایجنڈا رکھتا ہے اور ہر روز اپنے کاموں کا  ایک نیا آغاز کرتا ہے۔ اس طرح  کے   ماحول میں کسی کو بھی کوئی مشترکہ نتیجہ نہیں ملتا۔  نسل در نسل  نہ تجربہ منتقل ہوتا ہے، نہ غلطیوں سے اجتماعی  تجربہ کشید ہوتا ہے، اور نہ ہی نئی نسل  اپنی تاریخ کی منظم وارث بن پاتی ہے اور  یوں چراغ سے چراغ جلانے کا ہنر گُم ہو جاتا ہے۔ ٹیم ورک  نہ ہو تو ایسی تعلیم کردار سازی کے بجائے محض معلومات کا انبار بننے لگتی ہے۔ ایسی معلومات کے باعث  وقت کے ساتھ ساتھ انسان  بہت کچھ جاننے لگتا ہے مگر  وہ خود کچھ بھی  نہیں بن پاتا،  اور بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے لیکن خود  سنور نہیں پاتا۔ وجہ یہ ہے کہ  ٹیم ورک  کے بغیر علم   سماج  کی زمین پر نہیں اترتا، اس لیے وہ عمل کا پھل دینے کے بجائے ذہن کے ذخیرے میں سوکھ جاتا ہے۔مزید یہ کہ ٹیم ورک  سے عاری تعلیم معاشرتی ذمہ داریوں  کا شعور پیدا نہیں کرتی اور  فرد اپنے علم کو ذاتی کامیابی کا زینہ بنا نے کے بعد  اجتماعی  ارتقا کا راستہ بھول جاتا ہے۔ اُس کا علم خدمت کے بجائے مسابقت، اور تعاون کے بجائے مقابلہ آرائی میں صرف ہونے لگتاہے، جس سے معاشرہ علماکی کثرت کے باوجود حکمت کی قلت کا شکار رہتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم ورک  کے بغیر تعلیم ایک بکھری ہوئی کتاب ہے، جس میں گہرائی تو ہوتی ہے مگر گیرائی نہیں، روشنی تو ہوتی ہے مگر حرارت نہیں، آواز تو ہوتی ہے مگر ہم آہنگی نہیں۔ تعلیم کو  اثر، دوام اور ثمر عطا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیم ورک  کے قالب میں ڈھلے، تاکہ علم فرد کی اصلاح سے آگے بڑھ کر اجتماع کی تربیّت کا ذریعہ بن سکے۔
ٹیم ورک  نام ہے معتدل مزاجی اور تحمل کے جمع ہونے   کا۔ یہی  دو عنصر ﴿ معتدل مزاجی اور تحمل﴾ تعلیم و ٹیم ورک  کے امتزاج کے بنیادی اوصاف ہیں۔ سختی اور جبر کے بجائے  خود احتسابی اور اصلاح کے ساتھ حق کی پاسبانی کرنا  ٹیم ورک  کی تربیّت کا لازمہ ہے۔ تعلیم انسان کو سوچنا سکھاتی ہے اور ٹیم ورک  اسے مل کر چلنا ۔ ٹیم ورک  کے دوران اپنے موقف پر قائم رہنا  اور   اختلافِ رائے  کا احترام وہ اخلاقی زینت ہے جو تعلیم کو عمل کا لباس پہناتی ہے۔ البتہ محتاط رہیں کہ اگر ٹیم ورک   انسان کو  دلیل و منطق کے بجائے   اندھی تقلید پر لگا دے تو  یہ انتہا پسندی کا راستہ ہے۔ ایسی انتہا پسندی کسی کو صرف ذاتی تشہیر یا شخصی مفاد کا فائدہ دے سکتی ہے اور بس۔  بصیرت رکھنے والا کارکن وہ ہے جو تعلیم سے حاصل شدہ فہم کو ٹیم ورک  کے نظم میں ڈھالتا ہے اور ٹیم ورک  کو خود احتسابی اور اصلاح کے ذریعے زندہ رکھتا ہے، نہ کہ اسے ذاتی شناخت یا  شخصی مفادات  کی سیڑھی بناتا ہے۔
کہیں بھی ٹیم ورک  کے دوران  شخصیت پرستی اور غیر مشروط اطاعت اس وقت جنم لیتی ہیں جب  اس میں نظریاتی تربیّت کی روشنی مدھم اور انتہا پسندوں کی گرفت سخت ہو جاتی ہے۔ ٹیم ورک  کی  تربیّت سوال کرنا سکھاتی ہے اور تعلیم مشورہ مانگنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ جہاں سوال زندہ، مشورہ معتبر اور اصلاح ممکن  ہو، وہاں ٹیم ورک  پختہ ہوتا ہے  لیکن  جہاں اختلاف کو جرم سمجھا جائے، وہاں فکری جمودٹیم ورک   کی روح کو بھی گھائل کر دیتا ہے۔
یہ کبھی فراموش نہ کریں کہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق سے آگاہ کرتی ہے اور ٹیم ورک  اسے دوسروں کے حقوق کا لحاظ سکھاتی ہے۔ بولنے کا حق، سوچنے کی آزادی اور اجتماعی سرگرمی میں شرکت کا موقع اسی توازن سے جنم لیتا ہے۔ اپنے ٹیم ورک  سے محبت، دوسروں کی نفی کا نام نہیں۔ ٹیم ورک  و تعلیم دونوں کے ساتھ  اصل وفاداری یہ ہے کہ خود احتسابی اور اصلاح کے ذریعے  معاشرے میں بھلائی، اچھائی اور عزت بانٹی جائے کیونکہ احترام ِ باہمی کی فصل تعلیم سے جنم لیتی اور ٹیم ورک  میں پروان چڑھتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ وہی ٹیمیں عروج پاتی ہیں جن کے افراد خود احتسابی و اصلاح کے خوگر ہوں۔ ایسی ٹیموں میں اخلاق ضبط بن جاتا ہے اور نظم زندگی کا اصول۔ اس کے برعکس جہاں تعلیم سطحی ، تربیّت برائے نام اورٹیم  کے  ممبران جذباتی ہوں،  وہاں عروج جھاگ کی مانند ابھرتا اور غائب ہوتا رہتا ہے۔
خود احتسابی اور اصلاح ، تعلیم و ٹیم ورک  کے مابین  ربط کی روح ہیں ۔ تعلیم بغیر اصلاح کے  اعدودوشمار کا ملغوبہ بن جاتی ہے اور ٹیم ورک  بغیر احتساب  و نظرِ ثانی کے  زندان۔  یوں سمجھئے کہ  تعلیم فرد کو سنوارتی ہے اور ٹیم ورک  معاشرے کو۔  ٹیم ورک  کے دوران   سینئرافراد  کو خاص طور پر  اراکین کے درمیان  یہ سوچنے اور سمجھنے کا   اہتمام کرتے رہنا  چاہیے کہ استاد اور متربی کا رشتہ ہو یا قائد اور کارکن کا ، صبر، تدریج اور مسلسل محنت کے بغیر یہ رشتہ ثمر آور نہیں ہو سکتا۔
جیسے فقط تعلیم انسان کو کمال تک نہیں پہنچاتی اُسی طرح ٹیم ورک   کے دوران  افراطیت یا انتہا پسندی بھی انتہائی مہلک ہے۔ فیکٹ چیکنگ،  افکار و نظریات کی جانچ، اور سوال  اُٹھائے  بغیر  کسی فرد یا گروہ کی  اندھی تقلید کرنا  انتہا پسندی ہے۔ ایسی ہی  انتہا پسندی کے شکار  افراد موقع ملنے پر اپنی ٹیم کے حق میں حد سے تجاوز  اور  دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو  اکثر اوقات ٹیم ورک  کو اپنی  ذاتی شہرت یا اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے بھی   نظر آتےہیں۔ اس رجحان کے حامل افراد  میں خود بھی خود  احتسابی اور اصلاح کی گنجائش کمزور ہو جاتی ہے، وہ   منطقی اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے دباؤ یا جبر کے ذریعے اپنی رائے کو  دوسروں پر   زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابتدا میں اُن کی  ایسی  سرگرمیاں  بعض لوگوں کو  متاثر کرتی ہیں لیکن ان کا طویل مدتی نقصان  یقینی ہوتا ہے۔ ایسی سطحی سرگرمیوں کے باعث   ٹیم  کے ممبران   کا اخلاق ، اجتماعی توازن ، معاشرتی اثرات اور ٹیم  کے  نیٹ ورک کے یونٹس کم یا  کمزور پڑ جاتے ہیں۔
پس تعلیم و ٹیم ورک  کی کامیابی کا راز اایسی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے کہ جس کے باعث  تعلیم کو ٹیم ورک  کے قالب میں ڈھالا جائے اور ٹیم ورک  کو نظریاتی تربیّت کے نور سے منوّر رکھا جائے۔نیز  خود احتسابی اور اصلاح کو ٹیم ورک کا مزاج، اعتدال کو شعار، برداشت کو زیور اور احترام ِ باہمی کو دستور بنا یا جائے۔ ایسی فضا میں فرد بھی  رُشد کرتا ہے اور ٹیم   بھی اپنے نصب العین کی طرف رواں دواں رہتی ہے۔

نظریاتی بیماریاں قسط ۱

نظریاتی بیماریاں اور جھوٹ کی اسلامائزیشن : 
ڈاکٹر نذر حافی :
قسط ۱
نظریاتی بیماریوں کی کئی اقسام ہیں۔ حضرت  امام خمینیؒ کے نزدیک  نظریاتی بیماریوں کی سب سے خطرناک صورت فکری و ثقافتی انحراف ہے۔ آپؒ کے نزدیک انسانیت کے صراطِ مستقیم اور انبیائے کرامؑ کے طریقے سے دوری کا نام" انحراف" ہے، جو اصلاحِ نفس کے فقدان اور تہذیبِ باطن کی کمی سے جنم لیتا ہے۔  آپ نے  انحراف سے بچنے کیلئے صراطِ مستقیم کی اہمیّت کو  واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ 
سورہ حمد کی تفسیر میں آپ نے لکھا ہے کہ " آپ کو  اختیار دیا گیا ہے کہ آپ  ان تین راستوں میں سے ایک کو انتخاب کریں: یا انسانیت کے صراطِ مستقیم کو، یا بائیں طرف کے انحراف کو، یا دائیں طرف کے انحراف کو۔ جس سمت بھی انحراف ہو، وہ انسانیت سے دوری ہی کا سبب بنتا ہے، اور جوں جوں انسان آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص سیدھے راستے سے ہٹ جائے، وہ جتنا آگے بڑھے گا، اتنا ہی صراطِ مستقیم سے  زیادہ فاصلے پر جا پڑے گا۔ اسی طرح جو علم حاصل کیا جائے اور وہ خدا کے نام، یعنی " باسم ربِّک" کے لیے نہ ہو، وہ صراطِ مستقیم سے دوری کا باعث بنتا ہے، بلکہ جتنا زیادہ ایسا علم حاصل کیا جائے، اتنی ہی دوری بڑھتی چلی جاتی ہے۔" 
چنانچہ  وہ دینی مدارس اور کالج و یونیورسٹیوں میں نوجوانوں اور جوانوں کوتلقین فرماتے کہ فکری و نظریاتی انحراف سے  بچنے کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تزکیے اور تہذیبِ نفس پر بھی بھرپور توجہ دیں ۔قرآن مجید نے بھی انحراف سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ 
ارشادِ پروردگار ہے:
"اللہ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔"  آلِ عمران ۸۶
فکری و نظریاتی طور پر ایمان لانے کے بعد اُس ایمان پر قائم رہنا ضروری ہے۔ دینِ اسلام انسان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد وہ  منحرف نہ ہو۔ تاہم  اس حقیقت سے ہر شخص  آگاہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں ایمان کے ساتھ ساتھ انحراف بھی واضح طور پر موجود ہے۔ 
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ  ظہورِ اسلام  کا نصب العین انسان کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جانا تھا۔ دینِ اسلام  کا مقصد برائیوں کا خاتمہ، عدل کا قیام اور  معاشرتی اقدار کی اصلاح ہے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آج بھی زمانہ جاہلیت کی  بہت ساری  برائیاں کسی نئے لباس میں دوبارہ  سے مسلمانوں  میں نظر آ رہی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے  کہ اسلام  کے بعد انحراف کیوں اور کیسے جنم لیتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ برائیاں خود بخود واپس آ جاتی ہیں، حالانکہ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برائیاں کبھی خود واپس نہیں آتیں بلکہ انہیں شعوری طور پر واپس لایا جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں خیر نافذ ہو جاتا ہے تو شر کی واپسی صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کچھ شریر لوگ اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ کریں اور اس کی سرپرستی کریں۔
اگر دینِ اسلام کو بطور مثال سامنے رکھا جائے تو یہ ایک ہمہ گیر انقلاب  تھا ۔ ایک ایسا انقلاب  جس نے جاہلیت کے اندھیروں کو مٹا کر عدل و احسان کی روشنی پھیلائی۔ اسلام سے پہلے عورت کو نہ حق حاصل تھا نہ حرمت، نہ وراثت میں حصہ تھا نہ رائے کی وقعت۔ شوہر کی وفات کے بعد عورت کو دوسروں کی ملکیت سمجھا جاتا تھا، قتل و غارت کو بہادری اور انتقام کو غیرت کا نام دیا جاتا تھا۔ اسلام نے ان تمام تصورات کو ردّ کر کے بیٹی کو رحمت، عورت کو وارث، اور عدل و احسان کو شجاعت قرار دیا۔ فتح مکہ اس اسلام  کی روشن مثال ہے جہاں قوت کے باوجود معافی کو اختیار کیا گیا اور انتقام  لینے کے بجائے احسان کرنے کو ترجیح دی گئی۔
مگر آج جب ہم اسلامی دنیا  پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ  سچائی سامنے نظر  آتی ہے کہ وہی جاہلیتِ قدیم کی برائیاں دوبارہ  عہدِ جدید کے مسلمانوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آج مسلمان ریاستوں میں عورت عملا ً رقص و سرود کی محفلوں کی زینت ہے، اس کے وراثتی حقوق مختلف حیلوں بہانوں سے غصب کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے ہاں قتل و غارت، خونریزی، سفاکیت، ملاوٹ، فراڈ اور چوری عام دکھائی دیتی ہے۔ 
اب ہم اپنی تحقیق کو اس سوال کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں  کہ جو برائیاں اسلام نے ختم کر دی تھیں وہ  مسلمانوں میں دوبارہ کیسے لوٹ آئیں؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس طبقے پر نظر ڈالنی چاہیے جن کے مفادات براہِ راست برائیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو  جانتے ہیں کہ عدل و انصاف اُن کے ناجائز کاموں کیلئے خطرہ ہے۔ان کے مفادات کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کے بجائے ظلم و ستم قائم ہو۔ چنانچہ وہ معاشرے میں عدل و انصاف کے بجائے رشوت ستانی، ظلم ، دھونس اور جبر و استبداد کو دوبارہ واپس لانے کیلئے  منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
 اسی طرح جو  سرمایہ دار اور صاحبِ جائیداد حضرات اپنی خواتین کو اُن کا حِصّہ نہیں دینا چاہتے وہ  خواتین کے  حقوق کی بات بھی سُننا گوارا نہیں کرتے، اور جو جرائم پیشہ اور عقب ماندہ لوگ قتل و غارت و  انتقام کو بہادری سمجھتے ہیں وہ امن اور بھائی چارے  کو اپنے معاشرتی اسٹیٹس کیلئے ایک خطرہ  جانتے ہیں۔  اگر امن و بھائی چارہ قائم ہو جائے گا تو اُنہیں بہادر کون کہے گا؟یہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود عملی طور پر جاہلیت کی اقدار کو زندہ رکھتے ہیں اور یوں  اپنے بُرے کاموں سے معاشرے میں زمانہ جاہلیّت کی برائیوں کو زندہ رکھتے  ہیں۔
ان کے بعد دوسرا طبقہ وہ ہے جو براہِ راست ظلم نہیں کرتا مگر ظالموں سے  فائدہ ضرور اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ناجائز طریقوں سے مال حاصل کر کے اس کا کچھ حصہ دوسروں میں بانٹ دے تو وہ فائدہ اٹھانے والے اس کے جرم پر پردے ڈالنے لگتے ہیں۔ چونکہ ان کے مفادات اُس برائی سے جڑ جاتے ہیں، اس لیے وہ اسے برا کہنے کے بجائے اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ یوں برائی کو سماجی قبولیت مل جاتی ہے اور انحراف مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
سب سے اہم اور فکری طور پر نازک طبقہ وہ ہے جو بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہ نسلیں ہیں جو نہ اس وقت موجود تھیں جب ظلم ہوا، نہ انہیں ان برائیوں سے کوئی  براہِ راست فائدہ حاصل ہوا۔ سوال یہ ہے کہ پھر  بعد والی نسلیں پہلے والی نسلوں کی  غلطیوں کی حمایت کرتی  کیوں نظر آتی ہیں؟
یہاں پر یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ انسانی معاشروں میں انحراف صرف مفاد یا جھوٹ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ گہرے سیاسی، اقتصادی، عسکری ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر خاموشی سے معاشرے کی سمت بدل دیتے ہیں۔
جب کچھ عوامل کے تحت  پہلی نسل اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتی۔ وہ  سچ  کو چھپاتی ، جواز تراشتی، تاویلیں گھڑتی  اور اپنی غلطیوں کو تقدس کا لبادہ اوڑھاتی ہے۔ یعنی جھوٹ کی اسلامائزیشن کرتی ہے تو پھر بعد والی نسل پر لازم ہے کہ وہ پہلے والی نسل کی حمایت کرے۔
اگر پہلی نسل اپنی اولاد کو یہ سچ بتا دے  یا کسی بھی طرح اولاد پر یہ منکشف ہو جائے کہ  ہمارے بڑوں نے یہ  دولت ظلم، غصب اور فراڈ سے حاصل کی  ہے تو قوی احتمال ہے کہ  اگلی نسل اسے قبول کرنے سے انکار کر دے گی۔ تاریخ میں اس کی مثال  یزیدِ ثانی کی صورت میں موجود ہے جس نے غصب شُدہ  اقتدار کو مسترد کر کے اپنے باپ کے تخت و تاج کو ٹھکرا دیا۔
جب انحراف کو تسلیم کر کے اُس سے توبہ کرنے کے بجائے اُسے  تق کا درجہ دس مل جائے تو پھر صرف ایک خاندان یا ایک طبقہ ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو اس انحراف سے کسی بھی درجے سے  فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں، وہ سب  اُس انحراف  کے محافظ بن جاتے ہیں۔ یوں معاشرے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں ہر ظلم کے ساتھ دلیل، ہر غلطی کے ساتھ جواز اور ہر انحراف کے ساتھ تقدس جڑ جاتا ہے۔
نتیجتاً بعد کی نسلیں جب ماضی کی طرف دیکھتی ہیں تو انہیں غلطیاں غلط نظر نہیں آتیں بلکہ ورثہ، روایت اور سیاست نظر آتی ہیں۔ یوں انحراف ایک مقدّس عقیدہ بن کر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں انحراف کا ایک بڑا سبب مسلمانوں کے درمیان طاقت کا نشہ  بھی ہے۔ جب کسی فرد یا طبقے کو  کسی بھی طرح ریاست میں  طاقت حاصل ہوجائے  تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ قانون اور اخلاق سے بالاتر ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ طاقت جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو وہ خیر کے بجائے شر کو جنم دیتی ہے۔  جب کہیں پر  طاقتور کو قابو میں رکھنے کا نظام کمزور  ہو جائے تو وہ اصول جو اسلام  کے وقت جانوں پر مقدم تھے، آہستہ آہستہ بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں اور انسان  اپنے اختیارات  کو اصولوں  پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
طاقتور طبقے کے علاوہ عوام میں بھی جب کوئی نظریہ زندہ شعور کے بجائے صرف رسم اور روایت میں بدل جائے تو اس سے اسلام   کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ جب عوام کے درمیان  مقصد باقی نہیں رہتا، صرف علامتیں﴿نعرے اور جھنڈے﴾ باقی رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً لوگ اسلام  کی شکل تو اپناتے ہیں لیکن اس کے مفہوم اور نصب العین کو نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ  یہ نہیں جانتے کہ وہ جو نعرے لگا رہے ہیں، ان کا سچ اور حقیقت سے کتنا تعلق ہے اور وہ کتنے فیصد عملی ہیں؟ سچ ہمیشہ ذمہ داری مانگتا ہے، اور ذمہ داری قربانی چاہتی ہے۔ جب معاشرہ  سچ کو ہی نہ سمجھے  تو وہ ایسے بیانیے تخلیق کرتا ہے جو حقیقت کے بجائے تاویل پر مبنی ہوتے ہیں  اور تاویل رفتہ رفتہ انحراف کا جواز بن جاتی ہے۔ جواز تراشنے اور تاویلیں گھڑنے والی اقوام  اپنی تاریخ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے عقیدت کی عینک سے دیکھنے لگتی ہیں۔ جب اقوام کیلئے اُن کی تاریخ اور تاریخی شخصیات مقدس ہو جائیں، اُن پر سوال اٹھانے  کے بجائے عقیدت کو رواج دیا جائے تو پھر اقوام تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے غلطیوں کو دہرانے لگتی ہیں۔ جو قومیں اپنی غلطیوں کو مقدس بنا لیں وہ اصلاح کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں، اور یہی کیفیت انحراف کو جاویداں  بنا دیتی ہے۔
جب تاریخ میں فرد کی بصیرت کا کوئی انتظام نہ ہو اور عقیدت ہی عقیدت ہو تو ہر شخص اپنے فائدے اور مفادات کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر غلط کار کے مقابلے میں کوئی اجتماعی ردعمل سامنےنہیں ، وہ تاریخ سے اپنی  غلطیوں کی اصلاح کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں کے دلائل اکٹھے کرتا ہے۔جب ایسا ہونے لگے تو بھر تاریخی شخصیات کے بارے میں غُلو کا وجود میں آنا ایک لازمی امر ہے۔ 
اب انحراف سے بچنے کیلئے کچھ تجاویز بھی ملاحظہ فرمائیں:
اسلام  کسی قوم کے لیے محض ایک وقتی جوش یا اچانک تبدیلی کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل فکری، اخلاقی اور عملی سفر ہوتا ہے۔ اگر اس سفر کی نگرانی نہ کی جائے تو وہی اسلام  جو ظلم کے خاتمے کے لیے برپا ہوا تھا، خود نئے انحرافات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ اسلام  لانے کا نہیں بلکہ اسے زندہ رکھنے، سنوارنے اور بگاڑ سے محفوظ رکھنے کا ہے۔
سب سے پہلا اور بنیادی اقدام سچ کی حفاظت ہے۔ جب سچ محفوظ رہتا ہے تو انحراف کو جڑ پکڑنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہر اسلام ی رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ اپنی کوتاہیوں و لغزشوں کو بھی دیانت داری سےبیان کرے۔ غلطیوں کو چھپانا انحراف کو جنم دیتا ہے، جبکہ ان کا اعتراف اسلام  و اسلام یوں کو بالغ بناتا ہے۔ جہاں سچ دب جاتا ہے وہاں تقدیس بے جا جنم لیتی ہے، اور یہی تقدیس بعد میں اصلاح کے راستے بند کر دیتی ہے۔
دوسرا اقدام مسلسل احتساب کا قیام ہے۔اسلامی ممالک میں انحراف کا  سب سے بڑاسبب یہ ہے کہ اقتدار یا اختیار رکھنے والے خود کو سوال سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ جب طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو وہ عدل کے بجائے ظلم کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسا نظام ناگزیر ہے جو حاکم و محکوم، بانی و پیروکار، سب کو ایک ہی اخلاقی اور قانونی معیار پر پرکھے۔
تیسرا اقدام اقدار کی عملی تعلیم ہے۔ اسلام  کے اصول اگر صرف نعروں، خطابات اور تحریروں تک محدود رہیں تو وقت کے ساتھ کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ اقدار کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھروں، تعلیمی اداروں اور اجتماعی رویوں میں عملی صورت اختیار کریں۔ جب نئی نسل اصولوں کو صرف سنتی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں برتتی ہے تو انحراف کمزور پڑ جاتا ہے۔
چوتھا اقدام طاقت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ طاقت کا ارتکاز انسان کو خطا سے بالاتر ہونے کا گمان دیتا ہے، اور یہی گمان انحراف کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب اختیار محدود اور تقسیم شدہ ہوتا ہے تو غلطی کے امکانات گھٹتے ہیں اور اصلاح کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
پانچواں اقدام تاریخی شعور کی بیداری ہے۔ اسلامی نظریات کو محفوظ رکھنے کے لیے تاریخ کو عقیدت کے بجائے بصیرت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ کامیابیوں پر فخر کے ساتھ ساتھ لغزشوں کا اعتراف بھی لازم ہے، کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو مقدس بنا لیتی ہیں وہ اس سے سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔
چھٹا اور نہایت اہم اقدام تاریخی شخصیات و تحریکوں  کے بارے میں غلو سے اجتناب ہے۔ جب کسی تاریخی شخصیات و  حضرات کو خطا سے پاک، سوال سے بالا اور تنقید سے ماورا بنا دیا جاتا ہے تو درحقیقت حقائق کو نقصان پہنچتا ہے۔ غلو انسان سے سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیّت سلب کر لیتاہے۔ جب حکمرانوں اور صاحبانِ طاقت کو مقدّس مان  لیا جائے تو ان کے طرزِ عمل سے سیکھنے کے بجائے ان کی پرستش شروع ہو جاتی ہے، اور یوں ان کی زندگی مثال بننے کے بجائے داستان بن جاتی ہے۔
غلو کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ نئی نسل اپنے حقیقی  تاریخی ہیروز و رول ماڈلز سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ عظمت صرف غیر معمولی انسانوں کے حصے میں آتی ہے، جبکہ عام انسان کے لیے اسلامی  اصولوں پر چلنا ممکن نہیں۔ اس کے نتیجے میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ختم ہو جاتا ہے اور جدوجہد ناقابلِ حصول محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ اصل عظمت اسی میں ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کے باوجود حق پر قائم رہے۔
ساتواں اقدام  اسلامی قیادت کی مسلسل تیاری ہے۔اسلام ہر دور میں فقط اسلامی  نعروں سے نہیں بلکہ اسلامی کرداروں سے زندہ رہے گا۔ اگر اسلامی دنیا کی  قیادت اسلامی  تربیت سے محروم ہوگی تو بہترین نظام بھی کھوکھلا ہو جائے گا۔ اس لیے اسلامی ممالک میں  سب سے بڑی سرمایہ کاری انسان سازی پر ہونی چاہیے۔
آٹھواں اقدام اجتماعی ضمیر کی تقویت ہے۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش ہو جائے تو انحراف جڑ پکڑ لیتا ہے۔اسلام  کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے درمیان خیر کے حق میں آواز اٹھانا اور شر کے خلاف کھڑا ہونا اجتماعی فریضہ بن جائے۔ زندہ ضمیر ہی اسلام  کا اصل محافظ ہوتا ہے۔
نواں اقدام مفادات کے ٹکراؤ کی پہچان ہے۔ ہر معاشرے میں ایسے افراد اور طبقات موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات اسلام  کے اصولوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ اگر ان مفادات کو بے نقاب اور محدود نہ کیا جائے تو وہ اسلام  کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔

کیا قائداعظم ؒ مسلمانوں کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے؟

کیا قائداعظم ؒ مسلمانوں کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے؟
ڈاکٹر نذر حافی:
نظریہ کسی ایک لمحے کی فکری اختراع نہیں ہوتا۔ آپ نظریے کو کسی ایک کتاب کا ماحصل بھی نہیں کہہ سکتے۔  تاریخ کے طویل تجربے، تہذیبی شعور اور اجتماعی حافظے کا عرق نظریہ کہلاتا ہے۔ قومیں اس وقت وجود میں آتی ہیں جب وہ خود کو محض افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مشترک نظریے، اخلاقی نصب العین اور تاریخی مقصد کا حامل سمجھنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں وہ قومیتیں دیرپا نقش مرتّب کر سکیں جو زمین کے بجائے فکر پر، نسل کے بجائے نظریے پر، اور جغرافیے کے بجائے اقدار پر اکٹھی ہوئیں۔ اسلامی تصورِ قومیت اسی اصول کا اعلیٰ ترین اظہار ہے، جس نے انسان کو مٹی سے اٹھا کر مقصد سے جوڑ دیا۔ 
اسلام ایسے عہد میں نمودار ہوا جب قبائلی تفاخر، نسبی امتیاز اور لسانی تفاخر ہی اجتماعی شناخت کی بنیاد تھے۔اُس عہد میں پیغامِ محمدی ﷺ نے انسانوں کے درمیان  ان تمام معیارات کو منسوخ کر کے ایمان کے نظریے پر ایک نئی وحدت قائم کی۔ مسلمانوں کیلئے “إنما المؤمنون إخوة” ایک سیاسی و سماجی اصول تھا، جس کی عملی تعبیر میثاقِ مدینہ میں سامنے آئی۔ یہاں پہلی مرتبہ یہ واضح ہوا کہ قوم وہ ہوتی ہے جو ایک نظریے کے گرد منظم ہو، چاہے اس کے افراد مختلف نسلوں، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہی نظریہ بعد کے ادوار میں خلافتوں کی صورت میں تاریخ کا حصہ بنتا رہا۔
بظاہر خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے ساتھ مسلمانوں کی سیاسی وحدت بکھر گئی،البتہ ان کی نظریاتی وحدت تب بھی  برقرار رہی۔ استعمار کے دور میں یہی وحدت مسلمانوں کے لیے شناخت، مزاحمت اور بقا کا ذریعہ بنی۔ برصغیر میں یہ نظریاتی وحدت کا زاویہ  اس لیے زیادہ شدید تھا کہ یہاں مسلمان عددی اقلیت ہونے کے باوجود ایک مکمل تہذیبی اکائی تھے۔ یہی وہ تاریخی تناظر ہے جس میں مسلم قومیت نے  ایک سیاسی مطالبے کی صورت اختیار کی۔
سر سید احمد خان نے سب سے پہلے اس حقیقت کو عقلی اور تاریخی دلائل کے ساتھ پیش کیا کہ مذہبی تصورات، سماجی اقدار اور تاریخی ہیروز جداگانہ  ہونے کی وجہ سے ہندو اور مسلمان ایک خطے میں رہتے ہوئے بھی ایک قوم نہیں بن سکتے۔ تاہم سر سید کا دائرہ اصلاح اور تعلیم تک محدود رہا۔ علامہ اقبال نے اسی فکر کو فلسفیانہ عمق عطا کیا اور یہ واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو اپنے ماننے والوں سے ایک جداگانہ اجتماعی و سیاسی نظم کا تقاضا کرتا ہے۔ اقبال کی فکر ایک فلسفی کا خواب تھی۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک ایسی شخصیت درکار تھی جو فکر کو سیاست اور نظریے کو ریاست میں تبدیل کر سکے۔
اس پسِ منظر میں قائداعظم محمد علی جناح کی نظریاتی بنیادیں بخوبی  آشکار ہوتی ہیں۔ جناح نہ محض ایک نظریہ ساز تھے اور نہ ہی صرف ایک سیاست دان۔ بلا مبالغہ   وہ فکر اور عمل کا امتزاج  تھے۔ ان کی امتیازی حیثیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ جدید آئینی سیاست کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم تاریخ اور تہذیب کے شعور سے بھی بہرہ مند تھے۔ ابتدا میں ان کا جھکاؤ متحدہ ہندوستان کی طرف تھا اور وہ ہندو مسلم اتحاد کے سب سے مضبوط ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے جب کانگریس کی سیاست، 1937ء کے انتخابات اور اقتدار میں مسلمانوں کی مسلسل نظراندازی کا تجربہ کیا تب  تو انہوں نے کسی جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی منطق سے مسلم لیگ کے  نظریاتی موقف کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

قائداعظم کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ بطورِ قانون دان وہ یہ  جانتے تھے کہ کہیں پر بھی قومیت طاقت، اقتدار اور آئینی ضمانتوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ  مسلمان اگر ایک علیحدہ سیاسی وحدت حاصل نہ کر سکے تو وہ ایک بڑی اکثریتی قوم میں تحلیل ہو جائیں گے۔ اُن کے اِسی ادراک نےدو قومی نظریے کو ایک عملی سیاسی مطالبے میں تبدیل کیا۔ قراردادِ لاہور 1940ء اسی فکری پختگی کی مظہر ہے، جو مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے اعلان اور ایک قابلِ عمل ریاستی تصور پر مشتمل  تھی۔
یہ بڑا کٹھن راستہ تھا۔ اُس وقت  ان کے تصورِ قومیت کو غیر مسلم قیادت سمیت کئی ممتاز مسلمان رہنماؤں نے بھی مسترد کر دیا۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی ایک عالمی اسلامی انقلاب کے خواب میں مقامی حقیقتوں کو نظرانداز کر بیٹھے۔ مولانا ظفر علی خان مذہبی جوش رکھتے تھے البتہ جدید ریاست کی سیاسی پیچیدگیوں سے چشم پوشی کرتے تھے۔ گاندھی اخلاقی سیاست کے علمبردار تھے مگر مذہب کو قومیت کی بنیاد بنانے کے مخالف تھے۔ ان سب کے برعکس جناح نے نہ تو خیالی خلافت کا خواب دیکھا اور  نہ صرف روحانی و اخلاقی خطابت پر انحصار کیا۔ جناح نے سب کے برعکس  مسلمانوں کیلئے ایک واضح، متعین اور قابلِ حصول منزل کا تعین کیا۔
بالآخر تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ قائداعظم کا راستہ نظریاتی طور پر تاریخِ اسلام کا تسلسل  تھااور عملی طور پر بھی  کامیاب رہا۔ پاکستان کا قیام اس امر کی شہادت ہے کہ اسلامی تصورِ قومیت  جہاں ماضی کا حوالہ ہے وہیں جدید دنیا میں ایک زندہ سیاسی حقیقت بھی ہے۔یوں  یہ ریاست ایک جغرافیائی وحدت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان نظریاتی وحدت کا  ایک فکری اعلان بھی ہے۔ایک  ایسا اعلان جو میثاقِ مدینہ سے شروع ہو کر قراردادِ لاہور میں پختہ ہوا اور 1947ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ 
خلاصہ یہ کہ قائداعظم کا نظریاتی زاویہ  کانگرسی  رہنماوں سے بہت مختلف تھا۔ اُن کے نزدیک مسلمان قوم  ہندوستان کی سرحدوں کی محتاج نہیں تھی۔  اُن کے نزدیک مسلمان قوم  وحی کے نزول سے تشکیل پائی تھی۔ یعنی غارِ حرا کی اس خاموش گھڑی سے ملت اسلامیہ نے جنم لیا تھا کہ جب انسان کی پہچان خون اور قبیلے کے بجائے  ایمان سے ٹھہرا تھا۔ جہاں یہ اعلان ہوا  تھا کہ انسانوں کے درمیان اب رشتہ زمین  و جغرافئے اور رنگ و نسل کا نہیں عقیدے کا ہو گا۔ پھر یہی نظریہ مدینے کی مٹی میں اترا، میثاقِ مدینہ کی صورت میں منظّم ہوا، اور امت پہلی بار قانون اور ریاست کے قالب میں ڈھلی۔ یہ نظریاتی سفر خلافتوں کے ادوار سے گزرتا ہوا نسل، زبان اور خطے کی تقسیم سے بلند رہا، یہاں تک کہ برصغیر میں  مسلمانوں کیلئے یہ نظریہ ایک نئے سوال کی صورت میں ابھرا کہ کیا مسلمان قوم کو  اکثریت کے رحم پر چھوڑ دیا جائے؟
 چنانچہ یہ شعور سر سید کے استدلال میں دلیل بنا، اقبال کی فکر میں خواب ہوا، اور بالآخر قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت میں آئین، قرارداد اور ریاست کی صورت اختیار کر گیا۔ قائداعظم نے اسلام کو ماضی کی یادگار کے بجائے  ایک زندہ نظریہ سمجھا، امت کو جذباتی ہجوم کے بجائے  ایک ذمہ دار قوم میں ڈھالا، اور صدیوں پر محیط اسلامی فکر کو جدید دنیا میں ایک متعین جغرافیے، واضح دستور اور باوقار ریاست کے طور پر مجسم کر دکھایا۔یہ قائداعظمؒ کا  احسان ہے کہ انہوں نے دینِ اسلام کو اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، انہوں نے  ہجوم کے شور کے مقابلے میں قانون کی صدا بلند کی اور ہمیں یہ سبق دیا کہ قومیں قانون کے احترام، کردار ، بصیرت  اور جدوجہد سے زندہ رہتی ہیں۔ اسی طرح  انہوں نےاکثریّت کی مرضی کے خلاف  مسلمانوں کو اُن کا حق  ایک الگ وطن کی صورت میں دلوا کر یہ ثابت کر دیا  کہ  حق کا تعیّن تعداد سے نہیں بلکہ شعور، فہم اور دلیل سے ہوتا ہے۔

نظریاتی بیماریاں قسط ۲

نظریاتی بیماریاں  قسط ۲

ڈاکٹر نذر حافی﴿قسط ۲

ایک بڑی فکری لغزش یہ ہے کہ ہم کسی کو انحراف  میں مبتلا دیکھ کر  اسلام کے تربیتی و اصلاحی نظام کے تحت اُس کی اصلاح  کرنے کے بجائے، اُس شخص کو منحرف اور  ذاتی  طور پر بدکردارسمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی نظریاتی ناپختگی ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ انحراف کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے منحرف شخص کو کوسنے، اس کی نیت پر حملے کرنے اور اس کی کردار کشی پر مرکوز ہو جاتی ہے، اس دوران  اصل انحراف اپنی جگہ پوری قوت سے زندہ رہتا ہے۔ یوں ہم مرض کے بجائے مریض سے الجھ جاتے ہیں، اور بیماری خاموشی سے مزید پھیلتی چلی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل خود ایک قسم کا انحراف ہے، اور اس سے کسی کی اصلاح ممکن نہیں۔

اسی نکتے کی طرف حضرت امام خمینیؒ توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جب آپ معاشرے میں انحرافات دیکھیں تو یہ گمان نہ کریں کہ انحراف ہی کے ذریعے انحراف کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ انحراف، انحراف کو سیدھا نہیں کر سکتا۔ انحرافات کو اللہ کی ہدایت کے نور اور اپنے رب کے نام کے ساتھ درست کرو۔﴿صحیفۂ امام، ج۸، ص۳۳۱

کسی شخص کا منحرف ہونا بذاتِ خود اتنا بڑا  مسئلہ نہیں،  اصل مسئلہ وہ فکری، سماجی اور اخلاقی فضا ہے جو اس کے اندر  انحراف کو جنم دیتی ہے اور اسے زندہ رکھتی ہے۔ اگر یہ فضا برقرار رہے تو ایک منحرف کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرا منحرف پیدا ہوتا رہے گا۔ چنانچہ اصلاح کا راستہ افراد کی مذمت سے نہیں بلکہ ان اسباب کے خاتمے سے ہو کر گزرتا ہے جو انحراف کو ممکن بناتے ہیں۔

حضرت امام خمینی ان تمام انحرافات کا اصلی سبب نفس کی غلامی کو قرار دیتے ہیں۔ آپ کے بقول :

تمام انحرافی چیزیں،چاہے وہ انحرافی عقائد ہوں، انحرافی اعمال ہوں، انحرافی قلم ہوں یا انحرافی تقاریر،یہ سب اس لیے ہیں کہ وہ عبودیتِ اللہ کے راستے سے نہیں گزرے۔ ایسے  لوگ اللہ کے بندےبننے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن چکے ہوتے ہیں۔ ﴿صحیفه امام، ج۱۴، ص۳۸﴾

منحرف شخص کو مسلسل کوسنے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ خود کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے، اور اپنی غلطی پر غور کرنے کے بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتا ہے۔ یوں اصلاح کا دروازہ بند اور انا مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب انحراف پر تنقید کی جائے، اس کے دلائل کا علمی رد کیا جائے اور اس کے نتائج کو واضح کیا جائے تو گفتگو شخصیت سے نکل کر فکر کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے، اور اصلاح کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فرد ہمیشہ کسی نہ کسی نظام کا پروردہ ہوتا ہے۔ اگر نظام خود غلط سمت میں جا رہا ہو تو محض افراد کو نشانہ بنانا فکری سطحیت کے سوا کچھ نہیں۔ اصل دانش یہ ہے کہ اس نظام کو درست کیا جائے جو غلط کو ممکن اور درست کو مشکل بنا دیتا ہے۔ جب نظام اجازت نہ دے تو فرد خود بخود درست سمت اختیار کرنے لگتا ہے۔

دینی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی اصلاح کا یہی منہج ہے۔ اسلام کا مقصد کسی فرد کو رسوا کرنا نہیں بلکہ برائی کو کمزور کرنا ہے۔ جب اصلاح کا ہدف ذات کے بجائے روش بن جائے تو نہ صرف نفرت کم ہوتی ہے بلکہ خیر کے لیے راستہ بھی ہموار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی مصلحین نے ہمیشہ اصول پر ضرب لگائی، شخص پر نہیں۔ شخص پر وہی لوگ ضرب لگاتے ہیں جو اپنی اصلاح کیے بغیر دوسروں کی اصلاح کے خواہاں ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں حضرت امام خمینیؒ فرماتے ہیں:

“جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک انسان خود صالح نہ ہو، وہ دوسروں کو صلاح کی دعوت نہیں دے سکتا۔ جو شخص، خدا نہ کرے، خود ٹیڑھا قدم رکھتا ہو، اگر وہ لوگوں سے کہے کہ اپنا قدم سیدھا رکھو تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے اور کہیں گے: اگر قدم سیدھا رکھنا درست ہوتا تو پہلے آپ خود تو سیدھا رکھتے!”﴿صحیفۂ امام، ج۸، ص۴۸۷

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شخصی حملے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں: ایک حمایتی اور دوسرا مخالف۔ اس تقسیم میں اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جاتا ہے، اور ساری توانائی باہمی کشمکش میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب گفتگو انحراف کے خاتمے پر مرکوز ہو تو اختلاف کے باوجود فکری مکالمہ زندہ رہتا ہے اور اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

اسی لیے اسلام کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز نہ ہو کہ کون غلط ہے، بلکہ اس سوال پر ہو کہ غلطی کیوں زندہ ہے۔ جب سوال یہ بن جائے تو جواب بھی شخصی نفرت کے بجائے اجتماعی اصلاح کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دینِ اسلام کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے حضرت امام کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر قرآن اور اسلام کو جس طرح وہ حقیقت میں ہیں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو سب اس کے طالب بن جائیں گے۔ انحرافات کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اسلام کو پہچانا ہی نہیں،اگر وہ اسلام کو پہچان لیں اور اس کے احکام کو صحیح طور پر سمجھ لیں تو سب اس کے خریدار ہوں گے۔

﴿ صحیفه امام، ج۶، ص۵۰۹﴾

اس قسط کا خلاصہ یہ ہے کہ منحرف شخص کو کوسنا وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، مگر انحراف کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتا۔ حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں، خود اپنے بارے میں جھوٹی تاویلیں اور جواز نہ گھڑیں، اپنے اکابرین کے بارے میں غلو سے بچیں، اور افراد کے بجائے افکار، رویّوں اور نظاموں کو ہدف بنائیں، کیونکہ انحراف افراد سے نہیں بلکہ اردگرد کی فضا اور ماحول سے جنم لیتا ہے۔

آخر میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نظریاتی بیماریاں یا انحرافات کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک زمانے تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ بھی انسانوں کی طرح نسل در نسل افزائش پاتی رہتی ہیں۔ ان بیماریوں سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ دینِ اسلام کو اس کی اصلی اور خالص حالت میں ایک انسان ساز ضابطۂ حیات سمجھ کر محفوظ کیا جائے، اصولوں کو شخصیات پر فوقیت دی جائے، سچ کو تقدیس پر ترجیح دی جائے، اور احتساب کو وفاداری کے منافی نہ سمجھا جائے۔




پیر، 22 دسمبر، 2025

دانشمندوں کی اقسام

دانشمندوں کی اقسام  
ڈاکٹر نذر حافی  : 
دانش مندوں کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں، مسائل حل کرنے والے اور مسائل پیدا کرنے والے۔ ہمارے ہاں دانشمندوں کی صرف دوسری قسم ہی پائی جاتی ہے۔ یہ بھی جان لیجئے کہ پوری دنیا میں دانشمند اقلیت میں پائے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اکثریت میں۔ خصوصا وٹس اپ، فیس بک اور چیٹ جی پی ٹی کے مارکیٹ میں آنے سے ان کی تعداد میں اندھادھند اضافہ ہوا ہے۔شروع شروع میں ان کی آبادی میں خوفناک اضافے کو دیکھ کر ہمارے ایک دوست روزانہ وٹس اپ کے دو تین نئے گروپ بنایا کرتےتھے۔ پھر وہ سب سے کہا کرتے تھے کہ یار مجھے کچھ فعال سوشل ایکٹوسٹ کے نمبرز دو۔ 
ایک دن ہم نے ان سے ان فعال سوشل ایکٹوسٹ کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ پوچھی تو مسکرا کر بولے کہ آج کل وٹس اپ کے گروپس میں مجھے روزانہ کچھ ذہنی مریضوں کو قید کرنا ہوتا ہے۔ اگر انہیں آزاد چھوڑا جائے تو یہ دوسرے گروپوں میں جا کر مخلوقِ خدا کو تنگ کرتے ہیں۔لہذا میں چاہتا ہوں کہ یہ میرے گروپوں میں ہی ایک دوسرے پر خودکُش حملے کرتے رہیں تاکہ مخلوقِ خدا اِن کی دہشت گردی سے امان میں رہے۔ 
پھر انہوں نے توبہ توبہ کرتے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور بڑے رازدارانہ لہجے میں بولے کہ میاں !کسی بھی وٹس اپ گروپ کا ایڈمن اگر تھوڑی دیر کیلئے سو جائے یا غلطی سے کوئی کتاب پڑھنے لگ جائے تو ان دانشمندوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ یہ اُس وقت تک گروپ میں اُدھم مچائے رکھتے ہیں جب تک ایڈمن کو یہ یاد نہ آ جائے کہ اُس نے ایک وٹس اپ گروپ کا شوق بھی پال رکھا ہے۔پھر وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولے، یہ وٹس اپ اور فیس بکی دانشمند بات سے بات نکالنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جتنی گفتگو کرتے جاتے ہیں اُتنا ہی جھگڑا مزید لمبا ہوتا جاتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ دنیا کے دانشمند مسائل اور جھگڑے حل کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کے دانشمند مسائل اور جھگڑے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لمبے بھی کرتے ہیں۔ اپنے دوست کی اس بات سے مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اگر ہمارے ہاں کے دانشمند اپنا کام چھوڑ دیں تو دیگر ممالک کے دانشمند بے روزگاری سے ہی مرجائیں گے ۔چونکہ اگر مسائل پیدا نہیں ہونگے تو وہ حل کیا کریں گے۔
ہمارے ہاں کچھ دانشمند ایسے بھی ہیں کہ جن کے نزدیک کتابوں اور اخبارات کے چھاپنے کا زیادہ فائدہ صرف پکوڑے بیچنے والوں کو ہی ہوتا ہے۔ پکوڑے ویسے بھی صحت کیلئے مضر ہیں اور جب انہیں گندے اور ردّی کے اخبارات و جرائد میں لپیٹ کر بیچا جاتا ہے تو اس سے ان کا ضرر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اب رہی بات لکھنے کی تو گپ شپ کے شوقین دانشوروں کے مطابق لکھنا لکھانا تو بالکل ممنوع ہونا چاہیے، خاص کر کلاسوں میں استاد حضرات جو تحقیق وغیرہ کا کام دیتے ہیں اُس پر تو کوئی سخت پابندی ہونی چاہیے۔ رہی بات کالمز اور خبروں کی تو یہ سب کچھ تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ ان گپی دانشوروں کا کہنا ہے کہ لکھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں، نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، دوریاں جنم لیتی ہیں اور غیبت وحسد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لہذا ان کے نزدیک مسائل کا حل دوسروں کے ہاں جا کر گھنٹوں آلتی پالتی مار کر خوب گپیں لگانا ہے۔ جہاں بات گپ شپ سے نہ چلے خاموشی اختیار کرنے، منّت سماجت سے کام نکالنے اور حسبِ استطاعت کچھ لے دے کرمعاملہ نمٹانے میں ہی عافیت ہے۔
اچھا تو یاد آیا کہ ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک اور بھی قسم ہے۔یہ ایسے دانشمند ہیں جو ہر وقت ، میں۔۔۔۔ میں ۔۔۔میں۔۔۔ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی آپ غلطی سے ان کے درمیان پھنس جائیں تو آپ کو ایسے محسوس ہوگا کہ جیسے آپ عید قربان کے دنوں بکرا منڈی میں آگئے ہیں۔ کوئی سی بھی بات ہو۔۔۔میں،میں،میں کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ ان، میں، میں، کرنے والوں میں اکثر ایسے مہا دانشمند ہیں کہ جو اصلاً دو جملے بھی نہیں لکھ سکتے، یا پھر خیر سے ایک جملہ بھی ٹھیک سے نہیں لکھ پاتے، البتہ اپنی میں۔۔۔ میں۔۔۔ سے یہ عالمِ امکان کو زیروزبر کرنے کے ماہر ہوتے ہیں اور ہر جگہ اپنے آپ کو ہرفن مولا ثابت کرتے ہیں۔ آپ دنیا کا کوئی مسئلہ ان کے سامنے پیش کریں یہ اس کے بارے میں اپنا سنہری تجربہ آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔
آپ خطابت کی بات کریں تو یہ ضرور مشورہ دیں گے ، آپ صوت و لحن کی بات کریں تو ان کی ماہرانہ رائے بڑے بڑے قاریوں پر بھاری ہو گی، آپ عالمی اقتصاد کے مسائل چھیڑیں تویہ ان مسائل کی گتھیاں سلجھانے لگیں گے، آپ مدیریت کی بات کریں تو یہ اس میں بھی میں ،میں کرتے نظر آئیں گے۔ اگر آپ کسی میٹنگ میں ان کو بلا لیں تو یہ یاتو اتنی لمبی بات کریں گے کہ کسی اور کو بولنے کا موقع ہی نہیں ملے گا اور یا پھر کسی اور کے ساتھ ایسا جھگڑا شروع کریں گے کہ ساری میٹنگ اسی جھگڑے کوہی ختم کرانے میں ہی ختم ہو جائے گی۔
ان کے پاس، میں۔۔۔میں۔۔۔ کی طرح چند رٹے رٹائے جملے بھی ہوتے ہیں،مثلاً میں نہ ہوتا تو پھر پتہ چلتا، میں نے تو دنیا گھوم کر دیکھی ہے، میں تو تنظیمی ہوں، میں تو سینئر ہوں۔۔۔میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔۔۔ میں تو انقلابی ہوں، میں ہوتا تو یوں کرتا۔۔۔میں تو اتنا تجربہ رکھتا ہوں، میں تو۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔سونے پر سہاگہ تو یہ ہے کہ ایسے دانشمند فیڈبیک کے بنیادی اصولوں سے بھی آگاہ نہیں ہوتے اور اگر یہ کہیں پر اپنے کمنٹس کے ذریعے تیر مارنا بھی چاہیں تو سیدھا وہاں مارتے ہیں جہاں نہیں مارنا ہوتا۔
یہ ٹھیک ٹھاک اور چپ چاپ بندے کے ساتھ سینگ پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی فوری طور پر کہیں سے رپورٹنگ کرے یا کوئی خبر نقل کرے کہ فلاں جگہ فلاں حادثے میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں تو ایسے دانشمند فوراً کمنٹس میں لکھیں گے کہ” ہلاک نہیں شہید ہوئے “ اس کے بعد یہ بحث کو کھینچ کر ہلاک اور شہید میں ایسا الجھا دیں گے کہ اصل خبر ان کی قیل و قال میں ہی دفن ہوجائے گی۔
علاوہ ازیں ایسے اشرف المخلوقات دانشمند بھی بکثرت موجود ہیں جو سارے مسائل کو لغت اور اصطلاح کی روشنی میں کُلی طور پرحل کرنا چاہتے ہیں۔مثلاً اگر کہیں پر شراب کی خرید و فروخت کا دھندہ ہورہا ہو اور آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں یا کوئی میدانی تحقیق کریں تو فوراً یہ دانشمند ناراض ہوجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک شراب فروشی اور شراب خوری کا علاج یہ ہے کہ آپ زمینی تحقیق کرنے کے بجائے شراب پر ایک علمی اور کتابی مقالہ اس طرح سے لکھیں :۔
شراب در لغت۔۔۔۔ شراب در اصطلاح۔۔۔۔شراب کا تاریخچہ۔۔۔۔ شراب کے طبّی فوائد و نقصانات ۔۔۔دینِ اسلام میں شراب کی حرمت۔۔۔۔شرابی کے لئے دنیا و آخرت کی سزائیں۔۔۔اور آخر میں حوالہ جات
آپ انہیں لاکھ سمجھائیں کہ قبلہ میڈیا میں میڈیم کے بغیر لکھا ہوا ایسے ہی ہے جیسے آپ نےکچھ لکھا ہی نہیں لیکن وہ اپنی ہی بات پر ڈٹے رہیں گے۔
نوٹ کر لیجئے کہ ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک بہت ہی نایاب قسم بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تعداد میں جتنےکم ہیں معاملات کو بگاڑنے میں اتنے ہی ماہر ہیں۔ یہ ایک چھوٹے سے مسئلے میں پہلے غبارے کی طرح خوب ہوا بھرتے ہیں۔ ذرّے کو بڑھا چڑھا کر ماونٹ ایورسٹ جتنا کر کے چھوڑتے ہیں اور جب ایک چھوٹا سا مسئلہ انتہائی سیریس اور گھمبیر ہوجاتا ہے تو پھر آخر میں یہ اس کا حل ایک چھوٹی سی مذمت یا معذرت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
مثلاً اگر اسلام آباد میں کہیں پر خود کش دھماکہ ہوجائے اور آپ علاقے کو فوکس کرکے وہاں کے سیاستدانوں،، بیوروکریسی, مقامی مشکوک افراد اور دیگر متعلقہ لوگوں اور اداروں کے بارے میں زبان کھولیں تو یہ نایاب دانشمند فوراً ناراض ہوکر میدان میں کود پڑتے ہیں۔اس وقت ان کے بیانات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:
خود کش دھماکے کہاں نہیں ہورہے، پاکستان، عراق، شام، افغانستان وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور ان دھماکوں میں مارے جانے والے لوگوں کی اپنی غفلت کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ لوگ خود بھی اپنے ارد گرد کھڑی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد پر نگاہ نہیں رکھتے، ہم عوام کی غفلت کی مذمّت کرتے ہیں۔
ایسے ماہرین کسی بھی سادھے سے مسئلے کو پیچیدہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، کسی بھی مقامی ایشو کے ڈانڈے بین الاقوامی مسائل سے جوڑتے ہیں اور آخر میں ایک سطر کا مذمتی بیان دے کر یا لکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔
ان کی ایک مثال اور بھی ملاحظہ فرمائیں، مثلاً اگر آپ انہیں یہ کہیں کہ پاکستان کے فلاں علاقے میں ایک مافیا رشوت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ یعنی فلاں جگہ پر مافیا انسانوں کا خون پی رہا ہے تو اس کے بعد ہمارے ہاں کے ”نایاب دانشمند“ کچھ اس طرح سے قلمطراز ہونگے کہ دنیا میں جب تک پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہوتا اس وقت تک لوگ ایک دوسرے کا خون پینے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں پینے کا صاف پانی میسّر نہیں ہم وہاں کے محکمہ واٹر سپلائی کی مذمت کرتے ہیں۔
اب آئیے دانشمندوں کی ایک تبلیغی جماعت کا حال بھی جانئے۔ یہ دانشمند ہر وقت بوریا بستر باندھ کر دوسروں کی اصلاح کے پیچھے پڑے رہتےہیں۔ فلاں نے یہ کہا،فلاں نے یوں کردیا، فلانے کی اتنی بیویاں ہیں، فلاں کے اتنے بچے ہیں، فلاں کتنے عرصے بعد موبائل یا گاڑی تبدیل کرتا ہے اور فلاں روزانہ اتنا خرچہ کرتا ہے ۔۔۔ ان کے پاس مختلف علاقوں کی اہم شخصیات اور اداروں کے نقائص اور عیوب کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہوتا ہے۔لیکن انہیں اپنی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی کہ ہم کتنے پانی میں ہیں!
مذکورہ اقسام کے علاوہ بھی ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک ایسی قسم بھی ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے آپ کوئی مسئلہ بیان ہی نہیں کر سکتے۔مثلا اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں جگہ پر پولیس والے ناکہ لگاکر رشوت لیتے ہیں تو یہ فورا بولیں گے کہ اجی! ابھی ہم کل ہی تو آئے ہیں ،ہم سے تو کسی نے رشوت نہیں لی۔ آپ انہیں لاکھ سمجھائیں کہ دانشمند صاحب آپ سے تو کسی نے رشوت نہیں لی ،اس لئے آپ کا تو مسئلہ ہی نہیں، آپ کیوں بول رہے ہیں، جن سے رشوت لی گئی ہے انہیں بولنے دیں،یہان کا مسئلہ ہے۔ لیکن مجال ہے کہ یہ خاموش ہوجائیں ۔۔۔
ان کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے دو آدمی جوتا خریدنے اکٹھے دکان پر جائیں اور دونوں باری باری جوتےے کو پہن کر چیک کریں۔ ان میں سے ایک کہے کہ یہ جوتا میرے پاوں میں پورا نہیں ہے جبکہ دوسرا چیخنے لگ جائے کہ میں نے ابھی ابھی پہن کر دیکھا ہے کہ پورا ہے۔ اب چیخنے والے کو کون سمجھائے کہ تم کیوں چیخ رہے ہو، جس کو پورا نہیں ہے اسے بولنے دو یہ اس کا مسئلہ ہے۔
اسی طرح ہمارے ہاں ایک حلقے کے نزدیک صرف تنقید کرنے اور بہ اصطلاح دیگر کیڑے نکالنے کو ہی دانشمندی سمجھا جاتا ہے۔ اس حلقے میں ایسے افراد حلقہ بنائے بیٹھے رہتے ہیں جو دوسروں کی ذات اور کاموں میں دن رات خامیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
ان عظیم دانشمندوں کی بدزبانی کا علاج ان کا پیٹ ہوتا ہے۔ ان کی تنقید سے بچنے کا واحد فارمولہ یہی ہے کہ ان کے ساتھ بنا کر رکھئے اور انہیں کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہیے۔حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے یومِ آزادی کے روز بھی کہ جب ملت پاکستان، جشنِ آزادی کے کیک کاٹ رہی ہوتی ہے ،چاند میری زمین پھول میراوطن اور اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں جیسے ترانوں سے خوشی کا اظہار کررہی ہوتی ہے، نیز پورے ملک میں ملکی سلامتی اور ترقی کے لئے دعائیں کی جارہی ہوتی ہیں اورنئی نسل کے سامنے تاریخ پاکستان کو بیان کیا جارہاہوتا ہے ۔۔۔اس وقت بھی اگر انہیں کیک کا ایک ٹکڑا تھوڑا سا چھوٹا مل جائے تو یہ منہ بسور کر حالات کا ماتم کرنے لگ جاتے ہیں اور آنسو بہانے شروع کر دیتے ہیں کہ اقبال تیرے دیس کا میں کیاحال سناوں۔۔۔یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے۔۔۔کیک نہ ملنے پر یہ اتنے رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ پھر انہیں پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثبت پہلو،تعمیروترقی اور پیشرفت نظر نہیں آتی ۔
اب کچھ ایسے دانشمندوں کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جو پاکستان میں تعلیمی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ان کا ہم وغم بہت سارے سکول اور یونیورسٹیاں کھولنے کا ہوتا ہے، نظامِ تعلیم میں تبدیلی تو اِن کے ایمان کا حصہ ہے۔البتہ ان میں سے بہت سارے ایسے بھی ہیں جو خود میٹرک پاس بھی نہیں ہیں اور بعض نے بمشکل پرائیویٹ طریقے سے ایف اے یا بی اے کیا ہوتا ہے اور جنہوں نے کسی ادارے سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی بھی ہوتی ہے تو ان کا موضوع علم التعلیم نہیں ہوتا۔
ایسے دانشمند آج کل ہمارے ہاں بڑی دیدہ دلیری سے تعلیم کے نام پر چندے اکٹھے کررہے ہیں اور ملک و ملت میں تعلیمی انقلاب کے لئے مصروف ہیں۔ یعنی ہے ناں مزے کی بات کہ ایک شخص علمُ التعلیم پڑھے بغیر یا تو میٹرک فیل ہے، یا پرائیویٹ کچھ تھوڑا بہت پڑھا ہے اور یا پھر ایم بی بی ایس، کسی دینی مدرسے کا پڑھا ہوا یا ایل ایل بی وغیرہ ہوتا ہے لیکن وہ جدید نظام تعلیم میں تبدیلی کی بات کرتا ہے۔
اسی طرح کچھ ایسے بھی دانشمند ہیں کہ وہ دینی نظام تعلیم میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، دن رات دینی مدارس کو کوستے رہتے ہیں، ان کے کلاس فیلوز سے اُن کی اپنی تعلیمی حالت کے بارے میں پوچھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عالی جناب ابتدائی دو تین سالوں کے بعد ہی دینی تعلیم میں نکٹھو ثابت ہو گئے تھے، پھر انہوں نے اپنی اصلاح کے بجائے دینی مدارس کی اصلاح کا مشن شروع کر دیا تھا جسے ابھی بھی انہوں نے جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔
اب ان دانشمندوں کا ذکر بھی ضروری ہے جو صرف وبائی امراض یا آسمانی آفات کے وقت نمودار ہوتے ہیں، ایسے اوقات میں یہ بڑے مقدس ناموں کی پھکیاں ، معجونیں، تعویز، دم اور ورد لے کر آجاتے ہیں، مثلا: مکی سرمہ، مدنی کنگھی، غوثیہ ختم، نجفی معجون، قمی تعویز، مشہدی اگربتیاں اور ۔۔۔حتی کہ اگر کرونا کا کوئی شریف النفس مریض بھی ان کے ہاتھ لگ جائے تو یہ اُس پر بھی اپنا دستِ شفقت پھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اب بھلا ان دانشمندوں کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ جو ایڈمن کے ڈر سے لوگوں کو اُن کے پرسنل نمبروں پر تھوک کے حساب سے پوسٹیں بھیجنی شروع کر دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر بہت مہربان، نرم دِل اور بااخلاق ہوتے ہیں۔ یہ آنکھیں بند کر کے ٹھکا ٹھک پوسٹیں فارورڈ کرنے کو انسانیت کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ خصوصا اگر کسی کی مجلسِ ترحیم یا نذر ونیاز کی پوسٹ ہو تو ان کی دلی تمنّا یہ ہوتی ہے کہ دنیا کے ہر غریب ، فقیر اور بھوکے تک یہ پوسٹ پہنچ جائے۔
بعض اوقات تو یہ مخلوقِ خدا کے ساتھ ہمدردی میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ اگر کسی نے یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ آج شام پانچ بجے میری والدہ کی برسی ہے ۔ آپ سب کو اس میں شرکت کی دعوت ہے نیز طعام اور لنگر کا بھی وسیع انتظام ہے۔اس کے بعد یہ مہربان روحیں سارا دن آنکھیں بند کر کے اس پوسٹ کو فارورڈکرتی رہتی ہیں ،ان کی آنکھیں تب کھلتی ہیں جب شام کو لوگ ان کے گھروں میں پہنچ جاتے ہیں، اس وقت انہیں خیال آتا ہے کہ اوہو! ہماری والدہ کی برسی نہیں تھی بلکہ۔۔۔میسج کو فارورڈ کرنے سے پہلے اس میں اصلاح کرنی چاہیے تھی۔
قارئینِ کرام ! اپنے اپنے وٹس اپ گروپ چیک کیجئے، فیس بُک پر بھی ایک نگاہ ڈالئے اور اپنے پیارے دانشمندوں کے بیانات، تقاریر، کمنٹس ، نگارشات اور تحقیقات کا جائزہ لیجئے اور پھر خوب ہنسیے، کہتے ہیں کہ ایک شخص اخبار پڑھتے ہوئے زور زور سے ہنس بھی رہا تھا،کسی نے پوچھا کہ بھائی کیا کوئی خاص خبر ہے،کیوں ہنس رہے ہو !؟اس نے کہا کہ نہیں کوئی خاص خبر تو نہیں البتہ میں اس لئے ہنس رہاہوں چونکہ اس میں لکھا ہے کہ ہنسنے سے خون پیدا ہوتا ہے۔اپنے دانشمندوں کی دانش مندی پر آپ بھی ہنسیے اور خون پیدا کیجئے۔

اتوار، 21 دسمبر، 2025

بھارت کا مُردہ ضمیرسماج

بھارت کا مُردہ ضمیرسماج: 
ڈاکٹر نذرحافی  :
سپورٹ کشمیر انٹر نیشنل فورم :  ہندوستان کے بارے میں آپ خود فیصلہ کریں!  بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے حالیہ دنوں میں  مسلمان خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے کا واقعہ زیادہ افسوسناک ہے یا اس وقوعے پر  اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کا تبصرہ۔ دریں اثنا، ڈاکٹر نصرت نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت کے خلاف سرکاری نوکری کی  آفر ٹھکرا کر انسانی وقار اور اصول پر مبنی مزاحمت کی مثال قائم کر دی ہے۔  انہوں نے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا ہے  کہ  انسانی اقدار  کی بقا اور اخلاقی آزادی سب سے بڑی جیت ہے، اور انسان کو ہر صورت میں اپنی باوقار شخصیت  کو زندہ رکھنا  چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ  ہندوستان میں انسانی تذلیل ایک منظم فوجی و سیاسی حربہ ہے۔  جہاں جہاں ہندوستان کی رِٹ ہے وہاں وہاں  مرد ہو یا عورت کسی کی بھی عزّتِ نفس محفوظ نہیں۔ مردوں  کا ذکر بعد میں پہلے یہ ملاحظہ فرمائیں کہ خواتین کی آبروریزی بھارت کے اندر چوتھا سب سے زیادہ عام جرم ہے۔  بھارت میں خواتین کے ساتھ  جنسی زیادتی، ہراسمنٹ اور عصمت دری کے  بہت سارے  واقعات رپورٹ ہی  نہیں ہوتے چونکہ متاثرہ خواتین کو ہندوستانی  معاشرے میں  حقارت، شرمندگی،  خوف ،  دھمکیوں اور نفسیاتی  دباؤ کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اس تناظر میں آپ خود فیصلہ کریں کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے حالیہ دنوں میں  مسلمان خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے کا واقعہ زیادہ افسوسناک ہے یا اس وقوعے پر  اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کا تبصرہ۔ دریں اثنا، ڈاکٹر نصرت نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت کے خلاف سرکاری نوکری کی  آفر ٹھکرا کر انسانی وقار اور اصول پر مبنی مزاحمت کی مثال قائم کر دی ہے۔  انہوں نے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا ہے  کہ  انسانی اقدار  کی بقا اور اخلاقی آزادی سب سے بڑی جیت ہے، اور انسان کو ہر صورت میں اپنی باوقار شخصیت  کو زندہ رکھنا  چاہیے۔ اس واقعے سے  آپ اندازہ لگائیں کہ اخلاق باختگی میں ہندوستانی سیاستدانوں اور فوجیوں  کا کوئی ثانی نہیں۔   ہندوستانی فوجی بھی  اس میدان میں اپنے سیاستدانوں  سے کسی طرح پیچھے نہیں۔
  بطورِ نمونہ ہم آپ کیلئے یہ ایک واقعہ پیش کئے دیتے ہیں۔23 فروری 1991ء وہ دن تھا جب  ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں انسانیت کی بدترین تذلیل ہوئی۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر میں کنن اور پوشپورہ کے گاؤں میں کریک ڈاؤن اور تلاشی کے نام پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ  جس نے تاریخ کے دامن پر سیاہ دھبہ ثبت کر دیا۔ 80 برس کی بوڑھی عورت سے لے کر 13 برس کی بچی تک، کوئی  عورت اس  درندگی سے محفوظ نہ رہی۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 100 سے 150 کے درمیان کشمیری خواتین اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنیں۔ انصاف کے لیے صرف چالیس خواتین آگے بڑھ سکیں، جب کہ باقی کو سماجی دباؤ، خوف اور بدنامی کے اندیشوں نے خاموشی پر مجبور کر دیا۔ دہلی حکومت نے تحقیقات تو کیں، مگر ہمیشہ کی طرح نتیجہ یہی نکلا کہ واقعہ بے بنیاد قرار پایا اور مجرم بری ہو گئے۔
وقت گزرا، مگر ہندوستانی فوج کو شرم نہ آئی۔ 2014ء کے بعد کشمیری خواتین نے 23 فروری کو کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن کے طور پر منانا شروع کیا تاکہ کنن پوشپورہ کو تاریخ کی گرد میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ یہ دن منانا اس حقیقت کی  یاد دہانی ہے کہ ظلم اگر قانون کی وردی پہن لے تب بھی تاریخ کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتا۔ انسانیّت کی اس توہین کا بھارت اور عالمی برادری نے تو کوئی نوٹس نہیں لیا تاہم  2014ء کے بعد سے کشمیری خواتین ہر سال 23 فروری کو "کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن" کے طور پر مناتی ہیں، تاکہ  مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر  میں پیش آنے والے  بھارتی مظالم اور اس کے بعد عصمت دری اور قتل کے دیگر واقعات کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے۔اسی طرح 1990ء تا 1992ء کے درمیان دیگر مظالم نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ اسی دوران  نرس گرِجا ٹیکو اور ہندو خاتون بابلی رائنا جنسی تشدد اور سفاکی  کا نشانہ بنیں۔ بھارت کی طرف سے خواتین  کی تذلیل و اہانت کا یہ سلسلہ مسلسل  کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ آپ بھارت کا میڈیا سوشل میڈیا ہی دیکھ لیں،  جہاں جہاں بھارت کا تسلط ہے وہاں وہاں عورت بے آبرو ہے۔ اگست 2024 میں کولکتہ کے میڈیکل کالج میں 31 سالہ ڈاکٹر کو دوران خدمت عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا۔ جولائی 2023 میں بہار کی پانچ سالہ معصوم بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ فروری 2025 میں کیرالہ کی رہائشی نو عمر لڑکی نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے تقریبا 60 مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو چکی ہے۔
برسبیلِ تذکرہ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بھارت کی مقبوضہ  ریاست جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کے گاؤں رسانہ میں جنوری 2018ء کو ایک 8 سالہ بچی آصفہ بانو  کے ساتھ  ایک انتہائی دردناک واقعہ  پیش آیا۔ مقدمے کی چارج شیٹ پیش کر دی گئی ۔ مقتول بچی خانہ بدوش قبیلے بکروال سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی گمشدگی کے ایک ہفتے بعد اس کی لاش ملی۔ اس کے گاؤں والوں کو اس کی لاش ایک کلومیٹر دور ملی تھی۔ اس واقعے کی ذمہ داری جب اپریل 2018ء میں سات  افراد پر عائد کی گئی تو یہ  ملک گیر خبر بن گئی۔ پولیس کے مطابق کل سات افراد کی فہرست جاری کی  گئی جن میں چار پولیس افسران بھی شامل تھے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں بچی کو پہلے نشہ آور دوا دے کر پھر اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر قتل کیا گیا۔ فورنزک شواہد کے مطابق بچی کو ایک ملزم کے زیرِ نگرانی مندر میں کئی روز رکھا گیا۔ مندر سے ملنے والے بال بچی کے بال ثابت ہوئے۔ فورنزک معائنے سے پتہ چلا ہے کہ بانو کئی مرتبہ کئی مختلف مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کیا اور پھر اس کے سر پر بھاری پتھر مارا۔ متوفیہ کے باپ نے بتایا کہ جب جنازہ قبرستان پہنچا تو ہندو دائیں بازو کے افراد نے انھیں گھیر لیا اور وہاں تدفین کی صورت میں تشدد کی دھمکی دی۔ بعد ازاں متوفیہ کی نعش کو سات میل دور ایک اور گاؤں میں دفن کرنے لے جایا گیا۔ حسبِ سابق ا انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ قابض بھارتی حکومت نے "rehabilitation policy" کے تحت مہاجر کشمیریوں کو واپس بلایا، مگر خواتین بار بار  توہین و اہانت  کا شکار ہوئیں۔ اپریل 2025ء میں پہلگام میں ہونے والے خود ساختہ حملوں کے بعد کئی خواتین کو بغیر قانونی کارروائی کے زبردستی  پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
اسی  توہین  کا تسلسل اپریل 2017ء میں اس وقت سامنے آیا جب مقبوضہ کشمیر میں ایک 26 سالہ کشمیری نوجوان کو گرفتار کر کے بھارتی فوجی جیپ کے آگے بطورِ ڈھال باندھ دیا گیا۔  بہانہ  فوجی دستوں پر  پتھراؤ کا تھا لیکن ایک انسان کو بطورِ ڈھال ایسے لٹکایا گیا کہ اس طرح اگر کسی جانور کو بھی لٹکایا جاتا تو ساری دنیا میں کہرام برپا ہوجاتا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین شہری کو انسانی ڈھال بنانے کی صریح ممانعت کرتے ہیں لیکن ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی قانون  کو طاقت کے قدموں تلے روند ا ۔
اس سانحے کے بعد حکومتِ ہند نے متاثرہ نوجوان کے حق میں کھڑے ہونے کے بجائے،  قابض فوج کا ہی ساتھ دیا۔ جموں و کشمیر انسانی حقوق کمیشن نے متاثرہ جوان کو  دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا، مگر ریاستی حکومت نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جس فعل پر عالمی ضمیر نے سوال اٹھایا، اسی پر میجر لیتول گوگوئی کو چیف آف آرمی اسٹاف کا تعریفی کارڈ عطا کیا گیا، گویا انسانی تذلیل بھارتی سماج میں  سیاستدانوں اور فوجیوں کیلئے  قابلِ ستائش  ہے۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے زوال اور پستی  کی  انتہا  ہے کہ وہاں  کسی انسان  کی توہین  کو  سیاستدانوں اور فوجی جوانوں  کے لئے قابلِ فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔  دمِ تحریر مقبوضہ کشمیر میں سال 2025ء کے دوران  بھی جعلی مقابلوں اور حراست کے نام پر کئی بے گناہ نوجوان لاپتہ،  شہید یا معذور کیے  گئے   اور خواتین کی عصمت دری کے  بھی کئی واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ مظلوم قومیں ہتک آمیز  رویّوں کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ اُنہیں   ایندھن کی طرح  اپنی  مقاومت و  مزاحمت کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ وہ  دماغ کی گہرائیوں میں چھپے زخموں کو کبھی نہیں بھولتیں ، کبھی نہیں بھولتیں۔۔۔ مظلوم اقوام  اہانت کو نہ قبول کرتی ہیں اور نہ فراموش۔

روات میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ

روات میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ
روات (21 دسمبر 2025):
جامعۃ الرضا اسلام آباد کے تعاون سے روات کے علاقے میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کا مقصد مقامی افراد کو غسلِ میت، کفن، دفن اور نمازِ جنازہ کے فقہی احکام عملی طور پر سکھانا تھا۔ یہ ورکشاپ مرکزی امام بارگاہ قصرِ قمر بنی ہاشم علیہ السلام پیر گڑاٹہ سیداں میں مقامی مومنین کے  تعاون سے منعقد ہوئی۔
ورکشاپ کا آغاز صبح 10 بجے ہوا اور یہ نمازِ ظہرین تک جاری رہی۔ اس تربیتی پروگرام کو  جامعۃ الرضا کے دو معزز اساتذہ، مولانا حبدار علی صاحب اور مولانا نقی عمران جعفری صاحب نے آرگنائز کیا۔ انہوں نے نہ صرف فقہی مسائل کی وضاحت کی بلکہ شرکاء کو ان احکام پر درست طریقے سے عمل کرنے کی عملی تربیت بھی فراہم کی۔
ورکشاپ کے دوران غسل، کفن، دفن اور نمازِ جنازہ سے متعلق تمام ضروری فقہی احکام پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ شرکاء کی جانب سے مختلف فقہی سوالات بھی پیش کیے گئے، جن کے جوابات اساتذہ نے تسلّی بخش انداز میں دیے۔
یاد رہے کہ ایسی ورکشاپس کا مقصد عوام میں اسلامی فقہ کے بنیادی احکام سے آگاہی پیدا کرنا ہے ۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد کا شعبہ تبلیغات اپنی ظرفیت کے مطابق سال بھر مختلف مقامات پر  ایسی ورکشاپس کا انعقاد کرواتا رہتا ہے۔


ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

Voice of Nation Online

Voice of Nation Online
تحقیقات کا مجموعہ

آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ

  •  آیت  اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ 
  • جامعۃ الرضا میں اساتذہ کی جانب سے آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا پرتپاک استقبال
  • دینی مدارس کے اساتذہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی
  • دینی تعلیم میں قرآن مجید کو محور بنانا وقت کی اہم ضرورت قرار
  • ابتدائی طلبا کو احکامِ عملی اور قرآن فہمی سے آشنا کرنے پر زور
  • عاشرہ سازی کے لیے قرآن مجید کو بنیادی رہنما بنانے کی تلقین
  •  ادارے کی جانب سے شکریہ کا اظہار
آیت اللہ حافظ سیِّد ریاض حسین نجفی صاحب نے جامعۃ الرضا اسلام آباد  کا  دورہ کیا، جہاں اساتذہ کرام نے ان کا استقبال کیا اور ان کی آمد کو ادارے کے لیے باعثِ خیر و برکت قرار دیا۔اس موقع پر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی  صاحب نے اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے اساتذہ پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کیونکہ وہ اپنا قیمتی وقت طلبا کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت پر صرف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وصف دینی مدارس کے نظامِ تعلیم کو دیگر تعلیمی اداروں سے ممتاز بناتا ہے۔
اُن  کا کہنا تھا کہ دینی مدارس میں قرآن مجید کو تعلیم و تربیت کا محور ہونا چاہیے۔ ابتدائی مراحل میں طلبا کو احکامِ عملی اور قرآن فہمی سے آگاہ کرنا نہایت اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیم و تربیّت  کے عمل میں قرآن مجید کو اپنی تدریس اور تربیت کی بنیاد  بنائیں۔
دورے کے اختتام پر جامعۃ الرضا کے  اساتذہ کرام  نے آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ ادارے کی جانب سے اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ ان کی رہنمائی آئندہ بھی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

عصرِ حاضر کے معتبر تعلیمی ماڈل

عصرِ حاضر کے معتبر تعلیمی ماڈل : 
ڈاکٹر نذر حافی :
ہر ادارے کے ڈھانچے کے بیچ  ایک خاموش زبان﴿ سوفٹ وئیر﴾ موجود  ہوتی ہے۔  تمام ادارے کاغذوں، دستخطوں، فائلوں اور قواعد و ضوابط کی صورت میں اسی خاموش زبان یا سوفٹ وئیر کے تحت چلتے ہیں۔ جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ   اِسی سوفٹ وئیر پر کسی بھی ادارے کی فکری، اخلاقی اور معاشی ترقی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ دیگر اداروں کی مانند تعلیمی اداروں میں  بھی یہی  خاموش زبان ﴿ سوفٹ وئیر﴾ اپنا کام دکھاتی ہے۔ اسی خاموش زبان کے تحت  خاموشی کے ساتھ ہر تعلیمی ادارے میں  کچھ پیمائشی اشاریے اور پیمانے بھی بطورِ خود کار  کام کر رہے ہوتے ہیں۔  علم التعلیم میں ان خودکار پیمانوں کو  تعلیمی میٹرکس یا  پیمائشی اشاریے کہا جاتا ہے۔
یہ میٹرکس دراصل وہ پیمائشی اشاریے ہوتے ہیں جن کے ذریعے کسی طالب علم کی علمی استعداد، کسی استاد کی تدریسی مہارت، کسی تعلیمی ادارے  کے کسی شعبے کی کارکردگی، اور مجموعی طور پر پورے تعلیمی نظام کی افادیت کو جانچا جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر پیمائشی اشاریے وہ مقدار یا معیار ہوتے ہیں جن کے ذریعے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو ناپا اور پرکھا جاتا ہے۔ یہ اشاریے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں جیسے،طلباء کی کامیابی (نتائج، پاس فی صد، گریڈز)،حاضری کی شرح،اساتذہ کی پروفیشنل تربیّت میں دلچسپی،طلباء و اساتذہ کا نظم و ضبط،ریسرچ آؤٹ پٹ،انفراسٹرکچر کی دستیابی،فنڈنگ اور بجٹ کا  درست استعمال، ڈراپ آؤٹ ریٹ ۔۔۔ وغیرہ ۔  صاف ظاہر ہے کہ یہ  پیمانے  صرف نمبروں یا امتحانات کی جانچ  تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان میں طلباء کی تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اخلاقی رویے، تخلیقی استعداد، اور ڈیجیٹل مہارت کو ماپنا بھی شامل ہوتا ہے۔ ان پیمائشی معیارات کے ذریعے ایک تعلیمی ادارہ  خود اپنے نظام کا  احتساب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر  اگر کسی ادارے  میں بچیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح حدِ تشویش کو چھو رہی ہو  تو ماہرینِ تعلیم کیلئے  یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ  ایک سماجی پیغام  بھی ہوتاہے۔ وہ اُس کے پیشِ نظر اُس سماجی پیغام کے جواب میں درست ردِّ عمل دکھانے کیلئے مناسب پالیسی وضع کرتے ہیں۔ جان لیجئے کہ   ایسے  تعلیمی ادارے  جو اپنے تعلیمی اشاریوں کو نظرانداز کرتے ہیں  وہ  معیاری تعلیم  فراہم کر ہی نہیں سکتے۔ چونکہ یہ اشاریے صرف معلوماتی نہیں ہوتے بلکہ یہ تعلیمی اداروں کو پالیسی سازی کیلئے  مقدمات فراہم کرتے ہیں۔ جب کسی ادارے میں تعلیمی معیار گرتا ہے یا طلباء کی کارکردگی کم ہوتی ہے، تو  ان پیمائشی اشاریوں سے حاصل شدہ  ڈیٹا کی روشنی میں نئی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں تاکہ کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔ اسی طرح، اگر کوئی پالیسی نافذ کی جاتی ہے تو بعد میں انہی اشاریوں سے اس کی افادیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان پیمانوں سے مدیریت کو بروقت پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت ہمارے ادارے میں  سیکھنے و سکھانے  کا عمل کس حد تک مؤثر ہے، آج کل تدریس صرف رٹا لگانے تک محدود ہے یا حقیقی فہم کو بھی چھو رہی ہے۔ مثلاً   ایک طالب علم امتحان میں تو اچھے نمبر لے رہا ہے لیکن کہیں  وہ    اخلاق، آداب، اجتماعی فعالیت اور ٹیم ورک میں پیچھے تو نہیں رہ گیا۔
یہ پیمائشی اشاریے وزارت تعلیم، نصاب ساز ادارے، ماہرین تعلیم، محققین، اساتذہ، اور بعض صورتوں میں تعلیمی  تنظیمیں مل کر تشکیل دیتی ہیں۔ وزارت تعلیم عام طور پر قومی سطح پر بڑے اشاریے اور تعلیمی اہداف متعین کرتی ہے جن پر پورا نظام تعلیم استوار کیا جاتا ہے۔ نصاب ساز ادارے ان اہداف کو تعلیمی مواد میں منتقل کرتے ہیں، اور اساتذہ انہیں روزمرہ تدریس میں عملی جامہ پہناتے ہیں۔بین الاقوامی ادارے جیسے OECD اور UNESCO بھی کئی ممالک کے لیے  تعلیمی میدان میں رہنما کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر PISA جیسے عالمی معیارات ممالک کی تعلیمی پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارے خود بھی اپنی داخلی ضروریات کے مطابق کچھ مخصوص " پیمائشی اشاریے" تشکیل دیتے ہیں جیسے طالب علم کی حاضری کی شرح، استاد کے ورود و خروج کے لمحات،  کورس مکمل کرنے کی رفتار یا ٹیچرز کی تدریسی نوآوری۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کلاس روم کی سطح پر ایسے غیر رسمی تعلیمی معیارات اپناتے ہیں جو طلباء  کی ذہنی وسعت اور سمجھنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔
یہ تمام پیمائشی اشاریے اگرچہ مختلف سطحوں پر تشکیل دیے جاتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ تعلیم کو صرف ڈگریوں اور نمبرات کی دوڑ سے نکال کر ایک بامقصد اور بامعنی عمل میں تبدیل کیا جائے۔ جب تک "تعلیمی پیمائشی اشاریے "وسیع، متنوع، اور  عملی طور پر نافذ   نہ ہوں، تب تک تعلیمی ادارہ غیر متوازن  رہتا ہے  اور اس کے  طلباء و اساتذہ کی صلاحیتیں محدود دائرے میں مقیّد رہتی ہیں۔
معیاری تعلیم کے لیے ایسے پیمانوں کی ضرورت ہے  کہ جو نہ صرف علم کی گہرائی ناپ سکیں بلکہ شعور، سوجھ بوجھ، اور سچائی کی پہچان کا معیار بھی قائم کریں۔ تعلیم کے ہمراہ ایسے ایسے پیمانوں کا ہونا از حد ضروری ہے چونکہ تعلیم  صرف  رٹنے اور امتحان دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی  مسلسل ارتقائی عمل  ہے۔  آج کے دور میں تعلیمی کامیابی صرف نصابی کتب کی تکمیل یا امتحانات کے اعلیٰ گریڈز سے نہیں ناپی جا سکتی  بلکہ  اس کی پیمائش  ان پیمانوں سے کی جاتی ہے کہ جن سے اساتذہ کے تدریسی تجربے، مدیریت کی پیشہ وارانہ تربیّت اور   طلباء کی سوچ کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ پیمانے  پیمائش کر کے ہمیں بتاتے  ہیں کہ ایک طالب علم صرف یاد داشت کا محتاج نہیں بلکہ وہ ایک ایسا ذہن ہے جو سوال اٹھا سکتا ہے، دلیل دے سکتا ہے، اور نئی راہیں نکال سکتا ہے۔ ان پیمانوں کو اگر  تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل خواندگی، اور جدید تعلیمی تقاضوں  کے ساتھ استعمال کیا جائے تو  تعلیم کو محض رٹے بازی سے نکال کر تربیّت  کی معراج تک  پہنچایا جا سکتا ہے۔
یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی تعلیمی کارکردگی کی  محض پیمائش کافی نہیں۔ یہ پیمائش اور پیمانے تب مفید اور موثر ہوتے ہیں جب ان سے اخذ شُدہ رپورٹس  کی بنیاد پر مؤثر تعلیمی پالیسیاں  مرتب  کی جائیں۔ تعلیمی پالیسی، وہ فکری دھارا ہے جو نظام تعلیم کو سمت عطا کرتا ہے۔ یہ محض قواعد و ضوابط کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک فکری معاہدہ ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو کس سوچ، کس مزاج، اور کس ویژن کے ساتھ پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ جب جب تدریسی عمل میں جدت لاتے ہوئے  نصابی پالیسیوں میں پیمائش کے نتائج  شامل کیے جاتے ہیں تو تب کوئی تعلیمی ادارہ بطورِ خود کار ایک  خاموش زبان کے ساتھ اپنا احتساب شروع کر تا ہے۔ اشاریے پالیسی کو جنم دیتے ہیں  اور پالیسیاں اشاریوں کو  نئی شکل میں مرتّب کرتی ہیں۔ یوں تعلیم ایک مستقل ارتقائی عمل کا نام ہے، جس میں ہر قدم کسی کی شخصی سوچ کے بجائے اجتماعی فکر، عملی تجربے اور شماریاتی بنیاد پر اُٹھایا جاتا ہے۔واضح بات ہے کہ نظامِ تعلیم میں حکمت کی آمیزش اُس وقت ممکن ہوتی ہے کہ  جب ہم  اپنی تعلیمی پالیسی کو پیمائشی اشاریوں کے تجربات و نتائج  کی روشنی میں متحرک کرتے ہیں۔ ہم جس معاشرے کی تشکیل  کرنا چاہتے ہیں  اس کی بنیاد ہمیں پیمائشی اشاریوں کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی پالیسی میں رکھنی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان صرف ملازمت کے امیدوار نہ بنیں بلکہ فکری رہنما، اخلاقی انسان اور ٹیکنالوجی کے معمار بنیں، تو ہمیں تعلیمی پالیسی کو پیمائشی اشاریوں کے نتائج کی روشنی میں  اس نہج پر استوار کرنا ہوگا جہاں معیار، مقصد اور معنویت یکجا ہوں۔
تعلیمی اداروں کے پیمائشی اشاریے، جیسے طلباء کی کارکردگی، حاضری کی شرح، اساتذہ کی قابلیت، اور انفراسٹرکچر کی دستیابی، اس وقت تک کسی فیصلے میں ڈھل نہیں سکتے جب تک ان کا ڈیٹا درست طور پر جمع اور تیار نہ کیا جائے۔ ڈیٹا کولیکشن وہ ابتدائی زینہ ہے جس سے پورا نظام شفافیت کی سیڑھی چڑھتا ہے۔ یہ عمل سوالناموں، مشاہدات، امتحانی نتائج، بایومیٹرک حاضری، مالی رپورٹس، اور حتیٰ کہ لرننگ مینجمنٹ سسٹمز سے حاصل شدہ معلومات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ خیال رکھیں کہ ناپختہ ڈیٹا، ناپختہ فیصلوں کو جنم دیتا ہے۔ لہذا ڈیٹا کی چھانٹی ناگزیر ہے۔ ڈیٹا کو صاف کرنا، غیر متعلقہ یا نامکمل معلومات کو الگ کرنا، فارمیٹ کو یکساں بنانا، اور اسے اس انداز میں ترتیب دینا کہ تجزیہ ممکن ہو سکے  یہ سب اقدامات پالیسی بنانے سے پہلے کے  عمل کا حصہ ہیں۔ یہ گویا خام سونے کو کندن بنانے جیسا عمل ہے۔
پالیسی سازی میں اس تیار شدہ ڈیٹا کی اہمیت یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر فیصلے بغیر  چھانٹے ہوئے  ڈیٹا کے مطابق ہوں گے  تو وہ تعلیمی نظام کو درست سمت میں لے جانے کے بجائے مزید پیچیدگیوں میں الجھا دیں گے۔  چھانٹی شُدہ اور مرتّب  ڈیٹا ہی  پالیسی ساز کو یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے، کس درجے کا ہے، اور اس کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے۔ یہ عمل تعلیمی انصاف، بجٹ کی تقسیم، اساتذہ کی تعیناتی، اور سہولیات کی فراہمی جیسے فیصلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔مزید یہ کہ جب کوئی تعلیمی  پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کو جانچنے کے لیے بھی وہی ڈیٹا دوبارہ  کام آتا ہے ، یعنی مرتّب  ڈیٹا نہ صرف پالیسی کو جنم دیتا ہے بلکہ پالیسی کی کارکردگی کی پیمائش کرنے میں مددگار بھی ہوتا ہے۔
یاد رکھئے کہ  تعلیمی ادارہ  اسناد و القابات بانٹنے کا کوئی کارخانہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں انسان کی شخصیت  اور ملک و قوم کے مستقبل کو تراشا جاتا ہے۔  چنانچہ  یہ  تراش خراش مضبوط تعلیمی پیمانوں کے نتائج پر مبنی ٹھوس تعلیمی  پالیسیز    کو اپنائے بغیر ممکن نہیں۔ موجودہ  صدی میں کسی  تعلیمی ادارے کی کامیابی کا پیمانہ اب محض طلباء کی تعداد، امتحانات کے نتائج یا اسکولوں کی عمارتیں  نہیں رہیں بلکہ   اس دور میں ماہرینِ تعلیم کے نزدیک  ایک معتبر  اور حقیقی تعلیمی ماڈل  کیلئے ضروری ہے کہ وہ  اسٹریٹیجک منصوبہ بندی، کارکردگی  میں نظم و ضبط اور ٹھوس  اعداد و شمار پر مبنی پالیسی   سے مرکّب ہو۔ 



 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...