Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
جمعہ، 26 دسمبر، 2025
تحقیق کی اصطلاح کا غلط استعمال
جمعرات، 25 دسمبر، 2025
بدھ، 24 دسمبر، 2025
Artificial Intelligence سے ایک مکالمہ
عِلم کی کثرت اورحِکمت کی قلت
نظریاتی بیماریاں قسط ۱
کیا قائداعظم ؒ مسلمانوں کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے؟
نظریاتی بیماریاں قسط ۲
نظریاتی بیماریاں قسط ۲
ڈاکٹر نذر حافی﴿قسط ۲ ﴾
ایک بڑی فکری لغزش یہ ہے کہ ہم کسی کو انحراف میں مبتلا دیکھ کر اسلام کے تربیتی و اصلاحی نظام کے تحت اُس کی
اصلاح کرنے کے بجائے، اُس شخص کو منحرف
اور ذاتی طور پر بدکردارسمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی نظریاتی
ناپختگی ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ انحراف کے اسباب
پر غور کرنے کے بجائے منحرف شخص کو کوسنے، اس کی نیت پر حملے کرنے اور اس کی کردار
کشی پر مرکوز ہو جاتی ہے، اس دوران اصل
انحراف اپنی جگہ پوری قوت سے زندہ رہتا ہے۔ یوں ہم مرض کے بجائے مریض سے الجھ جاتے
ہیں، اور بیماری خاموشی سے مزید پھیلتی چلی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل
خود ایک قسم کا انحراف ہے، اور اس سے کسی کی اصلاح ممکن نہیں۔
اسی نکتے کی طرف حضرت امام خمینیؒ توجہ دلاتے ہوئے ارشاد
فرماتے ہیں کہ جب آپ معاشرے میں انحرافات دیکھیں تو یہ گمان نہ کریں کہ انحراف ہی
کے ذریعے انحراف کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ انحراف، انحراف کو سیدھا نہیں کر سکتا۔
انحرافات کو اللہ کی ہدایت کے نور اور اپنے رب کے نام کے ساتھ درست کرو۔﴿صحیفۂ
امام، ج۸،
ص۳۳۱﴾
کسی شخص کا منحرف ہونا بذاتِ خود اتنا بڑا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ وہ فکری، سماجی اور اخلاقی فضا ہے جو
اس کے اندر انحراف کو جنم دیتی ہے اور اسے
زندہ رکھتی ہے۔ اگر یہ فضا برقرار رہے تو ایک منحرف کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے
بعد تیسرا منحرف پیدا ہوتا رہے گا۔ چنانچہ اصلاح کا راستہ افراد کی مذمت سے نہیں
بلکہ ان اسباب کے خاتمے سے ہو کر گزرتا ہے جو انحراف کو ممکن بناتے ہیں۔
حضرت امام خمینی ان تمام انحرافات کا اصلی سبب نفس کی
غلامی کو قرار دیتے ہیں۔ آپ کے بقول :
تمام انحرافی چیزیں،چاہے وہ انحرافی عقائد ہوں، انحرافی
اعمال ہوں، انحرافی قلم ہوں یا انحرافی تقاریر،یہ سب اس لیے ہیں کہ وہ عبودیتِ
اللہ کے راستے سے نہیں گزرے۔ ایسے لوگ
اللہ کے بندےبننے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن چکے ہوتے ہیں۔ ﴿صحیفه
امام، ج۱۴،
ص۳۸﴾
منحرف شخص کو مسلسل کوسنے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا
ہے کہ وہ خود کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے، اور اپنی غلطی پر غور کرنے کے بجائے دفاعی
پوزیشن اختیار کر لیتا ہے۔ یوں اصلاح کا دروازہ بند اور انا مزید مضبوط ہو جاتی
ہے۔ اس کے برعکس، جب انحراف پر تنقید کی جائے، اس کے دلائل کا علمی رد کیا جائے
اور اس کے نتائج کو واضح کیا جائے تو گفتگو شخصیت سے نکل کر فکر کے دائرے میں داخل
ہو جاتی ہے، اور اصلاح کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فرد ہمیشہ کسی نہ کسی
نظام کا پروردہ ہوتا ہے۔ اگر نظام خود غلط سمت میں جا رہا ہو تو محض افراد کو
نشانہ بنانا فکری سطحیت کے سوا کچھ نہیں۔ اصل دانش یہ ہے کہ اس نظام کو درست کیا
جائے جو غلط کو ممکن اور درست کو مشکل بنا دیتا ہے۔ جب نظام اجازت نہ دے تو فرد
خود بخود درست سمت اختیار کرنے لگتا ہے۔
دینی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی اصلاح کا یہی منہج ہے۔
اسلام کا مقصد کسی فرد کو رسوا کرنا نہیں بلکہ برائی کو کمزور کرنا ہے۔ جب اصلاح
کا ہدف ذات کے بجائے روش بن جائے تو نہ صرف نفرت کم ہوتی ہے بلکہ خیر کے لیے راستہ
بھی ہموار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی مصلحین نے ہمیشہ اصول پر ضرب لگائی، شخص
پر نہیں۔ شخص پر وہی لوگ ضرب لگاتے ہیں جو اپنی اصلاح کیے بغیر دوسروں کی اصلاح کے
خواہاں ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں حضرت امام خمینیؒ فرماتے ہیں:
“جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہیں کرتے، ہم یہ
نہیں کہہ سکتے کہ ہم اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
جب تک انسان خود صالح نہ ہو، وہ دوسروں کو صلاح کی دعوت نہیں دے سکتا۔ جو شخص، خدا
نہ کرے، خود ٹیڑھا قدم رکھتا ہو، اگر وہ لوگوں سے کہے کہ اپنا قدم سیدھا رکھو تو
لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے اور کہیں گے: اگر قدم سیدھا رکھنا درست ہوتا تو پہلے آپ
خود تو سیدھا رکھتے!”﴿صحیفۂ امام، ج۸،
ص۴۸۷﴾
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شخصی حملے معاشرے کو دو حصوں
میں تقسیم کر دیتے ہیں: ایک حمایتی اور دوسرا مخالف۔ اس تقسیم میں اصل مسئلہ پسِ
پشت چلا جاتا ہے، اور ساری توانائی باہمی کشمکش میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس،
جب گفتگو انحراف کے خاتمے پر مرکوز ہو تو اختلاف کے باوجود فکری مکالمہ زندہ رہتا
ہے اور اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
اسی لیے اسلام کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری
توجہ اس بات پر مرکوز نہ ہو کہ کون غلط ہے، بلکہ اس سوال پر ہو کہ غلطی کیوں زندہ
ہے۔ جب سوال یہ بن جائے تو جواب بھی شخصی نفرت کے بجائے اجتماعی اصلاح کی صورت میں
سامنے آتا ہے۔ دینِ اسلام کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے حضرت امام کا نکتہ نظر یہ ہے
کہ اگر قرآن اور اسلام کو جس طرح وہ حقیقت میں ہیں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو
سب اس کے طالب بن جائیں گے۔ انحرافات کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اسلام کو
پہچانا ہی نہیں،اگر وہ اسلام کو پہچان لیں اور اس کے احکام کو صحیح طور پر سمجھ لیں
تو سب اس کے خریدار ہوں گے۔
﴿ صحیفه امام، ج۶، ص۵۰۹﴾
اس قسط کا خلاصہ یہ ہے کہ منحرف شخص کو کوسنا وقتی تسکین
تو دے سکتا ہے، مگر انحراف کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتا۔ حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن
ہے جب ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں، خود اپنے بارے میں جھوٹی تاویلیں اور جواز
نہ گھڑیں، اپنے اکابرین کے بارے میں غلو سے بچیں، اور افراد کے بجائے افکار، رویّوں
اور نظاموں کو ہدف بنائیں، کیونکہ انحراف افراد سے نہیں بلکہ اردگرد کی فضا اور
ماحول سے جنم لیتا ہے۔
آخر میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نظریاتی بیماریاں
یا انحرافات کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک زمانے تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ بھی
انسانوں کی طرح نسل در نسل افزائش پاتی رہتی ہیں۔ ان بیماریوں سے بچنے کا واحد
راستہ یہی ہے کہ دینِ اسلام کو اس کی اصلی اور خالص حالت میں ایک انسان ساز ضابطۂ
حیات سمجھ کر محفوظ کیا جائے، اصولوں کو شخصیات پر فوقیت دی جائے، سچ کو تقدیس پر
ترجیح دی جائے، اور احتساب کو وفاداری کے منافی نہ سمجھا جائے۔
پیر، 22 دسمبر، 2025
دانشمندوں کی اقسام
اتوار، 21 دسمبر، 2025
بھارت کا مُردہ ضمیرسماج

روات میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ
ہفتہ، 20 دسمبر، 2025
آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ
- آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ
- جامعۃ الرضا میں اساتذہ کی جانب سے آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کا پرتپاک استقبال
- دینی مدارس کے اساتذہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی
- دینی تعلیم میں قرآن مجید کو محور بنانا وقت کی اہم ضرورت قرار
- ابتدائی طلبا کو احکامِ عملی اور قرآن فہمی سے آشنا کرنے پر زور
- عاشرہ سازی کے لیے قرآن مجید کو بنیادی رہنما بنانے کی تلقین
- ادارے کی جانب سے شکریہ کا اظہار



















