زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اور فن سوانح نگاری کی اہمیت :
قسط دوّم
: ڈاکٹر نذر حافی :
اسلوب، زبان اور بیانیے کے اعتبار سے زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اردو ادب میں ایک دلکش اور فنّی اضافہ ہے۔ایک عظیم سوانح وہی ہوتی ہے جو واقعات کے پس پردہ انسانی ارادے، اقدار، تضادات اور وجودی سوالات کو اجاگر کرے۔ کامیابی و ناکامی، اختیار و جبر، فرد و معاشرہ جیسی زندہ مباحث سوانح میں عملی مثالوں کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ جیسا کہ اس سوانح حیات میں ایسی کئی عملی مثالیں موجود ہیں۔ نمونے کے طور پر اس کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
علامہ :۔ ایک مرتبہ جب میں شملہ گیا تو راستہ میں ایک چائے اسٹال پر کوئی لڑکا ترکی ٹوپی پہنے آواز لگارہا تھا مسلمان چائے ، مسلمان چائے میزبان نے گاڑی روک دی۔ ہم چائے نوش کر کے چلے تو اسی اسٹال سے آواز آئی ” ہندو چائے ، ہندو چائے ۔ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا گاندھی کیپ پہنے آواز لگا رہا تھا۔
اب اس کا فیصلہ تو قارئین اور نقاد ہی کریں گے کہ " زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی" میں کس قدر فن کے لوازمات تاریخی سچائی، ادبی جمالیات اور معاشرتی بصیرت کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ جب یہ تینوں عناصر باہم ہم آہنگ ہو جائیں تو سوانح نگاری محض زندگی کا بیان نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور انسانی تجربے کی جامع تعبیر بن جاتی ہے۔ اس سوانح نگاری میں بالا تینوں عناصر کے امتزاج کی ایک جھلک پیشِ خدمت ہے:
صغیر :۔ آپ کی قیام گاہ سے ایک فرلانگ پر لالوکھیت میں جماعت اسلامی کے دس ہزار ارکان کا اجتماع ہوا۔ آپ کو مدعو نہیں کیا گیا ؟
علامہ :۔ مجھے کوئی دعوت نامہ نہیں ملا۔
صغیر : ۔ کیا آپ صالح اور سنی نہیں ہیں؟
علامہ :۔ ہم اتباع رسول ﷺکرتے ہیں ۔ ہم سُنّی ہیں ۔
صغیر :۔ جماعت اسلامی اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ یہ پاکستانی مہا سبھا ہے (اس پرعلامہ بہت ہنسے )
اب یہاں پر ہم کتاب میں مذکور ان واقعات کے حوالے سے یہ واضح کرنا چاہتے ہین کہ جب فنِّ سوانح نگاری کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو تاریخ محض واقعات اور اعداد و شمار کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے، جس میں انسانی کردار، فیصلے اور جدوجہد اوجھل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً قومیں اپنی فکری تشکیل اور ارتقائی مراحل کو درست طور پر نہیں سمجھ پاتیں اور اُن کی ماضی سے سیکھنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سوانح کے بغیر ادب بھی زندگی کے حقیقی مسائل، کرداروں کی داخلی کشمکش اور عملی تجربات سے کٹ جاتا ہے، جس سے اس میں گہرائی اور تاثیر کم ہو جاتی ہے۔
سوانح نگاری انسان کے وجودی سوالات اختیار، جبر، اخلاق اور مقصدِ حیات کو عملی زندگی کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ اس کے بغیر یہ سوالات مجرد اور غیر مربوط رہ جاتے ہیں اور فرد خود آگاہی سے محروم ہو جاتا ہے۔الغرض، فنِ سوانح نگاری سے غفلت انسان، تاریخ اور ادب کے درمیان موجود زندہ ربط کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ غفلت نہ صرف ماضی کی تفہیم کو متاثر کرتی ہے بلکہ حال کی سمت اور مستقبل کی فکری بنیادوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی کے مطالعے سے یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ سوانح نگاری اگر سطحی بیان سے اوپر اُٹھ کر فکری اور روحانی شعور کی سطح کو چھو لے تو یہ محض زندگیوں کی روداد نہیں رہتی بلکہ ایک قاری کیلئے انسان ہونے کے ناتے ماضی کی تفسیر بن جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ خاموش نہیں رہتی، اور ادب محض حسنِ بیان تک محدود نہیں رہتا۔ آپ جیسے جیسے کتاب کے صفحات الٹتے جاتے ہیں ، اپنی انگلیوں کی پوروں سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ سطر بہ سطر تاریخ بول رہی ہے اور ادب سانس لے رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کتاب کے صفحہ ۳۷ پر ان سطور تک پہنچ جاتے ہیں:
"یہ باتیں کبھی بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ زمانہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا اس لیے انسان کو ظاہر داری نہیں برتنی چاہیے بلکہ بچنا چاہیے، مولانا محمد علی جو ہر اور شوکت علی جو ہر کا کسی زمانہ میں سر زمین لاہور پر تاریخی استقبال ہوا تھا۔ ایک زمانہ وہ بھی آیا جب کہ مولانا محمد علی جوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ میں لاہور میں پنجاب یونیورسٹی سے کلاسیں لے کر گھر جا رہا تھا۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ دو پہر کا وقت تھا۔ تانگہ میں میں نے دیکھا مولانا شوکت علی جو ہر سڑک پر کھڑے ہوئے لوگوں سے کسی کا مکان دریافت کر رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ انہیں پہچانتے نہیں۔ آنکھوں میں اُن کے استقبال کا منظر کھینچ گیا، اور دل دھڑکنے لگا۔
ایک مرتبہ مولانا شوکت علی کراچی سے بذریعہ ریل لاہور جا رہے تھے مرحوم اپنی وضع قطع کے ایک ہی آدمی تھے۔ لحیم شحیم جسم ، اس پر چاند تارہ والی ٹوپی ۔ یہ دیکھ کر اُن کے ہم سفر نے ، اُن کا نام پوچھا۔ یہ زمانہ اُن کے عروج کا نہ تھا۔ بس اب کیا تھا مولانا شوکت علی گرج پڑے۔ بولے ” میرا نام اگر آسمان سے پوچھو گے تو وہ پھٹ جائے گا ، درختوں سے پوچھو گے تو وہ احترام سے جھک جائیں گے۔ آپ مجھے نہیں جانتے“۔"
یہی منظر نگاری اس سوانح نگاری کے تسلسل میں جابجا موجود ہے۔ اس تناظر میں آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ فنِّ سوانح نگاری در اصل انسان کے تجربے کو معنی عطا کرنے کی ایک کوشش ہے، اور یہی کوشش تہذیبوں کو زندہ رکھتی ہے۔ حقیقی سوانح نگاری کسی فرد کے اعمال کو محض کامیابی یا ناکامی کے پیمانے پر نہیں پرکھتی بلکہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اس نے کب اور کیوں کون سا عمل انجام دیا اور اس وقت اُس کے اختیار کی حدود کہاں تک تھیں۔ جب سوانح نگاری سے غفلت برتی جاتی ہے تو بعد والی نسلوں کیلئے ماضی کا انسان محض "ایک مجبور روبوٹ" بن کر رہ جاتا ہے، یوں تاریخ ِ انسان "شرفِ انسانیت" کے بغیر آگے بڑھنے لگتی ہے۔ یوں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کے انسان ہونے کیلئے خود انسانیّت ہی سب سے بڑی دلیل ہے۔ سوانح نگاری اس دلیل کو ہمیشہ محفوظ رکھتی ہے۔ یہ عقل کو تجربے کے ساتھ باندھتی ہے اور بتاتی ہے کہ فکر کیسے عمل میں ڈھلتی ہے۔ اس فن کی عدم موجودگی میں علم جامد ہو جاتا ہے، شرافت زندگی سے الگ اور انسان اپنے ہی افکار کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔
فنّی سوانح نگاری وہ راستہ ہے کہ جہاں فرد اپنی لغزشوں، توبہ، اضطراب اور یقین کے مراحل سے گزرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ فن مفقود ہو جائے تو معاشرہ ظاہر پرست ہو جاتا ہے یعنی اعمال توباقی رہتے ہیں لیکن نیت غائب ہو جاتی ہے، اور روحانی و معنوی زندگی رسومات و خرافات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سو !سوانح نگاری اس انتشار میں ایک باطنی ترتیب پیدا کرتی ہے، جہاں حادثہ، انتخاب اور تقدیر ایک منصوبہ بندی سے جُڑ جاتے ہیں۔ اس کے بغیر انسان کی زندگی شور ہے، اور تہذیب ایک بے سُری آواز۔ یہ نہ ہوتو نئی نسل خود اپنے وجود سے سوال کرتی ہے مگر جواب کسی اجتماعی تجربے کی شکل میں نہیں پاتی۔ سوانح نگاری فرد کی تنہائی کو تاریخ سے جوڑتی ہے اور اس کے اضطراب کو محض ذاتی نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک عہد کی علامت بنا دیتی ہے۔ اس فن سے غفلت جدید انسان کو معنی کے خلا میں معلق کر دیتی ہے، جہاں وہ بولتا ہے مگر سنا نہیں جاتا۔
سوانح نگاری انسان کے دِل پر موجود بوجھ کو زبان دیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ فکر کیسے دکھ میں ڈھلتی ہے اور دکھ کیسے شعور بن جاتا ہے۔ اگر سوانح نہ ہو تو غالب کا سوال بے جواب رہتا ہے اور انسان کی شکست محض ذاتی ناکامی کہلا کر فراموش ہو جاتی ہے۔ یہی وہ فن ہے جو ثابت کرتا ہے کہ انسان تاریخ کا مجبور کردار نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار ہے۔ سوانح نگاری اس ذمہ داری کا اخلاقی ریکارڈ ہے۔ زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی کے مصنّف پروفیسر سیِّد اصغر جارچوی مرحوم نے اس اخلاقی ریکارڈ کو بھی خاص اہمیّت دی ہے۔ چنانچہ صفحہ ۴۹ پر موجود علامہ ابن حسن جارچوی کے افکار و مکالمات کے بارے میں انہی کا تجزیہ ملاحظہ فرمائیں۔ وہ رقمطراز ہیں کہ " علامہ اُن قومی رہنماؤں اور ملکی سیاست دانوں میں سے تھے جن کا نقطہِ نظر یہ رہا کہ قوم و مملکت کی اصلاح و ترقی اسلامی نظریۂ حیات کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ علامہ کا نظریہ تھا کہ مملکت ایک گاڑی ہے ، مادہ اور اخلاق اس کے دو پہیئے ہیں اگر ان دونوں پہیوں میں سے ایک نہ ہو تو نا مملکت چل سکتی ہے اور نہ نوع انسانی اپنی اقتصادی و اخلاقی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وہ محور تھاجس پر علامہ کے سیاسی نظریہ کا دارومدار تھا اس کی وہ قوم کو بری کرتے رہتے اور اسی پروہ خود بھی عمل پیرا تھے۔ وہ ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتے رہے اور قومی معاملات اسی نقطۂ نظر سے حل کرنے میں کوشاں رہے۔ انہی خیالات کے تحت سیاسی حضرات انہیں صرف لیڈر سمجھتے تھے اور مذہبی حضرات فقط مولوی ۔ دراصل وہ کُلی طور پر نہ قدامت پسند مبلغ تھے اور نہ جدیدیت پرست لیڈر۔ جہاں وہ مسلمانوں کے اخلاق کو بلند دیکھنا چاہتے تھے وہاں ان کے تن پر کپڑا بھی دیکھنا پسند کرتے تھے ۔ وہ اعتدال پسند تھے۔ انتہا پسند سیاست دان اور انتہا پسند مسلمان ان کو پسند نہیں کرتے تھے۔
آپ نے علم دین اس لئے حاصل کیا تھا کہ علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ مولویت علامہ کا پیشہ نہیں تھا اور وہ دین کو پیشہ بنانا غلط سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہی کہ مولویانہ محفلوں سے گریز کرتے تھے ور اعتدال پسندوں سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے اور اُن کو اپنی حکیمانہ گفتگو سے محظوظ کرتے ۔ آپ کی گفتگو عالمانہ نکتوں سے پر ہوتی ۔ اس لحاظ سے وہ اپنے دور کی انفرادی شخصیت تھے۔"
آخر میں ہم اپنے قارئین کیلئے اپنے تجزیے کا خلاصہ پیش کرتے چلیں کہ سوانح نگاری محض کسی شخصیت کے حالاتِ زندگی، تاریخِ پیدائش اور ظاہری واقعات کی فہرست نہیں بلکہ فکر کی گہرائی، کردار کی بلندی اور عملی رویّوں کی معنوی ترجمانی کا فن ہے۔ یہ فن ظاہر سے باطن تک کا سفر کراتا اور شخصیت کے مخفی پہلوؤں کو روشن کرتا ہے۔
مذکورہ کتاب " زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی" میں علامہ کی زندگی اس قرینے سے پیش کی گئی ہے کہ قاری ان کے سیاسی نظریے، دینی بصیرت، اعتدال پسند فکر اور ذاتی طرزِ عمل کے باہمی ربط کو با آسانی سمجھ لیتا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ایک کامیاب سوانح نگار شخصیت کو انتہاؤں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ اس کے فکری توازن اور ذہنی اعتدال کو نمایاں کرتا ہے۔
فنِ سوانح نگاری کی اصل قدر و قیمت یہی ہے کہ وہ کسی عظیم انسان کو نہ فرشتوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے اور نہ عام انسانوں کی بھیڑ میں گم کر دیتی ہے۔ یوں سوانح نگاری قوم کے لیے فکری رہنمائی اور ذہنی بیداری کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ جب علامہ جیسی شخصیات کو ان کی فکری گہرائی اور عملی اعتدال کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو نئی نسل محض نام سے مرعوب نہیں ہوتی بلکہ طرزِ فکر سے متاثر ہو کر عمل کی راہ اختیار کرتی ہے۔ یہی فنِ سوانح نگاری کی سب سے بڑی معنویت، افادیت اور ضرورت ہے۔







.jpg)



0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں