زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

اتوار، 23 نومبر، 2025

جامعۃ القائم ٹیکسلا، مجلسِ عزا

مجلسِ عزا، جامعۃ القائم ٹیکسلا، ۳ جمادی الثانی ۲۵ نومبر ۲۰۲۵ بعد از نمازِ مغربین

آپ کی پسند

جمعرات، 20 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا میں کیرئیر گائیڈنس پر خصوصی درس

جامعۃ الرضا میں کیرئیر گائیڈنس پر خصوصی  درس :
رپورٹ ثاقب علی ناصری : 
جامعۃ الرضا میں جمعرات کے روز شعبہ تعلیم و تربیّت کے زیرِ انتظام  طلبا کی رہنمائی کے لیے کیرئیر گائیڈنس کے موضوع پر ایک خصوصی درس کا اہتمام کیا گیا، جس سے معروف عالمِ دین مولانا محمد علی ممتاز صاحب نے خطاب کیا۔ درس کے دوران انہوں نے کہا کہ کامیابی ہمیشہ ہدف بندی اور منصوبہ بندی کرنے والوں کا مقدر بنتی ہے۔ ان کے مطابق کیرئیر گائیڈنس صرف طلبا ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد کی زندگی کا اہم حصہ ہے، کیونکہ درست رہنمائی انسان کو بہتر مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔
مولانا ممتاز صاحب نے کہا کہ ہدف بندی انسان کو پشیمانی سے بچاتی ہے، مشکلات کے حل تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے اور انسان کو اپنے امکانات سے بہتر فائدہ اٹھانے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے اہداف کے تعین کی ضروری شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہدف حقیقت پر مبنی، انسان کے اختیار میں، بلند مگر قابلِ حصول اور واضح ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں صحیح ہدف مقرر کرنے والا فرد نہ صرف غلط فیصلوں سے بچ جاتا ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرتے ہوئے ایک کامیاب اور پُرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ درس کے اختتام پر طلبہ نے اس رہنمائی کو اپنی عملی زندگی کے لیے بے حد مفید قرار دیتے ہوئے اس سلسلے کی مزید نشستوں کی خواہش ظاہر کی۔

آپ کی پسند



بدھ، 19 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا ۔۔۔الوداع!

جامعۃ الرضا ۔۔۔الوداع!
بقلم کاشف رضا :
اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے مادرِ علمی سے جدائی  ناگزیر بھی ہے اور عقیدت  سے لبریز بھی۔مدرسے میں گزرے سالوں میں بے شمار یادگار لمحے آئے لیکن سب سے زیادہ اثر چھوڑنے والا لمحہ میری عمامہ پوشی کا  لمحہ تھا۔ اس دن ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ جب مجھے اس اعزاز کے لیے بلایا گیا تو دل پر ذمہ داری کا گہرا احساس اترنے لگا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے جنہیں روکنے کی میں نے بہت کوشش کی مگر یہ خوشی، عاجزی اور ذمہ داری کا ایسا امتزاج تھا کہ  میں ان لمحات کو بھلائے نہیں بھول سکتا۔ اس لمحے دل میں یہی دعا تھی کہ اللہ مجھے اس امانت کے قابل بنائے۔
میری دینی تعلیم کی طرف رغبت کا سب سے بنیادی سبب میرا گھرانہ ہے، جو شروع ہی سے ایک مذہبی ماحول کا حامل تھا۔ والد صاحب نے خود بھی کچھ عرصہ مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی اور ہمارے گھر میں مذہبی امور میں گہری دلچسپی پائی جاتی تھی۔ اسی ماحول نے میرے اندر دین سے وابستگی کا ابتدائی شعلہ روشن کیا۔خاندان میں اہلِ سنت عزیز بھی موجود تھے، جن کے ساتھ علمی بحث و مباحثہ ہوتا رہتا تھا۔ انہی علمی گفتگوؤں نے میرے اندر مطالعے اور مذہبی شعور کا شوق مزید بڑھایا۔
جب میں اپنے عزیزواقارب کے درمیان خود کو دوسروں کے مقابل دیکھتا ہوں تو واضح طور پر محسوس کرتا ہوں کہ دینی تعلیم نے میری سوچ، اخلاق اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ اگر بچے کو ابتدا ہی سے دین سے جوڑ دیا جائے تو اس کی شخصیت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
مدرسے کے دوران مجھے اپنے اساتذہ سے کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی اور روحانی تربیت بھی ملی۔علامہ حسنین عباس گردیزی صاحب سے  تقوی و تذکیۂ نفس،علامہ ثمر علی نقوی صاحب سے دشمن شناسی،ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب سے خطابت اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ،علامہ محمد حسین مبلغی صاحب سے دعا و مناجات اور قرآن کی تاثیر،علامہ حبیب الحسن صاحب سے نظم و ضبط،اصغر عسکری صاحب سے معاشرے کی پہچان اور مبلغ کا کردار،علامہ ساجد علی سبحانی صاحب سے دینی درس و تدریس  کی اہمیت،اور علامہ مزمل نقوی صاحب سے اخلاقیات اور آداب جیسی اقدار سیکھنے کا موقع ملا۔مولانا حبدار علی صاحب سے انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق  کا جذبہ سیکھا اور ڈاکٹر نذر حافی صاحب نے جدید دور میں علمِ دین  کی وسعت و گہرائی اور جامعۃ المصطفی کی اہمیّت سے آشنا کیا۔
یہ تمام اسباق، لمحات اور تجربات آج بھی میرے ساتھ ہیں اور میری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد کا  سفر میرے لیے صرف تعلیم کا نہیں بلکہ تربیت، شعور، کردار سازی اور ذمہ داری کا سفر بھی تھااور آج تک ہے۔
خوش قسمتی سے مجھے اپنی  اپنی ابتدائی زندگی میں ہی روحانی ماحول ملا تھا۔ راولپنڈی کے علاقے شکریال میں مسجد القائم کے نام سے ایک شاندار دینی مرکز تھا، جہاں دعا و مناجات کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور باقاعدہ دروس ہوتے تھے۔ انہی دروس میں علماء کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا، جس نے مجھے دینی تعلیم کی طرف اور بھی مائل کر دیا۔
کالج کے بعد زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ یہ  آیا کہ  یہ فیصلہ کروں  کہ مدرسے جاؤں یا یونیورسٹی۔ تقریباً پورا ہفتہ ہر رات میں فیصلہ کرتا کہ صبح مدرسے جاؤں گا، لیکن صبح ہوتے ہی ذہن کسی اور طرف مائل ہو جاتا۔ مسلسل کشمکش کے بعد آخرکار میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ مجھے اسی راستے کا انتخاب کرنا ہے، اور یوں میں نے مدرسے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
جب میں نے داخلہ لیا تو گھر والوں کا ردِعمل نہایت خوشگوار تھا۔ والد صاحب بچپن ہی سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن عالم بنے گا۔ چنانچہ میری اس راہ کے انتخاب نے اُنہیں حقیقی خوشی دی۔ سب میرے لیے دعاگو تھے کہ اللہ اس راستے میں مجھے کامیابی عطا فرمائے۔
دینی تعلیم کے اصل مقصد کے بارے میں میری سوچ یہ بنی کہ ایک عالم دین صرف اپنے عمل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ معاشرے کی اصلاح، رہنمائی، اسلامی نظام کے فروغ اور فتنوں کے جواب تک کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ عالم دین ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہوتا ہے۔
مدرسے کے نصاب میں کئی مضامین نے میری سوچ کو جلا بخشی، مگر شیعہ شناسی، دین شناسی اور علومِ حدیث نے میری فکری دنیا کو سب سے زیادہ وسعت دی۔ ان مضامین نے نہ صرف مختلف مذاہب اور مسالک کو سمجھنے میں مدد کی بلکہ تبلیغ کے میدان میں بھی رہنمائی فراہم کی کہ لوگوں سے کس انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ آج کے دور میں مدارس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ خاص طور پر ماڈرن اکنامکس، میڈیا، کمیونیکیشن اور انجنیئرنگ سے متعلق بنیادی اصطلاحات سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ نوجوان آج انہی زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں، اور جب عالم دین جدید  دنیا اور نئی علمی اصطلاحات سے آگاہ ہو تو وہ معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور ان کا مناسب اور موثر حل بھی بتا سکتا ہے۔

 آپ کی پسند



پیر، 17 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں ملازمین کے لیے درسِ اخلاق

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں ملازمین کے لیے درسِ اخلاق
اسلام آباد
 جامعۃ الرضا میں ادارے کے ملازمین کے لیے درسِ اخلاق کا سلسلہ جاری ہے،  گزشتہ روز مدیر مدرسہ مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے درسِ اخلاق کی نشست سے خطاب فرمایا۔ اس موقع پر انہوں نے دینی اداروں کے ملازمین کی خدا کے نزدیک اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملازمین کا باہمی تعاون، ایک دوسرے کی مدد اور خلوص کے ساتھ کام کرنا ادارے اور فرد دونوں کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں تلاوتِ قرآن، نوافل اور عبادات کے ذریعے خدا سے توسل کرتے ہوئے توفیق حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ یہی روحانی تقویت ادارے کے کام میں کامیابی اور معنویت پیدا کرتی ہے۔ مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے ملازمین کی محنت، خلوص اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ٹیم ادارے کی کامیابی کی بنیاد ہے۔
اس درسِ اخلاق کے بعد حاضرین نے مدیرِ مدرسہ سے سوالات بھی پوچھے۔

اتوار، 16 نومبر، 2025

ٹروجن ہارس تھیوری﴿ اپنی طرف کھینچنے والا دھوکا﴾

 ٹروجن ہارس تھیوری﴿ اپنی طرف کھینچنے والا دھوکا﴾
ڈاکٹر  نذر حافی :  
ٹروجن ہارس تھیوری ایک قدیم حکمت عملی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسے تاریخی طور پر یونانیوں نے اپنے دشمنوں کے قلعے کو فتح کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہ تھیوری اس بات پر مبنی ہے کہ جب ایک قلعہ یا نظام براہ راست شکست دینے کے قابل نہ ہو، تو دشمن کو ایک خوبصورت اور دلکش تحفہ یا پیکیج  دے کر دشمن کے قلعے کے اندر داخل ہونے کا موقع حاصل کیا جاتا ہے، جو بظاہر مدّمقابل کو نقصان دہ نہیں لگتا لیکن اس کے اندر خطرات پائے جاتے ہیں۔ اس پیکج یا تحفے کی بنیاد پر دشمن  کے قلعے کے اندر داخل ہوا جاتا ہے، اور پھر یوں  بیرونی حملہ آوروں کو اس قلعے کو فتح کرنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ تھیوری آج بھی مختلف میدانوں میں لاگو ہوتی ہے، خاص طور پر جب کسی ایجنڈے کو عوامی سطح پر ایک "خوبصورت" شکل دے کر اس کے اندر پوشیدہ خطرات یا مقاصد کو  عوام سے چھپایا جاتا ہے۔ یہی طریقہ کار سیاسی، سماجی، مذہبی، اور ثقافتی سطحوں پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں بظاہر مثبت یا فائدہ مند نظر آنے والے منصوبے دراصل کسی مخصوص مفاد کو فروغ دینے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس کے تحت ایک خوبصورت لیبل، نیک مقصد یا مثبت اصطلاح کے تحت کسی دوسرے مقصد کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے جو عوام کو نظر نہیں آتا۔
پاکستان میں اس کی ایک مثال یکساں قومی نصاب کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ "یکساں قومی نصاب" کا نعرہ بظاہر قوم کی وحدت کو فروغ دینے کے لیے ہے، لیکن اس کے اندر موجود نظریات اور عقائد کا تجزیہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نصاب کے اندر کچھ ایسے عقائد بھی شامل ہیں جو مختلف مکاتبِ فکر کے لیے متنازعہ ہیں۔ خاص طور پر جب اس نصاب کی تشکیل میں اُن جماعتوں کی حمایت شامل ہو جو اکثر اوقات شدت پسند نظریات کی حامل ہوتی ہیں تو یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ نصاب دراصل تعلیم کے ذریعے حقیقی قومی وحدت کو فروغ دینے کے بجائے کسی مخصوص فکری ایجنڈے کو تو  آگے نہیں  بڑھا رہا ؟
یاد رہے کہ ٹروجن ہارس تھیوری صرف تعلیمی نصاب تک محدود نہیں  بلکہ یہ سیاسی، سماجی، اور ثقافتی محاذوں پر بھی نظر آتی ہے۔ ایک خوبصورت اور بظاہر دلکش  پیکیجنگ کے ذریعے ہی مختلف نظریات یا ایجنڈے  کسی ملک و قوم  کے اندر  دراندازی کرتے ہیں۔ 
سیاسی سطح پرٹروجن ہارس تھیوری کا اطلاق اکثر انتخابی نعروں اور مذہبی یا سماجی ایشوز کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی سیاسی جماعت کا انتخابی نعرہ بظاہر عوامی مفاد میں ہوتا ہے جیسے "غربت کا خاتمہ" یا "تعلیم کی بہتری" لیکن اندر سے اس نعرے کے ذریعے ایک خاص فکری یا نظریاتی ایجنڈا آگے بڑھایا جاتاہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی سطح پر عوامی بہبود کے لیے بڑی  بڑی باتیں کرتی ہیں مگر ان کے پیچھے چھپے ہوئے مفادات اکثر قومی مفاد سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان جماعتوں کے منشور میں ایسے مفادات شامل ہوتے ہیں جو کسی خاص گروہ یا نظریے کو فروغ دیتے ہیں اور جن  کا مقصد بعد میں اس طبقے یا جماعت کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے نہ کہ عوام کی عمومی فلاح۔کچھ سیاسی جماعتیں کسی  مذہبی طبقے کو خوش کرنے کے لیے انتخابی منشور میں مخصوص عقائد یا نظریات کو شامل کرتی ہیں  جو کسی  مخصوص فرقے کو جذب تو کرتے  ہیں لیکن ملک کی مذہبی ہم آہنگی کیلئے مضر ہوتے ہیں۔
میڈیا میں "مؤثر" اور "دلچسپ" پیغامات کی پیکیجنگ بھی ٹروجن ہارس تھیوری کی ایک ممکنہ مثال ہے۔ آج کل میڈیا میں اس طرح کی  شخصیات کو بظاہر مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو دراصل کسی تشویش ناک نظریے  یا خطرناک  ایجنڈے جیسے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا فلسطین کے دوریاستی حل  کی ترویج کرتی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ میڈیا چینلز یا ویب سائٹس بظاہر عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہوتی ہیں لیکن اندر سے ان کا مقصد نظریاتی کنٹرول اور کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
کچھ شوبز شخصیات، فلموں اور موسیقی کے ذریعے ثقافتی انحراف اور نفسیاتی اثرات پیدا کئے جاتے ہیں جو نوجوانوں کی ذہنیت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ  ان کی اقدار کو بھی تبدیل کرتے ہیں۔ یہ ایک ثقافتی "گھوڑا" ہوتا ہے جس کے ذریعے لوگ بغیر  سوچےسمجھے اپنے معاشرتی و ثقافتی عقائد سے منحرف ہو جاتے ہیں۔
ٹروجن ہارس تھیوری کا ایک اور بڑا اطلاق اقتصادی پالیسیز میں بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی ملک یا حکومت خوبصورت اور فلاحی اقتصادی منصوبے کے ذریعے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے  تو اس کے ساتھ چھپے ہوئے مفادات بھی ہوتے ہیں۔ ایسی اقتصادی پالیسیز میں سرمایہ کاروں یا مخصوص کمپنیوں کے فائدے کے لیے کچھ مخصوص شرائط رکھی جاتی ہیں جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتی ہیں۔اسی طرح کچھ حکومتیں بین الاقوامی قرضوں یا اقتصادی امداد کے عوض منظوری یا شراکت کرتی ہیں جس سے ملکی خودمختاری پر اثر پڑتا ہے۔ ظاہری طور پر یہ معاہدے ملک کے لیے فائدہ مند نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ان کے ذریعے ملک کی معاشی آزادی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
مذہب کا میدان بھی ٹروجن ہارس تھیوری کی  ایک اہم اطلاق گاہ ہے۔ کبھی کبھی مذہبی اجتماعات یا دینی جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ کچھ نظریات اور عقائد بظاہر عوام کی بیداری اور تبلیغ کے لیے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر چھپے ہوئے فرقہ وارانہ یا استعماری  ایجنڈے بھی ممکن ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عقائد یا مذہبی تعلیمات کا خوبصورت اور نیک صورت میں پیش کیا جانا دراصل معاشرے میں نفرتوں، تفرقوں اور  باہمی کدورتوں  کو ہوا دینے کیلئے ہوتا  ہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں بھی ٹروجن ہارس تھیوری کی کئی شکلیں ممکن ہیں۔ جب  کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ پُر کشش معاہدے  یا تعاون کے منصوبے کا اعلان کرتا ہے تو  بظاہر وہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند نظر آتا ہے مگر اندر سے ان معاہدوں میں استعماری چالیں پنہاں  ہوتی ہیں۔ مثلاًجب ایک ملک کسی دوسرے ملک کو انسانی حقوق یا معاشی ترقی کے نام پر امداد فراہم کرتا ہے  تو اس امداد کے بدلے میں وہ اپنے سیاسی  یا عسکری فائدے کا حصول چاہتا ہے۔ اس امداد کو بظاہر "دلکش اور پُرکشش" انداز میں  پیش کیا جاتا ہے  لیکن اندر سے یہ ایک اسٹریٹیجک چال ہوتی ہے۔
ان تمام مثالوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ٹروجن ہارس تھیوری کسی بھی شعبے میں کیسے اپنی موجودگی کو پنہاں رکھتی ہے۔ اس میں دراصل ایک "خوبصورت" پیکیج یا لیبل ہوتا ہے جو بظاہر فائدہ پہنچانے کے لیے ہوتا ہے لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے مفادات اور ایجنڈے دراصل کسی دوسرے مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان "خوبصورت گھوڑوں" کو اپنے ملک ، معاشرے اور اذہان کے اندر جانے سے روکنے کے لیے نظریاتی طور پرعوام کا بیداررہنا ضروری ہے۔
المختصر یہ کہ ٹروجن ہارس کا تصور ایک ایسا فریب ہے جو دکھتا کچھ اور ہے مگر حقیقت میں کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ ظاہری خوشنما صورتیں  لوگوں  اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں لیکن اُن کے  اندر کی گہرائی میں چھپے خطرات لوگوں  سے وہ سب چھین لیتے ہیں جو  انہیں  عزیز ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کا نشان ہے کہ جو چیز ہمیں مفید لگتی ہے  یہ ضروری نہیں کہ وہ واقعی مفید  ہی ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ  مفید کے بجائے مضر ہو۔
جب تک ہم صرف ظاہر کو دیکھتے رہتے ہیں تو اس وقت تک  ہم اس حقیقت کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں جو چھپی ہوئی  ہوتی ہے۔اگر  ہم  یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہی سچ ہے   تو پھر  یہ ہماری وہ  سادگی ہے جو ہمیں دھوکہ دیتی ہے۔ حقیقت اور جھوٹ کے درمیان کی سرحد کو پہچاننا یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے ہم وقت کے ساتھ سیکھتے ہیں  اور اس کے بغیر ہم ہمیشہ فریب کے شکار رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی  ہو یا سیاست ، سماج ہو یا تعلقات  یا پھر ہماری روزمرہ کی زندگی۔ ہمیں ہر میدان میں  اپنی طرف کھینچنے والے ُپر کشش دھوکوں﴿ ٹروجن ہارس﴾ سے چوکنا رہنا چاہیے۔ورنہ  جب تک ہم اپنی بصارت کو  بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرتے تب تک  ہم  دھوکے ہی کھاتے رہیں گے۔

یوٹیوب چینل، نذر حافی

عزیزم علی شیرازی کی ایک کال

عزیزم علی شیرازی کی ایک  کال : 
ڈاکٹر نذر  حافی  : 
عزیزم علی شیرازی نے گزشتہ روز مجھے کال کی کی کہ  اس اتوار کو ہم نے  آپ سے ملنے آنا ہے۔   وقت بھی موسموں کی طرح بدلتا اور آگے بڑھتا رہتا  ہے۔ دوماہ پہلے مجھے اپنی شادی کی دعوتِ ولیمہ میں دعوت کی کال بھی انہوں نے ہی کی تھی۔  میں نے علی شیرازی کو یوں سمجھئے کہ اپنے ہاتھوں میں پالا ہے۔  میرا فون بند ہو یا سائلنٹ، مجھے ڈھونڈنا علی شیرازی کا ہی کمال ہے۔ یوں سمجھئے کہ میرے احساسات و جذبات کی دنیا کو زندہ رکھنے میں ایک بڑا حصّہ علی شیرازی کا ہے۔  اب خیر سے علی شیرازی بھی شادی کر کے میں سے  "ہم "ہو گئے ہیں۔ 
دنیا کے تمام جانداروں کی طرح انسان بھی فطرت کے رنگوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر موسم کی ایک خاص اہمیت ہے اور ہر موسم میں ایک نیا پیغام چھپا ہوتا ہے۔ بہار جب آتی ہے تو دنیا کی ہریالی اور خوشبو سے جنت کا منظر دکھاتی ہے، اور خزاں کی خاموشی میں بھی زندگی کے پیغام کا گہرائی سے ادراک ہوتا ہے۔ 
ہمارے کچھ ایسے ہی مراسم ان کے بڑے بھائی سید محمد رضا شیرازی سے بھی ہیں۔ دونوں کی شادی تقریبا دو ماہ پہلے ایک ہی دن ہوئی۔ بہار کا موسم، جو زندگی کے آغاز کی علامت ہے، بالکل ویسے ہی نوجوانوں کے لیے ہوتا ہے جیسے نئے پھولوں کا کھلنا۔ جب جوانی کی دھوپ میں نوجوان اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں، تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب فطرت انہیں خود سے جڑنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان "خود کو پہچانتا ہے، اور اپنے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے"۔ شادی، اس نئے موسم کی طرح ہے جو نئے رشتہ، محبت اور زندگی کے امکانات کی خوشبو لاتی ہے۔
جب ہم نوجوانوں کی شادی کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف ایک سماجی رواج نہیں بلکہ فطرت کا حکم ہے۔
جیسے پھولوں کا کھلنا، درختوں کا بڑھنا، اور زمین کا آباد ہونا ایک فطری عمل ہے، بالکل اسی طرح انسانی زندگی کے اس مرحلے میں قدم رکھنا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔ "زندگی کا ہر نیا آغاز، کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی طرف ایک قدم ہوتا ہے۔" شادی کے ذریعے ایک شخص دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے موسم کو گزارنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دو دل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر، فطرت کی طرح، ایک نئی زندگی کی جڑیں پختہ کرتے ہیں۔یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ انسان زندگی کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھ رہا ہے۔
 وہ اپنی زندگی کو صحیح معنی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے، اور اس کے لیے فطرت سے سبق لیتا ہے کہ "ہر فصل کا ایک آغاز اور اختتام ہوتا ہے، اور اس کا مقصد ہمیشہ بہتر ہونا  چاہیے۔ ۔
فطرت سے تعلق نبھانا  ہر انسان کا ذاتی حق ہے۔ جب نوجوان شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں  تو وہ فطرت کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سفر ہوتا ہے جس میں دونوں افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی کے رنگوں کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ "انسان کی حقیقت اس کی مسکراہٹوں میں نہیں  بلکہ اس کی مشکلات اور ان سے نکلنے کی قوت میں چھپی ہوتی ہے۔  یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کے اندر اپنے خوابوں کی تعبیر اور حقیقت کے درمیان توازن قائم ہوتا ہے  اور یہ توازن ہی انہیں فطرت کی حقیقت کا شعور دیتا ہے۔
نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ زندگی میں فطرت کے مطابق قدم بڑھانے کا مطلب صرف خوشی نہیں، بلکہ سختیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا بھی ہے۔ جیسے پھولوں کو مٹی سے جڑ کر اپنی خوبصورتی دکھانے کے لیے سورج کی تیز کرنوں کو سہنا پڑتا ہے، ویسے ہی انسان کو بھی زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے  ہر دن نیا موقع ہوتا ہے، ہر صبح ایک نیا آغاز ہوتا ہے، اور ہر موسم ہمیں کچھ نیا سکھاتا ہے اسی طرح ازدواج اور شادی بھی ہے۔
شادی کا پیغام یہی ہے کہ نوجوانوں کو فطرت کے مطابق زندگی کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ جیسے بہار اور خزاں کا اپنے اندر ایک خوبصورت توازن ہوتا ہے، ویسے ہی انسان کو اپنی زندگی میں مختلف موسموں کو نبھاناچاہیے۔ جوانی کا موسم جو کہ بہار کی طرح خوشبو اور رنگوں سے بھرپور ہے، شادی کے ذریعے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خزاں کی طرح، زندگی کے چھوٹے چھوٹے دکھ اور چیلنجز بھی اس کے سفر کا حصہ ہیں۔ یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ  زندگی ایک مسلسل تبدیلی کا عمل ہے، جس میں ہر موسم کا اپنا مقام ہے ۔
آج اس موقع پر میں جہاں مولانا  سید مہدی شیرازی صاحب کو یہ مبارکباد دیتا ہوں کہ خدا نے انہیں اپنی اولاد کی خوشیاں دیکھنے کا موقع  عطا کیا وہیں ان کے عزیز فرزندوں، سید محمد رضا شیرازی اور سید علی رضا شیرازی کی شادی کی خوشیوں  کو  مزید بابرکت  ہو نے کیلئے دعا گو بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں جوانوں کو اپنی خوشیوں سے بھر دے، ان کی زندگی کو محبت، سکون اور کامیابی سے نوازے  اور ان کے نئے رشتہ میں خوشبوئے محبت اور بہار کی مانند تازگی عطا کرے۔
ہم دعا گو ہیں کہ جیسے نئے پھول بہار میں کھلتے ہیں، ویسے ہی ان کی زندگی میں نئے شگوفے کھلیں اور اللہ ان کی مشترکہ زندگی کو اپنی رحمتوں سے سیراب کرے۔ آمین۔جب بچے بڑے ہو جائیں تو انسان بوڑھا اور احساسات جوان ہو جاتے ہیں

آپ کی پسند



جمعہ، 14 نومبر، 2025

شیعہ دینی مدارس میں رائج ایجوکیشنل ٹائٹلز

شیعہ دینی مدارس میں رائج ایجوکیشنل ٹائٹلز
✍️ نذر حافی :
صاحبان علم کا واسطہ ہمیشہ علمی اصطلاحات سے پڑھتا ہے۔ چنانچہ ارباب دانش کی سہولت کی خاطر پڑھے لکھے شیعہ سماج میں چند رائج ایجوکیشنل ٹائٹلزیا تعلیمی اصطلاحات کا تعارف پیش خدمت ہے۔
/_________/
           /____👇____/

1_ثقۃ الاسلام
2_حجۃالاسلام
3_حجۃالاسلام والمسلمین
4_آیت اللہ
5_آیت اللہ العظمی 
6_مجتہد
7_مجتہد کی اقسام
8_مرجع تقلید
9_مجتہد اور مرجع تقلید میں فرق
10_ولی فقیہ
11_ولی فقیہ اور مرجع تقلید کا فرق

 یاد رہے کہ کہ یہ اصطلاحات ماضی میں دیگر معانی کے لئے بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔ چنانچہ یہ مضمون ماضی کی قیل و قال کے بجائے محض آج کے دور میں ان اصطلاحات کی درست تفہیم اور تطبیق کی خاطر لکھا گیا ہے۔
اہل تشیع کے تعلیمی اداروں میں ایک اصطلاح ”ثقۃ الاسلام“ کی ہے۔ اس کا استعمال ماضی کی نسبت آج کل مختلف معانی میں ہو رہا ہے۔

 ثقۃ الاسلام:۔ 
ماضی میں یہ اصطلاح انتہائی برجستہ اور محقق علما کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ 
جیسے ثقۃ الاسلام کلینی۔ مقبولیت عام کی وجہ سے اس اصطلاح کو مقدمات سے لمعہ تک یعنی کسی دینی مدرسے میں چھ سال پڑھنے والے افراد کے لئے فنی طور پر منتخب کیا گیا، تاہم ماضی میں اس کے خاص تقدس اور وزن کی وجہ سے آج کل اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

 حجت الاسلام:۔ 
یہ اصطلاح ان شیعہ علما و طلبا کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

 حجت الاسلام والمسلمین:۔ 
جب شیعہ علما اور طالب علم ”رسائل، کفایة الاصول اور مکاسب“ کے بعد اگلے مرحلے ”درس خارج“ میں داخل ہو جاتے ہیں تو ان کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ 
درس خارج کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ درس، کتاب یا متن محور ہونے کے بجائے نظریہ محور ہوتا ہے اور اس میں کتابیں پڑھنے کے بجائے نظریات کی جانچ پرکھ کے لئے جرح و تعدیل اور کانٹ چھانٹ کے بعد نظریہ پردازی کی جاتی ہے۔

 آیت اللہ:۔ 
”آیت اللہ“ کا مصداق وہ شخص ہے جو کامیابی کے ساتھ درس خارج مکمل کر کے اجتہاد کے درجے پر پہنچ جاتا ہے ۔
 اہل تشیع کے ہاں اجتہاد کے درجے پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص فقہی اصولوں کو استعمال کر کے ادلہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے شرعی قوانین اخذ کرنے کی مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ اس صلاحیت کے بعد اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چند سال علم فقہ اور علم اصول کا درس خارج بھی دے۔ اس کے بعد اسے آیت اللہ کہا جاتا ہے۔

 مجتہد :۔ 
اہل تشیع کے ہاں مجتہد وہ عالم ہے جو برس ہا برس کی محنت شاقہ کے بعد ادلہ اربعہ ﴿ قرآن، سنت، عقل اور اجماع ﴾سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی استعداد اور صلاحیت حاصل کر لے۔

 شیعہ مجتہدین کی اقسام:۔ 
مجتہدین کی دو قسمیں ہیں : 
1۔ ایک یا چند فقہی ابواب کا مجتہد 
2۔ تمام فقہی ابواب کا مجتہد

وہ عالم جو فقہ کے کسی ایک یا بعض ابواب میں مجتہد ہو، اسے مجتہد متجزی کہا جاتا ہے اور وہ عالم جو فقہ کے تمام ابواب میں مجتہد ہو، اسے مرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی کہا جاتا ہے۔

 مرجع تقلید اور آیت اللہ العظمی :۔ 
اہل تشیع کے ہاں مرجع تقلید ایسا مجتہد ہوتا ہے جو اپنے اجتہاد سے حاصل ہونے والے احکام کو عوام کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان احکام پر عمل کر کے خدا کا قرب حاصل کریں۔ سارے مجتہد اس مقام پر فائز نہیں ہوتے بلکہ ہر زمانے میں صرف چند انگشت شمار مجتہدین اس مقام تک پہنچتے ہیں۔

 مجتہد اور مرجع تقلید میں فرق:۔ 
اہل تشیع کے ہاں مجتہد، فقیہ یا آیت اللہ ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ادلہ اربعہ سے خدا کے حکم کو اخذ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ 
جبکہ مرجع تقلید کے لئے یہ کافی نہیں۔ ایک  مرجع تقلید کو مجتہد، فقیہ یا آیت اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ مرد، بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، حلال زادہ، زندہ، عادل، دنیا کا حریص نہ ہونا اور اعلم ہونے جیسی شرائط کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ 
 مختصراً یہ کہ ہر مرجع تقلید مجتہد ہوتا ہے لیکن ہر مجتہد مرجع تقلید نہیں ہوتا۔

 ولی فقیہ:۔ 
مجتہد اور مرجع تقلید سے الگ ایک منصب کا نام ولی فقیہ ہے۔ ولی فقیہ کے لئے حکم خدا کو نافذ کرنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کے ماتحت ایک حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی فقیہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس مجتہد اور مرجع تقلید کی شرائط جدا ہیں اور یہ شرائط تقلید و باب تقلید تک محدود ہیں جبکہ ولی فقیہ کی شرائط اسلامی معاشرے کی سرپرستی، مدیریت اور الہی قوانین کے نفاذ کے باب سے تعلق رکھتی ہیں۔
 ولی فقیہ اور مرجع تقلید کا فرق:۔ 
اسلامی معاشرے کو مجتہد اور مرجع تقلید کے علاوہ ولی فقیہ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انسانی صلاحیتیں مختلف ہونے کی وجہ سے جیسے سب مجتہد، مرجع تقلید نہیں ہوتے اسی طرح سب مراجع تقلید، ولی فقیہ نہیں ہوتے۔ وہ فقط حکم الہی کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اس پر عمل کریں لیکن وہ حکم الہی کے مطابق کسی کو سزا نہیں دے سکتے، کوڑے نہیں مار سکتے یا پابند سلاسل نہیں کر سکتے۔
 ایک ولی فقیہ کا دائرہ کار ایک مرجع تقلید سے سو فیصد مختلف ہے۔ 
مقلد کسی بھی وقت ایک مرجع تقلید کی طرف سے دوسرے مرجع تقلید کی طرف رجوع کر سکتا ہے، اسی طرح ایک شہر یا ایک ملک میں ایک ہی وقت میں کئی مجتہد اور مراجع تقلید ہو سکتے ہیں اور وہ آپس میں اختلاف بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک حکومت، ایک پارلیمنٹ اور ایک عدلیہ کے بیک وقت کئی سربراہ ہوں، اس طرح کوئی بھی ملک اور معاشرہ نہیں چل سکتا۔ پس ایک ملک میں کئی مجتہد اور مراجع کرام پائے جا سکتے ہیں لیکن ولی فقیہ فقط ایک ہی ہو گا۔
ایک کلی فتوے کے ساتھ لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کرنا یہ مرجع تقلید کا کام ہے۔ اس کے بعد لوگ مرجع تقلید کی ہدایت اور فتوے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں یہ لوگوں پر منحصر ہے اس کی ذمہ داری مرجع تقلید پر نہیں۔
 مثلاً حالت جنگ میں مرجع تقلید یہ فتوی دے گا کہ جب اسلامی ملک پر حملہ ہو جائے تو دفاع واجب ہے۔ اب لوگ دفاع کے لئے جائیں یا اپنا مرجع تقلید تبدیل کر لیں، اس پر انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ لیکن ولی فقیہ جب یہ تشخیص دے گا کہ دفاع واجب ہے تو وہ مرجع تقلید کی مانند صرف فتوی نہیں دے گا بلکہ جہاد کا حکم صادر کرے گا۔ ولی فقیہ کا یہ حکم ریاست کے ہر فرد اور حکومت کے ہر ادارے پر نافذ ہو گا۔ ریاست کا کوئی ادارہ یا شہری یہ نہیں کہے گا کہ میں کسی اور مرجع تقلید کی طرف رجوع کرتا ہوں اس لئے جہاد کے لئے نہیں جاؤں گا۔ چونکہ یہ تقلید اور مرجع تقلید کا باب ہی نہیں ہے۔
ہم نے اپنے مطالعات کا خلاصہ انتہائی سلیس انداز میں اپنے قارئین کے لئے پیش کر دیا ہے۔
 آگے چل کر یہ مباحث صاحبان علم کے لئے اس وقت عملی طور پر ثمر آور ہو سکتی ہیں کہ جب حکم اور فتوے، ملزم اور مجرم، مجرم اور گنہگار، دین اور شریعت، اسلام اور الحاد، ریاست اور معاشرے، قانون سازی اور ادلہ اربعہ سے کشف قانون، عام مقننہ اور مسلمان مقننہ کی شرعی حدود، عام جج اور مسلمان قاضی کے شرعی اختیارات، جہاد ابتدائی اور جہاد دفاعی، اسلامی جمہوریت اور مسلمان بادشاہت، نیز تھیوکریسی اور ولایت فقیہ کے فرق کو عام فہم انداز میں بیان کیا جائے۔ اسی کا نام سیاسی شعور ہے اور اسی کی ہمارے وطن عزیز میں انتہائی کمی ہے۔


جمعرات، 13 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا کے وفد کا ادارۂ علومِ اسلامی اسلام آباد کا دورہ

جامعۃ الرضا کے وفد کا ادارۂ علومِ اسلامی اسلام آباد کا دورہ  : 
جامعۃ الرضا کے شعبۂ تعلیم و تربیت کے وفد نے گزشتہ روز ادارۂ علومِ اسلامی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ یہ دورہ تعلیمی تجربات سے آشنائی اور باہمی علمی روابط کے فروغ کے لیے کیا گیا۔ اس موقع پر ادارے کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور نظم و نسق کے حوالے سے مثبت مشاہدات سامنے آئے۔وفد کی آمد پر ادارے کے پرنسپل مولانا توصیف الطاف صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، اور ادارے کے تعلیمی و تربیتی نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ مولانا توصیف الطاف صاحب خود اسی مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ادارۂ علومِ اسلامی کے طلبا اکثرعصری تعلیم کے میدان  میں بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے ہیں، جس پر جامعۃ الرضا کے وفد نے ادارے کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبا کو مبارکباد پیش کی۔
دورے کے دوران وفد نے ادارے کے استقبالیہ اور سیکورٹی سسٹم کو پیشہ ورانہ، فعال اور مستعد پایا اور  صفائی و ستھرائی کے انتظامات بھی قابلِ تحسین تھے۔
مولانا توصیف الطاف صاحب  کے مطابق ادارۂ علومِ اسلامی میں اس وقت تقریباً 800 طلبا زیرِ تعلیم ہیں، جنہیں 60 اساتذہ تعلیم دے رہے ہیں۔ روزانہ کی کلاسز صبح 8 بجے سے دوپہر 1 بجے تک جاری رہتی ہیں، جب کہ ظہر کے بعد طلبا کے لیے گروپ اسٹڈی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر کلاس میں 30 سے 45 طلبا شامل ہوتے ہیں اور ایک کلاس کا دورانیہ 40 منٹ پر مشتمل ہے۔
انہوں نے جامعۃ الرضا کے وفد کو بتایا کہ طلبا سے ہر ماہ تمام شعبہ جات کے بارے میں فیڈ بیک لیا جاتا ہے تاکہ تدریسی و تربیتی معیار میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ  ادارے میں حوزوی و عصری تعلیم کی کلاسز باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں، اور  ان کی  پیشرفت کی نگرانی کیلئے کمیٹی موجود ہے۔ ہاسٹل کے لیے  ایک تین منزلہ عمارت کو وقف کیا گیا تھا جس کا دورہ بھی جامعۃ الرضا کی ٹیم نے کیا۔ اس دورے کے موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر ٹرم کے اختتام پر اساتذہ اور طلبا دونوں کے لیے مہارت افزائی کی ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں، جن کا مقصد تدریسی استعداد اور عملی قابلیت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ جامعۃ الرضا کے وفد میں ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب﴿ شعبہ تعلیم﴾،  ڈاکٹر نذر  حافی ﴿شعبہ تربیّت ﴾مولانا نقی عمران صاحب ﴿شعبہ تبلیغات﴾ اور مولانا  محمد علی ممتاز صاحب شامل تھے۔ یاد رہے کہ اس دورے کی کوارڈینیشن کے تمام تر امور مولانا نقی عمران صاحب نے انجام دئے تھے۔

آپ کی پسند 

کیا مستقبل میں اے آئی ایک عالمِ دین کی جگہ لے لے گی؟

کیا مستقبل میں  اے آئی ایک عالمِ دین کی جگہ لے لے گی؟
ڈاکٹر نذر حافی  :
اے آئی کا ظہور ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔ ایک  ایسا عہد جس میں عقلِ انسانی اپنی توسیعِ ذات کو ایک غیرانسانی ذہن میں مجسم دیکھ رہی ہے۔ آج کا دور  انسانی ذہن کی توسیع  کا عہدبھی ہے اور اس توسیع کی آزمائش  کا زمانہ بھی۔ اس کی مثال ایک  ایسے آئینے کی سی ہے کہ  جو صرف چہروں کو نہیں دکھاتا بلکہ  چہروں کے پیچھے پوشیدہ ذہنی نقوش  کوبھی منعکس کرتا ہے  مگر پھر بھی خود انسان کی آنکھ نہیں بن پاتا۔
اے آئی تحقیق کے عمل کو زیادہ سریع، وسیع اور منظم بنا دیتی ہے۔ یہ مصادر و منابع  کو لمحوں میں کھول دیتی ہے،  معلومات اور دلائل کے درست راستے  شناخت کر لیتی ہے، اور پیچیدہ ڈیٹا کو آسانی سے ترتیب دے دیتی ہے، مگر انسانی محقق کی نیّت،  اندرونی جستجو، تخلیقی  تشنگی اور  انسانی ضمیر و وجدان سے اٹھتے ہوئے حقیقی سوالات کا متبادل پیش نہیں کر سکتی ۔ اے آئی تحقیق کا  سارا سامان تو  آمادہ کر لیتی ہے لیکن محقق کا خلا پُر کرنے سے عاری ہے۔  ایک دینی طالب علم   اپنی تحقیق صرف معلومات  کی جمع آوری کے لیے انجام نہیں دیتا بلکہ  اپنی تحقیق کے نتائج کو   اپنے وجود کی گہرائیوں میں اتارنے اور  اپنے آپ کو عقائد کے قالب میں ڈھالنے کیلئے انجام دیتا ہے۔ جس طرح ایک دینی مصلح انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے اس طرح   اے آئی انسان کے  داخلی جہان کی باریکیوں کو چھونے کی صلاحیت نہیں  رکھتی۔
اے آئی  کا اوزار انسانی  ہاتھ اور معلومات  کی قوت  کو ناقابلِ یقین حد تک بڑھاتا ہے نیز  اس سے انسانی  ذہن کا کینوس وسیع  تر ہو جائے گا۔ انسان اب تک اگر کسی میدان میں اپنی  سوچ کا ایک شعبہ کھولتا ہے  تو اے آئی سے  اس شعبے کے کھلنے کے  ہزار در ہزار امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔اس طرح یہ ذہنی افزائش  اور تعلیم و ترقی کی ایک بے مثال  قوت بن جائے گی۔
چنانچہ اے آئی ایک دینی طالب علم یا دینی  محقق کی جگہ  لینے سے قاصر رہے گی چونکہ ایک دینی محقق کی جگہ وہ لے سکتا ہے جسے انسانی تجربے  اور انسان کے اندرونی و وجدانی  تضادات کا ادراک ہو، اور  جس کے سوالات ضمیر  کی بےچینی سے اٹھتے ہوں، اور  جس کے نتائج اس کے عقیدے  کے سفر کا حصہ ہوں۔ اے آئی نہ  نیّت رکھتی ہے، نہ عقیدہ ، اسے نہ کوئی  بےچینی ہے اور نہ کوئی اضطراب اور  نہ ہی اس کے پاس وہ  وہم، وسوا س اور  اندیشے  ہیں جو تخلیقِ تحقیق کا پہلا محرک ہوتے ہیں۔ جبکہ انسان تو عبارت ہی وہم، وسواس، اضطراب، بے چینی، تڑپ اور نیت و ارادے سے ہے۔  انسان جب سوچتا ہے تو اپنے زمانے، اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور اپنے  مسائل و دکھوں  کے بوجھ کے ساتھ سوچتا ہے۔  یہی بوجھ علم کو تحقیق کی آنچ  دیتا ہے۔ اے آئی  تحقیق تو کر سکتی ہے اور کرتی رہے گی لیکن وہ   تحقیق کی وہ حرارت پیدا نہیں کر سکتی جو ایک دینی محقق یا عالمِ دین  پیدا کرتا ہے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ  بلاشبہ  اے آئی نئے اور جدید  محققین کی نئی علمی پیدائش اور ان کے  تحقیقی انداز میں جِدّت  کا ذریعہ بنے گی۔ یہ جِدّت افکار اب ضروری بھی ہے چونکہ  انسان کا ذہن اب ایک ایسا افق پا چکا ہے کہ جہاں وہ اپنی فکری کمزوریوں اور عقائد کی غلطیوں  کو اے آئی کے علم کے سہارےسے ٹھیک سکتا ہے، اور اپنی علمی  طاقت کو غیرانسانی ذہانت کی مدد سے کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ ایک طالب علم  کا اور  علم دین کا مستقبل انسانی اور مصنوعی ذہانت کے اسی باہمی  تعلق میں پوشیدہ ہے۔ایک ایسا  تعلق جہاں ایک مضطرب  انسان سوال اُٹھاتا ہے اور اے آئی اس کیلئے جوابی  امکانات کا آسمان کھول دیتی ہے، مگر  سوال اور جستجو  کا اصل نور اب بھی انسان کی اندرونی دنیا سے پھوٹتا ہے، اور شاید ہمیشہ وہیں سے پھوٹتا رہے گا۔
اے آئی اور دینی طالب علم کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے دینی تعلیم  کے مقصد  اور دینی مدارس کے دائرہ کار سے آشنائی بھی  لازمی ہے۔ ان کی غرض و غایت   ذخیرہ ِ الفاظ یا  ذہنوں کو پراگندہ مطالب سے بھرنے کے بجائے  انسانوں کو عقائد کے قالب میں ڈھال کر انہیں الٰہی انسان بنانا ہے۔ صرف درست معلومات کو جمع کرنے سےکچھ نہیں ہو تا انسان کی  اصل ضرورت تو  درست  عقیدے میں ڈھلنا ہے۔ اس میں ڈھلے  بغیر  کوئی انسان  ایک نظریاتی  شخص اور قابلِ اعتماد  انسان نہیں بن  سکتا، اسی طرح اگر انسانی  تربیت عقیدے سے جنم نہ لے تو انسان نفسانی دباو اور خرافات کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔  اس لحاظ سے ایک حقیقی دینی درسگاہ یا دینی مدرسہ  وہ  تربیتی مرکز ہوتا ہے کہ  جہاں انسان اپنی عقل کو ایمان اور عقیدے  کے ساتھ ہم آہنگ کرنے  اور پرکھنے کا تجربہ کرتا  ہے۔
عقل اور عقیدے کی ہم آہنگی کے کیلئے زبان یعنی اظہار کی قوت ہی  پہلا وسیلہ ہے۔ بلاشبہ اظہار کی قوت ہی فہم کی گہرائی پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ معانی کے در وا  کرنے کیلئے  دینی طلبا کو جہاں عربی کی بلاغت  سکھائی جاتی ہے وہیں فارسی و  اردو کی نزاکتوں کے   زاویے بھی اُن پر عیاں کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔یہاں پر بین الاقوامی برادری  کے ساتھ افہام و تفہیم کی خاطر  انگریزی زبان کی  وسعتِ بیان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ زبان کا جمال فکر و احساس کو لطیف بناتا ہے، اور اس کے بعد علمِ  کلام کی مباحث کا اثر  دلوں تک پہنچتا ہے۔ خطابت، تحریر اور مکالمے کی مشق طالب علم کو ایسا معلم بناتی ہے کہ  جس کی بات  کی عقل قدر دانی کرتی   ہے اور دل اسے قبول کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل عہد اور مصنوعی ذہانت  نے دینی مدارس  کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ قلم اب سکرین پر چلتا ہے اور مکالمہ مائیک و کیمرے کے سامنے ہوتا ہے۔ اس دور میں دینی طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ذرائعِ ابلاغ  کے استعمال اور ان کی زبان سے آگاہ ہو۔ گرافک ڈیزائن، ویڈیو اور آڈیو مواد کی تیاری، اور سوشل میڈیا پر علمی اظہار وہ راستے ہیں جن سے دینی طلبا و علمائے دین کے پیغام کو مقبولیتِ عام  ملتی ہے۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  کوئی بھی علم جب جدید  اسلوب اختیار کرتا ہے تو تبھی   وہ زندہ بھی  رہتا ہے۔
اب اس پر آجائیے کہ  تحقیق علمِ دین  کی روح ہے۔ عام مطالعہ نہیں بلکہ تحقیق کی خاطر کیا جانے والا  مطالعہ جب سوال میں ڈھلتا ہے  تو فہم کی زمین زرخیز ہو تی ہے۔ دینی تعلیم  جہاں  روایت کا تسلسل ہے وہیں  تجدید کا شعور بھی۔ حوالہ، تجزیہ اور تنقیدی مطالعہ وہ اوزار ہیں جن سے طالب علم روایت کی گہرائی میں اتر کر اس کے جوہر کو دریافت کرتا ہے۔  یعنی دماغوں کیلئے  علم کی تازہ غذا اسی وقت آمادہ ہوتی ہے کہ جب انہیں  تحقیق کی آنچ پر رکھ کر حرارت  دی جائے۔
دینی درسگاہوں کو  اپنے طلبا کے اندر تعلیم کے ذریعے  وہ صفات پیدا کرنی ہوتی ہیں کہ  جو اجتماعی نظم، مشاورت، دیانت اور خدمت کا شعور دیں۔ المختصر یہ کہ دینی تعلیم  کا مقصد یہی ہے کہ علم، عمل اور اخلاق ایک وحدت میں پروئے جائیں۔ اس زاویے سے مالی بصیرت بھی دینی تعلیم کا ناگزیر پہلو ہے۔ اب دینی مدارس اگر فنانشل لٹریسی کے میدان میں پیچھے رہ جائیں تو اس میں اے آئی کا کوئی قصور نہیں ۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ  خودکفالت ایک عالمِ دین کے  وقار کو بڑھاتی ہے۔ اسلامی مالیات، شفافیت اور امانت کے اصول طلبا میں عملی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ اے آئی ان اصولوں کو سمجھنے اور اپنانے کیلئے بہترین معاون، مشیر اور رہنما ہے۔ جس طالب علم کے اندر اے آئی کی وساطت سے معیشت کی سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے گی  وہ آنے والے زمانے میں نہ  کسی کا محتاج بنے گا اور  نہ موقع پرست۔  اس حقیقت کو درک کیجئے کہ جب ذہن مقصدِ وجود پر غور کرتا ہے تو  اس میں  بصیرت جنم لیتی ہے۔ اے آئی کی تعلیم ایک دینی  طالب علم کو یہ سمجھ عطا کرتی ہے کہ اختلاف ِ رائے کسی بھی شکل میں ہو وہ  تنوع کی علامت اور نوآوری کی ضرورت ہے۔  اختلاف رائے سے ڈرنے کے بجائے  اختلاف  کا حل  سیکھنا علم ِ دین کی روحانی پہچان ہے۔ جو دلوں کے زخم سمجھ لیتا ہے، وہ نفوس کی اصلاح کا اہل ہوتا ہے۔ اختلاف کو تہذیب سے سلجھانے اور دوسروں کے احساس کو سمجھنے کی صلاحیت علم کو اخلاق کا لباس عطا کرتی ہے۔ اس میدان میں ایک دینی طالب علم کیلئے اے آئی ایک بہترین معاون اور رہنما ہے۔ 
عملی اور فنی مہارتیں وحی پر مبنی  دینی تعلیم کو زمینی حقیقت سے جوڑتی ہیں۔ ترجمہ، تدوین اور تعلیمی مواد کی تیاری وہ ہنر ہیں جو علم کو عمل میں ڈھالتے ہیں۔ جب دینی طالب علم اپنے علم کو   اے آئی کی طاقت  سے سماج میں خدمت کا ذریعہ بنائے گا  تو یہی معاصر عہد میں  علم نافع کی  واضح شکل بھی ہو گی۔اسی طرح  جب ایک دینی  طالب علم مختلف تہذیبوں اور ادیان کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ فہمِ غیر دراصل خود فہم کی پہلی شرط ہے۔ دینی تعلیم اسی وقت کامل ہوتی ہے جب وہ انسان کو اپنے دائرے سے نکل کر عالمِ انسانیت کے وسیع منظر سے روشناس کرائے۔ اے آئی ایسے مطالعے کی ایک وسیع دنیا فراہم کرتی ہے۔
 آخر میں یاد رکھئے کہ دینی تعلیم   اور  دینی تحقیق کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جو فکر میں وسیع، جذبے میں خالص اور عمل میں سنجیدہ ہوں۔ علم ِ دین اس وقت نور بنتا ہے جب وہ انسان کو ظاہر سے باطن تک لے جائے، اور تعلیم اس وقت تربیت بنتی ہے جب وہ لفظ سے آگے عمل کا سفر طے کر لے۔  پس آنے والے عہد میں وہی دینی مسلح یا  دینی محقق  کارگر ثابت ہوگا جو اے آئی سے استفادہ کرنے کا ہُنر جانتا ہوگا۔ یوں انسانی مستقبل کی ٹریجڈی یہ نہیں ہو گی کہ مستقبل میں  اے آئی ایک عالمِ دین یا  ایک دینی محقق کی جگہ لے لے گی بلکہ  اگر ہم نے آج سے اے آئی کو سیکھنے کی کوشش نہ کی تو خدانخواستہ یہ  ٹریجدی جنم لے گی کہ ایک عالمِ دین اے آئی سیکھنے میں پیچھے رہ جائے گا اور یوں وہ ایک مرتبہ پھر دوسروں کی امامت و رہبری کرنے  کے بجائے  دوسروں  کے  پیچھے  کھڑا نظر آئے گا۔

مولودِ کعبہ کون؟

مولودِ کعبہ کون؟
تحریر ڈاکٹر نذر حافی : 
سب سے پہلے آج کرنسی کی بات کرتے ہیں۔ جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے، جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ ایسا ہی دینِ اسلام کے ساتھ ہوا۔ احادیث اور تاریخِ اسلام کے حوالے سے بہت زیادہ ایسے واقعات، مفروضات اور بیانات گھڑ لئے گئے ہیں، جو قرآن و سُنّت نیز قطعیّاتِ تاریخ و عقل سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسی خلاف حقیقت اور خلافِ عقل باتوں کے اسلامی کتابوں میں پائے جانے اور ان پر اسلام کی مُہر لگنے کی وجہ سے عام لوگ انہیں اسلامی مسلمات میں شامل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جسے اسلامی سال کہتے ہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز نبیؐ کی ہجرت سے ہوا۔ حالانکہ نبی ؐ کے زمانے میں اور خلیفہ اوّل کے سارے دور میں کسی اسلامی سال کا تصوّر ہی نہیں تھا۔ نہ ہی نئے اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے کی کہیں فضیلت نقل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سال کو قرآن و حدیث میں اسلامی کہا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نبی ؐ نے ہجرت بھی محرم الحرام کے بجائے ربیع الاوّل میں کی ہے۔
اب جن لوگوں نے محرم الحرام سے شروع ہونے والے مہینے کو اسلامی سال کہنا شروع کیا ہے، ان کی اس فکر کا اسلامی ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں، ان کا محرک کچھ اور ہے، جس کی الگ سے تحقیق کی جانی چاہیے۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں اسرائیلیات کا رواج بھی جعلیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اسرائیلیات وہ معلومات اور روایات ہیں، جو اسلامی متون، خاص طور پر قرآن و حدیث میں غیر مسلم مصادر، خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے شامل ہوگئی ہیں۔ یہ معلومات عام طور پر تورات، انجیل اور دیگر یہودی و عیسائی کتابوں سے اخذ ماخوذ ہیں، یہ غیر مستند تو ہوتی ہی ہیں اور بعض اوقات افسانوی قالب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ایسی من گھڑت معلومات کتب تاریخ، احادیث  یا تفسیر کے ذیل میں شامل ہیں۔ نمونے کے طور پر قصص انبیاء کے واقعات میں بہت سارے انبیاء کے ایسے حالات کو بیان کیا گیا ہے، جو قرآن مجید یا مستند احادیث میں کہیں بھی ذکر نہیں ہوئے۔ علوم حدیث میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کیلئے  متعدد اصطلاحات رائج ہیں۔ جیسے: موضوع، ضعیف، منکر، معلق، متنازعہ، مردود، منسوب، موصول، غریب، مقلوب۔۔۔۔
مذکورہ بالا مقدمے کا مقصد فقط یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں کی بنیادی کتابوں میں جعلسازی کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جعلسازی کے یہ محرکات اسلام کے ابتدائی دور سے ہی موجود تھے اور اس جعلسازی کے کئی مقاصد تھے۔ بعض اوقات غلط عقائد کی ترویج، سیاسی مقاصد کی تکمیل یا ذاتی مفاد حاصل کرنا بھی ہوتا تھا۔ مسلم سکالرز نے کبھی بھی اس جعلسازی کو تقدس کا درجہ نہیں دیا بلکہ مختلف اصطلاحات کے ساتھ کی نشاندہی کی ہے۔ اب آئیے اس جعلسازی کے محرکات میں سے ایک بڑے محرک کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اسرائیلیات اور دیگر غیر حقیقی متون کی نشر و اشاعت کے کئی اسباب ہیں۔ ان سب پر تو اس وقت  روشنی نہیں ڈالی جا سکتی، لیکن چند ایک اسباب کا ہم مختصراً ذکر کئے دیتے ہیں۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی مختلف سیاسی گروہ اور حکمران اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور اپنے مخالفین کے خلاف دلیل پیش کرنے کے لیے کبھی احادیث لکھنے سے منع کرتے تھے اور کبھی جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان  ایسی باتیں آج بھی مشہور ہیں، جو صحابہ کرام کے عہد میں اصلاً وجود ہی نہیں رکھتی تھیں:
۱۔ خود کسی بھی صحابی نے خود کو اہل بیتِ رسول ؐ سے افضل کہنا تو دور کی بات اپنے آپ کو اہلِ بیت کے برابر بھی نہیں کہا، بلکہ صحابہ کرام اپنے آپ کو اہلِ بیت کا خادم اور غلام کہنے میں فخر کرتے تھے، لیکن اہلِ بیت کے مقابلے میں جعلی فضائل و مناقب گھڑنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے صحابہ کراؓم کو اہلِ بیت سے افضل یا اہلِ بیتؑ کے برابر کہنا شروع کر دیا۔ حتی کہ کچھ لوگوں نے درود شریف میں بھی  اصحاب کو شامل کر لیا جبکہ ایسا درود شریف کبھی بھی نبی اکرم ؐ یا صحابہ کرام ؓ کی زبانوں پر جاری نہیں ہوا۔
۲۔ ہم فلاں نبی کی اولاد میں سے ہیں، اللہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہمارے برے اعمال ہمارے اباواجداد کی وجہ سے بخش دیئے جائیں گے، ہمیں اچھے اعمال کی کوئی ضرورت نہیں اور ہم سیدھے جنّت میں چلے جائیں گے۔ یہ سراسر بنی اسرائیل کا باطل عقیدہ ہے اور قرآن مجید نے متعدد آیات میں اس عقیدے کی نفی کی  ہے۔ اسلامی کتابوں میں جعلیات و اسرائیلیات کی وجہ سے ابھی بھی بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم بغیر اعمالِ حسنہ کے جنت میں جائیں گے۔ اسلامی معاشرے میں بعض اوقات غیر مسلم ثقافتوں اور روایات کا اثر بھی جعلی روایات کی تخلیق کا سبب بنا۔ خصوصاً اسرائیلیات (یہودی اور عیسائی روایات) کو بعض اسلامی متون میں شامل کیا گیا، جو بعد میں جعلی روایات کے طور پر پھیل گئیں۔
۳۔ مختلف فرقوں کے درمیان اپنے عقائد کو جواز فراہم کرنے کے لیے جعلی روایات یا احادیث گھڑی گئیں۔ متعدد فرقے اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسے افسانے یا جھوٹے بیانات ایجاد کرتے رہے، جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے تھے۔
۴۔ ذاتی مفاد اور شہرت
علمِ رجال کے مطابق بعض افراد یا راوی اپنے ذاتی مفاد یا شہرت کے لیے جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ وہ کسی خاص شخصیت کے حوالے سے روایات بناتے، تاکہ اپنی شناخت یا مقام کو بڑھا سکیں۔ بعض اوقات لوگ اسلامی شخصیات کے بارے میں معجزات اور غیر معمولی واقعات کی کہانیاں گھڑتے تھے، تاکہ لوگوں میں ان شخصیتوں کے بارے میں عقیدت اور احترام پیدا کرسکیں۔ اموی اور عباسی بادشاہوں سے انعامات لینے کیلئے اہلِ بیت ؑ کے مقابلے میں بعض صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرضی معجزات اور غیر معمولی واقعات کی جھوٹی روایات وضع کی گئیں۔
۵۔ دینی تعلیمات کی ترویج یا تشہیر
بعض اوقات لوگوں نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کو پھیلانے کے لیے جعلی احادیث گھڑیں، جن میں نیکی کرنے، صدقہ دینے، کثرت سے تلاوت کرنے یا مستحب عبادت کی اہمیت پر زور دیا جاتا تھا۔ لوگوں کو زیادہ عبادت یا صدقہ دینے کی ترغیب دینے کے لیے جعلی روایات گھڑی گئیں، جن میں بتایا گیا کہ زیادہ نیک عمل کرنے سے خدا کی طرف سے بڑے بڑے درجات و انعامات ملتے ہیں۔
۶۔ غفلت اور کمزور حافظہ
بعض اوقات جعلی احادیث صرف راویوں کی غفلت یا کمزور حافظے کی وجہ سے بھی اسلامی متون میں شامل ہوئیں۔ بعض اوقات راوی کسی حدیث کو سن کر اسے اس طرح بیان کرتا تھا کہ وہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی تھی۔
مذکورہ بالا تمام عوامل اپنی جگہ بجا ہیں، لیکن ان سب سے ایک بڑا عامل خود فضائل و مناقب علی ابن ابیطالبؑ کے مدّمقابل فضائل و مناقب تراشنے کی کارروائی ہے۔ حضرت علی ؑ اپنی جامعیّت کے اعتبار سے اہلِ بیت میں سے بھی ہیں اور صحابہ کرام میں سے بھی۔ ایک طرف تو آپ کی شخصیت اتنی جامع ہے کہ آپ اہلِ بیت، صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں سے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ فضال و مناقب میں کوئی بھی دوسری شخصیت آپ کی گردِ پا کو نہیں پہنچتی، خواہ  وہ شخصیت اہل بیت میں سے ہو، صحابہ کرام میں سے ہو یا خلفائے راشدین میں سے۔
صدرِ اسلام میں ہی یہ حقیقت واضح تھی کہ جہانِ علم و عمل میں آپ جیسی جامعیّت کسی کو حاصل نہیں۔ سو آپ کے معنوی و ایمانی قد و کاٹھ کے مطابق آپ کے حریفوں کیلئے کوئی دوسری شخصیت تراشنا ممکن ہی نہیں تھا، سو آپ اور اہلِ بیتِ رسول کے ہاتھوں شکست خوردہ گروہوں نے آپ کی ہر فضیلت کے مقابلے میں کسی نہ کسی کی ایک فضیلت ضرور گھڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے فضائل میں سے ایک آپ کا مولودِ کعبہ ہونا ہے۔ سو آپ کے حریف گروہوں نے ایک مرتبہ پھر جلد بازی اور عجلت سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ حکیم بن حِزام بھی کعبے میں متولد ہوئے۔ فریقِ مخالف کا مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت علی ؑ کا کعبے میں پیدا ہونا کوئی فضیلت نہیں اور اگر ہے تو پھر حکیم بن حِزام بھی اس فضیلت کے حامل ہیں۔ بلاشُبہ ایسی فضیلت گھڑنے سے حضرت حکیم بن حِزامؓ کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ جعلی افسانہ بھی دیگر اسلامی افسانوں کی مانند  اہلِ بیتؑ کے مخالفین نے گھڑا ہے۔ آئیے اس افسانے کا تجزیہ کرکے دیکھتے ہیں کہ حقیقتِ حال کیا ہے:
حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی نفی ایک تو خود علوم حدیث کی رو سے ہی ہو جاتی ہے۔ لہذا جن لوگوں نے حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی بات کی ہے، انہوں نے اس پر جرح و تعدیل نہیں کی بلکہ فقط یہ کہہ کر گزارہ کیا ہے کہ فلاں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ فلاں بات درست ہے، چونکہ ارسطو نے کہی ہے۔ خود سے تحقیق کئے بغیر فقط ارسطو کی بات کہہ کر کسی بات کو درست یا غلط کہہ دینا یہ علمی و تحقیقی روش نہیں۔ دوسری اور اس سے بھی محکم ترین دلیل یہ ہے کہ تمام تر تاریخی اسناد اور قطعیات کے مطابق زمانہ جاہلیت میں حاملہ عورتوں کا کعبے کے اندر داخل ہونا ممنوع تھا۔ جن لوگوں نے حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کا لکھا ہے، انہوں نے دروازے سے داخل ہونا لکھا ہے، جو کہ زمانہ جاہلیت میں ممنوع تھا۔ لہذا مادرِ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں۔
لیکن حضرت علی ؑ کی مادرِ گرامی کا کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ آپ دروازے سے داخل ہوئیں بلکہ سب نے لکھا کہ مادرِ علیؑ نے دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر خدا سے دعا کی، جس کے بعد دیوارِ کعبہ شق ہوئی اور آپ دیوار سے داخل ہوئیں۔ پس اس سے ہر صاحبِ شعور کیلئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مادرِ علی ؑ کا دیوارِ کعبہ سے کعبے میں داخل ہونا تاریخ اسلام کے مسلمات اور معجزات میں سے ہے، جبکہ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں تولد کی داستان دیگر جعلی روایتوں کی مانند گھڑی گئی ہے۔ ایسی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں، جیسے اگر یہ حدیث ہے کہ حسنؑ و حسین ؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، تو کچھ لوگوں نے عجلت میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ فلاں فلاں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنت میں بڑھاپے کا عارضہ قابلِ تصوّر نہیں ہے۔
اسی طرح اگر یہ حدیث موجود تھی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے تو کچھ لوگوں نے اس میں یہ اضافہ کر دیا کہ کوئی اس شہر کی کھڑکی ہے، کوئی چھت ہے اور کوئی روشندان۔ صاحبانِ عقل بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کی چھت، کھڑکی یا روشندان نہیں ہوتے۔ بہرحال جو لوگ خانہ کعبے میں حضرت علی ؑ کی ولادت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ کعبے کی بلند و بالا عمارت میں کوئی عورت کیسے داخل ہوسکتی ہے اور حاملہ عورتوں کے کعبے کے نزدیک ہونے کی ممانعت کے باعث کوئی عورت کیسے کعبے کے نزدیک ہوسکتی ہے تو حضرت حکیم بن حِزامؓ کی ولادت کا افسانہ تراش کر انہوں نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ اُس زمانے میں حاملہ خواتین کیلئے خانہ کعبے کے نزدیک جانے کی ممانعت نہیں تھی۔
دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر حضرت فاطمہ بنتِ اسد کی خدا سے دعا، پھر اللہ نے مادرِ علی ابن ابیطالبؑ کو دروازے کے بجائے دیوار سے اپنے گھر میں بلا کر قیامت تک کیلئے یہ ثابت کر دیا کہ علی ابن ابیطالبؑ کی کعبے میں ولادت ایک ٹھوس سچائی ہے اور حضرت علیؑ اپنے فضائل و مناقب میں لاشریک ہیں۔ کوئی دوسرا چاہے اہلِ بیت ؑ سے ہو، صحابہ کرام سے یا خلفائے راشدین سے کوئی بھی فضائل و مناقب میں حضرت علیؑ کا شریک یا برابر نہیں۔ آخر میں صاحبانِ جرح و تعدیل کیلئے ہم بغیر سُنّی و شیعہ، وہابی و دیوبندی یا اہلِ حدیث یا سلفی کی کسی تفریق کے چند مستند منابع حضرت امام علی ؑ کے مولودِ کعبہ ہونے کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔ تمام منصف مزاج انسان تحقیق کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ آپ آزادانہ کسی بھی مسلک کے رجالی اصولوں پر اس واقعے کو پرکھیں اور خود فیصلہ کریں:
1. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵.
2. سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۰۱ق، ص۲۰
3. ابن صباغ، الفصول المهمة، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۱
4. حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۲۶
5. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۸۳
6. گنجی شافعی، کفایة‌ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۷۰۷
7. ابن مغازلی، مناقب الامام علی بن ابی‌ طالب، ۱۴۲۴ق، ص۵۸-۵۹؛ ابن حاتم شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۲۵
8. شیخ صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۳۵
9. شیخ صدوق، معانی الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۶۲
10. شیخ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۲
11. محمدی ری‌ شهری، دانش‌ نامه امیرالمؤمنین ،۱۳۸۹ش، ج۱، ص۷۸
12. طبری، تحفة الابرار، ۱۳۷۶ش، ص۱۶۵-۱۶۴
13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۹
14. قرشی اسدی، جمهرة نسب قریش و اخبارها، ۱۳۸۱ق، ص۳۵۳
15. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵
اب دوسری طرف اسی طرح ہم حضرت حکیم بن حِزامؓ  کے کعبہ میں پیدا ہونے کے واقعہ کے حوالے سے سب سے پہلی حدیث کو ہی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، باقی کا جائزہ آپ خود علمِ رجال کی روشنی میں لے لیجئے۔ حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں پہلی روایت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة، وکانت أمه ولدته فی الکعبة" حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال زندگی کی اور ان کی ماں نے انہیں کعبے میں جنم دیا۔ یہ جملہ هشام بن محمد بن سائب کلبی متوفای (204 ه. ق) کی کتاب میں ہے۔ (کلبی، جمهره انساب العرب، ص 13) پھر باقی بعد والوں نے اسی کتاب سے آگے اس جملے کو نقل کرنا شروع کر دیا۔ یعنی یہاں وہی رویّہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ارسطو نے کہہ دیا سو اب یہی درست ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کلبی کو اہل سنّت علمائے رجال بطورِ شیعہ اور غالی بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کلبی کی کتاب میں یہ کلبی نے لکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ کلبی کی کتاب میں حسن بن حسین سکری (212-275 ه. ق) نے ابی جعفر محمد بن حبیب بن امیه بغدادی (ت 245 ه) کے واسطے سے یہ بات نقل کی ہے۔ ایک تو یہ متن بتا رہا ہے کہ کلبی کی اصل عبارت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة" حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال عمر کی" کے ساتھ بعد میں "وکانت أمه ولدته فی الکعبة" ان کی ماں نے اُنہیں کعبے میں جنم دیا" کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کلبی اور سکری خود تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے جبکہ حکیم بن حِزم کی ولادت زمانہ جاہلیت میں عام الفیل سے بھی پہلے کی ہے۔ یوں یہ سند کلبی اور سکری پر ہی ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد یہ عبارت علم حدیث کی رو سے تمام علماء کے نزدیک معتبر نہیں رہتی۔
اب آگے جو لوگ اپنی کتابوں میں نقل کرتے گئے، بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پرکھے ہی کرتے گئے، ورنہ کسی بھی صورت میں کلبی کی کتاب، سند یا روایت اہلِ سُنّت کے علمائے رجال کے نزدیک معبتر نہیں ہے۔ بہرحال ہمارا مقصد یہ یاد دلانا تھا کہ یاد رکھئے! جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے، جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ لہذا دھوکہ نہ کھائیے اور آزادانہ طور پر تاریخ اسلام کو مسلمات اور عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھئے۔ تاریخِ علم نیز عقل و منطق کے مطابق کوئی بھی بات اس لئے درست نہیں ہوتی کہ فلاں شخص نے کہی یا اپنی کتاب میں لکھی ہے بلکہ اُس کا حقیقت ہونا ٹھوس شواہد سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ نوٹ: حضرت حکیم بن حِزامؓ کی شخصیت اور خدمات کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون ہم الگ سے لکھیں گے، تاکہ صاحبانِ علم و تحقیق کیلئے یہ حقیقت مزید روشن ہو جائے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

ضرورتِ ملازم

        🐄   ضرورتِ ملازم   🧑‍🌾
ہمیں ایک محنتی اور ذمہ دار   ملازم   کی ضرورت ہے جو درج ذیل امور انجام دے سکے:
👇
📍   ڈیوٹی کی جگہ:   ڈیری فارم جھنگی سیداں اسلام آباد (رہائش کی سہولت موجود)
📞   رابطہ صرف وٹس ایپ پر کریں نمبر:  
 0301-6398550
🕓   ڈیوٹی اور  🔸 ذمہ داریاں :
  🥛 دودھ کی چوائی
  🧹 گوبر کی صفائی
  🌾 جانوروں کے لیے باہر سے چارہ وغیرہ لانا
  🚚 دودھ اُن گھروں تک پہنچانا جہاں سپلائی دی جاتی ہے
---
    📜   قواعد و ضوابط:  
1️⃣ شناختی کارڈ لازمی ہو۔
2️⃣ کسی قسم کا   کریمنل ریکارڈ   نہ ہو (رہائشی ایڈریس سے تصدیق کروائی جائے گی)۔
3️⃣   موٹر سائیکل چلانا جانتا ہو۔  
4️⃣   رہائش فراہم کی جائے گی،   لیکن کھانے پینے کا انتظام خود کرنا ہوگا۔
5️⃣   تنخواہ:   💰 30,000 روپے ماہانہ۔
6️⃣ ملازمت چھوڑنے کی صورت میں   ایک ماہ قبل اطلاع دینا لازمی ہے۔  
7️⃣ فارم کے اندر کسی   غیر متعلقہ فرد   کو لانے کی اجازت نہیں۔
8️⃣ فارم کے اندر   کسی بھی قسم کا نشہ سختی سے ممنوع   ہے۔
---    ⚠️   نوٹ:  
مندرجہ بالا قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ملازم کے خلاف   قانونی کارروائی   کی جائے گی،
مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، اور   بھاری ہرجانہ وصول   کیا جائے گا۔
📞   رابطہ:   0301-6398550
نوٹ: تمام اشتہارات نیک نیتی کی بنیاد پر شائع کئے جاتے ہیں، قانونی و اخلاقی تحقیق مشتری کی اپنی ذمہ داری ہے

نوٹ: تمام اشتہارات نیک نیتی کی بنیاد پر شائع کئے جاتے ہیں، قانونی و اخلاقی تحقیق مشتری کی اپنی ذمہ داری ہے

اتوار، 9 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا میں اقبال ڈے


جامعۃ الرضا میں اقبال ڈے 
رپورٹ : سید قاسم  حسین 
۹ نومبر کو جامعۃ الرضا اسلام آباد  میں ایک تعلیمی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد طلبا کو اقبالیات  اور علامہ محمد اقبال سے آشنا کرانا تھا۔ اس موقع پر طلبا کے لیے ایک خصوصی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی، جس میں علامہ اقبال کی زندگی، فکر اور نظریات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ ڈاکومنٹری کے بعد طلبا نے اقبالیات کے حوالے سے اپنی معلومات اور خیالات پیش کیے، جس سے سیشن میں تعلیمی دلچسپی اور تبادلہ خیال کا ماحول پیدا ہوا۔

آپ کی پسند


دی ایمز اسکول اینڈ کالج اسلام آباد میں تدریسی آسامیوں کا اعلان

دی ایمز اسکول اینڈ کالج اسلام آباد میں تدریسی آسامیوں کا اعلان  :
اسلام آباد (پریس ریلیز) —دارالحکومت کے معروف تعلیمی ادارے دی ایمز اسکول اینڈ کالج اسلام آباد نے تدریس و تربیت سے وابستہ اہل و باصلاحیت اساتذہ کے لیے تدریسی آسامیوں کا اعلان کیا ہے۔ ادارے کو پرائمری سطح کے لیے انگلش ٹیچر اور ہومینیٹیز (انسانی علوم) کے ٹیچر درکار ہیں۔ادارے کی انتظامیہ کے مطابق ان آسامیوں کے لیے امیدواروں میں جدید تدریسی مہارتیں، انگلش و اردو دونوں زبانوں پر عبور، تعلیمی ٹیکنالوجی اور AI Tools سے واقفیت، عمدہ کلاس روم مینجمنٹ اور بلند اخلاقی کردار جیسی خصوصیات ہونا ضروری ہیں۔
انگلش ٹیچر کے امیدواروں کے لیے کم از کم بی ایس یا ایم اے انگلش کے ساتھ تین سال کا تدریسی تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ TOEFL یا IELTS کی سند رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔اسی طرح ہومینیٹیز ٹیچر کے لیے تاریخ، جغرافیہ، مطالعہ پاکستان، سیاسیات، اسلامیات، یا جسمانی تعلیم جیسے مضامین میں کم از کم ایم اے یا مساوی ڈگری اور تین سال کا تدریسی تجربہ درکار ہے۔ادارے کی جانب سے پیش کی جانے والی سہولیات میں مارکیٹ کے مطابق تنخواہی پیکیج، سالانہ بونس، تنخواہ میں اضافہ، لائف انشورنس، مفت پیشہ ورانہ تربیت، اور اسلام آباد و بھارہ کہو کے علاقوں کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس شامل ہیں۔مزید برآں، ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو تحقیقی کام سے منسلک خصوصی تعلیمی اعزاز بھی فراہم کیا جائے گا۔انتظامیہ کے مطابق صرف شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا۔
درخواست دہندگان اپنی سی وی اور ہاتھ سے لکھی دستخط شدہ درخواست درج ذیل واٹس ایپ نمبرز پر ارسال کریں:
📱 0300-5779540 ، 0327-7770143
ادارہ مری ایکسپریس وے پر واقع ہے:دی ایمز اسکول اینڈ کالج، نیئر پھلگران ٹول پلازہ، اسلام آباد۔مزید معلومات کے لیے ادارے کی ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے:🌐 www.theaimscollege.edu.pk


آپ کی پسند

جامعۃ الرضا ، دینی طلبا ایامِ فاطمیہ کیسے منائیں؟

جامعۃ الرضا اسلام آباد ایامِ فاطمیہ پرعلمی و تحقیقی  طرزِ فکر کی  تاکید اپنانے  :
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں طلبا کی ماہانہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے مدیرِ مدرسہ مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے طلبا اور اساتذہ کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدرسے کے مڈٹرم کے  نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارے میں تعلیمی معیار اور محنت کا رجحان  قدرے اطمینان بخش ہے  البتہ ابھی  تعلیم و تربیّت کے میدان میں مزید آگے بڑھنے،  بہتری  لانے ، ارتقا اور سخت محنت کی اشد ضرورت ہے۔
اس موقع پر انہوں نے  ایامِ فاطمیہ کے انعقاد کے حوالے سے طلبا کو چند اہم ہدایات بھی دیں۔ انہوں  نے کہا کہ ایامِ فاطمیہ کو طلبا کی محفلوں میں  عوامی یا روایتی طرز کے بجائے علمی اور تحقیقی انداز میں منایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبا کی محافل میں حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑ کی سیرت کے مختلف علمی پہلوؤں پر تحقیقی گفتگو ہونی چاہیے تاکہ معاشرہ  اسوۂ زہراؑ سے فکری و عملی رہنمائی حاصل کر سکے۔
انہوں  نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارہ سال کی عمر میں جب عام نوجوان اپنی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو   اس وقت سیدہ فاطمہ زہراؑ خیرِ کثیر، اسوۂ حسنہ، صدیقہ و طاہرہ کے بلند مرتبے پر فائز تھیں۔ یہ ہمارے لیے باعثِ غور ہے کہ ہم بی بیؑ کی مختصر مگر بامقصد زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کریں جن پر عمل کر کے ہم بھی شعور و کردار کی ارتقائی منازل طے  کریں۔ یاد رہے کہ  جامعۃ الرضا میں ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی  علمی نشستوں اور تحقیقی مکالموں  کا اہتمام کرتی رہتی  ہے۔

  بارہ کہو میں علمائے کرام سے ناروا سلوک

ہفتہ، 8 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں اسلامی بینکاری پر لیکچر
رپورٹ: حسن حیدر (متعلم جامعۃ الرضا)
 جامعۃ الرضا اسلام آباد میں بینک الحبیب کے سینئر چیف منیجر جواد حسین رضوی صاحب نے شریعت اور جدید مالیاتی نظام کے عنوان سے ایک معلوماتی لیکچر دیا۔ جامعۃ الرضا کے طلبا اور اساتذہ نے اس لیکچر میں خصوصی دلچسپی لی۔ اس موقع پر محترم جواد حسین رضوی صاحب نے اپنے لیکچر میں کہا کہ اسلامی بینکاری ایک اخلاقی اور عدالتی مالیاتی ڈھانچہ ہے جو انسان کو سرمایہ داروں کا غلام بننے سے روکتا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ شریعتِ اسلامی کا معاشی تصور سود (ربا)، جوا (قمار) اور غیر یقینی لین دین (غرر) سے اجتناب پر قائم ہے۔ اس تصور کا مقصد یہ ہے کہ معیشت انسان کی خدمت گزار بنے اور سماج میں انسانوں کی مشکلات کم ہوں۔ انہوں نےسود سے اجتناب کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  ربا محنت کے بغیر منافع کمانے کا راستہ کھول دیتا ہے جو شریعت کے منافی ہے۔ انہوں نے نفع و نقصان کی شراکت  کی اہمیت کو بھی  بیان کیا اور کہا کہ اس سے  لین دین منصفانہ بنیادوں پر استوار رہتا ہے۔ انہوں نے معاشی معاملات کی شرعی مطابقت  کو روشن کرنے کیلئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ سود سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ بینکاری کو اسلامی احکام کے مطابق ڈھالا جائے۔ حلال سرمایہ کاری  کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حلال سرمایہ کاری سے سرمایہ صرف ایسے منصوبوں میں لگایا جاتا ہے کہ  جو انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
لیکچر کے دوران انہوں نے اسلامی بینکاری کی معروف مصنوعات جیسے مشارکہ، مضاربہ، اجارہ، مرابحہ  وغیرہ کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق یہ مالیاتی طریقے جدید معیشت میں ایک عملی متبادل فراہم کرتے ہیں اور حقیقی معیشت کو استحکام دیتے ہیں۔
جواد حسین رضوی نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا مقصد مالی منافع نہیں بلکہ انسانی فلاح، معاشرتی انصاف اور اخلاقی توازن کا قیام ہے۔ یہ نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے اور محروم طبقے کو معاشی عمل کا حصہ بناتا ہے۔لیکچر کے بعد ہونے والے سوال و جواب کے سیشن میں طلبا نے اسلامی مالیات کے عملی پہلوؤں پر بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ رضوی صاحب نے ہر سوال کا مدلل اور تحقیقی انداز میں جواب دیا ۔ جامعۃ الرضا کی یہ نشست ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے  کہ اسلامی بینکاری کا نظریہ ایک ٹھوس وجود رکھتا ہے اور اسلام ایک جامع نظام حیات ہے۔ 

بارہ کہو میں علمائے کرام سے ناروا سلوک

آپ کی پسند


شعبہ تحقیق جامعۃ الرضا اسلام آباد

رپورٹ: مزمل حسین( انچارج دارالتحقیق جامعہ الرّضا  اسلام آباد )
جامعہ الرضا بارکہو، اسلام آباد میں دارالتحقیق کی باقاعدہ فعالیت کا آغاز نومبر 2024 میں جامعۃ المصطفی العالمیہ کے تعاون سے ہوا۔ اس شعبے کا مقصد طلبا کی علمی ، تحقیقی اور عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور انہیں جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آغاز میں ہی ادارے کے شعبہ تحقیق سے متعلقہ اساتذہ  ِ کرام نے چند ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ شعبہ تحقیق کے امور کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ 

ابتدائی طور پر راقم الحروف  کو شعبہ تحقیق کا انچارج مقرر کیا گیا ۔شعبہ تحقیق کی پہلی سرگرمی کے طور پر  ان طلبا کی نشاندہی کی گئی جو تعلیم و تربیّت کا از خود شوق  دوسروں کی نسبت زیادہ رکھتے تھے۔ اس کیلئے چند مرتبہ مختلف طریقوں سے سروے کیا گیا اور  ان طلبا کی مہارتوں کو مزید نکھارنے اور بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی گئی۔
پہلے مرحلے میں ان طلبا کیلئے کمپوٹر سے آشنائی کا کورس شروع کیا گیا۔ اس کورس کیلئے ابتدا میں ہی ماہانہ تقریباً 40 گھنٹوں کا وقت طے کیا گیا تھا۔ جس میں طلبہ کو کمپیوٹر کے بنیادی استعمال کے ساتھ ساتھ مائیکروسافٹ آفس (ورڈ، ایکسل، پاور پوائنٹ) کے بنیادی کام سکھائے گئے۔
 یہ فقط کمپیوٹر سے آشنائی کا کورس ہی نہیں تھا بلکہ اس سے جامعۃ الرضا کی پہلے سے موجود کمپیوٹر لیب کو فعال کیا گیا۔ علاوہ ازیں اسی کورس کے دوران طلبا میں کی دیگر صلاحیتوں مثلاً
1. روش تحقیق،2. مباحثہ، 3. فنِ خطابت، 4. تحریری صلاحیتوں اور گفتگو کی مہارتوں کی جانچ پرکھ اور ان کی سطح کی میزان کا تعیّن بھی ساتھ ساتھ کیا جاتا رہا۔ یہ کورس مکمل ہونے کے بعد مدرسے کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے دارالتحقیق کی سرگرمیوں میں حصّہ لینے کے شوق کا اظہار کیا جس کی روشنی میں شعبہ تحقیق کی سرگرمیوں میں کو مزید وسعت دینے کے لیے8 جنوری ۲۰۲۵ کو شعبہ تحقیق کے مسئولین کی ماہانہ وار نشست ہوئی جس میں گزشتہ مہینے کی فعالیت کا جائزہ لیا گیا اور ادارے اور طلبا کی ضرورت کے پیشِ نظر مندرجہ ذیل مزید شعبہ جات اور مسؤلین کا انتخاب کیا گیا :
1. کمپیوٹر تعلیم:
وہ طلبہ جو پہلے تربیت حاصل نہ کر سکے، ان کے لیے دوبارہ مواقع فراہم کیا جائے۔ جنہوں نے پہلے کورس کیا ہے وہ اپنا پریکٹیکل منظم انداز میں جاری رکھیں تاکہ بھول نہ جائیں۔
2. مطالعاتی و تربیتی فلمیں و ڈاکومنٹریز:
بہت ساری ایسی معلومات اور تربیتی سرگرمیاں ہیں جن میں تاریخی و مستند ڈاکومنٹریز اور فلمیں بہت زیادہ مفید اور موثر ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے کو منظم انداز میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
3. مقالہ نویسی اور مضمون نویسی:
ایک دینی طالب علم کی زندگی میں مقالہ نویسی اور مضمون نویسی کی اہمیت سے ہر شخص باخبر ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر اس شعبے کیلئے مسئول کا تعیّن بھی کیا گیا اور باہمی مشورے سے اس کے آغاز کا شیڈول بھی مرتب کیا گیا۔
4. فنِ خطابت:
فن خطابت اور دینی طلبا لازم و ملزوم ہیں۔ خطابت کو پُرکشش لیکن تحقیقی اور علمی انداز میں سیکھنے کیلئے اس شعبے کے آغاز پر اتفاق کیا گیا ۔
5. مختلف ادیان، مسالک اور اسلامی علوم و فقہی تقسیم کار سے آشنائی:
دینی طلبا کی ذہنی و قلبی وسعت کیلئے مختلف ادیان، مسالک اور اسلامی علوم و فقہی تقسیم کار سے آشنائی ضروری ہے۔ اس کیلئے بھی باقاعدہ سوچنے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مختلف سرگرمیوں کو یقینی بنانے کیلئے ایک مسئول کا انتخاب کیا گیا۔
6. اسکاؤٹنگ اور سپورٹس :
جامعۃ الرضا کے طلبا کو سپورٹس اور اسکاوٹنگ کی معیاری سہولیات اور امکانات کی فراہمی کیلئے حسبِ امکان شرائط کو فراہم کرنے کیلئے بھی ایک مسئول کا انتخاب کیا گیا۔
یاد رہے کہ طلبا کی طرف سے اپنی فکری اور ذہنی نشوونما کیلئے مندرجہ ذیل سرگرمیوں کا کوئی باقاعدہ سلسلہ شروع کرنے کے شوق کا اظہار بھی کیا گیا، جیسے متن شناسی، سوشل سائنسز سے آشنائی، اسلامی فن و ثقافت، انسانی تہذیب و تمدن، زبان و ادب (شاعری، تقریر، خطابت، تحریر)، اسلام میں قصص اور داستان گوئی و داستان نویسی کا فن، ادب اطفال، فکشن اور فینٹسی سے اجمالی آشنائی،مصنوعی ذہانت (AI)، صحت و صفائی، فرسٹ ایڈ۔۔۔ چنانچہ اس کیلئے " پرورشِ فکر" کے عنوان سے ایک الگ شعبے کی منصوبہ بندی کرنے کیلئے ایک دوست کو ٹاسک دیا گیا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام سرگرمیاں جامعۃ الرضا کے طلبا نے اپنے ذوق و شوق سے شروع کی ہیں، اور ان کا وقت بھی وہ خود ہی منظم کرتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ان ساری سرگرمیوں کی مدیریت بھی خود طلبا ہی کرتے ہیں، جس سے ان کی مدیرانہ اور مدبرانہ صلاحیتوں کو بھی نکھرنے کا موقع مل رہا ہے۔







لائبریری  سے درست  استفادہ کرنے کی کلاس 
رپورٹ ✍️ ثاقب علی ناصری ✍️ 
آج جامعۃ الرضا کے طلبا کے ایک گروپ کو لائبریری کے درست استعمال کرنے کا طریقہ سکھانے کیلئے انہیں خاص طور پر جامعۃ الرضا کی لائبریری میں لے جایا گیا۔ ایک خاص کلاس کی شکل میں انہیں لائبریری میں لے جانے کا مقصد  انہیں  لائبریری میں موجود کتب سے آشنائی دلانا ،  مطالعہ اور تحقیق  کے فرق کو سمجھانا، لائبریری کے درست استعمال کی روشیں بتانا  اور  اپنے وقت کو لائبریری میں مفید انداز  میں استعمال کرنا سکھانا تھا۔ اس مقصد کیلئے ہم نے لائبریری میں تجربے کے طور پر معارف و عقائد کے موضوع  کو منتخب کیا۔ پھر اس موضوع پر موجود  کتابوں کے موضوعات، فہرست، مصنفین کی ایک فہرست بھی بنائی۔ لائبریری میں اس موضوع پر ہمیں متعدّد ممتاز علماء کی کتب دستیاب ہوئیں، جن میں سب سے نمایاں تعداد میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی تصنیفات نظر آئیں، ان کی کتب  عقائد اور اسلامی معارف کے موضوعات پر بڑی تفصیل اور حکمت سے روشنی ڈالتی ہیں۔ آج کے دورے میں  ابتدائی طور پر وجودِ خداوندی کے دلائل کا گروہی مطالعہ کیا گیا، جنہیں نہایت منطقی اور مؤثر انداز میں مختلف عقائد و معارف کی کتابوں میں  پیش کیا گیا تھا۔ ان دلائل نے  ہمیں ایسی مزید کتابیں پڑھنے کا شوق دلایا اور طلبا نے اس سلسلے کو جاری رکھنے کا اظہار بھی کیا۔ کلاس کے دوران مطالعہ کرنے کی مختلف روشوں اور لائبریری کے درست استعمال کے حوالے سے مختلف نکات بھی بیان کئے گئے۔

آپ کی پسند

جمعرات، 6 نومبر، 2025

راجہ صاحب آف محمود آباد

راجہ صاحب آف محمود آباد

سید امتیاز رضوی :​

زمین میں دفن شدہ آسمان صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ زمین میں ان دفن شدہ آسمانوں میں سے ایک راجہ صاحب آف محمود آباد بھی ہیں۔ ان کے بارے میں ہم میں سے جو بھی جتنا جانتا ہے وہ کم ہی جانتا ہے۔ ان کے بارے میں اکثر معلومات کی کڑیاں مختلف زہنوں اور کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس وقت ہم ان کے بارےمیں چند حقائق کو مرتب کر کے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔

۔۱- راجہ صاحب آف محمود آباد کے دادا امیر حسن خان نے 1906 میں ہونے والے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا تمام خرچہ اٹھایا تھا جس اجلاس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی

۲- آپ کے دادا امیر حسن خان تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے

۳- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم کو اپنی اسٹیٹ محمود آباد کا قانونی وکیل بنایا تھا اس وقت قائد اعظم کے والد کا کاروبار ختم ہو چکا تھا وہ مفلس ہو گئے تھے اور اس قسم کی اشد ضرورت محسوس کر رہے تھے

۴- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم اور رتی جناح کا نکاح پڑھا تھا اور اپنی ملکیت میں موجود نینی تال کے میٹروپول ہوٹل میں نوبیاہتا جوڑے کے ہنی مون کا اہتمام کیا تھا

۵- آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ 1917, 1918 اور 1928 کی صدارت آپ کے دادا امیر حسن خان نے کی تھی

۶- محسن پاکستان محمد امیر احمد خان راجہ صاحب محمود آباد آل انڈیا مسلم لیگ کی کور کمیٹی کے سب سے کم عمر ممبر تھے

۷- آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے کم عمر خازن تھے اور تنظیم کے اکثر خرچے اپنی جیب سے کیا کرتے تھے

۸- آپ کی اسٹیٹ کی آمدنی اس زمانے میں چالیس لاکھ روپیہ ماہانہ تھی جو اکثر مسلم لیگ کے تنظیمی امور پر ہی خرچ ہو جاتی تھی

۹- 1937ء میں لکھنؤ میں ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس کا سارا خرچہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے اٹھایا۔ یہ اجلاس تحریک پاکستان کا ایک اہم موڑ تھا

۱۰- 1937ء کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے بعد قائد اعظم نے محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھنے کا حکم دیا جو راجہ صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ آپ اس تنظیم کے پہلے صدر بھی منتخب ہوئے۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے علی گڑھ سے لے کر پشاور تک نوجوان مسلم طالب علموں کو متحرک کیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا۔ نوجوانوں کے اس تحرک کا سہرا محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو جاتا ہے

۱۱- تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے اخبار DAWN کو قائم کرنے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک تمام سرمایہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے فراہم کیا

۱۲- قیام پاکستان کے بعد محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی اپنی جائداد حکومت پاکستان کے نام کر دی جس میں واشنگٹن امریکہ میں آپ کے ذاتی گھر میں آج بھی پاکستانی سفارت خانہ کام کر رہا ہے۔ کربلا معلی میں آپ کے ذاتی گھر کو پاکستان ہاؤس کا نام دیا گیا ہے

۱۳- 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارتی حکومت نے دشمن کی جائداد کے قانون کے تحت ہندوستان میں آپ کی اربوں روپے کی جائداد ضبط کر لی

۱۴- ان سب خدمات کے ہوتے ہوئے بھی آپ نے حکومت پاکستان میں کبھی نہ کوئی وزارت لی اور نہ سفارت بلکہ ایوب خان کی طرف سے کنونشن مسلم لیگ کی صدارت کے عہدے کو بھی ٹھکرا دیا۔ آپ کو ہندوستان میں اپنی جائداد کھو جانے کے بدلے میں تین فیکٹریاں کی آفر بھی کی گئی جسے بھی آپ نے ٹھکرا دیا

1۵۔محسن پاکستان محمد امیر احمد خان معروف بہ راجہ صاحب محمود آباد کے ہاں جب بیٹے کی ولادت ہوئی تو لوگوں نے حسب روایت جشن منانے کا مشورہ ديا۔ مگرآپ نے عجيب انداز سے اللہ کي اس نعمت کا شکرادا کيا۔ وہ اس طرح کہ رياست محمود آباد کي تمام 34 تحصيلوں سے کل ايسے افراد کي فہرست منگوائی جو موتيا کے مرض کا شکارتھے۔ چنانچہ انھوں نے گيارہ سو اٹھاون 1158 مريضوں کو اپنے علاقے کے کيمپ ميں ٹھہرايا اور تمام لوگوں کا مفت آپريشن ڈاکٹر ٹی پرشاد (جو اس وقت آنکھوں کے مشہور ڈاکٹر تھے) سے کروايا۔

14 اکتوبر کو اس عظیم انسان کی  برسی تھی لیکن پاکستان کا پورا میڈیا اس انسان کو یاد کرنے سے قاصر رہا۔ کیا عظیم قومیں اپنے مخلص محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہیں؟14 اکتوبر راجہ صاحب کا یوم وفات ہے۔ اس 14 اکتوبر کو اس عظیم انسان کی چھیالیسویں برسی تھی۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ دن کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ پاکستان کی تاریخ سے آشنا لوگ کہتے ہيں: پاکستان، سرسيد احمد خان کي تعليمی خدمات، قائد اعظم کي رہنمائی اورراجہ صاحب محمود آباد کي دولت کے مرہونِ منت ہے۔

 ———-

راجا صاحب محمود آباد حیات و خدمات۔ by حیدر، خواجہ رضی۔ Published by : Quaid-e-Azam Academy (Karachi) Physical details: 375 p. ; 21 cm. ISBN 969-413-072-7.

دیگر تحریریں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...