زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 27 مارچ، 2026

شہیدِ خامس سید علی خامنہ ای ؒ کی سیرت النّبی ؐپر ایک کتاب

شہیدِ خامس  سید علی خامنہ ای  ؒ کی سیرت النّبی ؐپر  ایک کتاب

تعارف و تبصرہ: ڈاکٹر نذر حافی

کیا  کبھی آپ نے سوچا ہے کہ   ہم میں سے خوش قسمت کون ہے؟ اربابِ علم و دانش کے نزدیک خوش قسمت  وہ انسان ہے   جو اچھی کتابوں کا دوست ہو،   اور یا پھر اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے لوگ اُس کے دوست ہوں۔ آج ہم آپ  کی ایک کتاب سے دوستی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب  سیرت النّبی ؐ کے بارے میں ہے اور  بلاشبہ سیرتِ نبویؐ پر بے شمار کتب موجود ہیں۔  اس  کتاب   کا نام "پیغمبرِ رحمت ﷺ"  ہے۔  آپ یقیناً یہ جان کر خوش ہو جائیں گے کہ یہ کتاب شہیدِ خامس  رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای ؒکے خطابات و بیانات پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسی منفرد تصنیف ہے جو تاریخی واقعات   کو  روحانی اور تہذیبی اقدارکے ساتھ بیان کرتی ہے۔   حجۃ الاسلام مولانا  حسنین عباس گردیزی  صاحب نے اس کتاب کا  فارسی سے اردو میں نہایت سلیس اور  رواں  ترجمہ  کیا ہے۔ اس کتاب کے ابتدائی اوراق ہی  قاری کو عقیدت اور بصیرت کی دنیا میں لے جاتے ہیں  ۔ایک ایسی دنیا میں کہ جہاں سیرتِ طیبہؐ کے مختلف پہلو  نہایت منظم انداز میں  مرتّب کئے گئے ہیں۔ نسبِ رسول ﷺ، ولادتِ باسعادت اور خانوادۂ نبوی کا بیان دل میں محبت کی بنیاد رکھتا ہے، جبکہ بعثت کے دور، جزیرۃ العرب کے حالات اور سابقہ ادیان میں بشارات کا تذکرہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ سچائی اپنے آثار سے پہچانی جاتی ہے، اور رسول ﷺ کی نبوّت  اس  کائنات  کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

مکی اور مدنی زندگی کے ابواب قاری کو یہ سکھاتے ہیں کہ  وہ کبھی بھی ظاہری کمزوری، قلت اور مخالفت سے نہ گھبرائے۔ سیرت النبیؐ کا مطالعہ انسان کو  کمزوری میں قوت، قلت میں کثرت اور مخالفت میں کامیابی کے بہترین نسخے عطا کرتا ہے۔ حقیقی انسانیّت یہ ہے کہ انسان  اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ دکھائے، اور  ایسا انسان فقط سیرت النّبیؐ  کے سائے میں پروان چڑھ سکتا ہے۔

ہماری دانست میں جو شخص بھی  ختمِ نبوّت پر ایمان رکھتا ہے وہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرے۔اس کتاب میں  ختمِ نبوت کا وہ عمیق فہم ہے جو شہید خامس سید علی خامنہ ای امّت کو عطا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ  ختمِ نبوت کے عقیدے کو  ایک زندہ شعور، ایک مکمل نظامِ حیات اور ایک قُطب نُما  کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نبیِ خاتم ؐ کے بارے میں آپؒ کے افکار و نظریات کا مطالعہ  انسان کو اس امر کیلئے آمادہ کرتا ہے   کہ وہ ختمِ نبوّت کے  عقیدے  کو اچھی  طرح سمجھ کر اُس کے قالب میں  اپنی زندگی کو ڈھالے۔  آخری نبیؐ کی پیروی  کا مفہوم ہی یہی ہے کہ انسان آخری نبیؐ کی سیرت کے مطابق زندگی بسر کرے۔

اگر کوئی چاہے کہ وہ صاحبِ فکر و نظر، حاملِ علم و بصیرت سید علی خامنہ ای کی معنوی گہرائی اور علمی رفعت کا ایک قطرہ چکھے، اُن کی معنویت کو  ایک لمحہ دیکھے، اُن کی روحانیّت کی  ایک جھلک پائے تو اسے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اُن کی جدائی کے بعد اُن کی یہ کتاب  ہماری  فکر کو سنوارنے،   زندگی کو نکھارنے  اور دل کو ایک قرار  و سکون بخشنے کا وسیلہ ہے۔

سیرت و اخلاق کے ابواب میں نبی اکرم ﷺ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کا ایسا جامع نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ جو جہاں  حال کی رہنمائی  کرتا ہے وہیں ایک روشن مستقبل کی امید اور آرزو  بھی پیدا کرتا  ہے۔اس کتاب میں  اسلامی تہذیب، امت سازی اور قیادت کے اصول اس انداز میں بیان ہوئے ہیں کہ قاری خود کو ایک باوقار مسلمان اور  ذمہ دار انسان  کے طور پر محسوس کرنے لگتا ہے۔ آخری باب میں دشمنانِ اسلام کے رویّوں کا تجزیہ قاری میں فکری بیداری پیدا کرتا ہے اور اُسے  یہ احساس دلاتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔  یہ کشمکش خود دلیل ہے کہ سرورِ دو عالم ؐ کے دشمن، حاسد اور معاند  اپنی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے ساتھ اسلامِ حقیقی کو نہ ماضی میں مسخ کر سکے ہیں اور نہ ہی آئندہ کر پائیں گے۔ اسی میں شامل وہ خط بھی ہے جو سید علی خامنہ ای نے  مغرب کے نوجوانوں کے نام لکھا، جو آج بھی اہلِ مغرب کیلئے  ایک زندہ دعوتِ فکر ہے۔

المختصر یہ کہ  “پیغمبرِ رحمت ﷺ” نامی  یہ کتاب ہمیں نبی ؐ کی  سیرت کو اپنی  زندگی میں نافذ کرنے کا سلیقہ سکھاتی  ہے۔ یہ زندگی کو جہاد اور انسان کو مجاہد بنانے کی بنیادیں  فراہم کرتی ہے۔  یہ  جہاں دل کو عشقِ رسول ﷺ سے لبریز کرتی ہے،  وہیں  درست معلومات کا خزانہ بھی ہے۔ جو شخص  بھی سیرتِ نبویؐ کو سمجھنا، محسوس کرنا اور اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے، اس کے لیے اس  کتاب  کا مطالعہ  ناگزیر  ہے۔ محدود تعداد میں یہ کتاب جامعۃ الرضا اسلام آباد کے بُک اسٹال پر   دستیاب ہے۔  آپ اس نمبر 03455398135 پر  اُنہیں فون کر کے بذریعہ ڈاک بھی منگوا سکتے ہیں۔

آپ کی پسند 

بدھ، 25 مارچ، 2026

اسلامی انقلاب سے خائف مسلمانوں کے نام

اسلامی انقلاب سے خائف مسلمانوں کےنام  :

ڈاکٹر نذر حافی : 
اسلام نام ہی تبدیلی یعنی انقلاب  کا ہے۔ مسلمان اس جملے کو مانتے بھی ہیں اور  اپنے آپ کو تبدیل کرنے کیلئے تیار بھی نہیں۔ دوسری طرف  ہم دیکھتے ہیں کہ   جب اسلام آیا  تھا تو اس نے لوگوں کے  عقائدکو تبدیل کر کے  اُن کا   پورا نظامِ حیات ہی  بدل دیا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقتور کمزور کو کچلتا تھا، وہاں عدل و انصاف اور مساوات  کی حکمرانی قائم ہوئی۔ غلامی کے ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا، عورت کو حقوق ملے، اور قبیلہ پرستی کی جگہ اُمت کا تصور آیا۔ یہ ہے دینِ اسلام یعنی ایک  ہمہ گیر انقلاب ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان  ُ اس دور کو اسلامی بھی کہتے ہیں اور انقلابی بھی لیکن  آج  اسلام اور انقلاب دونوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ 
 اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو  مسلمان ہونے سے پہلے جھوٹ بولتا تھا، ناانصافی کرتا تھا، اور اپنی خواہشات کا غلام تھا، جب وہ اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی شخصیت بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد  وہ سچ بولنے لگتا ہے، عدل کرنے لگتا ہے، اور اپنے نفس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ اندرونی انقلاب ہے۔
پس اسلام  جس طرح فرد کے اندر انقلاب لاتا ہے اسی طرح   اسلامی معاشرے میں  بھی انقلاب   قابلِ مشاہدہ ہونا چاہیے چونکہ افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ چنانچہ اسلامی عبادات جیسے نماز محض چند حرکات کا نام نہیں،  یہ انسان کو دن میں پانچ بار یہ یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی ہاتھ پھیلائے گا۔ اسی طرح روزہ صرف بھوک برداشت کرنا نہیں۔  یہ در اصل خواہشات ِ نفس کے نظام کے خلاف عملی  بغاوت ہے۔ زکوٰۃ  اور خمس  بھی صرف خیرات نہیں،  یہ سرمائے  کے ارتکاز کے خلاف کھلی جنگ  ہے۔دوسری طرف ہم سب  ہم عبادات ادا کرتے ہیں لیکن عبادات کے ہمراہ کوئی تبدیلی ہم میں نہیں آتی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں عدل ہو، ظلم نہ ہو، اور طاقت قانون کے تابع ہو۔اب اگر کہیں پر  ظالم اور جابر طاقتیں کسی پر ظلم کریں تو پھر ہر مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اب اسلام کا اُس سے کیا تقاضا  ہے؟ خاموشی؟ یا مظلوم کی مدد؟ یقیناً  مظلوم کی مدد ۔ یہی مظلوم کی مدد ہی اسلامی انقلاب کہلاتی ہے۔لہٰذا انقلاب کوئی اضافی شے نہیں ہے  بلکہ اسلامی اخلاق و قوانین  کا اجتماعی سطح پر  اظہار ہے۔
فرض کریں ایک ایسا ملک جہاں کرپشن عام ہو، انصاف بکتا ہو، اور حکمران جوابدہ نہ ہوں، تو  اگر وہاں اسلام کو واقعی نافذ کیا جائے، تو پھر وہاں  کیا ہوگا؟ یقیناً وہاں  نظام بدلے گا، اقتدار کے اصول بدلیں گے، اور  ہر عمل کے ہمراہ  احتساب ہوگا۔۔۔ یہی تو  اسلامی انقلاب ہے۔اب آپ چاہے اسے “اسلامی نظام” کہیں یا “اسلامی انقلاب” حقیقت ایک ہی ہے۔
یہاں پر دنیا کے باقی مسلمانوں اور ایران کے مسلمانوں میں فرق  کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ باقی ساری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ملک میں  اسلام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، لیکن  اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔اسی خوف نے آج اُمتِ مسلمہ  کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک افیون کی طرح مست کرنے والا   برائے نام  اور جامد اسلام ہے جو صرف فقہی مسائل نیز  عبادات تک محدود ہے،اور  دوسرا  انقلابی اور متحرک  اسلام  ہے جو کتابِ خدا اور سُنّتِ رسولؐ کے مطابق  انسان اور  نظام کو تبدیل کرنے  کی بات کرتا ہے۔اُمّت کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ  اسلام جب  عملی ہوتا ہے تو وہ لازماً انقلاب بنتا ہے۔ اگر ہم  اسلام کو اس کی عملی صورت میں قبول کرنے کیلئے تیار ہیں تو پھر ہر مسلمان کے دل سے ایوانِ اقتدار تک  تبدیلی و  انقلاب کا آنا  ناگزیر ہے۔ اگر اسلام کا کلمہ پڑھنے کے باوجو د ہمارے قلب و دماغ میں  انقلاب نہیں آتا، تو  پھر ہمارے  دل و دماغ  پر   متحرک  و بیدارکرنے والے اسلام کے بجائے اسلام کا ایک  بے ضرر سا  عکس چھایا ہوا ہے۔
اب  فرض کیجئے یہ اسلامی  انقلاب اگر ایران کے بجائے سعودی عرب میں آجاتا تو پھر عرب بادشاہوں پر کیا گزرتی۔؟  یقیناً وہاں بھی یہ انقلاب  اسلامی جمہوریت لے کر آتا۔ چنانچہ  اسلامی جمہوریت  سے خائف بادشاہوں نے اسلامی انقلاب کو ایرانی انقلاب، شیعہ انقلاب اور خمینی انقلاب  کہہ کر لوگوں کو اس  سے دور رکھا۔
مسلمان آج تک یہ سمجھے ہی نہیں کہ اسلامی انقلاب صرف   حکمرانوں یا اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں  بلکہ  انسانی شعور کی ازسرِ نو تشکیل  کا نام ہے۔ ایران کے اسلامی  انقلاب نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا  ہے کہ تاریخ  تلوار کے بجائے انسانی  تصوّرات کی تبدیلی  سے رقم ہوتی ہے۔ کوئی بھی انقلاب اتنا ہی  عظیم ہوتا ہے جتنا وہ  لوگوں کے تصوّرات کو تبدیل کرتا ہے۔ بلاشب اسی ہ  زندگی  گزارنے  کے تصوّر میں تبدیلی نے  ملت ایران کو امریکہ و دیگر غیر مسلم طاقتوں کے قدموں سے اٹھا کر عزت و اقتدار کا تاج پہنایا ہے۔
آج اگر کوئی شخص تعصب کی عینک اتار کر دنیا کو  حقیقت کی آنکھ سے دیکھے تو اسے ہر طرف   ایک تلخ   لیکن تابناک سچائی دکھائی دے گی۔ ساری ایرانی قیادت کو شہید کر دیا گیا لیکن ملت ایران کے عزم و استقلال میں ذرّہ بھر لغزش نہیں آئی۔ بغیر قیادت کے اس قوم نے دشمن کو زلیل و خوار کر کے رکھ دیا ہے۔  1979 میں اسلامی انقلاب کی شروعات سے لے کر  ایران عراق جنگ تک، اور وہاں سے جدید دور کی ٹارگٹ کلنگز تک، ہر  دور میں اس ملت کی عزت و سربلندی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ملت ایران کی یہ عزت و سربلندی ایرانی ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اسلامی ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ ایرانی تو شہنشاہ ایران بھی تھا ۔  اس دور کے نمرود نے ایران کیلئے جو فنا کی آگ جلائی ہے اس میں ملت ایران نے سُنّت ابراہیمی  پر عمل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی برکت سے  بقا اور حیات حاصل کر لی ہے۔
آج دشمن بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ ایران میں اشخاص کے بجائے اسلام کی حکومت ہے، وہاں قیادت  کامنصب  افراد کے بجائے  اداروں کے پاس ہے ۔ نیز  وہاں طاقتوروں کی  نہیں، اصولوں کی بات مانی جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ایران کی طرح امریکہ  یا یورپ میں کہیں اعلی  قیادت  نشانہ بنتی تو ریاستیں بکھرجاتیں اور قومیں دشمن  کے سامنے مغلوب ہو جاتیں لیکن ایران میں  اعلی قیادت کی اجتماعی شہادتوں  کے بعد ملت اسلامیہ ایران کی ثابت قدمی سے  یہ ثابت ہوا کہ مسلمان اگر اسلام اور انقلاب  کو الگ الگ سمجھنے  کے بجائے  اسلام اور انقلاب کو ایک ہی حقیقت سمجھنے لگیں تو دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں نہیں جھکا سکتی۔  
آپ کی پسند

منگل، 24 مارچ، 2026

خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فوجی تعاون کی تاریخ

خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فوجی تعاون کی تاریخ : 
تجزیہ کار: حجۃ لاسلام ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی : 
اس الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں بھی جھوٹ بولا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی امریکی اڈا نہیں اور نہ ہی امریکی فوجیں موجود ہیں۔ آئیں آپ کے سامنے بعض تاریخی حقائق بیان کرتے ہیں۔
اتفاقِ کوئنسی (بالإنجليزية: Quincy Pact): 14 فروری 1945
یہ معاہدہ سعودی عرب کے مؤسس بادشاہ، ملک عبدالعزیز آل سعود، اور اُس وقت کے امریکی صدر روزویلٹ کے مابین امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کوئنسی (USS Quincy CA-71) پر بحیرۂ احمر میں طے پایا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مابین فوجی تعاون 1945 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت شروع ہوا، جس کا آغاز سعودی عرب کے شہر ظہران میں ہوائی اڈے (کنگ عبدالعزیز ایئر بیس) کی تعمیر سے ہوا۔
ابتدائی طور پر یہ بیس دوسری جنگِ عظیم کے دوران لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال ہوا، بعد ازاں اس نے سرد جنگ کے دوران ایک اسٹریٹجک بیس کے طور پر کام کیا۔ 1980 کی دہائی میں دونوں ممالک نے سوویت حملے کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت میں تعاون کیا۔ بعد میں انہوں نے خطے میں صدام حسین کی مسلط کردہ ایران-عراق جنگ کے تناظر میں بھی تعاون جاری رکھا۔
امریکی فوج نے کئی دہائیوں سے مملکت میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران امریکی فوجی ہتھیاروں کی فروخت اور تربیتی مشنز میں مدد کے لیے موجود رہے۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران کویت کو آزاد کرانے میں مدد کے لیے تقریباً 550,000 امریکی فوجی تعینات کیے گئے۔ 1991 سے 2003 کے درمیان تقریباً 5,000 امریکی فوجی—زیادہ تر امریکی فضائیہ کے—عراق پر جنوبی نو فلائی زون نافذ کرنے کے لیے مملکت میں موجود رہے۔
ان دہائیوں کے دوران یہ شراکت داری وسیع پیمانے پر فوجی اور فضائی مشقوں پر مشتمل رہی ہے۔ یہ مشقیں، جو باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں، جدید فضائی جنگی تربیت اور ملٹی ڈومین انٹرآپریبلٹی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ دیگر تربیتی سرگرمیوں میں ڈرون کے مقابلے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حقیقی دنیا کے منظرناموں میں شامل کرنا بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے لیے اہم سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
سعودی عرب کا ویژن 2030
امریکہ نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کی بھی توثیق کی ہے، جس کا مقصد اپنی فوجی ضروریات کا 50 فیصد سعودی عرب کے اندر ہی تیار کرنا ہے اور غیر ملکی دفاعی کمپنیوں کو مملکت میں دفاتر کھولنے یا مقامی فرموں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ بوئنگ نے پہلے ہی سعودی عربین ملٹری انڈسٹریز کمپنی (SAMI) کے ساتھ ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر دستخط کیے ہیں، جس میں نہ صرف پائیداری بلکہ مینوفیکچرنگ، تربیت، انجینئرنگ اور تحقیق و ترقی بھی شامل ہے۔ اسی طرح لاک ہیڈ مارٹن نے ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹم کے اجزاء تیار کرنے کے لیے سعودی شراکت داری قائم کی ہے۔ RTX، جو پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کرتا ہے، SAMI کے ساتھ کئی اہم اجزاء کی تیاری اور جانچ پر کام کر رہا ہے۔
ایران نے خطے میں اسلامی ممالک کو کیوں نشانہ بنایا؟
جب ہمسایہ ممالک ایران کے دشمنوں کو پناہ گاہیں، فوجی اڈے، انٹیلی جنس مراکز اور ریڈار سسٹمز لگانے کے لیے اپنی سرزمین فراہم کریں گے، اور پھر یہی اڈے ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوں گے، تو اپنا دفاع کرنا ہر ملک کا عرفی، آئینی اور قانونی حق ہے۔ سادہ الفاظ میں، اگر آپ اپنے پڑوسی کے خلاف جنگ کے لیے کسی عالمی طاقت کو اپنی زمین فراہم کریں گے اور وہ آپ کے پڑوسی پر حملہ کرے گی، تو پھر آپ کو اس پڑوسی کی جوابی کارروائی پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ 
اب ہر باشعور انسان خود فیصلہ کرے کہ اچھا ہمسایہ کون ہے ؟ خلیجی ممالک یا ایران؟
جب امریکہ اور اسرائیل نے جارحیت کرتے ہوئے ایران کی اعلیٰ قیادت اور دیگر مفادات کو نشانہ بنایا، تو جواب میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جب توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے تو سعودی اور خلیجی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران اچھے ہمسایہ تعلقات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔
ایران کی امریکی سرزمین تک براہِ راست رسائی نہیں، لیکن وہ ممالک جنہوں نے خطے میں امریکہ کی موجودگی کو سہولت فراہم کی ہے، دراصل ایسے اڈے مہیا کر رہے ہیں جہاں سے امریکہ حملہ یا دفاع کر سکتا ہے۔ نتیجتاً ایران یہ مؤقف رکھتا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ ان مقامات کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے جو امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایرانی حملوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1) براہِ راست امریکی فوجی اڈے
جیسے بحرین میں پانچواں بحری بیڑا، جو خطے میں امریکی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ایران کے مؤقف کے مطابق ایسے اڈے ممکنہ طور پر حملوں کے آغاز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا وہ انہیں جائز ہدف سمجھتا ہے۔
2) امریکہ و اسرائیل کے دفاعی معاون ممالک
کچھ ممالک، جیسے اردن، جو اپنے اڈوں کو ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یا قطر اور امارات میں موجود دفاعی نظام (جیسے THAAD یا ابتدائی وارننگ ریڈار)، ایران کے نزدیک بالواسطہ فوجی مدد کے زمرے میں آتے ہیں۔
3) امریکی افواج کی متبادل موجودگی کے مقامات
کبھی کبھار امریکی افواج اپنے مرکزی اڈوں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی موجود ہوتی ہیں۔ ایران کے مطابق ایسے مقامات بھی اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
4) براہِ راست امریکی مفادات
ایران کے مؤقف کے مطابق اگر اس کے اندر شہری یا مالیاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے تو وہ بھی جوابی طور پر امریکی شہری مفادات کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے
5) مشترکہ امریکی شہری مفادات
ایسے توانائی یا صنعتی منصوبے جن میں بڑی امریکی کمپنیوں (جیسے ExxonMobil، Chevron، Halliburton) کی سرمایہ کاری ہو، ایران کے نزدیک حساس حیثیت رکھتے ہیں، خصوصاً اگر ایرانی تنصیبات پر حملے کیے جائیں۔
سعودی عرب کا فرقہ وارانہ جنگ بنانے کا منصوبہ
سعودى عرب نے اب ایک اور ایئرپورٹ کو امریکہ کے اختیار میں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ طائف شہر کا کنگ فہد ائرپورٹ جو مکہ مکرمہ کے نزدیک ہے۔ کل جب امریکہ ایران پر یہاں سے حملہ کرے گا۔ اور ایران جواب میں اس ائرپورٹ کو نشانہ بنائے گا تو شور مچایا جائے کہ ایران نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا اور پورے جہاں اسلام میں ایک مذہبی فتنہ کھڑا کیا جائے گا۔
البتہ امریکہ اور اسرائیل کی پروپیگنڈا مشینری کی جانب سے بعض دیگر ممالک، جیسے ترکی، آذربائیجان یا عمان کے حملوں کو بھی ایران سے منسوب کیا جاتا ہے، جسے ایران بے بنیاد قرار دیتا ہے۔اور ان حملوں میں اسرائیل ملوث پایا گیا ۔ ایران کے مؤقف کے مطابق اس کا دشمن چاہتا ہے کہ خطے کے ممالک براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں ملوث ہو جائیں، تاکہ وہ خود پیچھے رہ کر فائدہ اٹھا سکے۔

ایرانی قائدین کی شہادت۔۔۔ سکیورٹی ناکامی یاشہادت کا انتخاب

ایرانی قائدین کی شہادت۔۔۔ سکیورٹی ناکامی یاشہادت کا انتخاب
Syed Zohaib Abbas Kazmi 
syedzohaibabbaskazmi@gmail.com
قیادت محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک سوچ اور عملی رویے کا نام ہے۔ دنیا میں بظاہر قیادت کے کئی انداز نظر آتے ہیں، مگر گہرائی میں جائیں تو یہ دو بنیادی رخ اختیار کر لیتی ہے۔ ایک وہ قیادت جو فاصلے سے نظام کو کنٹرول کرتی ہے اور خود کو خطرات سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ دوسری وہ جو میدان میں اتر کر اپنی موجودگی سے راستہ دکھاتی ہے۔ پہلی قسم کی قیادت میں لیڈر منصوبہ بندی کرتا ہے، احکامات جاری کرتا ہے اور دوسروں کو آگے بھیج دیتا ہے۔ یہاں قیادت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ “تم جاؤ”، جبکہ وہ خود پیچھے رہ کر حالات کو دیکھتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسا تصور بھی موجود ہے جہاں قائد خود سب سے پہلے قدم بڑھاتا ہے اور پھر دوسروں کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ وہ طرزِ قیادت ہے جسے شہید قاسم سلیمانی نے دو سادہ مگر معنی خیز الفاظ میں بیان کیا: “بُرو” اور “بیا”۔ “بُرو” یعنی دوسروں کو آگے بھیجنا اور “بیا” یعنی خود آگے بڑھ کر دوسروں کو ساتھ بلانا۔ ان کے نزدیک اصل اور حقیقی قیادت “بیا” کی قیادت ہے، یعنی وہ قیادت جو صرف حکم نہیں دیتی بلکہ خود مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے اعلیٰ عسکری مقام کے باوجود محض احکامات تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی طور پر میدان میں موجود رہے۔
ان کی زندگی اس بات کا ثبوت تھی کہ حقیقی قائد خطرات سے بچنے کے بجائے ان کا سامنا کرتا ہے اور اپنی موجودگی سے دوسروں کو حوصلہ دیتا ہے۔ یہ طرزِ فکر کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ تاریخ میں بارہا دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر وہ قیادت جو نظریے پر کھڑی ہوتی ہے، وہ خود کو میدان سے الگ نہیں کرتی بلکہ اپنے عمل سے اپنے نظریے کو زندہ رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں روح اللہ خمینی کی زندگی بھی ایک واضح مثال ہے۔ شدید خطرات کے باوجود انہوں نے محفوظ مقام پر جانے کے بجائے عوام کے درمیان رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک قیادت کا اصل مقام عوام کے درمیان ہوتا ہے، نہ کہ محفوظ دیواروں کے پیچھے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسی شخصیات شہید ہوتی ہیں تو کیا اسے سکیورٹی کی ناکامی کہا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ جب کوئی قیادت “بیا” کے اصول پر چلتی ہے تو وہ خود کو خطرات سے الگ نہیں رکھ سکتی۔ وہ جان بوجھ کر ایسے راستے کا انتخاب کرتی ہے جہاں خطرہ موجود ہوتا ہے، کیونکہ یہی اس کے نظریے کا تقاضا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسی قیادت کے لیے شہادت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک شعوری اور نظریاتی انجام ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ میں مزاحمت کا درس نہیں دیتی بلکہ اپنی جان دے کر اس درس کو عملی حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ اگر اس پورے تصور کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ قیادتیں خود کو بچانے کے لیے دوسروں کو آگے کرتی ہیں، جبکہ کچھ خود آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے راستہ بناتی ہیں۔ لہٰذا ایسی شخصیات کی شہادت کو محض کمزوری یا سکیورٹی کی ناکامی قرار دینا دراصل ان کے نظریے کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ حقیقت میں یہ ایک ایسا راستہ ہے جو شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے، ایک ایسا راستہ جو قربانی، نظریہ اور عملی قیادت کا مکمل اظہار ہوتا ہے۔

پیر، 23 مارچ، 2026

سوشل میڈیا پرگرینڈ جرگے کی ضرورت

سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کی ضرورت 

تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں شعور، تحقیق اور ہوشیاری کو جذبات پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔  مذاکرات کے دوران ایران پر ہونے والے حملوں کے  پیچھے دنیا کے عالمی امور کے ماہرین اور تھنک ٹینکس نے کام کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  بڑی طاقتوں کی پیچیدہ حکمتِ عملیاں فقط عسکری میدان تک محدود نہیں ہوتیں۔ میدان جنگ میں  عوام کی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ایک طرف دھوکے اور مبالغے کا استعمال کیا جا تاہے اور دوسری طرف درست خبریں اور رپورٹس بھی غلط وقت پر نشر کی جاتی ہیں۔آج  ہم یہ عرض کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص  اپنے دماغ کو استعمال نہیں کرتا، اسے کمزور ہونے کیلئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خطے میں چند سچائیاں اس وقت سب کیلئے روشن ہیں اور انہیں مزید روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو اسرائیل اپنے سیکیورٹی مفادات کے لیے اپنی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ کی عسکری طاقت اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کو استعمال کر رہا ہے، اور دوسری طرف سعودی عرب اپنے سیاسی و دفاعی فیصلوں کے ذریعے خطے میں پاکستان کی ایٹمی و عسکری صلاحیت کو اپنے لئے استعمال میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کو ایران سے کوئی خطرہ  نہیں۔ ایران سے خطرہ فقط امریکی اڈوں کو ہے۔

بہرحال غیر مصدقہ مگر قابل غور اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے طائف کے نزدیک ایک فوجی اڈے تک امریکہ کو رسائی دی ہے۔ اس کا ممکنہ مقصد ایران کا مذکورہ علاقے پر حملہ کرنے کیلئے ماحول بنانا بھی ہو سکتا ہے تاکہ ایران کے حملوں کو مدینہ منورہ پر حملہ قرار دیا جاسکے۔ اس طرح حرمین شریفین کے نام پر ساری دنیا کے مسلمانوں خصوصاً پاکستان کی عسکری افواج کو ایران کے خلاف میدان میں اترنے کا جواز فراہم کیا جائے۔ یہ معاملہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ایسے میں صرف سوشل میڈیا کی دنیا میں جلتی پر تیل ڈالنا کوئی دانشمندانہ کام نہیں۔ فقط ایسی خبروں کی تشہیر کسی درد کا درماں بھی نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر وہ خبر جو کسی انسان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتی، اسے بیدار اور ہوشیاری نہیں کرتی وہ خود بہت بڑا خطرہ ہے۔ لہذا ہمارے لئے بریکنگ نیوز سے زیادہ خبروں کا متن اور ان کا انداز بیان نیز الفاظ کا چناو مورد توجہ ہونا چاہیئے۔

اس وقت کوئی بھی خبر بریک کرنے سے زیادہ عالم اسلام کے درمیان اتحاد اور امن کے فروغ کی ضرورت ہے۔ عالم اسلام کی حفاظت کیلئے فقط سنی و شیعہ، نیز مختلف فقہا و مسالک کا جمع ہونا کافی نہیں بلکہ مسلمان ممالک کا باہمی اتحاد بھی ضروری ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مثبت تعلقات بھی ناگزیر ہیں۔ جو علما، سیاستدان، دانشور اور صحافی سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے تمام روابط بروئے کار لاکر تعلقات کو خوشگواری اور تعاون کی طرف لے جائیں۔ وہ عربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر عربی زبان میں خلیجی ریاستوں، عرب اکابرین اور عرب باشندوں  کو مشرق وسطی میں امریکی اڈوں کی قباحت اور اسرائیل کے خطرات سمجھائیں۔

اس وقت یہ ساری مسلمان قوم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اصلی و مشترکہ دشمن کو پہچانے۔ کوئی بھی قوم صرف اس وقت تک محفوظ رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقل مند، ذمہ دار اور فرض شناس افراد اس کی بروقت راہنمائی کرتے رہیں۔ ہر دانشور اور عالم کا فرض صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ وقت کی ضرورت کے مطابق اسے اپنے عمل میں ڈھالنا ہے۔ عرب مسلمانوں کو صرف عرب حکمرانوں پر نہ چھوڑیں۔ یہ صرف عرب بادشاہتوں کا مسئلہ نہیں یہ عرب مسلمانوں کے مستقبل اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نعرہ کوئی خواب یا کچی بات نہیں یہ ایک حقیقت اور ایک تھیوری ہے۔ سوشل میڈیا پر عربی عوام اور خلیجی اکابرین  کو خواب غفلت سے بیدار کیا جانا چاہیئے۔ 

جاری صورتحال میں صرف خبریں پھیلانے کے بجائے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پر اسلامی مسالک اور ممالک کے درمیان اتحاد کیلئے کیا کوئی چھوٹا سا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں! اگر نہیں تو پھر کم از کم مسلمانوں کے درمیان نفرت یا تشدد پھیلانے والے بیانیے سے بچیں، اسلامی ممالک کے اتحاد، مفاد اور خودمختاری کو اولین ترجیح دیں، اور سارے اسلامی ممالک کو ان کے حقیقی دشمنوں کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔  انتہائی سنجیدہ اور انتہائی محتاط انداز میں سوچیں اور دوسروں کو سوچنے کی دعوت دیں۔

یاد رکھیں، جذبات اور غیر مصدقہ معلومات اکثر ہمیں تقسیم کرتی ہیں، جبکہ شعور، احساس ذمہ داری، بصیرت اور اتحاد سے قومیں مضبوط بنتی ہیں۔ عقل مند انسان کا مقصد صرف دشمن کو پہچاننا نہیں ہوتا بلکہ اس کا راستہ روکنا ہوتا ہے۔ اتحاد اور وحدت کا سفر  بصیرت اور بیداری کی روشنی میں ہی طے ہو سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی خبریں بہت پرانی ہیں۔ ایسی خبروں سے صرف ہمارے دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔ دشمن کی اس خوشی کو غم میں بدلنے کیلئے ہمیں مختلف زبانوں خصوصاً انگلش اور عربی میں سوشل میڈیا پر عرب مسلمانوں کے ساتھ ایک گرینڈ مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسا مکالمہ شروع کیا جائے جس میں عرب اور ایرانی، سنی اور شیعہ، عوام اور دانشور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں، اطلاعات کی تصدیق کریں اور امت کے حق میں دانشمندانہ فیصلوں کی راہ ہموار کریں۔

سوشل میڈیا پر گرینڈ جرگے کا اصل مقصد صرف بات چیت نہیں بلکہ فہم، اتحاد، اور تعاون پیدا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے مسائل پر مکالمہ اس لیے ہونا چاہیے تاکہ حقائق کی تصدیق ہو، افواہوں سے بچا جائے اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی فضا بڑھے۔  اس پر سوچیں کہ عرب مسلمانوں کے اذہان میں کیسے سوالات بٹھائے جائیں جو انہیں امریکی و اسرائیلی اتحاد سے اسلامی اتحاد کی طرف لے آئیں۔ پھر پلیٹ فارم اور فارمیٹ کا انتخاب ضروری ہے۔ اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق سوشل میڈیا پر جرگہ چند طریقوں سے ممکن بنائیں۔ Twitter/X، Threads یا Mastodon پر حقائق اور تجزیہ پر مبنی سلسلہ وار پوسٹس کی جا سکتی ہیں۔ Facebook اور LinkedIn گروپس دانشور، صحافی اور علما کے لیے سنجیدہ مکالمہ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ YouTube یا Instagram Live پر ویڈیو مباحثے کیے جا سکتے ہیں، جس میں ماہرین براہ راست سوالات کے جواب دیں۔ Clubhouse یا Spaces پر آڈیو جرگے فوری سوال و جواب اور دلائل کے لیے بہترین ہیں۔

مکالمے کے اصول بھی واضح ہونے چاہیئے۔ کم از کم اپنے لئے ہے کر لیں کہ گفتگو ہمیشہ حقائق پر مبنی ہونی چاہیئے اور غیر مصدقہ اطلاعات کو فیڈ میں نہ ڈالا جائے متنوع نقطہ نظر شامل کریں تاکہ مختلف مسالک، ممالک اور پس منظر کے لوگ شامل ہو سکیں۔ احترام اور تحمل برقرار رکھیں اور سوالات کے ذریعے سوچنے کی دعوت دیں۔ اس دوران زبان اور مواد کے انتخاب پر بھی توجہ دیں۔ مقامی زبانوں کے ساتھ عربی اور انگریزی میں مواد شیئر کریں تاکہ زیادہ لوگ شامل ہو سکیں۔ بصری مواد جیسے انفورمیشن گرافکس، چارٹس اور ویڈیوز جذبات کو کم اور سمجھ کو زیادہ بڑھاتے ہیں۔ چھوٹے اور قابل فہم پیغامات بڑے دلائل کی بنیاد پر تیار کریں۔

کمیونٹی اور فالو اپ بھی جرگے کی کامیابی کے لیے اہم ہیں۔ مکالمہ ایک دن کا نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ ہر اہم خبر اور بحث کے بعد خلاصہ شیئر کریں اور اگلے قدم کی تجاویز دیں۔ اعتماد پیدا کرنے کے لیے شفافیت ضروری ہے تاکہ سب جان سکیں کہ معلومات کہاں سے آئی ہیں اور کس نے حصہ لیا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ نفرت اور افواہیں ہیں۔ سوشل گرینڈ جرگے میں ہر پوسٹ سے پہلے حقائق چیک کریں، مبالغہ اور الزامات سے گریز کریں اور ہمیشہ مثبت تعاون اور اتحاد کو ترجیح دیں۔ اس پر سوچئے اس لئے کہ سوچنے والوں کی دنیا، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔


اظہارِ تشکر۔ڈاکٹر نذر حافی کے اعزاز میں عشائیہ سب سے بہترین دوستی وہ ہے جو دین کی خاطر ہو۔ ہمارے درمیان ایک عرصے سے باہمی محبت اور خلوص کا رشتہ قائم ہے۔ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی

نذر حافی صاحب کی طرف سے تمام اساتذہ، عزیز واقارب اور دوستوں کیلئے شکریے کا پیغام۔ محبت اور احترام کا قرض کبھی بھی نہیں اتارا جا سکتا۔تفصیلات کے مطابق اپنی پی ایچ ڈی مکمل ہونے کے بعد مختلف دوستوں، عزیزواقارب، اساتذہ کرام اور تنظیموں کی طرف سے مبارکبادیں اور اعزازی تقریبات کے انعقاد پر نذر حافی صاحب نے وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دوست و احباب کی طرف سے ہونے والی یہ حوصلہ افزائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں علم کی عظمت اور اہمیت آج بھی زندہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے علمی و فکری طور پر بہترین اساتذہ، بزرگان اور دوستوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں کی محبت اور احترام کا قرض کبھی بھی ادا نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اظہار تشکر کے پیغام میں سب عزیز واقارب کیلئے دعا کی کہ خدا ہم سب کو اپنے علم پر عمل کرنے اور ہمیں صاحبان علم سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا کرے اور خدا سرزمین پاکستان اور ملت پاکستان کو علم کی دولت سے مالا مال کرے۔ 
ڈاکٹر نذر حافی کے اعزاز میں عشائیہ سب سے بہترین دوستی وہ ہے جو دین کی خاطر ہو۔ ہمارا درمیان ایک عرصے سے باہمی محبت اور خلوص کا رشتہ قائم ہے۔ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی
تفصیلات کے مطابق بروز منگل یکم جولائی 2024 مؤسسہ باقرالعلوم میں ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب کی طرف سے محترم نذر حافی صاحب کے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم سے پی – ایچ – ڈی مکمل کرنے پر ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور عشائیہ دیا گیا۔برادر محمد رفیق نے کلام الہی سے اس تقریب کا آغاز کیا۔بعد ازاں تقریب میں موجود افراد نے اپنا تعارف کروایا اور اپنی فعالیتوں کو بیان کیا ۔

ڈاکٹر نذر حافی نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ یہ نشست ہماری فعالیتوں کو پہلے سے بہتر اور زیادہ موثر بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وائس آف نیشن ، سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور ابلاغ عامہ۔۔۔ یہ سارے فورم آپ دوستوں کے ہیں آپ ہمیشہ اپنے کاموں کو منظم اور پلاننگ کے ساتھ انجام دیں اور اپنی دینی و اجتماعی فعالیتوں کو نماز کی طرح واجب سمجھ کر انجام دیں ۔ انہوں حجۃالاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور حاضرین سے مختصر اور جامع گفتگو کی۔
ان کے بعد ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے نذر حافی صاحب کو ڈاکٹریٹ مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور انکی علمی ، قلمی اور ابلاغ عامہ کی فعالیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ انکی ٹیم اس کے بعد پہلے سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔سوال وجواب کے دوران انہوں نے اپنی گفتگو میں ایران میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بارے میں بھی سامنے آنے والے شبہات کے جوابات بھی دیے۔
آخر میں عشائیہ اور دعا امام زمانہ سے تقریب کا اختتام کیا گیا ۔
یاد رہے کہ اس تقریب میں جامعۃ الرضا ، جامعہ بعثت ، کے طلباء ، وائس آف نیشن ، سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور ابلاغ عامہ کے دوست شریک تھے۔
نذر حافی صاحب کی طرف سے تمام اساتذہ، عزیز واقارب اور دوستوں کیلئے شکریے کا پیغام۔ محبت اور احترام کا قرض کبھی بھی نہیں اتارا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق اپنی پی ایچ ڈی مکمل ہونے کے بعد مختلف دوستوں، عزیزواقارب، اساتذہ کرام اور تنظیموں کی طرف سے مبارکبادیں اور اعزازی تقریبات کے انعقاد پر نذر حافی صاحب نے وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دوست و احباب کی طرف سے ہونے والی یہ حوصلہ افزائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں علم کی عظمت اور اہمیت آج بھی زندہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے علمی و فکری طور پر بہترین اساتذہ، بزرگان اور دوستوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں کی محبت اور احترام کا قرض کبھی بھی ادا نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اظہار تشکر کے پیغام میں سب عزیز واقارب کیلئے دعا کی کہ خدا ہم سب کو اپنے علم پر عمل کرنے اور ہمیں صاحبان علم سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا کرے اور خدا سرزمین پاکستان اور ملت پاکستان کو علم کی دولت سے مالا مال کرے۔

جنوری ۲۰۲۴ کی یادیں

جمعہ، 20 مارچ، 2026

کیا یہ وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس تھا؟

کیا یہ وزرائے خارجہ  کا ہنگامی اجلاس تھا؟

ڈاکٹر نذر حافی

خطرناک دشمن وہ ہوتا ہے جو محافظ کے لباس میں ہو ۔جب امریکہ نے خلیجی ریاستوں میں اڈے حاصل کیے تو عرب دنیا  نے سمجھا کہ یہ  اڈے ہماری حفاظت کیلئے ہیں۔ حفاظت بھی کس سے ؟ ایران سے۔ یعنی عربوں کو یہ باور کرایا گیا کہ تمہارا دشمن اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہے۔ اس دوران امریکہ نے عربوں کو ایران سے اس قدر خوفزدہ کیا کہ  عرب مسلسل  اسی خوف کی قیمت امریکہ کو  ادا کرتے رہے۔ جب عربوں سے  امریکہ کی دیمانڈ بڑھ گئی تو امریکہ نے  نئی  حکمتِ عملی اپناتے ہوئے عین مذاکرات کے دوران  ایران کے  سیاستدانوں ، اسکولوں، ہسپتالوں، سویلین مقامات، پانی اور گیس کے ذخائر کو بے رحمی سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایران کیلئے  خلیجی ممالک میں موجود اڈوں کو جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ  جب پانی پر وار کیا جائے تو یہ صرف وسائل کی جنگ نہیں رہتی، یہ بقا کی جنگ بن جاتی ہے اور بقا کی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں۔

اسی طرح جب سیاستدانوں کو قتل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کرنے والے لوگوں کو راستے سے ہٹا کر مکمل طور پر جنگ کی آگ بھڑکائی جائے۔  اس بھڑکتی ہوئی آگ میں امریکہ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر اپنا  حملہ کر دیا تاکہ ایران جوابی کارروائی کر کے  پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کونشانہ بنائے۔ اس حقیقت کا اعلان اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے بھی کیا ہے  کہ ہمیں توانائی تنصیبات پر حملے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کونشانہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کے بعد ہم  امریکی کمپنیوں سے جڑی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوئے ۔

اب کھیل یہ ہے کہ اس جنگ کو خوب دہکا کر  امریکہ اور اسرائیل بظاہر پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ اب وہ تو نکل جائین لیکن  ایران و عرب ممالک آپس میں  یعنی ایک ہی امت باہم  الجھ  پڑے۔اس کے بعد  تلوار عربوں کی ہو اور اشارے   امریکہ و اسرائیل کے۔ ہمیں تو یہی لگتا ہے کہ  جو دشمن کو نہ پہچانے وہ  نادان تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا نادان وہ ہے جو دشمن  کو اپنے گھر میں بٹھا کر اُس کی خاطر اپنوں کے خلاف جنگ لڑے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر  امریکہ و اسرائیل کی  فتح یہی ہے  کہ میدانِ جنگ میں جس طرف سے بھی  لاشیں گریں گی وہ امریکہ و اسرائیل کے مفاد کیلئے ہی گریں گی۔

اس کشیدہ صورتحال اور بچھائی گئی  امریکی بساط  پر  ۱۹ مارچ ۲۰۲۶ کو  اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس کے دوران  خلیجی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر  ایران سے  جوابی حملے روکنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ یعنی  جتنا  ہنگامی، بڑا  اور اہم یہ اجلاس تھا، اس میں اتنی ہی چھوٹی اور غیر اہم بات کی گئی۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کی۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی جبکہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی، آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بیراموف، شام کے وزیر خارجہ اسعد شیبانی اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں سعودی نائب وزیر خارجہ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔یہ ناسمجھی اور نادانی کے سوا اور کچھ نہیں کہ اس اجلاس میں   ایران کی دفاعی و جوابی  کارروائیوں کی شدید مذمت تو کی گئی لیکن خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کا ذکر تک نہ ہوا۔ یعنی  کشیدگی کی جڑ پر بات کئے بغیر  رسمی مذمت کرنے اور ایران کو دھمکانے  پر اکتفا کیا گیا۔

ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے ساری دنیا کو خصوصاً فلسطین کے مظلوموں کو پاکستان سے توقع تھی کہ وہ  خلیجی ریاستوں کی تائید کے بجائے ایک اصولی اور متوازن مؤقف اختیار کرے گا۔ افسوس صد افسوس  کہ پاکستان نے بھی فساد کی جڑ پر بات کرنے سے  گریز کیا۔ ایسی مواقع پر اصولوں سے دستبرداری اور بزدلانہ  خاموشی بھی  ناانصافی کا ساتھ دینا ہی ہے۔جارحین کے  لشکر میں بیٹھ کر خاموش رہنا بھی دراصل اُنہی کا فریق بننے کی  علامت ہے۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دے کر دفاع کے حق کی بات کی گئی، لیکن اسی اصول کے تحت ہمسائیگی اور باہمی احترام کہاں گیا؟ قانون وہ ہے جو توازن قائم کرے، نہ کہ صرف ایک طرف جھک جائے۔ جب توازن ہی مفقود ہو تو قانون بھی اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔ قانون کا حوالہ دے کر انصاف سے دوری یہ کھلی لاقانونیت کا اعلان ہے۔

ایران کے ہمسائے میں اس کے مخالف کی عسکری موجودگی کو نظر انداز کر کے صرف ردعمل کو ہدفِ تنقید بنانا انصاف نہیں، یہ سراسر اسرائیل اور امریکہ کی  سہولت کاری ہے۔ امریکی اڈوں سے بڑا مسئلہ امریکہ و اسرائیل کی سہولت کاری کرنا ہے۔ اس مسئلے کو حل کئے بغیر جنگ کو نہیں روکا جا سکتا۔  آج ایران ہے کل یہ سہولتکار ایک دوسرے کو بھی باری باری چٹ کر جائیں گے۔ سرطان امریکہ و اسرائیل نہیں اُن کے سہولتکار ہیں۔

جب زبانیں حق کہنے سے  بند ہوں اور یکطرفہ اعلامیے بلند، تو سچ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔اسے  سفارتکاری نہیں سہولتکاری کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں امن ، امریکہ و اسرائیل کی سہولت کاری سے نہیں،   اسلامی ممالک کے دیانتدار مؤقف سے آئے گا۔ جب جارحین  کو نظر انداز کیا جائے اور صرف مظلوم کے دفاع پر شور مچایا جائے تو اس طرح مسائل حل نہیں ہوتے، بڑھتے ہیں ۔ آپ اس اجلاس کا متن اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہ سمجھنے میں کافی دشواری پیش آئے گی کہ یہ وزرائے خارجہ  کا  ہنگامی اجلاس تھا یا امریکہ و اسرائیل کے سہولتکاروں کا!۔





 


غلو اور غالیوں کیخلاف ائمہ طاہرین ؑ کی جدوجہد

غلو اور غالیوں کیخلاف ائمہ طاہرین ؑ کی جدوجہد

تحریر: سید حسنین عباس گردیزی

جامعۃ الرضا، بہارکہو اسلام آباد

غلو کا لغوی معنی:
الغُلُوُّ کا معنی کسی چیز کے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں، اگر یہ تجاوز کسی کی قدر و منزلت اور فضلیت کے متعلق ہو تو اسے غُلُوُّ کہا جاتا ہے اور اگر اشیاء کے نرخ اور قیمت کے بارے میں ہو تو اسے غلاء (مہنگائی) کا نام دیا جاتا ہے اور اگر تیر اپنی حدود سے تجاوز کر جائے تو غُلُوُّ کہتے ہیں۔ ابلنے اور جوش کھانے کو غلیان اور غیر معمولی سرکش حیوان کو غلواء کہتے ہیں، ان تمام معنوں کے لئے فعل کا ایک ہی مادہ استعمال ہوتا ہے۔(۱) بعض افراد کی رائے ہے کہ غلو، افراط و تفریط دونوں طرفوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ بعض دوسرے افراد غلو کو فقط افراط کے معنی میں منحصر سمجھتے ہیں اور اس کے مقابلے پر تقصیر استعمال کرتے ہیں۔(۲) علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں غلو کی تفسیر بیان کرتے ہو ئے کہا ہے: ’’بانہ ما یقابل التقصیر وھو تجاوز الحدفقال ان معنی الا یۃلا تتجاوزوا الحد الذی حدہ اللہ لکم الی الا زدیاد وضدہ: التقصیر وھو الخروج عن الحد الی النقصا۔، والزیادہ فی الحد والنقصان عنہ کلا ھما فساد و دین اللہ الذی امر بہ ھو بین الغلو والتقصیر وھو الا قتصاد، ای الا عتدال۔‘‘(۳)

اصطلاحی معنی:
شرعی اعتبار سے انبیا ؑ، آئمہ ؑاور اولیاء کرام کے مقام و مرتبے میں مبالغہ کرنا، اس طرح کہ انہیں الوھیت اور ربوبیت کے مقام پر پہنچا دینا یا انہیں معبودیت، خلق اور رزق وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کا اس طرح شریک قرار دینا کہ ضروریات دین کا انکار لازم آئے۔(۴)
قرآن میں غلو کا معنی:
قرآن مجید کی دو آیات میں غلو استعمال ہوا ہے:
1۔ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ د ِیْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللَّہِ اِلَّا الْحَقَّ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّّہِ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقَھَآ اِلَیٰ مَرْیَمَ وَرُوْحؒمِِّّنْہُ فَاٰمِنُوْا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہٖ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَثَۃُٗ ط اِنْتَھُوَْا خَیْرًالَّکُمْ ط اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہُٗ وَّاحِِدُٗ ط سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ ْیَّکُوْنَ لَہٗ وَ لَدُٗ لَہُٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْْضِ وَ کَفَیٰ بِاللّٰہ ِ وَکِیْلاً۔(۵) "اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا کچھ نہ کہو، بے شک مسیح عیسیٰ بن مریم تو اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں، جو اللہ نے مریم تک پہنچا دیا اور اس کی طرف سے وہ ایک روح ہیں۔ لہذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہو کہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ، اس میں تمہاری بہتری ہے۔ یقیناً اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ آسمانوں اور زمین میں موجود ساری چیزیں اسی کی ہیں اور کار سازی کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔"
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے جو کچھ بیان کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے: اس آیت میں اہل کتاب کو غلو کرنے سے منع کیا ہے، اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں یا یہودی؟ تو اس بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ عیسائی مراد ہیں، کیونکہ غلو کے موارد عیسائیوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔(۶) اور بعض کی رائے کے مطابق عیسائی اور یہودی دونوں مراد ہیں۔(۷) البتہ اس بارے میں اتفاق ہے کہ غلو کا موضوع حضرت عیسیٰ ہیں، اس غلو کے حوالے سے عیسائیوں کے تین گروہ ہیں۔ بعض کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ  ؑ خدا ہیں، بعض کا نظریہ یہ ہے کہ وہ تین خداؤں میں سے ایک ہیں، تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ وہ خدا کا بیٹا ہیں۔(۸) حضرت عیسی ؑ کے بارے میں یہودیوں نے یہ غلو کیا کہ انہیں فعل حرام کا نیتجہ قرار دیا اور حضرت مریم کی طرف ناروا نسبت دی ہے۔(۹) مفسرین نے اس نکتہ پر بھی بحث کی ہے کہ عیسائیوں سے مراد کون سے ہیں؟ بعض نے کہا کہ اہل نجران مقصود ہیں۔(۱۰) دوسروں کا قول ہے کہ تمام نصاریٰ مراد ہیں۔(۱۱)

قرآن مجید کی ایک دوسری آیت جس میں غلو کا تذکرہ ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: ’’قُلْ یٰٓاَ ھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْ ا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآ ئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْ امِنْ قَبْلُ وَ اَ ضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْ ا عَنْ سَوَآ ئِ السَّبِیْلِ‘‘(۱۲) "اے رسولﷺ! کہہ دو کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اس قوم کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، جو پہلے گمراہ ہوچکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کرچکی اور سیدھے راستہ سے بہک چکی ہے۔" اس آیت میں خطاب رسول اکرمﷺ سے ہے کہ وہ اہل کتاب سے کہیں وہ دین الہیٰ میں غلو نہ کریں اور جو حدود مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہ کریں، یہاں پر دین میں غلو سے مراد اکثر مفسرین نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں الوھیت اور خدا قرار دینے کا عقیدہ مراد لیا ہے، گویا وہی مطالب جو گذشتہ آیت میں بیان ہوئے ہیں، وہ یہاں پر ذکر ہوئے ہیں۔(۱۳) اس سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید میں غلو سے مراد کسی کو خدا قرار دینا اور اسے الوھیت کا درجہ دینا ہے۔ ان آیات سے اور قرآن کی دیگر آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ غلو کی تاریخ پرانی ہے، اسلام سے قبل مختلف اقوام میں بالخصوص یہود و نصاریٰ کے درمیان یہ موجود تھا۔

یہودیوں نے حضرت عزیر کی الوھیت کا دعویٰ کیا۔ قرآن کریم نے ان کے باطل نظریئے کو یوں نقل کیا ہے: ’’وَقَالَتِ الْیَھُوْ دُ عُزَیْرُ ابْنُ اللّٰہِ۔‘‘(۱۴) یعنی "یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں۔" روایات اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ حضرت عزیر کے توسط سے کچھ ایسے معجزات رونما ہوئے، جس کے سبب یہودی یہ کہنے لگے کہ ان میں الوہیت پائی جاتی ہے یا اس کا کچھ جزء شامل ہے۔ یہودیوں کی طرح عیسائیوں کے ہاں بھی ایسے نظریات پائے جاتے ہیں، جن کا تذکرہ گذشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں غلو کیا اور ان کی الوہیت کا دعویٰ کیا۔ قرآن مجید نے یہودیوں کے عقیدے کو بیان کرنے کے فوراً بعد ان کے نظریات کا تذکرہ کیا ہے: ’’وَقَالَتِ النَّصارَیٰ الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ۔ ذٰلِک قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ط  قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُئْوفَکُوْن‘‘(۱۵) "اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب زبانی باتیں ہیں، ان باتوں میں وہ بالکل اپنے سے پہلے کافروں کی طرح ہیں۔ اللہ انہیں قتل کرے، یہ کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں۔" اس آیت میں یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہود و نصاریٰ سے پہلے بھی کفار اپنے بزرگوں کے بارے میں غلو کا شکار تھے۔

قرآن مجید ایک اور مقام پر عیسائیوں کے غلو کا پردہ چاک کرتا ہے: ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ‘‘(۱۶) یعنی "حقیقت میں وہ لوگ کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم اللہ ہے۔" غلو جیسا باطل اور انحرافی عقیدہ مسلمانوں میں بھی سرایت کر گیا۔ جس کی طرف رسول اکرمﷺ نے توجہ دلائی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے:
1۔’’حد سے زیادہ میری مدح و ستائش نہ کرو، جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑکی مدح و ستائش میں افراط سے کام لیا ہے، میرے بارے میں کہو کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔‘‘(۱۷)
2۔ ابو رافع قرظی اور سید نجرانی نے کہا کہ: اے محمد ؐ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم تمہاری پرستش کریں اور تمہیں رب قرار دیں؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش کریں اور اس کے سوا کسی اور کا حکم دوں۔ اس نے مجھے اس لیے مبعوث نہیں فرمایا اور نہ ہی اس قسم کا حکم دیا ہے، اس پر یہ آیت (وما کان لبشر) سورہ آل عمران ۷۹ نازل ہوئی۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے رسول اللہ! کیا ہم تمہیں سجدہ نہ کریں! رسول اکرمﷺ نے جواب دیا: خدا کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اپنے نبی کی عزت و احترام کرو اور حق کو اس کے اہل کے لیے پہچان کرو۔(۱۸)

3۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:۔ مجھے میری شان و منزلت سے آگے نہ بڑھاؤ۔ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنانے سے پہلے مجھے اپنا بندہ قرار دیا ہے۔(۱۹)
4۔ آپ ؐ کا ارشاد گرامی ہے: دو قسم کے گروہوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی: ایک ظالم اور ستم کار بادشاہ اور دوسرا دین میں غلو کرنے والا، جو دین سے خارج ہو جاتا ہے اور توبہ نہیں کرتا اور غلو سے اجتناب نہیں کرتا۔(۲۰) پس ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں غلو کے اشارے موجود تھے اور رسول اکرمﷺ اپنے بعد امت میں اس کے پھیلنے کے امکانات کو دیکھ رہے تھے، لہذا آپ ؐ نے غلو کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا اور اس سے بچنے کی تاکید فرمائی۔" مسلمانوں میں اس عقیدے کے داخل ہونے کے مختلف عوامل اور اسباب تھے:
1۔ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے وہ افراد جنہوں نے ظاہر میں اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا، لیکن دل سے اسلام کی حقانیت کو تسلیم نہیں کیا، انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کو بگاڑنے کے لیے مختلف اسلامی شخصیات کے متعلق غلو کو رواج دیا۔ انہوں نے ضعیف الایمان مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھ کر ان کے درمیان غلو جیسے باطل عقائد کو ہوا دی۔
2۔ دوسری جانب وہ قومیں جو مجوسیت اور دیگر ادیان کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئیں، لیکن اسلام کی روح کو نہ سمجھ سکیں یا انہوں نے ظاہر میں اسلام کو قبول کیا اور اپنے باطل عقائد کو مسلمانوں کے اندر پھیلایا۔

غلو کی علامات:
وہ نظریات جو غالیوں کے عقائد شمار ہوتے ہیں اور غلو کی نشانیاں قرار پاتے ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔ رسول اکرم ﷺ، امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ یا دوسرے اولیاء الٰہی کے متعلق الوہیت کا عقیدہ رکھنا۔
2۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ کائنات کا انتظام و انصرام یا تدبیر، رسول خداﷺ، امیر المومنین علی اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام یا کسی اور فرد کے سپرد کی گئی ہے۔
3۔ امیر المومنین علی اور آئمہ علیہم السلام یا کسی اور شخص کی نبوت کا نظریہ رکھنا۔
4۔ کسی فرد کا علم غیب سے ذاتی طور پر آگاہ ہونا، بغیر اس کے کہ اسے وحی یا الہام ہو، اس بات کا عقیدہ رکھنا۔
5۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ اہل بیت ؑکی معرفت اور محبت عبادت الہیٰ اور فرائض الہیٰ کی انجام دہی سے بے نیاز کر دیتی ہے۔(۲۱) البتہ وہ عقائد جن پر دلیل قطعی (خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی) قائم ہو تو اسے غلو یا حد سے تجاوز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر اہل بیت ؑکی عصمت امیر المومنین علی ؑ کی خلافت و وصایت بلا فصل اور ان کے بعد باقی اماموں کی امامت اور ولایت کا عقیدہ، امام کے علم لدنی کا نظریہ، رجعت کا عقیدہ اور دیگر شیعہ عقائد جن پر محکم اور متقن ادلہ قائم کی گئی ہیں، انہیں غلو اور حد سے تجاوز قرار دینا کسی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

غلو اسلام کے تمام فرقوں میں پایا جاتا ہے، جن کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں، لیکن متعصب افراد نے اسے صرف شیعہ فرقے سے منسوب کیا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔ شیعوں کے عقائد مسلم طور پر ان کی کتب میں موجود ہیں۔ یہاں پر ہم چند شیعہ علماء کے نظریات بیان کریںگے، تاکہ غلو اور غلاۃ کے بارے میں شیعہ اثناء عشری فرقہ کا نظریہ واضح ہو جائے۔ شیخ صدوق ؒ فرماتے ہیں: غلاۃ اور مفوضہ کے سلسلے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ کافر باللہ ہیں، یہ لوگ اشرار ہیں، جو یہودی، نصاریٰ، مجوسی، قدریہ، حروریہ سے منسلک ہیں، یہ تمام بدعتوں اور گمراہ فکروں کے پیروکار ہیں۔(۲۲) شیخ مفید ؒ فرماتے ہیں: غلات اسلام کا دکھاوا کرنے والا گروہ ہے، یہ وہی افراد ہیں، جہنوں نے امیر لمومنین علی ؑ اور ان کی پاکیزہ اولاد کو الوہیت اور نبوت کی نسبت دی ہے، یہ افراد گمراہ اور کافر ہیں اور امیر المومنین ؑنے ایسے لوگوں کے قتل کا حکم صادر فرمایا ہے۔ دوسرے آئمہ ؑنے بھی ایسے افراد کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا ہے۔(۲۳)

علامہ حلیؒ بیان فرماتے ہیں: بعض غالی حضرات امیر المومنین علی ؑ کی الوہیت اور بعض ان کی نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں، یہ سب نظریات باطل ہیں، کیونکہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اللہ جسم نہیں ہے، اس میں حلول محال اور اس کے ساتھ ایک ہو جانا (اتحاد) باطل ہے۔ اسی طرح ہم نے ثابت کیا ہے کہ محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔(۲۴) محقق حلی فرماتے ہیں: غلات اسلام سے خارج ہیں، اگرچہ وہ ظاہری طور پر اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔(۲۵) علامہ نراقی کا قول ہے: غالیوں کی نجاست میں کسی قسم کا شک نہیں ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو حضرت علی ؑ یا دیگر افراد کی الوہیت کے قائل ہیں۔(۲۶) صاحب جواہر کا قول ہے: غلات، خوارج، ناصبی اور ان کے علاوہ دیگر افراد جو ضروریات دین کے منکر ہیں، یہ کبھی بھی مسلمانوں کے وارث نہیں ہوسکتے ۔(۲۷) آقا رضا ہمدانی لکھتے ہیں: وہ فرقہ جن کے کفر کا حکم دیا گیا ہے، وہ غلات ہیں اور ان کے کفر میں شک و شبہ نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ امیر المومنین ؑ اور دوسرے افراد کی الوھیت کے قائل ہیں۔(۲۸) امام خمینی ؒ تحریر الوسیلہ میں فتویٰ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر غالی کا غلو الوھیت، توحید اور نبوت کے انکار کا لازمہ قرار پائے تو یہ کافر ہیں۔(۲۹) ان اقوال سے ثابت ہوا کہ علماء شیعہ غالیوں کے کفر اور نجاست کا حکم دیتے ہیں اور ان کے حوالے سے انہوں نے فقہی احکام بھی بیان کر دیئے ہیں، مثلاً ان کی نجاست، ان کا ذبیحہ حرام ہے اور وہ مسلمانوں کی میراث نہیں پا سکتے۔ جرح والتعدیل کے ماہر شیعہ علماء کا غالیوں کے بارے میں موقف انتہائی واضح ہے۔(۳۰)

غلو اور غالیوں کے بارے میں آئمہ اہل بیت ؑکا موقف اور انکا طرز عمل:
رسول اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو اپنی امت میں رونما ہونے والے فتنوں سے باخبر کر دیا تھا، انہی امور میں سے ایک وہ راز تھا، جس سے حضرت علیؑ کو آگاہ فرمایا کہ ایک قوم تمہاری محبت کا اظہار کرے گی اور اس میں غلو کی حد تک پہنچ جائے گی اور اس کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو کر کفر و شرک کی حدوں میں داخل ہو جائے گی۔ احمد بن شاذان نے اپنی اسناد سے امام صادق  ؑسے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے اور انہوں نے علی ؑسے بیان کیا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "اے علی میری امت میں تیری مثال عیسیٰ بن مریمؑ کی ہے، ان کی قوم ان کے حوالے سے تین گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ مومن تھا اور یہ ان کے حواری تھے، دوسرا گروہ ان کا دشمن تھا، جو کہ یہودی تھے۔ تیسرا گروہ وہ تھا، جنہوں نے ان کے بارے میں غلو کیا اور ایمان کی حدود سے خارج ہوگئے۔ میری امت تیرے بارے میں تین گروہوں میں تقسیم ہوگی۔ ایک گروہ تمہارا شیعہ ہوگا اور یہ مومنین ہوں گے، دوسرا گروہ تمہارا دشمن ہوگا اور یہ شک کرنے والے ہوں گے، تیسرا گروہ تمہارے بارے میں غلو کرنے والا ہوگا اور یہ منکرین کا گروہ ہوگا۔ اے علی! جنت میں آپ اور آپ کے شیعہ جائیں گے اور جہنم تمہارے دشمنوں اور غلو کرنے والوں کا ٹھکانہ ہوگی۔"(۳۱)

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے خود فرمایا ہے: "میرے بار ے میں دو قسم کے افراد ہلاک ہوں گے، ایک غالی محب اور دوسرا دشمن جفا کار۔"(۳۲) ابن نباتہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ؑنے فرمایا: "خدایا! میں غلو کرنے والوں سے ایسے بیزار اور بری ہوں، جس طرح عیسیٰ بن مریم عیسائیوں سے بری اور بیزار تھے۔ اے اللہ ان (غالیوں کو) ہمیشہ ذلیل و رسوا فرما اور ان میں سے کسی کی بھی نصرت نہ فرما۔"(۳۳) آپ ؑ نے ایک اور مقام پر فرمایا: "ہمارے بارے میں غلو سے پرہیز کرو، کہو کہ ہم پروردگار کے بندے ہیں، اس کے بعد ہماری فضلیت میں جو چاہو کہو۔"(۳۴) امام صادق  ؑسے روایت ہے کہ یہودی علماء میں سے ایک شخص امیر المومنین ؑکے پاس آیا اور کہا اے امیر المومنین! آپ کا خدا کب سے ہے۔؟ آپ ؑ نے فرمایا: "تیری ماں تیرے غم میں روئے میرا خدا کب نہیں تھا؟ جو یہ کہا جائے کہ کب سے تھا، میرا خدا کب سے پہلے تھا، جب کب نہ تھا اور بعد کے بعد بھی رہے گا، جب بعد نہ ہوگا، اس کی کوئی غایت نہیں اور اس کی غایت و انتہاء کی حد نہیں، حد انتہا اس پر ختم ہے، وہ ہر انتہا کی انتہا ہے۔" اس نے کہا: اے امیر المومنین کیا آپ نبی ہیں۔؟ آپ ؐ نے فرمایا: "وائے ہو تم پر! میں تو محمد ؐ کے غلاموں میں ایک غلام ہوں۔"(۳۵)

غالیوں کیساتھ امیر المومنین ؑکا سلوک:
عبداللہ بن سبا اصل میں یمن کا رہنے والا اور صنعا کے یہودیوں میں سے تھا۔ حجاز، بصرہ اور کوفہ میں اس کا بہت آنا جانا تھا۔ حضرت عثمان کے زمانے میں دمشق کا سفر کیا تو اہل شہر نے اسے شہر سے نکال دیا، اس کے بعد یہ مصر چلا گیا۔ وہاں حضرت عثمان کے خلاف جو شورش برپا ہوئی، اس میں پیش پیش تھا اور ان کے زبردست مخالفوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔(۳۶) ابن سبا کے حالات میں ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ خیال کیا کہ امیر المومنین علی ؑ خدا ہیں اور مقام الوھیت رکھتے ہیں، جب حضرت علی  ؑتک یہ خبر پہنچی تو آپ نے ابن سبا کو بلایا اور اس بارے میں پوچھا تو اس نے واضح طور پر اپنے عقیدے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں تو وہ (خدا) ہے، میرے دل میں یہی الہام ہوا ہے کہ تو خدا ہے اور میں تیرا رسول ہوں۔ امیر المومنین ؑنے اسے فرمایا "وائے ہو تم پر! شیطان نے تجھ سے مذاق کیا ہے، تیری ماں تیری میت پر روئے۔ اس سے روگردانی کر اور توبہ کر۔" اس نے قبول نہ کیا۔ حضرت امیر ؑنے اسے زندان میں ڈال دیا اور اسے تین دن کی مہلت دی، تاکہ وہ توبہ کر لے، لیکن اس نے توبہ نہ کی۔ حضرت علی ؑ نے اسے آگ میں جلا دیا اور فرمایا "اس پر شیطان مسلط ہوگیا تھا، وہ اس کے پاس آتا تھا اور یہ عقیدے اسے تلقین کرتا تھا۔"(۳۷)

اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی تاریخ میں نقل ہوا ہے: جنگ جمل کے بعد قوم زط (جٹ) کے بعض افراد جو کہ سبائیہ (عبد اللہ بن سبا کے پیروکار) تھے اور ان کی تعداد ستر تھی، حضرت علی ؑکے پاس آئے، سلام کیا اور اپنی زبان میں آپ سے گفتگو کی، آپ نے انھیں کی زبان میں جواب دیا۔ آپؑ نے انہیں کہا: "جیسا تم کہہ رہے ہو، وہ نہیں ہوں، میں اللہ کا بندہ اور مخلوق ہوں۔" ان لوگوں نے حضرت علیؑ کی بات کا انکار کیا اور ان سے کہا تو ہی خدا ہے۔ آپ نے انہیں کہا: "اگر ان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ نہیں کرو گے، جو تم نے میرے بارے میں کہی ہیں تو تم سب کو قتل کر دوں گا۔" وہ اپنی باتوں پر ڈٹے رہے اور ہرگز توبہ نہ کی، حضرت علی ؑ نے ان کے لیے زمین میں گڑھے کھودنے کا حکم دیا۔ گھڑھے کھودے گئے اور ان کے درمیان سوراخ کرکے انہیں آپس میں ملا دیا گیا، پھر ان افراد کو ان گڑھوں میں ڈالا گیا اور ان گڑھوں کا منہ بند کر دیا گیا، ایک خالی گڑھے میں آگ جلائی گئی۔ دھوئیں اور گھٹن کی وجہ سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔(۳۸) البتہ اس واقعے کو ایک اور طرح سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ حضرت علی ؑکے حکم کے مطابق گڑھوں میں آگ جلائی گئی اور پھر آپ نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ کر آگ میں ڈالے۔ اس طرح سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔ اس بارے میں ایک شعر بھی حضرت علی ؑسے منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا :
انی اذا البصرت امراً منکراً   او قدرت ناری ودعوت قنبراً
ثم احفرت حضراً فحفراً       وقنبر یحطم حطما ً منکراً  (۳۹)

امام زین العابدین ؑ کا موقف:
امام علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا: ’’جو ہم پر جھوٹ باندھے، اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہو، میں نے جب عبد اللہ بن سبا کے بارے میں سوچا تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے، اس نے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا، اسے کیا ہوگیا تھا! اللہ کی اس پر لعنت ہو۔ خدا کی قسم علیؑ اللہ کے صالح بندے اور رسول اللہ کے بھائی تھے، درگاہ احدیت میں انہیں جو مقام و مرتبہ ملا، اس کی وجہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تھی، جس طرح رسول اکرم ﷺ کو عظیم مقام و منزلت سے نہیں نوازا گیا، مگر خدا کی اطاعت کی وجہ سے۔ امام زین العابدین ؑنے ابو خالد کابلی کو امت میں غلو کے بارے میں آگاہ کیا، جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے دین میں غلو کیا تھا۔ امام ؑنے فرمایا: "یہودی حضرت عزیر ؑسے محبت کرتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے ان کے بارے میں وہ کچھ کہا، جو نہیں کہنا چاہیئے تھا۔ لہذا نہ حضرت عزیر ؑ ان سے تھے، نہ وہ حضرت عزیز سے تھے۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑکو دل و جان سے چاہا اور ان کے بارے وہ کچھ کہا، جو ان کے شایان شان نہ تھا۔ لہذا نہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ان سے کوئی تعلق رہا اور نہ ہی ان کا حضرت عیسیٰ ؑسے کوئی تعلق رہا اور حقیقت میں ہم بھی اس بدعت کا شکار ہوں گے۔ بہت جلد ہمارے شیعیوں کا ایک گروہ ہم سے محبت کرے گا، یہاں تک کہ وہ ہمارے بارے میں وہی کچھ کہے گا، جو یہودیوں نے حضرت عزیر ؑ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کہا تھا۔ لہذا یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہوں گے اور نہ ہی ہمارا ان سے کوئی تعلق ہوگا۔"(۴۰)

غالیوں کے بارے میں امام محمد باقر ؑکی رائے:
امام محمد باقر ؑ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ ابو الخطاب، اس کے اصحاب اور اس پر لعنت میں شک کرنے والوں اور اس بارے میں توقف کرنے والوں اور شک کرنے والوں پر لعنت کرے۔۔ اے علی! ان پر لعنت کرنے میں کوتاہی نہ کرو، بتحقیق اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے۔" اس کے بعد انہوں نے کہا کہ رسول ؐخدا نے فرمایا ہے: "جو شخص اس فرد پر لعنت کرنے سے ناراض ہو، جس پر ذات باری تعالیٰ نے لعنت کی ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔"(۴۱) ابو الخطاب محمد بن مقلاص بن راشد منقری بزاربراداجدع اسدی تھا، کوفے کا رہنے والا ایک غالی انسان تھا، اس کے اصحاب اور پیروکاورں کو خطابیہ کہا جاتا ہے۔(۴۲) ابتداء میں وہ امام محمد باقر ؑ اور امام جعفر صادق ؑکے اصحاب میں سے تھا، شروع میں اس کا عقیدہ یہ تھا کہ آئمہ، پیغمبر ہیں، پھر انہیں خدا سمجھنے لگا اور جعفر بن محمد ؐ اور ان کے آباء کی الوھیت کا قائل ہوگیا۔ اس نے کہا کہ امام جعفر صادق ؑ اپنے زمانے کا خدا ہے اور یہ وہ نہیں جسے وہ محسوس کرتا ہے اور اس سے روایت کرتا ہے، چونکہ اس نے عالم بالا سے اس دنیا میں نزول کیا ہے، اس لیے اس نے آدمی کی شکل اختیار کی ہے۔(۴۳)

اس کا خیال تھا کہ جعفر صادق ؑنے اسے اپنے بعد اپنا قیم اور وصی مقرر کیا ہے، پھر اس سے آگے بڑھا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا اور یہ کہا کہ وہ اسم اعظم جانتا ہے اور آخر میں کہنے لگا کہ وہ فرشتوں میں سے ہے۔(۴۴) رفتہ رفتہ اس کے گروہ میں اضافہ ہوا اور انہوں نے کوفے کے گورنر کی مخالفت شروع کر دی۔ ایک دن جب ان میں سے ستر افراد ہنگامہ برپا کرنے کے لیے مسجد کوفہ میں جمع تھے تو گورنر کوفہ نے ان پر حملہ کر دیا اور سخت مقابلے میں اس کے بہت سارے ساتھی مارے گئے، اس دوران ابوالخطاب کو گرفتار کیا گیا، حاکم کوفہ نے حکم دیا کہ فرات کے کنارے ’’دار الرزق‘‘ میں اس کے پیروکاروں کے ساتھ سولی پر لٹکایا جائے۔ اس کے بعد ان کے جسموں کو جلایا گیا اور ان کے سروں کو منصور دوانقی کے پاس بھیجا گیا، اس نے حکم دیا کہ تین دن تک ان سروں کو بغداد کے دروازے پر لٹکایا جائے اور پھر آگ میں جلایا جائے۔(۴۵)

زرارہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ  بیان یا بنان پر لعنت کرے، بنان (اللہ کی لعنت ہو اس پر) نے میرے باپ پر جھوٹ اور افتراء باندھا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے باپ علی ابن الحسینؑ عبد صالح تھے۔"(۴۶) بیان بن سمعان تمیمی نھدی غلات کا سرغنہ تھا، اس کے پیروکاروں کو بیانیہ کہا جاتا ہے، اس کا نام بنان بن سمعیان فھدی اور تمیمی بھی آیا ہے، یہ شخص امام زین العابدین ؑاور محمد باقر ؑکا معاصر تھا۔(۴۷) اس نے پہلے تو اپنے آپ کو ابو ہاشم عبد اللہ ابن محمد بن حنفیہ کا جانشین کہا، پھر غلو کیا اور علی ؑ کو خدا سمجھا اور تناسخ اور رجعت کا عقیدہ اپنایا۔(۴۸) پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور امام محمد باقر  ؑکو خط لکھا کہ تو اسلام قبول کر اور امان میں رہ، بلند ہو جا اور نجات اور کامیابی پالے، کیونکہ تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کو کہاں رکھا ہے اور رسول کا فرض صرف پہنچا دینا ہے، جس نے کسی کو ڈرایا، اس نے عذر کو برطرف کر دیا۔ امام ؑنے اس کے خط لانے والے عمر و بن عفیف ازدی کو مجبور کیا کہ وہ خط نگل لے۔ پس اس نے خط کھایا اور مرگیا۔(۴۹) آخرکار انہوں نے مسجد کوفہ میں ہنگامہ برپا کیا۔ خالد بن عبداللہ قسری نے اسے اور اس کے پندرہ ساتھیوں کو گرفتار کر لیا، انہیں رسی سے باندھ کر ان پر تیل چھڑکا گیا اور انہیں آگ لگا دی گئی۔ یہ واقعہ ۱۱۹ ہجری کو رونما ہوا۔(۵۰)

غالیوں کیخلاف امام صادق ؑکی جدوجہد:
امام صادق ؑکے دور میں غلاۃ کا مسئلہ بہت بڑھ گیا تھا، اسی کے پیش نظر امام نے اپنے شاگردوں کے درمیان مختلف علوم کی تعلیم شروع کر دی، آپ کی علمی تحریک آفاقی ہوگئی اور آپ کے شاگردوں اور پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا، آپ ؑ لوگوں کو ان علوم سے آگاہ کرنے لگے، جن سے وہ بالکل جاہل تھے اور جو کچھ اپنے آباء اور رسول اکرمﷺ سے سینہ بہ سینہ آپ کو ملا تھا، اسے لوگوں کے دلوں میں منتقل کرنے لگے۔ اس کے سبب سطحی اور سادہ لوح افراد یہ سمجھے کہ امام غیب کا علم رکھتے ہیں اور غیب کا علم رکھنے والا الوہیت (خدائی) کے درجہ پر فائز ہوتا ہے۔ بعض فتنہ پرور افراد نے سادہ لوح افراد کو آلہ کار بنایا، تاکہ لوگوں کے عقائد کی تخریب کے سلسلہ میں اپنی غرض کو پورا کرسکیں، جو ان کا اصلی مقصد تھا۔ یہ کام خاص طور پر ان لوگوں سے لے رہے تھے، جو ابھی ابھی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کا تعلق سوڈان، زط وغیرہ سے تھا، جو اپنے آبائی عقائد لے کر آئے تھے، اس طرح سے بعض نے مادی اور روحانی احتیاج کے پیش نظر غلو کو اپنایا اور راہ حق اور صراط مستقیم سے دور ہوگئے اور امام صادقؑ کے بارے میں طرح طرح کے خرافات پھیلانے لگے۔

مالک ابن عطیہ نے امام صادق ؑکے بعض اصحاب سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن امام صادق ؑ بہت غیظ و غضب کی کیفیت میں باہر آئے اور آپ نے فرمایا: "میں ابھی اپنی ایک حاجت کے لیے باہر نکلا، اس وقت مدینہ میں مقیم بعض سوڈانیوں نے مجھ کو دیکھا تو ’’لبیک یاجعفر بن محمد لبیک‘‘ کہہ کر پکارا، تو میں الٹے پاؤں اپنے گھر لوٹ آیا اور جو کچھ ان لوگوں نے میرے بارے میں بکا تھا، اس کے لیے بہت دہشت زدہ تھا، یہاں تک کہ میں نے مسجد جا کر اپنے رب کا سجدہ کیا اور خاک پر اپنے چہرے کو رگڑا اور اپنے نفس کو ہلکا کرکے پیش کیا اور جس آواز سے مجھے پکارا گیا تھا، اس سے اظہار برات کیا، اگر حضرت عیسیٰ ؑ اس حد تک بڑھ جاتے، جو خدا نے ان کے لیے معین کی تھی تو وہ ایسے بہرے ہوگئے ہوتے کہ کبھی نہ سنتے، ایسے نابینا بن جاتے کہ کبھی کچھ نہ دیکھتے، ایسے گونگے بن جاتے کہ کبھی کلام نہ کرتے۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا: "خدا ابوالخطاب پر لعنت کرے اور اس کو تلوار کا مزہ چکھائے۔"(۵۱)

ابو عمرو کشی نے سعد سے روایت کی ہے، مجھ سے احمد بن محمد بن عیسیٰ، انہوں نے حسین ابن سعید بن ابی عمیر سے اور انہوں نے ہشام بن الحکم سے، انہوں نے امام صادق  ؑسے روایت کی کہ امام نے فرمایا: "خدا بنان اور سری بزیع پر لعنت کرے، وہ لوگ سر تا پا انسان کی حسین صورت میں درحقیقت شیطان تھے۔" روای کہتا ہے کہ میں نے آپ ؑ سے عرض کی کہ وہ اس آیت :’’ھوا لذی فی السماء الہ و فی الارض الہ‘‘ وہ، وہ زمین و آسمان کا خدا ہے۔"(۵۲) کی یوں تاویل کرتا ہے کہ آسمان کا خدا دوسرا ہے اور جو آسمان کا خدا ہے، زمین کا خدا نہیں ہے اور آسمان کا خدا، زمین کے خدا سے عظیم ہے اور اہل زمین آسمانی خدا کی فضلیت سے آگاہ ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں۔ امام صادقؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم ان دونوں کا خدا صرف ایک اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زمینوں اور آسمانوں کا رب ہے، بنان جھوٹ بول رہا ہے، خدا اس پر لعنت کرے، اس نے خدا کو چھوٹا کرکے پیش کیا اور اس کی عظمت کو حقیر سمجھا ہے۔"(۵۳)

کشی نے اپنی اسناد کے ساتھ امام صادق ؑسے روایت کی ہے کہ آپ نے اس قول پروردگار: ’’ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ٭ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍٍ۔‘‘(۵۴) "کیا ہم آپ کو بتائیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں، وہ ہر جھوٹے اور بدکردار پر نازل ہوتے ہیں" کے بارے میں فرمایا: "وہ (جھوٹے و بدکردار) لوگ سات ہیں: مغیرہ بن سعید، بنان، صائد، حمزہ بن عمار زبیدی، حارث شامی، عبداللہ بن عمرو بن حارث، ابواالخطاب۔"(۵۵) کشی نے حمدویہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے عبد الصمد بن بشیر سے، انہوں نے مصارف سے روایت کی ہے، جب کوفہ سے کچھ لوگ آئے تو میں نے جا کر امام صادق  ؑکو ان لوگوں کے آمد کی خبر دی، آپ فوراً سجدے میں چلے گئے اور زمین سے اپنے اعضاء چپکا کر رونے لگے اور انگلیوں سے اپنے چہرہ کو ڈھانپ کر فرما رہے تھے، نہیں بلکہ میں اللہ کا بندہ اس کا ذلیل و پست ترین بندہ ہوں اور اس کی تکرار کرتے جا رہے تھے، جب آپ نے سر اٹھایا تو آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا، جو آنکھوں سے چل کر ریش مبارک سے بہہ رہا تھا، میں اس خبر دینے پر نہایت شرمندہ تھا، میں نے عرض کی: یابن رسول اللہ ؐ ! میری جان آپ پر فدا ہو، آپ کو کیا ہوا اور وہ کون ہیں۔؟

آپ نے فرمایا: "مصادف! عیسیٰ کے بارے میں نصاریٰ جو کچھ کہہ رہے تھے، اگر اس کے سبب وہ خاموشی اختیار کر لیتے تو ان کا حق تھا کہ اپنی سماعت گنوا دیتے اور بصارت کھو دیتے، ابو الخطاب نے جو کچھ میرے بارے میں کہا، اگر اس کے سبب سکوت کر لوں اور اپنی سماعت و بصارت سے چشم پوشی کر لوں تو یہ میرا حق ہے۔"(۵۶) شیخ کلینی نے سدیر سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت امام صادق  ؑکی خدمت میں عرض کی کہ ایک گروہ ہے، جو اس بات کا عقیدہ رکھتا ہے کہ آپ ہی خدا ہیں اور اس کے ثبوت میں اس آیت :’’ھو الذی فی السماء الہ وفی الارض الہ۔‘‘(۵۷) کو ہمارے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ آپ ؑنے فرمایا: "سدیر! میری سماعت و بصارت، گوشت و پوست اور رواں رواں ان لوگوں سے بیزار ہے اور خدا بھی ان سے بیزار ہے، وہ لوگ میرے اور میرے آباء و اجداد کے دین پر نہیں ہیں، خدا کی قسم روز محشر خدا ان لوگوں کو ہمارے ساتھ محشور نہیں کرے گا، مگر یہ کہ وہ لوگ غضب و عذاب الہیٰ کا شکار ہوں گے۔"(۵۸)

روای کہتا ہے کہ میں نے عرض کی: اے فرزند رسول خدا ؐ ! ایک گروہ ایسا ہے، جو اس بات کا معتقد ہے کہ آپ رسولوں میں سے ہیں اور اس آیت کی تلاوت کرتے ہیں: ’’یٰٓاَ یُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْ اصَالِحًا ٭ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْم۔‘‘ ’’اے میرے رسولو! پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک اعمال انجام دو کہ میں تمہارے نیک اعمال سے خوب با خبر ہوں۔‘‘(۵۹) آپ نے فرمایا: "اے سدیر! میری سماعت و بصارت، گوشت و پوست اور خون ان لوگوں سے اظہار برات کرتے ہیں، یہ لوگ میرے اور میرے آباء و اجداد کے دین پر نہیں، خدا کی قسم روز محشر خدا ان لوگوں کو ہمارے ساتھ محشور نہیں کرے گا، مگر یہ کہ وہ لوگ عذاب و غضب الہیٰ کا شکار ہوں گے۔" روای کہتا ہے، میں نے عرض کی: فرزند رسول خدا پھر آپ کیا ہیں۔؟ آپ نے فرمایا: "علم الہیٰ کے خزانہ دار، احکام الہیٰ کے ترجمان اور معصوم قوم ہیں، اللہ نے ہماری اطاعت کا حکم دیا ہے اور ہماری نافرمانی سے منع کیا ہے، ہم زمین پر بسنے والے اور آسمان کے رہنے والوں کے لیے حجت کامل ہیں۔"(۶۰)

مغیرہ بن سعید غلو کرنے والے گروہ کا ایک فرد تھا، جو سحر و جادو کے ذریعے سادہ لوح اور عام فکر کے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتا تھا، پھر ان لوگوں کے لیے آئمہ اہل بیتؑ کے حوالے سے غلو کو آراستہ کر دیتا تھا۔ امام صادق ؑنے اس غالی شخص کی حقیقت اپنے اصحاب کے سامنے واضح کر دی۔ ایک دن اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا: "خدا مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے اور اس یہودیہ پر لعنت کرے، جس سے وہ مختلف قسم کے جادو، ٹونے اور کرتب سیکھتا تھا۔ مغیرہ نے ہماری طرف جھوٹی باتوں کو منسوب کیا ہے، جس کے سبب خدا نے اس سے نعمت ایمان کو لے لیا۔ ایک گروہ نے ہم پر جھوٹا الزام لگایا تو خدا نے ان کو تلوار کا مزہ چکھایا۔ خدا کی قسم ہم کچھ نہیں، صرف اللہ کے بندے ہیں۔ اس نے ہم کو خلق کیا اور انتخاب کیا، ہم کسی کے فائدہ اور نقصان پر قادر نہیں ہیں، اگر کچھ ہے تو رحمت الہیٰ ہے، اگر کوئی مستحق عذاب ہے تو اپنی غلطیوں کے سبب ہوگا۔ خدا کی قسم! خدا پر ہماری کوئی حجت نہیں، ہم مرنے والے ہیں، قبروں میں رہنے والے، محشور کیے جانے والے، واپس بلائے جانے والے، روکے جانے والے اور سوال کیے جانے والے ہیں۔ ان کو کیا ہوگیا ہے، خدا ان پر لعنت کرے، انہوں نے خدا کو اذیت دی اور رسول اکرمﷺ کو قبر میں اذیت دی اور امیر المومنین و فاطمہ زہراء، حسن، حسین بن علی کو اذیت دی ہے۔

آج کل تمہارے درمیان میں ہوں، جو رسول اکرم کا گوشت پوست ہوں، لیکن راتوں کو جب کبھی بستر استراحت پر جاتا ہوں تو خوف و ہراس کے عالم میں سوتا ہوں، وہ لوگ چین و سکون کے ساتھ خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں اور میں خوف و ہراس کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میں دہشت و جبل کے درمیان لرزہ بر اندام ہوں، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جو کچھ میرے بارے میں بنی اسد کے غلام اجرع براد اور ابوالخطاب نے کہا: خدا اس پر لعنت کر ے، خدا کی قسم اگر وہ لوگ ہمارا امتحان لیتے اور ہم کو اس کا حکم دیتے تو واجب ہے کہ اس کو قبول نہ کریں، آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ لوگ ہم کو خائف و ہراساں پا رہے ہیں۔؟ ہم ان کے خلاف اللہ کی مدد چاہتے ہیں اور ان سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں فرزند رسول ؐ خدا ہوں، اگر ہم نے آپﷺ کی اطاعت کی تو اللہ ہم پر رحمت نازل کرے اور اگر آپﷺ کی نافرمانی کی تو ہم پر شدید عذاب نازل کرے۔"(۶۱)

امام صادق ؑ نے غلاۃ کی جانب سے دی گئی ساری نسبتوں کی نفی کی ہے، مثلاً علم غیب، خلقت، تقسیم رزق وغیرہ۔ ابی بصیر سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق  ؑ سے عرض کی یا بن رسول اللہﷺ! وہ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ بارش کے قطرات، ستاروں کی تعداد، درختوں کے پتوں، سمندر کے وزن، ذرات زمین کا علم رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "سبحان اللہ! خدا کی قسم، خدا کے علاوہ کوئی بھی ان کا علم نہیں رکھتا۔" آپ سے کہا گیا کہ فلاں شخص آپ کے بارے میں کہتا ہے کہ آپ بندوں کے رزق تقسیم کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "ہم سب کا رزق صرف خدا کے ہاتھوں میں ہے، مجھ کو اپنے اہل و عیال کے لیے کھانے کی ضرورت پڑی تو میں کشمکش میں مبتلا ہوا، میں نے سوچ بچار کے ذریعے ان کی روزی فراہم کی، اس وقت میں مطمئن ہوا۔"

زرارہ سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق ؑسے عرض کی کہ عبد اللہ بن سبا کے فرزندوں میں سے ایک تفویض کا قائل ہے! آپ نے فرمایا: تفویض کا قائل ہے! آپ نے فرمایا: تفویض سے کیا مراد ہے۔؟ میں نے کہا: کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے محمد ؐو علی ؑ کو خلق کیا، اس کے بعد سارے امور ان کو تفویض (حوالے) کر دیئے، لہذا اب یہی لوگ رزق تقسیم کرتے ہیں اور موت و حیات کے مالک ہیں۔ آپ نے فرمایا: "وہ دشمن خدا جھوٹ بولتا ہے، جب تم اس کے پاس جانا تو اس آیت کی تلاوت کرنا:
’’ اَمْ جَعَلُوْ الِلّٰہِ شُرَکَآئَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَا بَہَ الخلْقُ عَلَیْھِمْ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ ھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھّار۔‘‘(۶۲) "یا ان لوگوں نے اللہ کے لیے ایسے شریک بنائے ہیں، جنہوں نے اس کی طرح کائنات خلق کی ہے اور ان پر خلقت مشتبہ ہوگئی ہے، کہہ دیجیے کہ اللہ ہی ہر شی کا خالق ہے، وہی یکتا اور سب پر غالب ہے۔‘‘ میں واپس گیا اور جو کچھ امام ؑنے فرمایا تھا، وہ پیغام سنا دیا تو گویا وہ پتھر کی طرح ساکت ہوگیا یا بالکل گونگا ہوگیا۔ مفضل روای ہیں کہ امام صادق ؑ نے ہم سے ابو خطاب کے اصحاب اور غلاۃ کے حوالے سے فرمایا: "اے مفضل! ان کے ساتھ نشست و برخاست نہ کرو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے میل جول نہ رکھو، نہ ان کے وراث بنو اور نہ ان کو اپنا وارث بناؤ۔"(۶۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ الصحاح: ج ۴، ص۲۴۴۸۔۲۴۴۹، تاج العروس، ج۱۰، ص۲۶۹۔۲۷۰مفردات القرآن: ج۲، ص۷۶۳
۲۔ التفسیر الکبیر، ج۱۲، ص۶۲، لسان العرب، ج۷، ص۳۶۸، فیروز آبادی، قاموس المحیط، ج۲
۳۔ طبرسی، مجمع البیان، ج۲، ص۲۳۰
۴۔ ابو الحسن اصفہانی، صراط النجاۃ، ج ۱، ص۷۷، خمینی، تحریر الوسیلہ، ج،۱، ص۱۱۸، جعفر سبحانی، کلیات فی علم الرجال، ص۴۰۹
۵۔ سورۂ النساء، آیت۱۷۱
۶۔ طبری، جامع البیان، ج ۶، ص۲۴۔۲۵ شیخ طوسی، التبیان ج۳، ص۳۹۹۔۴۰۳ ابن کیثر، تفسیر القرآن العظیم، ج،۱، ص۵۸۹۔۵۹۰، ابو حیان البحر المحیط، ج۳، ص، ۴۰۰،۴۰۲
۷۔ طبرسی، مجمع البیان، ج۲، ص۱۴۴
۸۔ ابو الفتوح رازی تفسیر شیخ ابو الفتواح رازی: ج۴، ص۷۷۔۷۹، طبرسی، مجمع البیان، ج۲، ص۱۴۴
۹۔ قرطبی، الجامع، ج۶، ص۲۱، طبرسی، مجمع البیان ج۲، ص۱۴۴
۱۰۔ ابو حیان، البحر المحیط، ج۳، ص۴۰۰،۴۰۲، تفسیر شیخ ابو الفتوح رازی۔ ج،۴ ص۷۷۔۷۹
۱۱۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج،۱، ص۵۸۹۔۵۹۰
۱۲۔ سورہ ٔمائدہ؍۷۷
۱۳۔ ابن کثیر تفسیرالقرآن العظیم، ج۲، ص۸۲، طبری جامع البیان: ج ۶، ص۲۰۴، قرطبی الجامع: ج۶، ص۲۵۳، کاشانی، منہج الصادقین، ج۳، ص۲۸۸
۱۴۔ سورۂ توبہ،۳۰
۱۵۔ سورۂ توبہ،۳۰
۱۶۔ سورۂ مائدہ،۷۲
۱۷۔ صحیح البخاری، باب المناقب
۱۸۔ بحار: ج ۲۵، ص۲۶۲، الدرالمنثور: ج۲، ص۴۶،۴۷ مجمع البیان: ج ۱، ص۴۶۶
۱۹۔ بحار ج،۲۵، ص۲۶۵
۲۰۔ بحار ج ۲۵، ص۲۶۸۔۲۶۹، حمیری قرب الاسناد، ص۳۱، صدوق، خصال، ج،۱ ص۶۳
۲۱۔ بحار الانوار، ج۲۵، ص۳۴۶
۲۲۔ اعتقادات۔ ص۷۱
۲۳۔ تصحیح الاعتقاد، ص۱۰۹
۲۴۔ انوار الملکوت: ص۲۵۲
۲۵۔ المعتبر، ج،۱، ص۹۸
۲۶۔ مستند الشیعہ، ج،۱، ص۲۰۴
۲۷۔ مستند الشیعہ، ج،۱، ص۲۰۴
۲۸۔ مصباح الفقیہ: ج۹، ص۵۶۸
۲۹۔ تحریر الوسیلہ ج۱، ص۱۱۸
۳۰۔ رجال کشی، ج،۱، ص۲۲۳ شمارہ ۱۷۰۰؛ رجال طوسی، ص۵۱، رجال ابن داود، ص۲۵۴
۳۱۔ بحار، ج۲۵، ص۲۶۶۔۲۶۵ ابن شاذان، ایضاح دفائن النواصب، ص۳۳
۳۲۔ بحار، ج،۲۵، ص۲۸۵، مناقب ابن شہر آشوب، ج،ا، ص۲۶۴
۳۳۔ امالی شیخ طوسی، ص۶۵۴، بحار ج ۲۵، ص۲۶۶، مناقب ابن شہر آشوب، ج،۱، ص۲۶۳
۳۴۔ بحار، ج،۲۵، ص،۲۷۰، خصال، ج۲، ص۶۱۴
۳۵۔ اصول کافی، ج،۱، ص۸۹
۳۶۔ الکامل: ج ۳، ص۱۵۴، تہذیب تاریخ ابن عساکر، ج۷، ص۴۲۸۔ تاریخ طبری۔ ج۲، ص۶۴۸
۳۷۔ رجال کشی: ج۱، ص۳۲۳۔ بحار ج۲۵، ص۲۸۶، قاموس الرجال ج ۵، ص۴۶۱
۳۸۔ رجال کشی: ج۱، ص۳۲۵، شرح نہج البلاغہ (حدیدی) ج ۵، ص،۵ الوافی ج ۲، ابواب الحدود، ص۷۰
۳۹۔ بحار ج ۲۵، ص۲۸۵، مستدرک الوسائل: ج ۳، ص۳۴۳، مناقب شہر آشوب، ج۱، ص۲۶۵
۴۰۔ رجال کشی: ج۱، ص۳۳۶، بحار ج۲۵، ص۲۸۳، منھج المقال ص۳۵۵
۴۱۔ بحار، ج،۲۵، ص۳۱۸۔۳۱۹، رجال کشی ج ۲، ص۸۱۰۔۸۱۱، قاموس الرجال ج۸، ص۴۰۱
۴۲۔ الانساب ج۵، ص۱۶۱، الکنی والا لقاب ج۱، ص۶۴
۴۳۔ الملل ونحل: ج۱، ص،۱۳۶،۱۳۷، الفریق بین الفرق، ص۱۵۰۔ منہاج السنۃ، ج،۱، ص۲۳۹
۴۴۔ فرق الشیعہ ص۶۹،۱۰۵۔ مقالات الاسلامیین ج،۱، ص۷۷، الفرق المتفرقہ ص۴۲
۴۵۔ المقالات والفرق، ص۸۱۔۸۲ فرق الشیعہ، ص۱۰۳، ۱۰۵
۴۶۔ مقیاس الھدایۃ ص۸۹، رجال کشی ج۲، ص۵۹۰، بحار ج۲۵، ص۲۷۱،۲۷۰
۴۷۔ الانساب ج۲، ص۳۸۶،۳۸۱؛ قاموس الرجال ج۲، ص۴۶۔۲۴۷
۴۸۔ الفرق الاسلامیہ ص۳۵
۴۹۔ فرق الشیعہ ص۸۵، الملل والنحل ج۱، ص۱۱۴ قاموس الرجال، ج۲، ص۲۴۷
۵۰۔ الکامل: ج ۵، ص۲۰۸، المقالات والفرق، ص۳۳، فرق الشیعہ ص۵۰
۵۱۔ الکافی، ج۸، ص۲۲۶
۵۲۔ سورہ زخرف،۸۴ 
۵۳۔ رجال کشی، ج۴، ص،۵۹۲
۵۴۔ سورئہ شعراء آیت ۲۲۲،۲۲۳
۵۵۔ اصول کافی، ج،۱، ص۲۶۹
۵۶۔ رجال کشی، ج۴، ص۵۸۸
۵۷۔ سورئہ زخرف، آیت۸۲
۵۸۔ مقیاس الہدایۃ، ص۸۹، رجال کشی، ج۲، ص۵۹۴، بحار ج۲۵، ص۲۹۸
۵۹۔ سورہ مومنون، آیت ۵۱
۶۰۔ اصول کافی، ج۱، ص۲۶۹
۶۱۔ رجال کشی، ج۲، ص۴۹۱،۴۹۲، بحار الانوار، ج۲۵، ص۲۸۹۔۲۹۰
۶۲۔ سورئہ رعد، آیت۱۶
۶۳۔ رجال کشی، ج۲، ص۵۸۶، بحار، ج۲۵، ص۲۹۶، تنقیع المقال، ج۳، باب مقاتل، ص۲۴۴
                                      ٭٭٭٭٭٭                
مراجع و مصادر:
۱۔ ابن شاذان، محمد بن احمد(نویں صدی) ایضاح دفائن النواصب والمناقب المائۃ النجف مکتبۃ الحیدریہ
۲۔ ابن شہر آشوب، محمد بن علی (م،۵۸۸)المناقب، قم، موسسہ انتشارات علاقہ
۳۔ ابن عساکر، علی بن حسن (م،۵۷۱) تاریخ مدینہ دمشق، دار البشیر
۴۔ ابن کثیر، اسماعیل بن عمر (ما۔۷۷۴ھ) تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارلفکر،۱۹۷۰ء 
۵۔ ابن منظور، محمد بن مکرم (م۔۷۱۱ھ) لسان العرب، قم، نشر ادب الحوزہ، ۱۴۰۵ہجری
۶۔ ابوحیان، محمد بن یوسف (م۔۷۵۴) تفسیر البحر المحیط ، ۱۴۰۳ہجری ۔۱۹۸۳ء بیروت دارلفکر
۷۔ استر آبادی، محمد بن علی (م۱۰۳۸) نہج المقال فی تحقیق احوال الرجال، تعلیق 
۸۔ محمد باقر بن محمد اکمل، مطبعہ محمد حسین طہرانی، ۱۳۰۰ہجری
۹۔ اشعری سعد بن عبداللہ، (م،۳۰۱) المقالات والفرق، تصحیح و تعلیق محمد جواد مشکور مرکز انتشارات علمی و فرہنگی 1361 ہجری تیسری بار اشاعت)
۱۰۔ اصفہانی ابو الحسن (۱۳۲۵) صراط النجاۃ، حاشیہ ابراہیم حسینی اصطھباناتی تصحیح ابوا القاسم شرافت، تہران چاپ خانہ اسلامیہ ۱۳۷۷ء ہجری اشاعت دہم 
۱۱۔ بخاری، محمد بن اسماعیل (م۔۲۵۶) صحیح البخاری شرح و تحقیق شیخ قاسم اشمای الرفاعی، بیروت، دارالقلم لبقہ الاولی ۱۹۸۷ء
۱۲۔ تستری، محمد تقی، قاموس الرجال، تہران مرکز نشر الکتاب۱۳۸۲ ہجری
۱۳۔ جوہری، اسماعیل بن حماد (م۳۹۳) الصحاح تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ انتشارات امیری، ۱۳۶۸ش، اشاعت اول
۱۴۔ حمیری عبداللہ بن جعفر (تیسری صدی) قرب الاسناد تہران مکتبۃ نینوی الحدیثہ 
۱۵۔ خمینی، روح اللہ (م۔۱۴۱۰ہجری) تحریر الوسیلہ، بیروت، دارالانوار، ۱۴۰۳ ہجری ۱۹۸۲ء رازی فخرالدین (م۔۶۰۶) التفسیر الکبیر
۱۶۔ زبیدی واسطی، محمد مرتضیٰ (م۱۲۰۵) تاج العروس من جواہر القاموس، بیروت، دامکتبہ الحیاۃ، ۱۳۰۶ اشاعت اول
۱۷۔ سبحانی، جعفر کلیات فی علم الرجال، قم مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم ۱۴۰۸ ہجری اشاعت دوم
۱۸۔ سمعانی، عبدالکریم بن محمد (م۔۵۶۲) الانساب، حیدر آباد دکن، مجلس دائرۃ المعارف
۱۹۔ سیوطی، جلال الدین (م،۹۱۱) الدارالمنثور فی التفسیر بائما ثور قم، مکتبہ اللہ العظمیٰ النجفی ۱۴۰۴ ہجری
۲۰۔ شہرستانی، محمد بن عبد الکریم (م۵۴۸) الملل والنحل، لاییزیک، اتوھا راس وتیز۱۹۲۳ء
۲۱۔ صدوق، محمد بن علی (م۳۸۱) الخصال، تصحیح و تعلیق علی اکبر غفاری، قم جماعۃ المدرسین فی الحوزہ العلمیہ، ۱۴۰۳ہجری
۲۲۔ طباطبائی، محمد حسین (م۱۴۰۲) المیزان فی تفسیر القرآن، تہران دارالکتب الاسلامیہ ۱۳۸۹ہجری دوسری اشاعت
۲۴۔ طبرسی، فضل بن حسن (م ۵۴۸) مجمع البیان فی تفسیر القرآن، قم، مکتبہ آیۃ اللہ العظمیٰ المرعشی النجفی ۱۴۰۳ہجری 
۲۵۔ طبری، محمد بن جریر(م۳۱۰) جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارا المعرفہ ۱۳۹۸ھ
۲۶۔ طوسی، محمد بن حسن (م۴۶۰) التبیان، تحقیق و تصحیح احمد حبیب قیصر عاملی، بیروت ۱۹۷۸ء تیسری اشاعت
۲۷۔ فیروز آبادی، محمد بن یعقوب (م۸۱۷) القاموس المحیط، بیروت دارالجلیل 
۲۸۔ قرطبی، محمد بن احمد (م۶۷۱) الجامع لا حکام القرآن، دار الکتاب العربی ۱۳۸۷ھ ۔۱۹۶۷ء تیسری اشاعت
۲۹۔ قمی، عباس (م۱۳۱۹) الکنی والاتعاب، نجف منشورات مطبعہ حیدریہ، ۱۳۸۹، ہجری ۱۹۴۹ء
۳۰۔ کلینی، محمد بن یعقوب (م۳۲۹) الکافی، تصحیح، تعلیق علی اکبر غفاری، دارالکتب الاسلامیہ، تیسری اشاعت
۳۱۔ مبرد محمد بن یزید (م۲۸۵) الکامل تعلیق، محمد ابو الفضل ابراہیم فجالہ مکتبہ نہضۃ مصر ومطبعتھا
۳۲۔ مجلسی محمد باقر (م۔۱۱۱۱) بحار الانوار الجامعۃ لدرا الاخبار آئمۃ الاطہار، بیروت موسسہ الوفا ۱۴۰۳ ہجری ۱۹۸۳ء دوسری اشاعت
۳۳۔ کاشانی فتح اللہ (۹۸۸) منہج الصادقین فی الزام المخالفین متدم و حاشیہ ابوالحسن مرتضوی، تصحیح علی اکبر غفاری انتشارات علمیہ اسلامیہ 

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...