ڈاکٹر نذر حافی
تدبیرِ کے بغیر کسی
بھی تحریک و مقصد کو زوال سے نہیں بچایا
جا سکتا۔ ایسے بچاو کی تدبیر کو اسٹریٹیجک
پالیسی کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسی منصوبہ
بندی ہے
جو کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لمبے عرصے کی سوچ، حکمتِ عملی اور حالات
کے مطابق سمجھداری سے کیے گئے فیصلوں پر مبنی ہو۔
یعنی یہ وہ پالیسی ہوتی ہے جو صرف فوری ردِعمل نہیں ہوتی
بلکہ مستقبل کو دیکھ کر سوچ سمجھ کر بنائی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے مقصد یا فائدے کو
حاصل کیا جا سکے۔ اس پالیسی کے باعث ظاہری
خاموشی، باطنی صداقت کی محافظ بن جاتی ہے۔ اسی پالیسی کو اسلامی اصطلاح میں تقیّہ
کہتے ہیں۔
تقیہ کی تاریخ انسانی زندگی جتنی قدیم ہے، کیونکہ جب بھی
انسان ظالموں اور جابروں کے ظلم کا شکار ہوئے، تو انہوں نے اپنی جان و مال کی
حفاظت اور فردی و اجتماعی مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس وقت تک جب تک وہ اپنے
دشمنوں کے مقابلے کے لیے کافی طاقت اور اقتدار حاصل نہ کر لیں، اپنے حقیقی عقائد
کے برخلاف نظریات کا اظہار کرنے یا بعض اعمال انجام دینے پر مجبور ہونا پڑا۔جیساکہ
حضرت ابراہیم ؐ نے بھی کیا۔ قرآنِ کریم کی
سورۂ صافات (37)، آیات 88 تا 90 میں حضرت ابراہیم کے تقیہ کی طرف اشارہ کیا گیا
ہے۔ آپؑ نے مشرکین کے عید کے اجتماع میں شرکت نہ کرنے اور ان کی غیر موجودگی میں
بتوں کو توڑنے کے ارادے سے آسمان کے ستاروں کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"پھر انہوں نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی، اور
کہا: بے شک میں بیمار ہوں۔ پھر وہ لوگ ان سے منہ موڑ کر چلے گئے۔" (سورۂ صافات 88-90)
اس زمانے میں لوگ ستاروں سے آئندہ حالات کا اندازہ لگاتے
تھے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے ستاروں کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ "میں بیمار
ہوں"، تو مشرکین نے سمجھا کہ ستاروں نے ان کی بیماری کی خبر دی ہے، اس لیے وہ
انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔
بعض روایات میں امام جعفر صادق نے ان آیات کا حوالہ دیتے
ہوئے فرمایا ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیمؑ حقیقتاً بیمار نہ تھے، لیکن یہ عمل تقیہ کی
ایک مثال تھا، اور تقیہ کو دینِ الٰہی کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[1]بعد ازاں جب حضرت ابراہیمؑ
نے بتوں کو توڑ دیا اور لوگوں نے پوچھا: "اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے
معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟"
تو آپؑ نے فرمایا: "بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے بت نے
کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔"
(سورۂ انبیاء 62-63)
چنانچہ "میں بیمار ہوں" کے بارے میں یہ وضاحت
کی گئی ہے کہ یا تو آپؑ مستقبل میں بیمار ہونے والے تھے، یا آپؑ کا مطلب روحانی
اور فکری طور پر بت پرستی سے بیزاری تھا، یا مشرکین کی نظر میں آپؑ ان کے مذہب کی
مخالفت کی وجہ سے "بیمار" سمجھے جاتے تھے۔
اس طرح شیعہ تفاسیر اور اہلِ بیتؑ کی روایات کے مطابق
حضرت ابراہیمؑ کے یہ اقوال جھوٹ نہیں تھے، بلکہ توریہ اور تقیہ کی صورتیں تھیں جو
ایک عظیم دینی مقصد، یعنی شرک کے خلاف جدوجہد، کے لیے اختیار کی گئیں۔
قرآن مجید نے سراحتاً
حضرت یوسف ؑ کے بارے میں بھی کہا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بنیامین کو
اپنے پاس رکھنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی۔ جب انہوں نے اپنے بھائیوں کو ان کا
سامان دے کر روانہ کیا تو بادشاہ کا پیمانہ (پیالہ) بنیامین کے سامان میں رکھ دیا۔
پھر ایک منادی نے آواز دی:"اے قافلے والو! تم لوگ یقیناً چور ہو۔" (سورۂ
یوسف، آیت 70)
حالانکہ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے اس پیالے کی چوری نہیں
کی تھی، لیکن ان پر سرقہ کا الزام لگایا گیا۔امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے
منقول روایات میں اس واقعے کو تقیہ کی مثالوں میں شمار کیا گیا ہے[2] اور اس بات کی نفی کی گئی
ہے کہ اس میں کوئی جھوٹ شامل تھا۔[3]
علاوہ ازیں قرآنِ کریم میں ایک ایسے شخص کا ذکر آیا ہے
جو فرعون کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا:
"اور فرعون کے خاندان کا ایک مومن شخص،
جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بولا: کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو
جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟" (سورۂ غافر، آیت 28)
امام جعفر صادق سے منقول ایک روایت کے مطابق مؤمنِ آلِ
فرعون کا اپنے ایمان کو چھپانا تقیہ کی بنا پر تھا۔ یعنی وہ خطرناک حالات میں اپنے
عقیدے کو مخفی رکھتے تھے تاکہ مناسب وقت آنے تک اپنی جان محفوظ رکھ سکیں اور حق کی
حمایت جاری رکھیں۔[4]اس
واقعے کو تقیہ کی ایک اہم قرآنی مثال سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مؤمنِ آلِ فرعون نے
اپنے ایمان کو چھپانے کے باوجود موقع آنے پر حضرت موسیٰ کی حمایت کی اور فرعون کے
دربار میں حق بات کہنے کا حوصلہ دکھایا۔
مذکورہ بالا
واقعات کے علاوہ قرآنِ کریم کی سورۂ کہف، آیات 19-20 میں اصحاب کہف کے
تقیہ کو بیان کیا گیا ہے۔جب اصحابِ کہف غار میں پناہ لینے کے
بعد بیدار ہوئے اور انہیں خوراک کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں میں سے
ایک کو شہر بھیجا اور اسے ہدایت کی:
"تم میں سے ایک شخص یہ چاندی کے سکے لے کر شہر جائے،
پھر دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے، وہاں سے تمہارے لیے کچھ رزق لے آئے،
اور اسے چاہیے کہ نہایت احتیاط اور نرمی سے کام لے اور تمہارے بارے میں کسی کو خبر
نہ ہونے دے۔ بے شک اگر وہ تم پر مطلع ہو گئے تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں
دوبارہ اپنے دین میں لوٹا دیں گے، اور پھر تم کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔"
(سورۂ کہف 19-20)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اپنے ایمان کی
حفاظت کے لیے اپنی شناخت اور عقیدے کو مخفی رکھتے تھے، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ
اگر ظالم اور کافر حکمران ان تک پہنچ گئے تو یا تو انہیں قتل کر دیں گے یا زبردستی
اپنے مذہب کی طرف واپس لے جائیں گے۔
امام جعفر صادق نے ایک روایت میں فرمایا کہ مؤمنوں کے
درمیان اصحابِ کہف کی تقیہ سب سے اعلیٰ اور کامل تقیہ تھی۔ آپؑ کے مطابق ان کا
تقیہ اس حد تک تھا کہ وہ بظاہر مشرکین کے ساتھ شریک ہوتے، ان کی عیدوں میں شرکت
کرتے اور زنّار (ایک مخصوص پٹی یا کمر بند جو بعض غیر مسلم مذہبی گروہوں کی علامت
سمجھی جاتی تھی) بھی باندھتے تھے، تاکہ ان کی حقیقی ایمانی شناخت ظاہر نہ ہو۔[5]
اس روایت کے مطابق اصحابِ کہف نے اپنے ایمان کی حفاظت
اور دین پر ثابت قدم رہنے کے لیے انتہائی درجے کی احتیاط اختیار کی، یہاں تک کہ
ظاہری طور پر اپنے ماحول کے لوگوں جیسے نظر آتے تھے، جبکہ ان کے دل توحید اور
ایمان پر قائم تھے۔
یہ
طرزِ عمل اسلام کے ظہور تک جاری رہا۔ پیغمبر اکرم نے بھی اپنی بعثت کے ابتدائی دور
میں تقریباً تین سال تک مشرکین کے مقابلے میں تقیہ اختیار کیا اور اپنی دعوت کو
مخفی رکھا۔اسی طرح آپؐ کے صحابہ بھی اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرتے تھے اور پوشیدہ
طور پر نماز ادا کرتے تھے۔[6]تقیہ کی شرعی حیثیت اور جواز
کے اہم ترین دلائل میں سے بعض آیاتِ قرآن ہیں۔ امام خمینی نے بھی دیگر فقہاء کی
طرح ان آیات سے استدلال کیا ہے۔ان آیات میں سے ایک یہ ہے:
"جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کا
انکار کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کر دیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،
لیکن جو دل کھول کر کفر کو قبول کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے
لیے بڑا عذاب ہے۔" (سورۂ نحل، آیت 106)
مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت اسلام کے ابتدائی دور
میں حضرت عمار بن یاسرؓ کے واقعے کے بارے
میں نازل ہوئی۔ مشرکین نے انہیں سخت اذیتیں اور تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے
میں انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے ظاہری طور پر ایمان کا انکار کیا اور کفر کے
کلمات زبان پر جاری کیے، حالانکہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح قائم تھا۔جب یہ
معاملہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپؐ نے عمار کے اس عمل کی تائید فرمائی
اور فرمایا کہ اگر دوبارہ ایسی ہی مجبوری پیش آئے تو وہ اسی طرح عمل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح سورۂ آلِ عمران کی آیت 28 تمام مسلمانوں کے لیے ایک عمومی ہدایت ہے:
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ
مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ
وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ
تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ
اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى
اللَّهِ الْمَصِيرُ
"مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا
کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر
اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم
کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے۔
اس آیت کے مطابق
اہلِ ایمان کو کفار کے ساتھ ایسی دوستی اور اطاعت اختیار کرنے کی اجازت نہیں جو
دین کے خلاف ہو، مگر ایسی صورت میں جب انہیں ان سے حقیقی خطرہ ہو اور وہ ان کے شر
سے محفوظ نہ ہوں۔ ایسی حالت میں تقیہ کرنا جائز ہے۔احادیث میں بھی تقیہ کے جواز یا
بعض مواقع پر اس کے وجوب کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کی دیگر آیات سے استدلال کیا
گیا ہے۔
تقیہ کے جواز کی ایک اور اہم دلیل وہ احادیث ہیں جو
صراحت کے ساتھ تقیہ کو جائز قرار دیتی ہیں۔ ان روایات میں بعض حالات میں جان، مال
اور دین کی حفاظت کے لیے تقیہ اختیار کرنے کی اجازت بلکہ بعض اوقات اس کی تاکید
بھی کی گئی ہے۔
پیغمبرِ اسلام ؐ کے بعد
شیعہ حضرات چونکہ ایسے ظالم حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہے جو صرف شیعہ ہونے
کی وجہ سے ان کی جان و مال پر حملہ کرتے تھے، اس لیے وہ اکثر تقیہ اختیار کرنے پر
مجبور ہوتے تھے۔ اموی اور عباسی حکومتوں کے زمانے اور بعد کے ادوار میں بھی شیعہ
شدید دباؤ، ظلم اور استبداد کا شکار رہے۔
اسی وجہ سے ائمہ معصومین شیعوں کی جان و مال کی حفاظت
اور شیعہ مذہب کے تحفظ کے لیے انہیں تقیہ کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔دوسری طرف،
شیعوں کے نزدیک تقیہ اس بات کی علامت تھا کہ اس دور کے حکمران جابر اور آمرانہ
طرزِ حکومت رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر شیعوں کو اپنی جان و مال اور عقیدے کے بارے
میں اطمینان اور تحفظ حاصل ہوتا تو وہ تقیہ اختیار نہ کرتے۔
یہ محتاط طرزِ عمل صرف شیعوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ
اسلامی تاریخ میں دیگر فرقے اور تحریکیں بھی جب حکمرانوں کی طرف سے خطرات اور دباؤ
کا سامنا کرتی تھیں تو وہ بھی اسی حکمتِ عملی، یعنی تقیہ یا اپنے عقائد کو مخفی
رکھنے، سے کام لیتی تھیں۔
المختصر یہ کہ
تقیہ اسلامی فکر میں ایک عارضی، تدبیری اور اسٹریٹیجک حکمتِ عملی کے طور پر
سامنے آتا ہے جو غیر معمولی جبر، خطرے اور عدم تحفظ کے حالات میں ایمان، جان اور
دینی شناخت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ قرآن و سنت اور انبیاء و اولیاء کی سیرت سے
یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ دین کا مقصد صرف اظہارِ حق نہیں بلکہ اس کی بقا اور تسلسل
بھی ہے۔ اسی لیے جب کھلا اظہارِ عقیدہ فوری نقصان یا دینی مقصد کے زوال کا سبب بنے
تو حکمت کے ساتھ وقتی اخفاء اختیار کیا جا سکتا ہے، تاکہ حالات سازگار ہونے پر حق
کا مؤثر اور پائیدار اظہار ممکن ہو سکے۔ اس تناظر میں تقیہ دراصل دین کی بقا،
کمزور مؤمنوں کے تحفظ اور ظالمانہ نظاموں کے مقابلے میں ایک متوازن اسٹریٹیجک فریم
ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
[1] ابن
خالد البرقی (م ۲۷۴ ق)، المحاسن، ج۱،
ص۲۵۸، به کوشش حسینی، تهران، دارالکتب
الاسلامیة، ۱۳۲۶ ش.
[2] العیاشی
(م ۳۲۰ ق)، تفسیر العیاشی، ج۲،
ص۱۸۴، به کوشش رسولی محلاّتی، تهران، المکتبة
العلمیة الاسلامیة
[3] العروسی
الحویزی (م ۱۱۱۲ ق)، تفسیر نورالثقلین، ج۲،
ص۴۴۳، به کوشش رسولی محلاتی، اسماعیلیان، ۱۳۷۳ش.
[4] الطبرسی
(م ۵۴۸ ق)، مجمع البیان، ج۸،
ص۴۳۷، به کوشش گروهی از علماء، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۵
ق.
[5] النوری
(م ۱۳۲۰ ق)، مستدرک الوسائل، ج۱۲،
ص۲۷۲، بیروت، آل البیت (علیهمالسلام) لاحیاء
التراث، ۱۴۰۸ ق.
[6] بلاذری،
انساب الاشراف، ۱/۱۱۶









