زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

اتوار، 31 مئی، 2026

اسلامی تاریخ میں مذہبی تحفظ کی اسٹریٹیجک پالیسی کا مطالعہ

 اسلامی تاریخ میں مذہبی تحفظ کی اسٹریٹیجک پالیسی کا مطالعہ

ڈاکٹر نذر حافی

تدبیرِ کے بغیر  کسی بھی تحریک و  مقصد کو زوال سے نہیں بچایا جا سکتا۔ ایسے بچاو کی  تدبیر کو اسٹریٹیجک پالیسی  کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسی منصوبہ بندی  ہے  جو کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لمبے عرصے کی سوچ، حکمتِ عملی اور حالات کے مطابق سمجھداری سے کیے گئے فیصلوں پر مبنی ہو۔ یعنی یہ وہ پالیسی ہوتی ہے جو صرف فوری ردِعمل نہیں ہوتی بلکہ مستقبل کو دیکھ کر سوچ سمجھ کر بنائی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے مقصد یا فائدے کو حاصل کیا جا سکے۔  اس پالیسی کے باعث ظاہری خاموشی، باطنی صداقت کی محافظ بن جاتی ہے۔ اسی پالیسی کو اسلامی اصطلاح میں تقیّہ کہتے ہیں۔

تقیہ کی تاریخ انسانی زندگی جتنی قدیم ہے، کیونکہ جب بھی انسان ظالموں اور جابروں کے ظلم کا شکار ہوئے، تو انہوں نے اپنی جان و مال کی حفاظت اور فردی و اجتماعی مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس وقت تک جب تک وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے کے لیے کافی طاقت اور اقتدار حاصل نہ کر لیں، اپنے حقیقی عقائد کے برخلاف نظریات کا اظہار کرنے یا بعض اعمال انجام دینے پر مجبور ہونا پڑا۔جیساکہ حضرت ابراہیم ؐ نے بھی کیا۔  قرآنِ کریم کی سورۂ صافات (37)، آیات 88 تا 90 میں حضرت ابراہیم کے تقیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آپؑ نے مشرکین کے عید کے اجتماع میں شرکت نہ کرنے اور ان کی غیر موجودگی میں بتوں کو توڑنے کے ارادے سے آسمان کے ستاروں کی طرف دیکھا اور فرمایا:

 "پھر انہوں نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی، اور کہا: بے شک میں بیمار ہوں۔ پھر وہ لوگ ان سے منہ موڑ کر چلے گئے۔"  (سورۂ صافات 88-90)

اس زمانے میں لوگ ستاروں سے آئندہ حالات کا اندازہ لگاتے تھے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے ستاروں کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ "میں بیمار ہوں"، تو مشرکین نے سمجھا کہ ستاروں نے ان کی بیماری کی خبر دی ہے، اس لیے وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔

بعض روایات میں امام جعفر صادق نے ان آیات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیمؑ حقیقتاً بیمار نہ تھے، لیکن یہ عمل تقیہ کی ایک مثال تھا، اور تقیہ کو دینِ الٰہی کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[1]بعد ازاں جب حضرت ابراہیمؑ نے بتوں کو توڑ دیا اور لوگوں نے پوچھا: "اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟"

تو آپؑ نے فرمایا: "بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔"

 (سورۂ انبیاء 62-63)

چنانچہ "میں بیمار ہوں" کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یا تو آپؑ مستقبل میں بیمار ہونے والے تھے، یا آپؑ کا مطلب روحانی اور فکری طور پر بت پرستی سے بیزاری تھا، یا مشرکین کی نظر میں آپؑ ان کے مذہب کی مخالفت کی وجہ سے "بیمار" سمجھے جاتے تھے۔

اس طرح شیعہ تفاسیر اور اہلِ بیتؑ کی روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کے یہ اقوال جھوٹ نہیں تھے، بلکہ توریہ اور تقیہ کی صورتیں تھیں جو ایک عظیم دینی مقصد، یعنی شرک کے خلاف جدوجہد، کے لیے اختیار کی گئیں۔

قرآن مجید نے سراحتاً  حضرت یوسف ؑ کے بارے میں بھی کہا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی۔ جب انہوں نے اپنے بھائیوں کو ان کا سامان دے کر روانہ کیا تو بادشاہ کا پیمانہ (پیالہ) بنیامین کے سامان میں رکھ دیا۔ پھر ایک منادی نے آواز دی:"اے قافلے والو! تم لوگ یقیناً چور ہو۔" (سورۂ یوسف، آیت 70)

حالانکہ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے اس پیالے کی چوری نہیں کی تھی، لیکن ان پر سرقہ کا الزام لگایا گیا۔امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے منقول روایات میں اس واقعے کو تقیہ کی مثالوں میں شمار کیا گیا ہے[2] اور اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ اس میں کوئی جھوٹ شامل تھا۔[3]

علاوہ ازیں قرآنِ کریم میں ایک ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو فرعون کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا:

"اور فرعون کے خاندان کا ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بولا: کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟" (سورۂ غافر، آیت 28)

امام جعفر صادق سے منقول ایک روایت کے مطابق مؤمنِ آلِ فرعون کا اپنے ایمان کو چھپانا تقیہ کی بنا پر تھا۔ یعنی وہ خطرناک حالات میں اپنے عقیدے کو مخفی رکھتے تھے تاکہ مناسب وقت آنے تک اپنی جان محفوظ رکھ سکیں اور حق کی حمایت جاری رکھیں۔[4]اس واقعے کو تقیہ کی ایک اہم قرآنی مثال سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مؤمنِ آلِ فرعون نے اپنے ایمان کو چھپانے کے باوجود موقع آنے پر حضرت موسیٰ کی حمایت کی اور فرعون کے دربار میں حق بات کہنے کا حوصلہ دکھایا۔

مذکورہ بالا  واقعات کے علاوہ قرآنِ کریم کی سورۂ کہف، آیات 19-20 میں اصحاب کہف کے تقیہ  کو بیان  کیا گیا ہے۔جب اصحابِ کہف غار میں پناہ لینے کے بعد بیدار ہوئے اور انہیں خوراک کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک کو شہر بھیجا اور اسے ہدایت کی:

"تم میں سے ایک شخص یہ چاندی کے سکے لے کر شہر جائے، پھر دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے، وہاں سے تمہارے لیے کچھ رزق لے آئے، اور اسے چاہیے کہ نہایت احتیاط اور نرمی سے کام لے اور تمہارے بارے میں کسی کو خبر نہ ہونے دے۔ بے شک اگر وہ تم پر مطلع ہو گئے تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں دوبارہ اپنے دین میں لوٹا دیں گے، اور پھر تم کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔" (سورۂ کہف 19-20)

 

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی شناخت اور عقیدے کو مخفی رکھتے تھے، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر ظالم اور کافر حکمران ان تک پہنچ گئے تو یا تو انہیں قتل کر دیں گے یا زبردستی اپنے مذہب کی طرف واپس لے جائیں گے۔

امام جعفر صادق نے ایک روایت میں فرمایا کہ مؤمنوں کے درمیان اصحابِ کہف کی تقیہ سب سے اعلیٰ اور کامل تقیہ تھی۔ آپؑ کے مطابق ان کا تقیہ اس حد تک تھا کہ وہ بظاہر مشرکین کے ساتھ شریک ہوتے، ان کی عیدوں میں شرکت کرتے اور زنّار (ایک مخصوص پٹی یا کمر بند جو بعض غیر مسلم مذہبی گروہوں کی علامت سمجھی جاتی تھی) بھی باندھتے تھے، تاکہ ان کی حقیقی ایمانی شناخت ظاہر نہ ہو۔[5]

اس روایت کے مطابق اصحابِ کہف نے اپنے ایمان کی حفاظت اور دین پر ثابت قدم رہنے کے لیے انتہائی درجے کی احتیاط اختیار کی، یہاں تک کہ ظاہری طور پر اپنے ماحول کے لوگوں جیسے نظر آتے تھے، جبکہ ان کے دل توحید اور ایمان پر قائم تھے۔

 یہ طرزِ عمل اسلام کے ظہور تک جاری رہا۔ پیغمبر اکرم نے بھی اپنی بعثت کے ابتدائی دور میں تقریباً تین سال تک مشرکین کے مقابلے میں تقیہ اختیار کیا اور اپنی دعوت کو مخفی رکھا۔اسی طرح آپؐ کے صحابہ بھی اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرتے تھے اور پوشیدہ طور پر نماز ادا کرتے تھے۔[6]تقیہ کی شرعی حیثیت اور جواز کے اہم ترین دلائل میں سے بعض آیاتِ قرآن ہیں۔ امام خمینی نے بھی دیگر فقہاء کی طرح ان آیات سے استدلال کیا ہے۔ان آیات میں سے ایک یہ ہے:

"جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کر دیا گیا ہو جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن جو دل کھول کر کفر کو قبول کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔" (سورۂ نحل، آیت 106)

مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت اسلام کے ابتدائی دور میں حضرت  عمار بن یاسرؓ کے واقعے کے بارے میں نازل ہوئی۔ مشرکین نے انہیں سخت اذیتیں اور تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے ظاہری طور پر ایمان کا انکار کیا اور کفر کے کلمات زبان پر جاری کیے، حالانکہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح قائم تھا۔جب یہ معاملہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپؐ نے عمار کے اس عمل کی تائید فرمائی اور فرمایا کہ اگر دوبارہ ایسی ہی مجبوری پیش آئے تو وہ اسی طرح عمل کر سکتے ہیں۔

اسی طرح سورۂ آلِ عمران کی آیت 28  تمام مسلمانوں کے لیے ایک عمومی ہدایت ہے:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ

"مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے۔

 اس آیت کے مطابق اہلِ ایمان کو کفار کے ساتھ ایسی دوستی اور اطاعت اختیار کرنے کی اجازت نہیں جو دین کے خلاف ہو، مگر ایسی صورت میں جب انہیں ان سے حقیقی خطرہ ہو اور وہ ان کے شر سے محفوظ نہ ہوں۔ ایسی حالت میں تقیہ کرنا جائز ہے۔احادیث میں بھی تقیہ کے جواز یا بعض مواقع پر اس کے وجوب کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کی دیگر آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔

تقیہ کے جواز کی ایک اور اہم دلیل وہ احادیث ہیں جو صراحت کے ساتھ تقیہ کو جائز قرار دیتی ہیں۔ ان روایات میں بعض حالات میں جان، مال اور دین کی حفاظت کے لیے تقیہ اختیار کرنے کی اجازت بلکہ بعض اوقات اس کی تاکید بھی کی گئی ہے۔

پیغمبرِ اسلام ؐ کے بعد  شیعہ حضرات چونکہ ایسے ظالم حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہے جو صرف شیعہ ہونے کی وجہ سے ان کی جان و مال پر حملہ کرتے تھے، اس لیے وہ اکثر تقیہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ اموی اور عباسی حکومتوں کے زمانے اور بعد کے ادوار میں بھی شیعہ شدید دباؤ، ظلم اور استبداد کا شکار رہے۔

اسی وجہ سے ائمہ معصومین شیعوں کی جان و مال کی حفاظت اور شیعہ مذہب کے تحفظ کے لیے انہیں تقیہ کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔دوسری طرف، شیعوں کے نزدیک تقیہ اس بات کی علامت تھا کہ اس دور کے حکمران جابر اور آمرانہ طرزِ حکومت رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر شیعوں کو اپنی جان و مال اور عقیدے کے بارے میں اطمینان اور تحفظ حاصل ہوتا تو وہ تقیہ اختیار نہ کرتے۔

یہ محتاط طرزِ عمل صرف شیعوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ اسلامی تاریخ میں دیگر فرقے اور تحریکیں بھی جب حکمرانوں کی طرف سے خطرات اور دباؤ کا سامنا کرتی تھیں تو وہ بھی اسی حکمتِ عملی، یعنی تقیہ یا اپنے عقائد کو مخفی رکھنے، سے کام لیتی تھیں۔

المختصر یہ کہ  تقیہ اسلامی فکر میں ایک عارضی، تدبیری اور اسٹریٹیجک حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آتا ہے جو غیر معمولی جبر، خطرے اور عدم تحفظ کے حالات میں ایمان، جان اور دینی شناخت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ قرآن و سنت اور انبیاء و اولیاء کی سیرت سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ دین کا مقصد صرف اظہارِ حق نہیں بلکہ اس کی بقا اور تسلسل بھی ہے۔ اسی لیے جب کھلا اظہارِ عقیدہ فوری نقصان یا دینی مقصد کے زوال کا سبب بنے تو حکمت کے ساتھ وقتی اخفاء اختیار کیا جا سکتا ہے، تاکہ حالات سازگار ہونے پر حق کا مؤثر اور پائیدار اظہار ممکن ہو سکے۔ اس تناظر میں تقیہ دراصل دین کی بقا، کمزور مؤمنوں کے تحفظ اور ظالمانہ نظاموں کے مقابلے میں ایک متوازن اسٹریٹیجک فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔



[1] ابن خالد البرقی (م ۲۷۴ ق)، المحاسن، ج۱، ص۲۵۸، به کوشش حسینی، تهران، دارالکتب الاسلامیة، ۱۳۲۶ ش.

[2] العیاشی (م ۳۲۰ ق)، تفسیر العیاشی، ج۲، ص۱۸۴، به کوشش رسولی محلاّتی، تهران، المکتبة العلمیة الاسلامیة

[3] العروسی الحویزی (م ۱۱۱۲ ق)، تفسیر نورالثقلین، ج۲، ص۴۴۳، به کوشش رسولی محلاتی، اسماعیلیان، ۱۳۷۳ش.

[4] الطبرسی (م ۵۴۸ ق)، مجمع البیان، ج۸، ص۴۳۷، به کوشش گروهی از علماء، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۵ ق.

[5] النوری (م ۱۳۲۰ ق)، مستدرک الوسائل، ج۱۲، ص۲۷۲، بیروت، آل البیت (علیهم‌السلام) لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ ق.

[6] ‌بلاذری، انساب الاشراف، ۱/۱۱۶


جمعہ، 22 مئی، 2026

جنگ کا جواز یا رُسوائی و ڈھٹائی

جنگ  کا جواز  یا رُسوائی  و ڈھٹائی  

ڈاکٹر نذر حافی

چالیس روزہ جنگ میں بہت کچھ عجیب و غریب ہوا۔ آج چالیس دن کے بعد  دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت خاک پر ناک رگڑ رہی ہے  ۔ جنگ کے دوران  امریکہ و اسرائیل  ہر میزائل کے ساتھ اپنی ہی طاقت گھٹاتے گئے۔ ایرانی  شہروں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں نے   جارحین کے چہرے کو سیاہ و رُسوا کر دیا ہے۔  وہ جو ایران کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود دیوار کے ساتھ لگ چکے ہیں۔ ٹرٹر  نے اتنا ایران کو تباہ نہیں کیا جتنا اپنی اخلاقی ساکھ، سفارتی اعتماد، معاشی استحکام اور عسکری ذخائر کو برباد کیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اس جنگ میں  امریکہ کی  فتح کا ہر اعلان، اُس کی شکست کا نیا ثبوت بن کر تاریخ میں ثبت ہوا ہے ۔

فتح کے بجائے دنیا ایران کی جدید قیادت کے مقابل یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں یہ فیصلہ کرنے میں لگے ہیں کہ ہم میں سے  پہلے کون  پسپائی اختیار کرے۔ دونوں اب فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔اُن میں سے ہر ایک کیلئے  آگے بڑھنا شکست اور  پیچھے ہٹنا رسوائی ہے۔ انہوں نے جنگ اس لیے چھیڑی تھی کہ اپنی طاقت ثابت کر سکیں  لیکن   اب انہیں سمجھ آئی  ہے کہ اصل طاقت جنگ شروع کرنے کے بجائے  اسے روکنے میں ہے۔  چنانچہ دونوں کو اب یہی پریشانی ہے کہ یہ  جنگ آخرکار کیسے ختم ہو !

دوسری طرف تہران کی مظلومیت نے  دنیا کی رائے عامہ کو بدل دیا ہے۔ یہ جنگ ڈونلڈ  ٹر ٹر  کے لیے ایک دیرپا  بحران کے سوا اپنے ہمراہ اور کچھ نہیں لائی۔ عالمی برادری مسلسل ٹرٹر سے یہ پوچھ رہی ہے کہ  آخر کس مقصد کے لیے اُس نے  اتنی  بھاری قیمت، عسکری و سفارتی دباؤ اور  انتقامی خطرہ مول لیا ہے؟ دنیا یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ ایران پر حملے سے امریکہ و اسرائیل کو حقیقتاً کیا حاصل ہوا؟ سوائے اس کے کہ  چند اہم اور قیمتی  شخصیات قتل کر دی گئیں۔ ایران کی فضائی اور بحری قوت کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا اور بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی اس کی میزائل صلاحیت  بھی متاثر نہیں ہوئی۔

 بین الاقوامی  جائزوں کے مطابق تہران کے پاس اب بھی تقریباً 70 فیصد میزائل ذخیرہ، 70 فیصد متحرک لانچر، اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود 90 فیصد سے زیادہ میزائل سائٹس عملاً فعال ہیں۔ اس کے علاوہ تہران اب بھی اسرائیل اور خلیج فارس میں امریکی اتحادیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ  ایران کے پاس اب بھی اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ المختصر یہ کہ امریکہ کو کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔اسی دوران امریکی وزارتِ دفاع بھی اس جنگ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ایران کے حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے 15 فوجی اڈوں پر موجود 217 تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

سی این این نے ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا کہ بحرین، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر میں کم از کم 9 امریکی اڈے ایرانی حملوں سے "نمایاں طور پر متاثر" ہوئے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایسے نقصانات کے اثرات محدود نہیں ہیں  بلکہ ان تنصیبات کی تعمیرِ نو میں غالباً کئی سال لگیں گے اور واشنگٹن پر اربوں ڈالر کا  مزید بوجھ پڑے گا۔ انفراسٹرکچر کےنقصانات کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران  امریکی فوجی مقامات  اور امریکی اتحادیوں  پر  ایران کا عسکری دباؤ بھی نمایاں رہا ہے۔ ایک اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اندازے کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ موجودہ جنگی مرحلے میں اپنے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کا 50 سے 60 فیصد تک استعمال کر لیا ہے،  یہ ایک قابلِ توجہ مقدار ہے، جو روس کے خلاف چار سالہ جنگ میں یوکرین کے استعمال سے بھی زیادہ ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ نے ایران کے ساتھ جھڑپ میں اپنے ایک تہائی ٹاما ہاک میزائل بھی استعمال کر لیے ہیں۔ مالی اخراجات سے قطع نظر، اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور دوبارہ فراہمی میں چار سال تک لگ سکتے ہیں۔ عسکری دنیا میں اس کا مطلب یہ ہے کہ  اگر امریکہ کو  اب کسی دوسرے محاذ پر فوجی کارروائی کرنا پڑی، یا  ایران کے ساتھ ہی دوبارہ ٹکرانا پڑا تو  وہ شدید کمزور جنگی صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

داخلی اتفاقِ رائے اور وسیع بین الاقوامی حمایت کے بغیر جنگ میں داخل  ہونے کی وجہ سے  ٹر ٹر کو  سیاسی و معاشی عدمِ استحکام کے ساتھ ساتھ  توانائی کےبحران کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دُگنی ہو چکی ہیں اور ڈیزل، جو تجارتی گاڑیوں کا بنیادی ایندھن ہے، 59 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔

پاکستان اور فلپائن جیسے ممالک نے بڑھتے ہوئے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری دفاتر کو ہفتہ وار اوقاتِ کار کم کرنے کی ہدایت دی ہے اور بعض جامعات کو توانائی بچانے کے لیے بند بھی کر دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف چھوٹی معیشتوں تک محدود نہیں رہی، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھارت نے بھی اپنی 1.4 ارب آبادی سے ایندھن کے استعمال میں کمی اور سونے کی خوفزدہ خریداری سے گریز کی اپیل کی ہے۔

اگر واشنگٹن اپنی تیل برآمدات کم کر دے یا بیجنگ دوبارہ عالمی منڈی میں بھرپور انداز سے تیل خریدنے لگے، تو قیمتیں ایک بے قابو صعودی چکر میں داخل ہو جائیں گی۔ ایسا ہُوا تو  سب سے زیادہ وہ ممالک  متاثر ہونگے جن کے پاس نہ توانائی کی کمی سے نمٹنے کی  مالی طاقت ہے اور نہ ہی اس  بحران سے کم نقصان کے ساتھ نکلنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز صرف دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل اور قدرتی گیس کی گزرگاہ نہیں، بلکہ یہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی کیمیائی کھاد اور عالمی مارکیٹ کے ایک تہائی ہیلیم کی ترسیل کا بھی اہم راستہ ہے۔ اسی لیے بحران کے اثرات توانائی کے شعبے سے آگے بڑھ کر دوسرے حساس شعبوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ آگے چل کر جتنا زیادہ  یہ بحران طول پکڑے گا، عالمی معیشت پر اس کی لاگت اتنی ہی بڑھتی جائے گی اور اس کا دباؤ صرف توانائی کی منڈی تک محدود نہیں رہے گا۔

اصل تشویش یہ ہے کہ اگر توانائی کی فراہمی معمول پر واپس نہ آئی تو اگلے سال عالمی ترقی 2 فیصد تک گر سکتی ہے ۔ اس عدد کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب معلوم ہو کہ 1980 کے بعد سے دنیا نے صرف چار بار 2 فیصد سے کم ترقی دیکھی ہے۔

دوسری جانب، 1950 کے بعد سے دنیا صرف دو مرتبہ حقیقی عالمی کساد بازاری کا شکار ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ  2008کے عالمی مالیاتی بحران میں، اور دوسری مرتبہ  2020 میں کووِڈ-19 وبا کے دوران۔ اگر ایران کی جنگ بھی ان دو بڑے اور غیر متوقع بحرانات  کے ساتھ شامل ہو جائے، تو یہ  ٹر ٹر  اور امریکہ کے لیے ایک تاریخی خودساختہ نقصان ہوگا۔

اس جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ، عالمی معیشت یا توانائی مارکیٹ تک محدود نہیں لہذا  امریکی اتحادی بھی اس کے اثرات چکھ رہے ہیں ۔  ٹر ٹر  نے نیٹو کے یورپی اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے کئی مرتبہ  مدد مانگی ہے  لیکن  کسی نے مثبت جواب نہیں دیا اور نہ ہی دیں گے۔ خلیج فارس میں وہ ممالک، جنہوں نے پہلے امریکی فوجی اڈوں کا خیرمقدم کیا تھا، اب پچھتا رہے ہیں۔ قطر اس کی نمایاں مثال ہے۔ غالب امکان ہے کہ اسے اپنی قدرتی گیس کی پیداوار کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں کئی سال لگیں   اور اندازہ ہے کہ اس کی معیشت رواں سال 8.6 فیصد سکڑ جائے گی۔

دوسری جانب امریکہ کے ایشیائی اتحادی بھی اپنی کمزور معیشت کے باعث  واشنگٹن کے رویے کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سارے پسِ منظر میں چین غالباً امریکہ کی فوجی طاقت کے زوال، اس کی فوج کے مہنگے محاذ میں الجھنے اور واشنگٹن کی سیاسی حیثیت کے کمزور ہونے پر خوش ہے۔ روس بھی اس تنازعے  میں اُلجھے بغیر ے نمایاں طور پر  فائدہ اٹھا رہا ہے۔  روس  کی ماہانہ تیل آمدنی جنگ کے آغاز کے ایام  سے اب دوگنی ہو چکی ہے۔موجودہ حالات سے نکلنے کیلئے  امریکہ سفارت کاری کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اب دنیا ٹر ٹر سے یہ پوچھ رہی ہے کہ  اگر آخری حل سفارت کاری ہی تھا تو پھر جنگ شروع ہی کیوں کی تھی؟ ٹر ٹر کیلئے اس سے بڑی رُسوائی  و ڈھٹائی  اور کیا ہو گی کہ  اُس نے  جو جنگ  طاقت  کے اظہار کے لیے شروع کی تھی  اب اسے اس  جنگ کا جواز ڈھونڈنا پڑ رہا ہے۔

جامعة الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کا آغاز

اعلانِ داخلہ :
جامعة الرضا اسلام آباد
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج
/////
دو سطحوں میں داخلوں کی رجسٹریشن جاری ہے:
/////

الف: ابتدائی سطح کی حوزوی تعلیم نیز ایف اے ریگولر (فیڈرل بورڈ)
شرائط:
 میٹرک پاس
ب: دوسری سطح کی حوزوی تعلیم نیز بی ایس ریگولر
(المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے منسلک)
شرائط:
دائرہ امتحان کا مرحلہ دوم حصہ دوم( مبادی النحو/ سیوطی اور منطق دوم) مکمل
 ایف اے پاس
📌 محدود نشستیں  بروقت رجسٹریشن کروائیں۔
📞 رجسٹریشن و معلومات کیلئے رابطہ کریں:🌐
0335-3920835
0345-5398135
 جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج، فیڈرل بورڈ و جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے الحاق شدہ ہے اور اس میں تربیتی و  ہم نصابی سرگرمیوں کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہفتہ، 16 مئی، 2026

کتاب : معجزہ کیا ہے؟

کتاب : معجزہ کیا ہے؟
تبصرہ:  ڈاکٹر نذر حافی
اس ہفتے  ایک فارسی محقق محمد باقر سعیدی روشن  کی تصنیف "  معجزہ کیا ہے؟ " میرے زیرِ مطالعہ ہے۔   موصوف قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس سفر پر لے جاتے ہیں کہ جہاں انسان محسوسات کی محدود دنیا سے نکل کر ماورائے طبیعت حقیقتوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  آج بھی انسان جب آسمان کی وسعتوں کو دیکھتا ہے، ستاروں کی گردش، سورج کی روشنی، اور حیات و موت  کے حیرت انگیز نظام پر غور کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک اضطراب، بے چینی اور کشمکش انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔اس کشمکش میں   انسان اپنے آپ سے یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ  کیا یہ سب کچھ محض اندھے قوانینِ فطرت کا نتیجہ ہے، یا اس کائنات کے پسِ پردہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جس کا ارادہ ہر قانون  کا خالق ہے اور وہ ہستی ہر قانون پر حاکم ہے؟
مذکورہ کتاب کو  نورالہدیٰ مرکز تحقیقات اسلام آباد نے نشر کیا ہے اور  جامعۃ الرضا  بارہ کہو اسلام آباد  سے دستیاب ہے۔  قابلِ ذکر ہے کہ  زیرِ نظر کتاب “معجزہ کیا ہے؟” دراصل انسانی عقل، ایمان، وحی اور حقیقت کے درمیان جاری مذکورہ کشمکش  کی ایک  علمی روایت ہے۔  اس کائنات میں  ایک طرف مادی دنیا کے اٹل قوانین ہیں اور دوسری طرف انبیاءِ کرامؑ کے وہ حیرت انگیز معجزات جو ان قوانین کو بظاہر توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ کتاب قاری پر یہ روشن کرتی ہے کہ  معجزہ دراصل قانونِ فطرت کی نفی نہیں بلکہ خالقِ فطرت کی حاکمیت کا اظہار ہے۔ یعنی  قانونِ فطرت خود مختار نہیں بلکہ امرِ الہی کا دوسرا نام قانون فطرت ہے۔ گویا معجزہ دراصل اس امر کا اعلان ہے کہ قوانینِ فطرت اپنی ذات میں مستقل بالذات نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے تابع ہیں۔
جیسے جیسے قاری کتاب کی ورق گردانی کرتا ہے تو اسےیوں  محسوس ہوتا ہے  کہ جیسے   وہ تاریخِ نبوت کے قافلے کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو۔ کہیں حضرت ابراہیمؑ آگ کے الاؤ میں کھڑے ہیں ، کہیں حضرت موسیٰؑ کے عصا کی ضرب دکھائی دے رہی ہے، اور کہیں حضرت عیسیٰؑ مردہ  اجسام کو حیاتِ نو عطا کر رہے ہیں۔ مصنف نے  ان واقعات کے پسِ پردہ کارفرما الٰہی حکمت کو آشکار کرتے ہوئے قاری کو یہ احساس دلایا ہے  کہ معجزہ دراصل انسان کو اس کی محدود عقل سے بلند تر حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے۔
کتاب کا سب سے دل آویز مرحلہ وہ ہے جہاں گفتگو قرآنِ کریم کے اعجاز تک پہنچتی ہے۔ یہاں اسلوب میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کے معجزات ایک خاص زمانے اور مخصوص قوموں تک محدود تھے، مگر قرآن ایسا معجزہ ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ آج بھی انسان کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہیں اس کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یہ وہ معجزہ ہے جو آنکھوں سے زیادہ عقل کو مخاطب کرتا ہے، اور عقل سے بڑھ کر دل کو۔مصنف نے نہایت دلنشیں انداز میں یہ  واضح کیا ہے کہ قرآن کا اعجاز  یہ بھی ہے کہ وہ  انسان کے باطن سے ہم کلام ہوتا ہے۔ قاری جب قرآن پڑھتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے  کہ جیسے یہ کتاب اسے اُس سے زیادہ جانتی ہے جتنا وہ خود اپنے آپ کو جانتا ہے۔ اس بحث میں انسان پر یہ راز کھلتا ہے کہ  قرآن کے الفاظ جب  عبادت ہیں اور معانی ہدایت تو یہی تو قرآن کا  نمایاں معجزہ ہے۔
کتاب کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ اس کے اسلوبِ تحریر میں علمی نزاکت بھی ہے اور روحانی تاثیر بھی۔ کہیں استدلال کی گہرائی ہے تو کہیں عرفان کی لطافت،  کہیں  تاریخی گفتگو  ہے تو کہیں تفسیر سے مدد لی گئی ہے، کہیں منطقی استدلال  ہے تو کہیں محبتِ رسالت کی لطیف جھلک۔ المختصر یہ کہ  مصنف نے پیچیدہ موضوعات کو سہل انداز میں بیان کرتے ہوئے مباحث کے علمی وقار مجروح نہیں ہونے دیا۔لہذا دورانِ مطالعہ  قاری محسوس کرتا ہے  کہ جیسے وہ محض ایک کتاب  پڑھنے کے بجائے ایک علمی، فکری و روحانی معراج کے زینے  طے کر رہا ہے۔
اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کے ذہن میں معجزے  کا  قدیمی، روایتی اور سُنا سنایا مفہوم بدل جاتا ہے۔  یعنی معجزہ کیا ہے؟ یہ کتاب  اپنے موضوع، استدلال اور اسلوب کے اعتبار سے انسان کو  اپنی ذات کے بارے میں ازسرِ نو سوچنے، اپنے ارد گرد کے بارے میں کچھ نیا محسوس کرنے اور اپنے خالق کو نئے شعور کے ساتھ پہچاننے پر آمادہ کرتی ہے۔
اس کتاب میں مصنف محمد باقر سعیدی روشن نے معجزات  کو نبوت، وحی اور ہدایتِ انسانی کے باہمی ربط  کی ایک الٰہی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ کتاب کے  مترجم ادریس احمد علوی  ہیں۔ بلا شبہ  اُن کی شستہ اردو اور ڈاکٹر سید راشد عباس نقوی کی نظرثانی نے اردو زبان کے قارئین کیلئے  کتاب کے  علمی معیار  کو گرنے نہیں دیا۔ مصنف نے معجزہ اور کرامت، وحی اور عقل، قانونِ فطرت اور قدرتِ الٰہی کے درمیان  ایک منطقی تطابق دکھایا ہے جسے مترجم نے بھی قائم رکھنے کا مکمل اہتمام کیا ہے۔

پیر، 11 مئی، 2026

توقیر کھرل کی نئی کتاب "شہید رہبر"

بسم اللہ الرحمن الرحیم

توقیر کھرل کی نئی کتاب "شہید رہبر"

ڈاکٹر نذر حافی

وقت کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب لوگ مرجاتے ہیں۔ یعنی وقت سب کو مار دیتا ہے    تاہم  ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں  کہ   وقت کے  اُن کے نام سے زندہ رہتا ہے۔ایسی شخصیات  وقت کے دھارے کے ساتھ بہنے کے بجائے وقت  کو حیاتِ نو  عطا کرتی ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے وجود و خون  سے صدیوں کو زندہ کر دیتے ہیں، اُن کی عمر کو سالوں کے بجائے  اُن  کی عظمت  سے ماپا جاتا ہے۔ چونکہ ہم نے مقتل میں بارہا یہ دیکھا ہے کہ بعض لوگ  تلواروں کے درمیان سے اپنی جان بچا کر بھی لوگوں کے دِلوں میں مر جاتے ہیں، جبکہ بعض اپنا سر کٹوا کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں !عام لوگ زمانے کے تابع ہوتے ہیں، لیکن وقت غیر معمولی انسانوں کے تابع ہو تا ہے۔تاریخ میں  جو چراغ خون سے جلائے جاتے ہیں اُنہیں  زمانے کی آندھیاں نہیں بُجھا سکتیں۔  غیر معمولی انسان ہی تاریخ کے اُفق پر   ایسے غیرمعمولی چراغ جلاتے ہیں۔ ایسے عظیم مرتبہ  انسان ہی   شکست خوردہ قوموں کو حوصلہ، مرعوب ذہنوں کو جرأت، اور منتشر افکار کو  وحدت عطا کرتے ہیں۔زمانہ  انہیں اس  دنیا سے جانے کے بعد بھی امام ، رہبر قائد اور قطب جیسے  القابات سے یاد کرتا ہے۔ بلا شبہ شہید رہبر سید علی خامنہ ای بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں ۔

ہمارے معاصر عہد میں شہید رہبر نے اپنی قیادت  اور شہادت  سے دنیا کو یہ باور کرایا  ہے کہ ایمان اگر بصیرت کے ساتھ جمع ہو جائے تو وہ سپر طاقتوں کے غرور کو بھی خاک میں ملا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خون کے آخری قطرے سے یہ ثابت کر دیا ہےکہ قیادت مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر پھولوں کی سیج پر سونے کا نام نہیں بلکہ کانٹوں کے بستر پر ملت کے دکھ درد میں کروٹیں بدلنے کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی قیادت و رہبری میں جرأت بھی تھی، تقویٰ بھی، مزاحمت بھی  تھی، حکمت بھی، حرکت بھی تھی ، تبدیلی بھی، دوام بھی تھا، تسلسل بھی،  اقتدار بھی  تھا اور انکسار بھی۔ انہوں نے سادگی اور  عاجزی سے   اپنی ایمانی طاقت اور سربلندی کو منوایا  جبکہ  اُن کے متکبر قاتل  دنیا  والوں کی نگاہوں  میں  لمحہ بہ لمحہ مزید پست ہی ہوتے جا رہے ہیں۔بھلا جس کے ساتھ خدا  ہو اُسے کون کمزور کر سکتا ہے !؟۔

عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ  اکثر حکمران اپنے اقتدار کی حفاظت کیلئے قومی غیرت و حمیت کو قربان کر دیتے ہیں جبکہ شہید رہبر نے اپنی قوم، نظریے اور  امت کیلئے خود کو قربان کر دیا۔ آہ! مجھے یاد آیا کہ قومی غیرت و حمیت  کیلئے قربانی دینے والوں میں ایک بڑا نام شہید قاسم سلیمانی کا بھی ہے۔ برادرِ عزیز توقیر کھرل نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر بھی ایک مؤثر اور فکر انگیز کتاب تالیف کی تھی۔ جو خصوصیات اُن کی  اُس کتاب میں تھیں و ہ  سب اس کتاب میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اب شہید رہبر کی مظلومانہ شہادت ہوئی تو  مولف ِ محترم نے ایک بار پھر میدانِ تالیف میں وقت کی پکار پر لبیک کہا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی والی کتاب  کی طرح  اس کتاب میں بھی  انہوں نے محض واقعات جمع کرنے کے بجائے  ایک پورے عہد کی فکری، سیاسی اور روحانی تاریخ کو ایک مربوط بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ “شہید رہبر” کے نام سے ان کی حالیہ تصنیف  بھی آئندہ نسلوں کیلئے ایک اہم  منبع اور معتبر حوالہ بنے گی۔

یہاں پر یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ تحقیق کی دنیا میں مواد اکٹھا کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ منتشر حوالوں، متفرق واقعات اور مختلف زاویوں کو ایک ایسی فکری وحدت میں ڈھالا جائے  کہ جس سے  قاری کے دِل میں عقیدت  کے چراغ بھی جلیں اور اُس کے دماغ میں بصیرت کی قندیلیں بھی ٹمٹمائیں۔  توقیر کھرل نے یہی کام کیا ہے۔ انہوں نے اس تصنیف میں صرف معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے جو قاری کو سوال کرنے، سوچنے اور اپنے زمانے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہ کتاب شہید رہبر کی نجی زندگی کے اُن پہلوؤں کو بھی آشکار کرتی ہے جن کی تاب ہمارے حکمران نہیں لا سکتے۔  بھلا آج کے سُپر ماڈرن دور میں ایک ریاست کا سُپریم لیڈر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا قائد  ہونے کے باوجود کوئی شخص کیسے  زاہدانہ زندگی بسر کرتا رہا  اور  جس کے پاس اپنے زمانے کی سُپر پاور سے ٹکرانے کی عسکری قوت تھی لیکن وہ کیونکر ساری زندگی خوفِ خدا کا عملی مجسمہ بنا رہا!؟۔  دنیا بھر کے  حکمران محلات میں بیٹھ کر عوام سے قربانی مانگتے ہوئے نظر آتےہیں، جبکہ شہید رہبر نے اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ حقیقی و عوامی  قیادت  قربانی کے میدان میں  اپنی ملت سے پیچھے نہیں رہتی۔

 عزیزم توقیر کھرل کی یہ کتاب ایک اور بنیادی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ رہبری آرام دہ کرسیوں، پروٹوکول اور نعروں کے بجائے  مسلسل خطرات، قربانیوں اور مشکل فیصلوں  کی شاہراہ  پر گامزن رہنے  کے مشن کا نام  ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبدار نہیں رہنے دیتی۔ یہ آپ کو یا تو حق کے ساتھ یا پھر اپنے ضمیر کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اس کے صفحات میں صرف سوانح نہیں بلکہ سوالات بھی ہیں۔ ایسے سوالات کہ جو  جذبات کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ   دلائل کو بھی جنم دیتے ہیں، اور  عقیدت کے چراغ جلانے کے ہمراہ  فکری مزاحمت کے دریچے بھی کھولتے ہیں۔

یہ تصنیف دراصل اُن تمام فکری مغالطوں کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت ہے جو امت کو تقسیم، مرعوب اور بے حس کرنے کیلئے پھیلائے جا تے ہیں۔ اس کتاب میں آپ کو سیاست کے ساتھ اخلاق، اقتدار کے ساتھ انکسار، قانون کے ساتھ تقویٰ، قوت کے ساتھ انسانیت اور قیادت کے ساتھ شہادت دکھائی دے گی۔ اس کے ورق ورق پر  علما صرف خطیب نہیں بلکہ بصیرت کے نگہبان نظر آئیں گے، فوج و پولیس کے ادارے صرف طاقتور ادارے نہیں بلکہ قانون و امانت کے محافظ دکھائی دیں گے، اور پالیسی ساز صرف حکمران نہیں بلکہ قربانی کیلئے آمادہ مجاہد محسوس ہوں گے۔

عزیزم توقیر کھرل کی یہ کتاب شہید رہبر کے عشاق کیلئے ایک تحفہ بھی ہے اور ایک فکری اسلحہ بھی۔ یہ کتاب قاری کو ایک نظریاتی و فکری محاذ کا سپاہی بنانے کی سعی ہے۔ اس کے بعض جملے پھول کی طرح مہکتے ہیں اور بعض کانٹے کی طرح دل  میں اتر جاتے ہیں۔ کہیں یہ امید دیتی ہے، کہیں بے حسی پر ضرب لگاتی ہے، کہیں آنکھ نم کرتی ہے اور کہیں انسان کے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔  قاری کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ توقیر کھرل کے نرم و ملائم الفاظ  کبھی کبھی  قاری کے دِل پر تلوار سے زیادہ گہرا زخم لگا دیتے ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہیے چونکہ جو تحریر انسان کے  ضمیر کا آپریشن کر دے  وہ  تحریر ، الفاظ  کے قالب میں   ایک فکری  تلوار ہوتی ہے۔ 

آخر میں عرض یہ ہے کہ ایسے دور میں جب میڈیا سچ کو دفن کر رہا ہو، طاقتور ظلم کو قانون کا نام دے رہے ہوں، حق گوئی کو انتہاپسندی اور مزاحمت کو جرم قرار دیا جا رہا ہو،  تو پھر  ایسی کتابیں مطالعے کے بجائے روحانی زندگی و  نظریاتی حیات  کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اہلِ علم، نوجوان نسل اور عام قارئین سب کیلئے بصیرت و آگہی کا چراغ ثابت ہوگی، اور امتِ مسلمہ کے درمیان فکری وحدت، شعوری بیداری اور مزاحمتی فکر کے نئے در وا کرے  گی۔ شہید رہبر کی شہادت کے بعد اس کتاب کے بارے میں یہی کہوں گا کہ اندھیرا چھانے کے بعد ہی روشنی جنم لیا کرتی ہے۔ اس روشنی کا استقبال کیجئے۔


جمعرات، 7 مئی، 2026

Lonely yet successful

تنہا مگر کامیاب

ڈاکٹر نذر حافی

اِن دنوں اتحاد دیگر ریاستوں کی نہیں بلکہ امریکہ کی ضرورت ہے۔ چالیس روزہ جنگ کے بعد اب امریکہ کواز سرِنو   بیوقوف قسم کے  کچھ اتحادی چاہیے ۔ ایسے اتحادی  کہ وہ اپنے  دفاع کے بجائے  امریکہ کے دفاعی اخراجات ادا کرنے کیلئے اُس کا اتحادی بنیں۔  ایران نے ایک درس تو ساری دنیا کو دیا ہے کہ وہ قومیں زیادہ طاقتور ہوتی  ہیں جو کم لڑتی ہیں لیکن  زیادہ تیاری کرتی  رہتی ہیں۔ اسی تیاری کے باعث ایران کا وسیع و عریض سمندر امریکہ کیلئے بہت تنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ اتنا تنگ کہ امریکہ کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

 اکیلے ایران کے مقابلے میں ایک  سُپر طاقت  کہلانے والا امریکہ اس وقت سب کو   انتہائی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ کمزوری بھی ایسی  کہ   امریکہ کے اتحادی  اور دوست  کہلانے والے اب امریکہ سے دور بھاگ رہے ہیں۔ کبھی اپنے استحکام کیلئے دیگر ممالک امریکہ کا اتحادی بننا ضروری سمجھتے تھے جبکہ اب ریاستوں کے استحکام کیلئے اُن کا امریکہ سے دور رہنا ضروری ہو گیا ہے۔

 نہ خلیجی ممالک   آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے امریکہ کو  کوئی سنجیدہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں اور   نہ یورپ امریکہ  کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔ یورپ نے واضح کر دیا  ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ  سے اُس کا کوئی تعلق نہیں  لہذا  اس نے واشنگٹن کی مالی و سیاسی باج طلبی کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ اب ساری دنیا پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ  امریکہ کا  غیر منطقی ، غیرمتوازن اور بوسیدہ اتحاد اس شکست کے بعد کسی کام کا نہیں رہا۔   گویا سب کو یہ بات سمجھ  آ گئی ہے کہ اتحاد کے نام پر  امریکہ دیگر ریاستوں کا فقط عرق نچوڑنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   اپنے اتحادیوں کا عرق نچوڑنے کے چکر میں امریکہ اس جنگ میں بھاری اخراجات اٹھانے کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اسی طرح  سفارتی مذاکرات کے بہانے  ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کا رُک جانا بھی  دراصل امریکی شکست  کا ثبوت ہے۔ اس کے بعد دنیا میں  چاہے جو بھی ہو جائے اب    ہر ملک کو اپنے مفادات اور اپنی سلامتی  کی قیمت خود ادا کرنا ہوگی ۔اب ایران کی مانند  ہر ریاست کی اپنی عسکری   طاقت ہی اُس کے  بقا کی ضمانت اور اپنی سفارتی و سیاسی   قوت ہی اُس کے  وقار کی علامت ہے۔

امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف تنہا اسلامی جمہوریہ ایران  نے کامیابی پر کامیابی حاصل کر کے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ  امریکہ جب  خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتا  تو وہ دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔  چالیس روزہ جنگ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب  دنیا کی تمام   ریاستوں کو ایران کی مانند مضبوط ہونا ہوگا تاکہ وہ امریکہ سے مدد مانگنے کے بجائے  خود  اپنی جغرافیائی سرحدوں سے باہر بھی اپنا حصہ، اپنا اثر، اور اپنا مقام حاصل کر سکیں۔ بلا شُبہ اس جنگ کے بعد دنیا  کے  دیگر ممالک کے لیے امریکی  اتحاد میں شمولیت  اور  امریکہ کے ساتھ  دوستی اُن کی  اوّلین ترجیح نہیں رہی۔

ایک طرف    ٹر ٹر  نے کئی مرتبہ  بڑے طمطراق سے  یہ دعویٰ کیا  کہ ایرانی بحریہ کو "مکمل طور پر تباہ" کر دیا گیا ہے اور امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے جبکہ دوسری طرف  ٹر ٹر  بار بار یہ اعلان کر رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازرانی کا  تحفظ  مطلوب ہے تو امریکی اتحادیوں کو  اس کی قیمت بھی ادا کرنا ہوگی،  اپنی عسکری قوت میدان میں لانی ہوگی، اور  واشنگٹن کو سیاسی و تجارتی مراعات بھی  دینی ہوں گی۔ ایرانی بحری غلبے کے باعث  امریکی دعووں  کے کھوکھلے پن کا بھانڈا  بیچ چوراہے کے پھوٹ چکا ہے۔ ساری دنیا  یہ تماشا دیکھ رہی ہے کہ  ہرمز کے گہری پانیوں میں  امریکہ کے پاس کسی کو دینے کیلئے کچھ نہیں، وہ واویلا کر رہا ہے کہ اگر  تحفظ چاہیے تو قیمت  ادا کیجئے ، سلامتی چاہیے تو اپنا حصہ ڈالئے ورنہ اپنی راہ لیجئے اور مجھے بھی اس دلدل سے نکالئے۔

دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے   کہ اگر ایران کا تیل فروخت نہ ہوا تو دوسروں کا تیل بھی محفوظ نہیں رہے گا، اور آبنائے ہرمز  نیز باب المندب کی بندش سوائے ایران کے کوئی اور نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر  ٹر ٹر  نے کئی بار یہ دعوی کیا ہے کہ  ایران خطے میں کمزور ہو گیا ہے ۔ اب دنیا پوچھتی ہے کہ  اگر ایران واقعی کمزور ہوگیا ہے تو پھر خطے میں امریکی اڈوں پر کس نے اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے؟ اگر ایران بے اثر  ہو چکا ہے تو پھر کس قوت نے حزب اللہ اور انصار اللہ جیسے مزاحمتی محاذوں کو امریکہ اور اسرائیل کے مقابل صف آرا  کر رکھا ہے؟

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں تنِ تنہا ایران نے یہ منوا لیا ہے کہ جدید دور میں  عسکری برتری  اتحادیوں کی تعداد اور لمبے لمبے بحری جہازوں  سے نہیں بلکہ  دشمن کی طاقت میں عدم توازن پیدا کرنے کی صلاحیت سے حاصل ہوتی ہے ۔

ایران نے انقلابِ ۱۹۷۹ کے بعد آٹھ برس تک بعثی حکومت کے مقابل ڈٹ کر مزاحمت کی اور اپنی سرزمین کا تحفظ کیا۔ بعد ازاں رہبر معظم سید  علی خامنہ ای کی قیادت  اور شہادت سے   ایران کی دفاعی قوت میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے، یہاں تک کہ آج  ایران  ایک ناقابلِ تسخیر طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیاہے۔آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ ایران کی عسکری قوت صرف ٹینکوں اور جنگی جہازوں پر منحصر نہیں بلکہ  یہ دور رس میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں اور غیر متوازن بحری حکمتِ عملی پر قائم ہے۔ ایران نے بڑے بحری بیڑوں کے بجائے جدید انداز میں  تیز رفتار کشتیوں،  چھوٹی آبدوزوں اور بحری میزائلوں پر توجہ دی تاکہ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں دشمن  کے توازن کو بگاڑا جا سکے۔آج ساری دنیا یہ مان رہی ہے کہ میدانِ جنگ میں  امریکہ کے بجائے   ایران کی جنگی حکمت عملی  کامیاب ہے۔

اسی طرح دفاعی میدان میں بھی  ایران نے ایک کثیر سطحی و کثیر جہتی  حفاظتی نظام تشکیل دے رکھا ہے، جس میں طویل فاصلے کے فضائی دفاعی سسٹم، درمیانی درجے کے حفاظتی ہتھیار، جدید ریڈار، اور بغیر پائلٹ طیاروں و کروز میزائلوں کا مقابلہ کرنے والی صلاحیتیں شامل ہیں۔ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں "غیر عسکری دفاع"کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ غیر عسکری دفاع  سے مراد ایسے اقدامات ہیں  جن کے ذریعے قومی ڈھانچے، شہری مراکز اور عوامی نظام کو جنگی حالات میں محفوظ رکھا جا سکے۔

امریکہ و ایران کا جنگی  تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ، قومی اتحاد اور عوامی آمادگی کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ ٹر ٹر کے بیانات کو اب کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا جبکہ ایرانی مسلح افواج پورے اعتماد کے ساتھ  کھلے الفاظ میں دشمن کو للکارتی  اور نشانہ بناتی ہیں۔

 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ طاقت کے گھمنڈ میں ہر طرف اپنا غلبہ پھیلانے کی خواہش میں امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی مرکزی حیثیت کھو دی ہے۔ٹر ٹر کے اقدامات نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ   آج کی دنیا میں ہر ریاست کو امریکی تحاد میں شامل ہونے کے بجائے ایران کی مانند اپنی سلامتی، اپنی آزادی اور اپنے قومی وقار کی حفاظت خود کرنا ہوگی۔ موجودہ عالمی نظام میں ایران کی طرح   ریاستوں کی اپنی طاقت ہی اُن کے  بقا کی ضمانت اور اپنی  دفاعی آمادگی ہی اُن کی  قومی خودمختاری کی بنیاد ہے۔

 ایران مذکورہ بالا  اصول کے تحت اپنی دفاعی قوت کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے، اور اس کا دعویٰ ہے کہ اُس کی دفاعی صلاحیتیں امریکہ و اسرائیل کے اندازوں  سے کہیں  زیادہ  بہتر اور مؤثر ہیں۔ اب دنیا  کی ریاستیں امریکہ سے مدد مانگنے  کے بجائے ایران کی طرح مستقل ہونے کا سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔  یہ سوچ تنہا ایران نے ساری دنیا کو دی ہے کہ  خشکی تو خشکی ہے  جو سمندری راستہ  بھی تجارت کے لیے کھولا جاتا ہے، وہی جنگ کے لیے بند  بھی کیا جا سکتا ہے۔یوں جو وسائل  ترقی، امن اور خوشحالی  کے لیے ضروری ہوتے ہیں،  ضرورت پڑنے پر وہی وسائل جنگ کے سب سے مؤثر ہتھیار بن سکتے ہیں۔


پیر، 4 مئی، 2026

Is Iran engaging in negotiations—or attempting to cure America?

ایران  مذاکرات کر رہا ہے  یا امریکہ کا  علاج؟
ڈاکٹر نذر حافی :
دو ایرانی آئل ٹینکروں کی ضبطی کو سمندری ڈکیتی ہم نے نہیں کہا، یہ اعلان امریکی صدر  نے خود کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد لگتا ہے کہ دنیا بھر میں قانون کی حیثیت اُس تعویذ جیسی رہ گئی ہے جس پر تحریر تو ہوتی ہے، مگر تاثیر نہیں۔جمعہ، یکم مئی 2026 کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے دو جہازوں کو لوٹا گیا۔ ممکن ہے دنیا اسے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک معمول کی جنگی کارروائی سمجھتی، تاہم فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں فورم کلب کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس غلط فہمی کو خود ہی دور کر دیا۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہماری کارروائی ایک سمندری ڈکیتی ہے۔ اس ڈکیتی سے ہم نے تیل حاصل کیا، اور یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ امریکی صدر کا یہ اعتراف، اعتراف بھی ہے اور استہزا بھی؛ یہ امریکہ کی حقیقت بھی ہے اور اس کی سیاست بھی۔
قانونی ماہرین اور معتبر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے حالیہ اقدامات کئی حوالوں سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو ایک سرکاری خط میں زور دیا کہ ایسے اقدامات اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سمندری قوانین کے کنونشن (UNCLOS) کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو آزادانہ آمدورفت کا حق حاصل ہے۔ امریکی عدالتوں کے داخلی فیصلوں کی بنیاد پر ان جہازوں کی ضبطی بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس سارے پسِ منظر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کیلئے قزاقی ایک جرم نہیں بلکہ ایک  ریاستی پالیسی ہے۔ اس قزاقی سے  دنیا کو یہ پیغام پہنچایا گیاہے کہ سُپر طاقتوں کے نزدیک  اس سُپر ماڈرن عہد میں  قزاق طاقتور ہوجائیں تو قزاقی بھی قابلِ فخر پیشہ بن جاتی ہے  اور  مظلوم اپنا دفاع بھی کرے تو اُسے باغی سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ 40 روزہ جنگ کے تناظر میں امریکہ بغیر نقاب کے ساری دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ امریکی فوجی طاقت کے غیر قانونی مظاہرے اور سول آبادی پر وحشیانہ حملے بھی طاقت کا توازن واشنگٹن کے حق میں تبدیل نہ کر سکے۔  قزاق خود ہی  جنگ بندی کا اعلان  کرنے اور پھر اس اعلان  میں یکطرفہ توسیع میں مجبور ہوئے۔آج بچہ بچہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ قزاق  جب عسکری  اور وحشیانہ اقدامات سے  مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے، تو متبادل ذرائع استعمال  کرنے پر مجبور ہوئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر  ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے  ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بیان کوئی سبقتِ لسانی یا لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف مجرمانہ اقدامات کا کھلا اعتراف ہے۔ انہوں نے  ایرانی حکمتِ عملی کے مطابق عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔اسی طرح   محسن رضائی، ایران کے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن  نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کا واحد سمندری ڈاکو ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہاز ہیں! ہماری صلاحیت صرف قزاقوں کا مقابلہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ ہم ان کے بحری جہاز بھی ڈبو سکتے ہیں۔
تنگ آمد بجنگ آمد جیسی صورتحال میں ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کی آبنائے کوبھی بند کرے گا۔ باب المندب جیسی اہم گزرگاہ کو بند کرنا یا مخالف ممالک کے جہازوں کو روکنا ہی امریکہ کیلئے کڑا چیلنج بن جائے گا۔ آگے چل کر یمن کی مزاحمتی قوتیں بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے ماضی میں بھی ایسے اقدامات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ باب المندب کو بند کرنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں فی بیرل 250 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کے بجائے  امریکہ سمیت مغربی ممالک پر  شدید اقتصادی دباؤ  پڑے گا۔اس کا مطلب ہے کہ ایران کو غیر مشروط  طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا  امریکہ کیلئے ممکن ہی نہیں۔ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی جنگ صہیونی ریاست کو اکسا کر شروع کی، ٹرمپ کو یقین تھا کہ یہ جنگ ایران کے ہتھیار ڈالنے یا اس کی حکومت کے سقوط پر منتج ہوگی، اور ابتدائی حملوں کے چند گھنٹوں میں ہی وینزویلا جیسا منظرنامہ ایران میں بھی دہرایا جائے گا۔ اس کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور جنگ  کے پھیلنے اور ایران کے سخت ردعمل کے باعث  جلد ہی واشنگٹن کے سامنے صرف دو راستے کھلے رہ گئے، ایک  مکمل ذلت آمیز پسپائی اور  دوسرا  کھلا اعلانِ شکست۔اس وقت امریکہ نہ  جنگ جاری رکھ سکتا ہے، نہ ایران کو جھکا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی اور راستہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ٹرمپ مؤثر حملے کر سکتا جو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیتے، تو وہ تاخیر نہ کرتا اور جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہ آتی۔اس کے باوجود امریکی صدر کی تقاریر اور سوشل میڈیا پیغامات، نیز اس کے حامی میڈیا کی رپورٹس، اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت اور اقتصادی دباؤ ہی  کامیابی کی کلید ہے۔  امریکی پالیسی میکرز یہ بھی جانتے ہیں  کہ جنگ کا دروازہ  مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، اسی لیے وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے نام بدل کر وقت خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  
اس کے باوجود امریکی ریاست کی  قزاقی  کی کارروائیاں اور امریکی صدر سمیت امریکی حکام کا دھونس آمیز رویّہ یہ بتا رہا ہے کہ  مذاکرات ہونے کے باوجود اب امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم نہیں ہو گی۔امریکی رویّے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع اور گہری خلیج موجود ہے۔ ایسی   گہری خلیج سے چشم پوشی کو پالیسی کے بجائے ایک  ذہنی بیماری  اور نفسیاتی کمزوری سمجھا جانا چاہیے۔ یہ خلیج بتا رہی ہے کہ ایران کے  ردِّ عمل کے باعث  امریکی ریاست کے تمام ستون مکمل طور پر ذہنی و نفسیاتی مریض بن چکی ہیں۔ ایک طرف توامریکی سب کچھ جاننے کا دعویٰ  کر رہے ہیں  اور دوسری طرف  ان پر  کچھ بھی نہ سمجھنے کی کیفیت طاری ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ    امریکہ کی اس اجتماعی  بیماری  اور نفسیاتی کمزوری کو ایرانی بخوبی بھانپ چکے ہیں۔ ایرانیوں  کے نزدیک  امریکہ کو اس وقت  مذاکرات سے زیادہ  علاج کی ضرورت ہے۔ چنانچہ  ساری دنیا مذاکرات اور علاج کو ایک سمجھ رہی ہے جبکہ ایرانی اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امریکہ کا علاج یہ دو   الگ  الگ کام ہیں۔لہذا ایرانی ان دونوں   کاموں کو الگ الگ سطح پر  اپنی اپنی جگہ  جاری  رکھے ہوئے ہیں۔

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...