زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

بدھ، 30 اپریل، 2025

یومِ مزدور۔۔۔ ہم میں سے مزدور کون کون ہے؟ اور وہ خوشحال کیوں نہیں؟


ڈاکٹر نذر حافی : 
مزدور صرف وہ شخص نہیں جو بھٹوں پر اینٹیں اٹھاتا ہے، فیکٹریوں میں مشینوں کے شور میں اپنی سانسیں گنواتا ہے،  یا پھر نمک کی کانوں میں دب کر مر جتا ہے بلکہ  ہر وہ شخص  مزدور ہے جو اس ملک میں دن بھر محنت کرتا ہے، اور رات کو اس امید کے سائے میں سوتا ہے کہ شاید کل کچھ بدلے گالیکن اگلی صبح پھر اُس کیلئے کچھ نہیں بدلتا۔ وہ صرف پانی ، گیس ، اور بجلی  کے بِل ادا کرنے کیلئے پیدا ہوتا ہے اوراپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوائے بغیر ہی مر جاتا ہے۔ جس روز وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قہوہ پی لے وہ دِن اس کیلئے عید کا دن ہوتا ہے۔وہ کبھی چھٹی نہیں کر سکتا، چونکہ چھٹی کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟

مزدور یہ سمجھتا ہے دنیا کی تاریخ محض بادشاہوں، طاقتوروں، اشرافیہ اور زورآوروں نے مرتب کی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ تہذیب و تمدّن  کی تاریخ صرف جنگوں اور معاہدوں کا نتیجہ  نہیں، بلکہ وہ  مزدورکے خون پسینے سے  کا شہکار ہے ۔ یہ مزدور ہی ہیں کہ جنہوں نے تہذیبوں کو اٹھایا، سلطنتوں کو سجایا، مگر تاریخ نے ان کے نام صفحۂ حیات پر رقم نہ کیے۔یومِ مزدور  در اصل انہی مزدوروں کے اُسی  انمٹ کردار کی بازگشت ہے جسے  طاقِ نسیاں میں رکھ دیا گیا ہے۔
یہ دن ہمیں  یہ یاد دلاتا ہے کہ انصاف تب قائم ہوتا ہے جب برابر کو برابر سمجھا جائےلیکن ہمارے ہاں مزدور نہ برابر ہے، اور  نہ  اُسے اپنے برابر سمجھا جاتا ہے، وہ ہرروز صرف  ایک ٹشو پیپر کے طور پر استعمال  ہوتا ہے۔انگریزی صنعتی انقلاب کے دوران جب کارخانوں نے زمین پر   خطرناک دھواں اور آسمان پرزہریلا  سایہ  پھیلایا   تو انسان بھی  ایک مشین کا پرزہ بن کر رہ گیا۔یہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیّہ ہے  کہ اُس وقت  انسان کی قیمت ایک مشین جتنی بھی نہیں بلکہ کسی مشین کے ایک   پُرزے جتنی طے کر دی گئی تھی۔  1886ء کا شکاگو  ہمیں اسی المیّے کی یاد دلاتا ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر انسان اتنا بے بس ہو گیا تھا کہ  مزدوروں نے صرف آٹھ گھنٹے کے کام کا مطالبہ کیا، اور ریاست نے  گولیوں سے اُن کا سینہ چیر دیا۔  یہ دن اُن دِنوں میں سے ایک ہے کہ جب ریاست یہ بھول گئی تھی کہ وہ ایک ماں ہے۔ اُس کے بعد  جو احتجاج ہوا وہ  محض   ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ  یہ ایک عہدِ نو کا  آغاز تھا۔ اس عہدِ نو میں مقتدر اشرافیہ نے یہ تسلیم کیا کہ  مزدور کو  ہر حال میں اس کی محنت کا مکمل صلہ ملنا چاہیے اور  اُس کا صلہ فقط دو وقت کی روٹی و  روزی  تک محدود نہیں بلکہ  یہ صلہ معیاری  اجرت ، عزّت، سہولت اور مساوات کی صورت میں مزدور کا انسانی حق ہے۔ اگرچہ آج تک  دنیا بھر  میں  مزدور کا حال اُس مٹی کی مانند ہے جو کھیت کو سبزہ دیتی ہے، مگر خود خشک رہتی ہے۔ مزدور  بیمار ہو تو دوا نایاب، وہ زخمی ہو تو معاوضہ ندارد، اور اگر اُس کے آنگن میں بچہ پیدا ہو تو تعلیم کے دروازے بند۔دوسری طرف اشرافیہ کے بچوں کے لیے اوکسفورڈ اور ہاورڈ کےدروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔آج مزدور صرف معاشی غلام نہیں بلکہ علمی اور فکری غلامی میں بھی گرفتار ہے۔ اُس کے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور شعور حاصل کرنے سے پہلے ہی افلاس کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔مزدور کو غربت کی صلیب سے اُتارنا  تبھی ممکن ہے کہ  جب اُسے  اُس کا جائز مقام دیا جائے، اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ  جب تعلیم، انصاف، صحت اور ترقی کو خاندانی وراثت نہیں، انسانی حق سمجھا جائے۔
وہ مزدور جو آج کے دور میں معاشی غلام بن چکا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم میں سے ہر  وہ شخص  ہے جس کی محنت کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرتی، جس کے ہاتھوں کی سختی اور جسم کی تھکاوٹ کا بدلہ اُسے معیاری زندگی کی صورت میں نہیں ملتا۔ وہ اپنی روزمرہ کی جدوجہد میں دن رات ایک کرتا ہے، مگر اُسے اُجرت شکریے کےبجائے  یوں دی جاتی ہے کہ جیسے اُس پر کوئی  احسان کیا جا رہا ہو۔ وہ مسلسل دوڑتا ہے، کولہو کے بیل کی مانند، لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں، اور اس کی زندگی میں خوشحالی کا تصور محض ایک خواب ہوتا ہے۔
بھلا کوئی اندازہ کرے اُس شخص کی مشکلات کا کہ جو  دِل و  جان سے محنت کرتا ہے لیکن اس کی محنت کا کوئی حقیقی بدلہ اُسے  نہیں ملتا۔ جو اپنی ساری جسمانی  قوت و توانائی اپنی مزدوری میں صرف کردیتا ہے لیکن وہ  سکون سے نہیں جیتا۔ اس کی روزانہ کی جدوجہد اُس کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتی۔ وہ زمین سے رزق کماتا ہے، لیکن اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی اسے زندگی کے ہر پہلو میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔
ہمارے عہد کا یہ نوحہ ہے کہ یہاں   سچائی اور ایمانداری سے محنت کرنے والا کبھی اپنے پیٹ کی آگ کو پوری طرح نہیں بجھا پاتا، وہ ایک عظیم انسان ضرور ہوتا ہے لیکن خوشحال انسان نہیں بن پاتا۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے دین ، تہذیب اور سماج میں محنت کرنے والا  ایک عظیم شخص تو ہے لیکن  وہ خوشحال کیوں نہیں ہوتا؟

پیر، 28 اپریل، 2025

کیا پرہیز گاری بھی فتنہ بن سکتی ہے؟

تحریر سید امتیاز علی رضوی : 
ہر دور میں انسان کے لیے سب سے بڑا چیلنج حق و باطل کے درمیان فرق کرنا رہا ہے۔ یہ فرق محض ظاہری اعمال یا عبادات سے نہیں، بلکہ گہری بصیرت اور شعور سے واضح ہوتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں خوارج کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ وہ نماز، روزے، تسبیح اور زہد میں مشغول تھے، لیکن ان کا سب سے بڑا المیہ بصیرت کا فقدان تھا۔ وہ حرام مال سے تو بچتے تھے، مگر حرام خون بہانے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے تھے۔ ان کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پرہیزگاری اور عبادت کے باوجود انسان بصیرت سے محروم ہو تو وہ بڑے بڑے فتنوں کا شکار ہو سکتا ہے۔  
 بصیرت کیا ہے؟ 
بصیرت محض علم یا معلومات کا انبار نہیں، بلکہ یہ دل کی بینائی ہے جو حق کو باطل سے ممیز کرتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسان کو ظاہر کے پیچھے چھپے باطن تک پہنچاتی ہے۔ بصیرت محض مشاہدہ نہیں، بلکہ گہری فہم و ادراک ہے۔ بصیرت صرف آنکھوں کی بینائی نہیں، بلکہ دل کی گہری سمجھ ہے۔ بصیرت محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک جامع تصور ہے۔ یہ وہ قوتِ ممیزہ ہے جو انسان کو حق و باطل، نور و ظلمت اور صداقت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ جس شخص میں یہ صلاحیت نہیں، وہ بظاہر نیک ہوتے ہوئے بھی بڑے فتنوں کا حصہ بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیرت کو ایمان کی بنیادی شرط قرار دیا ہے:  
 ﴿قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا﴾  (الأنعام: ۱۰۴)   "تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں آ چکی ہیں، پس جو شخص دیکھے (سمجھے) تو اپنے فائدے کے لیے، اور جو اندھا ہو تو اپنے نقصان کے لیے۔"   
اسی طرح سورہ حج میں ارشاد ہوتا ہے:   ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾  (الحج: ۴۶)  
 "کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ ان کے دل ہوتے جو سمجھتے، یا کان ہوتے جو سنتے؟ درحقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"   
 تاریخ کا سبق: خوارج کی المناک داستان 
خوارج کی تاریخ ہمارے لیے ایک عبرت ہے۔ وہ حضرت علیؑ کے ساتھ جنگِ جمل میں شریک تھے، لیکن جب نفس اور تعصب نے غلبہ پایا تو وہی لوگ امامِ وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عبداللہ بن خباب جیسے مومن کو صرف اس جرم میں قتل کر دیا کہ وہ حضرت علیؑ سے محبت کرتا تھا۔ انہیں ایک معصوم جنین تک پر کوئی رحم نہ آیا، لیکن وہ اسی لمحے طویل سجدوں میں مشغول ہو گئے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے تکفیریت کا بیج بویا اور حضرت علی جیسی شخصیت کو کافر قرار دیا، یوں حضرت علیؑ کے قاتل ابن ملجم کو جنم دیا۔ یہ اصول تاریخ سے ثابت ہے کہ جن قوموں نے بصیرت کو ترک کیا، وہ تباہ ہو گئیں۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیؑ کے بعد بصیرت کھو دی تو گمراہ ہو گئے۔ خوارج نے ظاہری عبادت کے باوجود حضرت علیؑ جیسی شخصیت کے خلاف تلوار اٹھا لی۔ آج خوارج کا لفظ بے بصیرتی کی علامت بن چکا ہے۔ آج بھی جو لوگ "دین کی آڑ میں سیاسی کاروبار” کرتے ہیں اور دہشت گردی کے ذریعے عوام کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں، وہ درحقیقت بصیرت سے محروم ہیں۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:  "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"  (صحیح بخاری، کتاب العلم و بحارالانوار، ج 1، ص 177 )   "جس کے ساتھ اللہ بھلائی چاہتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔"  
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ بصیرت دین کی گہری سمجھ اور حق کی پہچان کا نام ہے جو اللہ کی ایک عطا ہے جو اندر سے اچھے انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔  بصیرت کی ضرورت آج بھی اہم ہے   ۔آج بھی ہمارے اردگرد فتنے اسی طرح موجود ہیں، لیکن ان کا روپ بدل چکا ہے۔ کبھی فتنہ بھیڑیے کی طرح دھاڑتا ہوا آتا ہے، تو کبھی دیمک کی طرح خاموشی سے ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔امام علیؑ نے بصیرت کو نجات اور اس کے مد مقابل کو جہالت قرار دیا جو باعث ہلاکت ہے:   "اَلْبَصِيرَةُ نَجَاةٌ، وَالْجَهْلُ هَلَاكٌ"  (نہج البلاغہ، حکمت ۳۹۴)   "بصیرت نجات ہے، اور جہالت ہلاکت۔"   
 ان فتنوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ 
آج کا دور معلومات کا دور ہے، لیکن سچائی اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ میڈیا، پروپیگنڈا اور افواہوں کے اس دور میں بصیرت ہی وہ ہتھیار ہے جو ہمیں گمراہی سے بچا سکتا ہے۔
1.  ہمیں چاہیے کہ  عقیدت کے ساتھ شعور کو ملائیں:  ہر بات کو محض جذباتی طور پر نہ لیں، بلکہ اسے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں۔حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:   "آنکھیں دیکھتی ہیں، مگر دل بینا ہوتا ہے۔ جو چیز ظاہر ہے، وہ فریب ہو سکتی ہے، لیکن جو باطن میں ہے، وہی حقیقت ہے۔"   
2.  ماضی پر نہیں، حال پر نظر رکھیں:  گزشتہ خدمات کسی کو حق کا نمائندہ نہیں بناتیں۔ ہر شخص کا موجودہ کردار ہی اس کا پیمانہ ہے۔اسلام میں ہر شخص کا محاسبہ اس کے موجودہ اعمال اور نیت کے مطابق ہوتا ہے۔ نیک اعمال گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ برے اعمال ماضی کے گناہوں کو بھی زندہ کر سکتے ہیں۔ اسلام میں "حال" کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔
حدیث نبوی (سنن الترمذی):   "مَنْ أَحْسَنَ فِیْ إِسْلَامِہِ لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِیْ إِسْلَامِہِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ" 
  (جو شخص اسلام میں اچھا رہا، اس سے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہوگا، لیکن جو اسلام میں برا رہا، اس سے پہلے اور بعد کے گناہوں کا حساب لیا جائے گا۔)  
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے موجودہ حالات میں نیک ہے تو اس کے ماضی کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، لیکن اگر وہ برائی پر قائم رہے تو اس کا ماضی بھی اس کے خلاف گواہی دے گا۔امام جعفر صادق سے الکافی (کتاب الإیمان والکفر، باب من أسلم ثم أذنب ذنبا) میں مشابہ مطلب کی روایت ہے۔ 
روایت: "مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا أُخِذَ بِهِ وَبِذَنْبِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسْلَمَ وَلَمْ يُذْنِبْ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ." 
(جو شخص اسلام لائے پھر گناہ کرے، تو اسے اسلام لانے کے بعد کے گناہ کے ساتھ ساتھ جاہلیت کے گناہ کی بھی سزا ملے گی۔ اور جو اسلام لائے اور گناہ نہ کرے، اسے جاہلیت کے اعمال کی سزا نہیں دی جائے گی۔)
3.  اصولوں پر قائم رہیں: 
شخصیت پرستی سے بچیں، اصولوں اور اقدار کو اپنا معیار بنائیں۔  شخصیت پرستی سے بچنا اور اصولوں کو اپنا معیار بنانا اسلام اور دیگر دانشورانہ روایات کا اہم درس ہے۔ قرآن و حدیث اور مفکرین کے اقوال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو حق و انصاف کو اپنا راہنما بنانا چاہیے، نہ کہ کسی فرد یا گروہ کی اندھی تقلید کرنا۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:  
 "لا تَكُونُوا عَبْدَ غَيْرِكُمْ وَقَدْ جَعَلَكُمُ اللَّهُ حُرًّا"  (نہج البلاغہ، خط 31)  
"تم دوسروں کے غلام نہ بنو، جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے۔"قرآن میں یہود و نصاریٰ کو ان کے مذہبی رہنماؤں کی اندھی تقلید پر تنبیہ کی گئی ہے:  
  اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ       "انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔"  (سورۃ التوبہ، 9:31)  
جب یہ آیت نازل ہوئی تو کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:    "کیا وہ جو حلال ہے حرام کر دیتے ہیں اور تم حرام کر لیتے ہو؟ جو حرام ہے وہ حلال کر دیتے ہیں اور تم حلال کر لیتے ہو؟"    یہی تو ان کی عبادت (ان کی ربوبیت) ہے۔"  (سنن ترمذی، تفسیر ابن کثیر) 
4.  فتنے کو جڑ سے پہچانیں: 
فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے نظرانداز نہ کریں، بلکہ اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں۔
امام علی (ع) قول نہج البلاغہ، خطبہ 93)میں ہے کہ     "فتنے کو اس وقت دیکھو جب وہ چھوٹا ہو، کیونکہ جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔” 
امام جعفر صادق (ع) سے منقول:     "جب فتنہ اٹھے تو علماء کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کریں، ورنہ اللہ کی لعنت ہو ان پر۔" 

 علامہ اقبالؒ  نے شناخت کی حقیقت کو  کو یوں بیان کیا:  
 "خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں،تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔"   
5.  صالحین کی صحبت اختیار کریں: 
با بصیرت ہونے کے لیے صاحبِ بصیرت لوگوں کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں بری صحبت والوں کی ہمراہی پر پچھتانا پڑے۔ سورۃ الفرقان (25:28-29):
    ﴿يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا   لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي﴾    
   "اے ہلاکت میری! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا! اس نے تو مجھے نصیحت (یاد دہانی) سے گمراہ کر دیا۔” 
صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  
   "الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ" 
   "آدمی اپنے دوست کے دین (و روش) پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ ”امام علی (ع) کا قول ہے:     "صَاحِبِ الْعَقْلِ تَسْلَمْ، وَصَاحِبِ الْجَهْلِ تَنْدَمْ"      "عقل والے کے ساتھ رہو، سلامتی پاؤ گے، اور جاہل کے ساتھ رہو، پچھتاؤ گے۔"     (غرر الحکم، حدیث 4562)
ارسطو کا ایک مشہور مقولہ ہے  ۔   "مجھے بتاؤ تمہارے دوست کون ہیں، اور میں بتاؤں گا تم کون ہو۔” 
6. غور و فکر کی عادت اپنائیں:  ہر چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول نہ کریں بلکہ ہر پہلو کا جائزہ لیں پھر کسی بات پر یقین کریں۔ 
 سقراط  کا مشہور قول ہے:   "غیر معائنہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں۔" 
ماہر نفسیات  کارل یونگ  نے کہا:   "بصیرت وہ چیز نہیں جو آپ دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو آپ کو دکھائی نہ دینے والی چیزوں کا ادراک کرائے۔"   بصیرت وہ چراغ ہے جو تاریک راستوں میں ہمیں منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ صرف پڑھنے لکھنے کا نام نہیں، بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کا ہنر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ہماری گردنیں عبادت میں جھکیں، لیکن ہماری بصیرت بلند ہو۔ بصیرت کا چراغ ہمارے دل میں روشن ہو، اور ہم ہر فتنے سے بچ سکیں۔ ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو  دیکھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں، سنتے ہیں مگر قبول نہیں کرتے۔ 

Voice of Nation Int


یہ وہ عہد ہے جس میں انسانی فکر کا سقطِ جنین ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے، اور ایسے میں نئی فکری دریافت کی امید معدوم سی محسوس ہوتی ہے۔ وائس آف نیشن انٹرنیشنل انسانی فکر کے سقطِ جنین کے المیے سے نبرد آزما ہونے کی ایک معصومانہ کوشش ہے۔ یہاں مطالعہ صرف حقیقت کے پردے کو سرکانے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے باطن میں چھپے ہوئے رازوں میں غوطہ زن ہو کر اُس کی اصل شکل کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔ بلا شبہ، مطالعے کے ہمراہ تحقیق کا سُرور کسی نشے سے کم نہیں۔ جو اس میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ انسان کے داخلی کرب اور فکری اضطراب کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کی لگن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اُس کے لیے ہر جواب نا کافی ہوتا ہے اور وہ سچ کی جستجو میں مسلسل بھٹکتا رہتا ہے۔

یا رہے کہ عقل کی کھڑکی کھولے بغیر، نہ تو اپنے مطالعے سے استفادہ ممکن ہے اور نہ ہی دوسروں کی تحقیق سے۔ مطالعہ اور تحقیق کے ساتھ انسان میں قوتِ فیصلہ بھی ضروری ہے۔ انسانی سماج کے اس خاموش شہر میں بوسیدہ اور پرانی کھوپڑیوں کو علمی فیصلوں کے تازہ پانی سے دھونا نہایت ضروری ہے، ورنہ ان کھوپڑیوں میں انسانی سوچ کی نئی جہتوں کا دب کر مر جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ تحقیق کے ذریعےپرانی سوچ کی سرحدوں سے باہر قدم رکھنا، یعنی انسانی فکر کو سقطِ جنین سے بچانا، آج کے انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ فورم اسی سقطِ جنین کی بقا اور حیات کی ایک سعی ہے۔

 نذر حافی ۳/۶/۲۰۰۶

This is an era where the collapse of human thought has become a harsh reality, and in such a time, the hope for new intellectual discoveries seems nearly extinct. Voice of Nation International is a sincere attempt to confront the tragedy of this collapse of human thought. Here, studying is not just about unveiling the surface of truth, but rather a deep dive into the hidden layers beneath it, aiming to uncover its true essence. Indeed, the pleasure of study combined with research is no less intoxicating than a drug. Those who become immersed in it are driven by an urge to explore the depths of human suffering and intellectual unrest. For them, no answer is ever enough, and they continue searching for the truth, endlessly.

It must be noted that without opening the window of reason, one cannot truly benefit from their own study, nor from the research of others. Alongside study and research, the ability to make sound judgments is equally essential. In the quiet city of human society, it is crucial to cleanse the decaying and ancient skulls with the fresh waters of intellectual decisions. Otherwise, it would be no surprise if the new dimensions of human thought are stifled and die within those skulls. Through research, stepping beyond the limitations of outdated thinking...essentially saving human thought from collapsing is one of the greatest needs of our time. This forum is a genuine effort to preserve and revive that thought.

Nazar Hafi


صدقہ : 

جمعرات، 24 اپریل، 2025

عقیدہِ ختمِ نبوّت


عقیدہِ ختمِ نبوّت کو بطورِ نظامِ حیات سمجھنے کی ضرورت
24 Apr 2025 - 20:35

:عقیدہِ ختمِ نبوّت کو بطورِ نظامِ حیات سمجھنے کی ضرورت : انسان محض گوشت پوست کا پیکر نہیں بلکہ ہدایت کا طلبگار ہے۔ اس کی ضرورت فقط کھانا پینا ہی نہیں بلکہ علم و معرفت کا حصول بھی ہے۔ اسی لئے ہر انسان کے بظاہر چھوٹے سے دماغ کے اُفق پر ہر لحظہ سینکڑوں ...

 

Voice of Nation

شہید رئیسی اور انکے ساتھیوں کی شہادت پر ساری ملت کشمیر اداس ہے، سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
20 May 2024 - 20:07
قیل و قال کے قدموں تلے روندے ہوئے تخصص کا مسخ شُدہ لاشہ
20 Jun 2024 - 15:01
موسّسہ جہانی نورالقرآن میں ایک تقریب
25 Jun 2024 - 13:48
متن شناسی اور فتنہِ ملت بيضا
25 Aug 2024 - 20:49
علمی خلا کا تقدّس
1 Sep 2024 - 12:53
ریاستِ کشمیر۔۔۔ ریاست سے روٹی میں تبدیل ہونے تک
29 Jan 2025 - 19:39
فلسطین و کشمیر۔۔۔ لیلیٰ خالد سے مقبول بٹ تک
4 Feb 2025 - 20:36
یکم مئی۔۔۔۔ مجھے مزدور کے بچوں کو پڑھانا ہے
1 May 2024 - 10:48
پرورشِ فکر اور امام جعفر صادقؑ کا اُسلوب ِتدریس
3 May 2024 - 18:27
ایران کا اندرونی سسٹم
23 May 2024 - 13:43
غزہ کے حامی امریکی طلباء کا ہم پر حق
31 May 2024 - 00:20
3 جون۔۔۔ تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
31 May 2024 - 19:10
کہاں سے آئے یہ اثاثے؟
27 Jun 2024 - 15:24
سانحہ سوات۔۔۔ دینی تربیّت یا مادری تربیت؟
29 Jun 2024 - 12:11
علی زین کا پہلا سفر نامہ
24 Jul 2024 - 21:53

کیا یزید کو واجب الاطاعت کہنا اسلام کی توہین نہیں؟
26 Jul 2024 - 12:58
تعلیمی درسگاہیں اور نادانی کا طوق
30 Jul 2024 - 20:32
اسماعیل ہنیہ کا انتقام
31 Jul 2024 - 21:52
عام آدمی۔۔۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
27 Aug 2024 - 21:26
انسان اور نبوّت کا تعلق
31 Aug 2024 - 11:26
ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا!
10 Sep 2024 - 18:09
ویژن اور ٹیم ورک کے بغیر آثارِ قدیمہ میں بدلتی جدید عمارتیں
21 Sep 2024 - 20:30
پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم کی پیچیدگیاں(1)
18 Oct 2024 - 11:30
پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم کی پیچیدگیاں(2)
19 Oct 2024 - 10:38
نظام تعلیم کے حوالے سے پاکستان میں انجام پانے والے علمی کام پر ایک نظر
22 Oct 2024 - 06:58
پاراچنار۔۔۔ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
31 Oct 2024 - 21:33
جامعۃ الرضا اسلام آباد کے طلباء اور یومِ اقبال
10 Nov 2024 - 06:16
تعلیمی اداروں میں علامہ اقبال کے بغیر اقبالیات
11 Nov 2024 - 11:38
نظامِ تعلیم میں تفتیشی طریقہ کار کی اہمیّت
12 Nov 2024 - 21:30
علم اور تعلیم کے مفہوم پر نگاہِ نو
4 Dec 2024 - 20:17


بشار الاسد کا سقوط اور پاکستانیوں کیلئے درس
11 Dec 2024 - 21:38
16 دسمبر اور پارہ چنار کے بچے
15 Dec 2024 - 11:48
"سوشل میڈیا اور تبلیغی تربیت"۔۔۔ سوچنے والوں کی دنیا
26 Dec 2024 - 02:39
پاراچنار۔۔۔۔ امیرِ شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے
27 Dec 2024 - 02:32
پاراچنار کو تھالی میں رکھ کر پیش کیجئے۔۔۔
30 Dec 2024 - 21:34
2024ء کا آخری سورج اور اہالیانِ پاراچنار
31 Dec 2024 - 19:42
گھر، جاب اور راستے میں بھی مطالعہ کریں، پر کیسے؟
2 Jan 2025 - 08:51
اب ریاست جائے تو کہاں جائے!
18 Jan 2025 - 20:29
پاراچنار کے علاوہ باقی سارا پاکستان شکست کھا چکا ہے!
23 Jan 2025 - 21:30
کعبے میں ولادت۔۔۔۔ فضیلت کے مقابلے میں افسانہ
27 Jan 2025 - 22:45
ضلع کرم کے نامساعد حالات۔۔۔ راستہ اور کھائی
31 Jan 2025 - 17:48
اسلامی انقلاب کی نظر انداز شُدہ ڈاکٹرائن
12 Feb 2025 - 21:48
انقلاب اور گرداب میں فرق
13 Feb 2025 - 19:35
ہندوستان و طالبان۔۔۔۔۔ یہ سب کہانیاں ہیں
19 Feb 2025 - 14:45
نقد در نقد۔۔۔۔ ملوکیت اور مولانا مودودیؒ
20 Feb 2025 - 22:06

شہید سید حسن نصراللہ کی منفرد خاموشی
23 Feb 2025 - 13:34
ہمارے مروّجہ تعلیمی قوانین میں اسلامی تعلیمی قوانین کا خلا
12 Mar 2025 - 21:30
علمی نقد اور متن شناسی کا فقدان۔۔۔۔ پاکستان کے تعلیمی بحران کا خلاصہ
14 Mar 2025 - 21:31
جعفر ایکسپریس ہو یا پاراچنار۔۔۔ منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک
16 Mar 2025 - 21:30
حضرت امام علیؑ کی شہادت کے سیاسی محرکات۔۔۔
19 Mar 2025 - 01:11
خلافت ِبلافصل کا انکار یعنی واضح مینیڈیٹ کا انکار۔۔۔ اثرات و نتائج
22 Mar 2025 - 04:50
23 مارچ کا دن صرف ایک قرارداد کی منظوری کا دن نہیں
23 Mar 2025 - 10:41
عقیدہ امامت کے بغیر عقیدہ ختمِ نبوّت کو درپیش چیلنجز
24 Mar 2025 - 20:30
آپ کیا جانیں کہ ایران کیا ہے؟
26 Mar 2025 - 19:30
مسئلہ فدک۔۔۔ ایک علمی اختلاف یا سیاسی الجھن؟
5 Apr 2025 - 02:30
8 شوّال۔۔۔ ہم زمین پر گِرے پڑے لوگ
6 Apr 2025 - 12:58
فلسطینیوں کے خون کا سیلاب اور پِدی کا شوربہ
11 Apr 2025 - 16:48
جدید زمانے میں فقہِ جعفری بطورِ نصابِ حیات
14 Apr 2025 - 21:30
جدید عہد میں میرا انتخاب فقہِ جعفری ہی کیوں؟
17 Apr 2025 - 06:34
نکیال آزاد کشمیر۔۔۔ بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں
19 Apr 2025 - 20:30
..

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...