زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعرات، 31 جولائی، 2025

صرف مقبوضہ کارگل میں ہی احتجاج کیوں؟ Insult to the Supreme Leader... Why is the protest against India limited only to Occupied Kargil?

رہبرِ معظم کی شان میں گستاخی۔۔۔بھارت کے خلاف صرف مقبوضہ کارگل میں ہی احتجاج کیوں؟
ڈاکٹر نذر حافی
گزشتہ روز یعنی ۳۰ جولائی ۲۰۲۵ کو  بھارت کی طرف سے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شان میں گستاخی کے خلاف مقبوضہ کرگل میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔  امام خمینی میموریل ٹرسٹ کی قیادت میں اس احتجاجی  ریلی کا قافلہ امت مسلمہ کے ضمیر کی بیداری،  اور درد کی ترجمانی کیلئے نکلا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی ریلی مرکزی جامع مسجد سے شروع ہوئی اور امام خمینی چوک سے ہوتی ہوئی لال چوک کرگل پر اختتام پذیر ہوئی ۔مظاہرین نے سپریم رہنما کے خلاف بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف نعرے لگائے ۔انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڑ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نعرے درج تھے۔حاجی اصغر کربلائی اور سید علی موسوی سمیت دیگر مقررین نے خامنہ ای کے حوالے سے ہتک آمیز مواد پھیلانے پر بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم اسلامی اتحاد اور قیادت کو کمزور کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلام دشمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر  آیت اللہ سید علی خامنہ ای مسلمانوں کی عالمی مظلومیت کو صرف جغرافیے  کے دائرے میں نہیں دیکھتے ، ان کا کہنا ہے کہ  "ہم مسلمان کہلانے کے لائق ہی  نہیں، اگر ہم ان آنسووں  سے لاتعلق رہیں جو میانمار، غزہ، کشمیر یا دہلی میں بہتے ہیں۔"صاف ظاہر ہے کہ بھارت اور اسرائیل جیسے ریاستی جبر کے علمبردار، جو مسلمانوں کے اتحاد سے خائف ہیں، حق کی ایسی آواز کو برداشت نہیں کر سکتے۔
بھارت نے کئی دہائیوں سے  کشمیر جنت ِ نظیر کو جہنم کی وادی بنا  رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دمِ تحریر  بھی ظلم کی آگ میں جل رہا ہے۔ وہاں نہ سحر کو چین ہے، نہ شام کو سکون،  نہ قرآن کی عزت محفوظ ہے، نہ اذان کی عظمت،  وہاں ہر دم  صرف آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، اور زبانیں خاموش رہتی ہیں۔ بھارت کو رہبرِ مسلمین آیت اللہ  العظمی خامنہ ای  کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے پر بھی  شدید اعتراض ہے ۔  یہی اعتراض اسرائیل کو بھی ہے کہ رہبرِ معظم فلسطین کیلئے آواز کیوں اٹھاتے ہیں؟
ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف بھارتی و اسرائیلی  گستاخیوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ایرن پر ہونے والے حالیہ  اسرائیلی حملے  کے دوران  ہندوستانی جاسوسوں کی گرفتاریوں کے بعد  ہندوستانی سیاستدانوں اور میڈیا کی   گستاخیوں میں نمایاں اضافہ قابلِ مشاہدہ ہے۔ ہندوستان کی طرف سے یہ گستاخیاں اس خاموش فکری جنگ کا تسلسل ہیں، جو اسلامی جمہوریہ  ایران کے خلاف  بیک وقت   ہتھیاروں اور سازشوں سے لڑی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایران و اسرائیل جنگ کے دوران  ایران پر ہونے والے  حملوں میں استعمال ہونے والی معلومات کی درستگی اور وقت کی حساسیت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ معلومات  اسرائیل تک  کیسے پہنچتی رہیں؟ جب اسرائیلی اور امریکی ایجنٹ ایران میں داخل نہیں ہو سکتے، تو پھر ایران کے اندر ایسا کون تھا جو اسرائیل کو یہ ساری مدد فراہم کر رہا تھا؟ 
حالیہ ایران اسرائیل کا تجزیہ و تحلیل کرنے والے بخوبی سمجھتے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) عرصہ دراز سے ایران میں ترقیاتی منصوبوں، بندرگاہوں اور توانائی کے شعبوں کی آڑ میں ایک مضبوط جاسوسی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ وہی نیٹ ورک ہے جس نے اسرائیل کو ایران کے حساس مقامات پر حملوں کے لیے ضروری معلومات فراہم کیں۔ 
ایران کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت سے تجارتی لین دین اپنی جگہ لیکن بھارت اپنے نظریاتی حلیف اسرائیل کی خاطر ایران کے سینے میں  خنجر مارنے کیلئے تیار ہے۔ اپنے مذموم مقاصد کیلئے  بھارت نے ایران کے اعتماد کو سبوتاژ کرتے ہوئے ماضی میں ایران کی زمین کو کئی مرتبہ  پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ کلبھوشن یادیو، ایک حاضر سروس بھارتی نیول افسر، را کا سینئر ایجنٹ، ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا اور اُس نے پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرپرستی کی ۔ آج ایران میں درجنوں بھارتی جاسوسوں کی گرفتاری ، در اصل ایران و بھارت کے درمیان اس نظریاتی  دشمنی کی کھلی گواہی ہے۔ بھارت نے ایران پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خنجر ہمیشہ دشمن کے ہاتھ میں نہیں ہوتا  بعض اوقات وہ دوست کی آستین سے بھی  نکلتا ہے۔
ایران کے بعد پاکستان  وہ واحد اسلامی ملک ہے جس نے ہر موقع پر امت کے درد کو اپنی آواز دی۔ چاہے غزہ میں اسرائیلی جارحیت ہو یا کشمیر میں بھارتی بربریت، پاکستان کی زبان کبھی گنگ نہیں ہوئی۔ ایران و پاکستان  نے ہر مشکل وقت میں دنیا کو دکھا  ہے کہ ایمان، غیرت اور تدبیر مل جائیں تو دشمن کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔
مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، صرف ہتھیاروں کا نہیں، نظریات کا اشتراک ہے۔ ہندوتوا اور صہیونیت کا یہ اتحاد پوری مسلم دنیا کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے۔  ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی  وزیر خارجہ کے خلاف بھارتی سیاسی دلالوں و  میڈیا ایجنٹس کی نازیبا زبان، اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جو مسلمانوں کو نفرت، تعصب اور استہزا کا نشانہ بنانا ضروری سمجھتی ہے۔
ایرانی قیادت عرصہ دراز سے دیکھ رہی ہے کہ بھارتی سیاسی قوّتیں  بظاہر دوستی کا  عندیہ دیتی ہیں مگر پسِ پردہ  پیٹھ میں خنجر گھونپتی ہیں؟ بھارت و اسرائیل کو ایسی مسلم قیادت ہر گز قبول نہیں جو انہیں مسلمانوں پر ظلم کرنے سے ٹوکے لہذا وہ ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف نازیبا الفاظ اور مختلف پروپیگنڈوں  کا استعمال کر کے اس حقیقی عالمی و اسلامی  قیادت کی عوامی مقبولیت کو کم کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ لمحہ کسی معمولی سیاسی ردعمل کا نہیں، بیداری، بصیرت اور عملی اتحاد کا تقاضا ہے۔بھارت کے اس رویّے کے خلاف صرف مقبوضہ کارگل میں ہی نہیں بلکہ  ساری دنیا  میں ہر ممکنہ طریقے سے احتجاج ہونا چاہیے۔یہ بروقت احتجاج ہی ہماری زندگی کی علامت ہوگا ورنہ   اگر آج ہم بیدار نہ ہوئے، تو کل ہمیں صرف تاریخ  گونگے شیطانوں میں شمار کرے گی۔
آج پاکستان اور ایران کے پاس   عالمِ اسلام کو بیدار اور متحد کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، ایک ایسا موقع جو شاید صدیوں میں ایک بار آتا ہےکہ وہ مل کر اسلامی دنیا کو ایک نئی سمت دیں اور باہمی اعتماد کے ساتھ دشمن کے مورچوں کی طرف  سیاسی، سفارتی و اقتصادی محاز وں پر  آگے بڑھیں۔اگر ہم نے آج  رہبر مسلمین کی شان میں گستاخی پربے حسی  اختیار کی، تو یاد رکھیں کہ  بے حس قومیں تاریخ کے صفحات میں نہیں، مٹی کے نیچے دفن ہوتی ہیں۔

نصاب کے علاوہ مطالعہ

نصاب کے علاوہ مطالعہ
محمد حسن جمالی
شخصیت میں ارتقا کے لئے کثرت مطالعہ اور مباحثہ ناگزیر ہے۔دنیا میں غیر معصوم جتنی بھی نابغہ شخصیات گزری ہیں ان کی سیرت،تاریخ اور احوال زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عمیق مطالعہ کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ علمی بحث ومباحثہ کرنا ان کی زندگی کا سب سے محبوب مشغلہ تھا۔مطالعہ اور مباحثہ جہاں انسان کو آفاقی بناتے ہیں وہیں وہ انسان کی تعمیر شخصیت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جب انسان علمی کتابوں کا گہرا مطالعہ اور مباحثہ کرتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں کا علم ہوتا ہے،اس کے شعور میں پختگی پیدا ہوتی ہے،اس میں اچھے اور بُرے کی تمیز پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے،اس میں مسائل کو منطقی معیار پر پرکھنے کی قوت پیدا ہوتی ہے،اس کی چھپی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھرنے اور ابھرنے کا موقع ملتا ہے،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل مطالعہ ومباحثہ انسان کائنات،انسان اور خدا سے متعلق مسائل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔
مطالعہ اور مباحثہ طالب علموں کی علمی اور فکری استعداد بڑھانے کے لئے ناگزیر ضرورت ہے، اس بناء پر ضروری ہے اساتذہ اور والدین طلباء کو مطالعہ ومباحثے کی طرف ترغیب دلائیں اور ان دو چیزوں کی اہمیت اور فوائد سے ان کو ہر وقت آگاہ کرتے رہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ طلباء کے سامنے اس بات کا تکرار تو کرتے رہتے ہیں کہ سبق پڑھیں, درس یاد کیا کریں ,پوری دلجمعی سے محنت کریں مطالعہ ذیادہ کریں و... لیکن وہ روش مطالعہ کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ۔
جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مطالعے کے کئی طریقے ہیں اور ایک ہی روش سب کے لئے مفید نہیں ہوسکتی،البتہ مختلف محققین اور دانشوروں کے تجربے کی روشنی میں مطالعے کی بہترین روش یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والے دانشمند جب کسی کتاب کو پڑھنا شروع کرتے ہیں تو ایک پیراگراف پڑھ کر رک جائیں،اس کے مفہوم پر غور کریں،اسے سمجھیں پھر اپنے مختصر الفاظ میں اس کا لب لباب نوٹ کریں،یوں اسے ذهن نشین کرنے کے بعد اگلا پیراگراف پڑھیں اوراسی طرح آگے پڑھتے جائیں۔اس کے علاوہ نکتہ برداری اور حاشیہ نویسی کی عادت کریں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مطالعہ کتب کے فوائد کیا ہیں؟ جواب یہ ہے کہ مطالعہ کتب کے بے شمار فوائد ہیں۔سرفہرست کتابیں پڑھنے سے انسان باشعور ہوتا ہے اور واضح سی بات ہے کہ باشعور افراد سے ہی قومیں کمال اور ترقی کی منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔جن معاشروں میں افراد تو ہوں مگر وہ شعور نہ رکھتے ہوں وہ معاشرے ہمیشہ پستی اور زوال کا شکار رہتے ہیں۔
باشعور افراد کی بہت ساری خصوصیات ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:باشعور افراد اپنے نفع اور نقصان کو پہچانتے ہیں،خیر اور شر کا علم رکھتے ہیں،اپنے انفرادی زندگی کے مسائل سے لے کر اجتماعی مسائل کو حل کرنے کے لئے آگاہی اور بیداری کے ساتھ ممکنہ راہیں تلاش کرتے ہیں،وہ جزبات سے کام اور بات کرنے کے بجائے منطق اور عقل کی روشنی میں معاملات اور مسائل کو حل کی کوشش کرتے ہیں،باشعور لوگوں کے سامنے جب کوئی علمی، فکری یا سیاسی مسئلہ مجہول بن کر ابھرتا ہے تو اس کے بارے میں جلدی قضاوت نہیں کرتے ہیں، بلکہ اس مسئلے پر بالکل بے طرف ہوکر نگاہ کرتے ہیں،غور وخوض کرتے ہیں اور اس مجہول کو علمی صحیح وغلط کے معیار اور میزان پر تول کر معلوم میں بدلنے کی سعی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ باشعور لوگ ضمیر فروش،ذاتی مفادات پر اجتماعی مفادات کو قربان کرنے والے،عیاش پرست،دنیوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دینے والے،سیاسی میدان میں آنکھیں بند کرکے اندہی تقلید کرنے والے نہیں ہوتے ہیں۔باشعور افراد ماضی کے تلخ واقعات،حوادث اور حالات پر کف افسوس ملتے رہنے کے بجائے ان سے درس عبرت لیتے ہیں،ماضی کے تجربات سے اپنے حال ومستقبل کی بہتری کے لئے سامان فراہم کرتے ہیں۔
مطالعے کی اہمیت اور فوائد کے حوالے سے قلمکار جناب محبوب عالم عبدالسلام سدھارتھ نگر، یوپی صاحب کا ایک دلچسپ مضمون نظر سے گزرا جس کا ایک اہم حصہ یہ ہے وہ لکھتے ہیں:جس طرح غذائیت سے بھرپور غذا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے،اسی طرح روحانی اور فکری ارتقا کے لیے اچھی کتابوں کا مطالعہ جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ آدمی کتابوں کے مطالعہ سے ہزاروں سال قبل کے لوگوں سے گویا ملاقات کر لیتا ہے اور تصورات کی دنیا میں جا کر تاریخ کے بلند پایہ انسانوں کی صحبت میں بیٹھ کر ان سے تبادلۂ خیال کرنے کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔
متعدد و متنوع افکار و خیالات سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔ وہ مذید لکھتے ہیں: مطالعۂ کتب سے ذہن میں وسعت اور سوچ و فکر میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، نیک و بد میں تمیز کرنے کا ہنر پیدا ہوتا ہے، شعور و احساس بیدار ہوتا ہے اور یہی شعور و احساس انقلاب آفریں کارنامے انجام دینے پر ابھارتا ہے، اگر انسان کا شعور مرجائے، احساس پژمردہ ہوجائے، فکر و سوچ منجمد ہو جائیں تو انسان تندرست و توانا ہونے کے باوجود بھی زندہ لاش کی مانند ہوجائے گا۔ مطالعہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان مطالعے میں منہمک ہوکر غلط قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچ جاتا ہے، فحش اور بدبودار مجلسوں سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیتا ہے۔
اس لیے کتابوں کی اہمیت اور مطالعۂ کتب کی افادیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے، ہمارا رشتہ کتابوں سے مضبوط ہونا چاہیے، سفر ہو یا حضر کتابیں ہماری ہمدم، ہم سفر اور ہم نشین ہونی چاہییں۔ کیوں کہ کتابیں ہماری محسن اور غم خوار ہیں، ہماری زندگی کی سب سے اہم اور باوفا دوست ہیں، کتابیں ہمیں تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتیں، اکتاہٹ کو ہمارے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتیں، ہمارے حوصلوں کو بلند کرتی ہیں، ہماری ذہن سازی کرتی ہیں، ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں، ہمارے حزن و ملال اور قلق و اضطراب کو دور کرتی ہیں، ہمیں خوش مزاج اور خوش اطوار بناتی ہیں، کتابیں تنہائی کی بہترین ساتھی اور رفیق ہیں۔ مطالعہ سے مشاہدہ کا سلیقہ آتا ہے، مشاہدہ سے اخذ و استنباط کی حس بڑھ جاتی ہے اور روز مرہ کے عام مشاہدے سے آدمی حالات و واقعات کا تحلیل و تجزیہ کرنےکا اہل ہو جاتا ہے۔
علمی میدان میں کامیابی کسب کرنے کے لئے سٹوڈنس کا کلاسوں میں شرکت کرنا لازم ضرور ہے مگر کافی نہیں،بلکہ ضروری ہے کہ وہ اساتذہ سے فیضیاب ہونے کے ساتھ مطالعہ اور مباحثہ کرنے کو اپنی زندگی کا جز لاینفک قرار دیں۔مطالعہ اورمباحثے کی کثرت اہمیت کے پیش نظر ہمارے دینی مدارس میں تحصیل کرنے والے طلباء کے لئے مطالعہ ومباحثے کے اوقات مشخص ہوتے ہیں،ان مخصوص اوقات میں باقاعدہ طلباء کی حاضری لی جاتی ہے، معمولا نماز مغرب وعشاء کے بعد دو تین گھنٹے مطالعہ کرنا الزامی ہوتا ہے،یہ وقت مطالعہ سے مخصوص ہوتا ہے جس میں مطالعہ سے ہٹکر کسی اور طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔
مطالعے کے مخصوص اوقات میں طلباء فقط اپنی نصابی کتابوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں،اپنے دروس کو دہراتے ہیں اور اگلے دن کی کلاسوں کے اسباق کی درست فہم کی لئے پیش مطالعہ کرکے ان کا اجمالی خاکہ اپنے ذہنوں میں بٹھاتے ہیں۔اسی طرح مدارس میں مباحثے کا وقت بھی مشخص ہوتا ہے جو عام طور پر بعد از ظہر کھانے اور استراحت کے بعد شروع ہوتا ہے، مباحثے کے لئے ہر کلاس کے طلباء کم از کم تین افراد پر مشتمل گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ہر گروہ میں معین یاغیر معین ایک نفر دن کے دروس کی عبارت اور مطالب سنانے کی ذمہ داری نبھاتا ہے اور دوسرے اس کے بیان کو بغور سنتے ہیں پھر اس کے بیان پر اعتراضات اور جوابات کا سلسلہ شروع ہوتاہے۔وہ دن کو اساتذہ سے حاصل کئے ہو دروس اور سنے ہوئے لیکچرز پر باقاعدگی سے گرماگرمی بحث ومباحثہ کرتے ہیں۔یوں بالآخر اچھی طرح وہ اسباق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بیشتر مدارس میں اساتذہ بھی دوران مطالعہ ومباحثہ طلباء کی راہنمائی کے لئے ان کے پاس حاضر رہتے ہیں۔
بلاشبہ یہ سنت حسنہ طلباء کی تعلیمی مضبوطی کے لئےانتہائی مفید ہے،لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر اسکولز میں مشغول علم کے متلاشیوں کے لئے مطالعہ اور مباحثے کا کوئی باضابطہ ٹائم مشخص نہیں ہوتا،خصوصا مباحثے کا تو سرے سے کوئی نظام ہی نہیں ہوتا,البتہ ہاسٹل میں رہنے والے طلباء خود سے بحث ومباحثے کا ماحول بناکر ایک دوسرے سے مباحثہ کرسکتے ہیں۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ انسان کو اپنی تعلیمی بنیاد مستحکم کرنے کے لئےتعلیمی درسگاہوں میں داخلہ لینا پڑھتا ہے،ان کے قوانین وضوابط کا احترام کرنا پڑھتا ہے، اساتذہ کے پاس بیٹھ کر کسب علم کرنا پڑھتا ہے ،ان کے لیکچرز غور سے سننا پڑھتا ہے، نصابی کتابوں کو سمجھنے کے لئے باقاعدگی سے کلاسوں میں شرکت کرنا پڑھتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ہوم ورک, مشق اورتمرین وغیرہ کے کاموں کو پوری ذمہ داری کے ساتھ سر انجام دینا پڑھتا ہے،کیونکہ اس سسٹم میں چلے بغیر انسان کی تعلیمی بنیاد مضبوط نہیں ہوسکتی اورتعلیمی میدان میں پیشرفت کے لئے طالب علموں کی علمی بنیاد مستحکم ہونا اساسی شرط ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا طالب علموں کو اپنی تعلیمی زندگی میں کامیابی کی طرف بڑھنے کے لئے فقط نصابی کتابوں سے ہی چپک کر رہنا چاہئے؟ کیا انہیں اساتذہ کے دروس اور اسباق سننے پر ہی اکتفا کرنا چاہئے؟ دوسرے الفاظ میں کیا طالب علموں کو لکیر کا فقیر بننا درست ہے؟جواب یقینا منفی ہوگا۔یعنی لکیر کا فقیر بننا نہ صرف کامیابی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہے بلکہ یہ تعلیمی پیشرفت کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے طالب علم فکری ذہنی اور قلبی جمود کا شکار ہوجاتا ہے،جس کے نتیجے میں علمی وسیع دنیا اسے چھوٹی دکھائی دیتا ہے۔
علمی سمندر میں تیرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا،کیونکہ اس کی نظر میں دنیا بھر کے محققین کا علمی زخیرہ اپنی خود ساختہ علم کی ندی یا نہر میں ہی سمویا ہوا ہے۔اس کے خیال میں اس علمی ندی یا نہر میں داخل ہوکر ہاتھ پاؤں مارنا سیکھنے والا بڑا باکمال ہے!۔اس ذہنی محدودیت کے سبب علمی میدان سمیت زندگی کے تمام میدانوں میں اس کی ترقی رک جاتی ہے، دوسرے نظریاتی انسانوں سے اس کے فاصلے بڑھ جاتے ہیں،دوسروں کے خیالات سے وہ جاہل رہتا ہے،اپنے نظریئے کے دفاع میں علمی استدلال کے ذریعے طرف مقابل کو قانع کرنے سے وہ قاصر رہتا ہے اور جدل ومغالطہ کاری سے دوسروں کو زیر کرنے کی ناکام عادت اس میں پختہ ہوجاتی ہے۔غرض یہ کہ دوسروں سے الگ تهلک اس کی اپنی ایک علمی دنیا بنتی ہے اور اسی میں رہتے ہوئے اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ آج کے دینی وغیر دینی تعلیمی درسگاہوں میں زیر تعلیم طلباء کی ایک اچھی خاصی تعداد لکیر کا فقیر ہونے کو اپنی کامیابی کی علامت ہونے پر یقین رکھتی ہے،جس کے باعث وہ نصابی کتابوں کے مطالب زیرورو کرنے میں ہی اپنی زندگی کے لمحات گزار رہی ہوتی ہے۔بطور مثال مدارس کے بعض طلباء منطق, اصول الفقہ مظفر یا ادبیات عرب کی کتاب سیوطی کو کئی مرتبہ پڑھنے اور پڑھانے کے باوجود ان کے مباحثے اور درس وتدریس سے جان چھڑانے کا نام ہی نہیں لیتے۔
جب ان کو یوں سمجھا دیا جاتا ہے کہ آپ کا یہ کام اشتباہ ہے،آپ آگے بڑھ جائیے، رسائل ومکاسب کی کلاسوں میں شرکت کیجئے، منطق ونحو کی دوسری کتابیں، کلام کی کتب اور تفسیر قرآن وغیرہ کا مزہ بھی چکنے کی سعی کریں، جس سے آپ کی فکری اور علمی وسعت بڑھ جائے گی۔
آپ کے علمی زخیرے میں اضافہ ہوگا، آپ کو منطق و اصول کے مباحث کی تفصیلات پڑھنے کو ملیں گے،جس کی بدولت آپ کو نحوی ,منطقی اور اصولی مسائل پر جرح وبحث کرنے کے لئے طرز استدلال کے فن میں مہارت حاصل ہوگی،جب ایسا ہوگا تو پھر منطق مظفر، سیوطی وغیرہ سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی و..... تو سمجھانے والے کو ان کی طرف سے یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ جناب آپ خود بڑے اشتباہ کا شکار ہو، آپ کی یہ باتیں مبنی بر حقیقت نہیں،درست روش وہی ہے جو ہم نے اپنائی ہوئی ہے،طالب علم جب تک صرف،نحو اور منطق کا متخصص نہیں بنتا اسے آگے کی کتابوں کو چھونا ہی نہیں چاہئے،اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یقین کیجئے وہ زندگی بھر ادبیات وغیرہ میں کمزور ہی رہے گا و...جس کا یہ نتیجہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ فقط انہی کتابوں کو سمجھ سکتے ہیں اور پڑھا سکتے ہیں بس ۔
بالکل اسی طرح اسکول کالج اوریونیورسٹی کے سٹوڈنس کی قابل توجہ تعداد بھی اپنی نصابی کتب کی حد محدود رہنے کی وجہ سے اپنی ہی دنیا میں جی کر علمی پیشرفت کرنے والوں کے دائرے سے باہر نظر آتی ہے۔ جس کے برے نتائج واثرات اظہر من الشمس ہیں ۔تعلیمی میدان میں کامیابی کے حصول کے لئے طالب علموں کو کھلے دل ودماغ سے پڑھنا ضروری ہے،انہیں اپنے دائرہ مطالعہ کو بڑھانا لازم ہے۔اسکول کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کو اپنے کورس کی کتابوں کے علاوہ اسلامی تعلیمات پر مشتمل کتابوں کے مطالعےکو اپنے معمول کا حصہ بنانا بے حد ضروری ہے۔ البتہ مشورہ یہ ہے کہ منطقی روش کے سے کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اعتقادات سے مربوط کتابوں کو پڑھنا شروع کریں۔
جب عقائد کا اجمالی مطالعاتی دورہ ہوگا تب احکام اور اخلاقیات کا مطالعہ شروع کیجئے۔ممکن ہے یہ سوال کسی کے ذہن میں پیدا ہوجائے کہ ہم کونسے مصنف یا مولف کی کتابیں پڑھیں؟ عقائد،احکام اور اخلاق کا مختصر دورہ مکمل کرنے کےلئے کس کی کتابیں پڑھنا موزون ومناسب رہے گا؟جواب یہ ہےکہ اگر فرصت ملے تو مذکورہ موضوعات سے مربوط کئی مصنفین کی کتابوں پر سرسری نگاہ ڈالیں،ان کے کچھ صفحات کا مطالعہ کیجئے اور پھر انہیں آپس میں موازنہ کرکے جو پسند آئے اسی کو پڑھ لیجئے۔
اگر مختلف وجوہات کی بناء پر ایسا ممکن نہ ہوا تو ضرور کسی عالم ،طالب علم یا اسلام شناس اہل مطالعہ کی طرف رجوع کیا جائے اور اس سے پوچھ کر مطلوبہ ہدف کی تکمیل کی کوشش کیجئے ۔اسی طرح دینی درسگاہوں میں زیر تعلیم طلباء کے لئے بھی تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی نصابی کتابوں کو سمجھ کر پڑھنے کے ساتھ دنیا کے حالات سے باخبر رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نیز ان کو اپنی تعلیمی مضبوطی کے ساتھ مختلف فنون میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے تاکہ دنیا میں پیدا ہونے والے نت نئے چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں ...
آج دینی درسگاہوں اور کالج ویونیورسٹیز کے طلباء کے درمیان پائے جانے والی خلیج کے اسباب کا گہرائی سے مطالعہ کیاجائے تو بہت سارے عوامل دکھائی دیں گے, جن کے پس پردہ لکیر کا فقیر بننے کا عنصر غالب نظر آئے گا۔ واضح سی بات ہے جب تعلیمی مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنے اپنے خول میں بند رہیں گے، ایک دوسرے کی تعلیمی سرگرمیوں سے ناآشنا ہوں گے،آپس میں مکالمے اور رابطے کا فقدان ہوگا تو یقینا ان کے درمیان فاصلے ذیادہ ہی ہوں گے ۔
آج کالج اور یونیورسٹریز میں مشغول اور فارغ التحصیل ہونے والے اکثر طلباء وسیع پیمانے پر مطالعہ اور تحقیق کرکے اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور اس سے وابستہ شب وروز محنت کرنے والے طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہ ہونے کے بجائے اپنے حدود میں محدود رہ کر تعلیمی دورانیہ گزارنے کی وجہ سے ذہنی اور فکری محدودیت،وسعت ظرفی اور قلبی سے عاری اور تفکر و تدبر سے زیادہ وہم و خیال پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔
وہ مغربی مفکرین کی سوچ کی عکاسی کرنے والی کتابوں پر مشتمل کورس اچھے نمبروں سے پاس توکرتے ہیں،لیکن ان کی سازشوں اور چالاکیوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔مسلم دانشمندوں کی اسی کمزوری اور ذہنی محدودیت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے مغرب نے ہر جہت سے (ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، علمی طور پر) مسلمانوں کو اپنا غلام بنایا، جس کےنتیجے میں مسلم مرد و زن، حقیقت کو مجاز سے، حق کو باطل سے، مفید کو مضر سے، محسنات کو مقبحات سے اور مصالح کو مفاسد سے جدا کرنے کی صلاحیت مکمل کھو بیٹھے ہیں وہ اطاعت اسلام ناب محمدی کے بجائے مغرب کے مطیع تام بن گئے ہیں۔بے شک عظیم شخصیت بننے کے لئے مطالعہ اور مباحثہ ناگزیر ہے۔

محرم الحرام میں آنکھوں دیکھا ایک شرمناک واقعہ A shameful incident witnessed during Muharram-ul-Haram

محرم الحرام میں آنکھوں دیکھا  ایک  شرمناک واقعہ  :
ڈاکٹر نقوی :
میں لکھنے سے بہت تنگ ہوتا ہوں، لیکن آج  دوسری مرتبہ اس موضوع پر لکھنے بیٹھا ہوں۔ دوسری مرتبہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس محرم الحرام  ۲۰۲۵ میں نے خود ایک ایسا منظر دیکھا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا۔ میرے ہمسائے میں رہنے والے ایک عالمِ دین  ہیں۔   ایک ہی گلی میں رہنے کی وجہ سے اکثر سلام دعا ہو جاتی ہے۔انہیں محرم الحرام کی کسی تاریخ کو   مجلسِ عزا  پڑھنے  کیلئے ہمارے ملک کی ایک بڑی ہی انقلابی  تنظیم نے  نمازِ مغربین کے فورا بعد دعوت دی۔  آدھی رات کے وقت واپسی پر مولانا صاحب کو  نیاز تک نہیں دی،  واپس پہنچے تو  انہوں نے رات گئے میرے مکان کی گھنٹی بجائی۔  گلی میں کھڑے کھڑے مجھ سے قرض لے کر گاڑی والے کو کرایہ دے کر رخصت کیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی تکلیف نہیں، بلکہ بعض افراد کی طرف سے علمائے کرام کی قدر و منزلت کی توہین کا دردناک تسلسل  ہے۔
یہ ایسے انقلابی مُصلح اور بانی مجالس ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی رپورٹ کیلئے مجلس کروا کر آگے رپورٹ بھیجنی اور پیسے  اکٹھے کرنے ہوتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ  آج  کے دور میں ہماری مجالسِ عزا  ہماری نسل کیلئے کتنی مفید ہے؟ کیا ہمارے دین میں  علمائے کرام کا حق کھانا حرام نہیں ہے؟  ایسے لوگ علمائے کرام کا حق کھا کر ڈکار بھی نہیں مارتے۔ یہ مجالس عزا کو  صرف  دوسروں کو دکھانے  کا ذریعہ سمجھ  رہے ہیں؟ اس مقدس فریضے کی قدر کر نا اور اس  کے ذریعے امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھنا ان کا کام ہی نہیں۔ بانیان مجالس اور مذہبی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں: اگر علما کی تحقیر اور ناقدری کا یہ سلسلہ جاری رہا تو  ہم اپنا علمی سرمایہ کھو دیں گے اور منبروں پر بندر ناچتے رہیں گے۔ 
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے  ضمیر کو جھنجوڑیں، اور اپنی مجالس کے لیے ایسے علماء کا انتخاب کریں جو نہ صرف علم رکھتے ہوں بلکہ امام حسینؑ کے پیغام کو پوری بصیرت اور عقیدت کے ساتھ ہم تک پہنچائیں۔ ورنہ عزاداری کی اصل روح کھو جائے گی، اور ہمارے مقدس اجتماعات کا معیار پہلے سے ہی گرتا چلا جا  رہا ہے۔
یہ حق ہر بانیِ مجلس کو حاصل ہے کہ وہ مجلس کے لیے بہترین عالمِ دین کا انتخاب کرے۔ بہترین عالم کا انتخاب کر کے اسے اس کے علم و محنت کا  ہدیہ نہ دینا اور یا پھر غیر معقول حد تک کم  نیاز  دینا  یہ شرفا کا کام نہیں۔ مجالسِ عزا کی روح اُس علم میں پوشیدہ ہے جو فکرِ حسینی کا ترجمان ہو۔ مگر آج یہ روح بھٹکتی نظر آتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے منبر کو کتنا مقدس جانا، اور اس کے وارث یعنی عالمِ دین کو کتنا سستا سمجھا۔
عالمِ دین کوئی سوداگر نہیں ہوتا کہ اپنے علم کی قیمت طے کرے، مگر وہ بے قیمت بھی نہیں ہوتا۔ وہ حسینی پیغام کو علم و بصیرت کی زبان میں ہم تک پہنچاتا ہے۔ جب ہم اسے چاول کی دیگ سے بھی کم اہمیت دیتے ہیں، تو یہ صرف اس کی نہیں، علم کی توہین ہے، جو کربلا کا اصل پیغام ہے۔کہنے کو ہم علم کو انسانی سعادت کی معراج کہتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم اسی علم کو مفت کا مال سمجھتے ہیں۔ ایک دیگ پر دس ہزار خرچ کرنا نیکی سمجھا جاتا ہے، اور ایک عالمِ دین کو  نیاز دینے کو فضول خرچی۔
 کیا یہ فکری زوال نہیں؟ کیا یہ بصیرت کی کوتاہی نہیں؟کیا حرام صرف سود ہے؟ کیا گناہ صرف ٹیکسی کا کرایہ نہ دینا ہے؟ کیا علم کے چراغ بجھا کر جہالت کا دھواں پھیلانا حرام نہیں؟
آج کے  اکثر بانی حضرات صرف لنگر اور نوحہ کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علم صرف روحانی لوگوں کیلئے ہے اور وہ   تو روح کی غذا ہے  لہذا   عالم کو بھی صرف روحانی غذا ملنی چاہیے! گویا عالم کی زندگی اور اس کے گھر کا خرچ آسمان سے نازل ہوگا۔ یہ شیطانی  فریب ہے، اور جہالت کی بدترین شکل۔ وہ عالم جو کربلا کے بیانیے کو افکار کی لڑی میں پروتا ہے، جو شہادتِ حسینؑ کو فکری بلندیوں سے جوڑتا ہے، جب واپسی پر خالی ہاتھ لوٹتا ہے، تو یہ صرف اُس کی نہیں بلکہ  علم کے مقام کی توہین ہوہے۔یہ وہ المیہ ہے جسے کئی لوگ ہمارے ہاں  دہراتے ہیں، اور پھر بھی دین و عزاداری کے خدمت گزار، بانی مجالس، انقلابی  جوان وغیرہ وغیرہ  کہلاتے ہیں۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یا تو ہم علم کو حقیقتاً مرکزِ عزاداری مان لیں، یا پھر دیگ، سبیل، ماتم اور نوحے کو ہی کامل دین سمجھ لیں  اور عالم کو رسمی تعویذ نویس یا مفت کا نقیب بنا کر چھوڑ دیں۔ بصورتِ دیگر، ہم ایک ایسے معاشرے کا سامنا کریں گے جس میں شہرِ علم کھنڈر ہو چکے ہوں گے، اور منبر پر گونجنے والی صدا محض انٹرٹینمنٹ اور تفریح کا ذریعہ ہوگی۔ یہ ہماری تنظیموں اور باشعور و موثر بزرگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمائے کرام کی قدرومنزلت کے حوالے سے اپنی قوم کی تربیّت کریں۔

The true religion is a divine treasure درست مذہب ایک الٰہی خزانہ ہے

درست مذہب ایک الٰہی خزانہ ہے
بحوالہ خورشید احمد چوہان ایڈووکیٹ صاحب ساہیوال : 
تبصرہ  ڈاکٹر نذر حافی:
ظالم اور جابر کی پرستش بھی کچھ لوگوں کا مذہب ہے۔ کچھ کے بقول منصبِ اقتدار پر زبردستی قابض ہونے والا غاصب حکمران بھی ظلِّ الٰہی بن جاتا ہے۔ اس کی تعظیم واجب اور اس کی اطاعت ثواب کا درجہ جبکہ اس کی مخالفت معصیت و گناہ کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ ایک طرف بہت سارے لوگ ظالموں کو مقدس ثابت کرنے کیلئے تقاریر اور کتابوں کے انبار لگا رہے ہیں اور دوسری طرف ہر دور میں ظالموں کے تقدس کی نفی کرنے والے بھی ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ انسان ہوں یا الفاظ، جو بھی ظالموں کی اندھی پرستش کے بجائے عقل، عدل، منطق اور شعور کی خاطر کام آیا، وہ ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا۔ عظیم اہداف کیلئے استعمال ہونے والی تحریریں بھی عظیم انسانوں کی طرح زندہ رہتی ہیں۔ خورشید احمد چوہان ایڈووکیٹ صاحب کی وصیّت بعنوان "الہیٰ خزانہ" بھی ایسی ہی ایک نادر تحریر ہے۔ وہ 1944ء میں پیدا ہوئے اور 2006ء میں انہوں نے یہ وصیت نامہ مرتب کیا۔ ان کی یہ وصیّت ایک نہایت اہم خزانے کے متعلق ہے اور اسی لئے اس کتاب کا نام بھی انہوں نے "الہیٰ خزانہ" رکھا ہے۔ باالفاظ دیگر یہ وصیّت نامہ ان کی زندگی کے سماجی مشاہدات اور فکری تجربات کی قلمی صورت ہے۔
محترم  وصیّت نگار نے غوروفکر اور تدبّر کے ساتھ اپنے قلب و ضمیر کا عرق نچوڑ کر ان 541 صفحات میں پیش کر دیا ہے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے، جن کے نزدیک  غور و فکر کے بغیر نہ تو کوئی خزانہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت ممکن ہے۔ میں چند دنوں سے اس کتاب کے سحر میں مبتلا ہوں، یہ کتاب جہاں اپنی زبان و بیان کے لحاظ سے اردو ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے، وہیں محققانہ مزاج اور منصفانہ رویّہ رکھنے والوں کے لیے بھی ایک انمول تحقیقی خزانہ ہے۔ چوہان صاحب کا اندازِ نگارش ہمارے ہاں کی وصیّت ناموں کی مروّجہ روایت سے بالکل ہٹ کر ہے۔ عموماً وصیتیں جن کے لیے ہوتی ہیں، انہی کے کام کی ہوتی ہیں اور وہی انہیں محفوظ رکھتے ہیں، لیکن یہ وصیت ان سب سے مختلف ہے۔ 
مجھے اس وصیت نامے پر ابھی بہت کچھ لکھنا ہے، لیکن فی الحال یہ عرض کافی ہے کہ میں کتاب کی تزئین و آرائش یا اس کی سلیس و دلکش زبان پر تبصرہ نہیں کر رہا، نہ ہی مصنف کی ذات، دینداری، یا مسلک سے کوئی غرض رکھتا ہوں۔ میں تو بین السطور جھانکنے کا عادی ہوں۔ بین السطور محتویٰ کے مطابق مصنّف کو  ظالم لوگ سخت ناپسند ہیں اور شاید یہ خامی ہر انسان کے بچپن میں پائی جاتی ہو۔ کتابوں کی دنیا میں مجھے عہدِ کہن سے لے کر آج تک، کوئی ایسا شخص نہیں ملا، جو ظلم و ظالم کو برا کہے بغیر کسی عظیم منصب پر فائز ہوا ہو۔ گویا ظلم سے نفرت اور ظالم کے تقدس کا انکار، انسانی عقل کی معراج کا پہلا زینہ ہے۔ شریعت کی ابتدا بھی "لا الہ" سے ہوتی ہے اور عرفان و سلوک میں سالک کی یہی پہلی منزل ہے۔ "لا" کہنا آسان نہیں؛ اس ایک حرف میں ہزاروں خداؤں اور ظالموں سے انکار پوشیدہ ہوتا ہے۔
اس وصیّت نامے نے مجھے میرا بچپن لوٹا دیا ہے۔ مجھے بچپن میں خدا اس لیے پسند آیا تھا کہ وہ ظالموں سے نفرت کرتا تھا۔ آسمان پر اُڑتے سفید بادلوں کو دیکھ کر مجھے یوں لگتا تھا، جیسے حق و باطل کے لشکر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں۔ آج بھی میرے نزدیک وہ بچپن کا سادہ اور شفاف تصورِ خدا، تمام فلسفوں پر بھاری ہے۔ ہر دور میں اس  طرح کے کئی لوگ اپنے اسی بے داغ بچپن کے ساتھ بڑے ہو جاتے ہیں اور پوری عمر اپنے تصور، وہم و گمان اور خواب و خیال میں ظالموں سے لڑتے رہتے ہیں۔ چوہان صاحب کا یہ وصیت نامہ سالکینِ راہِ خدا کے اسی شفاف مسلک کی نشان دہی کرتا ہے۔ جیسا کہ صفحہ 50 پر انہوں نے لکھا ہے کہ “بچے کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ ظلم سے نفرت کرتا ہے اور مظلوم سے پیار کرتا ہے۔
خداوند متعال نے مجھ میں یہ خصلت کچھ زیادہ عطا فرمائی تھی کہ میں جب بھی کسی پر ظلم ہوتا دیکھتا (خواہ اپنا و یا بیگانہ ہو، اس کے مقابلہ میں ظالم خواہ کس قدر طاقتور اونچے نصیب والا معزز (Elite) اور خوبصورت گورا چٹا ہی کیوں نہ ہو اور اپنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو) میرا خون کھولنا شروع ہو جاتا۔ رنگ متغیر ہو جاتا اور میں بالکل پکا کا میٹر (Meter) ہو جاتا اور فور ظالم سے مکمل طور پر مظلوم کے حق میں ٹکرا جاتا۔ مجھے کوئی بلکہ قطعاً خوف نہ ہوتا کہ ظالم مجھے بھی مظلوم کے ساتھ پیس کر رکھ دے گا، میں پرائی آگ میں کود پڑتا۔” چوہان صاحب کا یہ احساس دراصل انسانی تاریخ کا مجموعی شعور ہے۔ یہ وہ آواز ہے، جو ہر انسان کے ضمیر اور فطرت کی گہرائی سے ابھرتی ہے کہ اگر مظلوم کے مقابلے میں خدا بھی کھڑا ہو تو اس کا بھی انکار کر دو، باقی شخصیات اور بزرگ تو دور کی بات ہیں۔
ایسے مزاج کے لوگوں کے نزدیک ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا انسانیت کی گمشدہ میراث ہے اور یہی حقیقی سیروسلوک کا پہلا قدم۔ ظلم کے تقدس کا تصور فرعونی تہذیب سے بھی پہلے کا ہے اور آج بھی امتِ مسلمہ کے ایک بڑے حصے میں زندہ ہے۔ نہ سوچنے والی اکثریت آج قرآن مجید کو حفظ کرنے، چھاپنے اور رٹنے کے ساتھ ساتھ  ظالموں کے سامنے سجدہ ریز بھی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  وہ الہیٰ خزانہ کہاں گیا، جو قرآن کے ذریعے انسانوں کو بیدار کرنے کے لیے نازل ہوا تھا۔؟ کیا صاحبِ قرآنﷺ نے اس خزانے کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی تھی۔؟
چوہان صاحب نے اپنے وصیت نامے میں یہ چبھتا ہوا سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا رسولِ خداﷺ کو قلم و کاغذ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔؟ رسولِ خداﷺ کو قلم و کاغذ نہ دینے والے لوگوں کے ہجوم سے گریزاں کچھ ایسے بھی ہیں، جو تاریخ کے موڑ پر حضرت ابوذرؓ، حضرت میثم تمارؓ، حضرت عمار یاسرؓ، اور حضرت حجر بن عدیؓ کی مانند تنِ تنہاء کھڑے ہیں۔ ان کا دین، ان کا مسلک اور ان کا راستہ، عام مسلمانوں سے جدا ہے۔ ایسے لوگ نہ عوام کے خوف سے ڈرے، نہ خواص کی سازش سے گھبرائے، نہ جبر کے سامنے جھکے اور نہ زر کے آگے بکے۔ یہی تو وہ چراغ ہیں، جو ظلمت میں روشن رہے، وہ پہاڑ تھے، جو طوفانوں میں قائم رہے اور وہ اذانیں تھے، جو خاموشیوں میں گونجتی رہیں۔۔۔
محقق دراصل ایک باغی ہوتا ہے، جو سوالوں کے تیشے سے تقدیس کے بت توڑتا ہے۔ ہمارے محترم و فاضل وصیّت نگار کی زندگی کی اصل کہانی وہی تحقیقی کشمکش ہے، جس میں وہ اپنے محبوب استاد کی عقیدت اور عقل کے تقاضوں کے بیچ میں پِستے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سچ ہے کہ جو زندگی تحقیق اور خود احتسابی سے خالی ہو، وہ جینے کے قابل نہیں۔ مجھے محترم وصیّت نگار بنیادی طور پر تین شخصیات سے متاثر نظر آئے، ایک حضرت امام حسین ؑ، دوسرے حضرت امام خمینی ؒ اور تیسرے ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب سے۔ انہوں نے اپنے وصیّت نامے کا آغاز کرنے سے پہلے اپنی کتاب میں حضرت امام خمینی ؒ کا وصیّت نامہ بھی شامل کیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مسلکی تبدیلی کی وجہ انہی سوالات کو قرار دیا ہے، جو ڈاکٹر تیجانی سماوی کے دل و دماغ میں اُبھرے تھے۔
فاضل مصنّف نے کمالِ مہارت کے ساتھ حسبِ ضرورت اُن سوالات و جوابات کو ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب کی کتابوں سے نقل کرکے اپنے علم دوست ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔ اُن کے بقول ان کی زندگی میں اُن کی فکری تبدیلی کا آغاز ایک انتہائی بُرے وعدے سے ہوا۔ یہ انتہائی بُرا وعدہ انہیں اپنے ایک انتہائی پیارے اور شفیق استاد کے ساتھ کرنا پڑا۔ البتہ یہ وعدہ جتنا برا تھا، بعد ازاں اُن کیلئے اتنا ہی بابرکت ثابت ہوا۔ بے شک خدا شر سے خیر کو نکالتا ہے اور مردے سے زندہ کو۔ وہ لکھتے ہیں کہ "ایک دفعہ میرے عربی کے استاد جامعہ محمدیہ والے مولوی صاحب جن کا نام عبدالعزیز تھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کا نام عبد العزیز مسکین صاحب تھا اور وہ غالباً بعد ازاں میں نے سنا ہے کہ مدینہ منوّرہ کی یونیورسٹی میں بطور مدرس تشریف لے گئے تھے، ان سے میں عربی پڑھتارہتا تھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ ِمقدس شروع ہوگیا۔
میں نے اُن کو بتایا کہ میرے پاس ایک چھوٹی سی نوٹ بک ہے، جس پر میں نے اُن کا ایک قول ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بذات خود ایک جرم ہے، بہت دیر سے نوٹ کر رکھا ہے (جیسا کہ میں نے اپنی اس بات کی تمہید میں اوپر اس قول کا تذکرہ کیا ہے) نہایت سادگی اور معصومیت سے اور راز دارانہ انداز میں مولوی صاحب کو اپنا شفیق استاد اور بہت بڑا عالم سمجھتے ہوئے بتایا کہ مجھے حضرت امام حسین علیہ السلام کی شخصیت بہت پیاری لگتی ہے اور آنجنابؑ کی مظلومیت کا تو میں دیوانہ ہوں۔" اس کے بعد مولوی صاحب نے چوہان صاحب کو جو جواب دیا وہ بھی ملاحظہ فرمائیں: "مولوی صاحب نے فرمایا کہ بیٹا ایک بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی ذکر حسین علیہ السلام نہ کرنا (نعوذ باللہ من ذالک، اللہ کریم انہیں ہدایت فرمائے! بحیثیت استاد کے میرے لئے وہ بہت محترم ہیں)۔ کربلا کے میدان میں جو جنگ ہوئی تھی، وہ دو شہزادوں کے درمیان جنگ تھی۔ واقعہ کربلا کوئی اہم واقعہ نہ ہے۔
لہذا امام حسین علیہ الصلواۃ والسلام بھی کوئی اہم شخصیت نہ ہیں، مجھ پر اُن کی یہ بات برق بن کر گری، اگرچہ میں حیران بھی تھا کہ مولانا صاحب قبلہ مجھ پر بہت شفیق ہیں۔ مجھے اسی شفقت اور کرم نوازی کی وجہ سے عربی زبان کی تعلیم دیتے ہیں۔ مجھے کوئی غلط تعلیم نہ دے سکتے ہیں۔؟ میرے دل نے انتہائی کراہت اور بیزاری اختیار کی، اُن کی عزت تکریم اور ادب میں آکر میں نے انہیں کہا کہ مولوی صاحب ٹھیک ہے، آئندہ میں ذکر حسینؑ نہ کروں گا (اللہ کریم مجھے معاف فرمائیں الہیٰ آمین ۔ (کسی قدر برا وعدہ میں نے اُن سے کیا)" چوہان صاحب کی تحریر سے یہ حقیقت چھلک رہی ہے کہ مولوی صاحب کا انہیں "ذکرِ حسینؑ" سے منع کرنا دراصل ایک پورے فکری جبر کی علامت تھا۔ ایک ایسا جبر کہ جہاں روشنی کی طرف  لے جانے والا اُستاد اپنے ہی طالب علموں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے اور انہیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔
ہمارے سماج میں کسی طالب علم سے مولوی صاحب کا ایسا وعدہ لینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہمارے ہاں افہام و تفہیم اور تحقیق و مکالمے کے بجائے بچوں کو لکیر کا فقیر بنانے کا رویّہ عام ہے۔ اس روییّے کے نتائج آج ساری اسلامی دنیا میں نظر آ رہے ہیں کہ جہاں مسلمانوں کی بھرمار ہے، لیکن خود مسلمانوں میں اسلام متروک ہوچکا ہے۔ خیر جو لوگ اس روییّے کی تائید کرتے ہیں، وہ اس کی دلیل بھی رکھتے ہیں۔ اُن کی دلیل درست ہے یا غلط، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سچ تب آشکار ہوتا ہے کہ جب تضاد واضح ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لہذا ہم تضاد کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری آپ پر چھوڑتے ہوئے، فاضل وصیّت نگار کے ہی الفاظ میں مولوی صاحب کی دلیل آپ کے سامنے پیش کئے دیتے ہیں: "مولوی صاحب نے کچھ اس طرح سے جواب دیا کہ برخودار ذکرِ حسین مظلومؑ سے ایک تو بغضِ صحابہ پیدا ہوتا ہے اور دوسرا سیرت شیخین مجروح ہوتی ہے۔ لہذا ذکر حسینؑ مظلوم نہ کرنا چاہیئے۔
میں نے کہا استادِ محترم وضاحت فرمائیں، شیخین کون ہیں۔؟ انہوں نے فرمایا پہلے خلیفہ، خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک شیخ ہیں اور دوسرے شیخ ہمارے دوسرے خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، دونوں شیخ مل کر شیخین بنتے ہیں۔ لہذا ان کی سیرت ذکرِ حسین مظلومؑ سے مجروح ہوتی ہے، ٹیوشن کا وقت ختم ہوگیا۔ میں اپنے گھر آگیا، لیکن میرا دل و دماغ مزید الجھ گیا۔" یہاں پہنچ کر یہ وضاحت ضروری ہے کہ چوہان صاحب نے رفتہ رفتہ اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خدا کی ذات، اللہ کی آخری کتاب، آخری نبی ؐ اور قبلے پر کوئی تضاد نہیں۔ اگر تضاد ہے تو وہ صرف اور صرف صحابہ کرام کے بارے میں ہے۔ چنانچہ وہ اب اس تضاد کو سمجھنے اور حل کرنے کے درپے تھے۔ ایسے میں ان کی دلی اور جذباتی کیفیّت کا اندازہ کوئی حسّاس مزاج کا انسان ہی لگا سکتا ہے۔
وہ اپنی اس کیفیّت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں کہ "ہم اہلسنّت والجماعت کا مسلک اور عقیدہ حضرات شیخین رضوان اللہ علیہم کو حضرت نبی اکرمؐ، نبی مرسل ؐ، حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بعد پہلے نمبر پر درجہ دینے کاہے اور پھر ہم میں یہ حدیث بھی مشہور ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی آتا تو وہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی آتے اور پھر ہمارے ہاں نبی ؐکی علالت کے دوران نماز باجماعت کی امامت حضرت ابوبکہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کرواتے تھے کہ روایت بھی مشہور ہے۔" مذکورہ بالا صورتحال سے ہر منصف مزاج محقق کو واسطہ پڑتا ہے۔ سچ جاننے کیلئے سچ کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانا تو ضروری ہے، خصوصاً جب تحقیق کرنے والا اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھتا ہو اور وہ اہلِ تشیع کے بارے میں سچ جاننے کے درپے ہو۔ اس راستے میں عقلِ سلیم ہر محقق سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ چار و ناچار مسلکی تعصبات اور پرانے مقدسات سے بالاتر ہو جائے، چونکہ دین اگر وراثت بن جائے تو تحقیق جرم بن جاتی ہے۔
ہمارے ہاں اہلِ تشیع پر سب سے بڑا الزام ہی یہی ہے کہ وہ صحابہ کرام ؓ کو نہیں مانتے۔ چنانچہ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اہلِ تشیع کا موقف لئے بغیر ایسی تحقیق مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔ اب اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھنے والا جو محقق بھی طرفین یعنی سُنّی و شیعہ کا موقف لینا اور تولنا شروع کرتا ہے تو اُسے اہلِ تشیع کے بارے میں بچپن سے ہی یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ اہلِ تشیع نعوذ باللہ صحابہ کرام پر لعنت کرتے ہیں، ان میں کوئی حافظِ قرآن نہیں ہوتا، شیعہ شامِ غریباں میں اکٹھے ہوکر زنا کرتے ہیں، اہلِ تشیع اپنے مردے کے پیٹ کو ایک ڈنڈے کے ساتھ صاف کرتے ہیں، دس محرم کو شیعہ لوگوں کو پکڑ کر اُن کا خون نکالتے ہیں، جو کہ نیاز کے چاولوں پر ڈال کر کھاتے ہیں، اہلِ تشیع یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ جب وحی لے کر آئے تو  انہوں نے نعوذ باللہ خیانت کرتے ہوئے وحی حضرت علی ؑ کے بجائے حضرت محمدﷺ کو دے دی، شیعہ نماز کے بعد تین مرتبہ خان الامین یعنی جبرائیل امین نے خیانت کی کہتے ہیں۔
شیعوں کے قرآن مجید کے چالیس پارے ہیں، شیعہ وضو اُلٹا کرتے ہیں، شیعہ حضرت امام حسینؑ عالی مقام کے قاتل ہیں، شیعوں کو حضرت زینبؑ کی بددعا ہے، شیعہ نماز جنازہ پڑھتے ہوئے میّت پر لعنت کرتے ہیں، شیعوں کا قبلہ کربلا ہے، شیعوں نے اپنی جیب میں سجدہ گاہ کے نام پر مٹی کا ایک بت بنا کر رکھا ہوتا ہے، جسے وہ نماز کے دوران سجدہ کرتے ہیں، کالا لباس جہنمیوں کا لباس ہے، جو کہ شیعہ پہنتے ہیں، شیعوں کا بانی عبداللہ ابن سبا یہودی ہے، خلیفہ دوّم کے قاتل ابو لولو فیروز کا ایران میں شیعوں نے مقبرہ بنا رکھا ہے، اہلِ تشیع ایران میں اہلِ سنّت کو مسجد تعمیر نہیں کرنے دیتے، وہاں اہل سنّت کی کوئی مسجد نہیں، اہلِ تشیع کا ملک ایران دراصل امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی منصف مزاج محقق دینِ اسلام کے حقائق کو سمجھنا چاہے اور اُس کے ذہن میں پہلے سے ہی اہلِ تشیع کے بارے میں مذکورہ بالا سب کے سب نکات یا ان میں سے اکثر و بیشتر نہ پائے جاتے ہوں۔
چنانچہ تحقیق کی دنیا میں محقق مجبور ہوتا ہے کہ وہ میدان میں اترے، اہلِ تشیع کے معاملات کو خود دیکھے، اُن کے موقف کو سُننے کے بعد سوچے، دوطرفہ دلائل کو  سمجھے اور پرکھے۔ تحقیق کا یہ عمل طولانی اور کٹھن ضرور ہے، تاہم اخروی زندگی یعنی دائمی و ابدی زندگی کے عذاب و ثواب کو دیکھتے ہوئے، اس تحقیقی عمل سے گزرنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ تحقیق کی مشکلات اور اس کے نتائج کا سامنا کرنے سے گھبرانے والے لوگ تو بہت زیادہ ہیں، لہذا ہمارے ہاں اکثریت تحقیق کی طرف جاتی ہی نہیں، لیکن جو تحقیق کرنے کی جرائت کرتے ہیں، وہ اس کے نتائج کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ چنانچہ اس وصیّت نامے میں چوہان صاحب نے اپنی زندگی کے اُن گوشوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو اہلِ تشیع کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد روشن ہوئے۔ انہوں نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں حقائق کی جانکاری سے لے کر شامِ غریباں میں بجھائے جانے والے چراغوں تک اور حدیثِ قرطاس و قلم سے لے کر لشکرِ اُسامہ ؓ تک، نیز شیعوں میں کوئی حافظِ قرآن نہ ہونے سے لے کر فکر و شعور کی بیداری میں حضرت امام حسینؑ کی تحریک کے مختلف ابعاد پر کسی بھی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا۔
شاید ہمارے نزدیک اور بھی ایسے بہت سارے لوگ موجود ہوں، جنہوں نے ان موضوعات پر اچھی تحقیق کر رکھی ہو۔ لہذا قارئین کے ذہن میں یہ رہے کہ الحاج خورشید احمد چوہان صاحب کی انفرادیّت یہ ہے کہ انہوں نے صرف تحقیق ہی نہیں کی بلکہ اپنی تحقیق کو اپنایا بھی ہے۔ کسی بھی شخص کا اپنی تحقیق کو اپنا لینا اور اس کے نتائج کو ہنس کر قبول کر لینا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص نے اپنی طرف سے تحقیق کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہ وصیّت صرف ایک فرد کی فکری تبدیلی کی داستان نہیں، بلکہ مسلمانوں  کے مذہبی روییّے پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے غیر علمی سماج میں استاد کی شفقت و احترام ایک قید ہے اور شاگرد کی سچائی ایک جُرم و گناہ۔ یہاں تحقیق کرنا گویا ظُلم کرنا ہے اور ذکرِ مظلومؑ کرنا گویا ہمارے دین کیلئے ایک خطرہ ہے۔ ایسے سماج میں جو شخص سوال کرتا ہے، وہ محض محقق نہیں، ایک مجاہد ہے۔
اس وصیّت نامے کی اصل اہمیت صرف اس کے علمی نکات میں نہیں، بلکہ اس میں چھپے ہوئے ان گہرے آنسوؤں میں ہے، جو صدیوں سے امت کے ذہن پر بٹھائے گئے تعصبات کو بہا لے جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس تحریر میں ایک ایسا دل دھڑک رہا ہے، جو فرقہ واریت کے سنّاٹے میں وحدت کا ترانہ گاتا ہے اور ایک ایسا ذہن بول رہا ہے، جو مقدّسات کے دبیز پردوں میں چھپے سوالوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ المختصر یہ کہ ہمارے معاصر عہد میں یہ وصیّت نامہ ہر اُس شخص کیلئے چراغِ راہ ہے، جو حق کی تلاش میں ڈولتا اور ڈگمگاتا ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں پرویز گجر کی شہادت The Martyrdom of Parvez Gujar in Occupied Kashmir

مقبوضہ کشمیر  میں پرویز گجر کی شہادت

ڈاکٹر نذر حافی : 

پرویز گجر کی شہادت ہر کشمیری کی شہادت ہے۔ میرا تعلق گجر برادری سے نہیں، لیکن اس کے باوجود آج کل مقبوضہ کشمیر میں گجر برادری کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز بلند کرنا میں اپنی انسانی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔برادریاں ہم کشمیریوں کی شناخت اور پہچان ہیں، یہ ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں اگرچہ کوئی بھی برادری محفوظ نہیں، لیکن اب خاص طور پر گجر برادری کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قابض فورسز سب کشمیریوں کی دشمن ہیں اور وہ سب کو الگ الگ برادریوں میں تقسیم کر کے، ہر ایک کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہتی ہیں۔گجر برادری سے قابض فورسز کی  خاص دشمنی کی ایک اہم وجہ اس کی عددی اکثریت اور اس کا مستقل تاریخ و تمدّن ہے۔ کشمیر کے گجر اپنی سرسبز و شاداب دھرتی کے بیٹے ہیں، ان کی غیرت بھی کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں کی مانند ناقابلِ تسخیر ہے۔ انہیں نوکریوں اور پیسوں کے ذریعے خریدنا یا جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے زیر کرنا ممکن ہی نہیں۔

پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خودمختاری ختم کر کے ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے بعد، قابض حکومت نے سیاسی ریزرویشن اور فارسٹ رائٹس ایکٹ کے نام پر مقبوضہ کشمیر کی مختلف برادریوں کو آپس میں لڑانے کی سازش رچائی۔ قابض بھارتی فورسز کا خیال تھا کہ وہ برادریوں کے نمبرداروں اور لیڈروں کو نوکریوں اور کوٹے کے نام پر ہڈی ڈالیں گے، اور یوں یہاں کے لوگ اپنی آزادی و خودمختاری کو بھول کر آپس میں الجھ جائیں گے۔اس سازش کو گجر برادری نے بروقت بھانپ لیا اور ان کی یہی فہم و فراست آج قابض فورسز کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت گجروں کی تعداد تقریباً بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان کی اکثریت خانہ بدوش طرزِ زندگی گزارتی ہے، لیکن پورے مقبوضہ کشمیر میں ان کی مہمان نوازی، تہذیب، انسان دوستی، محبت، سخاوت، وعدہ وفائی اور معاملہ فہمی کے چرچے ہیں۔ گجر برادری کی حکمت و دانائی کے باعث شیڈولڈ ٹرائب کی ہڈی قابض فورسز کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔ گجر برادری کے اکابرین نے دیگر تمام برادریوں کو سمجھایا ہے کہ یہ ہندوستان کی ایک سازش ہے، جس کا مقصد کشمیریوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ لہٰذا اس سازش کو چال ہی سمجھا جائے اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ نہ بنایا جائے۔

ظاہر ہے کہ ایسی بیداری اور سمجھداری کو ہندوستانی قابض مافیا کیسے برداشت کر سکتا ہے۔دمِ تحریر، یعنی ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ءکو، سارے مقبوضہ کشمیر میں گجر برادری کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ بے شمار گجر نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کیا جا چکا ہے۔ کئی ایک کو فوجی کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور بہت سے افراد لاپتہ ہیں۔ خواتین پر حملوں اور ان کی عصمت دری کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

راجوری کے محمد لیاقت، محمد اعظم، شوکت احمد اور عبدالقادر کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے ایک فوجی کیمپ میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ محمد لیاقت کی دونوں ٹانگیں توڑ دی گئیں۔ گجر افراد کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کرنا یا معذور کر دینا اب معمول بن چکا ہے۔اسی ہفتے، قابض فورسز نے 21 سالہ پرویز احمد گجر کو جموں کے مضافاتی علاقے سور چک میں بلاوجہ گولی مار کر شہید کر دیا۔ پرویز موٹر سائیکل پر اپنی بوڑھی  ماں کیلئے دوائی لینے  جا رہا تھا کہ پولیس نے اسے گولی مار دی۔ 

دوسری طرف، بارہ مولہ اور کپواڑہ میں حالیہ دنوں میں مزید دو کشمیریوں کی قیمتی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے بٹ پورہ  میں متوالی پسوال کی 2 کنال 14 مرلہ اراضی اور ضلع بارہ مولہ کے علاقے سوپورمیں جاوید احمد ڈار کی تین کنال سے زائد اراضی اور رہائشی مکان ہتھیا لیا گیا ہے۔ہماری تمام کشمیری ہم وطنوں سے گزارش ہے کہ اپنے مشترکہ دشمن کی سازشوں کو سمجھیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے دور نہ ہوں، اختلافات کو آپس میں حل کریں اور متحد ہو کر دشمن کا سامنا کریں۔ ہمارے درمیان محبت، اخوت اور یگانگت کی ہزاروں سالہ تاریخ ہے۔ ہمیں اپنے پیاروں کو بھارتی قابض فورسز کے سامنے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

یہ وقت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر دشمن کو یہ پیغام دیں کہ جب خواتین کی عزت و ناموس، جوانوں کی جانیں، اور بزرگوں کی پگڑیاں خطرے میں ہوں، تو "ہم سب گجر "ہیں۔ اگر تم نے ظلم ہی کرنا ہے تو آؤ، ہم سب کو مار ڈالو، ہم سب کو کاٹ ڈالو۔ ہم سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ ہم سب اس کی آزادی اور خودمختاری کے خواب دیکھتے ہیں۔ہمارے درمیان کوئی گجر، پہاڑی، بکروال، راجہ، تھکیال ، کیانی یا جنجوعہ نہیں، ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ہم سب اسی دھرتی پر قربان ہوں گے، اور اسی مٹی میں دفن ہوں گے۔ ہمارے  ماں باپ ، ہماری خاک، ہمارے خون اور ہماری عزت و ناموس میں کوئی فرق نہیں۔تم پیلٹ گن کے ذریعے ہماری بینائی تو چھین سکتے ہو، لیکن ہماری دانائی نہیں۔ہم ازل سے بھائی بھائی ہیں، اور ہمیشہ بھائی بھائی رہیں گے۔

 مقبول ترین: کلک کریں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...