جنوبی پنجاب میں عزاداری اور بیداری کی کیفیّت :
تیسری قسط:
شاہراہوں اور چوکوں میں مرکزی جلوسوں کی مجالس :
ڈاکٹر نذر حافی :
سات محرم الحرام کو بازار کی رونق حسبِ معمول تھی۔ جام پور میں دکانوں کے شٹر آدھے کھلے تھے، کہیں تولنے کے باٹ بج رہے تھے، کہیں کپڑے ناپے جا رہے تھے، کہیں چائے کی بھاپ ہوا میں تحلیل ہو رہی تھی۔ اتنے میں دور سے ماتم کی منظم صدا سنائی دی۔ پہلے چند سیاہ علم نمودار ہوئے، پھر عزاداروں کی ایک خاموش مگر پُروقار قطار، اور پھر ایسا محسوس ہوا جیسے پورا بازار اپنی سانس روک کر اس قافلے کے گزرنے کا منتظر ہو۔ دکاندار اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے، خریداروں نے خرید و فروخت کے جملے ادھورے چھوڑ دیے، گاڑیوں کے شور پر نوحے کی لے غالب آ گئی اور چند لمحوں کے لیے یوں لگا جیسے بازار تجارت کی جگہ تاریخ کی راہداری بن گیا ہو۔ گویا امام حسینؑ کا قافلہ چودہ سو برس کا فاصلہ طے کرکے انہی گلیوں سے گزر رہا ہو اور ہر شخص، چاہے وہ جلوس میں شامل ہو یا کنارے کھڑا تماشائی، اس سفر کا ایک خاموش مسافر بن گیا ہو۔
آج ۷ محرم الحرام ۱۴۴۸ ھجری کو میرے ساتھ آٹھ سالہ حسین عباس بھی جام پور کی عزاداری کو دیکھ کر محوِ حیرت ہے۔ شہر کے ایک مرکزی چوک میں نمازِ مغربین سے کچھ دیر پہلے ایک منبر سجا دیا گیاہے۔ چاروں طرف لوگوں کا حلقہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ سامنے فرشِ عزا بچھا ہے، اطراف میں دکانوں کے شٹر ڈاون ہیں، جیسے ہی منبر سے گفتگو کا آغاز ہوتا ہے تو بازار کی آوازیں خودبخود پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ سبیل پر شربت اور چائے کے کپ ہاتھوں میں رکے رہ جاتے ہیں، سودا سلف کی فہرستیں جیبوں میں واپس چلی جاتی ہیں، راہ گیر چند لمحوں کے لیے اپنے قدم روک لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارا شہر ہی ایک دل بن کر دھڑک رہا ہے۔ منبر سے نکلنے والے الفاظ صرف حاضرین کے کانوں تک نہیں پہنچتے، وہ بازار کی دیواروں، بند ہوتے شٹروں، روشن سائن بورڈوں اور گزرتی ہوئی ہوا میں بھی تحلیل ہو جاتے ہیں، جیسے شہر کی اینٹ اینٹ اس داستان کی سامع ہو۔
ایسا جنوبی پنجاب کے ہر شہر میں ہوتا ہے۔ یہی وہ مناظر ہیں جو عزاداری کی تہذیب کو ایک زندہ اجتماعی معاشرہ بناتے ہیں۔ شاہراہوں پر نکلنے والے جلوس اور چوکوں میں منعقد ہونے والی مرکزی مجالس دراصل امام حسینؑ کے پیغام کو چار دیواری سے نکال کر پورے شہر کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ ہر بازار اور قصبے کے اہم چوک میں امام عالی مقام سے عقیدت کے ناقابلِ فراموش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔میں ابھی اللہ آباد اور چاہ جسو والا سے ہو کر آیا تھا اور اب بستی گڈن کا جلوس بھی دیکھنے جانا تھا۔ ڈیرہ غازی خان بھی چند گھنٹوں کی مسافت پر تھا اور ملتان و جھنگ میں تو آتے ہوئے پڑاو ڈالا تھا۔
جس طرح امام بارگاہ صرف اینٹوں، ستونوں اور گنبدوں کا نام نہیں اسی طرح عزاداری بھی نسل ِ نو کی فکر و تقدیر بدلنے کی کلید ہے۔ اسے اسلامی معاشرے کی فکری اور اخلاقی نبض کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔یہی کربلا کی سب سے بڑی فتح کا نقارہ ہے۔ملتان جیسے بڑے شہر میں جہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور ہزاروں نوجوان موجود ہیں، وہاں امام بارگاہیں علمی مکالمے، تحقیقی سیمینار، مطالعۂ کتب، ڈیجیٹل میڈیا ٹریننگ، بین المسالک مکالمے اور سماجی خدمت کے مراکز بن سکتی ہیں۔ اسی طرح راجن پور جیسے اضلاع میں، جہاں دیہی آبادی اہلِ بیتؑ سے بے پناہ محبت رکھتی ہے، امام بارگاہیں ناخواندگی کے خاتمے، نوجوانوں کی کردار سازی، منشیات سے بچاؤ، تعلیمی رہنمائی اور باہمی تعاون کے مراکز کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ عزاداری میں نوجوانوں کی شرکت تو بہت زیادہ ہے، لیکن ان کی فکری تربیت نسبتاً کم ہے۔ وہ جلوسوں کے نظم و ضبط، ماتم اور دیگر خدمات میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بہت کم ایسے پروگرام ہوتے ہیں جہاں انہیں یہ سکھایا جائے کہ ایک حسینی نوجوان کی شخصیت کن اصولوں پر استوار ہونی چاہیے، وہ اپنے تعلیمی میدان، پیشہ ورانہ زندگی، معاشرتی تعلقات اور قومی ذمہ داریوں میں امام حسینؑ کے کردار کی عملی پیروی کیسے کرے۔
روزانہ رات کو دس بجے ہماری کچھ جوانوں سے ایک ملاقات ہونے لگی۔ ان میں ہر روز کچھ نئے چہرے ہوتے تھے اور کچھ پرانے۔ یہ جوان دن بھر عزاداری میں مشغول رہتے اور رات کو اپنی تھکن اتارنے کیلئے کچھ دیر ہمیں شرفِ ملاقات بخشتے۔ ہمیں ان ملاقاتوں سے عزاداری کے فروغ، مجالس عزا کی اہمیت ، ماتمی سنگتوں، متولی حضرات اور ذاکرین کے بارے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق عزاداری کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنے کیلئے عزاداروں میں جدید ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھانے کی رفتار بھی بہت سست ہے۔ آج جدید دنی جب ا سوشل میڈیا، پوڈکاسٹس، ڈاکومنٹریز، آن لائن کورسز اور ڈیجیٹل لائبریریوں کے ذریعے نظریات پھیلا رہی ہے، تو ایسے میں جنوبی پنجاب کی عزاداری ابھی تک بڑی حد تک روایتی ذرائع تک محدود ہے۔ اگرچہ انفرادی سطح پر بعض قابلِ قدر کوششیں موجود ہیں، لیکن ادارہ جاتی سطح پر ایک منظم حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی۔
ان کے مطابق جنوبی پنجاب کے بعض دورافتادہ علاقوں میں عزاداری کی روایت اتنی ہے کہ عام لوگ سُنائے جانے والے واقعات کو سمجھے بغیر اُن پر سو فیصد یقین رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کئی سال پہلے کسی نے یہ کہا ہے کہ اہلِ بیت کا سفینہ ۲۷ رجب کو مدینے سے نکلا ۔۔۔ تو بعض علاقوں کے لوگ محرم الحرام میں باقاعدہ سفینہ بھی بطورِ شبیہ نکالتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مدینے میں کوئی دریا تھا جس کے میں سوار ہو کر اہلِ بیت ؑکربلا آئے تھے۔ ایسی جگہوں پر یہ سفینے والا قدیمی مضمون سفینہ سامنے رکھ کر آج بھی ذاکرین سے فرمائش کر کے پڑھوایا جاتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں