زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعرات، 30 اپریل، 2026

رضا پہلوی میں آخر برائی کیا ہے؟

 رضا پہلوی  میں آخر برائی کیا ہے؟

ڈاکٹر نذر حافی

انصاف کے نام پر کی جانے والی زیادتی خود انصاف کی نفی بن جاتی ہے۔عرصۂ دراز سے اسرائیل، امریکہ اور بعض خلیجی ریاستوں کے پالیسی ساز حلقوں میں ایران میں رجیم چینج  کی ایک مشترکہ خواہش  موجودہے۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکی عسکری اقدامات ہوں، ایرانی سیاستدانوں اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ، یا سائنسی و تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، ان سب کے پس منظر میں یہی سوچ کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ غیر فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور ثقافتی ورثے کو متاثر کرنے جیسے اقدامات بھی اسی بڑے منصوبے کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کی تکمیل کیلئے  نہ انسانی حقوق کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا اور نہ ہی عدل و انصاف کی پاسداری کی گئی۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں  تمام تر عالمی و اخلاقی ضابطوں کو روندتے ہوئے ایران کے اندر جس قدر  عدمِ استحکام پیدا  کرنے کی کوشش کی گئی  اس کے نتیجے میں ایران  پہلے سے زیادہ مستحکم ہوتا گیا۔

حالیہ پیش رفت میں اسرائیلی قیادت، بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں، ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی طاقت کے استعمال پر آمادہ کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ یہ راستہ صرف اسرائیلی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس بیانیے کی تشکیل اور ترویج میں اُن ایرانی جلاوطن عناصر کا بھی کردار رہا ہے جو کھل کر ایران میں نظام کی تبدیلی کے حامی ہیں۔ یہ افراد امریکی تھنک ٹینکس جیسے ہوور، بروکنگز اور ہیریٹیج وغیرہ سے وابستہ رہ کر نہ صرف  ایران کے خلاف فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں بلکہ میڈیا بیانیے کو بھی  جہت اور سمت دیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ جمہوریت کے داعی ہیں، وہی بیرونی مداخلت کے ذریعے ایران کی جمہوری حکومت کو اُلٹنےکی بات کرتے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کے مشکوک ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ   ایران میں نظام کی تبدیلی کے دعویداروں نے جمہوریت کے نفاذ کیلئے جمہوریت کا ہی سرکچلنے پر کمر کس رکھی ہے۔ 

اس مشکوک اور مجرمانہ سوچ کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک   ایران کو ایک معمول کے بین الاقوامی کھلاڑی کے بجائے ایک مستقل مسئلہ اور خطرہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے لیے ایران کو کسی نہ کسی شکل میں غیر مؤثر بنانا ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے خلاف  سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں، عسکری حکمتِ عملی، رجیم چینج، مخملی انقلاب، حتیٰ کہ بغاوتی اقدامات تک ہر حربہ آزمایا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایران اپنی جگہ پر  برقرار ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں آیا۔ ایران نے حالیہ جنگ میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ  ظلم اور ناانصافی کے ساتھ  کسی ریاست کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش دراصل اسے مزید مضبوط  کر دیتی ہے۔ یعنی  جبر، مزاحمت و استقامت  کو جنم دیتا ہے اور مزاحمت و استقامت ، جبر کو بے اثر بنا دیتی ہے۔

آج ایران کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کا تسلسل ہے۔ اسی تسلسل میں امریکی قیادت کو ایسی معلومات فراہم کی گئیں جنہوں نے یہ تاثر پیدا کیا کہ ایران پر محدود حملہ کر کے نظام کی تبدیلی ممکن ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں کہ بنیامین نیتن یاہو اور موساد کی قیادت نے امریکی صدر کو یقین دلایا کہ چند ہی دنوں میں ایران کا نظام بدلا جا سکتا ہے۔بعد ازاں  زمینی حقائق  نے  ثابت کیا کہ سچائی اور حقیقت کسی کی  خواہش  یا سازش کے تابع نہیں ہوتی۔پرچھائیوں کو حقیقت سمجھ لینا سب سے بڑا فریب ہے۔

پرچھائیوں کو حقیقت  بنا کر پیش کرنا یہ کوئی نیا طرزِ عمل نہیں۔ 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی ایسا ہی بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا، جب احمد چلبی اور کنعان مکیہ جیسے افراد نے امریکی پالیسی سازوں کو  ایسی معلومات فراہم کیں جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ "عراقی قومی کانگریس"، جو احمد چلبی اور کنعان مکیہ جیسے افراد پر مشتمل ایک چھوٹا جلاوطن اپوزیشن گروہ تھا، جس نے امریکی پالیسی سازوں کو عراق پر حملے کے لیے قائل کرنے اور اس سمت میں لے جانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عراقی اپوزیشن کے دیگر گروہ، خصوصاً کُرد اور شیعہ جماعتیں، جو زیادہ منظم اور پرانی تھیں، وہ  امریکی پالیسی پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس "عراقی قومی کانگریس"، جو نئی، کم تعداد اور کم تجربہ کار تھی، امریکی پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔  آج ایک بار پھر ویسا ہی پیٹرن دہرایا جا رہا ہے، فرق صرف کرداروں کا ہے۔ اس بار احمد چلبی اور کنعان مکیہ کی جگہ  رضا پہلوی جیسے افراد کو ایران پر حملے کیلئے نمایاں کیا جا رہا ہے۔ رضا پہلوی ایک ایسا شخص جو طویل عرصے سے ایران سے باہر ہے اور ایران کی سرزمین، اس کی مٹی، تہذیب اور سیاست  سے اس کا  موجودہ تعلق نہ ہونے کے برابر  ہے۔ ایران کے خلاف احمد چلبی اور کنعان مکیہ  کے پیٹرن کو ایک مرتبہ پھر دہرا نے یہ سچ  ثابت ہو گیا ہے کہ  انسان ماضی سے سبق لینے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اکثر وہی غلطیاں دہراتا ہے۔

ایران میں نظام کی تبدیل کے  بیانیے کا آغازمیڈیا اور پروپیگنڈے سے کیا گیا، جہاں ایران کی ایک مخصوص تصویر پیش کی گئی تاکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔ بعد ازاں یہی بیانیہ تھنک ٹینکس میں  تجزیات کی صورت اختیار کر گیا  جہاں غیر جانبداری کے بجائے پالیسی سازوں کی توقعات کے مطابق نتائج اخذ کیے گئے۔ یہ کس قدر ناانصافی ہے کہ کچھ افراد کی رائے (opinion) کو  سچائی کے طور پر پیش کیا گیا۔یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ میڈیا جس حقیقت کو دکھاتا ہے، وہی حقیقت بننے لگتی ہے، حالانکہ وہ محض ایک زاویۂ نظر ہوتی ہے، مکمل سچ نہیں۔

خیر رضا شاہ پہلوی اور اس کے ہمنواوں کے بارے میں  کچھ کہنے سے پہلے ہم اپنے قارئین سے یہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ  کیا کوئی شخص اپنے ہی وطن کے خلاف بیرونی فوجی مداخلت کی حمایت کر کے محبِّ وطن کہلا سکتا ہے؟ اور اگر وہ اپنے آبائی ملک کی تباہی میں بھی اپنا  کردار ادا کرے تو  کیا وہ اپنی ریاست کا وفادار کہلائے گا یا غدار؟

 شخصیات


اتوار، 26 اپریل، 2026

جنگ رکوانے کیلئے بجٹ کے ہمراہ بصیرت بھی خرچ کیجئے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جنگ رکوانے کیلئے  بجٹ کے ہمراہ بصیرت بھی خرچ کیجئے

ڈاکٹر نذر حافی

جنگ ایک  منافع بخش کاروبار ہے۔جنگ کے دوران خون بہنے سے کہیں زیادہ انسانی دماغ اور سرمائے کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔دوسری طرف مذاکرات بھی مفادات کے حصول  اور تحفظ  کیلئے کئے جاتے ہیں۔ فرق  صرف اتنا ہے کہ جنگ گرم اسلحے سے اور مذاکرات قلم، کاغذ، زبان، بیان اور دماغ کے اسلحے سے لڑے جاتے ہیں۔ جنگ میں گولیوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے   اور میزِ مذاکرات پر جملوں کا تبادلہ ۔  سچ بات تو یہ ہے کہ مذاکرات کی میز  پربیٹھا ہوا  انسان اُس شخص سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو میدان جنگ میں ڈٹا ہوا نظر آتا ہے۔ میدان میں لڑنے والا تو صاف  دشمن نظر آتا ہے لیکن میز پر بیٹھا ہوا دشمن  ، دوست بن کر بم گرا رہا ہوتا ہے، یوں مسکراہٹ میں چھپی حکمت  تلوار سے زیادہ  کارگر ہوتی ہے۔


امریکا اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت نے  ایشیا کے معمولاتِ زندگی کے ساتھ  ساتھ  یورپی عوام کے پٹرول پمپس، ہوائی اڈوں، فیکٹریوں، کھیتوں اور گھریلو اشیائے خوردونوش  تک کو متاثر کیا ہے۔دمِ تحریر برسلز آج ایک ایسے بحران میں گھرا ہے جو قیمتوں کے اضافے سے شروع ہو کر  اشیا کی قلت میں  اضافے کا سبب بن چکا ہے، ایندھن مہنگا، کھاد کم، خوراک نایاب اور عوام بےتاب۔ یورپی مفکرین آج اس مخمصے میں ہیں کہ جو براعظم خودمختاری کا دعویدار تھا وہ  کمزور ہو کر واشنگٹن اور تل ابیب کی شروع کردہ جنگ کی قیمت آخر کب تک  ادا کرتا رہے گا؟ معاشی توازن بگڑ چکا، نظامِ معیشت ڈگمگا چکا، اور اس بگاڑ کے  اثرات آبنائے ہرمز سے اٹھ کر عوام کے  گھریلو معاملات  تک آ چکے ہیں۔ ایران کی استقامت کے امریکہ و یورپ پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اصل آزادی وسائل میں نہیں بلکہ فیصلوں میں ہوتی ہے، اور جب فیصلے دب کر کئے جائیں  تو  ایسی طاقت بھی ادھاری ہو تی ہے۔ اس وقت یورپ کے  اضافی طور پر  اربوں یورو صرف اس لیے خرچ ہو رہے ہیں کہ منڈیاں بے قابو اور راستے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ یورپ میں وسائل کی کثرت کے باوجود تحفظ کی قلت  اور  اشیا کی فراوانی کے باوجود قحط کا خوف نمایاں  ہے۔

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور صہیونی جارحیت نے یورپ کے اقتصادی و معاشی توازن کو اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ یورپ کا استحکام اضطراب میں اور خوشحالی بے حساب اخراجات میں بدل گئی ہے۔ اس وقت یورپ کا معاشی بخار آبنائے ہرمز سے اٹھ کر  ایندھن کی درآمدی لاگت، گیس کے ذخائر، جیٹ فیول، پٹرول، کھاد اور خوراک تک پھیلتا ہوا مہنگائی، جمود اور گھریلو معیشت پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ ایرانی مزاحمت و مقاومت اور امریکی و یورپی معاشی جھٹکوں  سے سب کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ معیشتیں صرف  وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ معاشی  استحکام کے تسلسل سے زندہ رہتی ہیں، اور جب یہ تسلسل ٹوٹ جائے تو فراوانی بھی محرومی کا روپ دھار لیتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کی ناامنی نے یورپ کو قیمتوں کے ایسے صدمے سے دوچار کیا ہے کہ ثبات، اضطراب میں اور اعتدال، زوال میں بدل گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق برینٹ تیل 106.06 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس 96.56 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ہفتہ وار اضافہ نمایاں رہا۔ اس کے ساتھ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق جنگ کے پہلے 50 دنوں میں تقریباً 24 ارب یورو اضافی خرچ صرف ایندھن کی مہنگائی کی وجہ سے ہوا۔مسئلہ صرف موجودہ قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ یورپ اپنی سردیوں کی حفاظتی گنجائش بھی کھو رہا ہے۔ گیس ذخائر مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہے اور اس وقت کم سطح پر ہیں، جس سے مستقبل میں مزید نقصانات  کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ راستے سمٹیں تو منڈیاں رونق پیدا کرتی ہیں، اور اگر  رسد گھٹے تو قیمتیں چڑھتی ہیں۔ اس وقت امریکہ و یورپ میں  تجارت میں تعطل اور معیشت میں تزلزل نمایاں ہے۔

یورپ اپنی بڑی مقدار میں جیٹ فیول درآمد کرتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور بعض مقامات پر راشن بندی جیسے اقدامات اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔تیل کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے باعث یورپ میں پٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے، چاہے وہ ٹرانسپورٹ ہو، ہوائی سفر یا روزمرہ اخراجات۔مہنگی توانائی نے کھاد کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔توانائی اور خوراک کے بحران نے یورپ کی معیشت پر واضح اثر ڈالا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، طلب کم ہو رہی ہے، اور کئی صنعتی شعبے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، خاص طور پر جرمنی میں۔

یہ بحران اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ یورپ کی “اسٹریٹجک خودمختاری” ابھی ناقص ہے، مضبوطی  کے نعروں سے زیادہ محتاجی اور فقر کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ بڑی مقدار میں درآمدی ایندھن پر انحصار اسے بیرونی جھٹکوں کے سامنے بے بس بنا دیتا ہے۔ برسلز کے اقدامات زیادہ تر ہنگامی نوعیت کے ہیں، جیسے سبسڈی، ٹیکس میں کمی اور ذخائر کا انتظام۔۔۔ جو طویل مدتی حل نہیں۔یورپ کے اندر عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے، کیونکہ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ  جنگ کا فیصلہ تو  امریکہ و اسرائیل کا تھا لیکن اب وہ   اس جنگ کی قیمت کیوں ادا کر رہے ہیں؟

ہماری دانست میں  یورپ کے لیے اس بحران سے نکلنے کا راستہ  ذخائر اور خزانے لُٹانا  نہیں بلکہ سفارتکاری و  حکمت کے دروازے کھولناہے ۔ اگر یورپ اس صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتا ہے تو اسے بجٹ کے ساتھ بصیرت بھی خرچ کرنی ہوگی۔ یہ مسئلہ فقط ایران کو دبانے سے حل  نہیں ہونے والا  چونکہ پائیدار امن توپوں  کی خاموشی سے نہیں بلکہ شعور کی بیداری سے جنم لیتا ہے، اور جب فیصلے بصیرت اور  جرات سے کیے جائیں تو طوفانوں   میں بھی راستہ بن جاتا ہے۔

 

 


ہفتہ، 25 اپریل، 2026

تو کیا میں ٹرمپ کو خدا مان لوں!

تو کیا میں ٹرمپ کو خدا مان لوں!

ڈاکٹر نذر حافی

تقریباً بائیس سال پہلے کی بات ہے۔میں ایک دوست کے لبوں پر  اخبار پڑھتے ہوئے مسکراہٹ دیکھی۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی لطیفہ پڑھ رہے ہیں؟وہ  بولے نہیں ایک تصویر دیکھ رہا ہوں۔ میں نے بھی اُن کی طرف جھک کر تصویر کو دیکھا تو اُس میں مسکرانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ تصویر میں  ایک امریکی صدر کے ساتھ کوئی ہاتھ ملا رہا تھا۔  میں نے پوچھا اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟  وہ بولے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ یہ لوگ اس طرح جھک جھک کر  امریکیوں سے مصافحہ کرتے ہیں کہ  جیسے یہ کوئی عزت والی بات ہو۔

امریکیوں سے مصافحہ کئے بغیر   ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان مکمل ہوا اور وہ اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ جو لوگ   امریکہ و ایران کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتے وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ سفارتکاری، مذاکرات اور دلائل میں ایران کا کوئی ثانی نہیں۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  مذاکرات  اور دلائل  احمق لوگوں کے سامنے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں ۔ آپ کسی شریر شخص کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن بیوقوف کا نہیں۔  پتہ نہیں کہ دنیا ٹرمپ کو بیوقوف سمجھتی ہے یا شریر لیکن ہم میں سے کچھ لوگ شاید    اُسے خدا سمجھتے ہیں۔  ہمیں تھوڑا سا شک ہی پڑا تھا کہ وہ  پاکستان کا دورہ کرے  گا تو بس ہم نے خوشی کے مارے زمین و آسمان کو ایک کر دیا۔کہتے ہیں کہ شریر آدمی کی نسبت بیوقوف شخص  آسانی سے بھڑک اٹھتا ہے، اور  حملہ کرتے ہوئے شریر آدمی سے کئی گُنا زیادہ  نہایت خطرناک بھی  ثابت ہوتا ہے۔یہ بھی جان لیجئے کہ  شریر آدمی کی اصلاح کی امید رکھی جا سکتی ہے لیکن بیوقوف کی اصلاح کیسے ہو ؟ وہ تو خود پسندی کے خول میں مست و مگن رہتا ہے،  نہ ندامت کی رمق، نہ تامل کا شائبہ، ہمیشہ مشتعل، منفعل ، اور  خوفناک۔

مسٹر ٹرمپ کے بارے میں ہم کوئی زیادہ بات نہیں کرتے صرف یہی  کہنا چاہتے ہیں کہ اُس نے  جنگ کے دسویں روز  یہ اعلان کیا تھا کہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ پھر  گیارہویں دن فرمایا کہ بہت جلد اختتام پذیر ہو جائے گی۔بارہویں روز دعویٰ کیا کہ ہم فتح یاب ہو چکے ہیں۔ اکیسویں دن کہا کہ ہم کامیابی کے نہایت قریب ہیں۔۔۔۔بتیسویں روز بیان دیا کہ عنقریب وہاں سے نکل جائیں گے۔چالیسویں دن اعلان ہوا کہ ہم نے مکمل اور فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ہے۔۔۔اور انچاسویں روز یہی صدا بلند ہوئی کہ ایران نے تنگہ ہرمز کھول دیا ہے۔۔۔اب آپ ہی بتائیں جس شخص کا ہر نیا اعلان اُس کے  پچھلے بیان کی نفی کرتا ہو کیا اُس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ   ٹرمپ کا  سب سے پہلا دعویٰ یہ ہے کہ ایران امریکہ کے لیے فوری اور قریب الوقوع خطرہ تھا اور اسی بنیاد پر حملہ ضروری سمجھا گیا۔ تاہم یہ دعوی کسی بھی طور سچ ثابت نہیں ہو سکا۔اسی طرح ٹرمپ کی طرف سے  یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے پاس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ہی اس دعوے کو مسترد کر دیا۔مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب تھا۔ تاہم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے اس حوالے سے مکمل تردید کی۔ٹرمپ نے جنگ کے مقاصد کے حوالے سے بھی کبھی اسے امریکی عوام کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدام کہا ، اور  کبھی ایران میں “رجیم چینج” اس جنگ کا ہدف قرار دیا۔اسی طرح ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ  حملے صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں لیکن عملاً  غیر فوجی تنصیبات اور شہری ڈھانچے پر بمباری کی گئی۔اس کے علاوہ ٹرمپ نواز میڈیا کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ایران مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور پروپیگنڈا مواد تیار کرتا ہ جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مزید ٹرمپ کی طرف سے یہ بھی  کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے تمام اثاثے مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل نقصان ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکی بحریہ پر کاری ضربیں لگائیں۔ اسی طرح  ٹرمپ کی طرف سے ایران کی بحری طاقت کو مکمل طور پر ختم شدہ قرار دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، لیکن  زمینی حقائق آپ کے سامنے مختلف ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں  ٹرمپ اور امریکی میڈیا نے پاکستان کے اسلام آباد کے مبینہ دورے کے حوالے سے مختلف دعوے کیے، جس میں یہ کہا گیا کہ ونس پاکستان میں ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے جائیں گے، تاہم بعد میں یہ بات غیر مصدقہ ثابت ہوئی۔ اسی طرح یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وِٹکاف اور کوشنر بھی عراقچی کے ساتھ پاکستان آئیں گے تاکہ براہِ راست مذاکرات میں شریک ہوں۔اس دوران بعض علاقائی ذرائع ابلاغ نے بھی ان خبروں کو اس انداز سے پیش کیا کہ گویا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مذکورہ امریکی شخصیات کے درمیان براہِ راست مذاکرات متوقع ہیں، جس سے عوامی سطح پر ابہام اور تذبذب پیدا ہوا۔تاہم عراقچی کا اسلام آباد کا دورہ مکمل ہوا اور کسی قسم کی باضابطہ ملاقات یا مذاکرات منعقد نہیں ہوئے۔ ایرانی حکام اور میڈیا ابتدا ہی سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ اس موقع پر کسی قسم کی مذاکراتی نشست زیرِ غور نہیں ہے، اس کے باوجود امریکی میڈیا اور بعض بیانات میں اس کے برعکس تاثر دیا جاتا رہا۔

آخر میں ہم مسٹر ٹرمپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ وہ بیوقوف ہے یا شریر۔ ہم کوئی فیصلہ تو نہیں کر سکتے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ انسانِ شریر کم از کم اپنے مفاد کی پہچان رکھتا ہے،  یہی شعورِ منفعت کبھی کبھار اس کے قدموں کو لگام دیتا ہے، اور اس کی سرکشی کو کسی حد تک مہار کرتا ہے۔ مگر حماقت۔۔۔نہ اس کی کوئی حد ہوتی ہے اور  نہ اس کا کوئی کنارہ۔ حماقت آغاز ہی میں احمق کے دماغ میں  یہ فریبِ کامل پیدا کرتی ہے کہ گویا ہر سوال کا جواب اُس کے پاس ہے، اور ہر مشکل کا حل وہی جانتا ہے۔ آئیے آخر میں یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کریں کہ  سچائی کیا ہے؟    حقیقت میں ٹرمپ شریر ہے یا بیوقوف یا کچھ لوگوں کے نزدیک خدا؟  جن لوگوں نے ٹرمپ کو شریر یا بیوقوف سمجھنے کے بجائے خدا سمجھ رکھا ہے اُن کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ کوشش کے باوجود سچائی کو نہ سمجھ  پانا یہ کوئی بیوقوفی نہیں بلکہ بیوقوفی تو یہ ہے کہ انسان سچائی کو جان کر  بھی جھوٹ کی  پرستش کرے۔

یہاں پہنچ کر مجھے وہی تقریباً بائیس سالہ پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جس میں  ایک امریکی صدر کے ساتھ کسی کے ہاتھ ملانے کی تصویر تھی۔  میں نے  دوست  سے پوچھا کہ  اس تصویر کو دیکھ کر  ہنسنے والی کیا بات ہے؟  وہ بولے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ یہ لوگ اس طرح جھک جھک کر  امریکیوں سے مصافحہ کرتے ہیں   کہ جیسے یہ کوئی عزت والی بات ہو۔

زندگی نامہ


جمعہ، 24 اپریل، 2026

پولیس انسپکٹر عاشق شاہ کی غنڈہ گردی کے خلاف علی مسجد بارہ کہو سے آئندہ جمعۃ المبارک کو احتجاج کرنے کا اعلان

پولیس انسپکٹر عاشق شاہ کی غنڈہ گردی کے خلاف علی مسجد بارہ کہو سے آئندہ جمعۃ المبارک کو احتجاج کرنے کا اعلان
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بارہ کہو کے علاقے میں متنازعہ گلی کا دیرینہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، جب گزشتہ روز پولیس انسپکٹر عاشق شاہ کی جانب سے عدالتی حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گیس کی پائپ لائن بچھانے اور میٹر نصب کرنے کی کوشش کی گئی۔ جامعۃالرضا کی انتظامیہ نے نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر کال کی اور بارہ کہو تھانے میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کرا دی۔
جامعۃالرضا کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو گھنٹے بعد مدرسے کے ایک استاد جب باہر نکل رہے تھے تو پولیس انسپکٹر عاشق شاہ اور ان کے بیٹوں نے ان کا راستہ روک کر الجھنے کی کوشش کی، جس پر استاد صاحب صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے واپس مدرسے کے اندر چلے گئے، جبکہ مذکورہ شخص کافی دیر تک راستہ روکے کھڑا رہا۔
ایک بار پھر 15 پولیس نے آکر موقع دیکھا، جس کے نتیجے میں فریقین کو گزشتہ شام 7 بجے تھانے میں طلب کیا گیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق تھانے میں نہ تو فریق مخالف پیش ہوا اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اس صورتحال پر آج نماز جمعہ کے خطبے میں مسجد علی ابن ابیطالب بارہ کہو کے امام جمعہ والجماعت اور جامعۃ الرضا کے پرنسپل مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے عوام کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے آئندہ جمعۃ المبارک کو احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران تھانہ بارہ کہو سے لے کر آئی جی اسلام آباد تک متعدد درخواستیں دی گئیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ فریق مخالف توہین عدالت کا بھی مرتکب ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اساتذہ کرام کا راستہ روکنے جیسے واقعات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور سوال اٹھایا کہ متعلقہ ادارے آخر کب حرکت میں آئیں گے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ جمعہ تک مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم ان بے حس اداروں کو بیدار کرنے کیلئے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو پھر ہم  دیگر مساجد کے ائمہ، مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبا کو بھی احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت دیں گے۔
مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کا کہنا تھا کہ جب کسی پولیس افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو پھر عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ یاد رہے کہ عوامی حلقوں میں  ایک دینی مدرسے  اور مسجد کے ساتھ مذکورہ پولیس انسپکٹر  حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا  پایا جاتا ہے ۔ اس احتجاج کی کال کے باوجود اگر متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری انہی اداروں پر عائد ہو گی۔

منگل، 21 اپریل، 2026

ایک کتاب جو ہتھیار ہے۔۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک کتاب جو ہتھیار ہے۔۔۔

وقت اُن پرندوں کی مانند ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ اگرچہ انسان اور وقت ایک ہی دھارے میں بہنے پر مجبور ہیں، تاہم کبھی کبھی وقت کے دامن میں ایسی بلند قامت ہستیاں بھی جنم لیتی ہیں جو وقت کی اسیری قبول نہیں کرتیں بلکہ خود وقت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور اپنے عہد کی تاریخ کا رُخ موڑ دیتی ہیں۔ ایسی شخصیات اپنے زمانے سے  بہت زیادہ  بلند ہو کر استقامت، مزاحمت، تبدیلی اور انقلاب کی علامت بن جاتی ہیں۔ یوں وہ اپنے دور میں انسانیت کے لیے ایک زندہ اسوہ قرار پاتی ہیں۔ اُن کی حیات ایک داستان بھی ہوتی ہے اور ایک دستاویز بھی، حکایت بھی اور حقیقت بھی، روایت بھی اور دلیل بھی۔ بلاشُبہ  ایسی ہی ایک عظیم  شخصیت  کا نام شہید رہبر سید علی خامنہ ای ہے۔

شہید رہبر سید علی خامنہ ای کی بابرکت حیاتِ مبارکہ ہمارے عہد کے لیے انقلاب، استقامت، مزاحمت، جرأت، شجاعت، بصیرت، تقویٰ اور شہادت کا ایسا جامع آئینہ ہے جس میں عصرِ حاضر کی تمام ضرورتیں منعکس ہوتی ہیں۔ آپ نے بحیثیت رہبرِ ملتِ اسلامیہ ساری دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے  کہ انسان اپنی بصیرتِ ایمانی اور تقویٰ کی بدولت اُس مقامِ رفیع  پر فائز ہو سکتا ہے کہ  جہاں سے اس کا سایہ بھی زمین پر نہ پڑے، اور وہ اپنے لہو میں ڈوب کر زمانے کیلئے آفتابِ ہدایت بن جائے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ برادرِ عزیز توقیر ساجد کھرل  نے اس سے پہلے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر بھی ایک لاجواب کتاب تالیف کی تھی۔ اس مرتبہ شہید رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد انہوں  نے ایک بار پھر وقت کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے  شہید رہبر کی حیاتِ مبارکہ کے متفرق گوشوں اور متنوع زاویوں کو نہایت سلیقے اور عرق ریزی کے ساتھ ایک کتابی صورت میں ڈھال دیا  ہے۔ کتاب کا نام بھی انہوں نے" شہید رہبر " ہی رکھا ہے۔ المختصر یہ کہ  اُن کی محنتِ شاقہ کے نتیجے میں شہید رہبر کے حوالے سے  ایک مربوط، سنجیدہ اور فکر انگیز دستاویز وجود میں آ گئی ہے۔

یہ حقیقت مسلم ہے کہ تالیف و تحقیق کی دنیا میں مواد جمع کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن اسی مواد کو معنویت، تسلسل اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ ایک بامعنی بیانیے میں ڈھال دینا نہایت کٹھن اور صبر آزما عمل ہے۔ مؤلف نے منتشر متون، حوالہ جات، معلومات اور اقتباسات کو یکجا کر کے ایک ایسا فکری تسلسل قائم کیا ہے کہ جس میں ترتیب بھی ہے اور تاثیر بھی، ربط بھی ہے اور ضبط بھی۔ بلا شبہ اس تالیف میں مؤلف کا شہید رہبر سے عشق،   محنت، ذوق اور احساسِ ذمہ داری پوری طرح جھلکتا ہے۔

اس کتاب کا ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب شہید رہبر کی نجی زندگی کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اُن کی عہد ساز شخصیت کے بے شمار گوشوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ اس کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ  شہید رہبر کی زندگی ایک طرف قانون کی سخت پابندی سے عبارت تھی  تو دوسری طرف اس میں  فکر کی وسعتوں کا بے کنار سمندر بھی موجزن تھا۔ شہید پر  ایک جانب اقتدار و ذمہ داریوں کا بوجھ تھا  تو دوسری جانب زہد و سادگی کی دلآویز جھلکیاں بھی موجود تھیں۔ ایک طرف ریاستی اختیار و قوت تھا تو دوسری طرف خلوص، یادِ خدا اور انکسار کی نورانی کیفیت بھی نمایاں تھی۔اُن کی شہادت نے سارے عالم پر یہ سچ ثابت کر دیا ہے کہ  شہید کی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

یہ کتاب اس عظیم حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ قیادت و رہبری آرام دہ مسندوں پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وجود کو اپنے ہدف پر قربان کر دینے کا نام ہے۔ شہید رہبر کی عظیم قربانی نے  جہاں ملت اسلامیہ ایران کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے وہیں دنیا بھر کے باوقار انسانوں کے درمیان قربت اور وحدت کے نئے در  بھی وا کیے ہیں۔ خصوصاً ملتِ اسلامیہ کے اندر اخوت و محبت کے رشتوں کو نئی حیات بخشی ہے۔ اس تناظر میں یہ کتاب محض ایک تصنیف نہیں بلکہ جغرافیائی سرحدوں، فکری خلیجوں اور مسلکی فاصلے کم کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار بھی ہے۔ اس کے صفحات میں جہاں شہید رہبر کی حیات کا بحرِ بیکراں موجزن ہے، وہیں اجتماعی شعور کا ایک روشن اور تابناک جزیرہ بھی موجودہے۔ یوں یہ تصنیف سوانح نگاری کے دائرے سے بلند ہو کر ایک عہد ساز شخصیت کے روحانی و فکری سفر کی سند  کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک ایسا سفر جو پاکیزہ نسب سے شروع ہو کر علم و عرفان، دینی تربیت، انقلابی جدوجہد، قید و بند کی صعوبتوں اور عظیم  قیادت و  رہبری کی ذمہ داریوں تک پھیلا ہوا ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ عزیزم توقیر ساجد کھرل کی یہ کتاب شہید رہبرِ معظم کے عشّاق کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، نظریات اور فکری توانائیوں کا سمندر بھی ہے۔ اس میں ہر لفظ کبھی پھول کی مانند مہکتا ہے اور کبھی کانٹے کی طرح دل میں اتر جاتا ہے، کبھی چراغ بن کر راہیں روشن کرتا ہے اور کبھی آنسو بن کر دل کو نم کر دیتا ہے۔ ہر جملہ ذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور ہر لفظ احساس کے بند دروازوں پر دستک دیتا ہے۔شہید رہبر کی علمی، فکری، اخلاقی، سیاسی اور اجتماعی شخصیت کے مختلف زاویوں نے اس کتاب کو جہادِ تبیین کا ایک مؤثر فکری ہتھیار بنا دیا ہے۔ اسے کتاب نہیں ایک فکری ہتھیار سمجھ کر اپنے ساتھ رکھئے ، یہ کتاب  مظلوموں کے دفاع کی  جنگ کے محاذ پر  اور فکری مغالطوں کے  اس دور میں آپ کے ایمان  کی حفاظت کرے گی۔ اس کتاب میں  سیاست، اختیار کے ہمراہ  انکساری  لئے نظر آئے گی،  فوج و پولیس، جیسے ادارے تقویٰ کے ساتھ قانون کے نفاذ کے ذمہ دار دکھائی دیں گے، علما بصیرت کے افق پر جگمگاتے نظر آئیں گے،  اور پالیسی ساز شہادت کے لیے ہمہ وقت تیار  ملیں گے۔ آپ جس بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، یہ کتاب آپ کی تنہائیوں کی رفیق ہے چونکہ  جب بھی آپ توقیر ساجد کھرل کی اس تصنیف کی ورق گردانی کریں گے،تو شہید رہبر کی مظلومانہ شہادت آپ کے سامنے مجسّم ہو جایا کرے گی۔

امید ہے کہ یہ کتاب اہلِ علم اور عام قارئین دونوں کے لیے فہم و آگہی کا چراغ ثابت ہو گی اور ملت اسلامیہ کے درمیان بصیرت، بھائی چارے اور رواداری  کے نئے آفاق روشن کرے گی۔


جمعرات، 16 اپریل، 2026

شہید رہبر معظم کے چہلم کی مناسبت سے مجلس

جامعۃ الرضا میں شہید رہبر معظم کے چہلم کی مناسبت سے مجلس کا انعقاد
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے زیرِ اہتمام شہید رہبر معظم کے چہلم کی مناسبت سے ایک پروقار مجلسِ چہلم کا انعقاد کیا گیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے شہید رہبر معظم کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہید کی سب سے نمایاں خصوصیت "توکل علی اللہ" کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی اسی صفت کی عملی تفسیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر معظم کی موت بھی ان کی زندگی کی مانند دینِ اسلام کے لیے مفید ثابت ہوئی اور ان کی شہادت نے امتِ مسلمہ کو ایک نیا حوصلہ اور ولولہ عطا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرتا ہے، اسے  امریکہ و اسرائیل سمیت سارے شیاطین جن و انس مل کر شکست نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باطل قوتیں جو مرضی ہے کر لیں وہ  اہلِ ایمان کو مغلوب نہیں کر سکتیں۔آخر میں شہید کے درجات کی بلندی اور امتِ مسلمہ کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔


شہید رہبر معظم کی سیرت پر روشنی

جامعۃ الرضا میں درسِ اخلاق، شہید رہبر معظم کی سیرت پر روشنی
مورخہ 16 اپریل 2026 کو جامعۃ الرضا کے طلبا کے لیے ایک اہم درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا، جس سے معروف عالمِ دین مولانا عیسیٰ امینی صاحب نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے شہید رہبر معظم کی اخلاقی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے طلبا کو ان کی سیرت کو اپنانے کی تلقین کی۔ مولانا عیسیٰ امینی صاحب نے کہا کہ شہید رہبر معظم کی زندگی اخلاص، تقویٰ، سادگی، خدمتِ خلق اور علمی جدوجہد کا بہترین نمونہ تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر طلبا ان اعلیٰ صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو وہ حقیقی معنوں میں کامیاب طالب علم بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد کردار سازی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر شہید رہبر معظم نے ہمیشہ زور دیا۔ انہوں نے طلبا کو نصیحت کی کہ وہ اپنے اخلاق، رویے اور نیت کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔ آخر میں مولانا صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام طلبا کو علم کے ساتھ ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں معاشرے کے لیے مفید انسان بنائے۔



شہید رہبر کی اخلاقی خصوصیات

جامعۃالرضا میں شہید رہبر کی اخلاقی خصوصیات پر درسِ اخلاق
اسلام آباد: جامعۃالرضا میں شہید رہبر کے چہلم کی مناسبت سے ایک درس اخلاق کا انتظام کیا گیا۔ اس میں شہید رہبر کی اخلاقی خصوصیات کے موضوع پر  حجۃالاسلام پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب نے  شہید رہبر کی حیاتِ طیبہ اور ان کی نمایاں اخلاقی صفات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی زندگی، خوف خدا، توکل، سادگی، تقویٰ، عزم و استقامت اور امتِ مسلمہ کی خدمت کا روشن نمونہ تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر کی شخصیت میں خدا پر کامل توکل، غیرِ خدا سے بے خوفی اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھتے اور کسی باطل قوت سے مرعوب نہ ہوتے تھے، جو ایک حقیقی مؤمن اور قائد کی پہچان ہے۔
پروفیسر رضوی صاحب نے اپنے خطاب میں دینی طلبا کے اندر بھی ان صفات کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے جذبۂ شہادت اور شہداء کی خصوصیات پر  روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر کی فکر میں شہادت ایک عظیم روحانی مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید حق و صداقت کی راہ میں اپنی جان قربان کرکے ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے، اور یہی جذبہ کسی بھی بیدار اور زندہ قوم کی اساس ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے امتِ مسلمہ کو اتحاد، بیداری، استقامت اور قربانی کا درس دیا، اور ان کی سیرت ان اعلیٰ اقدار کی عملی تفسیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقوی سب کیلئے خصوصا دینی طلبا کیلئے  ایک حفاظتی حصار ہے۔
آخر میں پروفیسر رضوی صاحب نے طلبا کو تلقین کی کہ وہ شہید رہبر کی سیرت و کردار میں تفکر کریں اور ان کی ذات کے مختلف ابعاد کے بارے میں سوچیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں، خدا پر توکل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، باطل سے نہ ڈریں اور حق کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔
تقریب کے اختتام پر طلبا نے سوالات بھی پوچھے۔





منگل، 14 اپریل، 2026

علمی مذاکرہ

اسلام آباد: امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے موقع پر علمی مذاکرہ منعقد

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) 12 اپریل 2026ء بروز اتوار بعد از نمازِ ظہرین مسجد نور زہراء میں نور زہراء قرآن و عترت اکیڈمی کے زیرِ انتظام امام جعفر صادق کی شہادت کی مناسبت سے ایک اہم علمی مذاکرہ منعقد ہوا۔مذاکرے کا عنوان "سیرت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام" تھا، جس سے  مولانا سید رمیز الحسن موسوی، مولانا ڈاکٹر نذر حافی اور مولانا ڈاکٹر غلام عباس نے گفتگو کی، جبکہ نظامت کے فرائض سید میثم عباس نے انجام دیے۔

شرکاء نے اپنی گفتگو میں حضرت امام جعفر صادقؑ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بالخصوص بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار کے تاریخی و عبرت انگیز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے امامؑ کی حکیمانہ تدابیر، علمی بصیرت اور فقہی و فکری خدمات کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر حاضرین نے بھی  مختلف سوالات کیے، جن کے مدلل جوابات نے مذاکرے کو مزید مؤثر اور مفید بنا دیا۔ مجلس مذاکرہ  کے اختتام پر امام جعفر صادقؑ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



جمعہ، 10 اپریل، 2026

کیا شہادت ہر شخص کو نصیب ہو سکتی ہے؟

کیا شہادت ہر شخص کو نصیب ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر نذر حافی

 اگر اس امر پر غور کیا جائے کہ یہ اسلام گزشتہ چودہ سو سالوں میں  کیوں کر  قائم رہا،  اور اسلام کا  نوخیز پودا کیوں مرجھانے نہ پایا اور کیسے بتدریج  یہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہوا، تو اس کا معقول و مدلّل جواب قربانی، ایثار، جذبۂ شہادت اور وقتِ ضرورت میدان میں موجود رہنے کی آمادگی میں ملتا ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب ایک ایسے دور میں برپا ہوا تھا کہ  جب یقین، شک کے سامنے ہتھیار ڈال چکا تھا ،  دنیا کی اکثریت  نامِ خدا اور نظامِ خدا کے بجائے مادی ترقی پر مر مِٹی تھی۔ دنیا  بھر کے نظریہ ساز یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ خدائی نظام اور الہی  دین تو اب قدیم  تاریخ کا قصہ بن چکا ہے۔ ایسے دور میں ایرانی  شہداء نے شہادت کے راستے کو اختیار کر کے مادیت کو پٹڑی سے اتار دیا اور  موت کو زندگی بنا دیا ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سب سے بڑی طاقت خدا پر ایمان کی ہے اور سب سے روشن چراغ  شہادت کا ہے۔ اگرچہ یہ سب سے روشن چراغ ہے لیکن  یہ چراغ ہر دماغ میں نہیں جلتا ۔اس حقیقت کو شہید رہبر نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ  "انقلابِ اسلامی کے عظیم رہنما اُن افراد میں شامل تھے جنہوں نے اُس زمانے میں، جب ایران کے حکمرانوں کی سرکاری ادبیات پر مغربی ثقافت غالب تھی، اس  شہادت کی  ثقافت کو فروغ دیا۔

میں انقلاب سے پہلے مشہد کی ایک مسجد میں نماز پڑھاتا تھا اور لوگوں سے خطاب کرتا تھا، جہاں نوجوان بھی جمع ہو جاتے تھے۔ اُس وقت شہادت، انقلاب کے بعد کے زمانے کی طرح عام نہ تھی  تاہم ہمارے پاس شہداء موجود تھے۔ میں اُن سے کہا کرتا تھا کہ اے نوجوانو! اے بھائیو! شہادت ایک نفع بخش موت ہے، ایک دانا اور باخبر انسان کی موت ہے۔ یہ خدا کا ایک عطیہ ہے اور خدا یہ عطیہ ہر ایک کو نہیں دیتا  بلکہ اسے اُن لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں۔"[1]

بے شک شہید رہبر نے سچ فرمایا ہے۔ آپ اسلامی انقلاب کے شہدا کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھیں۔ شہادت ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتی۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر اس حقیقت کو ہم نے اس جملے میں بیان کیا تھا کہ  شہدا ہی شہید ہوتے ہیں۔  نگاہ کیجیے شہداء کی  ظاہری حیات پر۔  بظاہر وہ خالی ہاتھ اور  دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے مگر  اُن کے دل اور بازو ایمان کی طاقت سے بھرپور تھے۔ اسلامی انقلاب کے ایّام میں وہ خالی ہاتھ  سنگینوں اور توپوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ۔شہنشاہ کے خوفناک ہتھیاروں کے مقابلے میں اُن کے پاس صرف ایمان کی طاقت تھی۔  اسی طاقت سے انہوں نے تخت و تاج اور زمانے کی سُپر طاقتوں کو اپنے قدموں میں جھکا دیا۔

ایمان کی طاقت انسان کو اس زندگی میں ہی ایک چلتا پھرتا شہید بنا دیتی ہے۔وہ اس مادی پیکر میں ایک ایسا انسان بن جاتا ہے کہ  اُسے کوئی مار نہیں سکتا اور جھکا نہیں سکتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شہید رہبر شہادت پر ایک انوکھے انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " لفظ 'شہید' ایک ایسا عنوان ہے کہ جسے آسانی سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لفظ میں دینی، قومی اور انسانی اقدار کا ایک مکمل مجموعہ پوشیدہ ہے۔ جب آپ 'شہید' کہتے ہیں، تو در حقیقت یہ لفظ ایک کتاب کے مانند ہے،  اس میں دینی معارف، قومی معارف اور اخلاقی فضائل کا خزانہ موجود ہے۔ یہ لفظ نہایت بامعنی اور اہم ہے۔"[2]

ہمارے نزدیک جیساکہ شہید رہبر نے فرمایا ہے کہ  شہادت کا عنوان ایک جامع عنوان ہے، اُس کے مطابق شہادت کے راستے پر کاربند رہنے کیلئے انسان کا  اپنی مادی زندگی میں جامع اور اجتماعی ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ شہادت کا راستہ انسانیت کے بلند ترین مقام تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ایران میں اسلامی انقلاب کی  جدوجہد کے ایام میں ایسے بھی لوگ تھے کہ جنہوں نے شہادت کی آرزو اور طاغوت کے خلاف لڑائی کے جذبے سے قدم بڑھائے، مگر اس  سفر کے دوران وہ منحرف ہو گئے۔ وہ جامع ہونے کے بجائے ایک ہی رُخ کو دیکھنے اور اُسی کو لے کر آگے چلنے والے تھے۔ جامعیت خود ایک نورِ ہدایت ہے۔   چنانچہ رہبر معظم نے  اس  مسئلے کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے کہ  "جب آپ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ بعض شہداء عاشقانہ انداز میں شہادت کی آرزو کرتے تھے، تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک نور ڈال دیا تھا۔ اسی نور کے ذریعے وہ حقیقت دیکھ پاتے تھے، اور وہ حقیقت یہ تھی کہ وہ شہادت کے عاشق تھے۔یہ ایک عجیب سچ ہے کہ جنہیں مٹانے کی کوشش کی گئی، وہی فکر بن کر پھیل گئے؛ اور جنہیں طاقت کا زعم تھا، وہ اپنی ہی قوت کے بوجھ تلے دب گئے۔ اگر اس راز کو سمجھ لیا جائے تو زر و زور کی چمک خود اپنی تاریکی بن جائے گی، اور استعماری قوتوں کے تمام ہتھیار اپنی ہی دھار سے بے اثر ہو جائیں گے۔[3]

شہید رہبر کے افکار کی روشنی میں یہاں تک یہ واضح ہو گیا ہے کہ  شہادت  لوگوں کے اذہان میں  ایک مسلمان کی تصویر کو رفعت و عظمت بخشتی ہے اور معاشرے میں اُس کی شناخت کو جرأت، استقامت اور بلند مقاصد کی جستجو سے جوڑ دیتی ہے۔ شہید وہ ہستی ہے جو اپنی انا  سے بلند ہو کر اور ہر پستی کو ٹھکرا کر اپنی قوم کے لیے غیرت، حوصلے اور شجاعت کی نئی روایت قائم کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ لوگ بھی، جو خود راہِ شہادت کے متلاشی نہیں ہوتے، شہداء کے گرویدہ دکھائی دیتے ہیں۔ شہدا سے لوگوں کا ایسا عشق  اس لیے ہے  کہ شہداء نے علائقِ دنیا سے گزر کر بقا و جاودانگی کا مقام پایا ہے۔ پس شہادت کا کلچر  مسلمانوں کی قومی شناخت کی حیثیت رکھتاہے۔ اسلامی ثقافت اور شہادت کے تعلق کو  شہید رہبر نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ " جو چیز اسلامی ثقافت کو زندہ و تابندہ رکھتی ہے، وہ جذبۂ طلبِ شہادت ہے اگر کسی قوم میں موت اور شہادت کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا حوصلہ موجود ہو، تو وہ قوم لازماً کامیاب و سربلند ہوتی ہے۔"[4] اسی طرح آپ کے الفاظ میں "اسلامی  ثقافت کی حیات و بقا کا راز درحقیقت اسی جذبۂ طلبِ شہادت میں مضمر ہے، جو ہر دور میں اسے تازگی اور  حیاتِ نو عطا کرتا ہے۔[5]

شہید رہبر کی ذات میں یہ جذبۂ طلبِ شہادت ایک مسلسل اور پائیدار کیفیت کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انہیں وہ لمحہ بھی یاد تھا کہ  جب انہوں نے شہید  نواب صفوی کو سلیمان خان مدرسے میں دیکھا تھا وہ اس واقعے کو وہ یوں بیان کرتے اور یاد کیا کرتے تھے۔"  شہید صفوی کے دور میں، میں  نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہم سب بڑے شوق اور جوش کے ساتھ یہ تمنا رکھتے تھے کہ شہادت نصیب ہو جائے! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں معاشرے کے اندر نہ شہادت کی وہ ثقافت موجود تھی اور نہ ہی جذبۂ طلبِ شہادت کا وہ شعور پایا جاتا تھا۔[6] یہاں تک کہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے اختتام کے بعد، انہوں نے بسیجیوں کے اجتماع میں یہ  ارشاد فرمایا کہ " جمهوری اسلامی کے حکام نے اسی جذبۂ طلبِ شہادت کے ساتھ، جس جذبے کے ساتھ وہ انقلاب کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے، جنگ کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ خدا کے راستے میں قربانی دینے کی آمادگی کے ساتھ، اور انقلابِ اسلامی کے اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی آخری سانس تک مضبوطی، عزم اور طاقت کے ساتھ ثابت قدم رہے۔"[7]

جذبہ شہادت اُن کے گوشت پوست میں اس قدر رچا بسا تھا کہ   ان کی زندگی  کا ایک اہم مشن شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور ان کے کارناموں کو تازہ  کرنے  کے لیے باوقار اور عظیم الشان یادگاری مجالس کا اہتمام کرنا تھا۔ ان مجالس کے حوالے سے آپ کا کہنا ہے کہ  "شہدا کو یاد کرنے کی محافل و  مجالس دراصل جہادی حرکت کے تسلسل اور جذبۂ شہادت کے دوام کی ایک زندہ علامت ہیں۔ یہ محض باوقار تعزیتی تقاریب نہیں ہوتیں، جیسا کہ بسا اوقات سمجھ لیا جاتا ہے، بلکہ یہ اپنے اندر ایک گہرا فکری و معنوی پیغام سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ شہادت کے مفہوم کو دلوں میں روشن کیا جائے، شہید کی شخصیت کو اس کی حقیقی معنویت کے ساتھ متعارف کرایا جائے، اور ثقافتِ شہادت کو معاشرے کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے راسخ و زندہ رکھا جائے۔[8]

شہید رہبر  کے نزدیک جو لوگ اس دنیا میں خدا کیلئے خالص ہو جاتے ہیں یہ اُن کے شایان شان ہی نہیں کہ وہ شہادت کے بغیر اس دنیا سے چلے جائیں۔ آپ نے اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:

"شہادت کا خطِ مقدس انقلابِ اسلامی میں اپنی ایک مستقل اور تابناک تاریخ رکھتا ہے۔ یہ نورانی راہ اُن پاکیزہ شہداء کے خون سے ہموار ہوئی جنہوں نے نوخیز انقلابی نظام کے استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں یہی راستہ عظیم ترین معرکوں اور لازوال حماسی داستانوں کا منظر بنا، جو مجاہدینِ اسلام کے ہاتھوں رقم ہوئیں۔البتہ جب ۱۹۸۸ میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو چند دنوں تک ایک گہرا رنج دل پر طاری رہا۔ اگرچہ یہ کیفیت زیادہ دیر قائم نہ رہی، کیونکہ دشمن نے جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملہ کیا، بعض علاقوں پر قبضہ کیا، اور یوں یہ راستہ ایک بار پھر کھل گیا۔ میں تہران میں نہ رہا اور وہاں چلا گیا، یہاں تک کہ حالات بتدریج سنبھل گئے؛ مجاہدین نے کارروائیاں کیں، دشمن کو پیچھے دھکیلا گیا، اور صورتحال پھر اسی سمت لوٹ آئی۔اس کے بعد یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ شہادت کا یہ دروازہ اسی طرح کھلا رہے گا۔ تاہم اس عرصے میں خدا کے کچھ خالص بندے شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمدانی، کاظمی، صیاد جیسے افراد کے لیے یہ بات شایانِ شان نہیں کہ وہ شہادت کے سوا کسی اور صورت میں دنیا سے جائیں یا عام انسانوں کی طرح وفات پائیں۔" [9]

یہاں پہنچ کر اب میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں رہا۔ شہید رہبر  کی زندگی حرف بحرف ایک کرامت کے طور پر میرے سامنے مجسّم ہے۔ اگر آپ عام انسانوں کی مانند وفات پا جاتے تو میرے جیسے لوگوں کے لیے یہ امر یقیناً حیرت اور تعجب کا باعث ہوتا۔ عام انسانوں جیسی وفات ہرگز آپ کے شایانِ شان نہیں تھی۔اب صورتِ حال یہ تھی کہ بظاہر میدانِ جنگ میں شہادت کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک تو آپ کی عمر مبارک چھیاسی سال تھی، اور اس عمر میں میدانِ جنگ میں شہادت کا واقع ہونا معمول کے اسباب کے تحت قریباً ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے معروف ضابطوں اور عرف کے مطابق قائدین، سیاستدانوں اور اہلِ فکر کو عسکری حملوں کا ہدف بنانا جائز نہیں سمجھا جاتا۔اس کے باوجود، دورِ حاضر کے عالمِ کفر کے سرغنہ نے آپ کو عین اسی مقام پر نشانہ بنایا، جہاں سے آپ مسلمان مجاہدین کی سربراہی کر رہے تھے، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپ کی شخصیت عام اسباب و معمولات کے دائرے میں سمونے والی نہ تھی، بلکہ آپ کی حیات اور آپ کی رخصت دونوں  ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ آپ اس دنیا میں جس  خلوص کے ساتھ خدا کے لئے فعال تھے  بالکل اُسی مخلصانہ فعالیت کو انجام دیتے ہوئے  دوسری دنیا میں چلے گئے۔  یعنی آپ کی زندگی اور موت ایک ہی تصویر کے دو  رُخ ہیں۔ یوں نہیں ہے کہ آپ شہادت کے بعد جنت الفردوس میں چلے گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اس دنیا میں بھی شہدا کی جنّت میں ہی رہتے تھے، اُنہی کے راستے پر، اُنہی کی یاد میں، اُنہی کی تعلیمات کے ساتھ اور اُنہیں کے مشن پر لبیک کہتے ہوئے آپ دوسری زندگی میں اناًفاناً داخل ہو گئے۔آپ ایسے شہید ہوئے کہ ساری دنیا حیران رہ گئی اور سب پر آپ کی شہادت سے  ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ  جو بھی ہو جائے، ظاہری حالات و اسباب جیسے بھی ہوں، عمر، مقام و مرتبہ بھی جو مرضی ہو ہر صورت میں شہدا ہی شہید ہوتے ہیں۔

آخر میں ہم اپنے قارئین کیلئے یہ عرض کرتے چلیں  کہ دین اسلام میں صاحبانِ ایمان خصوصاً شہدا سے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے ، وہ جنّت محض نہروں، باغوں اور محلات کا نام نہیں۔ یہ سب کچھ  دلوں کی صفائی، روحوں کی شفافیت اور کینوں کے خاتمے کے ساتھ مشروط ہے۔ وہاں ہر غل و غش مٹ جائے گا، اور لوگ آمنے سامنے اخوت کے ساتھ بیٹھیں گے۔ شہید رہبر نے اس مادی دنیا میں بالکل شہدا کی مانند پاکیزہ زندگی بسر کی۔ دنیا کے تمام صاحبانِ ایمان کے ساتھ آپ کا  طرزِ زندگی وہی اہلِ بہشت کا سا تھا۔ آپ نے اس مادی دنیا میں شہدا جیسی زندگی بسر کر کے ہمیں یہ درس دیا ہے   کہ اگر دل صاف نہ ہو تو جنت بھی جنت نہیں رہتی، اور اگر دل صاف ہو تو اس دنیا میں بھی اہل بہشت کی مانند زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔



[1] کرمان کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات میں بیانات (۲ مارچ ۲۰۰۶)

[2] قم صوبے کے شہداء کے کانگریس کے منتظمین سے ملاقات میں بیانات (۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲)

[3] ایضاً

[4] سرچشمہ کے قتل گاہ میں خطاب (۱۶ اکتوبر ۱۹۸۳)

[5] قم صوبے کے شہداء کے کانگریس کے منتظمین سے ملاقات میں بیانات (۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲)

[6] فدائیان اسلام کے جانثار ساتھیوں سے ملاقات (۱۷ جنوری ۱۹۸۵)

[7] بیس ملین فوج کے بڑے کمانڈروں کے اجتماع میں آزادی اسٹیڈیم میں بیانات (۲۴ نومبر ۱۹۸۸)

[8]تعلیمی امور کے شہداء کے کانگریس”، “طلبہ کے شہداء کے کانگریس” اور “فنکار شہداء کے کانگریس” کے اسٹاف کے اراکین سے ملاقات میں بیانات (۱۶ فروری ۲۰۱۵)

[9] شہید آیت اللہ مدنی کے کانگریس کے اراکین سے ملاقات میں بیانات (۳ ستمبر ۲۰۰1)


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...