زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

بدھ، 29 اکتوبر، 2025

تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کی قصیدہ خوانی کے مضرّات

تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کی قصیدہ خوانی کے مضرّات :

ڈاکٹر نذر حافی :

ہم لوگ سیکھنے سے زیادہ قصیدہ خوانی کے رسیا ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں جتنی دہائی مصنوعی ذہانت کی ہے اتنی  ہمارے اندر اسے  سمجھنے اور سیکھنے کی تڑپ نہیں۔ راقم الحروف کا مقصد  تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو اس خطرے کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کی زبانی کلامی قصیدہ خوانی علم کی حقیقت پسندی اور تنقیدی سوچ کو مفلوج کر دے گی  کیونکہ  فقط قصیدہ خوانی  طلبا کو صرف تعریف کرنے والا بناتی ہے تخلیق کرنے والا نہیں۔  مصنوعی ذہانت (AI) نے حالیہ برسوں میں سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے میدان میں بھی بنیادی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) دراصل ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ویب سائٹس یا آن لائن مواد کو اس طرح بہتر بنایا جاتا ہے کہ وہ سرچ انجنز جیسے گوگل، بنگ یا یاہو میں زیادہ مؤثر اور اعلیٰ مقام پر ظاہر ہوں۔ اس کا مقصد صرف سرچ انجن میں اچھی رینکنگ حاصل کرنا نہیں، بلکہ صارفین کے لیے مواد کو زیادہ مفید، قابل رسائی اور دلچسپ بنانا بھی ہے۔ مختصراً، SEO کا مقصد یہ ہے کہ ویب سائٹ سرچ انجنز کی سمجھ کے مطابق بھی آسان ہو اور صارف کے لیے بھی مفید ہو، تاکہ زیادہ ٹریفک آئے، صارف زیادہ وقت گزارے اور مواد سے مطمئن ہو۔


SEO کے مختلف پہلو اب AI کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ ویب پیج کے اندر کی جانے والی اصلاحات، جیسے ٹائٹل ٹیگ، میٹا ڈسکرپشن، ہیڈنگز اور کیورڈ کی مناسب جگہ، صارف کے تجربے اور سرچ انجن کی سمجھ کو بہتر بناتی ہیں۔ ویب سائٹ کے باہر کی سرگرمیاں، جیسے بیک لنکس اور سوشل شیئرنگ، ویب سائٹ کی اتھارٹی اور اعتبار بڑھاتی ہیں۔ تکنیکی اصلاحات جیسے سائٹ اسپیڈ، موبائل فرینڈلی ڈیزائن، انڈیکسنگ اور سائٹ میپ سرچ انجن کے کرالرز کو ویب سائٹ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ مواد کی تخلیق اور اس کی اصلاح صارفین اور سرچ انجن دونوں کے لیے مفید ہونا ضروری ہے، کیونکہ اچھا اور معلوماتی کنٹینٹ رینکنگ اور یوزر انگیجمنٹ بڑھاتا ہے۔

نئی AI بیسڈ تکنیکیں SEO کے مختلف پہلوؤں میں جدت لاتی ہیں۔ AI کے آنے سے  سرچ انجن آپٹیمائزیشن کا عمل پہلے کی طرح باقی رہے گا تاہم اب اس سے مربوط  علم کو اپڈیٹ کرنے اور نئی AI بیسڈ تکنیکیں اپنانا ضروری ہو جائے گا۔ AI بیسڈ تکنیکیں وہ طریقے اور ٹولز ہیں جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی کام کو تیز، مؤثر اور خودکار بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ تکنیکیں انسانی تجزیے اور محنت کو آسان کرتی ہیں اور بڑے ڈیٹا سیٹس سے پیٹرنز، رجحانات یا مفید معلومات نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔  چنانچہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ مصنوعی زہانت کی  قصیدہ خوانی کا نہیں بلکہ یہ وہ دور ہے جو خاموشی سے یہ طے کر رہا ہے  کہ ہم میں سے  کون ہے جو  آگے چل کر کامیاب ہوگا اور کون ناکام۔ اس دور میں  AI کی غیر تنقیدی تعریف یا "قصیدہ خوانی" خطرناک ہے۔ اگر مارکیٹرز یا اسٹوڈنٹس صرف AI کے امکانات کی تعریف کریں اور اس کے مکانات سے فائدہ اٹھانا نہ سیکھیں  تو وہ مصنوعی ذہانت کی تقلید کر کے اپنی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں کھو دیں گے۔ AIیاد رکھئے کہ مصنوعی ذہانت کے  نتائج ہمیشہ  تخلیقی، درست یا موزوں نہیں ہوتے، اور بغیر انسانی تجزیے کے ان پر انحصار کرنا ایک غیر محفوظ عمل ہے۔ اندھی تقلید کسی بھی شعبے میں ہو  اس سے علم کی تازگی اور نئی تکنیکیں سیکھنے کی کوششیں کم ہو جاتی ہیں اور  بصیرت پر مبنی نتائج سے  انسان محروم ہو جاتا ہے۔ یعنی پھر کسی بھی مشکل صورتحال میں انسان یہ نہین جانتا کہ اسے  کیا قدم اٹھانا چاہیے یا کس طرح اس صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ مصنوعی ذہانت کی قصیدہ خوانی کے بجائے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ  یہ صرف ایک معاون آلہ ہے، قائد نہیں، اور اس پر بلا  سیکھے اور بغیر سوچے  سمجھے انحصار  کرنا پروفیشنل مہارت اور علمی استعداد میں مزید زوال کا سبب بنے گا۔

یہ واضح ہے کہ تعلیمی اداروں کا کام صرف نصابی کتب رٹانا اور  پڑھانا نہیں بلکہ طلبا کو مستقبل کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ایسے  تیار کرنا ہے  کہ وہ AI اور جدید ٹیکنالوجیز  کو استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ انداز میں کام کر سکیں۔ نصاب میں جدید SEO تکنیکیں، ڈیٹا اینالیسس، AI ٹولز کے استعمال اور تنقیدی سوچ کی تربیت شامل کر کے طلبا کو عملی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔ یہ ذمہ داری نظام تعلیم پر عائد ہوتی ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے نصاب اور تربیتی پروگرام اپ ڈیٹ کرے اور  تعلیمی اداروں میں طلبا کو عملی تجربات کے ذریعے AI  کو سمجھنے و  سکھانے  کابندوبست کیا جائے۔

اسٹوڈنٹس اور نئے مارکیٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ AI بیسڈ ٹولز اور الگورتھمز سیکھیں۔ الگورتھمز سیکھنے سے ہماری  مراد  وہ طریقے اور قواعد سمجھنا ہے جن کے ذریعے کمپیوٹر یا AI سسٹمز ڈیٹا کو پروسیس کرتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں اور مخصوص مسائل کو حل کرتے ہیں۔ الگورتھمز بنیادی طور پر ایک مرحلہ وار ہدایات  کے سلسلے کو کہتے ہیں  کہ جو کسی مسئلے کو حل کرنے یا کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔

یہ وقت  مصنوعی ذہانت کی قصیدہ خوانی کے بجائے اس حوالے سے علمی ترقی اور عملی اقدامات کا ہے۔  اس میدان میں ہمارے  آج کے اقدامات کل کے حالات  و  نتائج کا تعین کریں گے، اور وہی لوگ مستقبل کے افق پر چمکیں  گے جو AI کو سمجھ کر اسے  تنقیدی سوچ  اور محتاط تجزیے کے ہمراہ  اسے  استعمال کریں گے۔


معاصر عہد میں خمینی ڈاکٹرائن کی اہمیّت


معاصر عہد میں  خمینی ڈاکٹرائن کی اہمیّت:

ڈاکٹرنذر حافی  :
آج کی دنیا میں عوامی و مقامی  حمایت اور بین الاقوامی رائے عامہ کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔  یعنی عالمی برادری سے اپنا حق منوانے اور لینے کیلئے فقط مظلوم ہونا کافی نہیں۔  نہ ہی کسی ملک کی صرف جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کسی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ہی لیجئے۔ یہ  مشرقِ وسطیٰ کی سامراجی تقسیم اور بیلفور اعلامیہ 1917 کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اور آج تک  ایک ناسور کی شکل میں مزید بگڑتا ہی جا رہا ہے۔مذکورہ  اعلامئے نے 1948 میں اسرائیل  کو جنم دیا  اور آگے چل کر  1967 کی جنگ کے بعد مقبوضہ فلسطین ایک مستقل جغرافیائی اکائی بن گیا۔ دوسری طرف کشمیر کا تنازع بھی  برطانوی نوآبادیاتی انخلا (1947) کی کوکھ سے برآمد ہوا  اور بعد ازاں مقبوضہ فلسطین کی طرح مقبوضہ کشمیر بھی ایک جغرافیائی اکائی کے قالب میں ڈھل گیا۔ کیا یہ حقیقت اظہر من الشّمس  نہیں کہ  فلسطین اور کشمیر دونوں کے لحاظ سے اُمّت مسلمہ نے ابھی تک کھویا ہی ہے پایا کچھ نہیں!۔ 

کئی دہائیوں  سے قابض فورسز کی طرف سے مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں  ثقافتی اور نظریاتی استحصال  کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا  جا رہا ہے نیز مذکورہ مقبوضہ علاقوں میں مقامی شعور، ملّی تاریخ، ثقافتی  شناخت اور  عوامی بیانیہ  بھی قابض فورسز کے نشانے پر ہے۔ بھلا استعمار کو   عقل، دلیل، عدل، قانون اور خیر  و بھلائی سے کیا کام!  سو مقبوضہ  فلسطین اور مقبوضہ کشمیر دونوں میں  غیر اخلاقی  ہتھکنڈوں  اور دھونس کا ستعمال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کہیں پر بھی  عدل و انصاف  تب قائم ہوتا ہے جب ہر فرد اپنی فطری حد میں رہے سو مذکورہ مناطق میں قابض افواج نے  چادر و چاردیواری کی بھی  ساری حدود توڑ دی ہیں۔ کہنے کو  سیاست  اخلاق سے جدا نہیں ہو نی چاہیے لیکن کسی غاصب رجیم  کی ساری توانائی ہی اخلاق کو اپنے تابع بنانے پر صرف ہوا کرتی ہے۔  یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں کو غاصب فورسز کے مقابلے میں  سیاسی  و مزاحمتی تشیع  اور امام خمینی ؒ کی ڈاکٹرائن سے محروم کر دیا جائے تو مذکورہ مناطق کے باسیوں کے پاس بیداری و مقاومت کا کوئی دوسرا سامان ہے ہی نہیں۔ اسلامی انقلاب کی روح کے مطابق  مظلوم کیلئے مزاحمت کوئی آپشن نہیں بلکہ اس کے وجود کی بقا کا تقاضا  ہے۔ موجودہ صدی میں حضرت  امام خمینیؒ کے انقلابی نظریات نے  مظلوموں کی  مزاحمت کو ایک  جدیدنظریاتی اور عملی فریم ورک فراہم کیا ہے۔  اس فریم ورک کے مطابق  اب مظلوموں کی جدوجہد  روایتی قومی یا علاقائی سیاست سے کہیں آگے جا کر عالمی سطح پر ایک  حکمت عملی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس فریم ورک نے مزاحمت کے دائرہ کار کو  عسکری یا فوجی سطح  سے بڑھا کر  سماجی،  تعلیمی ، فکری اور سیاسی ڈھانچوں  تک پھیلا دیا  ہے۔ فلسطین میں حزب اللہ اور حماس جیسے گروہ عملی طور پر  نظریۂ ولایت فقیہ اور اسلامی انقلاب کی  مزاحمتی اسٹریٹجی پر کاربند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریکیں اسلامی انقلاب ایران کی مانند مقامی طور پر  عوام کے درمیان مقبول اور مستحکم ہیں۔  اسی طرح کشمیر میں شیعہ اور سنی مزاحمتی حلقے جس حد تک حضرت امام خمینی ؒکے تاریخی مزاحمتی ماڈل سے آشنا ہیں اُسی قدر انقلابی  شعور سازی اور مزاحمتی روایت کو برقرار رکھے ہوئے  ہیں۔مسئلہ فلسطین کو امام خمینی ؒکی پیروکار  انقلابی و  مزاحمتی تشیع نے  عرب دنیا کے خسدان سے نکال کر اسے ایک  سٹریٹجک محاذ  اور بین الاقوامی سفارتی جنگ میں بدل دیا ہے۔  چنانچہ وہاں قابض فورسز کو حماس اور حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کے ساتھ ساتھ  عالمی رائے عامہ، دنیا کے سیاسی دباؤ اور  بین الاقوامی اسلامی  اتحاد  کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

معاصر تاریخ میں مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے بڑھ کر کوئی اور مظلوم نہیں۔ یہ دونوں علاقے اسٹریٹیجک اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہیں۔ آپ خود دیکھ لیں کہ بظاہر اپنی اہمیت کے اعتبار سے کشمیر جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کی نازک لکیر پر واقع ہے اور فلسطین مشرقِ وسطیٰ میں عرب-اسرائیل  طاقت کے توازن کی میزان ہے۔اگر ان دونوں تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عالمی ادارے حقِ خودارادیت کو بنیادی اصول تسلیم کرتے ہیں لیکن اس اصول کی عملی حیثیت طاقت کے استعمال کے سامنے  کمزور پڑ چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ  عالمی برادری سے اپنا حق منوانے کے لیے مظلومیت یا جغرافیائی اہمیت صرف ابتدائی شرطیں ہیں۔ چنانچہ مظلومیّت سے نجات حاصل کرنے کیلئے صرف مظلوم ہونا کافی نہیں بلکہ نجات  کیلئے مظلوم کے پاس ایک مضبوط سیاسی حکمت عملی، بین الاقوامی تعلقات کی سوجھ بوجھ، مضبوط نظریاتی بنیادیں ، اور عالمی سطح پر سفارتی  دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت  کا ہوناضروری ہے۔

آج کے دور میں مظلوموں کی نجات کا مختصر اور مجرّب نسخہ   امام خمینی کا فریم ورک ہے۔ تاریخ  کو   طاقتوروں کے قلم سے آزاد کر کے  مظلوموں کی آہوں سے تحریر کرنا اور مظلوموں کے حقِّ خود ارادیت کی بنیاد پر  عہدِ نو کی بنیاد  رکھنا یہ صر ف خمینی ڈاکٹرائن کا کمال ہے۔یہی وہ نسخہ ہے  جسے اپنا نے سے    بیت المقدس کی گلیوں اور سری نگر کی وادیوں میں آزادی کی   اذان گونجے گی۔ یاد رکھئے !غرق ہونے کے دوران  نجات کی  کوشش کو جاری رکھنا   امید کی کرن کے  بغیر ممکن نہیں اور آج کی دنیا میں مظلوموں کیلئے امید کی کرن کا نام خمینی ؒ ڈاکٹرائن ہے۔ لہذا جسے استعمارِ نو کی زنجیروں سے نجات چاہیے اُسے عہدِ نو میں خمینی ڈاکٹرائن کو سمجھنا، پرکھنا اور اپنانا ہوگا۔

منگل، 28 اکتوبر، 2025

جدید تحقیق کی معیاری علمی بنیادیں

جدید تحقیق کی  معیاری علمی بنیادیں :
ڈاکٹر نذر حافی
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تحقیق ایک منظم اور منطقی عمل ہے ۔  یعنی ہر مطالعہ ، مباحثہ  و اطلاعات و معلومات کی جمع آوری تحقیق نہیں۔   تحقیق کا عمل سب سے پہلے منظّم ہوتا ہے۔ منظم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق ایک خاص ترتیب میں کی جاتی ہے جس میں ہر قدم پہلے سے طے شدہ اصولوں اور طریقہ کار کی پیروی کرتا ہے۔ تحقیق کی دوسری شرط منطقی ہونا ہے۔ منطقی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق میں استدلال، دلیل، اور تجزیے کی بنیادیں مضبوط اور معقول ہوں۔ تحقیق کے ہر مرحلے میں محقق کو اپنے طریقہ کار اور نتائج کو منطقی اصولوں کی روشنی میں جانچنا ہوتا ہے تاکہ تحقیق میں شامل تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور کسی بھی قسم کی مغالطے یا تضاد سے بچا جا سکے۔ منطقی استدلال میں نہ صرف حقائق کی تائید کی جاتی ہے بلکہ ان کی توضیح اور تشریح بھی کی جاتی ہے تاکہ تحقیق کے نتائج نہ صرف مفہوم بلکہ مستند بھی ہوں۔

تحقیق کے منظوم ہونے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک خاص نظم کی بدولت محقق ایک تو  نتائج تک پہنچتا ہے اور دوسرے  ان نتائج کو دوبارہ چیک کرنے کا طریقہ بھی جان جاتا ہے ۔  نظم کی وجہ سے کسی غیر ضروری مفروضے یا تعصب سے بچنے کی خاطر   تحقیق کی روشنی میں حاصل شدہ ڈیٹا کو صحیح طریقے سے ترتیب دینا اور پھر اسے منطقی بنیادوں پر تجزیہ کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ 
اسی طرح منطقی ہونے کا فائدہ  یہ ہے کہ تحقیق میں استدلال، دلیل، اور تجزیے کی بنیادیں مضبوط اور معقول ہو جاتی ہیں۔ اس سے  تحقیق میں شامل تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ  اور کسی بھی قسم کی مغالطے یا تضاد سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ منطقی طریقہ کار کے باعث  حقائق کی تائید، توضیح اور تشریح بھی کی جاتی ہے تاکہ تحقیق کے نتائج مستند  اور معیاری ہوں۔
کسی مسئلے کو سمجھنے، کسی نظریے کو جانچنے، یا حقیقت تک پہنچنے کے لیے ایک خاص منطقی  طریقہ کار  انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس منطقی طریقہ کار کے مطابق  محقق  اپنی تحقیق ایک واضح سوال یا مقصد کے ساتھ شروع کرتا ہے اور اس سوال کا جواب یا مقصد حاصل کرنے کے لیے مربوط اور تسلسل کے ساتھ مختلف مراحل طے کرتا ہے۔ یہ مراحل تحقیق کی نوعیت اور مقصد کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا عمومی ڈھانچہ ایک ترتیب کے مطابق ہوتا ہے،  جس میں تحقیق کے سوالات یا مفروضات کو درست ثابت یا رد کرنے والے  مسائل کی وضاحت، ڈیٹا کا جمع کرنا، تجزیہ کرنا، اور پھر ان نتائج تک پہنچنا شامل ہوتا ہے ۔
تحقیق کی پہلی بنیاد علمیت ہے، جو "علم" کی حقیقت اور اس کے ماخذ پر سوال اٹھاتی ہے۔ یہ علم کے حصول کے ذرائع﴿چاہے وہ تجربہ، مشاہدہ، عقل، یا وحی ہوں﴾کی وضاحت فراہم کرتی ہے۔ مختلف علمی مکاتبِ فکر میں علم کے ماخذ پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں، تاہم ایک علمی تحقیق میں علم کا حصول منطقی، مستند اور قابلِ دلیل ہونا چاہیے۔ منطق تحقیق کا ڈھانچہ فراہم کرتی ہے اور یہ استدلال کے طریقوں، جیسے  قیاس، استقراء اور تمثیل میں فرق کو واضح کرتی ہے۔ تحقیق میں استدلال کی درستگی کے لئے منطقی اصولوں کی پیروی لازمی ہے تاکہ نتائج محض مفروضات، مغالطوں یا تضادات پر مبنی نہ ہوں۔ تحقیق کا مقصد صحیح اور معتبر استدلال کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ تحقیق کے موضوع کا وجودی سطح پر تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کیا یہ مادی حقیقت ہے یا اعتباری تصور؟ یعنی جس شئے کے بارے میں  تحقیق  کی جا رہی ہے  حقیقت میں اس کا  کیا وجود ہے اور اس کا جوہر کیا ہے۔مثال کے طور پر، سماجی حقائق مادی نہیں بلکہ سوشیل کنسٹرکٹس ہیں  جبکہ طبیعی حقائق تجرباتی اور مادی نوعیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ  سوشیل کنسٹرکٹس وہ مفاہیم یا تصورات ہیں جو معاشرتی طور پر تخلیق کیے گئے ہوتے ہیں اور جن کا حقیقت سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے اجتماعی ذہن اور اجتماعی عقل نیز اجتماعی تجربات  کا حصہ ہوتے ہیں جیسے  قومیت، مذہب، نسل، جنس، اور مفہوم وغیرہ۔ یہ سب سماجی اتفاقات ہیں، جو انسانوں کے درمیان بات چیت، ثقافت، اور روایات کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ دوسری طرف طبیعی حقائق کے تجرباتی اور مادی ہونے سے مراد یہ ہے کہ طبیعی حقیقتیں وہ حقیقتیں ہیں جو فطرت میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا مشاہدہ یا تجربہ صرف مادی (جسمانی) دنیامیں کیا جا سکتا ہے۔ ان کا تعلق قدرتی قوانین سے ہوتا ہے، جیسے کہ کششِ ثقل ، حرکت ، دورانِ وقت (time's passage)، الیکٹرو میگنیٹک فورسز  وغیرہ۔
مثال کے طور پر  جب ہم زمین کی کششِ ثقل کا تجربہ کرتے ہیں  تو یہ ایک مادی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہم خود اپنی جسمانی موجودگی میں کرتے ہیں۔ جب آپ ایک پتھر کو اوپر کی طرف پھینکتے ہیں، وہ نیچے آتا ہے یہ کششِ ثقل کا مظہر ہے اور اسے کسی بھی سائنسی طریقہ کار سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔
یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ  ایک مشخص " طریقۂ کار" کسی بھی تحقیق کی  بنیاد  ہے ۔ یعنی  تحقیق کے دوران یہ مشخص ہونا چاہیے کہ  کس طرح سے ڈیٹا جمع کیا جائے گا، اس کا تجزیہ کس طریقے سے کیا جائے گا اور اس پر نتیجہ کس بنیاد پر اخذ کیا جائے گا۔ تحقیق کرنے کے  دو اہم طریقے ہیں: استقرائی طریقہ﴿ جزوی مشاہدات یا حقائق سے عمومی اصولوں کی جانب استنتاج کرنا﴾  اور قیاسی طریقہ ﴿عمومی اصولوں سے مخصوص نتائج اخذ کرنا﴾۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ محقق کو اپنے ذاتی تعصبات، خیالات یا عقائد سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف حقیقت کی تلاش کرنی ہوتی ہے ۔ لہذا تحقیق کی فطری نوعیت  یہ  ہے کہ تحقیق  سوال کے گرد گھومتی ہے نہ کہ  کسی کی ذاتی پسند و ناپسند کے گرد۔ تحقیق میں مستند ماخذ کی اہمیت بنیادی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ  تحقیق کی ساکھ اور معتبر نتائج کو یقینی بنانے کیلئے تحقیقی مواد اور حوالہ جات کی سچائی اور درستی کی جانچ پرکھ کی جائے ۔۔ غیر مستند یا غیر مصدقہ حوالہ جات تحقیق کے علمی معیار کو متاثر کرتے ہیں اور اس کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور تحقیق کا ایک اہم پہلو ہے جس میں معلومات کو محض نقل کرنے یا دہرانے کی بجائے ان پر گہرائی سے غور کیا جاتا ہے، ان کے تنقیدی تجزیے کی کوشش کی جاتی ہے اور نئے زاویوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ تنقیدی سوچ  ہماری تحقیق کے عمل کو  جمود سے بچاتی ہے اور اس میں ارتقاء کا  عُنصر شامل کرتی ہے۔ تنقیدی شعور کے ہمراہ تحقیقی اخلاق کی رعایت بھی لازمی ہے۔ اخلاقِ تحقیق میں امانت داری، سچائی، حوالہ جات کی صداقت، سرقہ سے اجتناب، اور دوسرے محققین کے نظریات کا احترام شامل ہیں۔ اخلاقی اصولوں کے بغیر تحقیق میں سچائی کا فقدان یقینی  ہے اور اس کے نتائج میں غلطی سے نہیں بچا جا سکتا۔

اگلہ مرحلہ تشکیلی و تحلیلی توازن کو برقرار رکھنے کا ہے۔ تشکیلی و تحلیلی توازن کا مطلب ہے کہ تحقیق یا کسی بھی علمی عمل میں تجزیہ (analysis) اور ترکیب (synthesis) کے عناصر کو متوازن اور ہم آہنگ طریقے سے استعمال کیا جائے تاکہ ایک مکمل اور بامقصد نتیجہ حاصل ہو سکے۔ اس توازن کا مقصد یہ ہے کہ تحقیق کی تفصیلات پر گہری روشنی ڈالی جائے (تجزیہ) اور مختلف متفرق معلومات کو اکٹھا کر کے نئے فکری تصورات یا نقطہ نظر تخلیق کیے جائیں (ترکیب)۔تجزیہ  کرنے کے عمل کے دوران  کسی موضوع کو توڑ کر اس کے مختلف اجزاء یا پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان روابط اور تضادات کو سمجھا جا سکے۔ اسی طرح ترکیب  کے عمل میں  مختلف معلومات، نظریات یا خیالات کو یکجا کر کے ایک نیا اور جامع فریم ورک یا تصور تشکیل دیا جاتا ہے۔اگر یہ دونوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں ہوں تو تحقیق یا علمی کام زیادہ بامقصد، گہرا اور مفید بنتا ہے۔ تجزیہ اور ترکیب کا صحیح امتزاج تحقیق کو منطقی اور واضح  بنانے کے ساتھ ساتھ  اس کے فکری، علمی یا سماجی اثرات کو بھی  زیادہ موثر  بناتا ہے۔ تحقیق میں استدلال، دلیل اور تجزیہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ نتیجہ محض مفروضات پر مبنی نہیں ہوگا  بلکہ اس کے ذریعے  مستند حقیقت کا انکشاف ہوگا۔

اگر کشمیر شاهرگ پاکستان است، پس پاکستان برای کشمیر چیست؟

اگر کشمیر شاهرگ پاکستان است، پس پاکستان برای کشمیر چیست؟

دکتر نذر حافی :
انجمن بین‌المللی حمایت از کشمیر

بیست‌وهفتم اکتبرِ سال ۱۹۴۷، برگِ سیاهی از دفتر تاریخ کشمیر است؛ روزی که زخمِ اشغال بر پیکرِ مظلومِ این سرزمین نشست۔ در آن صبحِ غم‌بار، ارتش هند، بی‌اعتنا به قواعد بین‌الملل و بی‌پروا از ارادهٔ ملتِ کشمیر، مرزهای این سرزمین را درنوردید و بخشی از آن را به تصرف درآورد۔ این واقعه نه‌تنها قانون را شکست، بلکه روحِ عدالت را نیز آزرد۔ از آن روز تا کنون، داغِ آن اشغال از جبینِ کشمیر زدوده نگشته و آهِ آن ملت هنوز در بادِ تاریخ می‌پیچد۔


به یاد آن روزِ شوم، انجمن بین‌المللی حمایت از کشمیر امسال نیز در شهرِ مقدسِ قم، آیینِ روز همبستگی با کشمیر  را برگزار کرد۔ تالارِ اندیشهٔ مؤسسهٔ باقرالعلوم(ع) مأوای فرزانگانی شد که دل در گروِ آزادی و ایمان داشتند۔ در آن مجلس، سخنورانِ روشن‌ضمیر بر این نکته پای فشردند که هرچند امروز امتِ اسلام، در زنجیرِ سلطهٔ بیگانگان گرفتار آمده، اما در میانِ این امت، تنها مردمِ کشمیرند که آگاهانه نامِ مقبوض بر خود نهاده‌اند؛ زیرا نگاهشان به افقِ آزادی است، نه به سایهٔ تسلیم۔

آنان هشدار دادند که دشمن، برای ربودنِ جانِ جوانانِ کشمیر، دام‌های گوناگون گسترده است: از یورشِ فرهنگی و هجومِ بی‌حیایی گرفته تا وسوسهٔ افیون و بی‌سامانیِ اندیشه۔

میهمانِ گرامیِ این نشست، *دکتر شفقت حسین شیرازی*، در سخنانی لبریز از بصیرت گفت: امروز دو زخمِ بازِ پیکرِ جهانِ اسلام، یکی فلسطین است و دیگری کشمیر؛ و سیرتِ حضرت زینب(س) مرهمی است بر هر دو۔ او گفت: آموخته‌ایم که در برابرِ ظلم، باید با صبر و تدبیر ایستاد؛ و به یقین روزی خواهد رسید که دستِ ستم بشکند و کشمیر، آزاد و سرافراز گردد.

پس از او نیز جمعی از گویندگان، بر همین معنا گواهی دادند۔
اما اکنون سخن در آن است که پاکستان برای کشمیر چه معنا دارد۔

در آن روزِ نحس، که ارتشِ هند به وادیِ کشمیر درآمد، جهان شاهدِ اشغالی بود که نه پشتوانهٔ قانون داشت و نه شأنِ اخلاق۔ هند، بی‌توجه به رأیِ مردم، آتشِ قدرت را در دامانِ صلح افکند و سیمایِ حقوقی و سیاسیِ کشمیر را در غبارِ بی‌ثباتی فروبرد۔

در برابر، *پاکستان* از نخستین دمِ این تراژدی، دوشادوشِ مردمِ کشمیر ایستاد؛ نه از سرِ منفعت، بلکه از رویِ ایمان۔ اسلام‌آباد، مسئلهٔ کشمیر را نه نزاعی محلی، بلکه امانتی الهی و تعهدی انسانی دانست۔ در تمامی مجامعِ جهانی، پرچمِ حق‌طلبیِ ملتِ کشمیر را برافراشت و زبانِ مظلومیتِ آنان شد۔

پاکستان، در سازمانِ ملل و دیگر مجامعِ بین‌المللی، همواره از حقِ تعیینِ سرنوشتِ کشمیریان دفاع کرده و با استناد به قطعنامه‌ها، تجاوزِ هند را محکوم داشته است۔ مجلسِ قانون‌گذاریِ پاکستان نیز، با تأکید بر اصولِ قانونِ اساسی، خود را پاسدارِ حقوقِ مردمِ کشمیر دانسته و پیمان بسته است که تا آخرین دم، در کنارِ آنان بایستد۔

در سالِ ۲۰۱۹، هنگامی که هند با لغوِ موادِ ۳۷۰ و ۳۵A قانونِ اساسیِ خویش، سیمایِ حقوقیِ کشمیر را درید، پاکستان از راهِ سیاست، دیپلماسی و اخلاق، به پیکار برخاست۔ اقدامِ هند، نه فقط سلبِ خودمختاریِ کشمیر، بلکه قتلِ هویتِ آن بود۔ پس از آن، دهلی‌نو لشکری تازه فرستاد، صداها را خاموش کرد، رهبران را در بند کشید، و نفسِ آزادی را برید۔

اما در سوی دیگر، پاکستان چراغِ اُمید را فروزان نگاه داشت۔ اردوگاه‌هایی برای پناهندگانِ کشمیری ساخت، طرح‌های توسعه در آزاد کشمیر و گلگت بلتستان آغاز کرد، و در سطحِ جهانی از حقوقِ آبی و اقتصادیِ آنان پاسداری نمود تا تسلطِ کاملِ هند، سرچشمه‌های زندگی را نخشکاند۔

ارتشِ پاکستان، پاسدارِ مرزهای ایمان، همواره حریمِ کشمیر را حرمِ خویش دانسته و در برابرِ هر تجاوزی، با عزمی خلل‌ناپذیر ایستاده است۔ سیاستِ پاکستان در قبالِ کشمیر، شفاف و استوار است: *حقِ تصمیم با مردمِ کشمیر است.* این موضع، نه بازیِ سیاست، که پیمانِ شریعت و وجدان است۔

عشقِ پاکستان به کشمیر، از جنسِ ایمان است، نه منفعت؛ از سرِ تکلیف است، نه تجارت۔ از همین روست که در کوچه‌پس‌کوچه‌های این سرزمین، فریادِ «کشمیر بنگے گا پاکستان» هنوز زنده است۔

پاکستان هرگز مسئلهٔ کشمیر را صرفاً مناقشه‌ای جغرافیایی ندانسته؛ بلکه آن را حکایتی از کرامتِ انسان و حریتِ بشر دانسته است۔ از همین رهگذر، در همهٔ محافلِ جهانی، جهان را به عدالت فراخوانده و ستمِ هند را به گواهیِ وجدان‌ها سپرده است۔

اکنون، در این روزِ تاریخی، باید بار دیگر گفت: هند، برای استحکامِ سلطهٔ خویش، مجلسِ ایالتیِ کشمیر را منحل کرده و قانونِ تابعیت را دگرگون ساخته است تا با اسکانِ بیگانگان، سیمایِ جمعیتیِ این سرزمین را تغییر دهد — تلاشی که چیزی جز خیانت به انسانیت نیست۔

درست است که کشمیر، شاهرگِ پاکستان است، اما حقیقت آن است که هر آنچه از تاریخ، فرهنگ، تمدن، و آرزویِ آزادیِ کشمیر تا امروز باقی مانده، از سایهٔ وجودِ پاکستان جان گرفته است۔ اگر پاکستان نبود، هند از دیرباز همه‌چیز را بلعیده بود۔

میانِ پاکستان و کشمیر، پیوندی است قدسی، تنیده در رشتهٔ دین و عشق؛ پیوندی که در آن، زمین و آسمان و رؤیایِ آزادی در رنگی واحد ذوب شده‌اند۔ تاریخِ کشمیر، فرهنگش، تمدنش و تمنّایِ رهایی‌اش، همه با نفسِ پاکستان زنده است۔ کوه‌هایش، رودهایش، درختانش ۔۔۔همه به نامِ پاکستان نفس می‌کشند؛ چنان‌که روح بی‌جسم نمی‌پاید، و دل بی‌تپش نمی‌ماند۔

پیر، 27 اکتوبر، 2025

اگرکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو پاکستان کشمیر کیلئے کیا ہے؟

اگرکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو  پاکستان کشمیر کیلئے کیا ہے؟ 
ڈاکٹر نذر حافی
۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کا دن کشمیر کی تاریخ  کا  ایک سیاہ ترین دن ہے۔  یہی وہ دن ہے کہ جس میں بھارت نے مقبوضہ  کشمیر میں اپنے فوجی دستے داخل کر کے  کشمیر کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا۔بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے برخلاف تھا، اور یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کے اثرات سے آج تک کشمیری نہیں نکل سکے۔
اس دن کی مناسبت سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم  نے  ۲۷ اکتوبر کو  اس سال بھی قم المقدس ایران میں  یوم یکجہتی کشمیر منایا۔  اس موقع پر موسسہ باقرالعلوم کے کانفرنس ہال میں ایک نشست کا اہتمام بھی کیا گیا۔مقررین نے نشست سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ یوں تو اس وقت پوری مسلم امہ مقبوضہ بنی ہوئی لیکن  مسلمانوں کی اس طرف توجہ نہیں جبکہ کشمیری اپنے آپ کو مقبوضہ کہتے ہیں  چونکہ ان کی توجہ اپنی خودی اور آزادی کی طرف ہے۔مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ  اس وقت کشمیر میں نوجوانوں کی بے راہ روی کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں ثقافتی یلغار ، بے حیائ ، منشیات کی لت میں مبتلا کرنے اور فکری بے راہ روی شامل ہیں ۔ نشست کے مہمانِ خصوصی  ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب نے  اپنی گفتگو میں کہا کہ اس وقت  مسئلہ فلسطین  اورمسئلہ کشمیر  ساری دنیا کے دو اہم مسئلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کیلئے سیرت حضرت زینب ؑ بہترین اُسوہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  صبر و تدبیر کے ساتھ ظالم وں کا ہر میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے ۔ انہوں  نے اپنی گفتگو میں کہا کہ  ان شااللہ وہ دن دور نہیں کہ ظالم منہ کی کھائے گا اور  کشمیر آزاد ہو کر رہے گا ۔ نشست سے متعدد مقررین نے خطاب کیا۔  
۲۷ اکتوبر کے حوالے سے راقم الحروف ایک اہم نکتے کو اجاگر کرنے کا خواہاں ہے ۔ وہ نکتہ ہے" کشمیر کیلئے پاکستان کی اہمیّت "۔ جب ۲۷ اکتوبر کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی، تو یہ ایک غیر قانونی قبضہ تھا، جس کا کوئی  قانونی و اخلاقی جواز نہیں تھا۔ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی کو نظر انداز کرتے ہوئے فوجی طاقت کا استعمال کیا، جس سے کشمیر کی آئینی حیثیت متاثر ہوئی اور کشمیریوں کا مستقبل مخدوش ہو گیا۔ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے سفارتی، دفاعی، اور اخلاقی سطح پر غیر معمولی جدوجہد کی ہے ۔ پاکستان نے اس مسئلے کو کشمیریوں کا مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے  اپنے قومی مفاد اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے طور پر اہمیت دیتے ہوئے  اس نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے مختلف سطحوں پر موثر اقدامات کیے ہیں۔ یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیر کے مسئلے کو مسلسل اجاگر کیا  اور کشمیری عوام کے حقِ آزادی کی حمایت میں عالمی قراردادوں کا ہر فورم پر حوالہ دیا اور بھارت کے غاصبانہ اقدامات کی مذمت کی۔ اسی طرح، پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو اپنے آئین میں اہمیت دی ہے، اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ  پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
آج ایک طرف بھارت ہے کہ جس نے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو اپنے آئین کی دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ اے کو منسوخ کر کے کشمیر کو ایک خاص آئینی حیثیت  اور خصوصی حقوق سے محروم کیا ۔ اس اقدام کے ذریعے بھارت نے کشمیر کے آئینی تشخص کو غیر قانونی طور پر تبدیل کر دیا، جس سے کشمیر کی خودمختاری اور کشمیری عوام کے حقوق کو زبردست نقصان پہنچا۔ بھارت نے اس کے بعد کشمیر میں بڑی تعداد میں مزید  فوجی دستے تعینات کیے، انٹرنیٹ سروسز کو بند کر دیا، سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا اور کشمیریوں کی آزادی اظہار کی گنجائش کو  بالکل ختم کر دیا۔ 
اب دوسری طرف پاکستان  ہے کہ جس نے  اپنی تاریخ میں ہمیشہ کشمیری عوام کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، خاص طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے کشمیری پناہ گزینوں کے لیے خصوصی کیمپوں کا قیام کیا، جہاں انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے کشمیریوں کو آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر حمایت فراہم کی ہے، تاکہ بھارت کے کشمیر پر مکمل تسلط سے پاکستان کے آبی حقوق متاثر نہ ہوں۔ پاکستان کی حکومت نے کشمیری عوام کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط سفارتی اور قانونی پوزیشن اختیار کی ہے، اور اس کے قائدین نے کشمیریوں کے حقوق کے دفاع میں بین الاقوامی سطح پر سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔
پاکستان کی فوج نے بھی کشمیر کے دفاع میں اپنی ذمہ داری کو اہم سمجھا ہے اور سرحدوں پر اپنی موجودگی کو مضبوط رکھا ہے تاکہ کشمیری عوام بھارتی جارحیت سے محفوظ رہیں۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف ہمیشہ صاف اور واضح رہا ہے کہ کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور پاکستان نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مسلسل سفارتی، سیاسی اور قانونی کوششیں کی ہیں۔ پاکستان کا کشمیر کے لیے عزم نہ صرف اس کے قومی مفاد سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے، جس کا اظہار پاکستان کے عوام کی جانب سے کشمیر کے ساتھ مسلسل یکجہتی کے مظاہروں میں ہوتا ہے۔
یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو کبھی بھی صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں سمجھا بلکہ اس نے ہمیشہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو اجاگر کیا ہے اور عالمی برادری سے بھارت کے ظلم و جبر کی مذمت کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کا کشمیر کے لیے موقف ہمیشہ ایک مضبوط قانونی اور اخلاقی بنیاد پر استوار رہا ہے، اور اس نے کشمیریوں کے حقوق کے لیے اپنی تمام کوششوں کو مسلسل جاری رکھا ہے۔
۲۷ اکتوبر کو یہ سچائی بھی بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت  بھارت نے کشمیر میں اپنے تسلط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وہاں کے مقامی قانون ساز اداروں کو تحلیل کر رکھا ہے  اور ریاستی اسمبلی کی حیثیت کو ختم کر دیا ہے، جس سے کشمیر کے عوام کی سیاسی نمائندگی پر شدید منفی  اثرات مرتب ہوئے ہیں۔مقبوضہ  کشمیر کے علاقوں میں بھارتی شہریت کے قوانین کے ذریعے غیر کشمیریوں کو آباد کرنے کی کوششیں کی گئیں  تاکہ کشمیر کی آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کیا جا سکے جو ایک اور غیر آئینی اقدام ہے۔ 
یہ مانا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تاہم ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ  کشمیر کی تاریخ ، تہذیب و ثقافت، تمدّن، آزادی و خود مختاری کی تمنّا اور  جغرافیائی حیثیت میں سے جو کچھ بھی محفوظ ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہی محفوظ ہے ورنہ بھارت تو کب کا سب کچھ ہضم کر چکا ہوتا۔ کشمیر  اور پاکستان  کے درمیان ایک  ایسا مقدس رشتہ ہے جو دین  کے دھاگے سے بندھا ہوا ہے، جہاں زمین، آسمان اور آزادی کا خواب ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ کشمیر کی تاریخ، اس کی تہذیب، اس کا تمدن، اور اس کی آزادی کی آرزو ۔۔۔ یہ سب پاکستان کی بدولت ہی زندہ و تابندہ ہے۔ کشمیر کے درخت، اس کے پہاڑ، اس کے دریا، یہ سب پاکستان کے وجود سے جڑے ہیں، جیسے روح جسم سے اور  جیسے دل دھڑکن سے۔ 

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

ادارتی نوٹ: عراق کا اعلانِ عزت و غیرت ۔۔۔ اسرائیل سے ہر تعلق جرم قرار

ادارتی نوٹ: عراق کا اعلانِ عزت و غیرت ۔۔۔ اسرائیل سے ہر تعلق جرم قرار
 حجۃ الاسلام ڈاکٹر  شفقت شیرازی :
عراق کی پارلیمنٹ نے 26 مئی 2022 کو ایک تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلق، تعاون یا رابطے کو جرم قرار دینے والا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا  تھا جب کئی عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لا چکے تھے۔ بغداد کا یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی جرأت کی علامت اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی ایک بلند اور بیدار آواز بھی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس فیصلے کی اہمیّت  کو موجودہ حالات  کی روشنی میں ایک مرتبہ پھر جانچا جائے۔
عراق کی پارلیمنٹ نے 26 مئی 2022 کو ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام، تعاون یا رابطے کو سختی سے جرم قرار دینے والا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف عراق کی داخلی سیاست میں ایک سنگِ میل کی حیثیت  اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں ایک جرأت مندانہ اور اصولی مؤقف کے طور پر سامنے آیا ۔ عراقی خبررساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والے اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ نے قانونِ تجریمِ تطبیع مع اسرائیل کے حق میں اتفاقِ رائے سے ووٹ دیا۔ یہ قانون پارلیمانی کمیٹی برائے امورِ قانون کی سفارش پر پیش کیا گیا تھا۔
قانون کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس کی منظوری کا مقصد عراق میں قومی، اسلامی اور انسانی اصولوں کا تحفظ ہے، کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی درجے کے تعلق یا اس کی ترویج کو عراق کی سلامتی، نظریاتی تشخص اور اجتماعی وحدت کے لیے شدید خطرہ تصور کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ قانون کا ہدف ان تمام کوششوں کو روکنا ہے جو قابض صہیونی ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات یا رابطوں کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہوں۔ قانون میں ایسے اقدامات کے مرتکب افراد کے لیے سخت اور عبرت ناک سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
ووٹنگ کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان میں جشن کا سماں تھا۔ اراکینِ پارلیمنٹ نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور نعرے بلند کیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ارکان خوشی سے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔ صدرِ تحریک کے سربراہ مقتدی الصدر نے اس فیصلے کو عراق کی دینی غیرت اور قومی عزت کی جیت قرار دیا اور اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں جشنِ فتح کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ عراق طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوع کے تعلقات کا منکر رہا ہے اور بیشتر سیاسی قوتیں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی تطبیع کو اسلامی اصولوں اور عربی وحدت کے منافی سمجھتی ہیں۔
عراق کی پارلیمنٹ کا یہ اقدام صرف ایک قانونی و وقتی پیش رفت نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی حرکیات میں ایک مضبوط اشارہ ہے۔ ایسے وقت میں جب کچھ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہے  تھے ، بغداد کا یہ فیصلہ محورِ مقاومت کی اخلاقی اور نظریاتی صف میں استقامت اور استقلال کی گونج بن کر سامنے آیا ۔ یہ قانون دراصل عراق کی اس تاریخی شناخت کو تازہ کرتا ہے جو فلسطین کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی علامت رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف عراقی قوم کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سیاسی، فکری اور اخلاقی پیغام بھی رکھتا ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا ممکن ہے، اگرچہ اس کی قیمت سفارتی تنہائی یا عالمی دباؤ کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔
یہ فیصلہ اپنی حیثیت میں جہاں  ایک قانونی متن ہے وہیں  امتِ مسلمہ کی عزت، غیرت اور وقار کا بیانیہ بھی۔ ایسے وقت میں جب کئی عرب ممالک  تیزی کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کر رہے تھے، عراق نے یہ اعلان کر کے ثابت کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ابھی بھی وہ آوازیں زندہ ہیں جو حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اس قانون نے عراق کو صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی قیادت کی صفِ اول میں کھڑا کر دیا ۔
عراق کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مسلم دنیا کا ایک بڑا حصہ سیاسی مصلحتوں اور معاشی مراعات کے دباؤ میں اپنی تاریخی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوتا جا رہا تھا، آج پھر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں بغداد کی پارلیمنٹ نے گویا ضمیرِ امت کی گمشدہ صدا کو پھر سے زندہ کیا ۔ یہ قانون محض اسرائیل و امریکہ  کے خلاف ایک فکری بغاوت  اور شعوری مزاحمت کی علامت بنا۔ "وائس آف نیشن" کے نزدیک یہ اقدام عراق کے عوامی شعور، دینی بیداری اور اصولی سیاست کا مظہر ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ اقوامِ عالم کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ فلسطین صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر بغداد اپنی مزاحمتی روح کے ساتھ ثابت قدم رہا تو تاریخ اسے صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک اصولی موقف کی علامت کے طور پر یاد رکھے گی۔


منگل، 21 اکتوبر، 2025

کیا پاکستان میں " یکساں نصاب تعلیم" یعنی کثرت میں وحدت ممکن ہے؟

کیا پاکستان میں " یکساں نصاب تعلیم" یعنی کثرت میں وحدت ممکن ہے؟
ڈاکٹرنذر حافی  :
پاکستان میں جہاں  مسلمان ایک مذہبی اکثریت ﴿شیعہ، بریلوی، دیوبندی،  اور اہلِ حدیث وغیرہ﴾ کے طور پر  آباد ہیں وہیں  مذہبی  اقلیتوں  کے لحاظ سے عیسائی، ہندو، سکھ، احمدی، بہائی وغیرہ کی بھی  ایک قابلِ توجہ  یہاں  تعداد رہتی ہے۔ اسی طرح  اس ملک میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، اردو وغیرہ کے اعتبار سے لسانی تنوع  بھی موجود ہے  اور اشرافیہ سے لے کر انتہائی غریب طبقات تک معاشی تفریق بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے متنوع معاشرے میں یکساں معیاری تعلیم سب کی ضرورت بھی ہے اور سب کا فطری و قانونی حق بھی۔ معاشرتی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور تعلیمی مساوات کو فروغ دینے کیلئے  ملک بھر کے تمام بچوں  کو بلاتفریق مذہب و نسل  تعلیم کا یکساں معیار فراہم کرنا  ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔ تعلیم کے یکساں معیار کی  فراہمی کی اہمیّت سے کسی پاکستانی کو انکار نہیں لیکن انکار کی  مختلف صورتیں تب سامنے آتی ہیں کہ  جب "یکساں" کا مطلب صرف "اکثریتی لوگوں کی رائے" لے لیا جائے  نیز جب ریاستی پالیسی میں مشاورت کے بجائے لوگوں کے عقائد تبدیل  کرنے کا رویہ جھلکے اور جب دینی مواد صرف ایک مخصوص فرقے کی تشریحات پر مبنی ہو، اسی طرح جب اقلیتوں کے لیے "متبادل" صرف کاغذ پر  توموجود ہو لیکن  عملی طور پر  کہیں دکھائی نہ دے  اور جب نجی اور سرکاری اسکولوں کے لیے تعلیمی معیارات،  تدریسی وسائل اور زبانیں مختلف ہوں۔
نجی تعلیمی اداروں نے بھی یکساں  نصاب تعلیم  کے بعض پہلووں  پر سوالات اٹھائے ہیں، خصوصاً اس کی معیاری ساخت اور تدریسی آزادی پر۔ کئی اسکولز اسے معیاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں اور مکمل طور پر اپنا نصاب ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ دینی مدارس نے بھی SNC کے نفاذ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، خصوصاً دینی نصاب میں ریاستی مداخلت پر۔ اس تمام صورتحال میں طلبا، والدین، اساتذہ، تعلیمی ماہرین، علما، اقلیتیں، اور دیگر سماجی حلقے بطور اسٹیک ہولڈرز سامنے آتے ہیں، جن کی مشاورت اور شمولیت کے بغیر  یکساں نصاب کی کوئی تعلیمی پالیسی مؤثر اور پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ یہ  چیلنج صرف پاکستان کو درپیش نہیں بلکہ دنیا میں کئی ایسے  ممالک ہیں جیسے کینیڈا، بھارت، جنوبی افریقہ، ملائیشیا وغیرہ  جہاں مذہبی و لسانی تنوع موجود ہے، وہاں کثرت میں وحدت (Unity in Diversity) کی بنیاد پر تعلیمی پالیسیاں ترتیب دی گئی ہیں۔ اگر وہ ممالک ایسی تعلیمی پالیسی بنا سکتے ہیں تو  پاکستان  کیوں  ایسی تعلیمی حکمتِ عملی اپنا سکتا!؟  لہذا ضرورت  اس امر کی ہے کہ ایک مستقل اسٹیک ہولڈر فورم تشکیل دیا جائے جس میں سرکاری اداروں، نجی اسکولوں، دینی مدارس، علما، والدین، طلبا اور اقلیتوں کی نمائندگی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک آزاد مانیٹرنگ، فیڈ بیک  اور جائزہ نظام بھی قائم کیا جائے جو نصاب کے نفاذ، مواد کے توازن، اور معیار تعلیم کی نگرانی کرے۔ 
یہاں پر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ ہماری دانست میں پاکستان میں ایسی یکساں تعلیمی حکمتِ عملی کی راہ میں حقیقی رکاوٹ "اشرافیہ" کی طرف سے ہے۔ اشرافیہ کے نجی اسکولز (A/O Levels، IB، IGCSE) اپنے اعلیٰ معیار، عالمی نصاب، انگریزی ذریعہ تعلیم، اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایک مخصوص "تعلیمی برتری" کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔SNC چونکہ ایک مساوات پسند ماڈل ہے اس لیے  اسے ناقابلِ عمل بنا کر پیش کیاجاتا ہے۔ اسی طرح  اشرافیہ کے بچے زیادہ تر کیمبرج، بیکالوریٹ (IB)، یا دیگر بین الاقوامی نصاب میں پڑھتے ہیں۔ ان اداروں کے لیے SNC کو اپنانا معیاری اور عالمی سطح کے تقاضوں سے پیچھے ہٹنا تصور کیا جاتا ہے۔ان اسکولوں کا موقف ہے کہ SNC تعلیم کے عالمی معیارات پر پورا نہیں اترتا، لہٰذا اسے نافذ کرنا بچوں کے مستقبل کے مواقع اور مقابلے کی قابلیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔  ہمیں اس حقیقت کو لمس کرنا چاہیے کہ  اشرافیہ کے لیے تعلیم محض حصولِ علم نہیں بلکہ سوشل اسٹیٹس (سماجی حیثیت) کی علامت ہے۔اگر غریب و امیر ایک ہی نصاب پڑھنے لگیں، تو وہ "تعلیمی برتری = طبقاتی برتری" کا فارمولا ٹوٹنے لگے گا۔ اس خدشے  کے باعث  اشرافیہ بالواسطہ طور پر SNC کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ SNC کا مواد اکثر قومی زبان (اردو)، اسلامی اخلاقیات، اور مقامی اقدار پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ اشرافیہ کے تعلیمی ادارے مغربی طرزِ فکر، انگریزی زبان، اور سیکولر رجحانات کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ اقداری ٹکراؤ بھی  SNC  کی قبولیت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ کے تسلّط  کو دیکھتے ہوئے  یہ کہا جاسکتا ہے کہ  اشرافیہ چونکہ پالیسی ساز اداروں، بیوروکریسی، اور نجی شعبے میں مؤثر نفوذ اور اثر و رسوخ  رکھتی ہے، اس لیے وہ SNC کے اطلاق کو تاخیر میں ڈالنے،  جزوی طور پر  رُکوانے یا تعطل میں  ڈالنے میں کسی نہ کسی طرح  کامیاب  چلی آ رہی ہے۔
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ بہت سے تعلیمی ادارے اشرافیہ کے بڑے تعلیمی گروپس کی ملکیت ہیں، جن کی عمارتیں، استاد،  کتابیں،  اسٹیشنری، تدریسی ٹیکنالوجی، تدریسی تربیت اور امتحانی نظام ان کی کمرشل سرگرمیوں کا حصہ  ہے۔SNC کے نفاذ سے ان کی آمدن پر ضرب پڑے گی جس کے پیشِ نظر وہ  یکساں نصاب تعلیم سے نالاں ہیں۔ معاشرے میں  وہ بڑی چابکدستی سے  SNC کے  پسماندہ، دقیانوسی اور غیر معیاری  ہونے کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔اس طبقے کی رائے سازی، میڈیا تک رسائی، اور تعلیمی بیانیے پر اثر کے باعث SNC کے خلاف ہر فورم پر  ایک سافٹ مزاحمت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
مذکورہ بالا تناظر میں کہ جب  ایک طرف انواع و اقسام کے مسالک و نسلیں جدید و معیاری تعلیم کیلئے تشنہ ہیں اور  دوسری طرف تعلیمی وسائل پر  اشرافیہ کا تسط   ہے، ایسے میں یکساں نصابِ تعلیم کی اہمیّت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ چنانچہ ہم اس  اہمیّت کے پیشِ نظر  سارے پاکستانیوں کو یکساں نصابِ تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے  کیلئے کچھ تجاویز پیش کئے دیتے ہیں:
۱۔ درسی مواد میں تنوع اور احترام کو قائم رکھتے ہوئے  "یکساں" کا مطلب یہ ہو کہ تعلیم کی رسائی، معیار، اور مواقع سب کے لیے برابر ہوں  ۔
۲۔دینی تعلیم میں "مشترکہ  اقدار " (Shared Values) پر زور دیا جائے، نہ کہ فقہی، مسلکی  و  دینی  تفصیلات پر۔
۳۔ اقلیتوں کو آئینی حق کے مطابق اپنا مذہبی نصاب اختیار کرنے کی مکمل سہولیات دی جائیں۔
۴۔لسانیات کے معاملے میں پسماندہ مناطق میں مقامی و   علاقائی زبانوں کو ابتدائی تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے اور اردو و انگریزی کو تدریجاً شامل کیا جائے۔
۵۔ والدین و طلبا اور ماہرین تعلیم و پالیسی میکرز نیز  نجی و سرکاری تعلیمی  شعبے کے درمیان اعتماد اور مکالمے کو فروغ دیا جائے، صرف حکم نہ سنایا جائے۔
۶۔SNC کو معیار اور تنوع کے ساتھ تیار کیا جائے تاکہ یہ بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔
۷۔نجی اسکولز کو مکمل آزادی  دینے کے بجائے کچھ  تدریسی و تربیتی اختیارات دئیے جائیں اور لچک فراہم کی جائے۔
۸۔اشرافیہ کے اسکولز کو SNC کے بنیادی عناصر اپنانے پر قانونی و اخلاقی دباؤ ڈالا جائے۔
۹۔SNC میں عالمی معیار، جدید سائنسی رجحانات، اور تحقیقی بنیادوں پر مبنی تعلیم کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ماہرینِ تعلیم اور  اشرافیہ کے تحفظات  بھی کم ہوں۔
۱۰۔ کسی بھی تبدیلی کو ملک گیر نافذ کرنے سے پہلے مخصوص اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر نافذ کیا جائے اور اس کے نتائج کا تجزیہ ماہرین کی مدد سے کیا جائے۔ نیز ہر نئے مرحلے میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، اسکول لیول ماہرین، اور ٹرینرز کو شامل کیا جائے۔ ایک "نصاب مشاورتی کونسل" تشکیل دی جائے جس میں تمام متعلقہ ماہرین کی نمائندگی ہو۔




پیر، 20 اکتوبر، 2025

زندہ تعلیمی نظریات

نصابِ تعلیم کا مقصد صرف جینا یا بامقصد زندگی؟

نصابِ تعلیم  کا مقصد صرف جینا یا بامقصد زندگی؟
ڈاکٹر نذر حافی  :
پاکستان میں تعلیم کا  شعبہ  بظاہر غیر معمولی اہمیّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ایک معاشی سروے کے مطابق ملک میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو کہ تعلیمی میدان میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی سال پرائمری سطح کے رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 24.61 ملین تھی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 2022-23 سے 2023-24 کے دوران طلبا کی تعداد 56.07 ملین سے بڑھ کر 58.33 ملین ہو گئی، جبکہ اساتذہ کی تعداد 2.576 ملین سے بڑھ کر 2.657 ملین ہو گئی۔ پنجاب میں 48,473 سرکاری اسکولوں میں 11.96 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں، اور 3 لاکھ سے زائد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح دینی مدارس بھی تعلیمی منظرنامے کا ایک بڑا جزو ہیں۔ سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 17,738 رجسٹرڈ دینی مدارس ہیں جن میں 2.25 ملین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مدارس کی تعداد لاکھوں طلبا کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک اور سروے کے مطابق ملک میں مدارس کی مجموعی تعداد 36,331 تک پہنچتی ہے، جس سے رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ مدارس کے درمیان واضح فرق بھی سامنے آتا ہے۔
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے اعداد و شمار تو موجود ہیں، اداروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، لیکن جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ تمام تعلیمی ادارے کسی مشترکہ، قومی تعلیمی پالیسی کے تابع ہیں؟ تو جواب زیادہ تسلی بخش نہیں۔ مسئلہ صرف انتظامی امور یا بجٹ کا نہیں بلکہ  مفقود شُدہ فکری اور نظریاتی سمت کا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق تعلیم  فقط رٹانے اور دہرانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدت پالیسی ہوتی ہے، جس کے نتائج نسلوں کے مزاج، تہذیبوں کی اقدار، اور  تمدّن کے خدوخال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے تعلیم محض  کسی سکول، کالج، یونیورسٹی یا دینی مدرسے کی ایک ادارہ جاتی سرگرمی نہیں ہوتی بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی  بقاء و ارتقا  کی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔  چنانچہ تعلیم کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب کسی تعلیمی ادارے کی مدیریت ،  اُستاد، طالب علم اور والدین  چاروں  پر واضح ہونا چاہیے۔  جس قوم کی درسگاہیں اس سوال کا جواب دینے کے بجائے صرف امتحانات کی تیاری اور  روزگار و نوکری  کی تربیت تک محدود ہوں تو  وہ قوم نہ اپنے ماضی کو سمجھ سکتی ہے، نہ حال کو بدل سکتی ہے  اور  نہ ہی مستقبل کو سنور سکتی ہے۔ بلا شبہ  تعلیمی نظام  کو اگر اس سوال کے جواب  کے بغیر ترتیب دیا جائے، تو وہ بے سمت  عمل بن کر انسانی صلاحیتوں اور سرمائے کے  زیاں  کا سبب بن جاتا ہے۔
تعلیمی نظام  کے دو اہم پہلو ہوتے ہیں: ایک تعلیمی نظریات کی تولید، ایجاد اور  پھیلاؤ  اور  دوسرے ان نظریات کا ارتقا اور تحفظ ۔ تعلیم کے ذریعے  ایک طرف تو ایک  قوم  اپنے  علمی بیانیے کو وسعت دیتی ہے  اور  دوسری طرف  اپنے قومی، تہذیبی اور نظریاتی وجود پر داخلی یا خارجی دباؤ  کا مقابلہ کرتی ہے۔اگر کوئی قوم صرف اپنی علمی میراث کے حفظ اور تحفظ پر اکتفا کرے گی تو اس کا بیانیہ کمزور اور محدود ہو جائے گا، اور اگر صرف پھیلاؤ پر زور دے گی تو اس کی بنیادیں متزلزل  اور منہدم ہو جائیں گی۔ ایک متوازن تعلیمی نظام  تولید اور پھیلاو ان دونوں کے امتزاج سے مرکّب ہوتا ہے۔ یہ عمل ایک مربوط نظام یعنی " نظامِ تعلیم"  کا متقاضی ہے۔ 
تعلیمی ادارہ چاہے دینی ہو یا عصری اُس کے نظامِ تعلیم کا مقصد "تعلیم "کو نظریاتی جہتوں، فکری  اعتبار اور زمانے کے لحاظ سے ارتقا دینا اور بامقصد بنانا ہوتا ہے۔ تعلیم کو ارتقا دینے اور  بامقصد بنانے کے عمل کے دوران  نظامِ تعلیم کے ذریعے ہم اپنی قومی شناخت، دینی اقدار، تہذیبی شعور، تاریخی تجربات، اور فکری روایت کو ایک منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔یہ عمل صرف الفاظ کا اظہار نہیں بلکہ ایک  نسل کی تربیّت کا  نکتہِ آغاز ہوتا ہے۔مثلاً ایک اسلامی ریاست میں نظامِ تعلیم کے ذریعے "توحید"، "عدل"، "اخلاق"، "خدمت خلق" جیسے تصورات کو محض مذہبی اصطلاحات کے بجائے  زندگی کے بنیادی اصولوں کے طور پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔
دوسری طرف نصابِ تعلیم کو اس امر پر بھی ناظر ہونا چاہیے کہ  مغربی، نوآبادیاتی، سامراجی یا سرمایہ دارانہ تعلیمی و فکری ڈھانچوں کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرینِ تعلیم کو یہ جانچنا چاہیے کہ  کیا  موجودہ مغرب کا "ترقی" کا تصور ہماری تہذیب سے ہم آہنگ ہے؟ اسی طرح  کیا "سائنس و ٹیکنالوجی" کو صرف مادی ترقی کا ذریعہ اور آلہ  بنا دینا درست ہے؟ نیز  کیا تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم اور "آزادی" کا مطلب صرف فرد کی خواہشات کی پیروی ہے، یا  اس کی کوئی اخلاقی و تہذیبی حد بھی ہے؟ نصاب تعلیم  چاہے دینی ہو یا عصری یہ نصابِ تعلیم نے ہی  قوموں کو دوسروں کے بیانیوں کے زیر اثر رہنے کے بجائے اپنی تشریح، تنقید اور تشکیل کا  شعور دینا ہوتا ہے۔
جس طرح مغرب نے  اپنے عہدِ روشن خیالی  کے بعد اپنے تعلیمی نظام کو معلومات کی ترسیل کا ذریعہ بنانے کے بجائے  اپنے سائنسی، سوشیالوجیکل (معاشرتی) اور پولیٹیکل (سیاسی) نظریات کی اشاعت و استحکام کے ایک فعال آلے کے طور پر استعمال کیا، ویسے ہی مسلم دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ تعلیم کو صرف پیشہ ورانہ مہارت یا حفظ و نقل کا عمل سمجھنے کے بجائے  اس کے ذریعے  اپنی  تنقیدی فکر ، تحقیقی سوچ اور فکری و تہذیبی وراثت کو دنیا کے سامنے لائے۔ مغربی دنیا کے تعلیمی نظام میں  سرمایہ دارانہ نظام، انفرادی آزادی، سیکولرازم اور لادینیت کو بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ اگر مسلم دنیا انہی تصورات کو بلا تنقید قبول کرے تو وہ اپنی نظریاتی شناخت اور خودی   سے محروم ہو جائے گی۔ لہٰذا مسلم  ماہرینِ تعلیم کو چاہیے کہ وہ دینی و عصری تعلیم کے میدان میں  روشن خیالی اور علمی نقد کا دروازہ کھولیں تاکہ نصاب تعلیم کا بامقصد ہونا معاشرے میں نظر آئے۔ نصابِ تعلیم کا بامقصد ہونا  اُس وقت نمایاں  ہوتا ہے جب وہ محض تقلید نہیں بلکہ اجتہاد کے ساتھ جڑا ہُوا ہو۔  تعلیم اجتہاد کے ساتھ مربوط ہے یا نہیں اس کی پیمائش کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ دیکھیں کہ کیا ہمارا نصابِ تعلیم  کتابوں اور قدیمی نظریات کو صرف رٹنے اور حفظ کرنے تک محدود ہے یا یہ  طلبا کے اندر انکار کرنے کی جرائت، علمی نقد کرنے کی صلاحیّت،  سوال اٹھانے کی  سوچ ، تحقیق کرنے کا شوق ، اور زمانے کے مطابق  علمی  تعبیرات کو  بدلنے کی  فکر بھی پیدا کر رہا ہے؟۔کیا ہمارا نصاب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم کیوں جیتے ہیں؟ اور کیا ہمارا استاد  ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی بڑے مقصد سے جڑی ہوئی ہے؟
یہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب ہمارے  تعلیمی پالیسی میکرز  یہ جانتے ہوں  کہ تعلیمی نظام  وہ بنیاد ہے جو قوم کو جڑ سے جوڑتی ہے نہ کہ اکھاڑتی ہے یا نقّال بناتی ہے۔  تعلیم محض اخلاقیات کی تدریس یا حب الوطنی کے نعرے نہیں سکھاتی بلکہ  یہ اقدار کے ساتھ شعوری وابستگی کی وہ تعمیر ہے جو فرد کو مہذّب  اور  متمدّن  شہری بناتی ہے۔ اس زاویے سے  فلسفہ ہو یا  منطق، تصوف ہو یا  شریعت ، سائنس ہو یا ٹیکنالوجی اگر اس میں میں شعورِ خودی اور شعورِ نقد و  مزاحمت ہی نہیں تو  ایسی تعلیم کسی کو مہذب، متمدّن اور باہدف جینا نہیں سکھا سکتی۔ ہمیں آج ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری ، اُسے  معاشی آلہ  بنانے سے مستقبل کا انسان  فکری، تہذیبی اور اخلاقی تحریک سے عاری ہو جائے گا۔  لہذا محتاط رہیں کہ اگر تعلیم قومی و تعلیمی  اقدار ونظریات کو نئی نسل کے شعور میں نہیں انڈیلتی  تو نہ وہ  کارآمد ہے اور  نہ ہی  قابلِ اعتنا۔ کسی بھی  قوم اور  ریاست کو آپ صرف اسلحے سے زیادہ دیر تک باقی نہیں رکھ سکتے۔ اقوام و ملل کی  بقاء کا راز "صرف فوجی اسلحے" میں پنہاں  نہیں بلکہ  اس کیلئے "ہر  فوجی کا نظریاتی ہونا" بھی ضروری ہے۔ وہ فوجی چاہے کسی عسکری محاز پر کھڑا ہو یا تعلیم، صحت اور سائنس کی دنیا کا فوجی ہو۔ یہ فراموش نہ کریں کہ    آج کی جدید دنیا میں صرف تعلیم  ہی وہ اسلحہ ہے جو بغیر خون بہائے نسلوں  کی حفاظت کرتا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں نصابِ تعلیم  کی اصلاحات پر بحث جاری ہے، تو  ہمارے لئے بھی سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم اگلی نسل میں  کس قسم کے انسان  تیار کرناچاہتے ہیں؟ کیا ہم صرف  ہنرمند، معلومات یافتہ اور روزگار کے قابل پیسے کمانے والے   "مشین نما افراد" چاہتے ہیں، یا  ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں کہ  جو اپنی زندگی کو  حقیقی معنوں میں انسان بننے اور انسانوں کی خدمت کرنے  کیلئے صرف کرے؟ اگر ہماری  تعلیم صرف  ہمارے بچوں کا پیٹ بھرنے اور ان کی شہوت کی آگ بجھانے کے کام آئے   اور  انہیں مفید و معتدل انسان بننا نہ سکھائے تو  کیا  ایسے بچے  اس کُرّہ ارض کو خود ہی تباہ نہیں کر دیں گے؟۔ لہذا ہمارے ملک میں اس سچائی پر نظامِ تعلیم کو استوار ہونا چاہیے کہ  نصاب تعلیم ہمیں صرف زندہ رہنے اور زندگی بسر کرنے کیلئے روزگار فراہم کرنے کا نام نہیں  بلکہ نصاب تعلیم وہ ہے جو ہمیں مفید  سرگرمیوں اور معتدل  رویّوں کے ساتھ بامقصد اور باوقار  زندگی بسر کرنا سکھاتا ہے۔

اتوار، 19 اکتوبر، 2025

۲۷ اکتوبر۔۔۔ خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

۲۷  اکتوبر۔۔۔  خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
ڈاکٹر نذر حافی
27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج  کشمیر پر قابض ہوئیں۔ یوں اس روز ایک ایسے تنازع کی بنیاد  پڑی جس سے جنوبی ایشیا کو آج تک مستقل کشیدگی، عسکری چپقلشوں  اور سفارتی بحران  کا  سامنا ہے۔ یہ بحران اس لئے ختم نہیں ہو سکتا چونکہ  ایک طرف   بین الاقوامی سطح پر ریاست جمّوں و  کشمیر پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کو متعین کرتی ہے جبکہ دوسری طرف   کشمیریوں کی نظریاتی زندگی جیسے حقِ خودارادیت، نوآبادیاتی ظلم کے خلاف مزاحمت، اور مسلم اُمہ کے ساتھ یکجہتی جیسے اصول بھی صرف پاکستان کی بدولت زندہ ہیں۔ اگر  ریاست جموّں و کشمیر کا محلِ وقوع پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، اور چین کے ساتھ زمینی رابطے کی بنیاد ہے تو پاکستان کا وجودریاست جموں و  کشمیر کی  بقا، خودمختاری اور تاریخی حیثیت کیلئے ناگزیر ہے۔ بطورِ مثال  اگر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے کشمیر کے بغیر ممکن نہیں تو اُسی طرح پاکستان کے بغیر کشمیر کو  گلگت و بلتستان، سیاچن گلیشیئر، لداخ اور کارگل جیسے کئی  علاقوں سے محرومی کا سامنا یقینی ہے۔
کہنے کو تو ۲۷  اکتوبر  کا دن  کشمیری عوام کے لیے ایک تاریخی سانحہ ہے۔ تاہم ہم  یہ کب سوچیں گے کہ یہ سانحہ کیوں رونما ہوا؟ ہمارے نزدیک  یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اگر ہمارے پالیسی ساز اپنی پالیسیوں  پر نظرِثانی کرنے کے عادی ہوتے۔ تاریخی شواہد کے مطابق  27 اکتوبر 1947  سے لے کر سقوطِ بنگلہ دیش 16 دسمبر 1971  تک ہم بحیثیتِ قوم دوقومی نظریّے سے مسلسل پسپا ہوتے گئے۔ ہمارے نزدیک اس پسپائی کی بنیادی وجہ جہاد کی غلط تبیین اور جتھوں کی سیاست تھی۔ ہمارے ہاں جہاد کو سیاسی، اقتصادی، علمی اور تعلیمی و  ریاستی عمل کے بجائے  ایک غیر سنجیدہ   اور فرقہ وارانہ عمل بنا دیا گیا ، جس کے نتیجے میں جہاد  کو ایک انڈسٹری بنا کر خون آشام جتھوں، ٹارگٹ کلرز، خود کُش بمبار فورسز، اور  مختلف مذہبی عسکری گروہوں کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ریاستی سطح پر دفاعی اداروں کو مخصوص دینی طبقات نے اپنے مخالفین کو کچلنے کیلئے  استعمال کیا، جس کا نتیجہ متشددانہ رویّوں ،  غیر نظریاتی ردعمل اور جذباتی مہمات کی شکل میں نکلا۔
بھارت نے دنیا کے سامنے  ریاست جمّوں و کشمیر اور بنگلہ دیش دونوں محازوں پر  اپنی  مداخلت کو ایک قانونی عمل قرار دیا۔ اس کے جواب میں  ہم اپنی محدود جتھہ ساز سوچ  کے نتیجے میں بھارت کو  کہیں پر بھی  مات نہیں دے سکے۔  یہی وجہ ہے کہ  اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں لیکن اسے عملی کرنے کیلئے پاکستان کے پاس سوچنے اور پلاننگ کرنے والے افراد ہی نہیں۔ ہماری ساری سوچ گھوم پھر کر جنگ لڑنے پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔
پاکستان نے ۲۷ اکتوبر اور ۱۶ دسمبر کو  "یومِ سیاہ" کے طور پر منانے کی روایت قائم کر رکھی ہے، جو ایک علامتی احتجاج ضرور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ احتجاج کسے کہتے ہیں؟  اگر ہم غوروفکر سے کام لیں تو  اس احتجاج کو  اسٹریٹیجک اور سفارتی سطح پر ایک بھرپور عوامی، جمہوری، بین الاقوامی  اور سیاسی  مہم میں بدلا جا سکتا ہے ۔
اس سال 2025 کا 27 اکتوبر ماضی کے مقابلے میں کئی وجوہات کی بنا پر کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف بھارت کی مودی سرکار نے پانچ اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مکمل سیاسی، آئینی اور جغرافیائی تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، جن کے منفی اثرات اب تیزی سے واضح ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا سیاست اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کر رکھی  ہے۔ یہ ایسا موقع ہے کہ  اس وقت  عالمی برادری مسئلہ کشمیر  پر توجہ دینے کے لیے زیادہ تیار اور حساس ہے۔ یعنی عالمی سیاسی منظرنامہ کچھ اس انداز میں ترتیب پا چکا ہے کہ اگر اس وقت ریاستِ پاکستان  اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے  تو وہ عالمی پذیرائی حاصل کر سکتا ہے۔ آج بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی تنقید بڑھ رہی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جسے پاکستان کو مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل تبدیلیاں بھی اس سال کے ۲۷ اکتوبر کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ان دِنوں  فلسطین میں جاری انسانی بحران، یوکرین جنگ، اور دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے بلاکس نے انسانی حقوق، قبضے، اور خودارادیت جیسے مسائل کو عالمی مباحثے کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستان ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو ان عالمی بیانیوں سے جوڑ کر بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے لیے یہ وقت محض رسمی بیانات کا نہیں  بلکہ ایک منظم سفارتی حکمتِ عملی اپنانے کا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور یورپی یونین جیسے اداروں کو کشمیر کی موجودہ صورت حال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے نتائج سے از سرِ نو  آگاہ کیا جانا چاہیے۔ سفارتخانوں کو چاہیے کہ وہ اس دن کے موقع پر دنیا بھر میں خصوصی بریفنگز، کانفرنسز اور ریسرچ رپورٹس کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ پیش کریں۔
میڈیا اور نریٹو وار کے میدان میں پاکستان کو اپنے حصّے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کے دور میں جنگ صرف توپوں اور بندوقوں سے نہیں بلکہ بیانیے  سے لڑی جاتی ہے۔ بیانئے کی جنگ  سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، آن لائن نیوز، بلاگز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بھارت  کا بیانیہ   ہے کہ "کشمیر میں سب کچھ معمول" پر ہے  لیکن پاکستان اور کشمیری عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ سچ کو مؤثر اور منظم انداز میں دنیا تک پہنچائیں۔
اس مقصد کے لیے عینی شاہدین اور کشمیری مہاجرین  کی براہِ راست گواہیاں ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ کشمیری  خاندان جو بھارتی افواج کے مظالم، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، یا میڈیا پر پابندیوں کے عینی شاہد رہے ہیں، اگر ان کی بات عالمی میڈیا، یوٹیوب چینلز، اور بین الاقوامی فورمز پر پہنچائی جائے تو بھارت کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھل سکتی ہے۔ ایسے واقعات کی وڈیوز، تصاویر، تحریری رپورٹس اور زندہ شہادتیں بین الاقوامی ضمیر کو بیدار کر سکتی ہیں بشرطیکہ اس مواد کو پروفیشنل انداز میں تیار اور نشرکیا جائے۔
ایسے میں ایک اور طاقت جو پاکستان کے لیے نہایت قیمتی اثاثہ بن سکتی ہے، وہ ہے کشمیری ڈائسپورا۔ کشمیری ڈائسپورا سے مراد دنیا بھر میں آباد وہ کشمیری باشندے ہیں جو یا تو بھارتی مظالم سے ہجرت کر چکے ہیں یا نسل در نسل بیرونِ ملک مقیم ہیں، لیکن اب بھی کشمیر کے مسئلے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، یورپ، مشرق وسطیٰ، اور کینیڈا جیسے خطوں میں مقیم یہ کشمیری برادری، وہاں کے میڈیا، پارلیمان اور انسانی حقوق کے اداروں تک اپنی آواز پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ان کی رہنمائی، معاونت اور سفارتی تربیت کی جائے تو یہی کشمیری ڈائسپورا، دنیا بھر میں کشمیر کے حق میں ایک مستقل سفارتی قوت بن سکتی ہے۔ ان کی ذاتی ڈائریاں، تجربات اور شہادتیں بین الاقوامی میڈیا میں ایک انسانی چہرہ پیش کرتی ہیں، جو بھارت کے سرکاری بیانیے کا مؤثر توڑ ہو سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے یہ دن قومی سلامتی کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور اسٹریٹیجک بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ عوامی قیادت، جمہوری رہنماوں ، سیاسی پارٹیوں ،عسکری قیادت اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ ۲۷ اکتوبر کے موقع پر یہ واضح پیغام دیں کہ کشمیر پاکستان کی قومی سلامتی کا جزوِ لاینفک ہے، اور اس کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔
المختصر یہ کہ  ۲۷ اکتوبر ایک تاریخی سانحہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور سفارتی، ڈیجیٹل اور قانونی موقع بھی ہے۔ اگر پاکستان نے  اس دن کو محض تقریری بیانات اور احتجاجی مظاہروں تک محدود رکھا  تو شاید دنیا کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ تاہم  اگر اسے منظم حکمتِ عملی، مضبوط سفارت کاری، ڈیجیٹل نریٹو وار،  عینی شاہدین کی روداد،  قانونی اقدامات، کشمیری ڈائسپورا کی مؤثر شمولیت، اور  موجودہ سفارتی فضا  کو  حق و سچ بیان کرنے کیلئے  استعمال کیا جائے  تو یہ دن کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کرنے کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان روایتی طرزِعمل سے آگے بڑھ کر ایک فعال، مربوط اور پائیدار کشمیر پالیسی اپنائے  قبل اس کے کہ سانحہ بنگلہ دیش کی مانند وقت اور موقع دونوں ہاتھ سے نکل جائیں۔

جامعہ رضا میں ہفتہ وار بزم، کشمیر، گلگت بلتستان اور فلسطین کی تاریخ پر تقاریر

رپورٹ: ثاقب علی ناصری
جامعہ رضا میں ہفتہ وار علمی و فکری نشست "بزمِ ہفتہ" کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء نے قومی و بین الاقوامی امور پر مدلل اور مختصر تقاریر پیش کیں۔ اس ہفتے کی بزم میں بالخصوص کشمیر، گلگت بلتستان اور فلسطین کی آزادی پر توجہ مرکوز رہی، جبکہ پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے دعا بھی کی گئی۔
طلباء نے کشمیر اور گلگت بلتستان کی تاریخی اہمیت اور ان علاقوں کے عوام کی جاری جدوجہد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان خطوں کے باسی دہائیوں سے آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مقررین نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنے قلم، علم اور شعور کو ان مظلوم خطوں کے لیے آواز بلند کرنے میں استعمال کریں۔
تقاریر کے دوران فلسطین کی موجودہ صورتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے فلسطینی عوام پر جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ انہوں نے مسلم امہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے مظلوم عوام کی عملی حمایت کرے۔
نشست کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور باخبر نوجوان نسل ہی پاکستان کو موجودہ چیلنجز سے نکال کر روشن مستقبل کی جانب لے جا سکتی ہے۔ اس موقع پر طلباء نے قومی یکجہتی، اتحاد، اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر شعور اجاگر کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کی رجسٹریشن کا اعلان

ادارے کی انتظامیہ کی طرف سے نئے داخلوں کی رجسٹریشن، ٹیسٹ اور انٹرویو کااعلان کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رجسٹریشن کی آخری تاریخ ۵ جنوری ۲۰۲۶ جبکہ ٹیسٹ و انٹرویو کی تاریخ ۶ جنوری ۲۰۲۶ مقرر کی گئی ہے۔  ملک کے چاروں صوبوں اورآزادکشمیروگلگت  بلتستان سے طلبا جامعۃ الرضا میں داخلہ لینے کیلئے اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ بعض آفت زدہ اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے طلبا کے لئے  آنلائن امتحان کی سہولت بھی موجود ہے۔ 
 مطلوبہ معلومات بھیجنے کیلئے وٹس ایپ نمبر نوٹ کر لیں۔ مولانا خادم حسین صاحب: 03455398135نام،ولدیت،رابطہ نمبر،تعلیم،علاقہ، اور اگرپہلے کسسی مدرسے  میں پڑھا ہوا ہو تو اس کا نام اور وہاں کی تعلیم بھی لکھ کر فوری طور پر بھیج دیں۔ 
   ۱۹۹۸ میں جامعۃ الرضا نے بارہ کہو کے محلہ سیداں میں   اپنی فعالیت کا آغاز کیا۔ اس وقت  کرائے کی ایک عمارت میں ہی درس و تدریس شروع کی گئی۔بعد ازاں   محلہ سیّداں میں ہی  مخیّرین کے تعاون سے   زمین خرید کر جامعۃ الرضا کی اپنی  بلڈنگ تعمیر  کر لی گئی۔وقت گزرتا گیا اور اس ادارے  کی  ترقی اور ارتقا کا سفر جاری رہا۔جامعۃ الرضا کے  نصابِ تعلیم میں  شروع سے ہی حوزہ علمیہ قم اور دائرہ امتحانات پاکستان کا سلیبس شامل تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ    دینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم  کا بھی خاص اہتمام تھا۔یوں کئی سال پہلے اس منطقے میں جامعۃ الرضا نے اپنی بساط کے مطابق  مکتبِ اہلِ بیتؑ کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔
اِس وقت جہاں اس ادارے کے تقریباً ایک سو سے زائد طالب علم حوزہ علمیہ نجف اشرف ، قم المقدس، مشہد مبارک، اصفہان، تہران  اور کربلائے معلی میں حصولِ علومِ اہلیبیتؑؑ میں مشغول ہیں وہیں اس سے فارغ التحصیل ہونے والے علمائے کرام بھی اچھی خاصی تعدادمیں ملک کے طول و عرض میں اپنی دینی و تبلیغی خدمات انجام دے رہے ہیں۔گزشتہ سالوں میں  طلبا کی تعداد میں اضافے اور تبلیغی دائرہ کار میں وسعت کے پیشِ نظر اس وقت جامعۃ الرضا کیلئے  ایک جدید عمارت تعمیر کی گئی ہے جو اپنے تکمیلی مراحل سے گزر رہی ہے۔بے شک یہ سب توفیقات خدا کی طرف سے ہی ہیں اور یہ سب وسائل اُسی کی امانت ہیں اور اُسی کےراستے میں صرف ہو رہے ہیں۔  اس وقت ہم ادارہ ہذا کے تعارف کے پیشِ نظر اس کی  کچھ خصوصیات کا اجمالی طور پر ذکر  کر رہے ہیں۔

اجمالی تعارف:

۱۔  تدریسی عملہ: 

 کسی بھی تعلیمی ادارے کی حقیقی پہچان اُس کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار اور ملت کے مستقبل کے مقدّر ساز ہوتے ہیں۔ جامعۃ الرضا کے تدریسی عملے میں جانی پہچانی علمی شخصیات شامل ہیں۔ادارے کے پاس  ایک ایسی  ماہر تدریسی ٹیم  موجود ہے جس میں پانچ اساتذہ  ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں۔ یہ  تدریسی عملہ کئی برس کا تدریسی تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ دینی و عصری تعلیم کے جدید تقاضوں سے بھی آگاہ ہے۔

۲۔ نصابِ تعلیم کی انفرادیت:

 جامعۃ الرضا کی ایک اہم انفرادیت یہاں کا نصابِ تعلیم ہے۔ یہاں پر اساتذہ کرام کی تعلیمی کمیٹی نے اپنے تجربے اور تخصص کی بنیاد پر دائرہ امتحانات، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی، مقامی و ملکی ضروریات کے مطابق خود جامعۃ الرضا کا مخصوص نصاب اور عصری تعلیم  کے نصاب کے درمیان بہترین توزن قائم کر رکھا ہے۔ یہاں کا ہر طالب علم بیک وقت بغیر کسی مشکل اور پریشانی کے اس جامع و  متنوع نصابِ تعلیم کی خوبیوں سے مستفید ہوتا ہے۔اس جامع اور متنوع   نصابِ تعلیم سے ہم آہنگی کیلئے جامعۃ الرضا میں درس و تدریس کیلئے پروجیکٹر، ایل ای ڈی، کمپیوٹرلیب اور لائبریری کی سہولت بھی موجود ہے۔

۳۔ دینی  اور عصری تعلیم کا   امتزاج: 

ادارہ ہذا میں اس وقت ۶۵ طلبا حصولِ علم میں مشغول  ہیں ۔یہاں کے طلبا نہ صرف ادارہِ ہذا میں   دینی علوم میں مہارت حاصل کر رہے ہیں بلکہ ملکی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں سے بیچلر، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی حاصل کرتے ہیں۔یوں انہیں  دینی  و دنیاوی دونوں میدانوں میں کامیاب ہونے کے مقدمات فراہم کئے جاتے ہیں۔

۴۔ شعبہ تعلیم و تربیّت  :

  ایک  دینی ادارے میں جیسے تعلیم کا نصاب موجود ہوتا ہے ویسے ہی تربیّت کا سلیبس بھی مشخص ہونا ضروری ہے۔ جامعۃ الرضا میں طلبا کی تمام تر نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی مناسب نظارت کیلئے تعلیم و تربیّت کا شعبہ چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے۔ یہ شعبہ جہاں تعلیم و تربیّت کیلئے پلاننگ کرتا ہے وہیں چوبیس گھنٹے طلبا کے ساتھ رابطے میں رہ کر ان کی سرگرمیوں کو منضبط بھی کرتا ہے۔

۵۔شعبہ تحقیق:

 کسی بھی تعلیمی ادارے کی علمی ترقی، تدریس کے معیار کی بہتری، اور تخلیقی فکر کو فروغ دینے میں شعبہ تحقیق کا کردارکسی سے مخفی نہیں۔ تحقیق نہ صرف نیا علم تولید کرتی ہے بلکہ معاشرتی، کلامی اور سماجی چیلنجز کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کامیاب  تعلیمی ادارے جدید سماج کے ساتھ تحقیقی روابط استوار کرتے ہیں، جس سے تعلیمی میدان میں طلباء کی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے ۔ چنانچہ جامعۃ الرضا میں شعبہ تحقیق بھی فعال ہے جس کا مقصد دینی و علمی مسائل پر تحقیق کرنا اور طلبا کو جدید چیلنجز کا علمی جواب دینے کے قابل بنانا ہے۔
۶۔تمام صوبوں سےنمائندگی:

 جامعۃ الرضا ۱۹۹۸ میں قائم ہوا اور اس کے قیام سے لے کر اب تک سارا  سال یہاں  ملک کے چاروں صوبوں  اور آزاد کشمیر کے   طلبا   تعلیم حاصل کرنے میں  مشغول رہتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ میں بھی صرف کسی ایک صوبے کے اساتذہ پر انحصار نہیں کیا گیا۔ ادارہ ہذا میں ملک بھرکے  مختلف صوبوں کے طلبا اور اساتذہ  کا جمع ہونا بھی ایک لطفِ خداوندی ہے۔ طلبا اور اساتذہ کا یہ ثقافتی و لسانی  تنوع طلبا کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا باعث بنتا ہے۔اس سے طلبا اپنی تعلیم کے ہمراہ با آسانی اپنے ملک کے مختلف علاقوں کے رسوم و رواج، تہذیب و ثقافت اور تمدّن سے آشنا ہوجاتے ہیں۔

جامعۃ الرضا میں وطنِ عزیز کے گوش و کنار سے جمع ہونے والے اس تہذیبی و لسانی  سرمائے سے بہترین استفادے کیلئے عمومی بول چال، مجالس و محافل اور درس و تدریس کی زبان" فقط قومی زبان"  یعنی اردو ہے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے کے طلبانے  اپنی اپنی علاقائی  زبان میں   فن ِ تبلیغ و    تقریر پر عبور حاصل کرنے کیلئے مختلف علاقائی انجمنیں بھی بنا رکھی ہیں۔  یوں یہ  طلبا جہاں  اپنی قومی زبان پر تسلط حاصل کرتے ہیں وہیں اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں بھی مہارت کے زینے طے کرتے ہیں۔

۷۔بیرونِ ملک تعلیمی مواقع: 

جامعۃ الرضا کے فارغ التحصیل طلبا کو بیرونِ ملک مختلف حوزاتِ علمیہ  میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس وقت تقریباً سوکے قریب  طلبا بیرون ملک  مختلف حوزاتِ علمیہ  میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان میں سے کچھ پاکستان واپس آ کر وطنِ عزیز  میں اپنی علمی و  دینی خدمات پیش کر رہے ہیں۔

۸۔ دارالافتاء کی سہولت: 

جامعۃ الرضا میں قائم دارالافتاء عوام کے شرعی سوالات کا فوری اور درست جواب فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ اپنی دینی رہنمائی کے لیے رجوع کرتے ہیں۔

۹۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ﴿ المصطفیٰﷺ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم﴾ کے ساتھ الحاق: 

جامعۃ الرضا اسلام آباداپنے تعلیمی دائرہ کار کے لحاظ سے   المصطفیٰﷺ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم کے ساتھ الحاق شدہ اور رجسٹرڈ  ادارہ  ہے۔   یہاں زیرِ تعلیم طلبا کو اعلیٰ تعلیم کیلئے  ایرانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اور وہاں سے ملنے والی ڈگریاں پاکستان میں بھی تسلیم کی جاتی ہیں۔

۱۰۔ وفاق المدارس شیعہ کے ساتھ الحاق : 

یہ  ادارہ پاکستان کے معروف ادارے  وفاق المدارس شیعہ کے ساتھ بھی ملحق ہے۔  اس الحاق سے یہاں طلبا کو  دینی تعلیم کے امتحانات میں شرکت کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جس سے انہیں ملکی  سطح پر تسلیم شدہ اسناد ملتی ہیں۔

۱۱۔ وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق:  

اسی طرح جامعۃ الرضا  کا الحاق پاکستان کے وفاقی تعلیمی بورڈ  سے بھی ہے، جس سے طلبا کو قومی سطح پر تعلیم مکمل کرنے اور امتحانات میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔

۱۲۔ ڈیجیٹل ذرائع سے دین کی تبلیغ: 

جامعۃ الرضا اپنے طلبہ کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فورمز کے ذریعے دین کی تبلیغ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہاں کے طلبا  آن لائن کلاسز  اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اسلامی معارف  کو عوام تک  پہنچانے میں مشغول رہتے ہیں۔


۱۳۔ غیر نصابی سرگرمیاں: 

جامعۃ الرضا میں طلبا کی فکری، جسمانی اور دینی نشونما کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جیسے اسکاوٹنگ،  کھیل، علمی دورہ جات، تعلیمی مقابلے، سیمینارز اور ثقافتی کانفرنسز، یہ سب سرگرمیاں طلبا  کی شخصیت میں ہمہ گیریت پیدا کرتی ہیں۔

۱۴۔ ثقافتی سرگرمیاں: 

یہ مرکز مختلف قومی و مذہبی  شخصیات سے ملاقاتوں، سماجی پروگرامز جیسے کہ نکاح کی تقریبات، دعائے نکاح، قل خوانی، عزاداری اور اسلامی مناسبات کے موقع پر طلبا کو فعالیت کرنے کا میدان فراہم کرتا ہے    تاکہ طلبا کی سماجی ،  روحانی اور مذہبی تربیت کو مزید فروغ ملے۔


۱۵۔ محافل و مجالس اور خصوصی  دروس  کا سلسلہ: 

جامعۃ الرضا کے طلبہ رمضان المبارک  اور محرم الحرام  کے دوران مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں ، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر سارا سال فعال رہتے ہیں  جس سے دینی معارف کا پیغام وسیع پیمانے پر عوام النّاس تک  پہنچتا ہے۔

۱۶۔ درس اخلاق :

  طلبا کی روحانی و معنوی  نشونما کیلئے ادارہِ ہذا میں اخلاقی و معنوی تربیّت کا خاص طور پر اہتمام ہے۔  ایک باقاعدہ شیڈول کے مطابق اذان،  نمازِ جماعت، دعاوں، تلاوتِ قرآن اور درسِ اخلاق  کا انتظام کیا گیا ہے۔ دروسِ اخلاق میں جید علمائے کرام طلبا کو وعظ و نصیحت کے علاوہ علمِ اخلاق کی خصوصی تعلیمات سے بھی مستفید کرتے ہیں۔

۱۷۔ نیا  انفراسٹرکچر اور مستقبل کے منصوبے: 
جامعۃ الرضا نے اپنے تعلیمی و تبلیغی پروگرامز کو بڑھانے کے لیے نئے عمارت کی تعمیر کا آغاز کیا ہے، جس سے اس کے دائرہِ تعلیم و تبلیغ  کو مزید وسعت ملے گی۔

۱۸۔ داخلے کی شرائط:

جامعۃ الرضا میں داخلہ ہر سال اگست میں ہوتا ہے اور داخلے کے لیے کم از کم دسویں کلاس پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کسی مقامی عالم دین سے ایک تصدیق نامہ بھی لازمی ہے۔ جامعۃ الرضا ایک مضبوط علمی و دینی مرکز کے طور پر اپنے طلبا کو اسلامی معاشرے کی خدمت کے لیے تیار کرتا ہے۔ چنانچہ  یہاں طلبا کو  دینی تعلیم کے ہمراہ دنیاوی تعلیم کو جاری رکھنے کی بھی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

رپورٹ: سید قاسم علی کاظمی متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد شعبہ تحقیق


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...