Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
جمعہ، 31 جولائی، 2026
جنوبی پنجاب میں عزاداری تیسری قسط
جمعرات، 30 جولائی، 2026
آزاد کشمیر کے ٹھوس عوامی مطالبات اور کمزورسرکاری پروپیگنڈہ
بدھ، 29 جولائی، 2026
بستی گڈن کے شب و روز
جنوبی
پنجاب میں عزاداری اور بیداری کی کیفیّت:
دوسری قسط:بستی گڈن :ڈاکٹر نذر حافی:
بستی گڈن کا ذکر آئے اور جام رمضان علی صاحب کا نام نہ لیا جائے، تو سفرنامہ نامکمل رہے گا۔ بعض لوگ کسی علاقے کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان سے مل کر احساس ہوتا ہے کہ انسانی کردار بھی خوشبو کی طرح خاموشی سے اردگرد کے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔جام صاحب سے میری پہلی ملاقات رات گئے ہوئی۔ گھڑی شاید دس بجنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ اس وقت تشریف لائیں گے، خصوصاً اس حالت میں جب اُن کی طبیعت بھی ناساز تھی اور رعشے نے اُن کے جسم کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ تشریف لائے۔ محبت جب دل سے نکلتی ہے تو راستے، وقت اور جسمانی کمزوری سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ وہ زیادہ دیر نہ بیٹھے، لیکن ان کی آمد نے میرے دل میں ایک ایسی جگہ بنا لی جسے وقت کی دھول کبھی نہ مٹا سکے گی۔
اُن کی صحبت نے مجھے جنوبی پنجاب کی عزاداری کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی دیا۔ یہاں کی فضا میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹے بڑے قصبوں میں امام بارگاہیں محبت کی روشن علامت بن کر کھڑی ہیں۔ محرم اور صفر میں یہی مقامات سیاہ پرچموں ، چراغوں، مجالس، نوحوں اور عزاداروں سے آباد ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف ایک روحانی کیفیت چھا جاتی ہے، جیسے صدیوں کی روایت پھر سے زندہ ہو گئی ہو۔یہاں پر قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے میزبان مولانا صابر حسین صاحب اور محترم جام رمضان علی صاحب اکے درمیان عقیدت، محبت اور خلوص کا تعلق پہلے سے ہی بہت گہرا تھا۔ دونوں بزرگوں کے مابین قائم یہ رشتہ دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ بعض تعلقات الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے، ان کی اپنی ایک خاموش زبان ہوتی ہے۔
دو روز بعد مولانا صابر حسین صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ "جام صاحب نے آپ کو دوپہر کے کھانے پر بلایا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ بزرگوں کی صحبت بھی عجیب نعمت ہے، ایک ملاقات میں برسوں کا تجربہ سمٹ آتا ہے۔ چنانچہ مولانا صابر حسین صاحب کی توقع اور اپنے مزاج کے برعکس میں نے فوراً دعوت قبول کر لی۔میرے لیے جام صاحب جیسی بزرگ، صاحبِ تجربہ اور محبت سے بھرپور شخصیت سے ملاقات کسی سعادت سے کم نہ تھی۔ چنانچہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا مناسب نہ سمجھا۔ مقررہ وقت پر جب میں ان کے دولت کدے پر پہنچا تو محسوس ہوا جیسے کسی پرانے شناسا کے دولت کدے پر آیا ہوں۔ دروازے پر استقبال میں محبت تھی، گفتگو میں چاہت تھی اور ماحول میں وہی گھریلو اپنائیت جس میں آدمی اپنے آپ کو مہمان کم اور اہلِ خانہ کا حصہ زیادہ محسوس کرتا ہے۔
جام رمضان علی صاحب کے چہرے پر بیماری کی ہلکی ہلکی پرچھائیاں
اتر آئی تھیں۔ ان کی آواز قدرے دھیمی تھی۔ وہ آہستہ بولتے، کہیں رک جاتے، جیسے
لفظوں کو سانس کے ساتھ سفر کرنا پڑ رہا ہو، پھر ایک مانوس سی مسکراہٹ کے ساتھ بات
کا سرا پکڑ لیتے۔ محسوس ہوتا تھا کہ بدن نے تھکن کا اقرار کر لیا ہے، مگر دل نے
ابھی شکست تسلیم نہیں کی۔ وہی فراخی، وہی محبت، وہی اپنائیت جو کسی بزرگ درخت کے
سائے میں بیٹھنے کا احساس دیتی ہے۔
کچھ عر صہ پہلے ان کے جوان بیٹے کی موت نے بھی ان کے اعضا و جوارح پر گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ اس روز گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ ان کے گھر والے مجلسِ عزا کے لیے گئے ہوئے تھے اور وہ گھر میں تنہا تھے۔ انہوں نے اپنے کی جدائی اور شِدّت غم کا بھی اظہار کیا۔ وقت کم تھا لیکن انہوں نے ماضی کے کئی اوراق کھول کر میرے سامنے رکھ دئیے۔ مولانا صابر علی صاحب جب تک مجلسِ عزا سے خطاب کر کے واپس نہیں آئے، میں انہی کے پاس بیٹھا رہا اور گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک بات سے دوسری بات، ایک یاد سے دوسری یاد، ایک تجربے سے دوسرے تجربے تک۔ بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ سُننے کو ملا۔یہ چند گھنٹے محض گفتگو کے گھنٹے نہیں تھے۔ مجھے ایک ایسے شخص کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا تھا جس کے جسم پر علالت کے آثار نمایاں تھے اور اُس کے اندر کا چراغ اب بھی ایمان کی روشنی سے جل رہا تھا۔آپ مانیں یا نہ مانیں بعض لوگ بیماری سے کمزور نہیں ہوتے، صرف خاموش ہو جاتے ہیں اور ان کی خاموشی میں بھی زندگی کی پوری کتاب کھلی ہوتی ہے۔
کھانے کے بعد دیر انہوں نے اس موضوع پر بھی گفتگو کی کہ بہت سی
امام بارگاہوں کے دروازے سال بھر سوائے ایام عزا کے بند رہتے ہیں، صحن خاموش اور فضا پر سکوت حاکم رہتا ہے۔ ان کے لہجے میں شکایت کے بجائے ایک درد مند خواہش تھی۔ اُن کی خواہش تھی کہ اگر یہی مراکز سال بھر اہلِ علم، طلبا، نوجوانوں
اور اہلِ محلہ کے لیے فعال رہیں تو کتنی زندگیاں ان سے فیض پا سکتی ہیں۔ یہاں قرآن
و نہج البلاغہ کے دروس ہوں، مطالعے کی نشستیں منعقد ہوں، بچوں کی اخلاقی و دینی
تربیت ہو، نوجوانوں کے فکری سوالات پر گفتگو ہو، خواتین کے لیے علمی حلقے قائم ہوں
اور ضرورت مندوں کی مدد کا مستقل سلسلہ جاری رہے۔ ان کا کہنا بجا تھا چونکہ مسجد
و امام بارگاہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کا
نام تو نہیں، اسے ایک فکر کی علامت، ایک تہذیب کی امانت اور ایک
زندہ روایت کا مرکز ہونا چاہے۔
جام صاحب نے میری طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا :امام حسینؑ کا پیغام صرف یاد کرنے کا نہیں، زندگی میں اتارنے کا ہے۔میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اُن کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔۔ اُن کا یہ جملہ مختصر تھا لیکن اس کے اندر ایک پورا فکری جہان آباد تھا۔
مولانا صابر علی صاحب مجلسِ عزا سے واپس آئے تو ہم نے ان سے رخصتی کی اجازت چاہی۔ واپسی
پر راستے وہی تھے، کھیت بھی ویسے تھے، درخت خاموشی سے کناروں پر کھڑے تھے اور نصف
النہار کا سورج ہر طرف آگ بکھیر رہا تھا۔ اس گرمی میں جھلستی
ہوئی بستی گڈن کے اپنے ہی مناظر تھے۔ جام رمضان علی صاحب کی محبت، ان کی مہمان نوازی
اور ان کے مختصر اور گہرے جملے میرے ساتھ
ساتھ سفر کر رہے تھے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ گڈن بستی میں ان شااللہ جلد ضرور خوشحالی آئے گی چونکہ لوگوں
میں اچھائی کی نیت اور آگے بڑھنے کی ہمت ہو تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔
جنوبی پنجاب میں عزاداری اور بیداری کی کیفیّت
منگل، 21 جولائی، 2026
امریکی صدر کی شعلہ بیانی کا راز
امریکہ کا اپنی سفارتکاری پر عدمِ اعتماد
ہفتہ، 11 جولائی، 2026
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے
فیصلہ آج بھی ہمارے
ہاتھ میں ہے
ڈاکٹر نذر حافی
گزشتہ کالم میں ہم نے یہ کہا تھا کہ گزشتہ نصف صدی میں ملتِ
ایران نے ایسی آزمائشوں کا سامنا کیا ہے جنہیں شعبِ ابی طالب کی یادگار کہا جائے
تو مبالغہ نہ ہوگا۔ پابندیوں نے انہیں جھکانے کے بجائے سنبھالا، مصیبتوں نے انہیں
بکھیرنے کے بجائے سمیٹا، اور استعماری دشمنوں نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے باہم جوڑ دیا۔ جن
طوفانوں سے قومیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں، انہی طوفانوں نے ایران میں عزم کو جِلا،
کردار کو استحکام اور اجتماعی شعور کو دوام عطا کیا۔
اسلامی انقلاب کے ابتدائی ایام میں ایرانی عوام نے آزادی
اور خودمختاری کی قیمت اپنے بہترین فرزندوں کے لہو سے ادا کی۔ آٹھ برس کی جنگ،
ہزاروں دہشت گردانہ حملے، بے شمار اہلِ علم، اربابِ سیاست، عسکری قیادت اور قومی
شخصیات کی شہادت۔۔۔یہ سب ایسے زخم تھے جن سے کسی بھی ریاست کا وجود لرز جاتا ہے
لیکن وہاں خون نے خوف کو جنم نہیں
دیا بلکہ حوصلے کو زندگی بخشی، قربانی نے
مایوسی کو نہیں بلکہ امید کو جنم دیا اور
شہدا نے شکست کو شکست دے کر استقامت کا پرچم بلند کیا۔یہیں سے وہ سوال جنم لیتا
ہے جس پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے صاحبانِ اقتدار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
کہ آخر وہ کون سا راز ہے کہ مسلسل سانحات کے باوجود ایک ریاست اپنی قومی حیثیت برقرار
رکھے ہوئے ہے جبکہ بعض ریاستیں معمولی سیاسی
اختلافات سے بھی انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں؟ اس کا جواب توپ و تفنگ میں نہیں،
کردار و تدبر میں ہے، طاقت کے اظہار میں نہیں، قانون کے احترام میں ہے اور تقاریر کے سحر میں نہیں، اجتماعی شعور کی بیداری
میں ہے۔
ایران کے تجربے نے کم از کم یہ حقیقت ضرور واضح کی ہے کہ ریاستیں
صرف عسکری قوت سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ انصاف سے مضبوط، قانون سے مستحکم، علم سے
منور اور اخلاق سے معتبر بنتی ہیں۔ جہاں اقتدار خدمت کا نام ہو، جہاں منصب امانت
سمجھا جائے، جہاں ذاتی منفعت پر قومی مصلحت کو ترجیح دی جائے، وہاں مشکلات راستہ
روکنے کے بجائے منزل کا شعور عطا کرتی ہیں۔قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ افراد
کی عظمت کو اداروں کی مضبوطی میں ڈھال دیتی ہیں، اور شہداء کی قربانیوں کو محض
آنسوؤں کی نذر کرنے کے بجائے قومی کردار کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ ملتِ ایران کا یہ
پہلو ہر صاحبِ فکر کے لیے قابلِ غور اور
ہر صاحبِ اقتدار کے لیے قابلِ عمل ہے۔
انقلابِ اسلامی کے ابتدائی ایام میں حضرت امام خمینیؒ ملتِ
ایران کے لیے صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ امید کا چراغ، اعتماد کا مرکز اور
استقامت کا استعارہ تھے۔ قوم ان کے وجود میں اپنی منزل کا نشان اور اپنے مستقبل کا
امکان دیکھتی تھی۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ آفتاب غروب ہوا تو کاروانِ
انقلاب منتشر ہو جائے گا، لیکن تاریخ نے ایک اور منظر دکھایا۔ 3 جون 1989ء کو جب
امامِ راحل اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور نگاہیں
مستقبل کے افق کو اضطراب سے تک رہی تھیں، ٹھیک اسی لمحے ایک اور حقیقت نے جنم لیا
کہ زندہ قومیں افراد کے سہارے نہیں بلکہ افکار کے سہارے سفر کرتی ہیں، اور مضبوط ریاستیں
اشخاص کے بل پر نہیں بلکہ اداروں کے زور پر قائم رہتی ہیں۔
نئی قیادت نے ثابت کیا کہ اگر قوم کو شعور مل جائے تو قیادت
کا تسلسل کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ ایک چراغ بجھتا ہے تو دوسرا روشن ہو جاتا ہے، ایک
ہاتھ گرتا ہے تو ہزاروں ہاتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک آواز خاموش ہوتی ہے تو پوری
قوم اس کی بازگشت بن جاتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے ایران کو مسلسل سانحات کے
باوجود بکھرنے نہیں دیا۔بعد کے برسوں میں درجنوں ممتاز سائنس دان، عسکری کمانڈر
اور قومی رہنما دہشت گردی کا نشانہ بنتے
رہے، لیکن ہر شہادت نے اس قوم کے ارادے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید صیقل کیا۔ گویا
خون نے خاک کو نہیں، شعور کو سیراب کیا اور قربانی نے ماتم کو نہیں، عزم کو جنم دیا یوں یوں
جدائی نے مایوسی کے بجائے استقامت کی نئی تاریخ رقم کی۔
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب قومیں اپنے رہنماؤں کو اقدار
کا پیکر سمجھنے لگیں تو پھر اُن کی رحلت ایک نئے دور کا آغاز بن جاتی ہے۔ عظیم قائد دنیا سے رخصت ہو
جاتے ہیں، اور ان کا کردار زندہ رہتا ہے، ان کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، اور ان کا پیغام گونجتا رہتا ہے، ان کا جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، اور ان کی فکر نسلوں کے سینوں میں دھڑکتی رہتی ہے۔ یہی
وہ سرمایہ ہے جسے نہ کوئی پابندی چھین سکتی ہے، نہ کوئی حملہ مٹا سکتا ہے اور نہ
کوئی دشمن تباہ کر سکتا ہے۔
اسی حقیقت کا دوسرا نام قومی شعور ہے۔ جب شعور بیدار ہو
جائے تو قوم جذبات کے طوفان میں بہنے کے بجائے بصیرت کے چراغ جلاتی ہے۔ قومی
شعور کو کچلا نہ جائے تو سانحات مستقبل کی
تعمیر کا زینہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں ایران نے بارہا اپنے
مقبول ترین رہنماؤں، اپنے نامور دانشوروں اور اپنے قابل ترین سپہ سالاروں کو سپردِ
خاک کیا اور ہر تدفین کے بعد اس کی اجتماعی
قوت میں ایک نئی جان، اس کی قومی وحدت میں ایک نئی تازگی اور اس کے سیاسی عزم میں
ایک نئی پختگی دکھائی دی۔ یہاں سے ایک اور سبق بھی سامنے آتا ہے کہ ریاست کی اصل
طاقت اس کے اسلحہ خانوں کے بجائے اس کے
انسانوں میں ہوتی ہے۔
گزشتہ سینتالیس برسوں میں ملتِ ایران نے بارہا اپنے محبوب
ترین فرزندوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، اپنی آنکھوں سے انہیں سپردِ خاک کیا اور
اپنے آنسوؤں سے ان کی قبروں کو تر کیا۔ ایسا ہر منظر عزم کی تجدید، وفا کی تجسیم
اور تاریخ سے عہدِ نو کی تصویر بنتا گیا۔ وہاں جنازے آئندہ سفر جاری رہنے
کا اعلان بن جاتے ہیں، اور قبریں آنے والی نسلوں کو بیداری کا سبق دیتی ہیں۔
حالیہ سانحے کے بعد بھی یہی منظر دنیا نے دیکھا۔ ایک طرف غم
تھا اور دوسری طرف عزم تھا ۔ ایک طرف آنکھیں اشک بار تھیں،
دوسری طرف پیشانیاں استقلال سے تابناک تھیں۔ پوری قوم اپنے شہید
رہبر کو دفنانے کے بجائے اپنے عہد کی
تجدید کرنے، اپنے عزم کو دہرانے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے نکلی ہوئی تھی۔ قاتل اس خوف سے لرز رہے تھے کہ ظالم کی عمر مختصر ہے جبکہ مظلوم کا احتجاج طویل، اور ظالم کی قوت عارضی ہے جبکہ حق کی عظمت دائمی۔اہلِ ایران کو دیکھ کر ساری
دنیا نے یہ مان لیا ہے کہ مظلوم اگر اپنے
موقف پر استقامت اختیار کرے تو شہادت بھی تاریخ کی سب سے بڑی فتح میں بدل سکتی ہے۔
اسی لیے ایران میں شہادت اور قربانی کو
نقصان کے بجائے سرمایہ تصور کیا جاتا ہے،
اور صبر کو کمزوری کے بجائے قوت کا سرچشمہ
مانا جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک لمحہ فکریہ پاکستان کے لیے بھی ہے۔پاکستان کی سرزمین بھی
قربانیوں سے خالی نہیں۔ یہ مٹی بھی شہداء کے لہو سے سیراب ہوئی ہے، یہ فضاء بھی
ماؤں کی آہوں سے بوجھل رہی ہے، یہ قوم بھی ہجرت، جنگ، دہشت گردی، معاشی ابتلا اور
سیاسی اضطراب کے بے شمار موسم دیکھ چکی ہے۔ اس وطن کے سپاہیوں نے بھی سرحدوں پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں ، اس کے شہریوں نے بھی
دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہو کر قربانیاں دی ہیں ، اور اس کے عوام نے بھی مسلسل مشکلات کے باوجود ریاست کے وجود کو
قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس اعتبار سے پاکستان کی داستان بھی ایثار، استقامت اور آزمائش
کی ایک طویل حکایت ہے۔ہمیں ملتِ ایران سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ صرف قربانیوں کی گنتی نہیں کرتی، بلکہ شہدا کے مقصد کو زندہ رکھنے پر زور دیتی ہے۔ فیصلہ
اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ایران سے کچھ سیکھیں گے یا صرف اُن پرفخر ہی کرتے رہیں گے؟ یہی
سوال ہر پاکستانی کے سامنے ہے، یہی امتحان آزاد کشمیر کے لوگوں کا بھی ہے، اور گلگت و بلتستان کے باسیوں کا بھی۔









