زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 28 فروری، 2025

درایة الحدیث

  نذر حافی:
     علومِ حدیث کی ایک اہم شاخ درایة الحدیث ہے۔  اس علم کا مقصدماضی میں حدیث کے مفہوم اور اس کی سند کی گہرائی میں جاکر تجزیہ کرنا تھا، مگر موجودہ اصطلاح میں اس کا دائرہ زیادہ تر روایات کی سند کے تجزیے تک محدود ہو چکا ہے، اور حدیث کے مفہوم کی تفصیل کو "فقہ الحدیث" کے علم کا موضوع قرار دیا گیا ہے۔ اس علم میں کثیر تعداد میں اہم آثار اور تصنیفات مرتب کی گئی ہیں۔


  درایة الحدیث کا مفہوم    
"درایة" ایک ثلاثی مجرد مصدر ہے جو "د-ر-ی" سے ماخوذ ہے، اور اس کا لغوی معنی "جاننا" ہے؛ لیکن یہ جاننا ایک خاص نوعیت کا ہے جو معمول کے طریقوں سے نہیں بلکہ خاص تدابیر اور مقدمات کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ بعض محدثین کے مطابق، درایة ایک ایسا علم ہے جو شک و تردد کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
شیعہ احادیث میں "درایة" کا مفہوم "فہم حدیث" کے طور پر لیا گیا ہے، اور یہ "روایة" کے مقابلے میں آتا ہے، جس کا مفہوم صرف حدیث کا نقل یا روایت کرنا ہے۔ ان احادیث میں حدیث کی سمجھ بوجھ کی اہمیت، اس کی روایت پر فوقیت، اور فہمی کی کمیابی کو نقل کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق، درایة الحدیث کی اصطلاحی تعبیر وہی ہے جو آج کل "فقہ الحدیث" سے مراد لی جاتی ہے۔
عصرِ تشریع کے بعد، روایت کی سند کی تحقیق کی ضرورت مزید بڑھ گئی تاکہ اس بات کی پختہ ضمانت دی جا سکے کہ روایت صحیح طور پر امام معصوم علیہ السلام سے منسوب ہے۔ اس تناظر میں، درایة الحدیث کا دائرہ وسیع تر ہو گیا، جو اب صرف متن تک محدود نہیں بلکہ اس میں سند کی جملہ تفصیلات بھی شامل ہو گئی ہیں۔
  اصطلاح "درایة الحدیث"    
درایة الحدیث کے موضوعات میں توسیع کی بنا پر اس علم کی تعریفوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ شہید ثانی، جنہیں عموماً درایة الحدیث پر پہلی کتاب لکھنے والا تسلیم کیا جاتا ہے، نے اسے ایک ایسے علم کے طور پر متعارف کرایا جس میں حدیث کے متن اور سند، صحیح و ضعیف، اور قابل قبول و مردود ہونے کی تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔ شیخ بهایی نے بھی اس علم کو سند، متن اور حدیث کے نقل کرنے کے آداب سے متعلق بحث کرنے والا علم قرار دیا ہے۔
جب درایة الحدیث کا محور زیادہ تر سند کی تحقیق پر مرکوز ہوا، تو آقا بزرگ تہرانی نے اس علم کو صرف سند کی جزیات تک محدود کیا اور اسے "فقہ الحدیث" کے بالمقابل رکھا، جو کہ حدیث کے متن کی تفصیلات میں بحث کرتا ہے۔
  کتبِ درایة الحدیث کا مواد    
درایة الحدیث پر لکھی جانے والی کتابوں میں عموماً درج ذیل موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے:
الف) ابتدائی اصطلاحات (جیسے حدیث، خبر اور اثر)  
ب) راویوں سے متعلق اصطلاحات (حافظ، شیخ، موالی وغیرہ)  
ج) حدیث تک پہنچنے کے ذرائع (طرق تحمل حدیث)  
د) روایت کی مختلف اقسام (جیسے متواتر، خبر واحد، صحیح، حسن، ضعیف، مرسل، معلق، منقطع وغیرہ)  
  درایة الحدیث کی تاریخ    
اہل سنت میں صحابہ کرام کے دور اور اس کے بعد درایة کے بعض مباحث پر توجہ دی گئی۔ شافعی وہ اولین عالم تھے جنہوں نے اپنی کتاب "الرسالة" میں اس علم کے بعض اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔  شیعہ حلقوں میں شہید ثانی کو درایة الحدیث پر اولین کتاب لکھنے والا سمجھا جاتا ہے، جس نے "البدایه" کے نام سے ایک اہم تصنیف تحریر کی، اور اس پر "الرعایه" کے عنوان سے ایک جامع شرح بھی لکھی۔ تاہم بعض محققین نے جمال الدین احمد بن طاوس حلی کو "حل الاشکال فی معرفه الرجال" کے ذریعے اس علم کا پہلا مصنف قرار دیا ہے۔
  دیگر اصطلاحات    
درایة الحدیث کو بعض اوقات "علوم الحدیث"، "مصطلح الحدیث" اور "اصول الحدیث" بھی کہا جاتا ہے۔ شیعہ علماء میں "درایة" اس علم کا سب سے زیادہ مستعمل اور معروف اصطلاح ہے۔
  اصطلاحات کا ارتقاء   
اس علم کی اصطلاحات کی تشکیل عموماً تیسرے صدی عیسوی کے دوران ہوئی، جب محدثین اور رجالی علمائے کرام نے اپنی حدیثی اور رجالی تصنیفات میں درایة سے متعلق مختلف مباحث پر کلام کیا، جیسے آدابِ تحمل و اداء، روایات کی اقسام، راویوں کی طبقات وغیرہ۔ ان میں سے "العلل ترمذی" کو خاص اہمیت حاصل ہے، جس میں درایة کے بعض اہم اصطلاحات کی تعریف کی گئی ہے۔

ایک میسج پر قائد کی کال

تحریر: م ع شریفی:
آپ کی طرح میں بھی پریشان تھا۔ دو دن پہلے ریمدان بارڈر سے تین بےگناہ پرامن محب وطن علمائے کرام کی گرفتاری کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ کئی دوستوں کی طرف سے پرسنل پر میسج بھی آئے برادر جواد پاروی نے خصوصی طور ایک میسج بناکر بھیجا اور اسے آگے پہنچانے اور شئیر کرنے کی تاکید کررہےتھے۔یہ سب ہوتا رہا۔ ابھی بارڈر سے بیگناہ  گرفتار علمائے کرام کی رہائی کی خبر الحمدللہ آچکی ہے۔
میں اس موقع پر  کسی کو کریڈٹ  دینے کے بجائے اپنے ایک  ذاتی تجربے کو شئیر کرنا چاہتا ہوں۔  اس پورے واقعے کے دوران یقینا غیر تنظیمی اور مختلف تنظیموں کی مختلف شخصیات نے ان بیگناہ علماء کی رہائی کےلئے اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالا ہوگا اور عوامی سطح پر بھی حوصلہ افزاء دردعمل بھی دیکھنے میں آیا۔ بات کسی کو کریڈٹ دینے یا لینے کی بلکل نہیں ،  لیکن کبھی کسی بھی  کام میں کسی بھی شخصیت کی  قوم و ملت کےلئے مخلصانہ کوشش جب نمایاں طور پر نظر آئے  اور اسے چھپایا جائےیا  بیان نہ کیا جائے  تو  یہ یقینا کھلی  ناانصافی ہے۔
مذکورہ بالا میسج پہلے تو  میں نے  اسے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی گروپ  شئیرکردیا پھر خیال آیا قائد وحدت ناصر ملت سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کو ہی کیوں نہ ایک میسج  کروں ؟ میں ایک سینئر تنظیمی بندہ ہونے کے باوجود میری زندگی میں پہلی بار علامہ راجہ ناصر عباس صاحب سے فون پر کسی مسئلے سے متعلق رابطہ کررہاتھا اس سے پہلے کبھی الحمدللہ پرسنل یا کوئی اور مسئلہ  پیش ہی نہیں آیا کہ آپ کو زحمت دینے کی نوبت آئے ۔ بس  کئی سال پہلے ایک بار  آغا صاحب کانمبر سیو کیاتھے تلاش کرنے پر موبائل  سے نکل آیا اور  یہ احتمال بھی دے رہا تھا شاید نمبر تبدیل ہواہو  مرکزی قیادت مصروفیات کی وجہ سے خود جواب نہ پائے یا ناشناس نمبر کے میسج کو نظر انداز کریں لیکن خیر یہ سوچ کر میسج کر ہی دیا کہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، میں نے جوں ہی میسج کیا  دس سیکینڈ کے اندر  میرا فون بجنے لگا تسلی سے  دیکھنے پر معلوم ہوا راجہ صاحب کا نام آرہا تھا میں تو دنگ  رہ گیا اتنی جلدی میں جواب ، اور مجھے 100%یقین ہے کہ راجہ صاحب کے پاس میرا نمبر نہیں ہے  میں نے میسج میں صرف اپنا ہلکا سا تعارف کیا تھا ۔
پہلے تو یہ خیال کیا کہ شاید کسی تنظیمی دوست سے کروایا ہو یا ان کا کوئی سکریٹری ہوگا۔ خیر
فون اٹھانے پر معلوم ہوا کہ خود راجہ صاحب  بات کررہے تھے اور فرمارہےتھے کہ آغا جان آپ ان دوستوں کی تفصیلات مجھے بھیج دیں کونسا  بارڈر ہے کس  وقت یہ واقعہ پیش آیا  اور باقی مختصر تعارف۔۔۔؟   تاکہ میں سنجیدگی سے آگے حکام سے بات کرسکوں ۔
خیر میں نے آگےپیچھے رابطہ کرکے تینوں  علمائے کرام  کی تفصیلات لینے کی کوشش کی اس کےلئے مدد کرنے پر برادر عزیز آغاجواد پاروی صاحب کے شکر گزار ہیں  انہوں نے ہماری مدد فرمائی قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس صاحب گرچہ اسی دن کچھ ہی دیر پہلے لبنان سےواپس پہنچنے کی خبر چلی تھی  میرے مختصر  میسج پر اہمیت دیکر فورا ایکشن لینا وہ بھی کسی کے توسط سے نہیں بلکہ فورا خود نے جواب دینا ، نے مجھے کم سے کم بہت متاثر کیا اور عربی مقولہ ،، رئیس القوم خادمھم،، ذہن میں اتر آیا ، کوئی قیادت ہے کوئی سینیٹر ہے کوئی  متمول طبقے کا عالم دین ہے  جو اس طرح سے فون اٹھائے اور قومی مسائل کو اپنا درد سمجھے ؟؟ بات درد کی ہے۔ بات کسر نفسی کی ہے۔ بات قیادت اور عام آدمی کے درمیان حائل پردوں اور دیواروں کا نہ ہونے کی ہے ۔
بات پروٹوکول کلچر کے منہ پر طمانچہ مارنے کی ہے۔ بات اہمیت دینے کی ہے،  ان کی سادگی پر ایک الگ تحریر درکار ہے۔ کئی موارد کا میں خود چشم دیدگواہ ہوں ، 
کئی سال پہلے ہمارے بصیرت آرگنائزیشن کے  دوستوں کی دعوت پر شہید منا علامہ ڈاکٹر غلام محمد فخرالدین  اعلی اللہ مقامہ کے دولت کدے  پر تشریف لانی تھی  مجھ پر مین روڈ سے آغا صاحب کو اٹھانے کی ذمہ داری ڈال دی گئی ۔
میں بائیک لیکر منتظر رہا آغا صاحب سروس ٹیکسی  سے اترے میں ایک ٹیکسی والے سے بات کرنے لگا قبلہ آغا راجہ صاحب کو گھر تک لیجانے کے لیے تو آپ نے  سختی سے منع کیا ، اور کہا  نہیں  میں آپ کے ساتھ بائیک پر ہی چلوں گا ٹیکسی کرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے ۔ میں مجبورا اپنی خستہ حال بائیک پر آپ کو  لیکر گھر مشکل سے پہنچا تھا۔ لہذا ہمارے ملک میں قیادتوں اور عام آدمی کا فاصلہ بہت زیادہ ہے ، اگر دیدار ہو بھی جائے تو مسائل کےلئے نہیں بلکہ دست بوسی اور دیگر تشریفات تک محدود  ہوتا ہے۔ ہماری  لیڈر شپ اپنے  زیب تن  کئے ہوئے مصنوعی تقدس کے لباس کو اتارنے کیلئے تیار ہی نہیں، عام آدمی سے دور رہنے کو ہی اپنی عزت اور وقار تصورکیا جاتا ہے لیکن علامہ صاحب میں سادگی اور درد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے جس کا  ہم نے کئی مواقع پر  مشاہدہ کیا ہے۔۔

بدھ، 26 فروری، 2025

آیت اللہ سید عز الدین حکیم کی جامعۃ الرضا ؑ میں آمد

رپورٹ: مزمل حسین جامعۃ الرضا  شعبہ تحقیق: 
 معزز مہمانوں کا پُرتپاک  استقبال،  اساتذہ اور طلبا نے صف بنا کر ملاقات کی اور گلدستہ پیش کیا۔  مدیر مدرسہ جناب علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے جامعۃ الرضا تشریف لانے پر   آیت اللہ سید عز الدین حکیم صاحب اور جملہ وفد کا شکریہ  ادا کیا۔ 
تفصیلات کے مطابق عراق کے مشہور و معروف علمی و دینی اور سیاسی  خاندانوں میں سے ایک عظیم خاندان کا نام   " حکیم خاندان " ہے۔ حکیم خاندان کی ساری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔صرف صدام کے دور میں اس خاندان نے   تقریبا ستر  شہدا دئیے ہیں۔ان شہدا میں بڑی جلیل قدر شخصیات شامل ہیں۔  اس خاندان کی عزّت و عظمت کے باعث جامعۃ الرضا کے اساتذہ اور طلبا نے  آیت اللہ سید عز الدین حکیم کی مدرسے میں تشریف آوری کو خدا اور اہل بیتؑ کی طرف سے ایک خاص عنایت قرار دیا۔ اس موقع پر   آیت اللہ سید عز الدین حکیم نے جامعۃ الرضا ؑ کے اساتذہ کے ساتھ خصوصی  گفتگو بھی کی۔ انہوں نے  اپنی گفتگو میں جامعۃ الرضا کی کارکردگی اور اساتذہ کرام کی محنت اور خلوص کو سراہتے ہوئے انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔  انہوں نے اپنے مواعظ حسنہ کےدوران  اساتذہ اور طلبا کو  گرانقدر نصیحتیں کیں۔ اس کے بعد  وہ اساتذہ کرام کے ہمراہ  مسجد علی ابن ابی طالب علیہ السّلام بارہ کہو میں تشریف لے گئے جہاں انہوں نے نمازِ باجماعت پڑھانے کے علاوہ نمازیوں سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے حاضرین سے کہا کہ ولایتامیرالمومنینؑ کی نعمت کی قدر کریں اور آپس میں اتفاق و اتحاد سے زندگی بسر کریں۔


ہم اپنے عہد پر قائم ہیں

منظوم ولایتی:
ہم اپنے عہد پر قائم ہیں ۔ آخر کون سا عہد؟ اس عہد پر روشنی ڈالنے  کیلئے سید مقاومت شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالی علیہ اور   ان کے نائب شہید سید ہاشم صفی الدین رضوان  اللہ علیہ کی تدفین کے روز معروف علمی و تحقیقی پلیٹ فارم 'وائس آف نیشن' کے زیرِ اہتمام ایک  آنلائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس سے محققین  اور قلمکار حضرات نے گفتگو کی۔  ڈاکٹر نذر حافی، محقق محمد بشیر دولتی اور کالم نگار منظوم ولایتی نے کی سیّدِ مقاومت کی بصیرت اور  جدوجہد کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے تجزیہ کاروں  کے مطابق  شہید حسن نصر اللہ نے دوست و  دشمن سب کو متاثر کیا۔ آپ کے تجزیہ و تحلیل کا  دشمن بھی انتظار کرتا تھا۔ الفاظ ہی نہیں بلکہ آپ کے  ہاتھ کے اشارے بھی فصاحت و بلاغت کے شہکار تھے۔ 
محققین نے کہا کہ شہداء نص قرآن کے مطابق زندہ ہیں اور شہید سید حسن نصر اللہ رض اور شہید صفی الدین جیسی شخصیات انسانیت کا سرمایہ  ہیں، اُن کے چلے جانے سے ان  سے اُن کا راستہ گم نہیں ہوا بلکہ اُن کے پیروکاروں اورعشّاق کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
وائس آف نیشن کے ویبنار کے مطابق  سید حسن نصر اللہ شہید  ہمیں 'لبیک یا رسول اللہ ص' اور 'لبیک یا حسین ع' جیسے نعروں کا معنی و مفہوم حقیقی معنوں میں سمجھا گئے۔ دشمن نے منوں ٹن بارود کے ذریعہ سے آپ کی آواز کو دبانا چاہا لیکن ان کی نمازِ جنازہ میں  ایک ملین سے زیادہ لوگوں کی شرکت کی گویا: 
 تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا 
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
یاد رہے کہ اِس آنلائن ویبینار کی میزبانی کے فرائض محترم منظور حسین حیدری نے انجام دئیے۔

پیر، 24 فروری، 2025

آہ! اثر چوہان

معروف صحافی، شاعر اور  سینیئر کالم نگار اثر علی چوہان کا اتوار کی شام رضائے الہیٰ سے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 86 برس تھی۔  ان کا  جنازہ کل بروز منگل دوپہر 1 بجے مرحوم کی اقامت گاہ 447 عمر بلاک نزد کریم بلاک مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور سے اٹھایا جائے گا۔۔ انہوں نے 90ء کی دہائی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنے کالم ’’سیاست نامہ‘‘ کا آغاز کیا اور اپنی زندگی کے آخری سانس تک وہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ اپنی سوانح حیات مرتب کر رہے تھے تاہم فرشتہ اجل نے تکمیل کی مہلت نہیں دی۔ ان کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادوں کی برطانیہ اور امریکہ سے پاکستان آمد پر ادا کی جائے گی۔ وہ گذشتہ تین سال سے 447 عمر بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں مقیم تھے اور علالت کے باعث ان کی نقل و حرکت گھر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

وہ گزشتہ 60 برس سے پیشہ صحافت سے وابستہ تھے اور پیرانہ سالی کے باوجود" نوائے وقت" میں باقاعدگی کے ساتھ کالم لکھ رہے تھے۔ مرحوم نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز سرگودھا میں نوائے وقت کے نامہ نگار کی حیثیت سے کیا تھا۔ بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہو گئے اور اردو روزنامہ سیاست اور پھر ایک پنجابی جریدہ چانن نکالا۔ ان کی اہلیہ نجمہ اثر چوہان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں پنجاب اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئیں۔ اہلیہ کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی کی تاہم ان کی دوسری اہلیہ بھی انہیں داغ مفارقت دے گئیں۔ جبکہ ان کے بیٹے اپنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ اثر چوہان بااصول اور بیباک صحافی جنہوں نے صحافت ہی کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ مرحوم مجید نظامی کے ساتھ ان کی خصوصی انسیت تھی جنہوں نے انہیں شاعر نظریہ پاکستان کا لقب دیا تھا۔

اتوار، 23 فروری، 2025

شہید حسن نصراللہ کا تربیتی پہلو

 نذر حافی:
ہماری اس مادی دنیا میں ملکوتی سفر پر کوئی پابندی نہیں۔یہیں کہیں عالم ملکوت کی شاہراہ  بھی موجودہے۔   یہ شاہراہ  عام  نہیں لہذا ہمارے جیسے عام لوگ اسے پہچاننے سے قاصر ہیں۔ اسے پہچاننےاور اس پر چلنے کیلئے ایک خاص قسم کی تربیّت درکار ہے۔ ویسے عام لوگ اسی شاہراہ کو شہادت اورجو اس شاہراہ پر چلے اُسے شہید کہتے ہیں۔ شہید و شہادت دونوں کی جہاں تکریم ضروری ہے وہیں پر شہادت کے فروغ اور شہید پروری کیلئے  معاشرتی تربیت بھی لازمی ہے۔ کبھی فرصت ملے تو حسبِ توفیق  شہدا کی زندگیوں کا تربیتی زاویے سے جائزہ لیجئے۔ مجھے کئی مرتبہ پاکستان میں نشانِ حیدر پانے والے شہدا   اور خاص کر  شہید قاسم سلیمانی کی حیات و شہادت کے واقعات نے  اپنے آپ کو از سرِ نو جانچنے اور پرکھنے پر مجبور کیا۔ ابھی بھی وطنِ عزیز میں جب کوئی بے گناہ  انسان کسی تکفیری ٹولے یا باالفاظِ دیگر خوارج کے ہاتھوں کہیں پر  بم دھماکے یا ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوجاتا ہے تو میں اچانک چونک جاتا ہوں گویا خوابِ غفلت سے کچھ لمحوں کیلئے بیدار سا ہو جاتا ہوں کہ  ہماری اس مادی زندگی سے اچانک جدا ہونے والا یہ شخص کس مخفی دروازے سے فوراً جہانِ ملکوت میں داخل ہو گیا۔ میں ابھی تک سکتے میں ہوں کہ  سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہید بچے کیسے اچانک  اناً فاناً اپنے والدین کی آغوش کو ترک کر کے حیاتِ ابدی کے آنگن میں  چلے گے؟

اس سے پتہ یہ چلا کہ  ہماری اس دنیا سے کوچ کرنے کا ایک عام  دروازہ  ایسا ہے کہ  جسے سب لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں  لیکن  اس کے علاوہ ایک خاص دروازہ ایسا بھی ہے  کہ جو عام لوگوں کو نہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی وہ اُس کی موجودگی کا احساس کرتے ہیں۔یہ جو مادی  و فانی دنیا سے ملکوتی و ابدی دنیا میں داخل ہونے کا خاص لوگوں کیلئے خاص دروازہ  ہے اُسے بغیر  روحانی تربیّت اور ذہنی  آمادگی کے دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ 
ہماری اکثریت اس دنیا سے کچھ یوں جدا ہوتی ہے کہ جیسے کسی جنگل میں درخت پر لگا ہوا پھل اپنے مقررہ وقت پر پکنے  یا کیڑا لگنے کے بعد زمین پر گِر جاتا ہے لیکن شہید کی مثال  کچھ یوں ہے کہ جیسے کسی باغ میں پھل پکنے پر باغ کا مالی اور رکھوالا اُسے بڑی محبت سے درخت سے اتارتا ہے، دھوتا ہے، صاف ستھرا کر کے  انمول طشتری میں رکھ کر انتہائی نفاست اور ادب و احترام  کے ساتھ باغ کے مالک کی بارگاہ میں پیش کر دیتا ہے۔
حقیقتِ حال یوں ہے کہ  کچھ لوگ اپنی زندگیوں میں اپنی قوّتِ تفکر و تعقل  کے اعتبار سے اتنے بالغ ہوتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے دیگر موجودات کی طرح اس دنیا کی زندگی کو نہیں گزارنا۔ وہ اپنے آپ کو ساری  کائنات کا محافظ، مسئول اور مدیر   پاتے ہیں۔ وہ  غوروفکر اور علم و عمل کے باعث احساس ، شعور اور معرفت کی اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں انہیں اِس ساری کائنات کے  صحت افزاماحول، انسانوں، جانداروں، جنگلات، معدنیات ، آبی حیات، چرندوپرند ، تہذیب و ثقافت، اعلی اخلاقی و انسانی اقدار ۔۔۔ کی حفاظت کرنا " انسان کا فریضہ"  نظر آتا ہے۔ایسے لوگ  بحیثیتِ انسان اپنی فطری، جسمانی، فکری و عقلانی صلاحیتوں کو عام لوگوں کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔  انہیں یہ سمجھ آجاتی ہے  کہ انسان ہونے کے ناتے خدا نے ہمیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہم  اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کر کے اس ارض ِخاکی کو بہشتِ بریں بنا سکتے ہیں۔
یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایک انسان اور دیگرموجودات میں فرق یہ ہے کہ انسان جوکچھ بھی بنتا ہے وہ اسی اپنی مادی زندگی میں اپنے فیصلوں سے اپنی تربیّت کر کے بنتا ہے۔ کوئی بھی انسان کسی کتاب، پتھر یا سیب کی مانند نہیں ہے کہ کوئی دوسرا شخص  اُسے زبردستی اٹھا کر کسی بلند یا پست مقام پر رکھ دے۔ انسان اپنے لئے بلندی یا پستی کا فیصلہ اور انتخاب  خود کرتا ہے۔ جب کوئی شخص ایک فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اُس کی زندگی میں اُس کے آثار اوراثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ مثلا کسی نے یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ میں نے فلاں امتحان یا مقابلے میں فرسٹ آنا ہے تو وہ دِن رات اُس کیلئے محنت کرتا نظر آئے گا۔ کسی نے ڈرائیور یا تیراک بننے کا فیصلہ کر لیا ہو تو  اُس کا  شب و روز ڈرائیونگ یا تیراکی سیکھنے میں مشغول ہونا فطرتِ سلیم نیز عقل و شعور کا تقاضا ہے۔ 
شہید حسن نصراللہ  کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ انہوں نے اپنی مادی زندگی میں ہی  فنافی اللہ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔چنانچہ اُن کےنزدیک خدا کی ساری مخلوق محترم اور سارے انسان لائق تعظیم تھے۔ وہ ظلم کو  انسانی اقدار کے خلاف سمجھتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ  صرف اپنے جسم، گھربار اور اولاد کے ساتھ فنا فی اللہ نہیں ہوئے بلکہ اپنی ساری صلاحیتوں کے ہمراہ فنا فی اللہ ہوئے۔ آپ  کسی کے مذہب و دین یا جغرافئے و علاقے کی وجہ سے اُس کا ساتھ دینے کے قائل نہیں تھے بلکہ آپ کا مشن یہ تھا کہ جو بھی اپنے حق کیلئے ظالم کے خلاف کھڑا ہو جائے ، اُس کے ساتھ ساری صلاحیتوں اور پوری طاقت کے ساتھ ، آخری سانس تک کھڑے ہو جاو۔
 دشمن صرف آپ کی تنظیم یا آپ کی مجاہدانہ  کاروائیوں سے خوفزدہ نہیں تھا بلکہ آپ کے ہتھیاروں کی مانند آپ کا ایک ایک جملہ، حتی کہ گفتگو کےدوران ایک ایک اشارہ دشمن پر ایٹم بمب کی طرح  گرتا تھا۔ آپ  کی خاموشی اور سکوت سے بھی  دشمن پر موت کا خوف اور قیامت کی ہیبت کا سماں چھا جاتا تھا۔ چشمِ فلک نے آپ کے سوا  ابھی تک ایسا کوئی منفرد رہنما نہیں دیکھا کہ  جنگی حملوں کی مانند اُس کی خاموشی بھی عینِ جنگ ہو۔ اگر کچھ دن آپ تقریر نہ کرتے تو دشمن بوکھلا جاتا تھا کہ اب پتہ نہیں کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے جا رہا ہے۔ 
جس طرح زندگی میں شہید حسن نصراللہ  کا سکوت منفرد تھا اور اُن کی خاموشی دشمن پر ہیبت طاری کر دیتی تھی ویسے ہی آج  شہید کا خاموش تابوت بھی دشمن کے ایوانوں پر بجلیاں گرا رہا ہے۔  یہ خاموش تابوت  جہاں اپنی زبانِ حال سے دشمنوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ یہ مت سمجھنا کہ میں تمہاری دنیا چھوڑ چکا ہوں، وہیں یہ تابوت اپنے چاہنے والوں  کو بھی یہ خوشخبری سنا رہا ہے کہ  شہادت اُسی لمحے شروع ہو جاتی ہے  کہ جس لمحے کوئی بھی شخص  نہ مرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ہر انسان وہی بنتا ہے جس کا وہ فیصلہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی میں اپنے پورے ہوش و حواس   اور ایمان و یقین کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور پھر اپنے فیصلے کے مطابق اپنی تربیت بھی کرتے ہیں، وہی لوگ  پھر ہمیشہ زندہ بھی رہتے ہیں۔پس یہ دنیاوی زندگی کوئی فضول شئے نہیں بلکہ  یہ ایک بہت بڑی نعمت اور تربیت گاہ ہے۔ جو لوگ بھی  اس  مادی   زندگی میں اپنی ایسی تربیّت کرتے ہیں کہ اپنی   ساری صلاحیتوں ، مال و دولت، گھربار اور جسم و جان کے ساتھ فنا فی اللہ ہوجاتے ہیں، انہی لوگوں  کیلئے شہادت کا خصوصی دروازہ  بھی کھلتا ہے۔  اُنہی لوگوں  کی خاموشی اور سکوت کو بھی خدا  باعظمت اور منفرد اور بنا دیتا ہے۔

جمعہ، 21 فروری، 2025

وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ مدارس کو ریگولیٹ تو کر ریے ہیں مگر یہ نہیں بتا رہے نظام تعلیم کیسے چلے گا؟ کیا صرف اسلام آباد میں موجود مدارس کو رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے؟ عدالت نے کہا کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ تو ایک بالکل مختلف ایکٹ ہے، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال کسی جھگی میں کھلا ہو، سپریم کورٹ نے ججمنٹ دی اور لا کالجز کو ریگولیٹ کیا، اسی طرح میڈیکل کالجز کو ریگولیٹ کیا گیا، اب کوئی بھی کالج یا یونیورسٹی 100 سے زائد بچوں کو لا میں داخلہ نہیں دے سکتی، 100 اب 101 نہیں ہو سکتا۔ 
 اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاق المدارس عربیہ کے امتحانات میں بغیر داڑھی امتحان کی اجازت نہ ملنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مدرسے کے طالب علم کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے جامعہ الاسلامیہ سے درجہ اوّل کا امتحان پاس کیا، وفاق المدارس کے امتحانی قواعد و ضوابط کی غلط تشریح کرتے ہوئے اسے داڑھی چھوٹی ہونے پر درجہ ثانوی میں امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ کامران مرتضیٰ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارت تعلیم کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے وفاق المدارس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ وفاق المدارس کس قانون کے تحت ڈگریاں دیتی ہے؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بچہ جو ڈگری وفاق المدارس سے حاصل کرے گا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟
جج نے کہا کہ وفاقی المدارس کے ڈگری ہولڈر بچوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے پاس بچوں کو ایک ہی جیسی سہولیات میسر ہوں گی؟ عدالت وفاق المدارس کس قانون کے تحت دوسرے اداروں کو اپنے پاس رجسٹرڈ کرتی ہے؟ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں، کسی بچے کو دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق المدارس کو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا۔


بانی پاکستان کی شادی کا دلچسپ واقعہ

19 اپریل 1918 کو یعنی سات رجب 1339 ہجری اور جمعہ کا دن تھا اور مقام ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر واقع قائداعظم محمد علی جناح کا بنگلہ ’سائوتھ کورٹ‘ تھا جہاں رتن19 بائی اور قائداعظم محمد علی جناح رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔یہ نکاح مولانا حسن نجفی نے اثنا عشری عقائد کے مطابق پڑھایا۔ اس نکاح میں رتن بائی کے وکیل شریعت مدار آقائے حاجی شیخ ابوالقاسم نجفی اور قائداعظم کے وکیل جناب محمد علی خاں راجہ صاحب محمود آباد بنے۔ جب کہ محترم غلام علی، شریف بھائی دیوجی اور عمر سوبانی نے بطور گواہان نکاح نامے پر دستخط کیے۔ایک دوسری روایت کے مطابق یہ نکاح بمبئی کے مجتہد شیخ مولانا حسن نجفی صاحب نے پرنس سٹریٹ پر واقع اپنے مکان میں پڑھایا تھا اور قائداعظم کے رشتے کے بھائی رجب علی بھائی ابراہیم باٹلی والا نے نہ صرف اس نکاح میں بطور گواہ شرکت کی تھی بلکہ انھوں نے ہی اس نکاح کی رجسٹریشن پالا گلی مسجد میں بھی کروائی تھی۔ پالا گلی مسجد کےنکاح رجسٹر میں اس نکاح کا اندراج اس طرح ملتا ہے۔
"Item No 118, date April 19, 1918 Rajab Seventh (Villadat of our Maula Alumdar Hazrat Abbas-Peace be upon him) Meher:Rs 1001/= Gift Rs 125000/= Pesh Imam Maulana Hasan Najafi-Witness: Rajab Ali Bhai Ebrahim Batliwala,etc."
اس نکاح نامے کے مطابق مہر کی رقم مبلغ ایک ہزار ایک روپے مقرر ہوئی تھی جبکہ محمد علی جناح نے اپنی دلہن کو سوا لاکھ روپے بطور تحفہ پیش کیے تھے۔اب وہ یادگار لمحہ آیا جب دولہا نے دلہن کو انگوٹھی پہنانی تھی۔ انکشاف ہوا کہ دولہا صاحب اپنی بے پناہ مصروفیت میں انگوٹھی خریدنا بھول گئے ہیں ایسے میں راجہ صاحب محمود آباد جناح کی مدد کو آئے اور انھوں نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی جناح کو دی کہ وہ اسے اپنی دلہن کو پہنا سکیں۔نکاح نامے پر جناح کا مسلک خوجہ اثنا عشری تحریر کیا گیا۔
بشکریہ : بی بی سی https://www.bbc.com/urdu/pakistan-56790775

عالم دین مضبوط تو معاشرہ مضبوط

 سید ذہین علی نجفی :
معاشرہ جس تیزی سے بے راہ روی اور اخلاقی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ دین سے عملی دوری ہے۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس پیغام کو عام کرنے اور صحیح سمت میں معاشرے کی رہنمائی کرنے کا بنیادی کردار علماء کرام ادا کرتے ہیں۔ اگر علماء کرام کو مضبوط، مستحکم اور معاشی و سماجی سہولیات سے آراستہ کیا جائے، تو ایک بہترین اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے، علماء کرام کی خدمت اور ان کے لیے سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
علماء کسی بھی معاشرے کے فکری، روحانی اور دینی راہنما ہوتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ علماء کا مقام محض مذہبی معاملات تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک صالح اور مثالی معاشرے کے معمار بھی ہیں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:''علم سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں، کیونکہ علم ہی صالح معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔''(نہج البلاغہ، حکمت 113)
علماء کرام ہی وہ طبقہ ہیں جو عام لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں، شریعت کے احکامات واضح کرتے ہیں اور لوگوں کے اخلاق و کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر معاشرے میں ان کی حیثیت مستحکم نہ ہو، تو دین کی صحیح تبلیغ و ترویج متاثر ہو سکتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ علماء کرام کی معاشی اور سماجی حیثیت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کے باعث وہ دینی خدمات کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دیگر شعبوں میں افراد کو ہر ممکن معاشی سہولت فراہم کی جاتی ہے، علماء کرام کے لیے بھی ایک مربوط اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے ریاست کی ممتاز دینی سماجی شخصیت  مفتی کفایت حسین نقوی کی یہ سوچ قابل تحسین ہے کہ علماء کرام کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے ایک عملی اور مؤثر منصوبہ تشکیل دیا جائے، جسے جلد ہی علماء کے فورم پر پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ علماء کو وہ تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں جن سے وہ اپنی دینی خدمات کو بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
مساجد اسلام کی بنیادی درسگاہیں ہیں، جہاں سے دین کی روشنی عام ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر علماء کرام کو مساجد میں مناسب مالی تعاون حاصل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ان کے لیے دین کی خدمت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر مساجد کو مضبوط معاشی ادارے کے طور پر منظم کیا جائے، تو علماء کرام کے لیے مستقل آمدن کے ذرائع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جیسے:
1. وقف فنڈز: مساجد کے لیے ایسے فنڈز مختص کیے جائیں جو صرف علماء اور خدام کے لیے ہوں۔
2. زکوٰۃ اور صدقات کا انتظام: مستحق علماء کرام کے لیے زکوٰۃ اور دیگر امدادی فنڈز قائم کیے جائیں۔
3. تعلیمی و تحقیقی وظائف: علماء کو دینی تحقیق اور تعلیم کی مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے اسکالرشپ دیے جائیں۔
4. بیت المال کا قیام: ایک مستقل بیت المال قائم کیا جائے جو علماء کرام کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔یہ اقدامات علماء کرام کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ دین کی تبلیغ و اشاعت پر مکمل توجہ دے سکیں، اور انہیں معاشی مسائل میں الجھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
ماہ شعبان المعظم ایک بابرکت مہینہ ہے جو رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ بھی کہلاتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں مستحقین کا ہر طرح سے خیال رکھا جاتا ہے، وہیں ضروری ہے کہ علماء کرام کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔
یہ وہی علماء ہیں جو رمضان میں مساجد کو آباد کرتے ہیں، لوگوں کو نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کے احکام سکھاتے ہیں، اور پورے معاشرے میں دین کے عملی نفاذ کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اگر علماء کرام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ اپنی توانائیاں بہتر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں، جس کا فائدہ پوری امت مسلمہ کو ہوگا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایک مضبوط عالم دین ہی ایک مضبوط معاشرے کی ضمانت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ترقی کرے اور افراد دین پر کاربند رہیں، تو ہمیں علماء کرام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔علماء کی مالی، تعلیمی اور سماجی حیثیت کو مضبوط کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم علماء کی قدر کریں گے، تو وہ بہتر انداز میں دین کی تبلیغ کریں گے، جس سے معاشرے میں اصلاح آئے گی، اسلامی اقدار مستحکم ہوں گی، اور بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
لہٰذا، ضروری ہے کہ مساجد میں علماء کے لیے مستقل معاشی پروگرام متعارف کروایا جائے، ان کے لیے بیت المال قائم کیا جائے، اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے ان کی مالی مدد کی جائے۔ یہ اقدامات صرف علماء کے لیے نہیں، بلکہ پورے اسلامی معاشرے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علماء کرام کی قدر کرنے، ان کی خدمت کو ترجیح دینے اور دین کی سچی ترویج میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

جمعرات، 20 فروری، 2025

مولانا مودودی کے نظریہ خلافت و ملوکیت کا جائزہ

ڈاکٹر نذر حافی:
ہر شعبے میں  منصف مزاجی سے کام  لینا چاہیے۔ ہم ملوکیت یعنی بادشاہت  پر  حضرت مولانا سید ابوالاعلی  مودودیؒ کے نقد کو  بھی انصاف کے ترازو پر پرکھنے کے مشتاق ہیں۔ بھلا تحقیق و تصنیف میں جانچ پرکھ نہیں ہو گی تو پھر کہاں ہو گی؟  کسی بھی قوم کی عظمت و  بزرگی کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ انصاف پسند ہو۔ چنانچہ ہمیں  ملوکیت یعنی  بادشاہت  سے نفرت کے بجائے اُسے نفرت انگیز بنانے کے عمل کا منصفانہ  جائزہ لینا چاہیے۔ تاریخی طور پر بادشاہت  اپنے زمانے کا ایک بہترین نظامِ حکومت رہا ہے۔ ابنِ آدم کے عروج اور ارتقا میں اس کا   بڑا کردار ہے۔ تاریخ بشریت اور قرآن کا قطعی فیصلہ ہے کہ کسی کے بادشاہ ہونے یا اُس کے اپنے بیٹے کو جانشین بنانے میں کوئی برائی نہیں، بلکہ  اصولی اقدار کو پامال کرکے اقتدار کو ہتھیانے میں قباحت ہے۔ اقدار کو پامال کرکے آپ جمہوریّت بھی قائم کریں تو اس میں بھی  برائی ہی برائی ہے۔ بے شک اپنے ہاں کی جمہوریّت کو ہی دیکھ لیجئے۔ پس قباحت اور بُرائی بادشاہت یا جمہوریّت میں نہیں بلکہ اقدار، اصولوں، معیارات اور حقائق کی پامالی میں ہے۔
 اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے خود بھی بادشاہ متعیّن کئے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں: 
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔" (بقرہ ۲۴۷) 
"اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت ؑ کو بادشاہ بنایا، اسی طرح اللہ نے حضرت داود علیہ اسلام کو بادشاہت عطا کی۔
سورہ ص کی آیت ۱۹ سے چھبیس کا مطالعہ کریں۔ حضرت داود علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ اسلام کو اپنا جانشین بنایا، سورہ نمل میں حضرت سلیمان علیہ اسلام کی بادشاہت اور دربار کی شان و شوکت کا ذکر موجود ہے۔ صرف بادشاہوں کی بات ہی نہیں بلکہ اسی سورہ میں ملکه سبا کا ذکر بھی ہے۔
کوئی بھی شخص خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اگر منصف مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تفکر، تعقل اور تدبّر کے ساتھ صرف سورہ نمل کا مطالعہ ہی کر لے تو اُس پر واضح ہو جائے گا کہ "نہ ہی تو بادشاہ یا ملکہ ہونا کوئی بُری بات ہے اور نہ ہی کسی بادشاہ کا اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانا۔"
اسی طرح  بادشاہِ حبشہ "نجّاشی" بھی تو ایک بادشاہ ہی تھا، جس نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔کیا نجّاشی کے بادشاہ ہونے سے انکار ممکن ہے؟
اس بات کو مزید سمجھانے کیلئے میں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا سب سے پہلے میں بذاتِ خود یہ ماننے کو تیار ہوں کہ جو  چیز میری ہے ہی نہیں، میں اُس کا مالک بھی نہیں۔ بے شک میں سالہاسال اُس چیز پر قبضہ  جمائے بیٹھا رہوں۔ ہزاروں سال گزرنے کے  بعد بھی کوئی ناجائز قبضہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ایسا قبضہ چاہے آمریت، بادشاہت یا جمہوریت کے  روپ میں  کیا جائے اور یا پھر عیسائی، یہودی یا مسلمان ہونے کے نام پر۔  ناجائزہ  قابض اُس مقبوضہ شئے کو  چاہے   اپنے کسی دوست کو  دے یا اپنے بیٹے کو اس کا وارث بنائے، اس سے قبضہ جائز نہیں ہو جاتا۔  
فطرتِ سالم اور عقلِ سلیم کے مطابق جبر و استبداد سے چاہے کسی کی زمین ہتھیائیں، حکومت پر قبضہ کریں یا کسی سے اپنی اطاعت و بیعت  کروائیں،  یہ سب غیر پسندیدہ ہے۔ خواہ کوئی بادشاہ  ایساکرے یا جمہوری صدر انجام دے اور چاہے کوئی کسی علاقے کا وڈیرہ  ۔ بس سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ  بُرا کام بُرا ہے  چاہے بادشاہت کے نام پر ہو یا کسی بھی دوسرے نام پر۔
اب آتے ہیں دینِ اسلام  کےاندر  ملوکیت و بادشاہت کے داخلے کی طرف۔ دینِ اسلام میں آخری نبی کی حکومت ایک الہی و نبویؐ  حکومت تھی۔ اس حکومت کو کسی بھی طور سے دین سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔  اس کے بعد مندرجہ ذیل سوالات   بادشاہت اور ایک نبوی ؐ حکومت کے درمیان فرق کی وضاحت کیلئے کافی ہیں :
۱۔  نبی اکرمﷺ کی حکومت عین نبوّت تھی یا یہ ایک نبوی  کام نہیں بلکہ ایک غیر نبوی اور محض دنیاوی کام  نعوذباللہ بادشاہت تھا۔؟
۲۔ کیا  پیغمبرﷺ کے پاس دو منصب تھے، ایک نبوّت  کا اور دوسرا بادشاہ  ہونے کا؟ آپ کچھ دیر کیلئے بطورِ نبی کام کرتے تھے اور کچھ دیر کیلئے بطورِ بادشاہ؟ یا نہیں پیغمبرﷺ کی بادشاہت اور حکومت عین نبوّت اور کارِ رسالت تھی؟ ۳۔ اگر پیغمبر کی نبوّت، رسالت اور حکومت ایک ہی شئے تھی تو ختمِ نبوّت کے ساتھ نبوّت تو ختم ہوگئی کیا نبی ؐ کی حکومت بھی ختم ہوگئی تھی؟
ہر کلمہ گو مسلمان کے نزدیک ہمارے نبیؐ  کی حکومت خالصتاً ایک نبوی  حکومت تھی  اور نبی ؐکے وصال کے وقت یہ نبوی حکومت   باقی بھی  تھی، نیزاس نبوی حکومت کے باقی رہنے میں جہاں کئی دیگر حکمتیں پوشیدہ تھیں وہیں یہ حکمت بھی مضمر  تھی کہ  ختمِ نبوّت کے بعد قیامت تک اسی حکومت نے لوگوں کی ہدایت اور تربیّت کرنی تھی۔
گزشتہ چودہ سو سال کی طرح ہر مسلمان کی مانند مفکرِ اسلام  مولانا مودودی ؒ  کے دل و دماغ پر بھی یہ سوال چھایا ہوا تھا کہ کیا  خدا اور اُس کے رسول  نے قیامت تک اس اتنی اہم  حکومت کو باقی رکھنے کیلئے  کچھ نہیں کیا تھا؟ اگر کچھ کیا تھا تو نصوصِ قرآن و حدیث کے مطابق وہ کیا تھا؟
خصوصاً پیغمبرِ اسلامؐ ایک ایسے ایک عظیم مدبِّر، دوراندیش مفکر، بہترین قائد، بابصیرت رہنماء اور ایک بے مثال انقلابی رہنماء تھے کہ آپ نے صرف تئیس سال میں مکے و مدینے کے عقائد، عبادات، تہذیب و تمدن، جغرافئے، جنگی اصلوں، صلح کی اقدار اور ۔۔۔ کو زیر و زبر کر دیا۔ کیا اتنا عظیم رہنماء یہ بتا کر نہیں گیا کہ میرے بعد میرے مشن کو جاری رکھنے کیلئے میری حکومت کون چلائے گا۔؟
آج ہم دیکھتے ہیں کہ عام اور چھوٹے چھوٹے رہبر و رہنماء بھی اگلے پچاس سو سال کے بعد پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہمارے یہ عام سے لیڈر اتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو کیا نبی اکرم ؐ جیسا عظیم رہبر و رہنماء ان خطرات کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا کہ میرے بعد میری حکومت کو بادشاہت میں تبدیل کر دیا جائے گا؟ میری قائم کردہ حکومت کے بیت المال سے رنگ رلیاں منائی جائیں گی؟ میری قائم کردہ اسلامی ریاست کی بساط لپیٹ دی جائے گی؟ اور میری آل و اہل بیت کو دیوار سے لگا دیا جائے گا۔؟ کسی چھوٹے سے سکول یا مدرسے کا مدیر بھی اگر کسی سفر پر جائے تو یہ خلاف عقل ہے کہ وہ اپنا کوئی جانشین اور نائب بنائے بغیر چلا جائے۔ جب عام آدمی کی عقل اتنا کام کرتی ہے تو وہ جو ختمِ نبوّت کا تاجدار ،  کُلِّ عقل اور مجسمہ عقل و خِرد ہے، کیا وہ اتنی  اہم حکومت و سلطنت  کو  اپنے   کسی واضح  نائب اور مشخص جانشین کے بغیر چھوڑ گیا۔؟
جب ہزاروں سال پہلے حضرت داود ؑ جیسا نبی اپنے بیٹے کو اپنی حکومت کا جانشین بنا کر گیا، تو کیا جو آج کے جدید ترین عہد کا نبی ہے اور جس پر نبوّت ہی ختم ہوگئی اور جو سارے انبیاء کا سردار ہے اور جس کا دین سارے عالمین کیلئے ہے، کیا نعوذ باللہ وہ اپنی حکومت کے جانشین بنانے کی اہمیّت کو نہیں سمجھتا تھا۔؟
 ایک ایسا اسوہ کامل ؐ، ایک ایسا جامع نمونہ حیاتؐ جس نے ہمارے لئے گھر سے نکلنے کی دُعا،  غُسلِ جنابت کا طریقہ، بیت الخلاء کے احکام، کھانے کے آداب اور مسواک کے فوائد تک بتائے تو کیا وہ یہ نہیں بتا کر گیا کہ میرے بعد  عالمِ بشریت کی ہدایت و تربیت  انجام دینے والی میری حکومت  کا کیا بنے گا۔؟ کیا اتنے دوراندیش رہبر و رہنماء کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کے مسئلے پر میری ہی اُمّت میں ایسا شدید اختلاف پیدا ہوگا کہ لوگوں کی ہدایت کے بجائے قیامت تک میری اُمّت داخلی  انتشار اور فرقہ واریّت میں اُلجھ جائے گی؟
مولانا مودودی ؒ صاحب سمیت ہر  صاحب علم و تحقیق یہ جانتا ہے  کہ قطعیّات تاریخ، سیرت النّبی اور احادیثِ رسول ؐ کے مطابق اللہ کے آخری نبیؐ اپنے بعد پیش آنے والے حوادث کے حوالے سے فکر مند تھے  اور آپ  ہمیشہ محتاط رہتے تھے۔یہ  آپ کی دور اندیشی اور قبل از وقت  احتیاط  ہی ہے  کہ آپ نے اسلام کی پہلی دعوت "دعوتِ ذوالعشیر" میں ہی یہ اعلان کیا کہ آج جو بھی میری رسالت کی تصدیق کرے گا، وہ میرا جانشین، وزیر، وصی اور میرا خلیفہ ہوگا۔ اُس وقت  ابھی کوئی سلطنت وجود میں نہیں آئی تھی، ابھی اعلانیہ تبلیغ بھی شروع نہیں ہوئی تھی، غزوات نہیں ہوئے تھے، فتوحات نہیں ہوئی تھیں۔۔۔ تو اُس وقت پیغمبر کے نزدیک اپنے جانشین کا اعلان اتنا اہم تھا کہ آپ نے وہیں دعوتِ ذوالعشیر میں ہی اپنے جانشین کا اعلان کر دیا۔۔۔ تو کیا جب ریاست و حکومت تشکیل پا گئی تو پھر رسولؐ نے اپنا جانشین معیّن نہیں کیا؟ وہ رسول جو نماز کیلئے بھی اپنا نائب مقرر کرتا ہے، کیا وہ اپنی حکومت کیلئے اپنا جانشین معیّن کر کے نہیں گیا؟
آپ قرآن مجید کی نصوص پر پرکھیں، احادیثِ نبوی پر تولیں، تاریخ کو پیمانہ بنائیں، عقل کو میزان قرار دیں یا اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو جائیں! آپ پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ اتنا بڑا رہبر و رہنماء اپنے جانشین کے تعیّن سے غافل نہیں تھا۔ ہم جو صابن خریدنے دکان پر جاتے ہیں تو وہاں بھی تھوڑی سی غفلت نہیں کرتے تو  کیا اتنے اہم مسئلے میں رسولؐ کی طرف سے نعوذباللہ غفلت کا شائبہ بھی ممکن ہے؟۔ پس یہ ایک یقینی امر ہے کہ رسولؐ خدا نے اپنا جانشین ضرور معیّن کیا ہے۔ 
اب رسولؐ کے بعد جھگڑا اس پر ہے کہ رسولِ خدا کا وہ معیّن شُدہ جانشین کون ہے۔؟ یہ جھگڑا ابھی رسولِ خدا دفن نہیں ہوئے تھے، اُسی وقت مدینے میں ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کے درمیان  رونماہوا۔
کیا مولانا مودودی ؒ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ  اگر  آلِ رسولؐ کو نظر انداز کرنے کے بجائے جانشینِ پیغمبر  کا تعیّن  نصوص قرآن و احادیث کے مطابق  ہوتا  اور سقیفہ بنی ساعدہ میں دیگر معیارات بیان کرنے کے بجائے  آیات سُنائی جاتیں، اور روایات بیان کی جاتیں تو یہ اختلاف  وجود میں ہی نہ آتا۔
مولانا مودودی جانتے تھے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں  جانشینِ پیغمبر کیلئے قرآن و حدیث کی نصوص کے بجائے دیگر معیارات بیان کئے گئے۔ جیسے  مکّی، مہاجر، قریشی یا عمر میں بڑا ہونے جیسے معیارات۔ پیغمبر اسلام نے تو اپنی جدوجہد سے  مکی و مدنی، مہاجر و انصار، قریشی و حبشی کی تفریق ختم کر دی تھی۔ ان منسوخ شدہ اقدار پر جانشینِ پیغمبر کا تعیّن قطعاً قرآنی تعلیمات اور سیرت النبیؐ سے مختلف  ایک دوسرا راستہ تھا۔
اس دوسرے راستے سے نبویؐ حکومت نامی  وہ چیز آلِ رسولؐ سے لے لی گئی جو در حقیقت  قیامت تک لوگوں کی ہدایت و تربیّت کیلئے تھی ۔  پہلے راستے کے مطابق یعنی قرآن و حدیث نیز قطعیّاتِ تاریخ کے مطابق  ایسی حکومت کو نبوی اصولوں و معیارات کے مطابق چلانا یہ آلِ رسولؑ کے علاوہ کسی اور کے بس  کی بات بھی نہ تھی۔ اب یہ سوال مولانا مودودی ؒ اپنی ہزاروں تالیفات و تحقیقات کےباوجود حل نہیں کر پائے کہ  جو  چیز میری نہ ہو اور وہ میں کسی بھی دوسرے طریقے سے اپنے ہاتھ لے لوں تو کیا وہ میری ہو جائے گی؟ اچھا اب وہ چیز جو میری نہیں ہے، اگر وہ میں استعمال کرنے کے بعد اپنے کسی دوست کو دے دوں تو یہ تو اچھی بات ہے، لیکن اگر وہی چیز اپنے بیٹے کو دوں تو یہ بُری بات ہے۔؟ پس  بادشاہت میں چونکہ حکومت بیٹے کو منتقل ہوئی اس لئے بادشاہت بُری ہو گئی۔
انہوں نے  خلافت و ملوکیّت لکھ کر  ساری بحث کو اقتدار پر قبضے کے بجائے  انتقالِ اقتدار کی  طرف Divert کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے ملوکیّت و بادشاہت  کو اتنا برا بھلا کہنا شروع کیا کہ گویا یہ لفظ گالی بن گیا۔ طرفین سُنّی و شیعہ دونوں کی تاریخی تسکین کا سارا سامان چونکہ بادشاہوں کو بُرا بھلا کہنے میں موجود ہے، لہذا دونوں کو یہ موضوع راس آیا۔ ڈائورٹ کرنے کی اصطلاح کو یوں سمجھئے کہ جیسے ٹریفک کو کسی گلی سے بڑی شاہراہ پر ڈال دیا جاتا ہے، یا پانی کو دریا سے کاٹ کر سمندر کے بجائے کھیتوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے افکار کو ڈائیورٹ کرکے لوگوں کی قوت تحلیل کو بھی کسی ایک نکتے سے کسی دوسرے نکتے پر متمرکز کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ مخصوص حلقوں نے خلافت و ملوکیت لکھنے کی وجہ سے مولانا  پر تنقید بھی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے سطحی طور پر مطالعہ کرنے والےافراد کو  تاریخ اسلام کا حقیقی پسِ منظر دیکھنے سے محروم کر دیا ۔ البتہ  مولانا مودودی کی اس کاوش کے باعث مسلمانوں کو بالآخر اپنی تاریخ پر نظرِثانی اور نقد و نظر  کرنے کا موقع ضرور ملا ۔ طرفین یعنی سُنّی و شیعہ حلقوں نے بادشاہوں کی لغزشوں سے آگاہی حاصل کی اور اکثر نے بادشاہوں کو ہی اپنے سارے مسائل کا سبب گردانا اور جانا۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ طرفین نے  ماضی کی طرح بادشاہوں کو ظِلّ الہی اور خلیفۃ اللہ و خلیفۃ الرسول  وغیرہ سمجھنا چھوڑ دیا۔
 ا س کے بعد اب ہمیں جانشینی پیغمبر کے موضوع سے  ملوکیّت کی طرف ڈائیورٹ ہوئے کافی سال گزر چکے ہیں۔ ڈائیورٹ ہونے کے باوجود یہ سوال تاریخِ اسلام کے طالب علموں کے دماغوں میں اپنی جگہ بنائے بیٹھا ہے کہ بادشاہت بُری شئے ہے یا اقتدار کو مسلمہ اقدار کے بجائے کسی دوسرے راستے سے ہتھیانا؟ اور اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی شخص ہتھیائی ہوئی چیز اپنے کسی دوست کو دے یا اپنے بیٹے کو؟  قانون دانوں کیلئے بھی یہ ایک اہم پہلو ہے کہ اگر حصول اقتدار ہی قانونی نہیں تو کیا فقط انتقالِ اقتدار زیرِ سوال جائے گا یا حصولِ اقتدار بھی؟
  مولانا مودودی کا بادشاہت پر نقد بہت تحقیقی اور علمی ہے لیکن اُن کے اس نقد کی تکمیل کیلئے اُن پر  پر یہ نقد بنتا ہے کہ اگر کہیں پر  حصولِ اقتدار  قرآنی و نبوی نصوص  کے  مطابق نہ ہو  تو کیا  ایک مسلمان کیلئے ایسا اقتدار نبوی ؐ حکومت کا متبادل ہو سکتا ہے ؟ اور  پھر  ایسا  اقتدار کسی  حاکم کی طرف سے اپنے دوست کو منتقل کرنا  تو  ٹھیک اور جائز ہے  لیکن اپنے   بیٹے کو  منتقل کرنا  کیسے غلط  و ناجائز  ہے؟ 
مولانا مودودی نے حکمرانوں کی جن لغزشوں کو  سامنے لایا ہے اِن کا تعلق اُن کے بادشاہ ہونے سےہر گز نہیں۔ وہ  کسی جمہوری عمل سے بھی برسرِ اقتدار آتے اور بادشاہ نہ بھی ہوتے تو تب  بھی  وہ قابلِ گرفت تھے۔ اللہ کے آخری نبی ؐ اپنے پیچھے انسانوں کی ہدایت و تربیّت کیلئے  ایک نبوی حکومت چھوڑ کر گئے تھے صرف حکومت نہیں۔ صرف حکومت چاہے جمہوری ہو یا آمریت و ملوکیت وہ  کبھی بھی نبوی حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ نبوی حکومت یعنی قیامت تک کے عوام النّاس کی ہدایت و تربیت جبکہ بادشاہت و جمہوریت یعنی قیامت تک ہدایت و تربیّت کی محتاجی۔


بدھ، 19 فروری، 2025

مجاہد بھائی

ڈاکٹر نذر حافی:
آج ہم جس فتنہ الخوارج  سے زِچ ہو کر طالبان کےسامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں، یہ  سارے فتنہ باز  جتھہ بردار  کوئی اجنبی اور ہمارے نامحرم نہیں بلکہ  ہمارے ہی مجاہد بھائی ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں ہمارے ان مجاہد بھائیوں نے بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں  شاہرگ کے مقام پر کوئلے کی کان کے قریب دھماکہ کر کے گیارہ مزدوروں کو خاک و خوں میں غلطاں کر دیا ۔  اسی طرح دو دِن پہلے ایک بار پھر پارا چنار جانے والے قافلے پر حملہ ہوا۔ بڑے مزے کے ساتھ مجاہدبھائیوں نے  بگن ، مندروی ،  ڈاڈ کمر چارخیل  اور اوچت کے مقام پر گاڑیوں کو لوٹا  اور لوٹنے کے بعد  آگ بھی لگائی گئی۔ اس حملے میں کئی لوگ زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ تاجر برادری کے مطابق پندرہ سے زائد ڈرائیور  اس مرتبہ بھی لاپتہ ہو گئے  ہیں۔  آگاہ رہیں کہ اس کا عتاب بھی مجاہد بھائیوں  کے بجائے بےچارے عام افغان مہاجرین پر ہی نازل ہو گا۔
عرصہ دراز سے مذکورہ بالا علاقوں کا طالبان یا مجاہد بھائیوں  کے قبضے میں چلے جانا اور پاکستان کےہاتھوں سے نکلنا کسی سے مخفی نہیں۔ان علاقوں کو طالبان سے واپس لینے کے بجائے عام افغان مہاجرین پر شکنجہ کسنا در اصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔کیا  طالبان یعنی مجاہد بھائیوں کے ہاتھوں  رفتہ رفتہ   پاکستان کے جغرافئے سے دستبردار ہوتے جانا ہماری قومی پالیسی ہے؟

ایک طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہمارے مجاہد بھائی ہماری ریاستی رِٹ کیلئے چیلنج بن چکے ہیں اور دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں  اپنے دو وفد  طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیلئے  افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ایک وفد کے بارے میں شنید ہے کہ وہ سفارتی معاملات طے کرے گا اور دوسرا وفد ایسے  اسٹیک ہولڈرز کا ہے جو اللہ ہی جانے مجاہدین  کے ساتھ مل کر  اپنے ملک کے ساتھ  کیا کرے گا۔ ملکی تاریخ میں ، صوبوں کی طرف سے  ایسی انوکھی پلاننگ پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ کیا پاکستان کے صوبے براہِ راست بین الاقوامی مذاکرات کرنے اور  اپنی خارجہ پالیسی طے کرنے میں خود مختار ہیں؟

اب تو بچے بھی یہ لوری نہیں سُنتے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ نئی نسل  افغانستان اور ہندوستان سمیت سب ہمسایہ ممالک  کے ساتھ اچھے اور دوستانہ  تعلقات چاہتی ہے۔ دہشت گردوں کو مذہب کا شیلٹر فراہم کرناکسی کو بھی  پسند نہیں۔ ہم  لوگوں کو تو یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں لیکن جوانوں کویہ سوچنے سے کون روک سکتا ہے کہ  پاکستان کے علاقوں پر مختلف شکلوں میں قبضہ جمانے والے یہ سارے  مجاہد بھائی ایک ہی مذہب سے کیوں تعلق رکھتے ہیں؟  کیا ہمیں اپنے ہاں کی مذہبی اقلیتوں نیز   بلوچوں ، پختونوں ، سندھیوں اور پنجابیوں کو مجاہد بھائیوں کے ذریعے تلف کرنے، ختم کرنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے بجائے  ان کےروزگار، تعلیم، اور  فلاح و بہبود  کیلئے کچھ کرنے کا نہیں سوچنا چاہیے؟۔ 
بات یہ نہیں کہ بلوچستان دہشت گردی کی زد میں ہے یا  آئےروز بگن ، مندروی ،  ڈاڈ کمر چارخیل  اور اوچت کے مقام پر  مسافروں کو قتل کیا جاتا ہے اور مال بردار گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے بلکہ بات کچھ اور ہے۔ بات یہ ہے کہ اب بھارت کو بُرا بھلا کہنے سے یہ لوٹا ہوا مال ، جاں بحق ہونے والے لوگ  اور مجاہد بھائیوں  کے زیرِ قبضہ علاقے واپس نہیں آ سکتے۔ ساری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے کہ  ہم  نے اب تک اپنے مجاہد بھائیوں  کے بجائے بے چارے  افغان ماجرین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
کیا ہے کوئی جو یہ سوچے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا اپنے دو وفد طالبان حکمرانوں  کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیلئے  بھیجنا دوسرے صوبوں اور ملکی سالمیت کیلئے کیا پیغام رکھتا ہے؟  وفد بھیجنے والوں کو یہ طے کرنا چاہیے کہ ہمارےعوام کو تحفظ ، روزگار، علاج، تعلیم اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے یا  خود کُش دھماکوں، منشیات اور اسلحے کی؟ اپنے وفود افغانستان ضرور بھیجئے لیکن کیا عوام کو یہ دکھائی نہیں دیتا  کہ اس وقت مسلک وہابیت ، اہلحدیث یا  مکتب سلفی کے مرکز سعودی عرب میں کوئی داعش، القاعدہ، طالبان، سپاہِ صحابہ، لشکرِ جھنگوی اور خود کُش بمباروں کا  کیمپ  نہیں؟  بھارت ہمارا دشمن ہی سہی ، وہیں پر دیوبندی مکتب کا مرکز دارالعلوم دیوبند موجود ہے، پورے ہندوستان میں کہیں بھی ایک انچ زمین بھی کسی  سپاہِ صحابہ، داعش، القاعدہ، طالبان یا  لشکرِ جھنگوی کے قبضے میں  نہیں؟ہمارے ہمسائے میں شیعہ اکثریتی ملک ایران ہے۔ کیا ایران میں کوئی ایسا علاقہ ہے کہ جہاں اہلِ تشیع کے مسلح جتھے اہلِ سُنّت کو کھانا، غذا اور ادویات نہ پہنچنے دیتے ہوں اور اہلِ سُنّت  کی مال بردار گاڑیوں کو لوٹ لیتے ہوں؟
یہ توجہ طلب نکتہ ہے کہ ہمارا یہی تفتان بارڈر جہاں پاکستانی مسافروں کو  جی بھر کر ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہےوہیں ایرانی اسٹاف اپنے شہریوں کے ساتھ کتنے ادب و احترام کے ساتھ پیش آتا ہے ؟  کیا ہم نے اپنے ہمسایہ ممالک سے کوئی اچھی چیز سیکھنے کے بجائے  ہمیشہ نفرت، دشمنی ،  کینہ، منشیات اور اسلحہ ہی درآمد کرنا ہے؟
بالاخر یہ کس نے سوچنا ہے  کہ  کیوں سعودی عرب  ، ہندوستان  اور ایران میں دیوبندی ، وہابی  اور شیعہ مسالک کے  مراکز ہونے کے باوجود  مسلح جتھے وہاں کبھی اس طرح نہ ہی مسافروں کو مارتےہیں اور نہ ہی گاڑیوں کو لوٹتے ہیں اور نہ ہی جابجا مختلف علاقوں پر قبضہ جماتے ہیں؟
ہمارے مجاہد بھائیوں کے پاس  عوام کُشی، عوام دُشمنی اور ملکی بدحالی کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ طالبان نے نہیں بلکہ ہم نے خود سوچنا ہے کہ عوام افغانستان کے ہوں یا پاکستان کے دونوں طرف کے لوگ ہم  پاکستانیوں سے نالاں ہیں۔ دونوں طرف کے لوگوں کو ناراض کر کے آخر مسلح جتھوں یعنی مجاہد بھائیوں  کو ہم کب تک پالتے رہیں گے؟

اتوار، 16 فروری، 2025

اہلِ تشیع اور چار اہم غلط فہمیاں

ڈاکٹر نذر حافی:

ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔ پہلے ہم حقائق تسلیم کرنے پر راضی تو ہو جائیں؟ گذشتہ چودہ سو سالوں میں حضرت علیؑ اور اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں ، گالیوں،  مغالطوں اور فتووں تک کا استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ان کے خلاف تلوار کا استعمال، گرفتاریوں اور ٹارچر سیلوں، بہمیت،ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔ ہر طرح کا جبر روا رکھا گیا۔ مغالطوں کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت عمار یاسر ؓ کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کے قاتل خود حضرت علیؑ ہیں، چونکہ وہی انہیں میدان میں لے کر آئے ہیں اور شیعیانِ علی کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اس لئے روتے اور ماتم کرتے ہیں، چونکہ انہوں نے خود امام حسین ؑ کو شہید کیا ہے۔


آج بھی آپ سروے کر لیں۔ کسی دور دراز کے ایسے گاوں میں چلے جائیں، جہاں پرائمری سکول بھی نہ ہو، وہاں لوگوں سے پوچھیں کہ شیعہ کون ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ وہاں بھی لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ شیعہ کافر ہیں، یہ دس محرم کو خون پیتے ہیں، شامِ غریباں میں۔۔۔  آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح نسل در نسل ان کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے۔
 یہ سب ہونے کے باوجود میرے جیسے ایک سوچنے سمجھنے والےانسان کیلئے یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی صحابہ کرام کا ایک گروہ شیعیانِ علی کہلاتا تھا یا نہیں؟۔

اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں اور مغالطات سے کئی پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی متاثر ہیں۔ چنانچہ مجھے کئی مرتبہ یہ جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اہلِ تشیع کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اور ان کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟کہانیوں کے بجائے جب میں نے شیعیانِ علی کی ابتدا کا سراغ لگانا شروع کیا تو ابو حاتم رازی[1]، ابن خلدون[2]، محمد کرد علی[3]، صبحی صالح [4]، عبدالله عنّان [5] سمیت بہت سارے اہل سنت علماu اور دانش مندوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ کے زمانے میں ہی متعدد صحابہ کرام ؓ کو شیعیانِ علی کہا جاتا تھا۔

انہیں شیعیانِ علی کہنے کی وجہ یہ تھی کہ بہت سارے صحابہ کرام ؓ  اُسی زمانے میں یہ جان گئے تھے کہ پیغمبرِ اسلام ؐ کی عدم موجودگی میں صرف حضرت علی ؑ ہی مسلمانوں کے سرپرست اور ولی ہیں۔بطورِ خاص حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت سلمان فارسیؓ، مقداد بن اسوؓد، حضرت مالِكِ بنِ نوَيرَة، جابر بن عبداللهؓ، ابی بن کعبؓ، ابوالطفیل عامر بن واثلهؓ، عباس بن عبد المطلبؓ اور ان کی تمام اولاد، عمار یاسرؓ، ابو ایوب انصاریؓ، أبى سعید الخدرى، وحذیفة بن الیمان، خزیمة بن ثابت، خالد بن سعید بن العاص، قیس بن سعد بن عُبادہ خَزرَجی کو شیعیان علیؑ میں سے جانا جاتا تھا۔[6] اب میرے لئے سوال یہ پیدا ہوا کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی شیعیانِ علی موجود تھے اور میدانِ غدیر میں جب امام نبیؐ نے بھی من کنت مولاہ فھذا علی مولا کا اعلان کر دیا تھا تو پھر  سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے وقت  حضرت امام علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ میں سے کسی کو بھی نہ بلانے اور ان سے مشورہ نہ کرنے سے خود نبی ؐ کی سیرت کی تعمیل ہوئی یا عدمِ تعمیل؟ 

سیرت النبیؐ کی عدمِ تعمیل سے انحراف نے مسلمانوں کے درمیان جس خلا کو ایجاد کیا اُس خلا کو پُر کرنے کیلئے بعد والے مسلمانوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں؟یہ ہمارے سامنے ہے کہ نبیؐ کے بعد مسلمانوں میں اربابِ اقتدار کے خلاف ایک مستقل اور مزاحمتی تحریک نے جنم لیا۔ کیا یہیں سے فرقہ واریت اور فرقہ پرستی کا آغاز نہیں ہوا؟ اسکے بعد علیؑ، آلِ علیؑ اور شیعیانِ علیؑ کے ساتھ جو ہوا اُس کا خلاصہ ۶۱ ھجری میں معرکہ کربلا کی صورت میں عیاں ہے۔ 

کربلا کے بعد شیعیانِ علی ایک گروہ سے ایک تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ ایک ایسی تحریک جو کھل کر بادشاہت و ملوکیت کے خلاف  تھی۔ اب اس تحریک کو ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ پروپیگنڈے، تلوار اور قید و بند  کا سامنا تھا۔میں نے اس حقیقت سے انکار کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے اس حقیقت سے انکار ممکن نظر نہیں آرہا کہ تاریخ ِاسلام اور اہلِ تشیع ہم عمر ہیں۔ نبی اکرمؐ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی شیعیانِ علیؑ کہلانے والے صحابہ کرام در اصل نبی اکرمؐ کی احادیث اور تاکید کی روشنی میں حضرت امام علی ؑکی ولایت و امامت پر قائم رہے۔ جب سقیفہ بنی ساعدہ کا مسئلہ پیش آیا تو اسی گروہ نے اربابِ اقتدار کے مدِّمقابل مقاومت کی۔ اگرچہ مزاحمت و مقاومت کرنے والے مسلمانوں کے کئی گروہ تھے لیکن اُن سب میں شیعیانِ علی سب سے زیادہ سخت جان واقع ہوئے چونکہ باقی سب کو کافر و مرتد کہہ کرانہیں اسلام سے خارج کہہ کر ان کا قلعہ قمع کر دیا گیا۔ ویسے تو اہلِ تشیع کو کافر و مشرک اور مرتد کہنے کیلئے ہزاروں غلط بیانیوں اور لاکھوں غلط فہمیوں کا سہارا لیا گیا ہےلیکن ہم اس وقت اہلِ تشیع کے صرف عقیدہ امامت کے بارے میں پھیلائی گئی چار غلط فہمیاں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ 

پہلی غلط فہمی:۔ اہلِ تشیع کے بارے میں یہ غلط فہمی مشہور ہے کہ شیعہ اپنے اماموں پر فرشتہ وحی کے نازل ہونے کے معتقد ہیں اور اُن کے بارہ امام نعوذ باللہ بارہ نبی ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

غلط فہمی کا جواب:۔ ختمِ نبوّت کا مطلب ہے کہ اب نبوّت ختم ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیامت تک اُمّت کی ہدایت کی ضرورت بھی ختم ہوگئی ہے۔ یقیناً ہدایت کی ضرورت باقی ہے۔ اس ہدایت کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اہلِ سُنّت ختم نبوّت کے بعد خلافت کے قائل ہیں۔ یہ خلافت کیا ہے۔؟ 

اہلِ سُنّت کی طرف سے خلافتِ راشدہ دراصل ختم نبوّت پر مہر ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اب خلیفہ ہدایت کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب خلافت کا سلسلہ شروع کیا گیا تو حضرت علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ کو اُس میں شامل نہیں کیا گیا، اس لئے شیعہ کے ہاں ختمِ نبوّت کے بعد اُمت کی ہدایت کیلئے خلافتِ راشدہ  کے بجائے امامت در اصل ختمِ نبوّت کی مہر ہے۔ اہلِ تشیع کے ہاں امامت کامطلب یہ ہے کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اور امت کی ہدایت اب امام نے کرنی ہے جوکہ آخری نبی کا خلیفہ اور امت کا امام ہے۔

لہذا یہ کہنا کہ اہلِ تشیع کے ہاں امام نعوذ باللہ نبی ہوتے ہیں، یہ سراسر یا تو لاعلمی ہے، یا غلط فہمی اور یا پھر تعصب۔

دوسری غلط فہمی:

 شیعہ بارہ اماموں کے قائل ہیں، اہل تشیع کے مطابق یہ بارہ امام آلِ رسولؐ یا قریش  سے ہونگے، اب قیامت تک یہی نسل انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی، یہ تو نسل پرستی ہے۔ اب تو نسلیں بھی مخلوط ہیں۔ لہذا اگر پیغمبرِ اسلام نے یہ فرمایا ہے کہ میرے جانشین قریش میں سے ہونگے یا میرے اہل بیت میں سے ہوں گے تو کیا پیغمبر ؐ یہ نہیں جانتے تھے کہ قیامت تک تو میری نسل بھی مخلوط ہو جائے گی۔

غلط فہمی کا جواب: پیغمبر نے اپنے اہل بیت ؑ کو اس لئے اپنے بعد ہدایت کا مرکز قرار دیا کہ آپ نے اپنے اہلِ بیت کی تربیت خود کی۔ اُس وقت لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے۔ لہذا پیغمبر انہیں بتا رہے تھے کہ دین میرے اہلِ بیت سے سیکھنا۔ نبی ؐ نے پہلے حضرت امام علیؑ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ کو خود پالا، ان کی تربیت کی، پھر اُن کے بچوں کو بھی خود پالا اور تربیّت کی۔ یہ پیغمبر کی تربیّت کے شہکار تھے۔ اب یوں نہیں ہے کہ قیامت تک ان کی نسل سے معصوم امام پیدا ہوتے رہیں گے۔صرف حضرت امام علیؑ، ان کے دو بیٹے جو رسولؐ کی آغوشِ تربیت میں پلے اور آگے صرف امام زین العابدینؑ جو امام حسین کی تربیت کا ثمر ہیں اور آگے صرف امام محمد باقر جو کہ امام زین العابدین ؑ کی تعلیم و تربیّت کا عکس ہیں اور آگے صرف امام جعفر صادقؑ۔۔۔۔ یعنی اُسی دور میں بارہ کے بارہ امام جو کہ صدرِ اسلام، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے عہد میں مکمل ہوگئے۔ 

اہلِ تشیع کے ہاں صرف یہ بارہ امام ایسے تربیّت یافتہ ہیں کہ معصوم  کہلانے کے حقدار ہیں اور قیامت تک میزانِ عمل ہیں۔ نہ کہ جو شخص بھی یہ کہے کہ میں آلِ رسول ہوں، وہ امام یا معصوم ہے۔ حتی کہ ان بارہ اماموں کے سگے بہن بھائی بھی قیامت تک کیلئے معیارِ قرآن و سُنّت، امام یا معصوم نہیں ہیں۔

پس پیغمبر ؐ کی حدیث کی روشنی میں بارہ امام اوائلِ اسلام میں ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ قیامت تک کوئی آلِ رسول سے ہو یا کسی بھی دوسری نسل سے، عرب میں پیدا ہو یا عجم میں، وہ غیر معصوم ہے۔ وہ محتاج ہے کہ اپنے اعمال کو قرآن و سُنّت کے مطابق انجام دے۔ اس کیلئے اُسے ان معصوم اماموں سے رہنمائی لینی ہوگی کہ میرے اعمال درست ہیں یا نہیں۔ اب جو لوگ پیغمبرِ اسلام ؐ کی حدیث کے مطابق آج تک اپنے بارہ امام پورے نہیں کرسکے، ان کیلئے یہ مسئلہ ہے، وہ اپنے اماموں کی معرفت اور شناخت قائم کریں۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن سمرہ  سے روایت ہے: "میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپﷺ نے فرمایا: "یكون بعدی اثنا عشر امیراً۔۔۔ كلهم من قريش۔"، "میرے بعد بارہ امیر اور خلیفہ ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے۔" یہ حدیث اسی صورت میں شیخ صدوق کی الامالی اور الخصال میں بھی نقل ہوئی ہے اور دوسرے شیعہ منابع میں بھی۔

محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری ؒ نے صحیح مسلم میں آٹھ مرتبہ یہ حدیث مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ بطورِ نمونہ حضرت جابر بن سمرہ ؓسے انہوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "لا یزال هذا الامر عزیزاً الی اثنی عشر خلیفهً۔۔۔ كلهم من قریش۔" امامت کا یہ امر باقی ہے اور بارہ خلفاء کے ذریعے ہمیشہ قائم و دائم رہے گی اور وہ سب خلفاء قریش سے ہیں۔[11]  

اسی طرح  فقیہ، محدث اور علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی المعروف امام نوی نے اپنی شرح میں بھی اس حدیث کو لکھا ہے۔[12] مسند أحمد میں صحاح ستہ کے ثقہ راوی اور عظیم محدث امام شعبی نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ہمارے لیے قرآن پڑھ رہے تھے۔

ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے کہا: "کیا آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے پوچھا ہے کہ کتنے افراد اس امت پر خلافت کریں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم نے پوچھا اور آپﷺ نے جواب دیا: بارہ افراد بنی اسرائیل کے دینی پیشواؤں کے تعداد کے برابر۔ [13] یہ حدیث کئی محدثین نے اپنی کتابوں میں متعدد مرتبہ لکھی ہے۔ ہم بطورِ نمونہ چند اہم کتابوں کے صرف ایک ایک مقام کا ذکر کر رہے ہیں۔مثلاً یہ حدیث  کنزالعمال،[14] صحیح ترمذی، [15] مسند احمد، [16]  اور محدث امام حاکم نیشاپوری ؒنے المستدرك على الصحيحين [17] میں بھی نقل ہوئی ہے۔

بعض روایات میں بارہ اماموں کے نام بھی بیان کئے گئے ہیں۔ خوارزمی نے مقتل الحسین میں حضرت سلمان فارسی ؓسے نقل کیا ہے کہ: "ہم رسول خداﷺ کی خدمت میں شرفیاب ہوئے جبکہ حسین (ع) آپﷺ کی آغوش میں تھے، آپﷺ نے ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا اور فرمایا: "بے شک آپ سیّد ابن سیّد ہیں، بے شک آپ امام  ابن امام ابوالآئمہ ہیں، آپ حجت ہیں اور نو حجتوں کے باپ، جو آپ کی صلب سے ہیں، جن میں آخری قائم آل محمدﷺ ہیں۔"[18] معروف اہلِ سُنّت عالم دین، امام صدر الدین ابراہیم بن محمد بن مؤید جُوینی شافعی (م 722ھ) نے فرائد السمطین میں نقل کیا ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہﷺ  سے عرض کیا: ہمیں اپنے جانشین سے آگاہ کریں، کیونکہ کوئی بھی ایسا پیغمبر نہیں ہے، جس کا کوئی جانشین نہ ہو اور ہمارے نبی نے یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین قرار دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: "بے شک میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ علی بن ابی طالبؑ ہیں اور ان کے بعد ان کے دو بیٹے حسنؑ اور حسین ؑاور ان کے بعد نو مزید امام ہیں، جو حسین بن علیؑ کی صلب سے ہیں۔ نعثل نے کہا: اے محمدﷺ! ان نو جانشینوں کے نام بھی میرے لیے بیان کریں اور رسول اللہﷺ نے ان کے نام بھی بیان فرمائے۔ اسی طرح ینابیع المودّہ میں بارہ اماموں کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔[19]

تیسری غلط فہمی:اہلِ تشیع کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پھیلائی گئی ہے کہ جو ہمارے اماموں کی پیروی نہیں کرتا، اُسے بے شک ہم دنیا میں مسلمان کہیں، لیکن وہ آخرت میں جہنم میں جائے گا۔

غلط فہمی کا جواب:اہلِ تشیع کے ہاں عقائد میں تقلید حرام ہے۔ آپ عقائد میں کسی بھی مجتہد یا مفتی کی تقلید نہیں کرسکتے۔ آپ کو عقیدے کیلئے تحقیق کرنی ہوگی۔ جس نے عقیدے کی تحقیق میں سُستی یا کوتاہی کی، وہ عنداللہ سزا کا مستحق ہے۔ لیکن جس نے  اقرارِ توحید و رسالت کو تحقیق کے ساتھ انجام دیا اور اپنا عقیدہ تحقیق کی روشنی میں بنایا، پھر وہ جس بھی نتیجے پر پہنچا، تحقیق کے ساتھ، چاہے فقہ حنفی پر، مالکی پر، شافعی پر یا جعفری پر۔۔۔ جس پر بھی اور اُس نے اپنے یقین کے مطابق ٹھیک طریقے سےاپنے اعمال کو انجام دیا تو وہ عنداللہ اجروثواب پائے گا۔

خلاصہ: انسان اپنی تحقیق اور عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں جائے گا، نہ کہ دوسروں کی تحقیق اور عمل کے باعث۔

چوتھی غلط فہمی:شیعہ اپنے اماموں کے فرامین کو حدیث اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ اپنے اماموں کو نبی سمجھتے ہیں۔

غلط فہمی کا جواب:حدیث ایک علمی اصطلاح ہے، جس کا اطلاق سب سے پہلے نبی اکرمؐ کے فرامین پر کیا جاتا ہے۔ بارہ اماموں کو چونکہ نبیؐ نے اپنے جانشین اور اپنے خلفاء کہا ہے اور اُن کی سُنّت کو اپنی سُنّت کہا ہے۔ لہذا پیغمبرؐ کے فرامین کو حدیث کہنے کی اتباع میں بارہ اماموں کے فرامین کیلئے بھی وہی حدیث کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اب اس اصطلاح کو کھینچ کر یہ کہنا کہ شیعہ اپنے اماموں کو نبی کہتے ہیں، یہ ایک انتہائی حد سے بڑھا ہوا الزام ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر ایسا کہتے ہیں، وہ یقیناً خدا کے ہاں جوابدہ ہونگے اور جو نہیں جانتے، اُن کیلئے ہم نے واضح کر دیا ہے۔

ہمارے نزدیک اہلِ تشیع غلط ہیں یا درست، یہ فیصلہ کرنے میں ہر شخص آزاد ہے۔ البتہ کوئی بھی شخص جس بھی نتیجے پر پہنچے وہ حقیقت کی روشنی میں پہنچے نہ کہ مغالطوں، غلط بیانیوں اور الزامات و جھوٹ پر مبنی مفروضات پر اپنی رائے قائم کرے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔


 


جمعہ، 14 فروری، 2025

باپ

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ مانگ رہے ہو‘‘ بزرگ نے حیرت سے پوچھا‘ دوست نے شرما کر جواب دیا ’’ابو اب چوہدری صاحب آ گئے ہیں‘ انھیں بھی کافی پلانی پڑے گی‘ صبح کے ہزار روپے صبح کے دوستوں پر خرچ ہو گئے‘‘۔


بزرگ نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ گن کر سو سو روپے کے دس نوٹ نکالے اور اس کے بعد لمبی دعا دی‘ ہم باہر آ گئے‘ کافی شاپ گھر سے ذرا سے فاصلے پر تھی‘ ہم پیدل چل پڑے‘ میں نے راستے میں دوست سے پوچھا ’’کیا تم اب بھی اپنے والد سے پیسے لیتے ہو؟‘‘ میرے دوست نے ہنس کر سر ہاں میں ہلایا اور بولا ’’بالکل میں روزانہ کئی مرتبہ والد صاحب سے پیسے لیتا ہوں‘کبھی پچاس روپے‘ کبھی سو روپے اور اگر تم جیسا کوئی معزز مہمان آ جائے تو پانچ سو اور ہزار روپے بھی لے لیتا ہوں‘‘۔

میں یہ سن کر حیران ہوا اور پھر پوچھا ’’آپ پچاس سال کی عمر میں والد سے پیسے لینے والے پہلے شخص ہو‘ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ آپ کے اپنے بچے بھی بڑے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود والد سے روزانہ پیسے مانگنا مجھے منطق سمجھ نہیں آئی‘‘۔

میرا دوست مسکرایا‘ رکا‘ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھا اور بایاں اس کے اوپر رکھ کر بولا ’’آپ بتاؤ ہمارے دو ہاتھ ہیں‘ ایک نیچے والا ہاتھ جسے ہم لینے والا ہاتھ کہتے ہیں اور دوسرا اوپر والا ہاتھ ہے جسے ہم دینے والا ہاتھ کہتے ہیں‘ ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟‘‘۔

میں نے فوراً جواب دیا ’’اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ‘‘ اس نے مسکرا کر دیکھا اور پھر پوچھا ’’آپ اب ذرا فرض کرو آپ پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے ہو‘ آپ نے عمر بھر اپنی اولاد اور دائیں بائیں موجود لوگوں کو صرف دیا ہو لیکن پھر اچانک آپ نیچے والا ہاتھ بن جائیں اور آپ کو معمولی معمولی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو پھر آپ کی فیلنگ کیا ہو گی؟‘‘ میں نے ذرا سا سوچ کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں‘ انسان اپنے آپ کو کمتر اور محتاج سمجھے گا‘‘۔

وہ مسکرایا اور پھر بولا ’’بالکل صحیح میرے والد پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے‘ ہم جوانی تک ان سے مانگتے تھے‘ جوتے لینے ہوں یا کپڑے یا پھر مہمان ہوں ہم ابو سے پیسے مانگ کر اپنا خرچ چلاتے تھے‘ ابو ہمارا واحد سورس آف انکم تھے لیکن پھر ہم معاشی طور پر آزاد ہوتے چلے گئے اور والد کے سورس آف انکم کم ہوتے چلے گئے۔

ابو نے پوری زندگی کسی سے مانگا نہیں تھا‘ میں نے دیکھا یہ مجھ سے بھی نہیں مانگتے تھے‘ ان کی جیب مہینہ مہینہ خالی رہتی تھی‘ جوتے اور کپڑے بھی پرانے ہو جاتے تھے اور اگر ان کو دوا کی ضرورت پڑتی تھی تو بھی یہ خاموش رہتے تھے‘ میں شروع شروع میں اس رویے پر غصہ کرتا تھا۔ 

میرا خیال تھا والدین کا اپنی اولاد کی دولت پر حق ہوتا ہے لیکن مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اوپر والا ہاتھ کبھی نیچے نہیں آ سکتا اور اگر اسے کبھی آنا پڑجائے تو اس کے لیے مر مٹنے کا مقام ہوتا ہے‘ میرے والد خود کو محتاج سمجھنے لگے تھے اور آہستہ آہستہ کمرے تک محدود ہو گئے تھے۔

میرا خیال تھا یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے‘ والد کی عمر 75 سال ہو چکی ہے‘ یہ علیل بھی رہنے لگے ہیں چناں چہ یہ ایکٹو لائف سے نکل رہے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ میرا بیٹا 17 سال کا تھا‘ اس نے اچانک مجھ سے پیسے لینا بند کر دیے۔ 

میں نے تحقیق کی تو پتا چلا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائین کام کرتا ہے اور اسے اس سے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے چنانچہ اب اسے جیب خرچ کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ ماں اور اپنی بہنوں کوبھی پیسے دینے لگا۔ 

آپ یقین کریں مجھے برا لگا اور میں خود کو غیر ضروری اور محتاج سا محسوس کرنے لگا‘ مجھے اس وقت سمجھ آئی اوپروالا ہاتھ جب نیچے والا بنتا ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ مجھے اس وقت اپنے والد کی تکلیف کا اندازہ ہوا‘ میں سیدھا ان کے پاس گیا اور بچپن کی طرح ان سے پوچھا‘ ابو کیا آپ کے پاس پچاس روپے ہیں۔ 

میرے والد اس وقت اداس بیٹھے تھے‘ آپ یقین کریں یہ الفاظ ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ ان کے جسم میں توانائی آ گئی‘ یہ سیدھے ہو کر بیٹھے‘ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے‘ مجھے پچاس روپے دینے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج ہی بدل گئی‘ یہ چہکنے لگے۔ 

بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں اپنے والد سے روزانہ ایک دو مرتبہ پیسے مانگتا ہوں‘ میں ان سے باہر جانے سے قبل اجازت بھی لیتا ہوں‘ یہ شروع میں انکار کرتے ہیں‘ حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں‘ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں‘ اس سے میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہو گئے ہیں اور یہ خوش بھی ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن تم والد کو پیسے کیسے دیتے ہو؟ ان کا سورس آف انکم تو کوئی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ ان کے نام ٹرانسفر کر دیا ہے‘ یہ رقم سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے‘ چیک بک بھی ان کے پاس ہے‘ یہ رقم نکلواتے ہیں اور اپنی جیب اور الماری میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں سے نکال نکال کر مجھے دیتے رہتے ہیں۔ 

میں نے سبزی اور فروٹ کی ذمے داری بھی ان کو سونپ دی ہے‘ ملازمین ان سے پیسے لیتے ہیں اور فروٹ اور سبزی خرید کر کچن میں دیتے ہیں‘ دودھ اور گوشت بھی ابو کی ڈیوٹی ہے‘ یہ خود دودھ خریدتے ہیں‘ دودھی کو ’’پے منٹ‘‘ بھی کرتے ہیں‘ گوشت کی دکان سے بھی انھی کا رابطہ ہے‘ جس دن قصاب کے پاس اچھا گوشت ہوتا ہے یہ ابو کو فون کر کے بتا دیتا ہے اور ابو جی خوش ہو جاتے ہیں۔ 

میں کپڑے بھی ان کی مرضی کے خریدتا ہوں اور اگر آپ جیسے دوست آ جائیں تو ان سے پیسے مانگ کر انھیں چائے کافی بھی پلاتا ہوں‘ اس سے میرے والد کی صحت بھی اچھی ہو گئی اور ہمارے تعلقات بھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’آپ یہ بھی دیکھیں آپ کو یہ حقیقت اس وقت پتا چلی جب آپکا اپنا بیٹا خود مختار ہوا اور آپ نے خود کو نیچے والا ہاتھ محسوس کیا‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ 

میں نے عرض کیا ’’ہم سب کی یہی ٹریجڈی ہے‘ ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ گھوم کر ہمارے پاس آجاتا ہے‘ مجھے چند دن قبل کامیڈین اور اداکار افتخار ٹھاکر کا ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ ٹھاکر صاحب نے اس میں بتایا‘ میرابھائی رات کو عموماً لیٹ گھر واپس آتا تھا‘ میرے والد اس کے انتظار میں صحن میں بے چین ہو کر پھرتے رہتے تھے‘ وہ جب آتا تھا تو والد اس سے صرف اتنا پوچھتے تھے تم کہاں رہ گئے تھے اور اس کے بعد سونے کے لیے چلے جاتے تھے۔ 

یہ روز کا معمول تھا‘ بھائی ایک رات زیادہ لیٹ ہو گئے‘ وہ واپس آیا اور والد کو پریشان دیکھا تو ناراض ہو کر بولا‘ ابو آپ ساری رات صحن میں کیوں پھرتے رہتے ہیں‘ میں اب بڑا ہو گیا ہوں‘ آپ مجھے بچہ سمجھنا بند کریں‘ والد نے یہ سن کر صرف اتنا کہا‘ بیٹا میں اللہ سے صرف اتنی دعا کر رہا تھا یہ تمہیں جلد سے جلد صاحب اولاد بنائے تاکہ تمہیں میری پریشانی کا اندازہ ہو سکے۔ 

اللہ کی کرنی کیا ہوئی؟ میرے بھائی کی شادی ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے اسے اولاد کی نعمت سے نوازدیا‘ بیٹا ذرا بڑا ہوا تو اس نے بھی رات گھر سے غائب ہونا شروع کر دیا‘ ایک رات میرا بھتیجا لیٹ ہو گیا‘ میرا بھائی باہر تھڑے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا‘ والد آئے اور بھائی کو تسلی دے کر بولے‘ بیٹا تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تمہارا بیٹا اب سیانا ہو گیا ہے‘ یہ کوئی بچہ تو نہیں‘ آ جائے گا‘ یہ سن کر بھائی کو اپنی جوانی یاد آ گئی‘ وہ اٹھا اور والد کی ٹانگوں سے لپٹ کر رونا شروع کر دیا‘ افتخار ٹھاکر صاحب نے یہ واقعہ سنا کر کہا‘ میرے بھائی کو والد کی تکلیف کا احساس اس وقت ہوا جب یہ خود باپ بنا اور اس کے بیٹے نے بھی وہ غلطی شروع کر دی جو یہ جوانی میں کرتا تھا‘‘۔ یہ سن کر میرے دوست کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ہم اس دوران کافی شاپ پہنچ گئے‘ کافی کا آرڈر دیا اور اس کے بعد میں نے اسے اپنا واقعہ سنایا‘ میں نے بتایا‘ آج سے 20 سال قبل میرے گھر کی پانی کی موٹر خراب ہو گئی تھی‘ گرمیوں کے دن تھے‘ خوف ناک دھوپ پڑ رہی تھی اور میں مکینک کے ساتھ کھڑا ہو کر موٹر ٹھیک کرا رہا تھا‘ میرے والد مجھے بار بار کہہ رہے تھے گرمی بہت زیادہ ہے‘ دھوپ ہے‘ سائے میں آ جاؤ‘ تمہیں سن اسٹروک ہو جائے گا لیکن میں ان کا مشورہ اگنور کر رہا تھا۔ 

میرا خیال تھا میں نے اگر موٹر ٹھیک نہ کرائی تو ٹینکی میں پانی ختم ہو جائے گا‘ ابا جی کہتے رہے اور میں اگنور کرتا رہا‘ یہ سلسلہ تھوڑی دیر چلتا رہا‘ والد اس دوران اندر گئے‘ میرے بیٹے کو اٹھا کر لائے اور اسے میرے ساتھ دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ میں نے تڑپ کر احتجاج کیا‘ اباجی یہ چھوٹا بچہ ہے اور آپ نے اسے دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ آپ کتنے ظالم ہیں۔ 

میرے والد اس وقت تک برآمدے میں بیٹھ چکے تھے‘ وہ ہنسے اور اونچی آواز میں کہا‘ بیٹا تم بھی میرے بیٹے ہو اگر تم اپنے بیٹے کو دھوپ میں برداشت نہیں کر سکتے تو میں اپنے بیٹے کو دھوپ میں کیسے دیکھ سکتا ہوں چناں چہ جب تک تم میرے بیٹے کو دھوپ میں کھڑا رکھو گے اس وقت تک تمہارا بیٹا بھی دھوپ میں رہے گا۔ 

مجھے شروع میں برا لگا لیکن پھر میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو میرے والد کی بات ٹھیک تھی‘ میں اگر اپنے بچے کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا تھا تو میرے والد میری تکلیف کیسے برداشت کر سکتے تھے؟‘‘ میں نے اس کے بعد اس سے کہا ’’ہم سب کی بدقسمتی ہے ہم حقیقتوں کو اس سے پہلے انڈر اسٹینڈ نہیں کر پاتے جب تک ہم خود اس صورت حال کا شکار نہیں ہوتے.

جمعرات، 13 فروری، 2025

نماز کی طرح انقلاب کا بھی قبلہ ہوتا ہے

ڈاکٹر نذر حافی:
 بغیر سمت معین کئے خود انقلاب ایک گرداب بن جاتا ہے ۔  انقلابی سفر کو  ریل کی پٹری کی مانند اپنی منزل کی طرف  سیدھا رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک انقلاب کے دوران اور انقلاب کے بعد سب سے مشکل کام   انقلابیوں کیلئے اپنا  قبلہ سیدھا رکھنا ہوتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی تاریخ ہمیں یہ درس دیتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ناسمجھ افراد  کو اپنے گرد اکٹھا کرنے سے گریز کیجئے۔ ذہنی آمادگی اور شعور کے بغیر لوگوں سے کسی قسم کی  تبدیلی اور انقلاب کی بات کرنے والے اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسروں کو ذہنی اذیت بھی دیتے ہیں۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کا ظہور ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی شروعات کے دوران بہت سارے لوگ انقلاب کے نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اُترے اور اپنی کج فکری اور شعوری ناپختگی کے باعث اسلامی انقلاب سے دور ہوتے گئے۔
ذرا  آبادان  کے ریکس سینما   کو آگ لگانے کا سانحہ  اپنے  اذہان میں لائیے۔۱۹  اگست۱۹۷۸ کی رات تقریباً  ساڑھے نو بجے جب سینکڑوں لوگ سینما میں ایک  فلم دیکھ رہے تھے تو  سینما آگ سے دہک اٹھا۔ اس آتش سوزی کی واردات میں چار سو کے قریب افراد جاں بحق ہو گئے۔
رضا شاہ پہلوی اور ساواک کے ہاتھوں میں کھیلنے والے بے شعور لوگوں نے اس سانحے کو اسلامی انقلاب سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حقیقی انقلاب کا شعور رکھنے والوں نے ایسے لوگوں کو اپنے قریب نہیں ہونے دیا۔  حضرت امام خمینی ؒ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسلمان حتی کہ کوئی انسان ایسی وحشیانہ کارروائی کر سکتا ہے  سوائے ان لوگوں کے جو ایسی درندگی  کے عادی ہو چکے ہیں اور جن کی درندگی اور بربریّت  نے ان کی انسانیت کو ان سے چھین لیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ایک انتہائی فکر انگیز جملہ ارشاد فرمایا:"شواہد موجود ہیں کہ  اسلامی انقلاب کو دنیا کے سامنے بدنما  اور بد شکل بنا کر پیش کرنے کیلئے  ظالم حکمرانوں کا ہاتھ اس ظلم میں شامل  ہے۔  "
اسی طرح ایران میں مجاہدینِ خلق کو ہی لیجئے۔ ابتدا میں یہ ایک اسلامی و انقلابی  نقطہ نظر رکھنے والی تنظیم تھی۔ ایران میں انہوں نے پہلوی حکومت کے مظالم کا مسلحانہ جواب دینے کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے بانیوں محمد حنیف نژاد، سعید محسن اور عبدالرضا نیکبین کو پھانسی دے دی گئی۔ اپنی قربانیوں کی وجہ سے یہ لوگ اپنے آپ کو ایران میں انقلاب کا وارث سمجھتے تھے۔ اِن کے ہاں نظریاتی تربیت کا فقدان اُس وقت سامنے آیا، جب انہوں نے حضرت امام خمینیؒ سے فاصلہ اختیار کیا اورپھر اسلامی انقلاب کے ہی خلاف مورچہ زن ہو گئے۔ ان کا آج بھی یہی نعرہ ہے فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَجْرًا عَظِیمًا: “اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم عطا کیا ہے۔” اسلامی انقلاب کے مقابلے میں ان کے اس نعرے کی وہی حیثیت ہے، جو خوارج کے نعرے “لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه: اللہ کے حکم کے سوا کوئی حکم نہیں ہے” کی تھی۔ جوش و جنون سر آنکھوں پر، لیکن نظریاتی تربیت اور پُختگی کے بغیر یہی جوش و جنون وبال بن جاتا ہے۔
اگر کسی ادارے،تنظیم یا شخص کی سمت مشخص نہ ہو اور وہ  حرکت  میں نظر آئے تو سب سے پہلے اُسے  اپنی سمت  اور قبلہ درست کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر  جتنی حرکت زیادہ ہو گی  اتنی  ہی منزل سے دوری ہوتی جائے گی۔ اسلامی تنظیموں کی زندگی میں ان کے نظریات اس قطب نما کی مانند ہیں، جس سے سمت معلوم کی جاتی ہے۔ 
ایران میں  گروہ فرقان کی بھی بہت شہرت ہے۔  اس گروہ  نے محمد قرنی، مرتضیٰ مطهری شہید، ہاشمی‌ رفسنجانی (دو گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئے) حاجی طرخانی، رضی شیرازی، مهدی و حسام عراقی، حسین مهدیان، آیت اللہ محمد علی قاضی طباطبائی جیسی متعدد شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا یا۔ یہ کوئی ان پڑھ یا دین کے دشمن نوجوان نہیں تھے بلکہ اس کے برعکس انتہائی نیک اور صاحبِ مطالعہ شمار ہوتے تھے۔ اُن کا سربراہ اکبر گودرزی صرف بیس سال کی عمر میں قرآن مجید کی تفسیر لکھنے میں مشغول تھا۔ اُس نے اپنا گروہ ہی تفسیرِ قرآن کے نام پر اکٹھا کیا تھا۔ یہ گروہ کسی کی بات پر کان ہی نہیں دھرتا تھا اور اپنے علاوہ باقی سب کو منحرف سمجھتا تھا۔ اس گروہ کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس گروہ نے اسلامی انقلاب کے عظیم مفکر شہید مطہری کو بھی ضدِ انقلاب کہہ کر شہید کر دیا۔
اس سے پتہ چلا کہ انقلاب  اور تبدیلی کے زاویے سے  افراد کی ظاہری حرکت اوراُن کے  نعرے  حقیقی انقلابی ہونے کا معیار نہیں۔  اسی طرح اقوام اور تنظیموں کی ظاہری حرکت اور فعالیت بھی اُن کی انقلابی زندگی کی غماض نہیں ۔ حرکت کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اُن کی حرکت کی سمت کیا ہے۔چونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص زندگی کی آغوش میں بیٹھا ہوا ہو، لیکن موت کی طرف حرکت کر رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص موت کے سائے میں جی رہا ہو، لیکن زندگی کی طرف گامزن ہو۔ 
جیسے بہت سارے لوگ حضرت امام خمینی کے گرد جمع تھے لیکن حقیقت میں شعورِ  انقلاب نہیں رکھتے تھے ویسے ہی عبداللہ ابن ابیّ جیسے بہت سارے لوگ بظاہر پیغمبر اسلام (ص) کے پرچمِ حیات کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہے تھے، لیکن وہ پیغمبرِ اسلام کے ویژن کو نہیں سمجھتے تھے اور  ان کی حرکت کی  سمت حیات و نجات کے بجائے  ہلاکت و بدبختی تھی۔ 
دوسری طرف حضرت سلمانؓ و ابوذر ؓ کی مثالوں کو سامنے رکھئے۔ ایسے  لوگ ظہورِ اسلام سے پہلے ہلاکت و بد بختی کے سائے میں  سانس لے رہے  تھے، لیکن ان کی حرکت کا  قبلہ  سچائی اور ایمان   تھا۔ بظاہر دونوں طرف حرکت تھی، اسی حرکت نے عبداللہ ابن ابیّ کو ہلاکت تک پہنچا دیا اور اسی حرکت نے سلمان (ر) و ابوذر (ر) کو حیاتِ ابدی سے ہمکنار کیا۔
یہاں پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ جو طاقت افراد اور تنظیموں  کی حرکت کو  انقلاب کےراستے پر گامزن رکھتی ہے  اور انقلاب  کی سمت  یا قبلہ تبدیل نہیں ہونے دیتی وہ  نظریاتی تربیت ہے۔ اگر کہیں پر نظریاتی تربیت کا عمل رک جائے یا کھوکھلا ہوجائے تو وہ سوسائٹی یا کمیونٹی   بھنور میں گھومنے والی اس کشتی کی مانند ہوتی ہے، جو جتنی تیزی سے حرکت کرتی ہے، اتنی ہی ہلاکت سے قریب ہوتی جاتی ہے۔چنانچہ  انقلابیوں کیلئے  ہر انقلابی قدم  اٹھانے اور  دوسروں کو سیدھا کرنے سے پہلے  لحظہ بہ لحظہ  اپنے آپ کو سیدھا کرنا  اور سیدھا رکھنا ضروری ہے۔  ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو  اپنے  آپ میں، اپنے خاندان اور اپنے ملک کے اندرایک  اچھی اور مثبت تبدیلی کو لانا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ کیسے لائیں!۔ بسا اوقات یہی ناسمجھی ہی انقلاب کو گرداب بنا دیتی ہے۔



انسانی زندگی اور دعا

۱۵ شعبان کی شب نماز، عبادت، دعا و مناجات کی شب ہے۔  دعا کی اہمیت کے حوالے سے جامعۃ الرضا اسلام آبادکے طلبا نے آج ۱۳ فروری کو شام ساڑھے چھ بجے ایک آنلائن سیشن کا اہتمام کیا ہے۔ سیشن سے حجۃ الاسلام حبیب الحسن صاحب اور مولانا زوہیر حسن صاحب خطاب کریں گے جبکہ میزبانی کے فرائض  سبطین حیدر انجام دیں گے۔

  آپ اس سیشن میں علمائے کرام سے براہِ راست سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔سیشن کو جوائن کرنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے۔


بدھ، 12 فروری، 2025

اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی بمقابلہ انقلابی ڈاکٹرائن

ڈاکٹر نذر حافی:کیا اسلامی انقلاب فقط اہلِ ایران کی ہی ملکیّت ہے؟ کیا اب  اس انقلاب کو  ایرانیوں کی نجی پراپرٹی کے طور پر دنیا میں فروخت اور بر آمد کیا جانا چاہیے؟  کیاجس شخص نے  انقلابِ اسلامی کو سمجھنا  اور اس کے ثمرات کو حاصل کرنا ہو وہ ایرانیوں کو اس کا خراج ادا کرے اور اُن سے اکیڈمک طور پر اس انقلاب کو  اس کی اُجرت اورفیس کو ادا کر کے حاصل کرے؟ کچھ ایرانی یوں بھی سوچتے ہیں کہ   یہ انقلاب اہلِ ایران نے مفت میں برپا نہیں کیا اور نہ ہی اسے مفت میں کہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ اس کی تمام تر تھیوریز، تاریخ، کتابیں، لیکچرز، کلاسیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ  یہ سب  کمائی کا  بہترین منبع اور ذریعہ ہے۔


اسلامی انقلاب کو کمائی کا وسیلہ بنانے کی سوچ نے "  انقلاب کے قصیدہ خوانوں اور ذاکرین کے بھی ایک سرگرم طبقے " کو جنم دیا ہے۔ یہ ایسا طبقہ ہےکہ جو اسلامی انقلاب کے محض کھوکھلے   گُن گا کر اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی انقلاب بہت اچھا ہے، بہترین ہے، خدا والوں کا انقلاب ہے، متقی لوگوں کا انقلاب ہے، دینداری کا مرقع اور مجسمہ ہے۔۔۔ بس سالہاسال سے انقلاب کے بارے میں ان کی تحلیل یہی ہے۔ یہ بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؓ کے محاسن بھی کچھ ایسے بیان کرتے ہیں کہ  جیسے آپ کی داڑھی بہت نورانی تھی، اوّل وقت نماز پڑھتے تھے، نامحرم کو نہیں دیکھتے تھے، دعا ، توسل اور مناجات پر یقین کامل رکھتے تھے، لوگ آپ سے محبت کرتے تھے، آپ عوام کا بہت خیال رکھتے تھے،آپ   تندور کی   لائن میں کھڑے ہو کر روٹی لیتے تھے۔۔۔وغیرہ وغیرہ

مذکورہ بالا لوگوں نے اسلامی انقلاب پر پہرہ بٹھایا ہوا ہے۔ گویا اسلامی انقلاب کی وہی حدودوقیود اور ماہیت و شکل ہے جو ان کی بیان کردہ ہے۔ یہ جسے چاہتے ہیں اُس پرانقلابِ اسلامی کی مخالفت اور دشمنی کی مہر بھی لگا دیتے ہیں اور خود اپنے محدود و تنگ ذہن کےمطابق   اسلامی انقلاب کو پیش کرتے ہیں۔اسلامی انقلاب کی  درست تبیین اور تفہیم  میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی انقلاب کے  یہ کم فکر قصیدہ گو  اور ذاکرین خود ہیں۔

دوسرا بڑا گروہ جس نے اسلامی انقلاب کو فقط ایران اور اہلِ تشیع تک محدود رکھنے کی ٹھان رکھی ہے،یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو عرب ممالک اورخلیجی ریاستوں کی قصیدہ خوانی کو اپنے ایمان کا حصّہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے افرادلوگوں کو یہ بتاتے ہی نہیں کہ اسلام بذاتِ خود سیاست و  انقلاب ہے۔ اسلام مسلمانوں کو  کسی بھی بادشاہ یا آمر کی اطاعت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ گروہ لوگوں کو بادشاہوں کا   غلام رکھنے کیلئے اسلامی انقلاب کو  ایرانی انقلاب اور شیعہ انقلاب کہہ کر اسلام کے انقلابی پیغام کو عوام سے مخفی رکھتا ہے۔

ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ فرض کیجئے یہ انقلاب اگر ایران کے بجائے سعودی عرب میں آجاتا  تو  پھر  عرب بادشاہوں پر کیا گزرتی؟  اگرسعودی عرب میں یہ انقلاب جمہوریت لے آتا تو  تو کیا پھر بھی اس انقلاب سے اسی طرح دوری اختیار کی جاتی؟  کیا اسلامی انقلاب میں ایسی کوئی خاص بات ہے کہ جو عرب ممالک کے  مسلمانوں  کیلئے قابلِ عمل، مفید اور نجات بخش ہے؟

تیسرا گروہ جو اسلامی انقلاب کے ڈاکٹرائن  کی تبیین و تفہیم کے راستے میں رکاوٹ ہے وہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو سیاسیات، سماجیات اور علمِ دین کی کلیات سے محروم ہونے کے باوجود سیاسی، سماجی اور دینی طور پر کوئی خدمت انجام دینے کا جذبہ اپنے سینے میں رکھتے ہیں۔ یہ اپنے تئیں  ساری کی ساری سوشل سائنسز اور سارے کے سارے دین کو سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اسلام میں تو جمہوریت ہے ہی نہیں ، اس پر وہ اعلانِ غدیر کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں  کہ اسلام میں تو صرف تھیوکریسی ہے اس پر وہ سقیفہ بنی ساعدہ کےواقعہ کو دلیل بناتے ہیں۔ ان میں سے بعض    اسی سطحی سوچ کے عین مطابق ایران کے اسلامی انقلاب یا ولایت فقیہ کو بھی تھیو کریسی ہی کہتے نظر آتے ہیں۔

مذکورہ بالا تینوں طبقات کی یہ کوشش ہے  کہ اسلامی انقلاب   در اصل اہلِ ایران اور اہلِ تشیع  کی ذاتی ملکیت ہے اور اسے انہی تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ ہر جگہ اس پر ایران اور اہلِ تشیع کی مہر لگا کر  پیش کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر مسلمان اسے سمجھنے، پرکھنے ، اس پر تحقیق  کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش نہ کریں۔  یہ تینوں گروہ بظاہر ایک دوسرے کے قریب نظر نہیں آتے  لیکن درحقیقت یہ اپنی طاقت کو ایک ہی مشترکہ ہدف کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

ان  کے مقابلے میں ایک چوتھا گروہ بھی ہے۔ یہ ایسا گروہ ہے جو اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی یا مخالفت کے بجائے بال کی کھال اتارنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی انقلاب کو ایرانی انقلاب سمجھنا در اصل اسلامی انقلاب  کے ڈاکٹرائن  کو نظر انداز کرنا ہے جو کہ   عینِ اسلام  کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس گروہ کے مطابق   اسلام کی ساری تعلیمات سارے مسلمانوں کی پراپرٹی ہیں۔  اگر ان  تعلیمات پر کسی وقت میں اہلِ ایران یا اہلِ تشیع نے عمل کیا ہے  تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیمات اب اہلِ ایران یا اہلِ تشیع  کی ذاتی ملکیت بن گئی ہیں۔اس چوتھے گروہ کے مطابق اسلامی انقلاب کو  قرآن و سُنّت  کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ جب ہم اسلامی انقلاب کو ایران یا اہلِ تشیع کی پراپرٹی کے بجائے اسلامی تعلیمات کا نتیجہ سمجھتے ہیں تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ انقلاب سارے جہانِ اسلام کیلئے یکساں طور پر وجود میں آیاہےاور اس سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو سیراب ہونا چاہیے۔ بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؓ نے اسلامی معارف سے جو انقلاب کشید کیا ہے اُس کی  بنیادی   اور نظرانداز شُدہ ڈاکٹرائن  کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

الف۔ دینِ اسلام جنتر منتر اور تنتر کا دین نہیں

حضرت امام خمینی ؒ نے اس انقلاب کے ذریعے مسلمانوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ دعائیں، تقوی اور معنویت اس لئے نہیں کہ مسلمان کمزور ہو جائیں، بلکہ یہ سب اس لئے ہے کہ مسلمان جسمانی و روحانی طور پر مضبوط ہو جائیں۔مسلمان جب خدا سے توسل اور دعا کاراستہ اختیار کریں اور اُس کا تقوی اپنائیں تو اُن کا خدا سے یہ قرب اُن کے عمل سے براہِراست نظرآئے۔  حالات کے سدھار اور معاشرے کو سنوارنے کیلئے دینِ اسلام  دیگر ادیان کی مانند  جنتر منتر اور تنتر کی طرز پر  لوگوں کی زندگی کو نہیں ڈھالتا بلکہ دعا و مناجات کے ساتھ انہیں معارفِ دین کو سمجھنے، بصیرت حاصل کرنے، جدید تعلیم حاصل کرنے،  رزقِ حلال کمانے، مہارتیں اور ہُنر سیکھنے  اور زمانے کی  شرائط کے مطابق امربالمعروف و نہی از منکر کرنے  کو لازمی قرار دیتا ہے۔

ب۔ دینِ اسلام میں بادشاہت اور تھیوکرسی دونوں کی گنجائش نہیں

امام خمینی ؒ نے آمروں اور بادشاہوں کی اطاعت نیز  تھیوکریسی کو بھی خلاف دین ٹھہرایا۔ آپ کے ہاں طاقت کے بل بوتے لوگوں سے اپنی اطاعت کروانا جس  طرح بادشاہوں کیلئے حرام ہے ویسے ہی کسی  دینی طبقے کا بھی لوگوں سے زبردستی اپنی اطاعت کرانا خلاف اسلام ہے۔ اگر دیندار لوگ بھی عاوم کی رضامندی اور لوگوں میں  مقبولیت کے بغیر اُن سے اطاعت کروانی شرو ع کریں تو یہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی انقلاب آنے کے بعد ایران میں چاہے جو بھی ہو جائے وہاں ہمیشہ انتخابات  بروقت ہوتے ہیں اور عوام سے ووٹ لئے بغیر حکومت کرنے یا حکومت کے وجود میں آنے کا کوئی تصوّر ہی نہیں۔  حتی کہ اعلی ترین حکومتی منصب "ولی فقیہ" کے انتخاب کیلئے جو ۸۸ رکنی  کمیٹی﴿مجلسِ خبرگان﴾ موجود ہے اُس کے اراکین کا انتخاب بھی عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ کوئی شخص چاہےجتنا بھی دینی تعلیم میں ماہر ہو، حافظ قرآن، محدث اور مجتہد ہو لیکن اگر عوام اُسے پسند نہیں کرتے تو وہ مجلسِ خبرگان کا ممبر نہیں بن سکتا۔  یہ اٹھاسی افراد عوام کی طرف سے بذریعہ ووٹ منتخب ہوتے ہیں تاکہ وہ عوام کی طرف سے مراجع کرام میں سے اعلم اور اصلح شخصیت کو ملکی قیادت کیلئے منتخب کریں۔پس اسلامی انقلاب نے بادشاہت اور تھیوکریسی دونوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا ہے۔

ج۔ اسلام دینِ جمہوریت ہے

حضرت امام خمینی سے پہلے آمروں، سلطانوں اور بادشاہوں نے مسلمانوں کے اندر یہ غلط عقیدہ پھیلا رکھا تھا کہ دینِ اسلام میں تو عوام کی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہیں، لہذا آمریّت، بادشاہت اور  ملوکیت ہی اسلامی نظامِ حکومت ہے، لوگ بادشاہوں کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور انہیں ظِلّ الہی اور خلیفہ کہتے تھے۔ حضرت امام خمینیؒ نے مسلمانوں کو اُن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ آپ نے عوام کو یہ شعور دیا کہ انبیائے کرام کی اطاعت اس لئے لازم ہے چونکہ وہ خدا کے نمائندے ہیں جبکہ بادشاہ اور سلاطین تو اپنی طاقت کے بل بوتے پر برسرِ اقتدار آتے ہیں اور مسلمانوں کے بیت المال اور وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ یہ سلاطین خود تو عیاشیاں کرتے اور محلات میں زندگیاں بسر کرتے ہیں جبکہ عام مسلمان فقر و پسماندگی میں کچلے جاتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ  فقروپسماندگی میں زندگی گزارنے کے بجائے اقتدار کیلئے اپنے درمیان سے ایسے  صالح اور انسان دوست اشخاص کا انتخاب کریں جو ان کے وسائل  اور ان کے بیت المال کو  اپنی عیاشیوں اور رنگ رلیوں کے بجائے مساوی طور پر  اپنے عوام  پر خرچ کریں۔

حضرت امام خمینی نے جو انقلاب برپا کیا ہے اُس کے تناظر میں اسلامی جمہوریّت سے مراد "مسلمانوں کی تائید سےخدا کے ایسے   صالح اور بابصیرت افراد کی حکومت ہے  جو مسلمانوں کے وسائل اور بیت المال کو قربِ خداوندی کیلئے اس طرح صرف کرے  تاکہ لوگ دنیاوی و دینی سعادت سے بہرہ مند ہوں" ۔اگرآپ مذکورہ تعریف پر توجہ دیں تو یہی اسلامی جمہوریت کی حقیقی و جامع  تعریف بنتی ہے بلکہ ہمارے نزدیک  خود جمہوریت کی مثالی تعریف ہی یہی ہے۔

د۔ فرقے نہیں اسلام اہم ہے

اسلامی انقلاب نے  مسلمانوں کی کہنہ ذہنیت کو تبدیل کیا۔ اس سے پہلے مسلمان اپنی فرقہ وارانہ شناخت اور الگ الگ تاریخ پر فخر کرتے تھے۔ حتی کہ فرقہ وارانہ مناظروں کے باعث باہم حسداور کینہ بھی رکھتے تھے۔  اسلامی انقلاب نےاس دیرینہ نفرت کے ماحول کو پہلی مرتبہ محبت اور اخوّت کے قالب میں ڈھالا۔  تمام فرعی اختلافات کی فراخدلی کے ساتھ جمع بندی کی۔ربیع الاوّل میں ہفتہ وحدت سے لے کر مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر  ایک عالمی اسلامی موقف اختیار کیا۔ اگر اسلامی انقلاب کسی بھی جہت سے ایرانی ہوتا تو  انقلابیوں کے پاس ماضی میں بھی یہ سنہری موقع تھا اور آج بھی ہے کہ وہ  اسرائیل و امریکہ و برطانیہ سے مل کر اپنی حریف عرب ریاستوں کو تاریخ کے خسدان میں پھینک دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اسلامی انقلاب ہی ہے جس نے انقلابیوں کو ہمیشہ  ایسی منفی سوچ سے محفوظ رکھا ہے اور تاریخ میں  یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی انقلاب محض شیعہ یا ایرانی نہیں ہے۔ اس کی وسعت میں تمام عالم اسلام سمایا ہوا ہے اور اس کا وژن تمام اسلامی ممالک و اسلامی مسلاک  کیلئے یکساں ہے۔

ر۔حضرت امام مہدی  کا ظہور ہمارے حضور پر منحصر ہے

اسلامی انقلاب سے پہلے صدیوں سے مسلمان  یہ عقیدہ رکھتے چلے آ رہے تھے کہ جب امام آئیں گے تو وہ خود سارے حالات ٹھیک کریں گے۔ اہل تشیع تو یہ باور کرتے تھے  کہ حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور سے پہلے اسلامی حکومت کے لئے قیام کرنا  ہی حرام ہے۔ برائیوں کو عام ہونے دو ، جب برائیاں عام ہونگی تو تب امام آئیں گے۔  اسلامی انقلاب نے مہدویت کے فرسودہ نظریات کو کاہل اور سست لوگوں کے نظریات قرار دیا اور یہ منوایا کہ اگر لوگ خود  بادشاہوں اور خائن حکمرانوں کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو امام مہدیؑ کا ظہور بھی نہیں ہو گا۔   جنہیں  برائیوں کے عام ہونے  کا انتظار ہے وہ در اصل دجال کے منتظر ہیں۔  امام مہدی ؑ کے منتظرین وہ ہیں جو  جبرواستبداد اور منکرات کےخلاف قیام کرنے والے ہیں۔گویا حضرت امام مہدی  کا ظہور ہمارے حضور پر منحصر ہے۔ ہم جس قدرمیدان میں حاضر رہیں گے امام کا ظہور اتنا ہی قریب ہوگا۔

س۔ اختلاف اور تضاد میں فرق  ہے

اسلامی انقلاب نے مسلمانوں کو اپنے باہمی مسائل چاہے علمی ہوں،  سیاسی ہوں یا فقہی و معاشرتی۔۔۔ انہیں اختلاف کی حد تک محدود رکھنا سکھایا ہے اور اس اختلاف کا احترام کرتے ہوئے اُسے تضاد کی شکل دینے سے گریز کیا ہے۔ اس کی واضح شکل اسلامی جمہوریہ ایران میں اہلِ سُنّت کی مذہبی و سیاسی آزادی ہے۔ وہاں اہلِ سُنّت کو وہ تمام سیاسی و دینی حقوق حاصل ہیں جو انہیں  افغانستان، سعودی عرب و دیگر عرب ریاستوں میں حاصل نہیں۔  مسائل و مشکلات کو اختلافات کی حد تک رکھنے اور تضاد میں تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے آج  ایران بغیر کسی ایٹم بمب کے ایک مضبوط علمی، عسکری اور خطے کی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع کی پراپرٹی سمجھنا دراصل جہانِ اسلام کو اُس کے ایک گرانبہا خزانے سے محروم کرنا ہے۔ اسلام صرف اہلِ ایران کو  استبداد، آمریت، استعمار اور بادشاہت سے نجات دلانے کیلئے نہیں آیا اور نہ ہی اسلام صرف اہلِ تشیع کے اندر آزادی، استقلال اورقیام کی روح پھونکنے کی خاطرظہور پذیر ہوا ہے۔ پس اسلام کی آزادی بخش اور عادلانہ و منصفانہ تعلیمات سارے عالمِ اسلام اور عالمِ بشریت کیلئے ہیں۔ سو یہ ضروری ہے کہ لوگ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع سے جدا کر کے پرکھیں اور اسے  ایران یا اہل تشیع سے مخصوص نہ سمجھیں۔ جس طرح دینِ اسلام بے شک منطقہ عرب میں آیا لیکن اس کی تعلیمات صرف عربوں یا  اہلِ مکہ و مدینہ سے مخصوص ہونے  کے بجائے  آفاقی اور عالمی ہیں اسی طرح اسلامی انقلاب بے شک ایران میں آیا ہے لیکن اس کے نظریات و ڈاکٹرائن  صرف اہلِ تشیع یا ایران  سے مخصوص ہونے کے بجائے سارے مسلمانوں اور سارے انسانوں کی ملکیت ہیں اور سب کو انہیں سمجھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یاد رکھئے کہ  کہیں بھی انقلاب پہلے دن نہیں آتا لیکن ہر انقلاب کا ایک پہلا دن ہوتا ہے۔ جس دن ہم نے اسلامی انقلاب کو آزادانہ طورپر سمجھنے کی کوشش شروع کر دی وہی دن ہمارے ہاں انقلاب کا پہلا دن ہوگا۔

 


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...