Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
جمعہ، 28 فروری، 2025
درایة الحدیث
ایک میسج پر قائد کی کال
بدھ، 26 فروری، 2025
آیت اللہ سید عز الدین حکیم کی جامعۃ الرضا ؑ میں آمد
ہم اپنے عہد پر قائم ہیں
پیر، 24 فروری، 2025
آہ! اثر چوہان
اتوار، 23 فروری، 2025
شہید حسن نصراللہ کا تربیتی پہلو
جمعہ، 21 فروری، 2025
وفاق المدارس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
بانی پاکستان کی شادی کا دلچسپ واقعہ
عالم دین مضبوط تو معاشرہ مضبوط
جمعرات، 20 فروری، 2025
مولانا مودودی کے نظریہ خلافت و ملوکیت کا جائزہ

بدھ، 19 فروری، 2025
مجاہد بھائی
اتوار، 16 فروری، 2025
اہلِ تشیع اور چار اہم غلط فہمیاں
ڈاکٹر نذر حافی:
ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔ پہلے ہم حقائق تسلیم کرنے پر راضی تو ہو جائیں؟ گذشتہ چودہ سو سالوں میں حضرت علیؑ اور اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں ، گالیوں، مغالطوں اور فتووں تک کا استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ان کے خلاف تلوار کا استعمال، گرفتاریوں اور ٹارچر سیلوں، بہمیت،ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔ ہر طرح کا جبر روا رکھا گیا۔ مغالطوں کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت عمار یاسر ؓ کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کے قاتل خود حضرت علیؑ ہیں، چونکہ وہی انہیں میدان میں لے کر آئے ہیں اور شیعیانِ علی کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اس لئے روتے اور ماتم کرتے ہیں، چونکہ انہوں نے خود امام حسین ؑ کو شہید کیا ہے۔
آج بھی آپ سروے کر لیں۔ کسی دور دراز کے ایسے گاوں میں چلے جائیں، جہاں پرائمری سکول بھی نہ ہو، وہاں لوگوں سے پوچھیں کہ شیعہ کون ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ وہاں بھی لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ شیعہ کافر ہیں، یہ دس محرم کو خون پیتے ہیں، شامِ غریباں میں۔۔۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح نسل در نسل ان کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے۔ یہ سب ہونے کے باوجود میرے جیسے ایک سوچنے سمجھنے والےانسان کیلئے یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی صحابہ کرام کا ایک گروہ شیعیانِ علی کہلاتا تھا یا نہیں؟۔
اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں اور مغالطات سے کئی پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی متاثر ہیں۔ چنانچہ مجھے کئی مرتبہ یہ جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اہلِ تشیع کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اور ان کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟کہانیوں کے بجائے جب میں نے شیعیانِ علی کی ابتدا کا سراغ لگانا شروع کیا تو ابو حاتم رازی[1]، ابن خلدون[2]، محمد کرد علی[3]، صبحی صالح [4]، عبدالله عنّان [5] سمیت بہت سارے اہل سنت علماu اور دانش مندوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ کے زمانے میں ہی متعدد صحابہ کرام ؓ کو شیعیانِ علی کہا جاتا تھا۔
انہیں شیعیانِ علی کہنے کی وجہ یہ تھی کہ بہت سارے صحابہ کرام ؓ اُسی زمانے میں یہ جان گئے تھے کہ پیغمبرِ اسلام ؐ کی عدم موجودگی میں صرف حضرت علی ؑ ہی مسلمانوں کے سرپرست اور ولی ہیں۔بطورِ خاص حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت سلمان فارسیؓ، مقداد بن اسوؓد، حضرت مالِكِ بنِ نوَيرَة، جابر بن عبداللهؓ، ابی بن کعبؓ، ابوالطفیل عامر بن واثلهؓ، عباس بن عبد المطلبؓ اور ان کی تمام اولاد، عمار یاسرؓ، ابو ایوب انصاریؓ، أبى سعید الخدرى، وحذیفة بن الیمان، خزیمة بن ثابت، خالد بن سعید بن العاص، قیس بن سعد بن عُبادہ خَزرَجی کو شیعیان علیؑ میں سے جانا جاتا تھا۔[6] اب میرے لئے سوال یہ پیدا ہوا کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی شیعیانِ علی موجود تھے اور میدانِ غدیر میں جب امام نبیؐ نے بھی من کنت مولاہ فھذا علی مولا کا اعلان کر دیا تھا تو پھر سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے وقت حضرت امام علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ میں سے کسی کو بھی نہ بلانے اور ان سے مشورہ نہ کرنے سے خود نبی ؐ کی سیرت کی تعمیل ہوئی یا عدمِ تعمیل؟
سیرت النبیؐ کی عدمِ تعمیل سے انحراف نے مسلمانوں کے درمیان جس خلا کو ایجاد کیا اُس خلا کو پُر کرنے کیلئے بعد والے مسلمانوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں؟یہ ہمارے سامنے ہے کہ نبیؐ کے بعد مسلمانوں میں اربابِ اقتدار کے خلاف ایک مستقل اور مزاحمتی تحریک نے جنم لیا۔ کیا یہیں سے فرقہ واریت اور فرقہ پرستی کا آغاز نہیں ہوا؟ اسکے بعد علیؑ، آلِ علیؑ اور شیعیانِ علیؑ کے ساتھ جو ہوا اُس کا خلاصہ ۶۱ ھجری میں معرکہ کربلا کی صورت میں عیاں ہے۔
کربلا کے بعد شیعیانِ علی ایک گروہ سے ایک تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ ایک ایسی تحریک جو کھل کر بادشاہت و ملوکیت کے خلاف تھی۔ اب اس تحریک کو ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ پروپیگنڈے، تلوار اور قید و بند کا سامنا تھا۔میں نے اس حقیقت سے انکار کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے اس حقیقت سے انکار ممکن نظر نہیں آرہا کہ تاریخ ِاسلام اور اہلِ تشیع ہم عمر ہیں۔ نبی اکرمؐ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی شیعیانِ علیؑ کہلانے والے صحابہ کرام در اصل نبی اکرمؐ کی احادیث اور تاکید کی روشنی میں حضرت امام علی ؑکی ولایت و امامت پر قائم رہے۔ جب سقیفہ بنی ساعدہ کا مسئلہ پیش آیا تو اسی گروہ نے اربابِ اقتدار کے مدِّمقابل مقاومت کی۔ اگرچہ مزاحمت و مقاومت کرنے والے مسلمانوں کے کئی گروہ تھے لیکن اُن سب میں شیعیانِ علی سب سے زیادہ سخت جان واقع ہوئے چونکہ باقی سب کو کافر و مرتد کہہ کرانہیں اسلام سے خارج کہہ کر ان کا قلعہ قمع کر دیا گیا۔ ویسے تو اہلِ تشیع کو کافر و مشرک اور مرتد کہنے کیلئے ہزاروں غلط بیانیوں اور لاکھوں غلط فہمیوں کا سہارا لیا گیا ہےلیکن ہم اس وقت اہلِ تشیع کے صرف عقیدہ امامت کے بارے میں پھیلائی گئی چار غلط فہمیاں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ 
پہلی غلط فہمی:۔ اہلِ تشیع کے بارے میں یہ غلط فہمی مشہور ہے کہ شیعہ اپنے اماموں پر فرشتہ وحی کے نازل ہونے کے معتقد ہیں اور اُن کے بارہ امام نعوذ باللہ بارہ نبی ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
غلط فہمی کا جواب:۔ ختمِ نبوّت کا مطلب ہے کہ اب نبوّت ختم ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیامت تک اُمّت کی ہدایت کی ضرورت بھی ختم ہوگئی ہے۔ یقیناً ہدایت کی ضرورت باقی ہے۔ اس ہدایت کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اہلِ سُنّت ختم نبوّت کے بعد خلافت کے قائل ہیں۔ یہ خلافت کیا ہے۔؟
اہلِ سُنّت کی طرف سے خلافتِ راشدہ دراصل ختم نبوّت پر مہر ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اب خلیفہ ہدایت کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب خلافت کا سلسلہ شروع کیا گیا تو حضرت علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ کو اُس میں شامل نہیں کیا گیا، اس لئے شیعہ کے ہاں ختمِ نبوّت کے بعد اُمت کی ہدایت کیلئے خلافتِ راشدہ کے بجائے امامت در اصل ختمِ نبوّت کی مہر ہے۔ اہلِ تشیع کے ہاں امامت کامطلب یہ ہے کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اور امت کی ہدایت اب امام نے کرنی ہے جوکہ آخری نبی کا خلیفہ اور امت کا امام ہے۔
لہذا یہ کہنا کہ اہلِ تشیع کے ہاں امام نعوذ باللہ نبی ہوتے ہیں، یہ سراسر یا تو لاعلمی ہے، یا غلط فہمی اور یا پھر تعصب۔
دوسری غلط فہمی:
شیعہ بارہ اماموں کے قائل ہیں، اہل تشیع کے مطابق یہ بارہ امام آلِ رسولؐ یا قریش سے ہونگے، اب قیامت تک یہی نسل انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی، یہ تو نسل پرستی ہے۔ اب تو نسلیں بھی مخلوط ہیں۔ لہذا اگر پیغمبرِ اسلام نے یہ فرمایا ہے کہ میرے جانشین قریش میں سے ہونگے یا میرے اہل بیت میں سے ہوں گے تو کیا پیغمبر ؐ یہ نہیں جانتے تھے کہ قیامت تک تو میری نسل بھی مخلوط ہو جائے گی۔
غلط فہمی کا جواب: پیغمبر نے اپنے اہل بیت ؑ کو اس لئے اپنے بعد ہدایت کا مرکز قرار دیا کہ آپ نے اپنے اہلِ بیت کی تربیت خود کی۔ اُس وقت لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے۔ لہذا پیغمبر انہیں بتا رہے تھے کہ دین میرے اہلِ بیت سے سیکھنا۔ نبی ؐ نے پہلے حضرت امام علیؑ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ کو خود پالا، ان کی تربیت کی، پھر اُن کے بچوں کو بھی خود پالا اور تربیّت کی۔ یہ پیغمبر کی تربیّت کے شہکار تھے۔ اب یوں نہیں ہے کہ قیامت تک ان کی نسل سے معصوم امام پیدا ہوتے رہیں گے۔صرف حضرت امام علیؑ، ان کے دو بیٹے جو رسولؐ کی آغوشِ تربیت میں پلے اور آگے صرف امام زین العابدینؑ جو امام حسین کی تربیت کا ثمر ہیں اور آگے صرف امام محمد باقر جو کہ امام زین العابدین ؑ کی تعلیم و تربیّت کا عکس ہیں اور آگے صرف امام جعفر صادقؑ۔۔۔۔ یعنی اُسی دور میں بارہ کے بارہ امام جو کہ صدرِ اسلام، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے عہد میں مکمل ہوگئے۔
اہلِ تشیع کے ہاں صرف یہ بارہ امام ایسے تربیّت یافتہ ہیں کہ معصوم کہلانے کے حقدار ہیں اور قیامت تک میزانِ عمل ہیں۔ نہ کہ جو شخص بھی یہ کہے کہ میں آلِ رسول ہوں، وہ امام یا معصوم ہے۔ حتی کہ ان بارہ اماموں کے سگے بہن بھائی بھی قیامت تک کیلئے معیارِ قرآن و سُنّت، امام یا معصوم نہیں ہیں۔
پس پیغمبر ؐ کی حدیث کی روشنی میں بارہ امام اوائلِ اسلام میں ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ قیامت تک کوئی آلِ رسول سے ہو یا کسی بھی دوسری نسل سے، عرب میں پیدا ہو یا عجم میں، وہ غیر معصوم ہے۔ وہ محتاج ہے کہ اپنے اعمال کو قرآن و سُنّت کے مطابق انجام دے۔ اس کیلئے اُسے ان معصوم اماموں سے رہنمائی لینی ہوگی کہ میرے اعمال درست ہیں یا نہیں۔ اب جو لوگ پیغمبرِ اسلام ؐ کی حدیث کے مطابق آج تک اپنے بارہ امام پورے نہیں کرسکے، ان کیلئے یہ مسئلہ ہے، وہ اپنے اماموں کی معرفت اور شناخت قائم کریں۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے: "میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپﷺ نے فرمایا: "یكون بعدی اثنا عشر امیراً۔۔۔ كلهم من قريش۔"، "میرے بعد بارہ امیر اور خلیفہ ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے۔" یہ حدیث اسی صورت میں شیخ صدوق کی الامالی اور الخصال میں بھی نقل ہوئی ہے اور دوسرے شیعہ منابع میں بھی۔
محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری ؒ نے صحیح مسلم میں آٹھ مرتبہ یہ حدیث مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ بطورِ نمونہ حضرت جابر بن سمرہ ؓسے انہوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "لا یزال هذا الامر عزیزاً الی اثنی عشر خلیفهً۔۔۔ كلهم من قریش۔" امامت کا یہ امر باقی ہے اور بارہ خلفاء کے ذریعے ہمیشہ قائم و دائم رہے گی اور وہ سب خلفاء قریش سے ہیں۔[11]
اسی طرح فقیہ، محدث اور علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی المعروف امام نوی نے اپنی شرح میں بھی اس حدیث کو لکھا ہے۔[12] مسند أحمد میں صحاح ستہ کے ثقہ راوی اور عظیم محدث امام شعبی نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ہمارے لیے قرآن پڑھ رہے تھے۔
ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے کہا: "کیا آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے پوچھا ہے کہ کتنے افراد اس امت پر خلافت کریں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم نے پوچھا اور آپﷺ نے جواب دیا: بارہ افراد بنی اسرائیل کے دینی پیشواؤں کے تعداد کے برابر۔ [13] یہ حدیث کئی محدثین نے اپنی کتابوں میں متعدد مرتبہ لکھی ہے۔ ہم بطورِ نمونہ چند اہم کتابوں کے صرف ایک ایک مقام کا ذکر کر رہے ہیں۔مثلاً یہ حدیث کنزالعمال،[14] صحیح ترمذی، [15] مسند احمد، [16] اور محدث امام حاکم نیشاپوری ؒنے المستدرك على الصحيحين [17] میں بھی نقل ہوئی ہے۔
بعض روایات میں بارہ اماموں کے نام بھی بیان کئے گئے ہیں۔ خوارزمی نے مقتل الحسین میں حضرت سلمان فارسی ؓسے نقل کیا ہے کہ: "ہم رسول خداﷺ کی خدمت میں شرفیاب ہوئے جبکہ حسین (ع) آپﷺ کی آغوش میں تھے، آپﷺ نے ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا اور فرمایا: "بے شک آپ سیّد ابن سیّد ہیں، بے شک آپ امام ابن امام ابوالآئمہ ہیں، آپ حجت ہیں اور نو حجتوں کے باپ، جو آپ کی صلب سے ہیں، جن میں آخری قائم آل محمدﷺ ہیں۔"[18] معروف اہلِ سُنّت عالم دین، امام صدر الدین ابراہیم بن محمد بن مؤید جُوینی شافعی (م 722ھ) نے فرائد السمطین میں نقل کیا ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: ہمیں اپنے جانشین سے آگاہ کریں، کیونکہ کوئی بھی ایسا پیغمبر نہیں ہے، جس کا کوئی جانشین نہ ہو اور ہمارے نبی نے یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین قرار دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: "بے شک میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ علی بن ابی طالبؑ ہیں اور ان کے بعد ان کے دو بیٹے حسنؑ اور حسین ؑاور ان کے بعد نو مزید امام ہیں، جو حسین بن علیؑ کی صلب سے ہیں۔ نعثل نے کہا: اے محمدﷺ! ان نو جانشینوں کے نام بھی میرے لیے بیان کریں اور رسول اللہﷺ نے ان کے نام بھی بیان فرمائے۔ اسی طرح ینابیع المودّہ میں بارہ اماموں کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔[19]
تیسری غلط فہمی:اہلِ تشیع کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پھیلائی گئی ہے کہ جو ہمارے اماموں کی پیروی نہیں کرتا، اُسے بے شک ہم دنیا میں مسلمان کہیں، لیکن وہ آخرت میں جہنم میں جائے گا۔
غلط فہمی کا جواب:اہلِ تشیع کے ہاں عقائد میں تقلید حرام ہے۔ آپ عقائد میں کسی بھی مجتہد یا مفتی کی تقلید نہیں کرسکتے۔ آپ کو عقیدے کیلئے تحقیق کرنی ہوگی۔ جس نے عقیدے کی تحقیق میں سُستی یا کوتاہی کی، وہ عنداللہ سزا کا مستحق ہے۔ لیکن جس نے اقرارِ توحید و رسالت کو تحقیق کے ساتھ انجام دیا اور اپنا عقیدہ تحقیق کی روشنی میں بنایا، پھر وہ جس بھی نتیجے پر پہنچا، تحقیق کے ساتھ، چاہے فقہ حنفی پر، مالکی پر، شافعی پر یا جعفری پر۔۔۔ جس پر بھی اور اُس نے اپنے یقین کے مطابق ٹھیک طریقے سےاپنے اعمال کو انجام دیا تو وہ عنداللہ اجروثواب پائے گا۔
خلاصہ: انسان اپنی تحقیق اور عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں جائے گا، نہ کہ دوسروں کی تحقیق اور عمل کے باعث۔
چوتھی غلط فہمی:شیعہ اپنے اماموں کے فرامین کو حدیث اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ اپنے اماموں کو نبی سمجھتے ہیں۔
غلط فہمی کا جواب:حدیث ایک علمی اصطلاح ہے، جس کا اطلاق سب سے پہلے نبی اکرمؐ کے فرامین پر کیا جاتا ہے۔ بارہ اماموں کو چونکہ نبیؐ نے اپنے جانشین اور اپنے خلفاء کہا ہے اور اُن کی سُنّت کو اپنی سُنّت کہا ہے۔ لہذا پیغمبرؐ کے فرامین کو حدیث کہنے کی اتباع میں بارہ اماموں کے فرامین کیلئے بھی وہی حدیث کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اب اس اصطلاح کو کھینچ کر یہ کہنا کہ شیعہ اپنے اماموں کو نبی کہتے ہیں، یہ ایک انتہائی حد سے بڑھا ہوا الزام ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر ایسا کہتے ہیں، وہ یقیناً خدا کے ہاں جوابدہ ہونگے اور جو نہیں جانتے، اُن کیلئے ہم نے واضح کر دیا ہے۔
ہمارے نزدیک اہلِ تشیع غلط ہیں یا درست، یہ فیصلہ کرنے میں ہر شخص آزاد ہے۔ البتہ کوئی بھی شخص جس بھی نتیجے پر پہنچے وہ حقیقت کی روشنی میں پہنچے نہ کہ مغالطوں، غلط بیانیوں اور الزامات و جھوٹ پر مبنی مفروضات پر اپنی رائے قائم کرے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔
جمعہ، 14 فروری، 2025
باپ
جمعرات، 13 فروری، 2025
نماز کی طرح انقلاب کا بھی قبلہ ہوتا ہے
انسانی زندگی اور دعا
آپ اس سیشن میں علمائے کرام سے براہِ راست سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔سیشن کو جوائن کرنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے۔
بدھ، 12 فروری، 2025
اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی بمقابلہ انقلابی ڈاکٹرائن
ڈاکٹر نذر حافی:کیا اسلامی انقلاب فقط اہلِ ایران کی ہی ملکیّت ہے؟ کیا اب اس انقلاب کو ایرانیوں کی نجی پراپرٹی کے طور پر دنیا میں فروخت اور بر آمد کیا جانا چاہیے؟ کیاجس شخص نے انقلابِ اسلامی کو سمجھنا اور اس کے ثمرات کو حاصل کرنا ہو وہ ایرانیوں کو اس کا خراج ادا کرے اور اُن سے اکیڈمک طور پر اس انقلاب کو اس کی اُجرت اورفیس کو ادا کر کے حاصل کرے؟ کچھ ایرانی یوں بھی سوچتے ہیں کہ یہ انقلاب اہلِ ایران نے مفت میں برپا نہیں کیا اور نہ ہی اسے مفت میں کہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ اس کی تمام تر تھیوریز، تاریخ، کتابیں، لیکچرز، کلاسیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ یہ سب کمائی کا بہترین منبع اور ذریعہ ہے۔
اسلامی انقلاب کو کمائی کا وسیلہ بنانے کی سوچ نے " انقلاب کے قصیدہ خوانوں اور ذاکرین کے بھی ایک
سرگرم طبقے " کو جنم دیا ہے۔ یہ ایسا طبقہ ہےکہ جو اسلامی انقلاب کے محض
کھوکھلے گُن گا کر اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ اس کے مطابق
اسلامی انقلاب بہت اچھا ہے، بہترین ہے، خدا والوں کا انقلاب ہے، متقی لوگوں کا
انقلاب ہے، دینداری کا مرقع اور مجسمہ ہے۔۔۔ بس سالہاسال سے انقلاب کے بارے میں ان
کی تحلیل یہی ہے۔ یہ بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؓ کے محاسن بھی کچھ ایسے بیان
کرتے ہیں کہ جیسے آپ کی داڑھی بہت نورانی
تھی، اوّل وقت نماز پڑھتے تھے، نامحرم کو نہیں دیکھتے تھے، دعا ، توسل اور مناجات
پر یقین کامل رکھتے تھے، لوگ آپ سے محبت کرتے تھے، آپ عوام کا بہت خیال رکھتے تھے،آپ
تندور کی لائن
میں کھڑے ہو کر روٹی لیتے تھے۔۔۔وغیرہ وغیرہ
مذکورہ بالا لوگوں نے اسلامی انقلاب پر پہرہ بٹھایا ہوا ہے۔
گویا اسلامی انقلاب کی وہی حدودوقیود اور ماہیت و شکل ہے جو ان کی بیان کردہ ہے۔
یہ جسے چاہتے ہیں اُس پرانقلابِ اسلامی کی مخالفت اور دشمنی کی مہر بھی لگا دیتے
ہیں اور خود اپنے محدود و تنگ ذہن کےمطابق اسلامی
انقلاب کو پیش کرتے ہیں۔اسلامی انقلاب کی درست تبیین اور تفہیم میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی انقلاب کے یہ کم فکر قصیدہ گو اور ذاکرین خود ہیں۔
دوسرا بڑا گروہ جس نے اسلامی انقلاب کو فقط ایران اور اہلِ تشیع
تک محدود رکھنے کی ٹھان رکھی ہے،یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو عرب ممالک اورخلیجی
ریاستوں کی قصیدہ خوانی کو اپنے ایمان کا حصّہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے افرادلوگوں کو یہ
بتاتے ہی نہیں کہ اسلام بذاتِ خود سیاست و انقلاب ہے۔ اسلام مسلمانوں کو کسی بھی بادشاہ یا آمر کی اطاعت کی اجازت نہیں
دیتا۔ یہ گروہ لوگوں کو بادشاہوں کا غلام رکھنے کیلئے اسلامی انقلاب کو ایرانی انقلاب اور شیعہ انقلاب کہہ کر اسلام کے
انقلابی پیغام کو عوام سے مخفی رکھتا ہے۔
ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ فرض کیجئے
یہ انقلاب اگر ایران کے بجائے سعودی عرب میں آجاتا تو پھر
عرب بادشاہوں پر کیا گزرتی؟ اگرسعودی عرب میں یہ انقلاب جمہوریت لے آتا تو تو کیا پھر بھی اس انقلاب سے اسی طرح دوری
اختیار کی جاتی؟ کیا اسلامی انقلاب میں
ایسی کوئی خاص بات ہے کہ جو عرب ممالک کے مسلمانوں کیلئے قابلِ عمل، مفید اور نجات بخش ہے؟
تیسرا گروہ جو اسلامی انقلاب کے ڈاکٹرائن کی تبیین و تفہیم کے راستے میں رکاوٹ ہے وہ ایسے
لوگوں پر مشتمل ہے جو سیاسیات، سماجیات اور علمِ دین کی کلیات سے محروم ہونے کے
باوجود سیاسی، سماجی اور دینی طور پر کوئی خدمت انجام دینے کا جذبہ اپنے سینے میں
رکھتے ہیں۔ یہ اپنے تئیں ساری کی ساری
سوشل سائنسز اور سارے کے سارے دین کو سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں
کہ اسلام میں تو جمہوریت ہے ہی نہیں ، اس پر وہ اعلانِ غدیر کو بطورِ دلیل پیش
کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اسلام میں
تو صرف تھیوکریسی ہے اس پر وہ سقیفہ بنی ساعدہ کےواقعہ کو دلیل بناتے ہیں۔ ان میں
سے بعض اسی سطحی سوچ کے عین مطابق ایران
کے اسلامی انقلاب یا ولایت فقیہ کو بھی تھیو کریسی ہی کہتے نظر آتے ہیں۔
مذکورہ بالا تینوں طبقات کی یہ کوشش ہے کہ اسلامی انقلاب در اصل اہلِ ایران اور اہلِ تشیع کی ذاتی ملکیت ہے اور اسے انہی تک ہی محدود رہنا
چاہیے۔ ہر جگہ اس پر ایران اور اہلِ تشیع کی مہر لگا کر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر مسلمان اسے سمجھنے،
پرکھنے ، اس پر تحقیق کرنے اور اسے اپنانے
کی کوشش نہ کریں۔ یہ تینوں گروہ بظاہر ایک
دوسرے کے قریب نظر نہیں آتے لیکن درحقیقت
یہ اپنی طاقت کو ایک ہی مشترکہ ہدف کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
ان کے مقابلے میں ایک
چوتھا گروہ بھی ہے۔ یہ ایسا گروہ ہے جو اسلامی انقلاب کی قصیدہ خوانی یا مخالفت کے
بجائے بال کی کھال اتارنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی انقلاب کو ایرانی
انقلاب سمجھنا در اصل اسلامی انقلاب کے ڈاکٹرائن کو نظر انداز کرنا ہے جو کہ عینِ
اسلام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس
گروہ کے مطابق اسلام کی ساری تعلیمات سارے مسلمانوں کی پراپرٹی
ہیں۔ اگر ان تعلیمات پر کسی وقت میں اہلِ ایران یا اہلِ تشیع
نے عمل کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ
وہ تعلیمات اب اہلِ ایران یا اہلِ تشیع کی
ذاتی ملکیت بن گئی ہیں۔اس چوتھے گروہ کے مطابق اسلامی انقلاب کو قرآن و سُنّت کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ جب ہم اسلامی
انقلاب کو ایران یا اہلِ تشیع کی پراپرٹی کے بجائے اسلامی تعلیمات کا نتیجہ سمجھتے
ہیں تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ انقلاب سارے جہانِ اسلام کیلئے یکساں طور پر وجود
میں آیاہےاور اس سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو سیراب ہونا چاہیے۔ بانی انقلاب حضرت
امام خمینی ؓ نے اسلامی معارف سے جو انقلاب کشید کیا ہے اُس کی بنیادی اور نظرانداز شُدہ ڈاکٹرائن کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
الف۔ دینِ اسلام جنتر منتر اور تنتر کا دین نہیں
حضرت امام خمینی ؒ نے اس انقلاب کے ذریعے مسلمانوں پر یہ ثابت
کیا ہے کہ دعائیں، تقوی اور معنویت اس لئے نہیں کہ مسلمان کمزور ہو جائیں، بلکہ یہ
سب اس لئے ہے کہ مسلمان جسمانی و روحانی طور پر مضبوط ہو جائیں۔مسلمان جب خدا سے
توسل اور دعا کاراستہ اختیار کریں اور اُس کا تقوی اپنائیں تو اُن کا خدا سے یہ
قرب اُن کے عمل سے براہِراست نظرآئے۔
حالات کے سدھار اور معاشرے کو سنوارنے کیلئے دینِ اسلام دیگر ادیان کی مانند جنتر منتر اور تنتر کی طرز پر لوگوں کی زندگی کو نہیں ڈھالتا بلکہ دعا و
مناجات کے ساتھ انہیں معارفِ دین کو سمجھنے، بصیرت حاصل کرنے، جدید تعلیم حاصل
کرنے، رزقِ حلال کمانے، مہارتیں اور ہُنر
سیکھنے اور زمانے کی شرائط کے مطابق امربالمعروف و نہی از منکر کرنے کو لازمی قرار دیتا ہے۔
ب۔ دینِ اسلام میں بادشاہت اور تھیوکرسی دونوں کی گنجائش نہیں
امام خمینی ؒ نے آمروں اور بادشاہوں کی اطاعت نیز تھیوکریسی کو بھی خلاف دین ٹھہرایا۔ آپ کے ہاں
طاقت کے بل بوتے لوگوں سے اپنی اطاعت کروانا جس طرح بادشاہوں کیلئے حرام ہے ویسے ہی کسی دینی طبقے کا بھی لوگوں سے زبردستی اپنی اطاعت
کرانا خلاف اسلام ہے۔ اگر دیندار لوگ بھی عاوم کی رضامندی اور لوگوں میں مقبولیت کے بغیر اُن سے اطاعت کروانی شرو ع کریں
تو یہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی
انقلاب آنے کے بعد ایران میں چاہے جو بھی ہو جائے وہاں ہمیشہ انتخابات بروقت ہوتے ہیں اور عوام سے ووٹ لئے بغیر حکومت
کرنے یا حکومت کے وجود میں آنے کا کوئی تصوّر ہی نہیں۔ حتی کہ اعلی ترین حکومتی منصب "ولی فقیہ"
کے انتخاب کیلئے جو ۸۸ رکنی کمیٹی﴿مجلسِ
خبرگان﴾ موجود ہے اُس کے اراکین کا انتخاب بھی عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ کوئی شخص
چاہےجتنا بھی دینی تعلیم میں ماہر ہو، حافظ قرآن، محدث اور مجتہد ہو لیکن اگر عوام
اُسے پسند نہیں کرتے تو وہ مجلسِ خبرگان کا ممبر نہیں بن سکتا۔ یہ اٹھاسی افراد عوام کی طرف سے بذریعہ ووٹ
منتخب ہوتے ہیں تاکہ وہ عوام کی طرف سے مراجع کرام میں سے اعلم اور اصلح شخصیت کو
ملکی قیادت کیلئے منتخب کریں۔پس اسلامی انقلاب نے بادشاہت اور تھیوکریسی دونوں کو
جڑوں سے اکھاڑ دیا ہے۔
ج۔ اسلام دینِ جمہوریت ہے
حضرت امام خمینی سے پہلے آمروں، سلطانوں اور بادشاہوں نے
مسلمانوں کے اندر یہ غلط عقیدہ پھیلا رکھا تھا کہ دینِ اسلام میں تو عوام کی رائے
کی کوئی اہمیت ہی نہیں، لہذا آمریّت، بادشاہت اور ملوکیت ہی اسلامی نظامِ حکومت ہے، لوگ بادشاہوں
کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور انہیں ظِلّ الہی اور خلیفہ کہتے تھے۔ حضرت امام
خمینیؒ نے مسلمانوں کو اُن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ آپ نے عوام کو یہ شعور دیا کہ انبیائے
کرام کی اطاعت اس لئے لازم ہے چونکہ وہ خدا کے نمائندے ہیں جبکہ بادشاہ اور سلاطین
تو اپنی طاقت کے بل بوتے پر برسرِ اقتدار آتے ہیں اور مسلمانوں کے بیت المال اور
وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ یہ سلاطین خود تو عیاشیاں کرتے اور محلات میں زندگیاں
بسر کرتے ہیں جبکہ عام مسلمان فقر و پسماندگی میں کچلے جاتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ
وہ فقروپسماندگی میں زندگی گزارنے کے
بجائے اقتدار کیلئے اپنے درمیان سے ایسے صالح اور انسان دوست اشخاص کا انتخاب کریں جو ان
کے وسائل اور ان کے بیت المال کو اپنی عیاشیوں اور رنگ رلیوں کے بجائے مساوی طور
پر اپنے عوام پر خرچ کریں۔
حضرت امام خمینی نے جو انقلاب برپا کیا ہے اُس کے تناظر میں
اسلامی جمہوریّت سے مراد "مسلمانوں کی تائید سےخدا کے ایسے صالح اور بابصیرت افراد کی حکومت ہے جو مسلمانوں کے وسائل اور بیت المال کو قربِ
خداوندی کیلئے اس طرح صرف کرے تاکہ لوگ
دنیاوی و دینی سعادت سے بہرہ مند ہوں" ۔اگرآپ مذکورہ تعریف پر توجہ دیں تو
یہی اسلامی جمہوریت کی حقیقی و جامع تعریف
بنتی ہے بلکہ ہمارے نزدیک خود جمہوریت کی
مثالی تعریف ہی یہی ہے۔
د۔ فرقے نہیں اسلام اہم ہے
اسلامی انقلاب نے
مسلمانوں کی کہنہ ذہنیت کو تبدیل کیا۔ اس سے پہلے مسلمان اپنی فرقہ وارانہ
شناخت اور الگ الگ تاریخ پر فخر کرتے تھے۔ حتی کہ فرقہ وارانہ مناظروں کے باعث
باہم حسداور کینہ بھی رکھتے تھے۔ اسلامی
انقلاب نےاس دیرینہ نفرت کے ماحول کو پہلی مرتبہ محبت اور اخوّت کے قالب میں
ڈھالا۔ تمام فرعی اختلافات کی فراخدلی کے
ساتھ جمع بندی کی۔ربیع الاوّل میں ہفتہ وحدت سے لے کر مسئلہ کشمیر اور فلسطین
پر ایک عالمی اسلامی موقف اختیار کیا۔ اگر
اسلامی انقلاب کسی بھی جہت سے ایرانی ہوتا تو
انقلابیوں کے پاس ماضی میں بھی یہ سنہری موقع تھا اور آج بھی ہے کہ وہ اسرائیل و امریکہ و برطانیہ سے مل کر اپنی حریف
عرب ریاستوں کو تاریخ کے خسدان میں پھینک دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اسلامی انقلاب
ہی ہے جس نے انقلابیوں کو ہمیشہ ایسی منفی
سوچ سے محفوظ رکھا ہے اور تاریخ میں یہ
ثابت کیا ہے کہ اسلامی انقلاب محض شیعہ یا ایرانی نہیں ہے۔ اس کی وسعت میں تمام
عالم اسلام سمایا ہوا ہے اور اس کا وژن تمام اسلامی ممالک و اسلامی مسلاک کیلئے یکساں ہے۔
ر۔حضرت امام مہدی کا ظہور
ہمارے حضور پر منحصر ہے
اسلامی انقلاب سے پہلے صدیوں سے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے چلے آ رہے تھے کہ جب امام آئیں
گے تو وہ خود سارے حالات ٹھیک کریں گے۔ اہل تشیع تو یہ باور کرتے تھے کہ حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور سے پہلے اسلامی
حکومت کے لئے قیام کرنا ہی حرام ہے۔ برائیوں
کو عام ہونے دو ، جب برائیاں عام ہونگی تو تب امام آئیں گے۔ اسلامی انقلاب نے مہدویت کے فرسودہ نظریات کو
کاہل اور سست لوگوں کے نظریات قرار دیا اور یہ منوایا کہ اگر لوگ خود بادشاہوں اور خائن حکمرانوں کے خلاف قیام نہیں
کریں گے تو امام مہدیؑ کا ظہور بھی نہیں ہو گا۔ جنہیں برائیوں کے عام ہونے کا انتظار ہے وہ در اصل دجال کے منتظر ہیں۔ امام مہدی ؑ کے منتظرین وہ ہیں جو جبرواستبداد اور منکرات کےخلاف قیام کرنے والے
ہیں۔گویا حضرت امام مہدی کا ظہور ہمارے
حضور پر منحصر ہے۔ ہم جس قدرمیدان میں حاضر رہیں گے امام کا ظہور اتنا ہی قریب
ہوگا۔
س۔ اختلاف اور تضاد میں فرق ہے
اسلامی انقلاب نے مسلمانوں کو اپنے باہمی مسائل چاہے علمی ہوں، سیاسی ہوں یا فقہی و معاشرتی۔۔۔ انہیں اختلاف کی
حد تک محدود رکھنا سکھایا ہے اور اس اختلاف کا احترام کرتے ہوئے اُسے تضاد کی شکل
دینے سے گریز کیا ہے۔ اس کی واضح شکل اسلامی جمہوریہ ایران میں اہلِ سُنّت کی مذہبی
و سیاسی آزادی ہے۔ وہاں اہلِ سُنّت کو وہ تمام سیاسی و دینی حقوق حاصل ہیں جو
انہیں افغانستان، سعودی عرب و دیگر عرب
ریاستوں میں حاصل نہیں۔ مسائل و مشکلات کو
اختلافات کی حد تک رکھنے اور تضاد میں تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے آج ایران بغیر کسی ایٹم بمب کے ایک مضبوط علمی،
عسکری اور خطے کی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع کی
پراپرٹی سمجھنا دراصل جہانِ اسلام کو اُس کے ایک گرانبہا خزانے سے محروم کرنا ہے۔
اسلام صرف اہلِ ایران کو استبداد، آمریت،
استعمار اور بادشاہت سے نجات دلانے کیلئے نہیں آیا اور نہ ہی اسلام صرف اہلِ تشیع
کے اندر آزادی، استقلال اورقیام کی روح پھونکنے کی خاطرظہور پذیر ہوا ہے۔ پس اسلام
کی آزادی بخش اور عادلانہ و منصفانہ تعلیمات سارے عالمِ اسلام اور عالمِ بشریت
کیلئے ہیں۔ سو یہ ضروری ہے کہ لوگ اسلامی انقلاب کو ایران اور اہلِ تشیع سے جدا کر
کے پرکھیں اور اسے ایران یا اہل تشیع سے
مخصوص نہ سمجھیں۔ جس طرح دینِ اسلام بے شک منطقہ عرب میں آیا لیکن اس کی تعلیمات
صرف عربوں یا اہلِ مکہ و مدینہ سے مخصوص
ہونے کے بجائے آفاقی اور عالمی ہیں اسی طرح اسلامی انقلاب بے
شک ایران میں آیا ہے لیکن اس کے نظریات و ڈاکٹرائن صرف اہلِ تشیع یا ایران سے مخصوص ہونے کے بجائے سارے مسلمانوں اور سارے
انسانوں کی ملکیت ہیں اور سب کو انہیں سمجھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یاد
رکھئے کہ کہیں بھی انقلاب پہلے دن نہیں
آتا لیکن ہر انقلاب کا ایک پہلا دن ہوتا ہے۔ جس دن ہم نے اسلامی انقلاب کو آزادانہ
طورپر سمجھنے کی کوشش شروع کر دی وہی دن ہمارے ہاں انقلاب کا پہلا دن ہوگا۔

























