زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

منگل، 30 ستمبر، 2025

کیا ہم اسرائیل کی پراکسی ہیں؟

کیا ہم اسرائیل کی پراکسی ہیں؟ 

ڈاکٹرنذر حافی  :

  ٹرمپ غزہ  منصوبے کی تشکیل سے فلسطینیوں کو مکمل طور پرالگ رکھا گیا ہے۔  فلسطینی قیادت اور عوام کو اس منصوبے  سے جدا رکھنے سے اس منصوبے کی کوئی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز  ہی باقی نہیں رہتا کہ جس کی بنیاد پر اس کی حمایت کی جا سکے۔  اس کی ایک اور اہم خامی یہ ہے کہ اس  میں اسرائیل کے غلبے  کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ  اسے ہر طرح کا  تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز ، دفاعی حدود، اور علاقائی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، جغرافیائی وحدت، اور ریاستی سالمیت کی عملاً  نفی کر دی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ


منصوبہ  اصولوں اور انصاف  کے بجائے طاقت اور دھونس کا مظہر ہے۔

 اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو نظر انداز کرنا، فلسطینی علاقوں کو الگ الگ انتظامی اکائیوں میں تقسیم رکھنا، اور فلسطینی ریاست کی تشکیل کے عمل کو عملی سطح پر غیر یقینی بنا دینا۔۔۔ یوں یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون، اور انسانی حقوق کی عالمی روایات کی  کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ  عدل و انصاف  کے اصولوں پر مبنی ہے یا اسے  فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اگر اس منصوبے کا  جائزہ لیا جائے تو یہ فوری جنگ بندی یا انسانی امداد کی فراہمی کے بجائے فقط اسرائیل کی جغرافیائی اور سیاسی بالادستی کو تحفظ دیتا ہے۔ یعنی یہ در اصل  اسرائیل کے عسکری وسیاسی اثرورسوخ کی تنظیمِ نو کا فارمولہ ہے۔ 

ایسے میں پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت کا عمل کئی  سیاسی، قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس منصوبے میں فلسطینی قیادت کی عدمِ شمولیت، فلسطینی مہاجری کی واپسی کی نفی، اور فلسطین  کی تقسیم کا پہلو ہی  اس منصوبے کے بطلان کیلئے کافی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہے ایک ایسا ملک ہے جو تاریخ میں ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کا حامی رہا، جس نے اقوامِ متحدہ میں ان کے حق میں آواز اٹھائی، جس کے عوام فلسطینی جدوجہد سے جذباتی و نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں، وہ اگر اچانک کسی ایسے منصوبے کی غیر مشروط تائید کرتا نظر آئے جسے خود فلسطینی مسترد کر چکے ہوں، تو یہ غیر مشروط تائید   کوئی دانشمندانہ  فیصلہ نہیں۔

اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے میں  کسی کرائے کے مزدور کی مانند  اسرائیل کی ایک  پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔  پراکسی ڈپلومیسی کا مطلب ہی یہی  ہے کہ اس میں  ریاستیں اپنی خارجہ حکمت عملی کسی تیسرے فریق کے دباؤ، اثر یا مفاد کے تابع تشکیل دیتی ہیں۔ ان کا موقف  ریاستی اصولوں، قومی نظریات اور جمہوری رجحانات کے  منافی ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس منصوبے کی تائید  خود پاکستانیوں کیلئے ایک بڑا اسوال ہے،  خاص طور پر جب پاکستان کو  خلیجی ممالک اور  امریکہ جیسے اتحادیوں نے تعلقات و مفادات کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔

اربابِ اختیار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسا طرزِ عمل کئی سطحوں پر  پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اوّل، اس سے پاکستان کی وہ اخلاقی برتری مجروح ہوتی ہے جو اس نے ہمیشہ مظلوم اقوام کے حق میں اختیار کی۔ دوم، خارجہ پالیسی کی خودمختاری  متاثر ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان سفارتکاری میں بھی دوسروں کی ایک پراکسی ہے۔ سوم، ریاست اور  عوام کے درمیان خلیج مزید  گہری ہو گی اور ریاست پر عوام کے اعتماد میں مزید کمی آئے گی۔ ظاہر ہے  فلسطین کے مسئلے پر عوام کا اجتماعی ضمیر جس مؤقف کی توقع کرتا ہے، ریاست اس سے منحرف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی عمل کو پراکسی سفارتکاری کہتے ہیں۔ اس میں ایک ریاست خودمختار پالیسی سازی کے بجائے، ثالث یا سرپرست ریاست کے ایجنڈے کو اپناتی ہے۔

غزہ امن منصوبہ ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی علامت ہے جو  بکھرتے ہوئے اسرائیل  کو دوبارہ  جوڑنے کیلئے ہے۔ اس منصوبے میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو کسی فوری جنگ بندی کو ممکن  بنانے کے بجائے صرف اسرائیل کو بچانے کیلئے فکر مند ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں وقتی سفارتی مصلحتوں کے بجائے اصولی وابستگی، تاریخی موقف، اور عوامی جذبات کو ترجیح دے، تاکہ اس کی سفارت کاری خودمختار ہو اور باوقار  نظر آئے۔

کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب قومیں اصولوں و نظریات  کی بنیاد پر اپنی راہیں متعین کرتی ہیں تو وہ صرف سیاسی پالیسی نہیں بناتیں بلکہ تاریخ میں اپنے  اخلاقی نقوش بھی مرتب کرتی ہیں۔ اس کے برعکس  جب یہی قومیں وقت کی گردش، خارجی دباؤ، یا داخلی کمزوریوں  کے تحت اپنے اصولوں اور نظریات  سے انحراف کرتی ہیں  تو  تاریخ میں اُن کے کردار کے اندر ایک  گہری منفی تبدیلی واقع ہوتی ہے جسے "نارم شیفٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہوتا ہے کہ جس کے دوران  نظریہ مصلحت میں تحلیل ہو جاتا ہے  اور نظریات  عارضی فائدے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض سفارتی زبان یا سرکاری بیانیے میں نہیں آتی بلکہ قوم کے تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے، ایسی دیمک جو وقت کے ساتھ ساتھ قومی شناخت، اخلاق اور وژن کے مفاہیم کو کھا جاتی ہے۔ اسی کو سفارتی و نظریاتی  کہتے ہیں چونکہ اس کے دوران  ماضی  کا "حق" حال کے عارضی "مفاد" میں دفن ہو جاتا ہے۔  یاد رہے کہ قومیں اکثر اپنی شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اصولوں سے دستبرداری کے لمحے میں کھاتی ہیں  اور یہی وہ لمحہ ہے جب  نظریاتی کمزوری کو ریاستی پالیسی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

آخر میں ہم اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان،  فلسطینی قوم کی مرضی کے خلاف کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے جو درحقیقت اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے  تو اس حمایت کے پیچھے  کسی قسم نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ  واضح طور پر ایک سیاسی  و سفارتی سرنڈر ہے۔ پراکسی ہونا صرف فوجی محاذ پر دوسرے کے مفاد کے لیے لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ جب کوئی ریاست اپنی خودمختار سفارتی  زبان کھو دے اور اس کے سیاست دان اور  قلم کار اپنے قومی نظریات کے خلاف بولنا اور  لکھنا شروع کردیں تو  یہی پراکسی ڈپلومیسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ کیا  غزہ امن منصوبے کی حمایت کر کے اس وقت ہم بطورِ اسرائیلی پراکسی کام نہیں کر رہے؟ 

پیر، 29 ستمبر، 2025

جامعۃ الرضا کی غیر نصابی سرگرمیاں، دی ایمز کی انتظامیہ کا شکریہ

 اسلام آباد  (اسٹاف رپورٹر) جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کی ذہنی، اخلاقی اور جسمانی تربیت کے لیے غیر نصابی سرگرمیاں بھی بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔ یہاں پر دینی و عصری علوم کے امتزاج کے ساتھ ساتھ طلباء کی ہمہ جہت شخصیت سازی کو بھی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ اتوار 28/9/25 کو اداہ ہذا کے بعض طلبا نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کے گراونڈ میں مختلف کھیلوں میں حصّہ لیا اور دی ایمز کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔





شہید کی مائیکرو ڈپلومیسی بطورِ نصابِ تعلیم

  شہید  کی مائیکرو ڈپلومیسی  

شہید کی پہلی  برسی پر خصوصی تحریر

ڈاکٹر  نذر حافی  :

مائیکرو ڈپلومیسی، روایتی ریاستی سفارت کاری کے برعکس، ایسے عمل کو کہا جاتا ہے جس میں افراد، عوامی رہنما، تنظیمیں یا میڈیا بین الاقوامی یا علاقائی امور پر اثر انداز ہوتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ کسی رسمی سفارتی عہدے پر فائز ہوں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ  شہید حسن نصراللہ عسکری قیادت کے علاوہ بروقت  تقاریر اور  بروقت خاموشی کے لحاظ سے  مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک غیر روایتی سفارتی طاقت بن چکے تھے۔شہید حسن نصراللہ نے  مقاومت کی تعریف کو الفاظ، خاموشی، صبر، اور بصیرت کے آئینے میں دوبارہ تراشا۔عصرِ حاضر کی بین الاقوامی سیاست میں سفارت کاری کے روایتی طریقے اب صرف رسمی ملاقاتوں، معاہدوں اور اعلامیوں تک محدود نہیں رہے۔ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات نے مائیکرو ڈپلومیسی (Micro-Diplomacy) جیسے نئے تصورات کو جنم دیا، جن کے ذریعے دانشور،  غیر ریاستی فریقین اور عوامی قائدین عالمی بیانیے پر اثر انداز ہو رہےہیں۔حزب اللہ کے شہید رہنما سید حسن نصراللہ غیر معمولی طور پر  ان غیر روایتی سفارتی اثرات یعنی مائیکرو ڈپلومیسی کے حامل تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  دنیا میں ہر باشعور   اور غیّورقوم کو   اُن جیسی  قیادت کی ضرورت ہمیشہ  پیش آتی رہے گی  لہذا اُن  کی عسکری، سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی  کو بطورِ نصابِ تعلیم سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ 

 شہید حسن نصراللہ کے افکار و نظریات ہمارے لئے اس وجہ سے بھی اہم ہیں چونکہ ہمیں  آئندہ نسلوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جب ریاستیں سچائی پر مبنی  الفاظ کو  زخم لگانے لگیں، اور میڈیا سچ کو زہر بنا دے، تب ایسی قیادتیں ابھرتی ہیں جو الفاظ کو مرہم میں بدل دیں اور خاموشی کو حکمت بنا دیں۔ ایسے رہنما صرف سیاسی خلا نہیں بھرتے بلکہ  وہ روحانی و فکری خلا کو بھی اپنی سچائی اور  معنویت سے پُر کرتے ہیں۔ ایسے ہی قائدین کی تاریخ بعد والوں کیلِئے نصابِ تعلیم اور مشعلِ راہ ہوتی ہے۔ شہید  حسن نصراللہ کا سکوت بھی اُن  کی خطابت  کی مانند  اُن کی   جنگی حکمتِ عملی کا ایک سلسلہ تھا۔ قُدس کی آزادی کی تحریک ہو یا  فلسطینیوں کی سیاسی بقا کا مسئلہ، یوم القدس کی مناسبت ہو یا عالمِ اسلام  کے خلاف استعماری طاقتوں کا جال ،  اُنہوں نے ہمیشہ  اپنی موثر  خطابت اور سحر انگیز خاموشی سے یہ منوایا کہ مواقف صرف سوچ کے  ترجمان نہیں ہوتے  بلکہ    دشمن کیلئے  عسکری حملوں سے زیادہ تباہ کُن ہوتے ہیں۔  اُن کی مدبّرانہ خطابت اور سکوت نے ہمیشہ دشمن  کو نفسیاتی پسپائی میں مبتلا رکھا۔  وہ جب بھی مائیک کے سامنے آتے تو وقت کی مناسبت سے مناسب پیغام کے باعث اُن کا ہر خطاب خود ایک آپریشنل واقعہ کی حیثیت اختیار کر جاتا ۔ انہوں نے اقوام عالم کو سکھایا کہ کیسے سفارتکاری کی دنیا میں الفاظ کو "دھوکے" کے بجائے دلیل اور سکوت کو "ڈر" کے بجائے  "دانائی" میں ڈھالا جاتا ہے۔ 

 اُن کی ہر تقریر  مقاومتی و مزاحمتی محاذ   کے حوصلوں کو بلند کرنے اور دشمن کے سیاسی و عسکری حساب کتاب میں شکوک و تذبذب پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی۔ اسی وجہ سے اُن کی تقریری اور خاموشی کی  حکمتِ عملی کو سمجھنا کسی سیاسی مبصر کے لیے مکمل طور پر  ایک  مزاحمتی و مقاومتی بیانیے کا مطالعہ ہے ۔ ان کا بولنا اور چپ رہنا  مساوی تھا دونوں کے اندر ایک جیسی کاٹ تھی۔ دونوں نے وہ کام کیا جو اکثر ریاستیں کروڑوں خرچ کر کے بھی نہ کر سکیں۔ جتنا مؤثر ان کا بولنا رہا، اتنی ہی اثر انگیز ان کی خاموشی بھی رہی۔ جب وہ خاموش رہے، تو دشمن کی خبروں میں ان کی غیر موجودگی ہی سرخی بن گئی۔ ان کا خاموش رہنا ہمیشہ  ایک اسٹریٹیجک  وقفہ  ثابت ہوتا  ، وہ ایسی خاموشی اختیار کرتے گویا کسی  کمرے میں ایک "خاموش شیر "موجود ہو اور اُس کی موجودگی کو کسی طور بھی نظر انداز نہ کیا جا سکا۔ جدید دنیا نے تسلیم کیا کہ اُن کی  خاموشی کسی بھی لحاظ سے اُن کی  آواز سے کم رعب دار نہ تھی۔

آپ اُن کی جو بھی تقریر  اُٹھا لیں، اُن کے ہاں زبان اور بیان کا  حُسن بے مثال تھا،  ان کا زوردار اور فصیح لہجہ اُن  کے پیغامات کو عوام تک براہِ راست پہنچاتا ،  عسکری و سیاسی مطالب کو  دلکش اور  فصیح لب و لہجے   میں بیان کرنا بس اُنہی کا ہُنر تھا۔ اس ہُنر میں  مذہبی و تاریخی حوالہ جات اُن کے الفاظ کو ایک اخلاقی اور معنوی وزن عطا کرتے، جس سے مقاومت کا بیانیہ صرف اطلاعات کا تبادلہ نہیں رہتا بلکہ ایک قسم کا اجتماعی نصاب بن جاتا اور دوست و دشمن دونوں اُن کی تقریر کے سحر میں مبتلا ہوجاتے۔اُنہوں نے آج کے جدید عہد میں یہ منوایا کہ  طاقت صرف ہتھیار نہیں، بیانیہ بھی  ہے اور بیانیہ صرف دعویٰ نہیں، تجربہ، قربانی اور صداقت سے بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے سکوت و بیان کے اثرات آج بھی دشمنوں کے دماغوں ، حلیفوں کے دلوں ، اور تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہیں۔

وہ بخوبی جانتے تھے کہ پیغام رسانی کی ٹائمنگ ایک عُمدہ ہتھیار ہے۔لہذا بہترین ٹائمنگ کی تلاش میں اُن کی خاموشی بھی دشمن کیلئے جان لیوا ہوا کرتی تھی۔  انتہائی حساس اور  اہم لمحات میں  جیسے حملوں،  شہادتوں یا بین الاقوامی فیصلوں کے موقع پر  اُن کے  پیغام کی پہنچ اور مطلوبہ   تاثیر نتائج کے اعتبارسے  سب سے زیادہ  تھی۔  وہ تقریر کرتے تو گویا دشمن کی روح قبض کرتے جاتے اور خاموش ہوتے تو دشمن کی سانسیں اُکھڑنے لگتیں۔ اُن کی ہر تقریر اپنی  موقعیت، جذباتی کیفیت، میڈیا کی توجہ اور بین الاقوامی منظرنامے کے گزشتہ سارے ریکارڈ توڑ دیتی۔ وہ ہمیشہ  صحیح وقت پر ایک پیغام دے کر  دشمن کے ردِعمل،  اسرائیلی مورال، اور غیرمنصفانہ ثالثی کے عمل کو  جامد کر کے رکھ دیتے۔ انہوں نے مائیکرو ڈپلومیسی کی  اصطلاح  کو دینی پیرائے میں زندہ کیا اور  اس کے ذریعے بیانیہ، نفسیاتی جنگ، ثقافتی خوداعتمادی، اور سفارتی بالادستی حاصل کی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ  ان کے کسی  ایک خطاب نے اقوامِ متحدہ کے بیانیے کو ہِلا کر رکھ دیا  اور ان کے ایک توقف نے اسرائیلی کابینہ میں خوف پیدا کر دیا۔ دنیا نے اُن سے یہ سیکھا کہ مزاحمت و مقاومت صرف گولی سے نہیں، بلکہ صبر، تجزیے، اور سکوت سے بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی حملے کے فوراً بعد، کسی اہم شخصیت کی شہادت پر یا کسی  بین الاقوامی فیصلے کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے انہوں نے جب بھی تقریر کی تو اوضاع و صورتحال بالکل بدل گئی۔ انہوں نے اپنے سامعین کو صرف قائل نہیں کیا  بلکہ انہیں شریکِ مزاحمت بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ  ان کے مدبرانہ جملوں  اور حکیمانہ لفاظی نے مزاحمت و مقاومت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ 

باڈی لینگوئج کے ساتھ دشمن کو نفسیاتی دباؤ میں جکڑے رکھنا یہ  اُن کی مستقل حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ اپنے متوقع  عملی اقدامات کی تفصیل افشا  کئے بغیر اُن کے  اعلانیہ یا بالواسطہ  لفظی اشارے اور ان کی باڈی لینگوئج  دشمن کو غیر یقینی صورتِ حال میں مبتلا رکھتی۔ اسی متوازن عسکری، سیاسی اور ادبی خطابت  نے اُنہیں ایک سیاسی و سفارتی طاقت بھی بنا دیا۔اُن کی مائیکرو ڈپلومیسی  کا مقصد مقاومتی محاز  کی نفسیاتی اور جذباتی قوت کو برقرار رکھنا، بحران میں کارروائی کی امید و برداشت بڑھانا، اور سیاسی و عسکری عمل کو طویل عرصے تک  جاری رکھنا شامل ہوا کرتا تھا۔  شہادتیں چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ اپنے بیانات کے ذریعے  قربانی دینے کے جذبے کو مزید معنادار بناتے ، شہداء کی داستانوں اور یادگار رسموں کو منظم کرتے،  مربوط اعلانات کے ذریعے مقاومتی  کامیابیوں کو نمایاں کرتے، اور منتخب معلومات کے ذریعے جنگی خوف و اضطراب کو کنٹرول کرتے۔ جنگ ، استقامت اور سیاسی مذاکرات میں ہمیشہ اُن ہی کا موقف سب سے  بہتر  مانا جاتا۔ اُن کی خطابت  کا جوہر مخصوص اہداف کے پیشِ نظر ٹھیک   نشانے پر لگانے کیلئے بنائے گئے پیغامات اور اشارے  ہُوا کرتے تھے۔ ایسے پیغامات جو رسمی سفارتی عمل کے بجائے، کثیرالابعاد سامعین (دشمن قیادت، علاقائی حلیف، مقامی فریق یا بین الاقوامی نگران) کے ذہن و فیصلوں کو نرم یا تبدیل کر دیتے۔ بغیر کسی رسمی سفارتی چینل پر انحصار کیے،  شہید سید  نصراللہ کا ہر  خطاب  مائیکرو ڈپلومیسی کا شہکار ہوتا تھا۔ اُ ن کا  ایک بروقت اشارہ   لوگوں کا لہو گرما دیتا، ساری اسرائیلی و امریکی  قیادت کو  چونکا دیتا ، ثالثی کے راستے کھول دیتا، یا داخلی سیاسی دھڑوں کو  متحد ہونے کا پیغام  دے دیتا۔ 

سید حسن نصراللہ کی خطابت کا سفارتی و عسکری کردار ایک ملٹی لیئرڈ حربی محور  تھا ۔ اس سے مراد ایک کثیر السطحی  جنگی حکمتِ عملی ہے ۔ ایسی حکمتِ عملی  جس کے تحت  مختلف  و متعددسطحوں پر  فوری آپریشنل وسائل، درمیانی سپلائی ،  انسانی ذخائر، اور اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک و معنوی اثاثوں کو تہہ در تہہ اس طرح سے منظّم رکھا جاتا ہے کہ ایک پرت پر ضرب لگنے پر دوسری پرت صورتحال سنبھال سکے۔  یعنی ایسی حکمت عملی کہ جس کے تحت  فنّی، معلوماتی، اسٹریٹجک، سماجی،عقیدتی اور وسائل کی پرتیں باہم مواصلت میں رہ کر بیانیے کو لچکدار، پائیدار اور مؤثر بناتی ہیں۔ عسکری انداز بیان ، سیاسی و سفارتی حکمت عملی  اور  دینداری و خاموشی    جب  ایک ساتھ منظم ہوجائیں  تو خطبات فقط بیانات  تک محدود نہیں رہتے بلکہ تبدیلی کا آلہ بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دشمن نے تو ہم سے سید حسن نصراللہ کو چھیننا چاہا ہے لیکن اب ہم  انہیں  اپنے نصابِ تعلیم کا  حصّہ بنا کر نسل در نسل  ہمیشہ اپنے درمیان زندہ اور باقی  رکھیں۔ بقول شاعر

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

 کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں


اتوار، 28 ستمبر، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

 جامعۃ الرضا اسلام آباد میں سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)جامعۃ الرضا اسلام آباد میں عالمِ اسلام کی معروف مزاحمتی شخصیت سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی نہایت عقیدت، احترام اور فکری و علمی انداز میں منائی گئی۔ اس موقع پر  جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی  نے ہفتہ وار  بزمِ خطابت میں  شہید کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد جامعہ کے طلبا نے سوزوسلام  کے ذریعے شہدائے اسلام کو  خراج عقیدت پیش کیا۔اس کے بعد بزمِ خطابت کے خطبا  نے سید حسن نصراللہ کی دینی، فکری اور مزاحمتی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصراللہ ایک ایسی آواز تھے جنہوں نے ظلم، جبر، استعمار اور صیہونیت کے خلاف پوری دنیا کے مظلومین کو حوصلہ دیا۔ کی بصیرت، شجاعت اور گفتار آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے سید حسن نصراللہ  کو  ایک نظریہ، ایک تحریک اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت  قرار دیا۔

اس تقریب کے دوسرے حصّے میں  سید حسن نصراللہ کی حیات، خدمات اور  خصوصیا  پر مبنی ایک خصوصی ڈاکومنٹری فلم بھی لگائی گئی، جسے شرکاء نے بھرپور دلچسپی سے دیکھا اور اس کے بعد ڈاکومنٹری میں پیش کردہ مختلف زاویوں پر مختصر مکالمہ بھی کیا۔ تقریب کے اختتام پر سید حسن نصراللہ اور شہدائے مقاومت  کے ایصالِ ثواب کے لیے  سورہ حمد کی تلاوت بھی کی گئی، اور شرکاء نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔


ہفتہ، 27 ستمبر، 2025

نجف اشرف کے ممتازعلما کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ

 نجف اشرف کے ممتازعلما کا جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ 

اسلام آباد (پریس ریلیز) حوزہ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز علما پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جامعۃ الرضا اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد جامعۃ الرضا کے اساتذہ وطلبا کے ساتھ ملاقات اور تعلیمی میدان میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔وفد کی قیادت علامہ شیخ امجد ریاض نے کی، جو حوزہ علمیہ نجف اشرف کے جید اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو مرجع دینی اعلیٰ، سماحة آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کی جانب سے مؤسسہ العین کے کام کی عالمی سطح پر نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نجف اشرف میں پانچ علمی مدارس کی انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔وفد میں استاذ احمد السودانی اور ،ڈاکٹر احمد الخاجہ  بھی شامل تھے۔ جامعۃ الرضا کی انتظامیہ نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ادارے کے تعلیمی نظام، نصابِ تعلیم ،  تحقیقی امکانات اور طلباء کی دینی و اخلاقی تربیت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں علمی تبادلہ خیال،تعلیمی منصوبوں پر گفتگو اور باہمی تعاون کے راستوں پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔

وفد نے جامعۃ الرضا کے تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اور فکری وژن کو سراہا اور مستقبل میں قریبی تعلقات کے فروغ کی امید ظاہر کی۔


جمعہ، 26 ستمبر، 2025

غزہ امن منصوبہ یا پولیٹیکل انجینئرنگ

غزہ امن منصوبہ یا  پولیٹیکل انجینئرنگ : 

ڈاکٹر نذر حافی : 

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری کی میز پر ہے۔  سچ ہے کہ جو قومیں اپنی زمین کے نقشے دوسروں کی میز پر  رکھنے لگیں، وہ جلد اپنے خواب بھی دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔کیا  تاریخ ایک بار پھر  اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟ فلسطین کا نقشہ بدلنے کی کوشش بھی پرانی ہے اور خون کی روانی، آنکھوں کی نمی اور دنیا کی بے حسی بھی ویسی ہی ہے جیسی نصف صدی پہلے تھی۔24 ستمبر 2025 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی برائے امن مشنز، اسٹیو وٹکوف کی زیرِ قیادت منعقد ہونے والا غزہ امن اجلاس بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا، جسے امریکی نمائندوں نے ایک “نتیجہ خیز سفارتی پیش رفت” قرار دیا۔ اجلاس میں عرب ممالک کے رہنماؤں کو صدر ٹرمپ کا خصوصی پیغام اور ایک 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا۔ شنید ہے کہ اس منصوبے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے  غزہ میں غیر عسکری عبوری حکومت کے قیام، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے حوالے سے عربوں کیلئے انتہائی سخت فیصلے کئے ہیں۔

عرب قیادت ان فیصلوں کے جواب میں فقط مراعات ہی طلب کرتی رہ گئی۔  جن میں مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کی اپیل، یروشلم کے اسٹیٹس کو کا تحفظ، انسانی امداد میں اضافہ اور غیر قانونی بستیوں کے خاتمے جیسے امور پر رونا دھونا شامل ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پیش کردہ  نکات میں کسی قسم کی سفارتی لچک یا سیاسی توازن کا  نام و نشان نہیں۔ یہ نکات اتنے یکطرفہ ہیں کہ  یورپی سفارتکاروں کی جانب سے اس منصوبے کو “سنجیدہ کوشش” قرار دیا گیا ہے  اور اسے ابراہام معاہدوں کے دائرۂ کار کو وسعت دینے کا ذریعہ سمجھا گیا۔ اسی سفارتی ماحول میں جولائی 2025 میں سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں نیویارک میں منعقد ہونے والی کانفرنس نے دو ریاستی حل کو ازسرنو متحرک کیا ہے۔ یہ دو ریاستی حل بھی زبردستی عربوں پر تھونپا گیا ہے۔ ایسے میں عربوں کو خود سوچنا چاہیے کہ کیا عرب قیادت موجودہ عالمی نظام کے اندر فلسطین کے لیے کوئی بامعنی مقام حاصل کر سکتی ہے، یا وہ محض طاقتور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے پیش کردہ منصوبوں کی منظوری دے کر تاریخ کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے؟ عرب قیادت کی طرف سے امریکی تجاویز کی حمایت، یا اس پر فوری اعتراض نہ کرنا، محض جیوپولیٹیکل کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک فکری، تاریخی و سیاسی بحران کی نشاندہی ہے۔عرب ممالک کی اسرائیل کے مقابلے میں پسپائی  صرف جغرافیائی پسپائی نہیں، بلکہ ایک ایسے تاریخی شعور کی عدم موجودگی ہے، جس کے بغیر قومیں محض سرحدوں پر بکھرے انسانوں کا ہجوم بن جاتی ہیں۔ جب قیادت شکم رانی و شہوت پرستی  کو حکمت سمجھنے لگے، تو  قومی تاریخ  بزدلانہ فصیلوں کے بوجھ کے نیچے  دفن ہونے لگتی ہے۔اس وقت عرب قیادت کی اپنی بادشاہتوں کے تحفظ کی پالیسی طویل مدت میں اپنی ہی معاشرتی، مذہبی اور تاریخی شناخت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ حقیقی  مسئلہ  سوچ اور غوروفکر کے اس سقم کا ہے جو وقتی مفادات کو مستقل تاریخی ترجیحات پر ترجیح دیتا ہے۔ جب ریاستی فیصلے محض  حکومتی تسکین کے لیے کئے جائیں تو وہ  سارے ملک کو  ایک ایسی راہ پر لے جاتے ہیں جہاں قومی  اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ یعنی جب ریاستی و سیاسی ادارے  عارضی  مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں اور علاقائی اثر رسوخ کے خلاؤں میں بیرونی طاقتیں داخل ہونے کا راستہ پا لیتی ہیں تو قومی شناخت و اہمیت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔  فلسطین کا  دو ریاستی حل کے اندرونی ابعاد فقط عربوں کی تاریخی شناخت اور قومی  غیرت و حمیت کو ختم کرنے کیلئے  ہیں۔ اس وقت  فلسطینی سیاسی دھارے داخلی طور پر منقسم ہیں، جہاں حماس اور فتح کے بیچ خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی نوزائیدہ فلسطینی ریاست داخلی کمزوری، انتشار اور علاقائی  استعمار کیلئے لقمہ بنتی رہے گی۔ اس کے علاوہ ترکی جیسا ملک فوری طور پر  اسرائیل کے  ساتھ اپنے وسیع تر اقتصادی مفادات کے کو وسعت دینے کیلئے کمزور فلسطینی ریاست کو اپنے تجارتی اڈّے کے طور پر استعمال کرے گا۔اسرائیل جیسے غاصب ملک کو بطورِ ریاست تسلیم کرنا  دنیا کے دیگر تنازعات کے لیے بھی ایک خطرناک مثال بنے گی۔ اگر اسرائیل کو  دھونس اور طاقت  کے زور پر سیاسی شناخت دی جائے گی تو اس  روایت  سے جدیدعالمی نظام میں قانون، اصول اور سفارت کاری کے بجائے، عسکری دباؤ اور پراکسی مفادات کو تقویت ملے گی۔ پناہ گزینوں کی واپسی، جسے فلسطینی ایک مقدس حق سمجھتے ہیں یہ حل در اصل  اسرائیل کے لیے  خاتمے کا پیغام ہے۔ لہذا  دو ریاستی حل صرف کاغذ پر امن کا عکس بن سکتا ہے، حقیقت میں نہیں۔ چونکہ امن کی دستاویز میں اگر مظلوم  کا خراج  شامل نہ ہو تو  اُسے معاہدہ نہیں دھونس کہتے ہیں۔علاقائی حقیقت پسندی، ثقافتی حساسیت اور سیاسی توازن  کے بغیر امریکا اور اس کے اتحادیوں کا سفارتی دباو   صرف گریٹر اسرائیل کی خاطر ایک  دستاویزی کوششیں ہے۔  فلسطین  آج جس موڑ پر کھڑا ہے، وہاں سوال یہ نہیں کہ دو ریاستی حل ممکن ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا  عرب قیادت فلسطین کو بچانے کیلئے  اس دو ریاستی حل کا  انکار کرنے کی جرائت رکھتی ہے؟ 

  اس وقت عربوں کیلئے امریکہ کا امن منصوبہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ امن، اگر  برابری کی سطح پر قائم نہ ہو تو وہ  جارحیّت کی ایک نرم شکل ہوتا ہے۔یہ 21 نکاتی امن منصوبہ  جو صدر ٹرمپ کے خصوصی پیغام کی صورت میں عرب قیادت کے روبرو پیش کیا گیا یہ  فلسطینیوں کے ساتھ مفاہمت کیلئے نہیں بلکہ اسرائیل کے کاملاً تسلط کیلئے ہے ۔ مسئلہ فلسطین میں دلچسپی رکھنے والے  قارئین کیلئے آخر میں  ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ غزہ امن منصوبے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حماس کو حکومتی اختیارات سے الگ کیا جائے، یعنی غزہ کی انتظامیہ میں اس تنظیم کا کردار ختم کیا جائے، اور وہاں ایک عبوری حکومت ہو جو امریکہ و  اس کے اتحادیوں  اور مقامی استعمار کی اجازت  سے چلے۔  باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔ یہ امن منصوبہ  نہیں بلکہ  ایک  پولیٹیکل انجینئرنگ ہے۔ پولیٹیکل انجینئرنگ (Political Engineering) ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں کسی ملک یا ادارے کی سیاسی صورتِ حال کو جان بوجھ کر مخصوص طریقوں سے اس طرح بدلا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ کسی خاص فرد، جماعت، ادارے یا طبقے کو ہو۔یہ ایک ایسا امن منصوبہ  ہے کہ  جہاں حماس کا وجود  جرم  ہے  اور  اسرائیل کی قابض فورسز  کا وجود  جرم نہیں ؟ یہ وہ   نام نہاد   امن  منصوبہ ہے کہ  جو عدل و انصاف کے بغیر قائم  کیا جا رہا ہے۔لہذا  مذکورہ بالا امن منصوبہ فلسطین کو ایک ایسی نیم زندہ ریاست بنانا چاہتا ہے کہ  جو بولے تو  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجازت سے، چلے تو اسرائیل کی نگرانی میں  اور باقی رہے تو  مشروط  معاہدوں کے ساتھ۔


جمعرات، 25 ستمبر، 2025

کیا اسلامی نظریاتی کونسل فقہی اختلافات میں الجھنے جا رہی ہے؟

 کیا اسلامی نظریاتی کونسل فقہی اختلافات میں الجھنے جا رہی ہے؟

ڈاکٹر  نذر حافی : 

آئینِ پاکستان کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کا دائرہ کار مشورے تک محدود ہے۔  البتہ  مبصرین کے مطابق کونسل نے حالیہ اجلاس میں اپنے دائرہ کار سے صریحاً انحراف کیا ہے۔ گزشتہ روز پاکستانی میڈیا نے یہ سُرخی لگا کر سب کو چونکا دیا کہ " اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا "۔یہ بات انجینئر محمد علی مرزا  کی ذات سے ہٹ کر بھی قابلِ تشویش ہے کہ  کونسل کسی کو گستاخ قرار دے۔  آئینی طور پر کونسل تو  صرف مشورہ دینے تک محدود ہے  مگر مرزا کے معاملے میں کونسل کے بیان میں جو زبان اختیار کی گئی ہے وہ انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔  جیسے "یہ شخص سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے" یا "توہینِ قرآن کی دفعات عائد کی جائیں"  یہ زبان بتا رہی ہے کہ کونسل  کے اندر مرزا کے مخالفین کا اثرونفوذ بہت زیادہ ہے لہذا کونسل نے  اس مسئلے میں اپنی غیرجانبداری کا خود ہی گلا گھونٹ دیا ہے۔

سونے پر سُہاگہ یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا  ہے کہ مرزا نے نقلِ کفر کے فقہی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم کونسل کے پیشِ نظر کس فقہ کے فقہی اصول ہیں اس کا نہیں بتایا گیا۔یہ بتایا جانا ضروری ہے چونکہ مفتی طارق مسعود صاحب اور مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب کے فقہی اصولوں کے مطابق تو مرزا نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ ایک طرف اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔  دوسری طرف مفتی طارق مسعود صاحب اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں فرما رہے ہیں کہ جیسے مرزا  صاحب نے بات نقل کی ہے اس سے کوئی شخص سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔ ایک طرف کونسل نے فیصلے میں کہا کہ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں، اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔  دوسری طرف مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب نے اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں  یہ بیان دیا ہے کہ  انجینئر محمد علی مرزا کی زیرِ بحث گفتگو کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے ۔ میری طالب علمانہ رائے میں اُن کی گفتگو میں بلکل کسی طرح کی توہین کا پہلو موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی تحقیر و استخفاف کا کوئی شائبہ پایا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید کے حوالے سے اس گفتگو کو گستاخی قرار دینا بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔ یہ بیان کسی بھی پہلو سے اہانت یا بے ادبی کے دائرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا بلکہ  اگر کوئی شخص انجینئر محمد علی مرزا  سے کسی بات پر اختلاف یا ناراضگی کے سبب اس گفتگو کو بہانہ بنا کر مرزا صاحب پر توہینِ رسالت کا مقدمہ قائم کرنا چاہتا ہے  اور انہیں اس جرم میں حراست میں رکھوانا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کام بذاتِ خود قران کریم کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾

8. اے ایمان والو! اللہ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اللہ سے ڈرا کرو، بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہےo

قارئینِ محترم کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں قانونی طور پر  فتویٰ دینے کا اختیار صرف دارالافتاء یا مستند مفتیانِ کرام کو حاصل ہے لیکن اس اجلاس کے بعد لگتا ہے کہ  اسلامی نظریاتی کونسل اپنے اصل کام کو چھوڑ کر اب فتوی دینے اور فیصلہ سنانے یعنی عدالتی  میدان میں اُتر آئی ہے جبکہ  ماہرین کے مطابق "کسی فرد کو شرعی مجرم قرار دینا" یہ کسی بھی طور پر کونسل کے دائرہ اختیار میں نہیں۔اگر مدعی اور مدعا علیہ، دونوں کی آراء و شواہد کو متوازن انداز میں نہ دیکھا جائے تو رائے دینا نہ صرف ناقص بلکہ متنازع ہو جاتا ہے۔ اس حساس دینی و قانونی مسئلے میں تحمل، تدبر، اور انصاف کی زبان درکار تھی، نہ کہ ایسے الفاظ جو رائے کم اور فتویٰ زیادہ دکھائی دیں۔مرزا کے کیس میں کونسل کا سخت لب و لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف رائے کے اظہار کا نہیں بلکہ مشاورتی دائرہ کار سے تجاوز کر کے فتوی ٰسنانے اور عدالتی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینے  کا بھی ہے۔یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ مذہبی بیانیے کی تشکیل، مشاورت، قضاوت اور رہنمائی کا دائرہ  کون لگائے   اور علمی اختلاف و توہین کے درمیان لکیر کسے کھینچنی چاہیے؟

میڈیا کے مطابق اسلامی کونسل نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیا اور اس سے متعلق فیصلہ دیا۔ تاہم قانونی ماہرین اور اسلامی اسکالرز کے نزدیک  اسلامی کونسل کسی قسم کا فیصلہ دینے کی مجاز نہیں، یہ فقط ایک مشاورتی ادارہ ہے۔ اس حوالے سے مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان کے صدر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتویٰ نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ اس موقع پر  انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے  ایک معروف دینی سکالر کے خلاف، جو اس وقت زیر تفتش ہے ، ان کے خطابات اور تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے "گستاخی" کا فتویٰ نما اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف قانونی اور آئینی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ دینی و فکری طبقات میں بھی شدید اضطراب  نےجنم لیا ہےاور ایک زیر تفتش شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے ۔

انہوں واضح کیا کہ آئینی دفعات کے مطابق کونسل کا بنیادی کام صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین یا زیرِ غور مسوّدات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تجزیہ کرے اور متعلقہ ریاستی اداروں کو رہنمائی فراہم کرے۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ  ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین امت کا اتحاد، شریعت کی روح کی حفاظت، اور فہمِ دین کا فروغ ہونا چاہیے،  وہ  اپنے نصب العین  پر عمل درآمد کرتا  نظر نہیں آرہا ۔

یاد رہے کہ  مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان "فقہ جعفری کے برجستہ علمائے کرام"  پر مشتمل  ایک نمایاں اور قومی سطح کی تنظیم ہے۔  اس تنظیم کے صدر نے  اسلامی نظریاتی کونسل  کے اراکین سے مطالبہ کیا  ہے کہ وہ کسی دباو میں یا تعصب میں یا کسی اور  وجہ سے ادارے کے تشخص کو خراب نا کریں اور آئین کی دی گئی حدود کی پاسداری کریں نیز  شخصی فتوے جاری کرنے کی مثال قائم نہ کریں ۔ انہوں نے صریحاً کہا ہے کہ کونسل کا کام مصالحت، اتحاد اور فکری رہنمائی ہے  نہ کہ سیاسی یا ریاستی مقدمات میں فریق بننا۔  اگر یہی روش جاری رہی، تو کونسل اپنی آئینی و اخلاقی ساکھ کھو بیٹھے گی۔

مندرجہ بالا سطور اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل نہ ہی تو کسی کے خلاف فتوی سنانے کی مجاز ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف فیصلہ دینے کی۔ یعنی یہ ادارہ نہ ہی تو دارُالافتا ہے اور نہ ہی عدالت۔   کسی ایک یا دو مسالک کے فقہی قواعد اور مبانی کو بنیاد بنانا در اصل اس ادارے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ ہماری دانست میں  اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی صاحب ایک جہاندیدہ شخصیت ہیں۔  انہیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ جب فکری اختلاف، انصاف کے دائرے سے نکل کر تعصّب،  تکفیر  اور تعزیر کے پیکر  میں ڈھل جائے، تو علم کا وقار اور سماج کا توازن دونوں مجروح ہو جاتے ہیں ۔ لہذا  حکمت کا تقاضا ہے کہ  ہم  باہمی علمی اختلافات کو سمجھنے اور انہیں مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ علمائے کرام اور دانشمندوں کو  خاموش کر نے  پر تُل جائیں۔ ہمارے نزدیک حقیقتِ حال یہ ہے کہ  فقہی اصولوں میں ہر مکتب اپنا ہی عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسّر اپنی ہی تفسیر کو درست مانتا ہے۔ ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلکی حدود سے ماورا ہو کر، دینِ اسلام کی روحانی و اخلاقی تعلیمات کو خالصتاً قرآنی اور نبویؐ تناظر میں سمجھنے کی سعی کرے۔ یہی روش ملک میں دینی شعور کے نمو کا سبب بنے گی اور کونسل کو اس کے اصل مقصد یعنی  وحدتِ فکر اور حکمتِ شریعت سے ہمکنار کرے گی۔ ہر مکتبِ فکر فقہ میں اپنا عکس دیکھتا ہے، اور  ہر مفسر تفسیر میں اپنا یقین  مگر حقیقت وہی ہے جو مسالک سے بلند ہو کر وحی کی اصل روح سے ہم آہنگ ہو، اور یہی وہ بصیرت ہے جو ایک منصف مزاج نظریاتی کونسل کی پہچان بن سکتی ہے۔


اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ علامہ سید حسنین عباس گردیزی، صدر مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان

 اسلامی نظریاتی کونسل  انجنیئرمحمد علی مرزا پر گستاخی کا فتوی جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ۔  علامہ سید حسنین عباس گردیزی 

کونسل نے رائے  نما فتوے سے ایک زیر تفتیش شہری کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے ۔   صدر مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان :

اسلام آباد (  پ ر )  اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتوے نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے ان خیالات کا اظہار صدر مجلس علما مکتب اہلبیت  علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے میڈیا سے جاری بیان میں کیا۔ انہیں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے  ایک معروف دینی سکالر کے خلاف، جو اس وقت زیر تفتش ہے ، ان کے خطابات اور تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے "گستاخی" کا فتویٰ نما اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف قانونی اور آئینی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ دینی و فکری طبقات میں بھی شدید اضطراب جنم لیا ہے۔اور ایک زیر تفتش شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے ۔اس حوالے سے  آئینِ پاکستان کی دفعات 228، 229 اور 230 اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل، دائرۂ کار اور اختیارات کا واضح تعین کرتی ہیں۔ ان دفعات کے مطابق کونسل کا بنیادی کام صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین یا زیرِ غور مسودات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تجزیہ کرے اور متعلقہ ریاستی اداروں کو رہنمائی فراہم کرے۔ آرٹیکل 229 کے مطابق صرف صدر، گورنر، پارلیمان یا صوبائی اسمبلی ہی اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر سکتے ہیں — وہ بھی کسی شخص یا انفرادی عمل کے بارے میں نہیں، بلکہ صرف قانونی سوالات پر۔

انہوں نے مذید کہا کہ  اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتوے نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی جس قانون کے تحت قائم کی گئی، اس میں بھی ایسا کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ کسی دینی یا نظریاتی ادارے سے تفتیشی مشورہ طلب کرے۔

 ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین امت کا اتحاد، شریعت کی روح کی حفاظت، اور فہمِ دین کا فروغ ہونا چاہیے،  یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ادارہ ان پر عمل درآمد کرتا  نظر نہیں آرہا ۔

میں اسلامی نظریاتی کونسل مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ کسی دباو میں یا تعصب میں یا کسی اور  وجہ سے ادارے کے تشخص کو خراب نا کریں اور آئین کی دی گئی حدود کی پاسداری کریں  شخصی فتوے جاری کرنے کی مثال نا بنائے ۔کونسل کا کام مصالحت، اتحاد اور فکری رہنمائی ہے  نہ کہ سیاسی یا ریاستی مقدمات میں فریق بننا۔  اگر یہی روش جاری رہی، تو کونسل اپنی آئینی و اخلاقی ساکھ کھو بیٹھے گی۔  جاری کردہ : مرکزی میڈیا سیل مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان

منگل، 23 ستمبر، 2025

جامعہ الرضا شعبہ تربیّت کے زیرِانتظام سالانہ کرکٹ چیمپین ٹرافی کا انعقاد

جامعہ الرضا  شعبہ تربیّت کے زیرِانتظام  سالانہ کرکٹ چیمپین ٹرافی کا انعقاد
جامعہ الرضا شعبہ تربیّت کے زیر اہتمام سالانہ کرکٹ چیمپین ٹرافی 21 ستمبر 2025ء، بروز اتوار، جامعہ کے شعبۂ  تربیّت کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔ اس ٹورنامنٹ میں چار ٹیموں نے حصہ لیا اور شائقین کرکٹ کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔
فائنل میچ میں شیرازی الیون اور رنر اپ ٹیم کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی دوسری آخری گیند پر ہوا، جہاں شیرازی الیون نے مقررہ ہدف حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی۔

یاد رہے جامعہ الرضا میں ہر سال مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ طلبا کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی جا سکے۔ ٹورنامنٹ کے اختتام پر جیتنے والی ٹیم اور رنر اپ ٹیم کو باقاعدہ انعامات سے نوازا گیا۔


اتوار، 21 ستمبر، 2025

ساتویں صدی کے ایک ریجنل اسٹریٹیجک ہب میں حضرت ابوطالب ؑ کی تزویراتی حیثیت

ساتویں صدی کے  ایک ریجنل اسٹریٹیجک ہب میں حضرت ابوطالب ؑ کی  تزویراتی حیثیت :
ڈاکٹر  نذر حافی :
حضرت ابوطالب ؑ کی تزویراتی حیثیت کی پہچان کیلئے اُس وقت کے شہرِ مکّہ کو پہچاننا ضروری ہے۔ اگر مکہ کو ساتویں صدی کا ریجنل اسٹریٹیجک ہب (خطے کی حکمتِ عملی کا مرکز) کہا جائے تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ عرب دنیا کے جغرافیائی، معاشی، قبائلی اور مذہبی نیٹ ورک کا نکتۂ اتصال یہی شہر تھا ۔ ایک ایسا شہر جہاں طاقت کی تمام قبائلی ،تجارتی، اقتصادی، مذہبی ، ثقافتی  اور سیاسی  اکائیاں ایک دوسرے سے جُڑتی تھیں۔
ایک ایسے کثیرالجہتی اور  اہم مرکز میں خدا کی طرف سے حضرت محمد ﷺ  کو  بطورِ نبی مبعوث کیا گیا۔  آج اس بعثت کے پیچھے  حکمت، تدبر، مزاحمت، ہجرت اور انقلاب سے بھرپور منصوبہ بندی سب کو دکھائی دے رہی ہے۔ قُدرت نے اپنی  اس منصوبہ بندی میں  ایک ایسےمنصوبہ ساز  شخص کو بھی شامل  رکھا کہ  جس نے اللہ کے آخری رسولؐ کو  بغیر کسی رسمی عہدے کے ایک طاقتور اسٹریٹیجک پناہ گاہ  فراہم کی۔
ہمارے ہاں اس  منصوبہ ساز شخص کو حضرت ابوطالبؑ  کے نام سے جانا جاتا ہے۔  انہوں نے وادی ِ مکہ میں  طاقت کی مختلف جہتوں  سماجی اثر و رسوخ، قبائلی  رعب و دبدبے ، اور  مذہبی  مقام و عہدے  کے درمیان  ایک حکیمانہ توازن قائم کیا اور  اسلام کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اہلِ مکہ کو بھی خون خرابے سے بچایا۔  اُس دور میں  اسلام کی حفاظت کیلئے  مکے کی  طاقت کی تمام اکائیوں اور  قریش کی تمام سیاسی و سماجی صف بندیوں کو ایک امن پسند ڈھانچے میں پرونا ضروری تھا چونکہ  اگر یہ اکائیاں بکھر جاتیں اور اِن میں اتحاد نہ رہتا  توان کے متفرق ہونے کے باعث  پیغمبرِ اسلام کے خلاف متعدد موروچوں سے  کارروائیوں کا امکان پیدا ہو جاتا جس سے  پیغمبرؐ کی زندگی  کو لاحق خطرات کئی گنا زیادہ ہو جاتے۔ چنانچہ حضرت ابوطالب ؑ نے ایک طرف تو پیغمبر ؐ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کو متحد رکھا تاکہ خطرات بڑھ نہ سکیں۔ وہ قریشی سرداری کے اندر رہتے ہوئے، قریش  کی مرکزی پالیسیوں سے اختلاف کرتے رہے جس کے باعث ایک نیا  توحیدی بیانیہ، یعنی اسلام، اپنی ابتدائی اور نہایت نازک حالت میں پنپنے کے قابل ہو سکا۔ ان کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی حمایت، محض ایک چچا کی حمایت نہ تھی بلکہ یہ ایک قبائلی سردار کی جانب سے رائج  نظام کے اندر ایک نئی، خاموش  اور  فیصلہ کن صف بندی تھی۔
پیغمبرِ اسلام کو لاحق تمام ممکنہ خطرات کا بہترین متبادل حضرت ابوطالبؑ کی مزاحمتی حکمتِ عملی  تھی۔جب بھی قریش نے جارحیت کی کوشش کی  تو حضرت ابوطالبؑ  نے قبائلی اتحاد اور  سماجی  روایات کی طاقت سے انہیں روکا،  اگر   انہوں نے مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائیں تو حضرت ابوطالبؑ نے  قبیلے کے اندرونی وسائل اور خود انحصاری کو بروئے کار لایا،  اگر دشمنوں نے  شدّت پسندی کا عندیہ دیا تو حضرت ابوطالبؑ  نے سفارتی مذاکرات اور بیانیے کا نرم و ہمدردانہ استعمال کیا۔ یہ لچکدار مزاحمت اور نرم جنگ  ایک ایسے  ماہر اور  ذہین اسٹریٹیجسٹ کی  اہم خصوصیات میں سےہے کہ جو صرف کسی  ایک ہی منصوبے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ متغیّر نقشے کے مطابق اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نبی ؐ کی حفاظت کیلئے اُن کی پہلی حکمتِ عملی قبائلی اثر و رسوخ کا استعمال تھا۔ انہوں نے  بنو ہاشم کو ایک Defensive Alliance (دفاعی اتحاد) میں تبدیل کر کے قریش کی ممکنہ جارحیت کی  موثر روک تھام  کر دی۔ دوسری حکمتِ عملی اُن کا حکمت آمیز ابہام تھا  ، وہ  قریش کو مذاکرات کے ذریعے  ہمیشہ ابہام میں رکھتے تھے  جس کی وجہ سے قریش کو  فیصلہ کن کارروائی کا جواز حاصل کرنے کیلئے  قبائلی تعاون حاصل نہیں ہو پاتا تھا۔ آپ  نے  قریش کے تند و سخت لب و لہجے کے مقابل ہمیشہ  اعتدال کا راستہ اختیار کر کے افراط و تفریط دونوں سے  اپنا دامن بچائے رکھا۔ قریش کی مرکزی قیادت  یہ جانتی تھی کہ اگر ابوطالبؑ کو ہی قتل کر دیں  تو نبیؐ کو بھی قتل کرنا آسان ہوجائے گا، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ابوطالبؑ کی جان لینے کی صورت میں  پورا قبائلی نظم و ضبط  یکسر عدمِ توازن کا شکار ہو جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ابوطالبؑ کی اسٹریٹیجک حیثیت اُجاگر ہوتی ہے۔ اُن کی موجودگی میں  قریش کا غیض و غضب اور شر   ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے فقط زبان کے استعمال سے نہایت مہارت کے ساتھ قریش کو قابو کئے رکھا۔ آپ اپنی نرم سفارت کے ذریعے ایک  ایسے بیانیے کو فروغ دیتے رہے جو محمد ﷺ کی حمایت کے ساتھ ساتھ  قریش کی حساسیت کو بھی کم کرتا رہا۔ آپ نے اپنے  سماجی تعلقات کے زورسے قبائل کے درمیان  ہمدردی اور باہمی احترام کو زندہ رکھا  تاکہ اسلام کے دفاع کیلئے کسی  تصادم کی نوبت نہ آئے۔ آپ کی اس پالیسی نے جہاں مسلمانوں کو تحفظ دیا وہیں مخالفین بھی  اندر سے کمزور ہوتے گئے اور ان کے افراد رفتہ رفتہ  اسلام کے دائرے میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اس طرح آپ  کی پالیسیوں کے باعث  مسلمانوں کیلئے  طاقت کا توازن  کبھی غیرمتوازن نہ ہوا۔آپ نے طاقتوروں  کے ساتھ تصادم کا راستہ تو اختیار نہیں کیا  مگر  طاقتوروں کے اثر و نفوذ  کو بے اثر کرنے کے لیے اپنی اخلاقی حیثیت کو اُن کے خلاف بطور اسلحہ استعمال کیا۔آپ نے اپنی اخلاقی و سماجی حیثیت کو  دفاعِ محمد ؐ کیلئے طاقتوروں  کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔  تاریخ میں نبی ﷺ کے ساتھ آپ  کی وابستگی کو ایک اخلاقی طاقت کے طور پر جانا اور  مانا گیا ہے۔
جب اہلِ مکہ نے شعبِ ابی طالب کا معاشی بائیکاٹ کیا تو حضرت ابوطالبؑ نے اس بحران میں اعلی قیادت   کا فریضہ انجام دیتے ہوئے  اپنے داخلی تعلقات و  وسائل کے ساتھ مسلمانوں کو زندہ رکھا۔ یہ ریسورس اینالیسس (Resource Analysis) کا ایک اعلیٰ درجے کا مظاہرہ تھا جو بحران میں بھی خود انحصاری کی طاقت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے قریش کے ساتھ  کسی رسمی معاہدے  اور کسی تحریری دستور کے بغیرپیغمبر ﷺ کی دعوتِ حق کے لیے وہ سیاسی اور سماجی فضا مہیا کی کہ جس کے بغیر تحریکِ اسلام کا ابتدائی وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا۔ وہ ایک خاموش معمار تھے، جنہوں نے اپنے گھر اور اپنے سائے میں اسلام  کی بنیاد رکھی مگر اس کا کریڈٹ کبھی خود نہیں لیا۔
وقت نے ثابت کیا کہ اس  حکمت عملی نے   اسلام کو  زندہ  بھی رکھا اور   ایک سیاسی اور سماجی طاقت کے طور پر  اپنے پاوں پر کھڑا  بھی کیا۔ یہ حضرت ابوطالب کے  لانگ ٹرم ویژن کا ہی نقشہ تھا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے  وقتی مشکلات کو عبور کر کے ایک نئی دنیا آباد کی ۔ اس پسِ منظر میں حضرت ابوطالبؑ کی حیثیت ایک غیر ریاستی مگر مؤثر  منصوبہ ساز  کی سی ہے کہ جس نے متعدد حاکم  طاقتوں کے درمیان رہتے ہوئے خدا کے  ایک سچے نبیؐ  اور اس کے دین  کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے پروان  بھی چڑھایا۔  چنانچہ عامُ الحزن کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوطالبؑ  کی موت  نبی ؐ کیلئے صرف ایک  چچا کی موت نہیں تھی بلکہ ایک پورے دفاعی نظام کی موت تھی۔  
 عام الحزن سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت ابوطالبؑ نے بطورِ چچا  اپنے بھتیجے کی حمایت نہیں کی  بلکہ  انہوں نے افکارِ نبوّت کی حمایت کی اور خاندانی  رشتے کو نہیں نبھایا بلکہ  رسالت کی حفاظت کی،  انہوں نے نبیؐ کی پرورش کرتے ہوئے قبیلے کی رسم نہیں نبھائی  بلکہ  مستقبل کی ایک نئی تہذیب کی بنیاد کو اپنے وقار سے سینچا۔ یہی وجہ ہے کہ نبیؐ کیلئے  آپ کی موت کا غم صرف ایک چچا کی موت کا غم نہیں تھا بلکہ یہ اعلان تھا کہ  کہ کوئی بھی تحریک صرف نظریات کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی بلکہ وہ اپنے  مہربان منصوبہ سازوں اور مخفی  نگہبانوں کی حکمت عملی سے جاری و ساری رہتی  ہے۔ تحریکیں محض نظریات سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ نظریات تو  وہ بیج ہوتے ہیں جو تب تک بارآور نہیں ہوتے جب تک کوئی ان کی نگہبانی نہ کرے۔ ہمیشہ  وہ خاموش  نگہبان اور منصوبہ سازتحریکوں کو آگے بڑھاتے ہیں جو پس منظر میں رہ کر تاریخ کے دھارے کو بدلتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فکری تحریک "اسلام"  اگر ابتدائی مراحل میں بچی رہی تو اس کا سبب کوئی تلوار، کوئی قبیلہ یا کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک مردِ دانا  کی خاموش حکمتِ عملی تھی کہ  جسکے باعث طاقت کوبالاخرنبوّت کے سامنے  جھکنا پڑا۔ تاریخِ اسلام کی ابتدا کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوطالبؑ ایک  عبوری دور کے معمار تھے کہ  جنہوں نے اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک   قدیم دنیا  کے اندر نئی اور   جدید   دنیا کے لیے جگہ بنائی۔

ہفتہ، 20 ستمبر، 2025

جامعۃ الرضا میں حضرت ابوطالبؑ کو خراجِ عقیدت، حضرت ابوطالبؑ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلمان بننے کیلئے ایک معیار بھی ہیں

 حضرت ابوطالبؑ  نے وفاداری، فکری استقامت، اور خاموش حکمت کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ جامعۃ الرضا میں حضرت ابوطالبؑ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق نے ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں طلبا نے حضرت ابوطالبؑ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر حضرت ابوطالبؑ کے حوالے سے طلبا کو ایک معلوماتی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔ طلبا نے اس علمی مباحثے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت محمد ﷺ کے چچا اور سرپرست کی حیثیت سے آپؑ نے نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کی جان، مشن اور وقار کی ہر سطح پر حفاظت کرنا ہمیں سکھایا ہے ، اس طرح حضرت ابوطالبؑ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلمان بننے کیلئے ایک معیار اور میزان بھی ہیں۔

جمعرات، 18 ستمبر، 2025

تعلیم و تربیت ایک ساتھ۔ رپورٹ: سید قاسم علی کاظمی

تعلیم و تربیت ایک ساتھ۔ رپورٹ: سید قاسم علی کاظمی   
دینی طلبا کیلئے اصول پسندی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ ہفتہ وار درسِ اخلاق ۔ جامعۃ الرضا میں طلبا کی تعلیم کے ہمراہ ان کی اخلاقی، نظریاتی اور قومی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا جاتاہے۔اس سلسلے میں ہفتہ وار دروس، نشستوں اور مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے کے درسِ اخلاق کا خلاصہ پیشِ خدمت ہیں:دین، فقط الفاظ کا پیراہن نہیں بلکہ انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انسان اپنے بارے میں اپنی فطرت کے مطابق  یہ طے کرے کہ مجھے کیسا انسان ہونا چاہیے؟ میرا خدا جوکہ میرا  آقا و مالک ہے اُسے کیسا ہونا چاہیے؟ اور میرے رہبر و رہنما کیسے ہونے چاہیے؟
یہ سوالات انسان کی زندگی کے معیارات اور اصولوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس کے بعد انسان جو کچھ بنتا ہے وہ اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہی بنتا ہے۔ حضرت امام علی ؑنے اصول پسندی کو اپنا کر ہمیں یہ درس دیا ہے کہ اصول پسندی فقط نظریاتی و فکری شئے نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ دینی طلبا کو یہی طرزِ زندگی وراثت میں ملا ہے۔ حضرت امام علی ؑ اگر ضروری کام کے بعد بیت المال کا چراغ بجھا دیتے ہیں تو کیا ہم بھی ایسا کرتے ہیں۔ ۔۔ اگر دیندار انسان اصول پسند اور قانون کا مطیع نہ ہو تو وہ خوارج کی مانند فتنہ گر اور فتنہ پرور بن جاتا ہے۔ امام علیہ اسلام نے کبھی مصلحت یا وقتی فائدے کے لیے اصول و ضوابط کو قربان نہیں کیا۔ خلافت کے نازک موقع پر جب بعض مشیروں نے سیاسی سودے بازی کی تجویز دی تو آپؑ نے فرمایا کہ "کیا تم چاہتے ہو میں حق و باطل کو برابر کر دوں؟"۔ امام علی نے  اپنی عملی زندگی کی زبان سے ہمیں یہ سمجھایا کہ دین فقط فقہی احکامات اور عبادات  تک محدودنہیں بلکہ  اعلی اخلاقی اصولوں کی پابندی  بھی اس میں شامل ہے۔  یاد رہے کہ جامعۃ الرضا کے طلبا ہفتہ وار درسِ اخلاق کے علاوہ بزمِ خطابت کا بھی اہتمام کرتے ہیں جس میں وہ ہر ہفتے کے زندہ اسلامی مسائل اور اہم مناسبتوں کے حوالے سے تبادلہ فکر اور تقاریر کرتے ہیں۔

بدھ، 17 ستمبر، 2025

کامیابیوں کا تسلسل

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی اسلام اباد کے صدر واصف رضا اور اُن کی ٹیم نے جامعۃ الرضا کے پہلے تعلیمی سمسٹر میں فرسٹ آنے والے طلبا سید قاسم علی اور سبطین حیدر کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جامعہ امام خمینی ماڑی انڈس میں منعقد ہونے والے سیرت النّبی کے تقریری مقابلے میں جامعۃ الرضا کے طالب علم ابوذر غفاری کو پوزیشن لینے پر مبارکباد دی۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا میں طلبا کو ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رکھنے کیلئے تمام ممکنہ مقدمات فراہم کئے جاتے ہیں۔ جامعہ مذکورہ کے طلبا دینی تعلیم کے ہمراہ ریگولر عصری تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں اور انہیں کمپیوٹتر سکلز و دیگر ضروری مہارتیں سیکھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔

پیر، 15 ستمبر، 2025

سقراط اور حضرت ابوذر غفاریؓ کی نارمیٹو ایتھکس کا باہمی رابطہ

سقراط  اور حضرت  ابوذر غفاریؓ کی نارمیٹو ایتھکس کا باہمی رابطہ
ڈاکٹر  نذر حافی :  
جسمانی، نسلی اور خون کے رشتوں کی مانند کچھ رشتے داریاں فکری، تاریخی اور نظریاتی بھی ہوتی ہیں۔ آج دنیا میں جتنے لوگوں کو "عظیم انسان" کہاجاتا ہے ، ان سب کو  اپنے اپنے دور میں جھٹلایا گیا تھا۔ ان سارے عظیم انسانوں کی آخر کوئی تو  قدرِ مشترک  ہوگی؟  سقراط کی سزائے موت اور حضرت ابوذرؓ  کی جلاوطنی  کو ہی لیجئے۔ کیا ہم نے نسلِ   نو  کو یہ پوچھنے  اور سوچنے کا حق دیا ہے کہ سقراط کے سوال کا جواب ایتھنز نے زہر سے اور حضرت  ابوذرؓ کے سوال کا جواب ریاستِ مدینہ نے جلاوطنی سے کیوں دیا؟۔ ان کی معیاری اخلاقیات کی کسوٹی سے حکمرانوں کو کیا کد تھی؟  کیا یہ سچ ہے کہ دونوں نے اپنے عہد کی سماجی اور اخلاقی بدعنوانیوں کے خلاف آواز بلند کی اور اسی وجہ سے انہوں نے  حکمران طبقے اور معاشرتی اشرافیہ کی مخالفت کا سامنا کیا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ صاحبانِ اقتدار کے تمام تر اثرورسوخ کے باوجود انہوں نے  معیاری اخلاقیات  کی جو  کسوٹی  معیّن کی اُسے کوئی  کیوں جھٹلا نہیں سکا؟۔
 ایک کو زہر کا جام اور دوسرے کو جلاوطنی کا زہر دیا گیا۔ کیا  عظیم انسانوں  کی مانند  جغرافئے میں بٹی ہوئی ڈیموگرافی کی بھی کچھ مشترکہ خصوصیات ہوتی ہیں؟ 
سقراط نے زہر کی گرمی اور حضرت ابوذر غفاریؓ  نے تپتے ہوئے صحرا کی گرمی چکھ کر دونوں  نے یہ ثابت کیا کہ ہم نہیں جانتے کہ موت کیا ہے مگر یہ جانتے ہیں  کہ جھوٹ بول کر  جینا موت سے بدتر ہے۔ 
 سقراط پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان کے شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ ایتھنز ایک ایسا شہر جو جمہوریت فلسفے اور غور و فکر کا مرکز تھا۔ سقراط نے  اسی جمہوریت کے مرکز میں جب لوگوں کو سوچنے اور سوال اٹھانے کی ترغیب دینا شروع کی  تو اُس پر"نوجوانوں کو بگاڑنے" اور "دیوی دیوتاؤں کی توہین" کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا گیا۔ سقراط کا قصور یہ تھا کہ اُس نے  نام نہاد جمہوریّت  کے شہر میں سوال کی شمع جلائی تھی۔لکھنے والوں نے لکھا  ہے کہ  وہ لوگوں سے پوچھتا تھا کہ کیا جمہوریت اخلاق سے بالاتر ہے؟؟
 حضرت ابوذرؓ رسول اللہ ﷺ کے قریبی اصحاب میں سے تھے۔ ان کا پس منظر قبیلہ غفار سے تھا۔ قبیلہ غفار  ایک ایسا قبیلہ جو رہزنی میں مشہور تھا مگر حضرت  ابوذرؓ نے اسی ماحول سے نکل کر ایمان زہد اور صداقت کی بلند ترین مثال قائم کی۔آپ نے اسلامی ریاست کے مرکز یعنی مدینہ منوورہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ عہد نبوی ؐ کے بعد جب  دولت،  زمینوں اور اختیارات کا ارتکاز اموی سرداروں کے ہاتھ میں آنے لگا تو ابوذرؓ نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ کیا حکومت  امانت و عدالت سے بالاتر ہے؟   جو الزام سقراط پر تھا وہی حضرت  ابوذرؓ پر بھی لگا۔ کیا  اُمّت کے بچے خراب ہونے لگے تھے۔
سقراط، ایتھنز کی گلیوں کا وہ دانا جو خود کو "نادان" کہتا تھا، اُس کی زبان سے نکلے ہوئے سوالات تخت و تاج  ہلا دیتے تھے۔ اس نے زندگی کے جام کو ٹھکرا کر زہر کا پیالہ پیا، لیکن جہالت اور جھوٹ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ نہ وہ تلوار رکھتا تھا، نہ فوج، نہ کُرسیِ صدارت۔ وہ صرف سوال اٹھانے کا ہُنر رکھتا تھا۔ 
سقراط  کے صدیوں بعد، عرب کی سرزمین پر حضرت  ابوذرؓ نے  بھی اشرافیہ اور حکمرانوں کے کردار پر سوال اٹھانے کو ضروری سمجھا۔ سقراط کی طرح  وہ بھی تنہا تھے، ان کے پاس بھی کوئی لشکر نہ تھا،  اُن کی دانائی میں صرف سچائی کی تپش تھی اور ایمان کا جلال۔
دونوں نے آئندہ نسلوں کو یہ سکھا دیا کہ سچائی کے راستے پر چلنے سے آپ تنہا ہو سکتے ہیں لیکن شکست نہیں کھا سکتے، آپ کا جسم ابدی نیند سو سکتا ہے لیکن آپ کا پیغام نہیں مر سکتا۔ یہ دو تہذیبوں  کے رول ماڈل ہیں  ،  ایک مغرب کی گلیوں سے ابھرا، اور دوسرا  مشرق کے صحرا سے۔ ان کے زمانے الگ تھے لیکن خواب ایک۔ دونوں  ایک ایسا جہاں چاہتے تھے کہ  جہاں سچ جھکنے کے بجائے سر بلند رہے   اور ضمیر  زہر و تلوار سے نہ ڈرے۔ دونوں نے نے زبان کو تیغ  اور صداقت کو علم بنا کر یہ منوا لیا کہ جان کی قربانی  اگر صداقت کی گواہی بنے  تو  یہ سودا مہنگا نہیں۔
دونوں کی صدائے  احتجاج کو حکمرانوں نے نہیں سمجھا۔ دونوں  صرف یہ سوال نہیں اٹھا  رہے تھے کہ " یہ کیسے حکمران ہیں ؟" بلکہ دونوں یہ سوال اٹھا رہے تھے  کہ حکمرانوں کو کیسا ہونا چاہیے؟"۔  وہ انسانی اقدار کو  اقتدار پر حاکم کرنا چاہتے تھے۔ سقراط کے لیے "نیکی" ایک مطلق قدر تھی اور حضرت  ابوذرؓ کے لیے "عدل" قرآن کا اٹل حکم۔ دونوں نے یہ ثابت کیا کہ صداقت کا راستہ آسان نہیں مگر ابدی ہے۔دونوں اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ کر چلے گئے کہ سقراط  اور حضرت  ابوذرؓ نے آخر معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا تھا یا اصلاح کیلئے کوشاں تھے؟ جو سماج  اپنے مُصلح کو نشانِ عبرت بنا دے کیا وہ زوال پذیر نہیں ہو گا؟  سقراط کا مسموم ہونا اُس کی سچائی  کا ثبوت تھا اور حضرت  ابوذرؓ کا جلا وطن ہونا اُن  کی حق گوئی کا نشان بن گیا۔ جس طرح  سقراط نے تخت و تاج  کو تولا اور حق کے پلڑے کو بھاری پایا، اسی طرح حضرت ابوذرؓ نے سونے  و چاندی کے انبار دیکھے لیکن ربذہ کے فقر و فاقے کا انتخاب کیا۔
یہ دونوں شخصیات انسانی تاریخ میں Normative Ethics ﴿ فلسفہ اخلاق کی وہ شاخ جو یہ طے کرتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے﴾ کا مجسم اظہار ہیں۔ ان کا احتجاج در اصل احتجاج برائے احتجاج نہیں تھا۔ انہوں نے جھوٹ کے ساتھ زندگی  کو  موت ثابت کیا اور سچ کے ساتھ موت  کو مرنے کے بجائے زندگی کا ایک نیا راستہ بنا دیا۔ دونوں  صاحبانِ علم  کے ہاں آج بھی   بولتے ہیں اور دونوں کے نام اج بھی گونجتے ہیں۔افلاطون نے ’’ری پبلک‘‘ میں سقراط کے سچ کو امر کر دیا اور تاریخِ اسلام نے ابوذرؓ  کی سچائی  کو استعارہ بنا دیا۔
نسلِ نو کے بچے اپنے اجداد سے  پوچھتے ہیں کہ سقراط کی قبر ایتھنز میں ہے اور حضرت ابوذرؓ کا مزار ربذہ میں! مگر جو لوگ خاموش تماشائی  بن کر  سقراط کو زہر پیتے اور حضرت ابوذرؓ کو جلاوطن  ہوتے ہوئے  دیکھتے رہے، ان لوگوں کی قبریں کہاں ہیں؟  ہمارے بچے ہمارے ہی تاریخی  رویّوں کو دیکھ کر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ  ہمارے  ہاں نسل در نسل انسانی ضمیر اپڈیٹ ہوتا رہا یا اَن اِنسٹال؟ وہ ہم پر حیران ہوتے ہیں  کہ ہم سقراط اور حضرت ابوذر کے نام لیوا تو ہیں لیکن پھر کیوں آج   ہمیں اشرافیہ اور  صاحبانِ اقتدار کی  غلامی سے گھن نہیں آتی؟  بچوں کیلئے اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ جب سے انسان نے حکمرانوں پر سوال اٹھانا چھوڑ دیا ہے تب سے اُسے غلامی راس آ گئی ہے۔ چونکہ سوال کرنے سے ضمیر اپڈیٹ ہوتے ہیں اور جی حضوری کرنے سے ضمیر اَن اِنسٹال ہو جاتے ہیں۔ اس پسِ منظر میں  ایک حکایت ملاحظہ کیجئے  کہ چڑیا گھر میں ایک اونٹنی کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ ماں ! ہماری ٹانگیں اتنی لمبی کیوں ہیں؟ ماں نے کہا چونکہ ہمیں صحراوں میں تیز دوڑنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ہماری کوہان کیوں ہے؟ ماں نے کہا تاکہ ہم صحرا میں کئی دنوں پانی پئے بغیر زندہ رہ سکیں۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ہماری پلکیں بھاری پردوں کی مانند کیوں ہیں؟ ماں بولی تاکہ ہم صحرا میں طوفان کے دوران دور تک دیکھ سکیں۔۔۔ پھر  بچے نے تڑپ کر ماں سے پوچھا کہ پھر ہماری گردن میں یہ رسی کیوں ہے؟۔۔۔ اور ماں تعجب سے اپنے بچے کو دیکھتی رہ گئی۔
ہم سے بھی بچے پوچھتے ہیں کہ ہم  مسلمان کیوں  ہوئے تھے   ؟  صحابہ کرام نے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں؟ مسلمانوں نے ہجرت کیوں کی تھی؟ نبی ؐ نے غزوات میں کیوں حصّہ لیا تھا؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ ہر غلامی سے آزاد ہونے کیلئے ۔ تب بچے تڑپ کر   پوچھتے ہیں کہ پھر ہماری گردنوں میں یہ اشرافیہ و حکمرانوں کی غلامی کا طوق کیوں ہے؟  

جمعہ، 12 ستمبر، 2025

میثاقِ مدینہ کی روشنی میں قائداعظم محمد علی جناح کا تصوّرِ قومیت

میثاقِ مدینہ کی روشنی میں قائداعظم محمد علی جناح  کا تصوّرِ قومیت
ڈاکٹر نذر حافی : 
قوموں کی تاریخ میں نظریات محض فکر نہیں بلکہ ایک تہذیبی و تاریخی  سفر کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ قومیت کا نظریہ بھی ایسا ہی ایک تصور ہے، جو کبھی محض زمین، رنگ، نسل اور زبان کے گرد طواف کرتا ہے، اور کبھی عقیدے، نظریے اور تہذیب کے گرد گھومتا ہے۔ مغرب میں اس کا چہرہ زیادہ تر جغرافیائی قوم پرستی کے غلاف میں لپٹا رہا، لیکن اسلام نے جب اس تصور کو چھوا  تو اس کی بنیاد نسل و زبان سے ہٹا کر ایمان و عقیدے پر رکھ دی۔
تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو اسلام کا ظہور ہی ایک ایسے عہد میں ہوا، جب قبائلی تعصبات، نسبی برتری اور لسانی تفاخر قومیت کے پیمانے سمجھے جاتے تھے۔ مگر پیغامِ رسالت نے ان تمام زمینی پیمانوں کو توڑ کر ایک آسمانی رشتہ متعارف کرایا جسے رشتۂ ایمان کہا جاتا ہے۔ قرآن  مجید نے اعلان کیا  "إنما المؤمنون إخوة" یعنی بھائی  وہ ہے جو ایمان کے رشتے میں بندھا ہوا ہو، نہ کہ وہ جو ایک قبیلے، رنگ یا زبان کا حامل  ہو۔
اسی تصور نےجب  مدینے کی زمین پر ایک عملی تشکیل اختیار کی تو نبی کریم ﷺ نے مختلف قبائل اور مذاہب کے افراد کو ایک سماجی معاہدے " میثاقِ مدینہ " کے تحت ایک معاشرتی وحدت میں پرویا۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کو سماج میں  ایک الگ  امت قرار دینا، اہل معاشرہ  کے درمیان  دینی فرق کو باقی رکھتے ہوئے مذہبی اور سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا، اور ریاستی قیادت کو ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت منظم کرنا، یہ سب اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اسلام نے قومیت کا مفہوم محض نسلی یا جغرافیائی  بنیادوں پر رکھنے  کرنے  کے بجائے  نظریاتی اور ایمانی  بنیادوں  پر وضع کیا ہے۔
یہ سلسلہ عہدِ نبویؐ سے شروع ہو کر  مختلف مسلمان بادشاہتوں سے ہوتا ہوا  بالآخر خلافتِ عثمانیہ تک جاری رہا۔ ہر دور میں امت کا رشتہ نسل و زبان سے ماورا رہا۔ مسلمان ترک تھے یا عرب، ایرانی تھے یا ہندی، سب ایک قوم کہلاتے تھے ۔  بعد ازاں  جب خلافتِ عثمانیہ  کا شیرازہ بکھرا، تب بھی یہ ایمانی وحدت ایک فکری تسلسل کے طور پر باقی رہی۔ استعمار کے دور میں یہی وحدت مسلمانوں کے لیے ایک ڈھال بنی، اور اسی احساسِ قومیت نے برصغیر کے مسلمانوں کے اندر ایک الگ شناخت کے شعور کو بیدار کیا۔برصغیر میں مسلمانوں کیلئے الگ قومیّت کی بات  سب سے پہلے سر سید احمد خان نے کی۔ انہوں نے سب سے پہلے یہ دعوی کیا  کہ ہندوؤں کے ساتھ اشتراکِ وطن کا مطلب اشتراکِ قوم نہیں۔ ان کا طرزِ فکر خالصتاً اصلاحی اور تعلیمی تھا، لیکن اس کے اندر ایک گہری تہذیبی اورتاریخی آگاہی پوشیدہ تھی۔ یہی بات کہ مسلمان اپنی تاریخ، تمدن، روایات اور عقائد کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں، آگے چل کر دو قومی نظریے کی صورت اختیار کرگئی۔
اسی نظریاتی اساس کو علامہ اقبال نے نئی فکری وسعت عطا کی۔ انہوں نے مسلمانانِ برصغیر کے لیے ایک جدا وطن کا خواب دیکھا، اور یہ استدلال پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور اس ضابطے کے پیروکاروں کا جداگانہ سیاسی نظام ہونا ناگزیر ہے۔علامہ  اقبالؒ کے نزدیک قوم وہ ہے جس کا خدا، رسول، شریعت، اخلاقی نظام اور تہذیبی شعور مشترک ہو۔ یہ تعبیر اسلام کے اس عالمگیر تصورِ امت کو ایک جغرافیائی اور سیاسی اظہار میں ڈھالنے کی ایک بھرپور کوشش تھی۔
فکری سطح پر یہ قومیت جب عملی سیاسی تقاضا بنی، تو اس کے قائد محمد علی جناح قرار پائے۔ ابتدا میں جناح ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے لیکن کانگریس کے رویے، 1937ء کے انتخابات، اور اقتدار کے ایوانوں میں مسلمانوں کی بیگانگی نے انہیں یہ حقیقت سمجھا دی کہ برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی مفادات صرف ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہاں سے مسلم قومیت ایک شعور سے بڑھ کر ایک سیاسی تحریک میں ڈھل گئی۔
مارچ 1940ء میں لاہور کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں جو قرارداد پیش ہوئی، وہ دراصل صدیوں پر محیط اس فکری ارتقاء کا سیاسی نقطۂ عروج تھی۔ یہ قرارداد مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کو آئینی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ تھی۔ اس مطالبے کی روح وہی تھی جو میثاقِ مدینہ کی روح تھی ، ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں مسلمان اپنی تہذیب، شریعت، ثقافت اور نظامِ حیات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
یہ امر محض ایک سیاسی ہنر نہیں تھا، بلکہ ایک فکری اور تاریخی ناگزیرت تھی۔ قیامِ پاکستان کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ اسلامی قومیت کے ایک تدریجی، منطقی اور نظریاتی سفر کی منزل تھی۔ حضرت محمد ﷺ کی امت سازی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ، خلافتوں کی وحدت سے گزرتا، برصغیر کی فکری تحریکوں سے ہوتا ہوا، قراردادِ لاہور میں پختہ ہوا اور بالآخر 1947ء میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوا۔
قائداعظم محمد علی جناح کا تصوّرِ قومیّت اپنے زمانے کی بہت ساری ناموّر شخصیات کے برعکس تھا۔ اُن  کی قیادت، فکری بصیرت اور اصولی سیاست نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نئی منزل تو  دی مگر اس راہ میں انہیں بہت سارے مسلمان اکابرین کی مخالفت کا سامنا رہا۔ ان میں علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا ظفر علی خان کا نام بطورِ مثال لیا جا سکتا ہے۔  
علامہ مشرقی، جو خاکسار تحریک کے بانی تھے، ایک عالمی اسلامی قوم  کا خواب دیکھتے تھے اور ان کی نگاہ میں برصغیر کی وحدت کو توڑ کر ایک علیحدہ ریاست قائم کرنا درست نہ  تھا۔ وہ قائداعظم کی پارلیمانی سیاست اور مسلم لیگ کی قیادت کے تصوّرِ قومیت سے متفق نہ  تھے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں یہ تاثر نمایاں ہے کہ وہ  جس مسلمان قوم کی بات کر رہے تھے اُس مسلمان قوم کیلئے جناح کو بطورِ قائد ماننے  پر تیار نہیں تھے۔
اسی طرح مولانا ظفر علی خان، جو "زمیندار" جیسے بااثر اخبار کے مدیر تھے،  ان کا جھکاؤ ایک ایسی  مسلمان قوم کی طرف تھا جو شریعت کا عملی نفاذ تو کرے  لیکن وہ  ایسی مسلمان قوم کو بطورِ قوم ماننے کیلئے آمادہ  نہ تھے  کہ جو  ایک نیا جغرافیائی وطن تشکیل دے۔ ان کا راستہ  مہاتما گاندھی کی مانند "ہندو مسلم ایک قوم "والا تھا۔  مسٹرگاندھی اور علامہ مشرقی کی مانند  وہ  بھی جناح کے تصوّرِ قومیت کو رد کرتے تھے۔
ادھر گاندھی، جو ایک عظیم سیاسی شخصیت اور ہندوستانی قوم پرستی کے سب سے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں،  وہ بھی قائداعظم کے دو قومی نظریے کو صاف الفاظ میں مسترد کرتے تھے۔ ان کے مطابق ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، اوردین  کو بنیاد بنا کر قوموں کی تقسیم کرنا ایک غلطی ہے۔ گاندھی کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے قیام کو ایک المیہ سمجھتے تھے اور  انہوں نے اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ مذکورہ تینوں شخصیات مختلف زاویوں سے حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے  مماثلت  رکھتی ہیں۔ جیسے  قائداعظم کی قیادت کو ماننے سے انکار، دو قومی نظریے کی مخالفت اور ہندو مسلم کا ایک قوم ہونے  کا دعویٰ۔ اگرچہ مشرقی اسلامی انقلاب کے داعی تھے، مولانا ظفر علی خان مذہبی رومانویت کے قائل، اور گاندھی سیکولر قوم پرست، مگر تینوں کے نزدیک جناح کا تصوّرِ قومیّت  ناقابلِ قبول تھا۔
یہ فکری مخالفتیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ تحریکِ پاکستان کا تصوّرِ قومیّت اپنے ہمراہ بہت سارے مسلمانوں کی مخالفت بھی لئے ہوئے تھا۔ نظریاتی اختلافات کو چیر کر اپنا راستہ بنایا۔ بالآخر پاکستان قائم ہوا اور تاریخ نے فیصلہ دے دیا کہ میثاقِ مدینہ سے شروع ہونے والا "مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا تصور"  اس قابل ہے کہ اس کی بنیاد پر مسلمان چودہ سو سال کے بعد بھی ریاستِ مدینہ کی مانند اپنے لئے   ایک الگ ملک بنا سکتے ہیں۔
پاکستان در اصل مسلمان  قوم کے جغرافیائی وجود کے اظہار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے   ایک جداگانہ  فکری موقف، ایک تہذیبی سفر ، اور ایک تاریخی شعور کا مظہر  بھی ہے۔ یہ ریاست اس طویل فکری ارتقاء کی زندہ علامت ہے، جس نے اسلام کے عقیدے  پر مبنی قومیت کو محض وعظ و نصیحت سے نکال کر ایک عملی سیاسی قالب میں ڈھالا۔ قائداعظم محمد علی جناح  کے تصوّرِ قومیت کو سمجھنے کیلئے میثاقِ مدینہ سے قرارد لاہور تک کی  تاریخی سچائیوں  کو سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس سے  ماضی کی تفہیم بھی ہو گی اور  حال و مستقبل کی سمت متعین کرنے کے لیے بھی مدد ملے گی۔ 

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے صادقینؑ کی تعلیمات کو عملی کیا۔ جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی


قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے صادقینؑ کی تعلیمات کے مطابق ساری امت کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی 
رپورٹ  سید قاسم  علی : 
جشن صادقین ﷺ کی مناسبت سے سترہ ربیع الاوّل کو  منعقد ہونے والے جشن میں مقررین نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے صادقینؑ کی تعلیمات کے مطابق ساری امت کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ تفصیلات کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام آباد کے طلبا پر مشتمل جامعۃ الرضا  اسٹوڈنٹس سوسائٹی  نے سترہ ربیع الاوّل کی مناسبت سے ایک فکر انگیز نشست کا اہتمام کیا۔
نشست سے طلبا اور اساتذہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمات صادقینﷺ پر عمل کرکے اُمّت کے مستقبل کو سنوارا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی شخصیّت کو بطورِ مثال پیش کیا۔ 
یاد رہے کہ جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سال بھر طلبا کی فکری و معنوی تربیت کیلئے  ایسی نشستیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی کی ایک اہم ذمہ داری طلبا کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں مدیریّت و منصوبہ بندی کی روح پھونکنا  نیز  سوسائٹی کا مقصد  طلبا میں ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کے نکھار کیلئے ان میں  اجتماعی اور تنظیمی شعور کو فروغ دینا ہے۔
اس پُرمسرّت موقع پر اساتذہ کی طرف سے بعض طلبا کو انعامات بھی دئیے گئے۔ 


رسول اللہ ﷺ اور آج کے مذہبی رویّے

رسول اللہ ﷺ  اور آج کے مذہبی رویّے
پروفیسر سید امتیاز علی رضوی : 
سیرتِ نبویؐ کا ایک دلکش اور روشن پہلو وہ ہے جہاں محبت کی شگفتگی ہے، لطف و کرم کی بارانی ہے، خندہ پیشانی کی رونقیں ہیں، اور مزاح کے پاکیزہ لمحات ہیں۔ یہ باب نہ صرف حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتی زندگی کی جھلک پیش کرتا ہے، بلکہ ہمیں زندگی گزارنے اور دوسروں کے ساتھ ربط و ضبط قائم رکھنے کا بہترین نمونہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تقویٰ اور بزرگی کا مطلب ترش روئی، اکڑ، یا لوگوں سے کٹ کر رہنا نہیں، بلکہ خوشیاں بانٹنا، مسکراہٹیں بکھیرنا اور دلوں کو جوڑنا ہے۔
جس طرح قرآنِ مجید اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ سیرت بھی ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر وصال تک کے واقعات تفصیل سے سیرت و احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ تاریخ نگاروں نے آپ کے معمولات، ذاتی عادات، نشست و برخاست، لباس، گفتگو، اور معاشرتی تعلقات تک کو قلمبند کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو "اسوۂ حسنہ" قرار دیا ہے، جس کی پیروی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ خاص طور پر مذہبی راہنماؤں اور دینی طبقے کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے سیرتِ نبویؐ کے آئینے میں اپنا رویہ دیکھیں۔
رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ نرمی، محبت اور شگفتگی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ کے مزاج میں درشتی اور سختی کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس نرم دلی کو اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ  
(آل عمران: 159)"اے نبیؐ، یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم لوگوں کے لیے نرم مزاج ہو، اگر تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد سے بھاگ کھڑے ہوتے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے لوگوں کے درمیان رہیں، ان سے ملا جلا کریں اور معاشرت پیدا کریں۔ لیکن آج ہمارا فہم، مذہبی انسان کا تصور ایک ایسے گوشہ نشین کے طور پر کراتا ہے جو ہمیشہ ظاہری عبادت میں مگن رہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ لوگوں کے بیچ رہے، ان کے دکھ سکھ بانٹے۔
آپ ﷺ کا نرم مزاجی کا یہ رویہ ہر ایک کے ساتھ تھا—خواہ اہلِ بیت ہوں، ازواجِ مطہرات، بچے ہوں یا بزرگ، قریبی ساتھی ہوں یا اجنبی۔ آپ ﷺ بچوں سے خصوصی محبت کرتے، ان سے پیار بھری باتیں کرتے، اور کبھی کبھی پاکیزہ مزاح بھی فرماتے۔ امام حسن اور امام حسین ؑ کے ساتھ آپ ﷺ کے پیار بھرے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ ایک موقع پر آپ ﷺ راستے میں کھیلتے ہوئے بچوں میں ان دونوں کو دیکھ کر مسکرائے، ان کے پیچھے دوڑے، پکڑا اور پیار سے بوسہ دیا۔ (مسند احمد)
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے، گوشت کاٹتے، دسترخوان پر بڑے تواضع سے بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ کھانا کھاتے، مسکینوں کے ساتھ مصافحہ کرتے، اور اپنے ساتھیوں کو پانی پلانے کے بعد خود پانی پیتے۔ آپ ﷺ فرماتے: "ساقی قوم آخر میں پانی پئے۔"
لیکن افسوس، آج کا مذہبی طبقہ سیرت کے ان پہلوؤں سے اکثر غافل ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کا ایک غلط تصور پایا جاتا ہے جس میں خشکی، اکڑ اور رسمیں شامل ہو گئی ہیں۔ ہم سیرت کو اسوہ بنانے کے بجائے معاشرتی توقعات کے اسیر ہو گئے ہیں۔
ایک واقعہ ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ کی چادر زور سے کھینچی، جس سے آپ کی گردن پر خراش آ گئی۔ اس نے گستاخی سے کہا: "مجھے اپنے اونٹوں پر غلہ لاد دو۔" آپ ﷺ خاموش رہے، پھر مسکرا کر اسے جو اور کھجور دلوا دیں۔ (سفینۃ البحار)اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ میں انتہائی بردباری تھی۔ آج کے مذہبی راہنما اکثر جلد غصہ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل ان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ایک اور واقعہ یہ ہے ک ایک یہودی نے قرض کی واپسی کے لیے آپ ﷺ کو روک لیا۔ آپ ﷺ نے نرمی سے کہا کہ ابھی ادائیگی ممکن نہیں۔ یہودی نے اصرار کیا تو آپ ﷺ وہیں بیٹھ گئے۔ جب صحابہ نے اسے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا اور کہا: "میرے رب نے مجھے ظلم کرنے کے لیے نہیں بھیجا۔" یہ دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہو گیا اور بولا: "میں نے تورات میں آپ کی یہی صفات پڑھی تھیں۔" (امالی شیخ صدوق)
آج کے مذہبی معاشرے میں مختلف گروہ بن گئے ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں سے الگ سمجھتے ہیں۔ ہر گروہ اپنی پہچان الگ بنانا چاہتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ سب کے ساتھ مل کر رہے، کسی سے امتیاز نہ برتا۔سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیزعلیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم
"تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آئے، جنہیں تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے، جو تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں، اور مومنوں کے لیے نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔" (التوبہ: 128)
آج کے مذہبی راہنما اکثر اپنی ذات میں مگن رہتے ہیں۔ اگر دوسروں کی طرف توجہ دیں بھی تو وہاں محبت کے بجائے نفرت اور تنقید کا element زیادہ ہوتا ہے۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: "میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے مجھے اُف تک نہیں کہا۔" آج کے مذہبی خطبے اور تقریریں دیکھیں—وہاں گالی گلوچ، طعن و تشنیع اور بدتمیزی عام ہے۔
ایک مرتبہ انس بن مالک ؓ نے آپ ﷺ کے لیے دودھ اور روٹی رکھی، لیکن غلطی سے خود کھا لی۔ پوری رات پریشان رہے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی پوچھا تک نہیں۔ آپ ﷺ کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
آپ ﷺ اپنے لیے کسی امتیاز کے قائل نہ تھے۔ سفر میں جب گوشت پکانے کا موقع آیا، تو آپ ﷺ خود لکڑیاں جمع کرنے چلے گئے۔ صحابہ نے روکا تو فرمایا: "مجھے تم سے الگ تھلگ رہنا پسند نہیں۔" حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ صحابہ میں اس طرح بیٹھتے کہ کوئی اجنبی پہچان نہ پاتا کہ رسول اللہ ﷺ کون ہیں۔
آج کی مذہبی محفلیں اس کے برعکس ہیں—وہاں بڑے بڑے سجادے، ممتاز نشستیں، علیحدہ دسترخوان، مہنگے لباس اور پروٹوکول کا دبدبہ ہوتا ہے۔ مریدوں کے جھرمٹ، قدم بوسی، دست بوسی—یہ سب سیرت کے برعکس ہے۔رسول اللہ ﷺ جب کسی سے ملتے تو مسکرا کر ملتے، مصافحہ کرتے تو دوسرا شخص ہاتھ کھینچتا تب جاتے۔ جب تک ساتھ بیٹھا شخص خود نہ اٹھتا، آپ ﷺ نہ اٹھتے۔ کسی صحابی کو تین دن نہ دیکھتے تو دریافت فرماتے، اگر بیمار ہوتے تو عیادت کو جاتے۔ آپ ﷺ عام گدھے پر سفر فرماتے، غلاموں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، بچوں کو سلام کرتے۔
آج کے "مذہبی" معاشرے میں بڑی گاڑیاں، قیمتی لباس، مریدوں کا ہجوم—یہ سب دکھاوا بن گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اگر سوار ہوتے اور کوئی پیدل چل رہا ہوتا تو اسے اپنی سواری پر بٹھا لیتے، یا اسے آگے جانے کو کہتے۔ آج مذہبی راہنما بڑی گاڑیوں میں سوار ہیں اور عوام ان کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔
آپ ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے، دوستوں کے ساتھ پاکیزہ مزاح فرماتے۔ ایک بزرگ خاتون نے جنت کی دعا مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "بوڑھیاں جنت میں نہیں جائیں گی۔" وہ رونے لگیں تو مسکرا کر بتایا: "تم جوان ہو کر جاؤ گی۔ اللہ تمہیں نئی صورت عطا فرمائے گا۔"
آپ ﷺ کی مجلس میں سب برابر ہوتے، کوئی اونچ نیچ نہ تھی۔ آپ ﷺ صحابہ کی بات غور سے سنتے، ان کے ساتھ ہنستے، اور کبھی کبھی بغیر کہے بھی مسکرا دیتے، پھر اس کی حکمت بتاتے۔سیرتِ نبویؐ کا یہ روشن پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مذہبی بننے کا مطلب خشکی اور تکبر نہ سمجھیں، بلکہ محبت، نرمی، اور خندہ پیشانی کو اپنائیں—ورنہ ہم دین کی صحیح روح سے محروم رہ جائیں گے۔
۱۱ ستمبر 2025ء مطابق 17 ربیع الاول 1447ھ

جمعرات، 11 ستمبر، 2025

جامعہ الرضا میں "جشنِ صادقینؑ" اور قائداعظم محمد علی جناح ؒکو خراجِ عقیدت

جامعہ الرضا میں "جشنِ صادقینؑ" اور قائداعظم محمد علی جناح ؒکو خراجِ عقیدت

رپورٹ: شیخ تاثیر رضا

۱۱ ستمبرکو جامعہ الرضا میں "جشنِ صادقین" منانے  اور قائداعظم محمد علی جناح ؒکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک  تقریب کا اہتمام کیا گیا،تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت قاری مشاہد حسین نے حاصل کی۔ ان کے بعد نیر حسین نے بارگاہِ رسالت میں نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کی، جس نے محفل کو معطر کر دیا۔

متعلم  شاکر حسین نے منقبت خوانی کی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ تقریری سلسلے کا آغاز سہیل عباس کی پُر اثر تقریر سے ہوا، جس کے بعد سید محمد علی گردیزی نے اپنی خطابت کے جوہر دکھائے۔

نعت خوانی کا سلسلہ محمد حسین اور مدثر حسین کی خوبصورت آوازوں سے شروع ہوا۔ ان کے بعد محمد تنویر شاکر اور سید حسن کاظمی نے اپنی تقاریر میں  ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ اور حضرت امام صادقؑ کی سیرت و تعلیمات کو بیان  کیا۔

تقریب میں شیخ تاثیر رضا اور شیخ زریاب حیدر نے بھی اپنی خوبصورت آوازوں کے ساتھ محفل کو گرمایا۔ 
مقررین نے  صادقین ؑ کی سیرت اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات  کی روشنی میں نوجوانوں میں علم، اخلاص اور کردار سازی کی اہمیت پر زور دیا۔ 

اس  موقع پر متعلم  سید محمد توقیر اور نقی حسین  جعفری نے بھی مؤثر تقاریر کیں، جنہیں سامعین نے توجہ سے سنا۔ 

نعت خوانی کے آخری مرحلے میں محترم مزمل حسین انچارج شعبہ تحقیق  اور سید محمد رضی عباس  نے بھی نعتیں پیش کیں۔ 

بعد ازاں متعلم ابوذَر غفاری نے  ایک بہترین تقریر کر کے محفل کو چارچاند لگا دئیے۔تقریب کے اختتام پر جامعۃ الرضا  اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے صدر  برادر  واصف رضا نے تمام طلباء، مقررین اور نعت خواں حضرات کا شکریہ ادا کیا۔
 آخر میں استادِ محترم ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب کو  مدعو کیا گیا، جنہوں نے دل سوز دعا کے ذریعے محفل کا اختتام کیا۔اس بزم کا سب سے زیادہ روحانی پہلو تلاوتِ قرآن مجید سے بزم کا  آغاز اور  ظہرین کی نماز ِ جماعت کے ساتھ اختتام تھا۔ 



 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...