کیا ہم اسرائیل کی پراکسی ہیں؟
ڈاکٹرنذر حافی :
ٹرمپ غزہ منصوبے کی تشکیل سے فلسطینیوں کو مکمل طور پرالگ رکھا گیا ہے۔ فلسطینی قیادت اور عوام کو اس منصوبے سے جدا رکھنے سے اس منصوبے کی کوئی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز ہی باقی نہیں رہتا کہ جس کی بنیاد پر اس کی حمایت کی جا سکے۔ اس کی ایک اور اہم خامی یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کے غلبے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے ہر طرح کا تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز ، دفاعی حدود، اور علاقائی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، جغرافیائی وحدت، اور ریاستی سالمیت کی عملاً نفی کر دی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ
منصوبہ اصولوں اور انصاف کے بجائے طاقت اور دھونس کا مظہر ہے۔
اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو نظر انداز کرنا، فلسطینی علاقوں کو الگ الگ انتظامی اکائیوں میں تقسیم رکھنا، اور فلسطینی ریاست کی تشکیل کے عمل کو عملی سطح پر غیر یقینی بنا دینا۔۔۔ یوں یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون، اور انسانی حقوق کی عالمی روایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے یا اسے فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اگر اس منصوبے کا جائزہ لیا جائے تو یہ فوری جنگ بندی یا انسانی امداد کی فراہمی کے بجائے فقط اسرائیل کی جغرافیائی اور سیاسی بالادستی کو تحفظ دیتا ہے۔ یعنی یہ در اصل اسرائیل کے عسکری وسیاسی اثرورسوخ کی تنظیمِ نو کا فارمولہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے میں کسی کرائے کے مزدور کی مانند اسرائیل کی ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پراکسی ڈپلومیسی کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس میں ریاستیں اپنی خارجہ حکمت عملی کسی تیسرے فریق کے دباؤ، اثر یا مفاد کے تابع تشکیل دیتی ہیں۔ ان کا موقف ریاستی اصولوں، قومی نظریات اور جمہوری رجحانات کے منافی ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس منصوبے کی تائید خود پاکستانیوں کیلئے ایک بڑا اسوال ہے، خاص طور پر جب پاکستان کو خلیجی ممالک اور امریکہ جیسے اتحادیوں نے تعلقات و مفادات کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
اربابِ اختیار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسا طرزِ عمل کئی سطحوں پر پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اوّل، اس سے پاکستان کی وہ اخلاقی برتری مجروح ہوتی ہے جو اس نے ہمیشہ مظلوم اقوام کے حق میں اختیار کی۔ دوم، خارجہ پالیسی کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان سفارتکاری میں بھی دوسروں کی ایک پراکسی ہے۔ سوم، ریاست اور عوام کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گی اور ریاست پر عوام کے اعتماد میں مزید کمی آئے گی۔ ظاہر ہے فلسطین کے مسئلے پر عوام کا اجتماعی ضمیر جس مؤقف کی توقع کرتا ہے، ریاست اس سے منحرف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی عمل کو پراکسی سفارتکاری کہتے ہیں۔ اس میں ایک ریاست خودمختار پالیسی سازی کے بجائے، ثالث یا سرپرست ریاست کے ایجنڈے کو اپناتی ہے۔
غزہ امن منصوبہ ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی علامت ہے جو بکھرتے ہوئے اسرائیل کو دوبارہ جوڑنے کیلئے ہے۔ اس منصوبے میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو کسی فوری جنگ بندی کو ممکن بنانے کے بجائے صرف اسرائیل کو بچانے کیلئے فکر مند ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں وقتی سفارتی مصلحتوں کے بجائے اصولی وابستگی، تاریخی موقف، اور عوامی جذبات کو ترجیح دے، تاکہ اس کی سفارت کاری خودمختار ہو اور باوقار نظر آئے۔
کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب قومیں اصولوں و نظریات کی بنیاد پر اپنی راہیں متعین کرتی ہیں تو وہ صرف سیاسی پالیسی نہیں بناتیں بلکہ تاریخ میں اپنے اخلاقی نقوش بھی مرتب کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جب یہی قومیں وقت کی گردش، خارجی دباؤ، یا داخلی کمزوریوں کے تحت اپنے اصولوں اور نظریات سے انحراف کرتی ہیں تو تاریخ میں اُن کے کردار کے اندر ایک گہری منفی تبدیلی واقع ہوتی ہے جسے "نارم شیفٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہوتا ہے کہ جس کے دوران نظریہ مصلحت میں تحلیل ہو جاتا ہے اور نظریات عارضی فائدے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض سفارتی زبان یا سرکاری بیانیے میں نہیں آتی بلکہ قوم کے تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے، ایسی دیمک جو وقت کے ساتھ ساتھ قومی شناخت، اخلاق اور وژن کے مفاہیم کو کھا جاتی ہے۔ اسی کو سفارتی و نظریاتی کہتے ہیں چونکہ اس کے دوران ماضی کا "حق" حال کے عارضی "مفاد" میں دفن ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ قومیں اکثر اپنی شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اصولوں سے دستبرداری کے لمحے میں کھاتی ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جب نظریاتی کمزوری کو ریاستی پالیسی کا نام دے دیا جاتا ہے۔
آخر میں ہم اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان، فلسطینی قوم کی مرضی کے خلاف کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے جو درحقیقت اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے تو اس حمایت کے پیچھے کسی قسم نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ واضح طور پر ایک سیاسی و سفارتی سرنڈر ہے۔ پراکسی ہونا صرف فوجی محاذ پر دوسرے کے مفاد کے لیے لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ جب کوئی ریاست اپنی خودمختار سفارتی زبان کھو دے اور اس کے سیاست دان اور قلم کار اپنے قومی نظریات کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کردیں تو یہی پراکسی ڈپلومیسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ کیا غزہ امن منصوبے کی حمایت کر کے اس وقت ہم بطورِ اسرائیلی پراکسی کام نہیں کر رہے؟
































.jpg)











