زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

Voice of Nation

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 31 جولائی، 2026

جنوبی پنجاب میں عزاداری تیسری قسط

جنوبی پنجاب میں عزاداری  اور بیداری کی کیفیّت : 
تیسری قسط: 
 شاہراہوں اور چوکوں میں مرکزی جلوسوں کی  مجالس :  
ڈاکٹر نذر حافی :
سات محرم الحرام کو بازار کی رونق حسبِ معمول تھی۔ جام پور میں دکانوں کے شٹر آدھے کھلے تھے، کہیں تولنے کے باٹ بج رہے تھے، کہیں کپڑے ناپے جا رہے تھے، کہیں چائے کی بھاپ ہوا میں تحلیل ہو رہی تھی۔ اتنے میں دور سے ماتم کی منظم  صدا  سنائی دی۔ پہلے چند سیاہ علم نمودار ہوئے، پھر عزاداروں کی ایک خاموش مگر پُروقار قطار، اور پھر ایسا محسوس ہوا جیسے پورا بازار اپنی سانس روک کر اس قافلے کے گزرنے کا منتظر ہو۔ دکاندار اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے، خریداروں نے خرید و فروخت کے جملے ادھورے چھوڑ دیے، گاڑیوں کے شور پر نوحے کی لے غالب آ گئی اور چند لمحوں کے لیے یوں لگا جیسے بازار تجارت کی جگہ تاریخ کی راہداری بن گیا ہو۔ گویا امام حسینؑ کا قافلہ چودہ سو برس کا فاصلہ طے کرکے انہی گلیوں سے گزر رہا ہو اور ہر شخص، چاہے وہ جلوس میں شامل ہو یا کنارے کھڑا تماشائی، اس سفر کا ایک خاموش مسافر بن گیا ہو۔
آج ۷ محرم الحرام ۱۴۴۸ ھجری کو میرے ساتھ آٹھ سالہ حسین عباس بھی جام پور کی عزاداری کو دیکھ کر  محوِ حیرت ہے۔  شہر کے  ایک  مرکزی چوک میں نمازِ مغربین سے کچھ دیر پہلے  ایک منبر سجا  دیا گیاہے۔ چاروں طرف لوگوں کا حلقہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ سامنے فرشِ عزا بچھا ہے، اطراف میں دکانوں کے شٹر ڈاون ہیں، جیسے ہی  منبر سے  گفتگو کا آغاز ہوتا ہے تو بازار کی آوازیں خودبخود پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ سبیل پر شربت اور  چائے کے کپ ہاتھوں میں رکے رہ جاتے ہیں، سودا سلف کی فہرستیں جیبوں میں واپس چلی جاتی ہیں، راہ گیر چند لمحوں کے لیے اپنے قدم روک لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارا  شہر ہی  ایک  دل بن کر دھڑک رہا ہے۔ منبر سے نکلنے والے الفاظ صرف حاضرین کے کانوں تک نہیں پہنچتے، وہ بازار کی دیواروں، بند ہوتے شٹروں، روشن سائن بورڈوں اور گزرتی ہوئی ہوا میں بھی تحلیل ہو جاتے ہیں، جیسے شہر کی اینٹ اینٹ اس داستان کی سامع ہو۔
ایسا جنوبی پنجاب کے ہر شہر میں ہوتا ہے۔ یہی وہ مناظر ہیں جو عزاداری کی  تہذیب کو ایک زندہ اجتماعی معاشرہ  بناتے ہیں۔ شاہراہوں پر نکلنے والے جلوس اور چوکوں میں منعقد ہونے والی مرکزی مجالس دراصل امام حسینؑ کے پیغام کو چار دیواری سے نکال کر پورے شہر کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ ہر بازار اور قصبے کے اہم  چوک میں   امام عالی مقام سے عقیدت کے ناقابلِ فراموش  مناظر دکھائی دیتے ہیں۔میں  ابھی  اللہ آباد  اور چاہ جسو والا سے ہو کر آیا تھا اور اب بستی گڈن کا جلوس بھی دیکھنے جانا تھا۔ ڈیرہ غازی خان بھی چند گھنٹوں کی مسافت پر تھا اور ملتان  و جھنگ  میں  تو  آتے ہوئے  پڑاو ڈالا تھا۔
جس طرح  امام بارگاہ صرف اینٹوں، ستونوں اور گنبدوں کا نام نہیں اسی طرح عزاداری بھی  نسل ِ نو کی فکر و  تقدیر بدلنے کی کلید  ہے۔ اسے اسلامی  معاشرے کی فکری اور اخلاقی نبض  کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔یہی کربلا کی سب سے بڑی فتح  کا نقارہ ہے۔ملتان جیسے بڑے شہر میں جہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور ہزاروں نوجوان موجود ہیں، وہاں  امام بارگاہیں علمی مکالمے، تحقیقی سیمینار، مطالعۂ کتب، ڈیجیٹل میڈیا ٹریننگ، بین المسالک مکالمے اور سماجی خدمت کے مراکز بن سکتی ہیں۔ اسی طرح راجن پور جیسے اضلاع میں، جہاں دیہی آبادی اہلِ بیتؑ سے بے پناہ محبت رکھتی ہے، امام بارگاہیں ناخواندگی کے خاتمے، نوجوانوں کی کردار سازی، منشیات سے بچاؤ، تعلیمی رہنمائی اور باہمی تعاون کے مراکز کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ عزاداری میں نوجوانوں کی شرکت تو بہت زیادہ ہے، لیکن ان کی فکری تربیت نسبتاً کم ہے۔ وہ جلوسوں کے نظم و ضبط، ماتم اور دیگر خدمات میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بہت کم ایسے پروگرام ہوتے ہیں جہاں انہیں یہ سکھایا جائے کہ ایک حسینی نوجوان کی شخصیت کن اصولوں پر استوار ہونی چاہیے، وہ اپنے تعلیمی میدان، پیشہ ورانہ زندگی، معاشرتی تعلقات اور قومی ذمہ داریوں میں امام حسینؑ کے کردار کی عملی پیروی کیسے کرے۔
روزانہ رات کو دس بجے ہماری کچھ جوانوں سے ایک ملاقات ہونے لگی۔ ان میں  ہر روز کچھ نئے چہرے ہوتے تھے اور کچھ پرانے۔  یہ جوان دن بھر عزاداری میں مشغول رہتے اور رات کو اپنی تھکن اتارنے کیلئے کچھ دیر ہمیں شرفِ ملاقات بخشتے۔ ہمیں  ان ملاقاتوں سے عزاداری کے فروغ، مجالس عزا کی اہمیت ،  ماتمی سنگتوں، متولی حضرات اور  ذاکرین کے بارے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق عزاداری کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنے کیلئے عزاداروں میں  جدید ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھانے کی رفتار بھی بہت سست ہے۔ آج  جدید دنی جب ا سوشل میڈیا، پوڈکاسٹس، ڈاکومنٹریز، آن لائن کورسز اور ڈیجیٹل لائبریریوں کے ذریعے نظریات پھیلا رہی ہے، تو ایسے میں  جنوبی پنجاب کی عزاداری ابھی تک بڑی حد تک روایتی ذرائع تک محدود ہے۔ اگرچہ انفرادی سطح پر بعض قابلِ قدر کوششیں موجود ہیں، لیکن ادارہ جاتی سطح پر ایک منظم حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی۔
ان کے مطابق جنوبی پنجاب کے بعض دورافتادہ علاقوں میں عزاداری کی روایت اتنی ہے کہ عام لوگ  سُنائے جانے والے واقعات کو سمجھے بغیر اُن پر سو فیصد یقین رکھتے ہیں ۔  مثال کے طور پر  اگر  کئی سال پہلے کسی نے یہ کہا ہے کہ اہلِ بیت کا سفینہ ۲۷ رجب کو مدینے سے نکلا ۔۔۔ تو  بعض علاقوں کے  لوگ  محرم الحرام میں باقاعدہ سفینہ بھی  بطورِ شبیہ نکالتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مدینے میں کوئی دریا تھا  جس کے میں سوار ہو کر اہلِ بیت ؑکربلا آئے تھے۔  ایسی جگہوں پر یہ  سفینے والا قدیمی  مضمون سفینہ سامنے رکھ کر آج بھی ذاکرین سے فرمائش کر کے پڑھوایا جاتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔ 



جمعرات، 30 جولائی، 2026

آزاد کشمیر کے ٹھوس عوامی مطالبات اور کمزورسرکاری پروپیگنڈہ

آزاد کشمیر کے ٹھوس عوامی مطالبات اور کمزورسرکاری پروپیگنڈہ :
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی :
آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی و سماجی بحران اور عوامی احتجاج نے سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اقوام متحدہ کو بھی مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور مقتدر حلقوں کے درمیان پروپیگنڈے کی ایسی اندھی چل رہی ہے کہ جس میں حقائق کو سمجھنا عام آدمی کیلئے بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ایک مخصوص بیانیے کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے 9 جون سے پہلے آزاد کشمیر میں سب کچھ پرسکون تھا اور اچانک کسی جتھے نے امن کو آگ لگا دی۔ اب اس پر بحث و نزاع  کے بجائے  ہمارے نزدیک جلتی پر پانی ڈالنا ہی مسئلے کا حل ہے۔ اس لیے آئیے اس سارے  بحران کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی کوشش کیجئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک زخم کی گہرائی کو ٹھیک طریقے سے نہ سمجھا جائے، تب تک کوئی مرہم پٹی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔
یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ احتجاجی لہر سے پہلے آزاد کشمیر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام طویل عرصے سے شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے۔ آزاد کشمیر کے عوام پچھلے کئی ماہ سے منگلا ڈیم کی پیداواری لاگت کے مطابق سستی بجلی، آٹے پر سبسڈی اور مقتدر طبقے کی شاہانہ مراعات کے خاتمے کے لیے سراپا احتجاج تھے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بینر تلے طویل عرصے سے پرامن دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کی جا رہی تھیں، کیونکہ حکومت کی جانب سے بار بار کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ لہٰذا یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں تھا بلکہ دیرینہ معاشی مطالبات کا شاخسانہ تھا، کیونکہ جب روٹی اور انصاف نایاب ہو جائیں تو صبر کی دیواریں خودبخود گر جایا کرتی ہیں۔
9 جون سے قبل آزاد کشمیر میں بازار کھلے تھے، امن و امان قائم تھا اور سیاحت اپنے عروج پر تھی جس سے مقامی لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔ جب عوامی تحریک کے جائز معاشی مطالبات کو حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بیرونی فورسز کو آزاد کشمیر میں داخل کیا گیا، تو مقامی آبادی میں شدید اشتعال پھیلا۔ اس وقت ریاستی انتظامیہ کے سخت رویے کے خلاف مقامی غصے کے نتیجے میں کئی نعرے گونجے اور سخت تقاریر شروع ہوئیں، جس کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تصادم ہوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مقتدر حلقوں نے یہ نہیں سوچا کہ طاقت کا توازن جب مکالمے کے بجائے جبر سے قائم کرنے کی کوشش کی جائے، تو امن کی بساط لپٹتے دیر نہیں لگتی۔
کہا جاتا ہے کہ فورسز کی جانب سے تشدد کرنے کے باعث دورانِ احتجاج چند مقامات پر فورسز کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور شاید کہیں پر افواجِ پاکستان کو بارڈرز سے ہٹانے کی باتیں بھی ہوئیں۔ ایسے ماحول میں اس حساس پہلو کی حقیقت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ فورسز کو سرحدوں سے ہٹانے یا سیکیورٹی اہلکاروں کو دھمکیاں دینے والے بیانات عام کشمیری عوام کی ترجمانی ہرگز نہیں کرتے۔ یہ چند مخصوص نظریاتی پلیٹ فارمز تھے جنہوں نے جان بوجھ کر صورتحال کو خراب کیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین نے بارہا آن ریکارڈ یہ وضاحت کی کہ ان کی تحریک خالصتاً معاشی اور آئینی حقوق کی تحریک ہے اور ان کا کسی بھی پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بعض مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پرامن عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے مقتدر اداروں کی سرپرستی میں ایسے مخصوص عناصر اور شرپسندوں کو جان بوجھ کر ان مظاہروں میں داخل کیا گیا، جن کا مقصد دانستہ طور پر پاکستان مخالف نعرے بازی کرنا اور اشتعال پھیلانا تھا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ان شرپسند عناصر کو مظاہروں میں بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی پرامن اور جائز معاشی تحریک پر ملک دشمنی کا لیبل لگایا جا سکے، اور اسی بہانے کو بنیاد بنا کر اس عوامی پلیٹ فارم کو کالعدم قرار دے کر کچلا جا سکے۔ ان احتمالات کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب انصاف کے متلاشیوں کو سازش کے دائروں میں قید کر دیا جائے، تو امن کی امید اندھیروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
اس وقت جاری پروپیگنڈے کا سب سے افسوسناک رخ یہ ہے کہ راولاکوٹ جیسے شہروں کی احتجاجی ویڈیوز کو لے کر ایسے لوگ بھی پکار پکار کر بات کر رہے ہیں جنہیں خود معلوم نہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ جن لوگوں نے ففتھ جنریشن وار کا صرف نام سن رکھا ہے اور اس سے بالکل نابلد ہیں، وہ آج کل طوطے کی طرح اس اصطلاح کو دہرا رہے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کشمیری کوئی جاہل یا بہکاوے میں آنے والے لوگ نہیں ہیں، وہ انتہائی باشعور، پڑھے لکھے اور بیدار مغز ہیں۔ مقتدر اداروں کو چاہیے کہ وہ ففتھ جنریشن جیسی بھاری بھرکم اصطلاحات کے پیچھے اپنا منہ نہ چھپائیں اور زمینی حقائق کا سامنا کریں۔ پاکستان سے محبت کشمیریوں کے ایمان اور ان کی جان کا حصہ ہے، جس پر کسی قسم کے شک کرنے کی گنجائش نہیں۔ بعض آزاد دانشوروں کے مطابق مقتدر حلقوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور آزاد کشمیر میں ماضی کے مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش جیسی صورتحال پیدا کرنے کے نتائج کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
کچھ سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے محب وطن کشمیریوں کو غدار یا انڈیا کا ایجنٹ کہنا ریاست کے لیے ایک انتہائی مہنگا سودا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس وقت یہ پہلو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ اپنے ہی جائز حقوق مانگنے والے شہریوں کو خواہ مخواہ غدار کہنا دراصل بھارت کے ہندوتوا نظریے اور نریندر مودی کے پاکستان مخالف بیانیے کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں خوش کرنا ہے اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہی اصل غداری ہے۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ ایسی ناروا باتوں اور ایسے سنگین الزامات لگانے سے بچا جائے، کیونکہ جو لوگ دشمن کے اس ایجنڈے کو دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کر کے وفاق اور کشمیر کے درمیان دوریاں پیدا کر رہے ہیں، وہ خود ملک کا نقصان کر رہے ہیں، اور جو ریاست اپنے وفاداروں کو ہی مشکوک بنا دے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے وجود کو کمزور کرتی ہے۔
قانون کے دائرے میں رہے تو نہ ریاست غلط ہوتی ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے والا شہری۔ آزاد کشمیر حکومت نے بعد ازاں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اربوں روپے کے تاریخی امدادی پیکیج اور سبسڈی کی منظوری دے کر عوام کے معاشی مطالبات کو تسلیم بھی کیا تھا لیکن پھر اپنی من مانی شروع کر دی۔ عوام کے نزدیک یہ من مانی اور ٹال مٹول عین غداری اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اصل سچائی یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے محب وطن عوام کے معاشی مطالبات بالکل جائز اور پرامن ہیں، لیکن کچھ آراء کے مطابق مقتدر اداروں نے عوامی تحریک کو کچلنے اور اسے کالعدم قرار دینے کے لئے اپنے مہرے عوامی مظاہروں میں داخل کیے تاکہ عوامی تحریک کا رخ موڑا جا سکے۔ کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ رشتہ معاشی مراعات یا کسی سیاسی ڈرامے سے بالاتر ہے۔ اس لازوال رشتے اور سچائی کو کسی بھی مقتدرہ کی غلط حکمت عملی یا دشمن کا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا، کیونکہ محبتوں کی بقا جذبوں کی صداقت میں ہوتی ہے، رائفلوں کی سنگینوں میں نہیں۔ یہ چھوٹے موٹے عوامی و انتظامی نوعیت کے مسائل رائفلوں سے نہیں محبت سے حل کرنے والے ہیں۔ رائفلیں تو اپنے مشترکہ دشمنوں کیلئے ہوتی ہیں نہ کہ عوام کیلئے۔

بدھ، 29 جولائی، 2026

بستی گڈن کے شب و روز

 جنوبی پنجاب میں عزاداری  اور بیداری کی کیفیّت:

دوسری قسط:بستی    گڈن :ڈاکٹر نذر حافی: 

 بستی  گڈن کا ذکر آئے اور جام رمضان علی صاحب کا نام نہ لیا جائے، تو سفرنامہ نامکمل رہے گا۔ بعض لوگ کسی علاقے کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان سے مل کر احساس ہوتا ہے کہ انسانی کردار بھی خوشبو کی طرح خاموشی سے اردگرد کے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔جام صاحب سے میری  پہلی ملاقات رات گئے ہوئی۔ گھڑی شاید دس بجنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ اس وقت تشریف لائیں گے، خصوصاً اس حالت میں جب اُن کی  طبیعت بھی ناساز تھی اور رعشے نے اُن کے جسم کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ  تشریف لائے۔ محبت جب دل سے نکلتی ہے تو راستے، وقت اور جسمانی کمزوری سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ وہ زیادہ دیر نہ بیٹھے، لیکن  ان کی آمد نے میرے دل میں ایک ایسی جگہ بنا لی   جسے وقت  کی دھول کبھی نہ مٹا سکے گی۔

اُن کی صحبت نے مجھے جنوبی پنجاب کی عزاداری کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی دیا۔ یہاں کی فضا میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹے بڑے قصبوں میں امام بارگاہیں محبت کی روشن علامت بن کر کھڑی ہیں۔ محرم اور صفر میں یہی مقامات سیاہ پرچموں ،  چراغوں، مجالس، نوحوں اور عزاداروں سے آباد ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف ایک روحانی کیفیت چھا جاتی ہے، جیسے صدیوں کی روایت پھر سے زندہ ہو گئی ہو۔یہاں پر قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے میزبان  مولانا صابر حسین صاحب  اور محترم جام رمضان علی صاحب اکے درمیان عقیدت، محبت اور خلوص کا تعلق پہلے سے ہی  بہت گہرا تھا۔ دونوں بزرگوں کے مابین قائم یہ رشتہ دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ بعض تعلقات الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے، ان کی اپنی ایک خاموش زبان ہوتی ہے۔

دو روز بعد مولانا صابر حسین صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ "جام صاحب نے آپ کو دوپہر کے کھانے پر بلایا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ بزرگوں کی صحبت بھی عجیب نعمت ہے، ایک ملاقات میں برسوں کا تجربہ سمٹ آتا ہے۔ چنانچہ   مولانا صابر حسین صاحب   کی توقع  اور اپنے مزاج کے برعکس میں نے فوراً  دعوت قبول کر لی۔میرے لیے جام صاحب جیسی بزرگ، صاحبِ تجربہ اور محبت سے بھرپور شخصیت سے ملاقات کسی سعادت سے کم نہ تھی۔ چنانچہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا مناسب نہ سمجھا۔ مقررہ وقت پر جب میں ان کے دولت کدے پر پہنچا تو محسوس ہوا جیسے کسی پرانے شناسا کے  دولت کدے پر  آیا ہوں۔ دروازے پر استقبال میں محبت تھی، گفتگو میں چاہت تھی اور ماحول میں وہی گھریلو اپنائیت جس میں آدمی اپنے آپ کو مہمان کم اور اہلِ خانہ کا حصہ زیادہ محسوس کرتا ہے۔

جام رمضان علی صاحب کے چہرے پر بیماری کی ہلکی ہلکی پرچھائیاں اتر آئی تھیں۔ ان کی آواز  قدرے  دھیمی تھی۔ وہ آہستہ بولتے، کہیں رک جاتے، جیسے لفظوں کو سانس کے ساتھ سفر کرنا پڑ رہا ہو، پھر ایک مانوس سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کا سرا پکڑ لیتے۔ محسوس ہوتا تھا کہ بدن نے تھکن کا اقرار کر لیا ہے، مگر دل نے ابھی شکست تسلیم نہیں کی۔ وہی فراخی، وہی محبت، وہی اپنائیت جو کسی بزرگ درخت کے سائے میں بیٹھنے کا احساس دیتی ہے۔

کچھ عر صہ پہلے ان کے جوان بیٹے کی موت نے بھی ان کے اعضا و جوارح پر  گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ اس روز گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ ان کے گھر والے مجلسِ عزا کے لیے گئے ہوئے تھے اور وہ گھر میں تنہا تھے۔ انہوں نے اپنے کی جدائی اور شِدّت غم کا بھی اظہار کیا۔ وقت کم تھا لیکن انہوں نے ماضی کے کئی اوراق کھول کر میرے سامنے رکھ دئیے۔ مولانا صابر علی صاحب جب تک مجلسِ عزا  سے خطاب کر کے  واپس نہیں آئے، میں انہی کے پاس  بیٹھا رہا اور گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک بات سے دوسری بات، ایک یاد سے دوسری یاد، ایک تجربے سے دوسرے تجربے تک۔ بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ سُننے کو ملا۔یہ چند گھنٹے محض گفتگو کے گھنٹے نہیں تھے۔ مجھے  ایک ایسے شخص کے قریب بیٹھنے کا موقع  ملا تھا جس کے جسم پر علالت کے آثار نمایاں تھے اور  اُس کے اندر کا چراغ اب بھی  ایمان کی  روشنی سے جل رہا تھا۔آپ مانیں یا نہ مانیں  بعض لوگ بیماری سے کمزور نہیں ہوتے، صرف خاموش ہو جاتے ہیں  اور ان کی خاموشی میں بھی زندگی کی پوری کتاب کھلی ہوتی ہے۔

کھانے کے بعد دیر انہوں نے اس موضوع پر بھی گفتگو کی کہ بہت سی امام بارگاہوں کے دروازے سال بھر سوائے ایام عزا کے  بند  رہتے ہیں، صحن خاموش  اور فضا پر  سکوت حاکم رہتا ہے۔ ان کے لہجے میں شکایت  کے بجائے  ایک درد مند خواہش تھی۔ اُن کی خواہش تھی کہ  اگر یہی مراکز سال بھر اہلِ علم، طلبا، نوجوانوں اور اہلِ محلہ کے لیے فعال رہیں تو کتنی زندگیاں ان سے فیض پا سکتی ہیں۔ یہاں قرآن و نہج البلاغہ کے دروس ہوں، مطالعے کی نشستیں منعقد ہوں، بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت ہو، نوجوانوں کے فکری سوالات پر گفتگو ہو، خواتین کے لیے علمی حلقے قائم ہوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا مستقل سلسلہ جاری رہے۔ ان کا کہنا بجا تھا چونکہ مسجد و   امام بارگاہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کا نام تو  نہیں، اسے  ایک فکر کی علامت، ایک تہذیب کی امانت اور ایک زندہ روایت کا مرکز  ہونا چاہے۔

جام صاحب نے میری طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا :امام حسینؑ کا پیغام صرف یاد کرنے کا نہیں، زندگی میں اتارنے کا ہے۔میں نے  اثبات میں سر ہلایا اور  اُن کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔۔ اُن کا یہ جملہ مختصر تھا لیکن  اس کے اندر ایک پورا فکری جہان آباد تھا۔

مولانا صابر علی صاحب مجلسِ عزا سے  واپس آئے تو ہم نے ان سے رخصتی کی اجازت چاہی۔ واپسی  پر  راستے وہی تھے، کھیت  بھی ویسے  تھے، درخت خاموشی سے کناروں پر کھڑے تھے اور نصف النہار  کا سورج  ہر طرف آگ بکھیر رہا تھا۔ اس گرمی میں جھلستی ہوئی بستی   گڈن  کے اپنے ہی مناظر تھے۔  جام رمضان علی صاحب کی محبت، ان کی مہمان نوازی اور ان کے مختصر اور  گہرے جملے میرے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ گڈن بستی میں  ان شااللہ جلد ضرور خوشحالی آئے گی چونکہ لوگوں میں اچھائی کی نیت اور آگے بڑھنے کی  ہمت  ہو تو راستے نکل ہی  آتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔




جنوبی پنجاب میں عزاداری اور بیداری کی کیفیّت

جنوبی پنجاب میں عزاداری  اور بیداری کی کیفیّت  : 
پہلی قسط :
ڈاکٹر نذر حافی :
مجھے اس سال  محرم الحرام میں  پہلی مرتبہ راجن پور  جانے کا اتفاق ہوا ۔ گاڑی کہاں سے جائے گی اور ٹکٹ کیسے ملے گی؟  ایسے سوالات تو ہر مسافر کے ذہن میں ہوتے ہی ہیں لیکن میں  یہ سوچ کر عجیب سی کیفیّت محسوس کر رہا تھا کہ جنوبی پنجاب کی عزاداری کو نزدیک سے دیکھنا یہ خود کتنی بڑی خوش قسمتی ہے۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ، کوٹ ادو، بہاولپور اور دیگر اضلاع میں محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسی روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے جو اس خطے کی تہذیبی شناخت بن چکی ہے۔  بلاشبہ ایسی تہذیبی شناخت وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جو اپنے عقیدے کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
راستہ کتنا طویل ہوگا  اور یہ سفر کیسے کٹے گا؟  یہ سوال بھی میرے دماغ میں بار بار ہچکولے کھا رہا تھا ۔بار بار یہ سوچ کر مجھے عجیب مسّرت کا احساس  بھی ہوتا تھا کہ یہ منطقہ صدیوں سے عشقِ اہلِ بیتؑ،  اور عزاداری  کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ بہرحال تقریباً  آٹھ گھنٹے کے بعد ہم لوگ  جھنگ سٹی پہنچ گئے۔محرم الحرام کی آمد آمد تھی چنانچہ ہر طرف سوگواری کی کیفیت تھی ۔ ہم کچھ گھنٹے وہاں ٹھہرے اور پھر وہاں سے ملتان کیلئے چل پڑے۔وہاں بھی ایسی ہی کیفیّت تھی۔  جنوبی پنجاب میں  آپ اِن ایام میں سارے عزاداروں کو ایک  ہی رنگ میں, اور ایک ہی طرح سے سوگوار پائیں گے۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت امام حسین ؑکی عزاداری ہر طرح کی ذات پات اور رنگ و قبیلے کے فرق کو مٹا  دیتی ہے۔ بغیر کسی حکومتی یا سرکاری مدد کے  عزاداری  کی روایت کا نسل در نسل قائم رہنا یہ خود ایک معجزہ ہے۔  عشق، شعور اور بیداری کی یہ  ایسی روایت ہے جو نسل در نسل  اپنے قدموں پر خود ہی کھڑی ہے۔ کوچے کوچے اور گلی گلی میں  جلوس، مجالس، علم، تعزیے، سبیلیں، ماتمی انجمنیں اور نیاز کی محفلیں  عزاداروں  کے اجتماعی شعور، اخوت اور بھائی چارے کی مظہر ہیں۔
اے سی والی گاڑی ہونے کے باوجود مجھے  باہرکی گرمی سے خوف محسوس ہو رہا تھا اور مجھے ابھی اسی خوف کے ساتھ  مزید  سفر کرنا تھا۔  رات کو راجن پور میں میرا  پہلا پڑاو  بستی گڈن میں قرار پایا ۔ ہمیشہ  پہلے سفر کا  اپنا ہی تجسس ہوتا ہے۔  کچھ مقامات کے ایڈرس کاغذ کے  نقشے کے بجائے لوگوں کے دلوں میں  ہوتے ہیں، اور وہاں پہنچنے کے لیے ٹکٹ سے زیادہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔راستے میں جدھر بھی دیکھا تو  امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا دکھائی دیا۔ عام عوام کی آبادیوں میں جابجا پسماندگی ،غربت، افلاس ، گندگی اور فقر کے آثار نمایا ں  تھے۔  گاڑی کے شیشے سے باہر  کا منظر یہ گواہی دے رہا تھا کہ  غریب شخص  ابھی بھی  غلامی کے دور میں ہی جی رہا ہے۔ یہاں پر ابھی تک لوگوں نے  آزادی کی نعمت نہیں چکھی۔ ناخواندگی سے آزادی، فقر سے آزادی، افلاس سے آزادی، پسماندگی سے آزادی۔۔۔ کسی کو بھی  ہر گز نہیں  ملی ۔  
 میرے ساتھ والی سیٹ پر  بستی گڈن کے رہنے والے  ایک صاحب تشریف فرماتھے۔ ان  کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عزاداروں نے اس عظیم سرمایۂ عشق کو محفوظ تو رکھا ہوا ہے تاہم اسے عزاداروں کی  فکری، سماجی اور اخلاقی ترقی کیلئے استعمال کرنے کا خلا موجود  ہے۔اسی تناظر میں انہوں نے  ایک اور اہم مسئلہ بھی  اٹھایا۔ ان کے مطابق  جنوبی پنجاب میں بہت سی مساجد، مدارس اور امام بارگاہیں عوام کے چندوں، عطیات اور اجتماعی تعاون سے تعمیر ہوتی ہیں۔ ان اداروں کے قیام میں پورے معاشرے کا مالی، اخلاقی اور عملی کردار شامل ہوتا ہے، لیکن متعدد مقامات پر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی انتظامی باگ ڈور چند خاندانوں تک محدود ہو جاتی ہے اور متولی حضرات نسل در نسل ان اداروں پر قابض رہتے ہیں۔ یوں عوامی وسائل سے قائم ہونے والے مذہبی ادارے عملاً شخصی یا خاندانی ملکیت بن جاتے ہیں۔  راقم الحروف کے مطابق  یہ  مسئلہ صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں مختلف صورتوں میں موجود ہے، تاہم جنوبی پنجاب میں اس کی شدت نسبتاً زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔
یوں تو سارے ملک میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی اداروں کی انتظامیہ میں شفافیت، جوابدہی، مشاورت اور اجتماعی شرکت کو فروغ دیا جائے۔ مساجد، مدارس اور امام بارگاہیں کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امت کی امانت ہیں۔ ان کے انتظام و انصرام میں اہلِ علم، معتبر شخصیات، مخیر حضرات اور مقامی مؤمنین کی نمائندہ شمولیت اس امانت کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ جب اداروں کا نظام اعتماد، شفافیت اور اجتماعی مشاورت پر استوار ہوگا تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ نئی نسل بھی ان اداروں کو زیادہ مؤثر، فعال اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھے گی۔
رات کے تقریباً ۱۲ بجے ہمیں بس نے اپنے اسٹیشن پر اتار دیا وہاں پر مقامی میزبان پہلے ہی منتظر کھڑے تھے۔ اب ہم نے بستی گڈن کی طرف جانا تھا ۔ وہاں سے روزانہ ۴۵، ۴۵ منٹ کی مسافت پر ہم نے تین سے چار مرتبہ سفر کرنا تھا۔  اللہ آباد، بستی چھینہ، اور جام پور  پھر واپس بستی گڈن۔
دس دن تک ہم نے یہاں بہت سارے لوگوں سے ملنا اور قریب سے ان کی عزاداری کی رسومات اور روایات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ اس سفر میں ہم نے آٹھ سالہ حسین عباس کو بھی اپنا ہم سفر بنا لیا تھا۔  بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ حسین عباس کی اصل ذمہ داری ہم سے سچے اور کھرے سوالات پوچھتے رہنے کی تھی۔ ہم نے انہیں کئی مرتبہ بتایا کہ   عزاداری کا اصل پیغام ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، عدل و انصاف کا قیام، انسانی وقار کا تحفظ اور اجتماعی اصلاح ہے۔
تاہم  ہر روز وہ ہماری باتوں کے بعد یہ  جملہ کہہ دیتے تھے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر  یہاں پر کوئی ایسی بات کیوں سنائی یا دکھائی نہیں دیتی؟ جی ہاں ! ان کا یہ سوال ہر مرتبہ ہمیں آئیں بائیں شائیں کرنے پر مجبور کرتا تھا چونکہ جنوبی پنجاب میں ہر سال جلوسوں کی تعداد بڑھتی ہے، مجالس میں حاضرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، نئے علم اور امام بارگاہیں تعمیر ہوتی ہیں، تاہم منبر سے نوّے فیصد پرانے موضوعات ہی دہرائے جاتے ہیں اور پڑھنے والوں سے فرمائش بھی کی جاتی ہے کہ وہ فلاں  قصّہ پھر سنائیں۔ اکثر قصّے  کہانیاں  اور اشعار   پڑھنے والوں کی طرح سُننے والوں کو بھی ازبر ہیں اور وہ وہی سننے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔
آصف  گڈن  صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں محرم الحرام  کے دوران متعدد مجالس منعقد ہوتی ہیں اور مرد و زن سب  ان میں شرکت کرتے ہیں، لیکن ان مجالس کی ایک بڑی تعداد اب بھی روایتی انداز تک محدود ہے۔ ان کے مطابق جدید تعلیم یافتہ نوجوان، یونیورسٹیوں کے طلبا، سوشل میڈیا کے دور میں پیدا ہونے والے فکری شبہات، خاندانی نظام کے مسائل، معاشی اخلاقیات، میڈیا کے چیلنجز اور عالمی سطح پر اہلِ بیتؑ کے پیغام کی مؤثر ترجمانی جیسے موضوعات  نہ ہونے کے برابر  زیر بحث آتے ہیں۔
ہمارے میزبانوں میں محمد جوّاد،  عون عباس ، محمد باقر اور قیصر عباس بھی شامل تھے۔  المختصر یہ کہ جنوبی پنجاب کے دور دراز دیہاتوں میں بھی  مجالس اور ماتم کی روایت موجود ہے اور لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں اور  وہاں بھی اکثر مقامات پر دہائیوں پرانے طرزِ بیان اور محدود موضوعات ہی  دہرائے جاتے ہیں۔ نئی نسل کو یہ کم بتایا جاتا ہے کہ امام حسینؑ کی تعلیمات کو تعلیم، تجارت، سیاست، معاشرت، میڈیا اور سماجی خدمت میں کس طرح عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
 صادق کھوسہ صاحب اللہ آباد مسجد و امام بارگاہ کے متولی ہیں۔ ان کی اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش ہے کہ عزاداری  کے منبر سے   عزاداروں کی  دنیا و آخرت سنوارنے کیلئے استفادہ کیا جائے۔
پڑھے لکھے نوجوانوں کے مطابق جنوبی پنجاب کی عزاداری کا شاید سب سے بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ اسے بڑی حد تک صرف "ثواب" کے تصور تک محدود کر دیا گیا ہے۔ مجالس میں عزاداری کے فضائل، گریہ کے اجر، زیارت کے ثواب اور جنت کی بشارتوں کا تذکرہ تو کثرت سے ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال کم اٹھایا جاتا ہے کہ ایک حسینی  اور عزادار  اپنے گھر، اپنے کاروبار، اپنی ملازمت، اپنی سیاست، اپنی عدالت، اپنی درسگاہ اور اپنے معاشرے  کو حسینی بن کر  کیسے سنوارے؟ عزاداری کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا کر  تو بھرپور انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن گویا  دنیا کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر کے عملی پروگرام کا عزاداری سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ۔۔ 

منگل، 21 جولائی، 2026

امریکی صدر کی شعلہ بیانی کا راز

امریکی صدر کی شعلہ بیانی کا  راز 
ڈاکٹر نذر حافی
امریکی صدر ٹرمپ  کی شعلہ بیانی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ ٹرمپ نے لبنانی ہم منصب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران  نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہنا ہے کہ یہ حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کےلیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد ایران کے علاقے کوہ کلنگ کو نشانہ بنائیں گے۔خبر ایجنسی کے مطابق کوہ کلنگ کا علاقہ ایرانی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ہے۔  امریکہ کی طر ف سے طاقت کے استعمال نے اُلٹا یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت اگر حکمت کے بغیر استعمال ہو تو وہ  طاقتور کیلئے راستہ ہموار کرنے کے بجائے  اُس کے راستے میں مزید دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔
اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ کی شعلہ بیانی جاری ہے۔ماضی میں بھی کبھی  طاقت کو  سفارت کاری کا متبادل نہیں بنایا جا سکا اور آئندہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ بلاشبہ جنگ جب طول پکڑتی ہے تو معیشت رنجور، سیاست مجبور اور انسانیت مقہور ہو جاتی ہے۔اتنا تو  پینٹاگون کو بھی دکھائی دے رہا ہے کہ  کشیدگی کو برقرار رکھنے کی قیمت، اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ واشنگٹن کے پاس دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوتوں میں شمار ہونے والی طاقت موجود ہے تاہم  طاقت کا ہونا اور طاقت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
 ایک کمزور سفارتی حکمتِ عملی اکثر اس خلا کو جنم دیتی ہے کہ  فریقِ مخالف پر دباؤ  بڑھانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے اور  مخالف فریق کو جھکانے کی کوشش اسے مزید مزاحمت پر مجبور کر دیتی ہے۔موجودہ صورتحال میں امریکہ کی طرف سے عسکری اقدامات کے بجائے فوجی اقدامات میں اضافہ، نئے فریقوں کی شمولیت، اور علاقائی رقابتوں میں مزید شدّت اس جنگ کو ایک ایسے مہنگے اور سنگین مرحلے میں داخل کر سکتی ہے جس پر  بعد ازاں قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔ کولہو کے بیل کی مانند اس وقت ٹرمپ ایک ایسے دائرے میں گھوم رہا ہے جہاں اسے  سمجھ نہیں آ رہی کہ اُسے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے   یا مذاکرات کا راستہ  کھلا رکھنا ہے۔
دمِ تحریر غالب امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ جب تک ٹرمپ  اپنی سفارتی طاقت پر اعتماد نہیں کرتا تب تک  موجودہ صورتِ حال برقرار رہے گی،یعنی نہ مکمل جنگ ہوگی اور نہ ہی پائیدار امن قائم ہو سکے گا،  مذاکرات مکمل طور پر معطل نہیں ہوں گے، تاہم کوئی نمایاں پیش رفت بھی متوقع نہیں ہوگی، اور پورا خطہ مسلسل ہائی الرٹ کی کیفیت میں رہے گا۔ اگرچہ یہ صورتِ حال جنگ کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ ہے، لیکن طویل مدت میں یہی کیفیت تمام فریقوں کے لیے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے اعتبار سے سب سے زیادہ تھکا دینے والے اور نقصان دہ اثرات کا باعث بنے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ان ٹویٹس کے باوجود جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت معاہدے کی حامی ہے، ایک دوہری کشمکش میں گھرا ہوا ہے۔ ٹرمپ کو  ایک طرف  اپنے علاقائی اتحادیوں اور امریکہ کے عسکری حلقوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی دباؤ کا سامنا ہے کہ ایک غیر مقبول جنگ کا خاتمہ کیا جائے، خصوصاً اس لیے کہ یہ معاملہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
مستقبل کی سمت کا تعین معاہدوں کے متن یا ثالثوں کی تجاویز کے بجائے  اس امر سے ہوگا کہ تہران اور واشنگٹن اپنے مفادات، نقصانات، لاگت اور منفعت کا کیا  تخمینہ لگاتے ہیں۔ایک جانب امریکہ  کو اندرونی سیاسی مصلحتوں، علاقائی اتحادیوں کے دباؤ اور اپنی شکست خوردہ  ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، تو دوسری جانب ایران بھی اپنی دفاعی و سفارتی صلاحیت کو محفوظ رکھتے ہوئے سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔اسی حساب و کتاب، انہی مصلحتوں اور انہی موازِنات نے امریکہ  کو ایسی کیفیت میں لا کھڑا کیا ہے کہ وہ  نہ تو  سفارت کاری سے مکمل کنارہ کش ہو سکتا ہے اور نہ ہی اپنے سفارت کاروں  پر اُسے بھروسہ ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی  امریکہ کی اس کمزوری  کو بھانپتے ہوئے ’’دفاع کے ساتھ سفارت کاری‘‘ کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔  آسان الفاظ میں ایران نے  کمزور دکھائی دیے بغیر بات چیت کا راستہ کھلا رکھا ہُوا ہے، جبکہ ٹرمپ  طاقتور نظر آنے کی کوشش میں ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں اسے اپنی ساکھ بھی بچانی ہے اور تنازع کا حل بھی نکالنا ہے۔
دستیاب شواہد اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جب تک امریکہ کو اپنی سفارتی طاقت کا یقین نہیں ہوجاتا تب تک  نہ سفارت کاری کی حتمی ناکامی کا اعلان کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی یقینی کامیابی کی نوید سنائی جا سکتی ہے۔ ایران کی طرف سے  مذاکرات کی کھڑکی اب بھی ایک ایسی معلق کیفیت میں کھلی ہوئی ہے کہ جہاں میدانِ عمل میں رونما ہونے والی ہر پیش رفت اور سیاسی سطح پر کیا جانے والا ہر فیصلہ حالات کا رخ مفاہمت کی جانب بھی موڑ سکتا ہے اور محاذ آرائی کی طرف بھی۔
بظاہر آنے والے ہفتوں میں فیصلہ کن عنصر یہی ہوگا کہ تہران اور واشنگٹن اپنی سیاسی، عسکری اور معاشی مصلحتوں کے تناظر میں لاگت و منفعت کا کیا حساب لگاتے ہیں۔ یہی اندازۂ سود و زیاں طے کرے گا کہ خطہ کشیدگی میں کمی اور استحکام کی راہ اختیار کرتا ہے یا پھر تصادم اور کشمکش کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
تاہم اس پورے تنازع کے دوران ایک حقیقت مسلسل ثابت اور نمایاں رہی ہے، اور وہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام اور تمام محاذوں پر جنگ بندی جیسے حساس معاملات کے بارے میں ایرانی قیادت کا غیرمتزلزل مؤقف ہے۔ میدانِ جنگ میں ٹرمپ مسلسل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا لیکن  ایران کا اصولی  مؤقف تبدیل نہ ہوا۔ ٹرمپ کو  طاقت کا مظاہرہ فیصلہ کن نتائج  نہیں دے سکا لیکن ایران کیلئے اُس کا  اصولی مؤقف ایک سیاسی اثاثہ بن گیا ہے۔اب ٹرمپ  اپنی کھوکھلی شعلہ بیانی  کے باعث  ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اُس کیلئے  ہر فیصلہ کٹھن بھی ہے اور مہنگا بھی، نازک بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے کڑوا  بھی۔ مسٹر ٹرمپ کی  یہ شعلہ بیانی اس حقیقت کی غماز ہے کہ    ٹرمپ کو  اب پتہ چلا ہے کہ  جنگ شروع کرنا آسان تھا لیکن  جنگ کو اپنے مفاد کے مطابق ختم کرنابہت مشکل ہے۔ 


امریکہ کا اپنی سفارتکاری پر عدمِ اعتماد

امریکہ کا اپنی سفارتکاری پر عدمِ اعتماد
ڈاکٹر نذر حافی  :
اسلام آباد میں 18 جون 2026کو ایران اور امریکہ  نے امن کی طرف پہلا قدم  بڑھایا تھا۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ امن کی عمارت معاہدوں کی عبارت  کے بجائے  کردار کی صداقت پر  کھڑی ہوا کرتی  ہے ۔  لہذا افسوس ہے کہ امن کی طرف اٹھایا جانے والا یہ قدم پہلا اور آخری ثابت ہوا۔ چند ہفتوں میں ہی  دونوں فریقوں کے متقابل فیصلوں نے امن  کو جنگ میں تبدیل کر دیا۔ یہ معاہدہ، جسے کشیدگی میں کمی لانے اور وسیع تر مذاکرات کی بنیاد رکھنے کے نقطۂ آغاز کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب ایک  کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسا امتحان  جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے توازن، علاقائی معادلات اور عالمی سفارتی منظرنامے پر  گہرے اثرات مرتب کر  رہےہیں۔ صاف بات ہے کہ ہر فریق امن تو چاہتا ہے لیکن  اپنی شرائط پر۔ اسی لیے یہ  معاہدہ بیک وقت امید کی علامت بھی ہے اور نئے بحران کا نکتہ آغاز بھی۔  
دوقوموں کے درمیان امن معاہدہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا ۔ بین الاقوامی معاہدے قانونی دستاویزات کے بجائے  قوموں کے مستقبل کا  روڈ میپ  ہوتے ہیں۔ چنانچہ  ایک مختصر ترین معاہدہ  اپنے پیچھے طویل ترین اثرات چھوڑ جاتا ہے، اور کبھی برسوں کی سفارت کاری چند دنوں میں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس بات کو امریکہ و یران دونوں  اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں۔  
آج خاموش تماشائی کا منظر پیش کرنی والی دنیا اس امر کی شاہد ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان یہ بداعتمادی  ہرگز حالیہ اختلافات کی پیداوار نہیں۔ دنیا کے دانشور اس بداعتمادی کو  امریکہ کے ماضی کے طرزِ عمل اور اس کی بارہا عہد شکنی کے تلخ تجربات کے منطقی نتیجے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایران  کے سیاست دان اپنی کسی مصلحت  کی خاطر  عارضہ طور پر خاموش تو  رہ سکتے ہیں لیکن وہ  امریکہ کے ماضی کو فراموش نہیں کر سکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ  قومیں اپنے تجربات کو نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے تولتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاوس   کے بارے میں  تہران کا مؤقف  بڑا واضح ہے ۔اس مرتبہ بھی ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ  جب تک وائٹ ہاوس  اپنی ذمہ داریوں کا پاس و لحاظ کرتا رہا، مفاہمت پر عمل درآمد کی گاڑی رواں دواں رہی لیکن جونہی واشنگٹن نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا تو ایران نے بھی آنکھیں بند کرنے سے انکار کر دیا۔  کیا ایران کے پاس اس عہد شکنی کو روکنے کیلئے مزاحمت اور استقامت کے علاوہ کوئی اور چارہ کار ہے؟  جب  کسی معاہدے و عہد کی حرمت مجروح ہو جائے تو  اُس  پر کئے جانے والے دستخط روشنائی کے دھبوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ دنیا ماضی کی طرح آج بھی انگشت بدنداں ہے اور امریکہ  ایک مرتبہ پھر یکطرفہ طور پر  عہد کو  توڑ کر  وعدہ فراموشی  اور  بدعہدی کی روایت کو دہرا رہا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ عالمی برادری یہ احساس نہیں کر رہی کہ اعتماد کو ثابت کرنے کے لیے دلائل درکار نہیں ہوتے لیکن  اس کے ٹوٹ جانے کے بعد ہزاروں دلائل بھی اسے بحال نہیں کر سکتے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اسلام آباد میں ہونے والا معاہدہ ایران و امریکہ کے درمیان سارے اختلافات کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کے ہمراہ  امریکہ کو ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو منظم کرنے اور منظّم انداز میں اختلاف کرنے کا سلیقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔امریکہ کی  مسلسل عہد شکنی نے آج ساری دنیا کو تباہی اور قحط کے دہانے پر کھڑا کر دیا  ہے۔
پاکستان اور قطر کو امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے سے زیادہ معاہدے کی  اخلاقی پابندی  کو لازمی بنانے کے نکات پر غور کرنا چاہیے۔ جس معاہدے کی ضمانت صرف طاقت ہو، وہ طاقت کے بدلتے توازن کے ساتھ بدل جاتا ہے لیکن جس معاہدے کی بنیاد اخلاقی ذمہ داری اور عہد کی حرمت ہو، وہ اختلافات کے باوجود بھی قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان و قطر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان  اصل اختلاف مفاہمت کے متن یا الفاظ کے بجائے  معاہدے کی پابندی  کا ہے۔ جہاں ایک فریق پابندِ عہد ہو اور دوسرا خود کو اس پابندی سے آزاد سمجھے، وہاں کوئی  معاہدہ کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں ساری عالمی برادری بھی  اس اصول کے مطابق عمل کرے جسے وہ عالمگیر قانون بنتا دیکھنا چاہتی ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی واشنگٹن بیک وقت دو متضاد راستوں پر گامزن ہے۔ ایک طرف سفارت کاری کا جھانسہ دینے کی کوشش، اور دوسری طرف عسکری اقدامات سے پانسہ پلٹنے کی چال۔ امریکہ کی اسی متضاد پالیسی  نے ایک امید افزا مفاہمت کو نافذ ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا  دیا ہے۔  اگر دنیا خاموش رہی تو یہ دو متضاد راستے نجانے دنیا کو کہاں لے جائیں گے!۔
موجودہ بحران کی اہم ترین حقیقتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اب بھی عسکری معادلات، سیاسی تدبر کے افق پر سایہ فگن ہیں۔وجہ یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی طور اپنی سفارت کاری پر  بھروسہ نہیں رکھتا۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، مسلسل بڑھتی ہوئی سلامتی کی کشیدگی، امریکی حملوں کا تسلسل، اور تصادم کے دائرے کے وسیع ہونے کا خدشہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کی ناکام اور کمزور  سفارت کاری کے سبب ساری دنیا   امن کے ساحل سے دور ہوتی جا رہی ہے۔آج کی  خاموش دنیا اس حقیقت کو بھول رہی ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ  جنگ کا دائرہ   کسی کے  ارادے سے پھیلے ، یہ دائرہ  پینٹاگون کے غلط اندازوں، امریکہ کی کمزور و ناکام سفارت کاری،  اور عالمی برادری کی بے حسی  کے سبب بھی پھیل سکتا ہے۔ 
قطر اور پاکستان اس وقت ایک ایسی نازک منزل پر کھڑے ہیں جہاں انہیں دو متحارب  فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کو درک کرنا چاہیے کہ  محدود جنگ بندی، بحری راستوں کی دوبارہ بحالی، اور کشیدگی میں اضافے سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپسی جیسے اقدامات بظاہر حل کی جانب قدم دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ نہ ہی تو اصل مسئلہ ہیں اور نہ ہی اصل مسئلے کا حل۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی سفارت کاری پر اعتماد اور بھروسہ  بالکل بھی نہیں۔ یہ بھی امریکہ کے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ امریکہ جیسی ریاست جو دنیا بھر میں   سفارت کاری کا سب سے زیادہ راگ الاپتی  ہے، اُسے ہی اپنی سفارتی قوّت پر اعتماد نہیں۔



ہفتہ، 11 جولائی، 2026

فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے

فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے

ڈاکٹر نذر حافی

گزشتہ کالم میں ہم نے یہ کہا تھا کہ گزشتہ نصف صدی میں ملتِ ایران نے ایسی آزمائشوں کا سامنا کیا ہے جنہیں شعبِ ابی طالب کی یادگار کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ پابندیوں نے انہیں جھکانے کے بجائے سنبھالا، مصیبتوں نے انہیں بکھیرنے کے بجائے سمیٹا، اور استعماری دشمنوں  نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے باہم جوڑ دیا۔ جن طوفانوں سے قومیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں، انہی طوفانوں نے ایران میں عزم کو جِلا، کردار کو استحکام اور اجتماعی شعور کو دوام عطا کیا۔

اسلامی انقلاب کے ابتدائی ایام میں ایرانی عوام نے آزادی اور خودمختاری کی قیمت اپنے بہترین فرزندوں کے لہو سے ادا کی۔ آٹھ برس کی جنگ، ہزاروں دہشت گردانہ حملے، بے شمار اہلِ علم، اربابِ سیاست، عسکری قیادت اور قومی شخصیات کی شہادت۔۔۔یہ سب ایسے زخم تھے جن سے کسی بھی ریاست  کا وجود لرز  جاتا ہے  لیکن  وہاں خون نے خوف کو جنم نہیں دیا بلکہ حوصلے کو زندگی بخشی،  قربانی نے مایوسی کو نہیں بلکہ امید کو جنم دیا  اور شہدا نے شکست  کو شکست دے کر  استقامت کا پرچم بلند کیا۔یہیں سے وہ سوال جنم لیتا ہے جس پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے صاحبانِ اقتدار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آخر وہ کون سا راز ہے کہ مسلسل سانحات کے باوجود ایک ریاست اپنی قومی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ بعض ریاستیں  معمولی سیاسی اختلافات سے بھی انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں؟ اس کا جواب توپ و تفنگ میں نہیں، کردار و تدبر میں ہے، طاقت کے اظہار میں نہیں،  قانون کے احترام  میں ہے اور  تقاریر کے سحر میں نہیں، اجتماعی شعور کی بیداری میں ہے۔

ایران کے تجربے نے کم از کم یہ حقیقت ضرور واضح کی ہے کہ ریاستیں صرف عسکری قوت سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ انصاف سے مضبوط، قانون سے مستحکم، علم سے منور اور اخلاق سے معتبر بنتی ہیں۔ جہاں اقتدار خدمت کا نام ہو، جہاں منصب امانت سمجھا جائے، جہاں ذاتی منفعت پر قومی مصلحت کو ترجیح دی جائے، وہاں مشکلات راستہ روکنے کے بجائے منزل کا شعور عطا کرتی ہیں۔قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ افراد کی عظمت کو اداروں کی مضبوطی میں ڈھال دیتی ہیں، اور شہداء کی قربانیوں کو محض آنسوؤں کی نذر کرنے کے بجائے قومی کردار کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ ملتِ ایران کا یہ پہلو  ہر صاحبِ فکر کے لیے قابلِ غور اور ہر صاحبِ اقتدار کے لیے قابلِ عمل ہے۔

انقلابِ اسلامی کے ابتدائی ایام میں حضرت امام خمینیؒ ملتِ ایران کے لیے صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ امید کا چراغ، اعتماد کا مرکز اور استقامت کا استعارہ تھے۔ قوم ان کے وجود میں اپنی منزل کا نشان اور اپنے مستقبل کا امکان دیکھتی تھی۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ آفتاب غروب ہوا تو کاروانِ انقلاب منتشر ہو جائے گا، لیکن تاریخ نے ایک اور منظر دکھایا۔ 3 جون 1989ء کو جب امامِ راحل اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور نگاہیں مستقبل کے افق کو اضطراب سے تک رہی تھیں، ٹھیک اسی لمحے ایک اور حقیقت نے جنم لیا کہ زندہ قومیں افراد کے سہارے نہیں بلکہ افکار کے سہارے سفر کرتی ہیں، اور مضبوط ریاستیں اشخاص کے بل پر نہیں بلکہ اداروں کے زور پر قائم رہتی ہیں۔

نئی قیادت نے ثابت کیا کہ اگر قوم کو شعور مل جائے تو قیادت کا تسلسل کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ ایک چراغ بجھتا ہے تو دوسرا روشن ہو جاتا ہے، ایک ہاتھ گرتا ہے تو ہزاروں ہاتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک آواز خاموش ہوتی ہے تو پوری قوم اس کی بازگشت بن جاتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے ایران کو مسلسل سانحات کے باوجود بکھرنے نہیں دیا۔بعد کے برسوں میں درجنوں ممتاز سائنس دان، عسکری کمانڈر اور قومی رہنما  دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے، لیکن ہر شہادت نے اس قوم کے ارادے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید صیقل کیا۔ گویا خون نے خاک کو نہیں، شعور کو سیراب کیا اور  قربانی نے ماتم کو نہیں، عزم کو جنم دیا یوں یوں  جدائی نے مایوسی  کے بجائے  استقامت کی نئی تاریخ رقم کی۔

تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب قومیں اپنے رہنماؤں کو اقدار کا پیکر سمجھنے لگیں تو پھر اُن کی رحلت ایک نئے دور کا  آغاز بن جاتی ہے۔ عظیم قائد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اور  ان کا کردار زندہ رہتا ہے،  ان کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، اور  ان کا پیغام گونجتا رہتا ہے،  ان کا جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، اور  ان کی فکر نسلوں کے سینوں میں دھڑکتی رہتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جسے نہ کوئی پابندی چھین سکتی ہے، نہ کوئی حملہ مٹا سکتا ہے اور نہ کوئی دشمن تباہ کر سکتا ہے۔

اسی حقیقت کا دوسرا نام قومی شعور ہے۔ جب شعور بیدار ہو جائے تو قوم جذبات کے طوفان میں بہنے کے بجائے بصیرت کے چراغ جلاتی ہے۔   قومی شعور کو کچلا نہ جائے تو  سانحات مستقبل کی تعمیر کا زینہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں ایران نے بارہا اپنے مقبول ترین رہنماؤں، اپنے نامور دانشوروں اور اپنے قابل ترین سپہ سالاروں کو سپردِ خاک کیا اور  ہر تدفین کے بعد اس کی اجتماعی قوت میں ایک نئی جان، اس کی قومی وحدت میں ایک نئی تازگی اور اس کے سیاسی عزم میں ایک نئی پختگی دکھائی دی۔ یہاں سے ایک اور سبق بھی سامنے آتا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے اسلحہ خانوں کے بجائے  اس کے انسانوں میں ہوتی ہے۔

گزشتہ سینتالیس برسوں میں ملتِ ایران نے بارہا اپنے محبوب ترین فرزندوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، اپنی آنکھوں سے انہیں سپردِ خاک کیا اور اپنے آنسوؤں سے ان کی قبروں کو تر کیا۔ ایسا ہر منظر عزم کی تجدید، وفا کی تجسیم اور تاریخ سے عہدِ نو کی تصویر بنتا گیا۔ وہاں جنازے آئندہ سفر  جاری رہنے  کا  اعلان بن  جاتے ہیں، اور  قبریں آنے والی نسلوں کو بیداری کا سبق  دیتی ہیں۔

حالیہ سانحے کے بعد بھی یہی منظر دنیا نے دیکھا۔ ایک طرف غم تھا  اور  دوسری طرف عزم تھا ۔ ایک طرف آنکھیں اشک بار تھیں، دوسری طرف پیشانیاں استقلال سے تابناک تھیں۔  پوری قوم اپنے  شہید  رہبر کو دفنانے کے بجائے  اپنے عہد کی تجدید کرنے، اپنے عزم کو دہرانے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے  کیلئے نکلی ہوئی تھی۔  قاتل اس خوف سے لرز رہے تھے کہ ظالم  کی عمر مختصر ہے جبکہ مظلوم  کا احتجاج طویل، اور  ظالم کی قوت عارضی  ہے جبکہ  حق کی عظمت دائمی۔اہلِ ایران کو دیکھ کر ساری دنیا نے یہ مان لیا ہے کہ  مظلوم اگر اپنے موقف پر استقامت اختیار کرے تو شہادت بھی تاریخ کی سب سے بڑی فتح میں بدل سکتی ہے۔ اسی لیے ایران میں شہادت اور  قربانی کو نقصان کے بجائے  سرمایہ تصور کیا جاتا ہے، اور صبر کو کمزوری کے بجائے  قوت کا سرچشمہ مانا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک لمحہ فکریہ  پاکستان کے لیے بھی ہے۔پاکستان کی سرزمین بھی قربانیوں سے خالی نہیں۔ یہ مٹی بھی شہداء کے لہو سے سیراب ہوئی ہے، یہ فضاء بھی ماؤں کی آہوں سے بوجھل رہی ہے، یہ قوم بھی ہجرت، جنگ، دہشت گردی، معاشی ابتلا اور سیاسی اضطراب کے بے شمار موسم دیکھ چکی ہے۔ اس وطن کے سپاہیوں نے بھی  سرحدوں پر  اپنی جانیں نچھاور کی ہیں ، اس کے شہریوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہو کر قربانیاں دی ہیں ، اور اس کے عوام نے  بھی مسلسل مشکلات کے باوجود ریاست کے وجود کو قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس اعتبار سے پاکستان کی داستان بھی ایثار، استقامت اور آزمائش کی ایک طویل حکایت ہے۔ہمیں ملتِ ایران سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ  تاریخ صرف قربانیوں کی گنتی نہیں کرتی، بلکہ  شہدا کے مقصد کو زندہ رکھنے پر زور دیتی ہے۔ فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ایران سے کچھ  سیکھیں گے یا صرف اُن پرفخر ہی کرتے رہیں گے؟ یہی سوال ہر پاکستانی کے سامنے ہے، یہی امتحان آزاد کشمیر  کے لوگوں کا بھی  ہے، اور گلگت و بلتستان کے باسیوں کا بھی۔

آپ کی پسند


ایران سے سیکھیں !

ڈاکٹر نذر حافی : 
کشمیر کو ایرانِ صغیر بھی کہتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کا مسئلہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی چونکا دینے والی ہے۔ کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ  کیوں ایران کا دشمن جتنا آج خوفزدہ ہے اتنا کبھی ماضی میں نہ تھا؟۔   آئیے ایران کی قصیدہ خوانی کے بجائے ایران سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بات قابلِ مشاہدہ  ہے کہ  ایرانیوں نے  ایک نصف صدی تک بلا وقفہ  شعبِ ابیطالب جیسے   حالات کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات پاکستان اور آزاد کشمیر پر بھی گزرے ہیں لیکن    کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کے  حکمران  تاریخ کے ان اصولوں کو سمجھ رہے ہیں کہ جن پر قوموں کے عروج و زوال کا انحصار ہوتا ہے؟
کفار و مشرکین اور منافقین کی پابندیوں نے صدرِ اسلام کے مسلمانوں کی مانند   اہلِ ایران کو  توڑنے کے بجائے مزید   متحد کیاہے اور مشکلات نے  انہیں جھکانے کے بجائے مزید   بہتر انداز میں سنوارا ہے ۔اسلامی انقلاب کے ابتدائی برسوں میں، بادشاہت سے نجات حاصل کرنے کے لیے، انہوں  نے اپنے بہترین افراد کو اسلامی نظام کی خاطر قربان کیا۔یقیناً اس کرۂ ارض پر شاید ہی کوئی ایسا دوسرا  ملک ہوگا کہ  جس نے صرف 47 برس کے عرصے میں اتنے سانحات دیکھے ہوں۔ آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں 2 لاکھ 13 ہزار سے زائد شہداء، منافقین کے ہاتھوں 17 ہزار شہداء، ایک ہی دہشت گردانہ واقعے میں اکٹھے  72 ارکانِ پارلیمنٹ، ایک وزیر، نائب وزیر اور دیگر اعلیٰ حکام کی شہادت، اور دو صدورِ مملکت (شہید رجائی اور شہید رئیسی) اور ایک وزیرِ اعظم (شہید باہنر) کی شہادت۔ یہ سب اُس اُن کے ساتھ اُس  وقت ہوا جب انہیں امن،  سکون اور استحکام کی ضرورت تھی۔
ملتِ ایران کے اس امتحان  سے پاکستانی  اربابِ حل و عقد  کو  یہ نتیجہ کیوں نظر نہیں آتا کہ ایک مضبوط ریاست صرف  طاقت سے نہیں بلکہ حکمت، انصاف اور ایسے رہنماؤں سے  وجود میں آتی  ہے جو ذاتی مفادات پر  مفادِ عامہ کو ترجیح دیں۔ یہ عام فہم سی بات ہے کہ  وہی ریاست ترقی کر سکتی ہے جہاں  کرپشن کے بجائےکردار،  طاقت کے بجائے قانون اور شخصی و قبائلی مفادات کے بجائے  اجتماعی مقاصد مدِّنظرہوں۔
ایران میں پے در پے  بہترین افراد کا کھو جانا  اسلامی نظام کی کمزوری کا سبب ہونا چاہیے تھا  لیکن ایران میں اس کے برعکس ہوا۔ واقعہ کربلا کی مانند ان قربانیوں نے اسلامی انقلاب کو حیاتِ نو بخشی ۔  ایران میں اسلامی انقلاب کے ظہور کے وقت  ابھی ایرانی  ایک طویل جنگ سے نکلے ہی تھے اور حضرت امام خمینی ؒ کی موجودگی ہی اُن کیلئے سب سے بڑی امید تھی، ایسے وقت میں حضرت امامؒ ہی اُن کی  سب سے بڑی ڈھارس تھے، اُن کے سائے میں وہ اپنی ایک دہائی پر محیط جدوجہد کے مقاصد اور آرزوؤں کو حاصل کرنے کے خواب دیکھ  ہی رہے تھے  کہ  پھر  3 جون 1989ء کو حضرت امام کی جدائی  کا دن آیا اور اس کے بعد  ایرانی  ایک نئی جنگ میں داخل ہوگئے۔جس شخصیت کی موجودگی کو وہ اپنی  کامیابی کے لیے ضروری سمجھتے تھے ، اسی کی عدم موجودگی  میں نئی قیادت نے ملت ایران کیلئے کامیابیوں اور سر بلندی کے نئے دروازے کھولے۔ 
ایرانی قیادت نے  اپنی حکمت اور تدبیر سے یہ منوایا ہے  کہ مُلکی اداروں اور قومی  قیادت  کو علم، حکمت اور انسانی و اخلاقی اقدار سے مزیّن کئے بغیر آپ باشعور قوم نہیں بن  سکتے۔ ان کے نزدیک حکمران کا مقصد  کُرسی یا اقتدار حاصل کرنے کے بجائے  انسانوں کی فلاح و بہبود  اور  تعلیم و تربیّت  کیلئے کوشاں ہونا  ہے ۔
حضرت امام خمینیؒ  کے بعد  دو دہائیوں کے دوران درجنوں سائنس دان شہید ہوئے، دو جنگوں میں صرف چند ماہ کے مختصر وقفے کے اندر درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہوئے۔ان سب  قربانیوں کی انتہا  اور معراج  شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت ہے۔  شہید رہبر  نے حضرت امام خمینی ؒ کے بعد  اپنی 37 سالہ حکیمانہ قیادت کے دوران ایک  دانا اور مہربان باپ کی طرح امت کی رہنمائی کی۔ انہوں نے حضرت امام خمینیؒ کے بعد ملتِ ایران کو اسلامی جمہوریت، دینی  معرفت اور سیاسی دانش  کی بلندیوں تک پہنچایا، اور اسے اس طرح تیار کیا کہ آج ان کی شہادت کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ایرانی قوم کی بصیرت، دنیا کیلئے  ایک روشن مثال بن چکی ہے۔ ایرانی عوام میں یہ بصیرت اس لئے موجود ہے چونکہ اُن کے عظیم رہنماوں نے دل و جان سے  اپنی عوام  کو محض رعایا نہیں بلکہ باوقار، صاحبِ عقل اور حقوق رکھنے والے شہری تسلیم کیا ہے۔
آج ساری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے  کہ نظریاتی یا اعتقادی زاویے سے یہ  آزمائشیں، شہادتیں اور قربانیاں   ایک فطری امر ہیں، لیکن اہلِ ایران کیلئے  ان کی شدّت اور نوعیت انسانی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔یہ تمام واقعات اور حادثات، اگرچہ شہید رہبر سیّد علی خامنہ ای  کی نگاہ میں منزلِ مقصود کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے ضروری تھے ، تاہم ان میں ایسے سانحات بھی شامل ہیں کہ جن کا اس شدت اور تسلسل  کے ساتھ پیش آنا ، ملتِ ایران کے  وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ بہرحال  ایسے المناک حادثات کا بھی ایرانیوں نے بحہثیتِ قوم بہترین انداز میں استقبال کیا ہے۔ ایسا اس لئے ہوا ہے چونکہ عظیم قائدین اس دنیا سے چلے بھی چائیں تو  ان کا طرزِ زندگی اور قوم کو  دیا گیا  شعور ایک قومی سرمائے کی صورت میں ہمیشہ باقی  رہتا ہے ۔ یعنی  ایک فکر اگر عوام کے  دلوں میں اتر جائے تو  کسی قائد یا رہبر کے جانے سے ختم ہونے کے بجائے ترقی کے سفر کیلئے مشعلِ راہ  بن جاتی ہے۔
گزشتہ سینتالیس سالوں میں کئی بار ملتِ ایران  نے اپنے سب سے قیمتی اور مقبول ترین افراد کے جنازوں  کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنے ہاتھوں سے  سپردِ خاک کیا۔ 4 جون 1989ء کو جب  ملتِ ایران  تہران کے مصلیٰ میں امامِ راحل سے آخری وداع کے لیے جا رہے تھی  تو اس وقت کسی کے دل و دماغ میں  یہ تصور بھی نہ تھا کہ  یہ قوم ایک دن پھر   اسی مقام پر اپنے ایک اور نہایت عزیز رہنما سے رخصت ہونے کے لیے حاضر ہوگی۔  یہی تو وہ قوم ہے کہ  جس نے اس قدر زخم اور صدمات سہنے کے باوجود اسلامی نظام کو  زندگی کی سانسوں کی طرح  برقرار رکھا  ہوا ہے۔ اس قوم نے ساری دنیا تک یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ قومیں صرف  بڑے بڑے اجتماعات سے نہیں بلکہ  اعلی اہداف، مشترکہ مقاصد،  ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے  اور دیانتدار و سمجھدار  قیادت کے گرد جمع ہونے سے بنتی ہیں۔
 یہ امر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ   ان لوگوں  نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ خواہ کتنی ہی آزمائشیں اور مصیبتیں ہمارے حصے میں آئیں، ہم امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای کے افکار و مقاصد پر ثابت قدم رہیں گے اور اپنے دشمن کو ذلت و رسوائی سے دوچار کریں گے۔ان کا یہ عہد ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ایسا ایمان جو شعور سے خالی ہو، جذبات کا طوفان تو بن سکتا ہے لیکن کسی قوم کو اُس کے دشمنوں کے مقابلے میں کھڑا نہیں کر سکتا۔
آج کل ملت ایران پر ایک گہرااور ناقابلِ بیان بوجھ طاری ہے، گویا آسمان زمین پر گِر گیاہو۔ شہید رہبر کی نماز جنازہ کا جلوس یہ ایک ایسا عظیم اجتماع تھا جو پوری قوم کے اتحاد، جذبہ شہادت اور  دشمن سے انتقام  کا مظہر تھا۔ ملت کو اطمینان اور سکون دینے والا رہبر اب خاموش ہو گیا ہے لیکن اُس کی ملت اب بول رہی ہے۔ ایران  کی سڑکیں اور گلیاں سب بیک زبان " انتقام انتقام "کی صداوں سے گونج رہی ہیں۔  دشمن بہت خوفزدہ ہے۔ سُنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد ابن زیاد، عمر ابن سعد، شمر اور ۔۔۔ یزید وغیرہ  بھی بہت خوفزدہ تھے۔ ایرانیوں نے شمر و یزید پر صرف زبانی کلامی لعنت نہیں کی ۔ انہوں نے تاریخ کربلا سے یہ درس لیا ہے کہ کربلا میں طاقتوروں کے ہاتھ بہت لمبے  تھے لیکن انسانی و اخلاقی عظمت ایک چھوٹے سے قافلے کے پاس تھی۔ چنانچہ  انسانی اقدار کو پامال کرنے والے طاقتور ہار گئے لیکن وہ چھوٹا سے قافلہ انسانی اقدار کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔یہ درس کربلا کا ہے کہ  فتحیاب وہ نہیں ہوتے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں، اُن کے حقوق غصب کرتے ہیں حتی کہ اُن کا پانی تک بند کر دیتے ہیں بلکہ  فتحیاب وہ ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوتے۔ 
شہید رہبر  سید علی خامنہ ای کے قاتلوں کو اب خبر ہوئی ہے کہ شہید رہبر اور ملت اسلامیہ ایک ہی جسد اور ایک ہی جسم تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق  پیر اور منگل کے روز تہران اور قم کے عوام صرف ایک جنازے کو الوداع کہنے کے بجائے  گویا وہ  "اپنے ہی وجود کے  دِل کو وداع  کرنے کیلئے"  جمع ہوئےتھے۔ ایسے ہی مناظر عراق میں بھی چشمِ فلک نے دیکھے۔  اس کے بعد سے دشمن پر خوف و ہراس طاری ہے۔ قاتل بے چین ہیں چونکہ  شہید رہبر کا  راستہ  اُن کی شہادت سے مزید روشن ہو گیا ہے۔ اُن کا  وجود تو لوگوں کی نگاہوں سے  اوجھل ہو گیا ہے  لیکن اُن کی   فکر مزید  نمایاں ہو گئی ہے، ایرانیوں کے  دانشور شہید ہوگئے ہیں لیکن دانش باقی ہے اور سپہ سالار چلے گئے ہیں لیکن  سپاہ قائم  ہے۔ اس سے ثابت ہوا  کہ  درست فکر  ایک ایسے دریا کی مانند ہے جو راستہ تو بدلتا ہے لیکن خشک نہیں ہوتا۔
تدفین کے روز قاتلوں پر کپکپی طاری تھی۔ ہر سمت سے سیاہ پوش اور بےقرار انسانوں کا ایک ایسا  سیلاب امڈا چلا آ رہا تھا کہ  جو تھکن کے باوجود تھمنے پر آمادہ نہ تھا۔ ہر چہرے سے  ایسا غم و الم  چھلک رہا  تھا کہ جس کے اختتام کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا۔ ہر آنکھ سینتالیس برس کی استقامت، مزاحمت اور وفا کی گواہ تھی، اور ہر ہاتھ اشک و انتقام کا عَلَم تھامے ہوئے تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں تھے بلکہ یہ وہ دل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی  کو اسی دِن  کے لیے اپنے آپ  کو تیار کیا  ہُوا تھا، اپنے عزم کو  کربلا سے  جِلا بخشی  تھی اور اپنے ایمان کو شہادت کے مصلّے پر  استوار  کر رکھا تھا۔ قاتل ان مناظر کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہیں چونکہ انسانی تاثرات الفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتے ہیں۔
وہ مائیں، جو اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھیں، وہ ضعیف مرد و زن، جو عصاؤں کے سہارے اور خمیدہ قامت کے ساتھ جنازے کےہمراہ چل  رہے تھے،  اور وہ نوجوان، جو  اپنے سروں اور چہروں  پر ماتم کر رہے تھے ۔۔۔یہ سب ایک ہی جذبے  اور ایک ہی عہدِ وفا " انتقام انتقام" پر اکٹھے  تھے۔ یہ سب یہ اعلان کر رہے تھے کہ " ہم  ایک عظیم انتقام  کی جانب رواں دواں ہیں۔"
یہاں پر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اور کشمیر  کی تاریخ بھی سانحات، قربانیوں اور آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس قوم نے جنگوں، دہشت گردی، سیاسی بحرانوں، معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز کا سامنا کیا۔ لاکھوں لوگوں کی ہجرت، سرحدوں کے دفاع میں قربانیاں، دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد اور بے شمار خاندانوں کے دکھ اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان نے بھی آسانیاں نہیں دیکھیں۔ 
تاہم ہمارے پاکستانی صاحبانِ اقتدار اب   یہ بھول چکے ہیں  کہ قومیں صرف شہادتوں اور قربانیوں سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ   وہ ان قربانیوں کے مقاصد کو زندہ رکھ کر عظیم بنتی ہیں۔ قومی قائدین اور  شہیدوں کی یاد اگر صرف آنسو بن جائے تو  ترقی  کا سفر رک جاتا ہے، لیکن اگر وہ کردار، علم، دیانت اور خدمت میں تبدیل ہو جائے تو وہی  "یاد" مستقبل کی طاقت بن جاتی ہے۔ پاکستان جیسا ایک ایسا  عظیم ملک جس نے بے شمار مشکلات دیکھی ہیں،  جس کے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود  آج ہمارے سیاستدانوں کی نالائقی و کرپشن  کی وجہ سے  بظاہر بحرانوں میں گھرا ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ امیدوں اور   امکانات سے بھرا ہوا پاکستان ہے۔ 
آج لازم ہے کہ نسل در نسل بادشاہوں کی مانند حکمرانوں اور مقتدر اشرافیہ  کی  لوٹ کھسوٹ  کو جاری رکھنے کے بجائے ملت ایران کی مانند پاکستان کے چاروں صوبوں، بشمول  گلگت بلتستان  اور آزادکشمیر کے عوام کے مقدس جذبات اور آئینی مطالبات کا احترام کیا جائے۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو  ایران سے یہ سیکھنا چاہیے کہ  قومیں باہر کے حملوں سے نہیں ٹوٹتیں بلکہ  اندر سے کمزور ہو کر شکست کھاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات اور پاکستانی اشرافیہ کے لئے ہمارا یہ ایک جملہ کافی ہونا چاہیے کہ  جو قومیں اپنے قائدین اور شہیدوں سے  شعور لیتی ہیں،  اپنے قبائل کو اتحاد اور اپنے نوجوانوں کو  تعمیرِ ملت  کے راستے پر لگا دیتی  ہیں، ان کے لیے دشمن  بھی ترقی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ 
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 1947 کے بعد  ہمارے ہاں بادشاہ بدل گئے ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں، سیاستدانوں اور مُقتدر اداروں کی   سوچ وہی   پرانےبادشاہوں والی ہے۔ آزادکشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں کو یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ عوام کسی تخت کے غلام نہیں، اس ملک کے مالک اور آزاد  شہری ہیں۔ چاروں صوبوں ، گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو اُن کا آئینی اور قومی حق دیا جانا چاہیے کیونکہ قوموں کو غُلام بنا کر رکھنے کا دور گزر چکا ہے۔اس دور میں  جو ریاست اپنے شہریوں کو عزت کے ساتھ ایک وقت کا  لقمہ نہیں دے سکتی  اُس کے شہری بھی  اپنا لقمہ آسانی سے  اب  اشرافیہ کو نگلنے  نہیں دیتے۔ شہنشاہِ ایران اور ٹرمپ سے پوچھ لیجئے  ! مظلوم  سے زبردستی کے ساتھ چھینا ہوا  نوالہ ظالم کے   گلے کا پھندا  بن جایا کرتا ہے۔۔۔ 

جمعہ، 12 جون، 2026

ایرانی جوانوں کا پیغام آپ سب کے نام

 ایرانی جوانوں کا پیغام آپ سب کے نام


عزیز بھائیو اور بہنو!

ہمارا مقدس اور عزیز وطن، سربلند اور تہذیب ساز ایران، ایک بار پھر امریکہ اور صہیونی حکومت کی مجرمانہ فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران کی سرزمین کی سالمیت اور قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں دفاعی اہداف، بنیادی ڈھانچوں اور غیر فوجی مقامات پر حملے کیے۔

اسلامی ایران کے عظیم رہبر اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کی غرض سے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ دہشت گردانہ اقدام، جو ایران کی سرزمین اور قومی خودمختاری کے خلاف فوجی جارحیت کی شکل اختیار کر گیا، انسانی معاشرے کے تسلیم شدہ اخلاقی اور قانونی اصولوں پر بے مثال حملہ اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی بنیادی دفعات کی سنگین ترین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی یہ نئی فوجی جارحیت ایسے وقت میں انجام دی گئی جب ایران اور امریکہ ایک سفارتی عمل کے درمیان تھے۔ اگرچہ ہمیں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایک اور فوجی حملے کے ارادوں کا علم تھا، پھر بھی ہم نے عالمی برادری اور دنیا کے تمام ممالک پر حجت تمام کرنے اور ایرانی قوم کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تاکہ جارحیت کے لیے کسی بھی بہانے کی غیر قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی معاصر تاریخ میں کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور اس کی حکمت عملی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام پر مبنی رہی ہے۔ ایران کی حالیہ فوجی کارروائیاں صرف ان حملوں اور جارحیتوں کے خلاف ایک جائز، دفاعی اور بازدار جواب ہیں جو بعض ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ایران کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف انجام دی گئیں۔

صہیونی حکومت اور اس کے مغربی و علاقائی حامیوں کے مجرمانہ طرزِ عمل کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں مکمل اخلاقی اور اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے نہ تو بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا اور نہ ہی ممالک کے اہم غیر فوجی بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے جائز اہداف صرف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے تھے جو براہِ راست ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے مراکز کے طور پر استعمال کیے گئے تھے۔

امریکیوں نے برسوں تک خطے کے ممالک سے "سلامتی کی فراہمی" کے نام پر بھاری رقوم وصول کیں اور مربوط دفاعی نظاموں کے اخراجات انہی ممالک سے پورے کروائے۔ آج وہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے میں ناکام ہیں اور اپنے فوجی اڈوں کا بھی دفاع نہیں کر سکتے، بلکہ ان ممالک کی حکومتوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ شکایت کرنے کے بجائے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے مقابلے میں شامل ہوں۔

حالانکہ گزشتہ مہینوں کے دوران امریکہ نے بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز اور طیارے خطے میں بھیجے، دھمکی آمیز زبان استعمال کی، اور عالمی رائے عامہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایران کی بحریہ، فضائی دفاع اور ریڈار نظاموں کی تباہی جیسے دعوے کرتے ہوئے اور قبل از وقت فتح کا اعلان کر کے اپنی حکمتِ عملی کی ناکامی کو چھپانے اور مصنوعی کامیابیاں ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران اسرائیل نے بھی آبادکاروں کے خوف اور غصے کو کم کرنے کے لیے جنگ سے متعلق خبروں پر سخت سنسرشپ نافذ رکھی۔اس جنگ میں دشمن کے مقاصد کو دو سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے:

1۔ تزویراتی (اسٹریٹجک) مقصد

مغربی ایشیا کے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنا، صہیونی حکومت کی مرکزیت پر مبنی مطلوبہ علاقائی نظام کو مسلط کرنا، اور اسی کے ذریعے امریکہ کے پسندیدہ عالمی نظام کو مضبوط بنانا، نیز چین اور روس جیسے عالمی حریفوں کو اس خطے سے دور رکھنا۔

2۔ عملیاتی مقاصد

اس تزویراتی مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے متعدد عملیاتی اہداف کا تعاقب کیا، جن میں سب سے اہم درج ذیل تھے:

1. نظام کی تبدیلی یا اس کا خاتمہ

    ایسا نظام قائم کرنا جو سابقہ پہلوی دور کی طرح امریکہ اور اسرائیل کا تابع ہو، تاکہ ایران دوبارہ ان کی وابستگی کے دائرے میں آ جائے اور پورا خطہ ان کے کنٹرول میں چلا جائے۔

2. اسلامی جمہوریہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا

    پابندیوں، دھمکیوں اور سخت جنگی اقدامات کے ذریعے عوام اور حکام میں اس حد تک خوف پیدا کرنا کہ وہ غیر مشروط طور پر دشمن کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

3. اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنا

    جوہری اور میزائل تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچوں اور دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا کر ایسے داخلی حالات پیدا کرنا جو مستقبل میں نظام کی ماہیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی کا باعث بنیں۔ دشمن کا اندازہ تھا کہ یا تو اس کے نتیجے میں نظام ٹوٹ جائے گا اور ملک تقسیم ہو جائے گا، یا پھر وہ اتنا کمزور ہو جائے گا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شرائط، مثلاً میزائل اور جوہری صلاحیتوں سے دستبرداری، قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

4. غیر ہم آہنگ حکومتوں کے خاتمے کے عمل کو مکمل کرنا

    دشمن جنہیں "سرکش ریاستیں" قرار دیتا ہے، ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھنا۔ بیان کے مطابق اس منصوبے کا پہلا قدم وینزویلا کے سوشلسٹ اور امریکہ مخالف صدر کے اغوا کی صورت میں سامنے آیا، اور اس کے بعد دشمن کی نظر کیوبا جیسے ممالک پر بھی تھی۔

آزاد فکر اور سامراج مخالف نوجوانو !

استکباری نظام اور توسیع پسند صہیونی تحریک مغربی ایشیا کے علاقائی نظم کو اپنی بقا اور مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھتے ہیں، لیکن انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی صورت میں ایک ایسی رکاوٹ کا سامنا ہے جو آزادی، خودمختاری اور اپنی تہذیبی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے طاقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی خصوصیات ایران کو ان تمام آزاد اقوام کے لیے ایک مثال بناتی ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے غلبہ پسند نظام سے تنگ آ چکی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین برسوں تک اس امید میں رہے کہ معاشی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور انتظامی مشکلات کے باعث ایران اندرونی طور پر کمزور ہو کر ٹوٹ جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی تمام تر میڈیا، تبلیغی، تخریبی اور دہشت گردانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لایا، بعض نخبگان کو اپنے ساتھ ملانے اور قومی شناخت و خودمختاری کے حامی عناصر کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اور مغربی طرزِ زندگی کے فروغ کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی سعی کی۔

لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور استحکام کے عمل نے نہ صرف مشکلات کا مقابلہ ممکن بنایا بلکہ قومی خودمختاری کے لیے ضروری تزویراتی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا، یہاں تک کہ ایران کو دوبارہ مکمل انحصار اور تابع داری کی طرف واپس لے جانا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا۔

ایسے حالات میں "طوفان الاقصیٰ" کی کارروائی وقوع پذیر ہوئی، جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے کے لیے جاری متوازی حکمتِ عملی کو چیلنج کر دیا۔ یہ حکمتِ عملی بعض اسلامی حکومتوں کو خوف یا ترغیب کے ذریعے اسرائیل کی قیادت میں قائم ہونے والے علاقائی نظام کو قبول کرنے اور ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی محاذ میں شامل کرنے پر مبنی تھی۔ اس صورتِ حال نے پہلے صہیونیوں اور پھر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں میں اپنی بقا کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ علاقائی مزاحمتی محور، اگرچہ نظریاتی اشتراک اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف مشترک مقاصد رکھتے ہیں، لیکن اپنی سماجی بنیادوں، مقامی دفاعی صلاحیتوں اور تزویراتی و عملیاتی فیصلوں میں مکمل خودمختاری کی وجہ سے روایتی معنوں میں کسی کنٹرول شدہ نیابتی قوت کی خصوصیات نہیں رکھتے۔ ان کی کارکردگی ایک کثیرالجہتی، خودانحصار اور خودمختار مزاحمتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔

غزہ میں اسرائیل کے اقدامات، "اسرائیلِ بزرگ" کے منصوبے کا کھلا اظہار، اسلامی اور عرب ممالک کے خلاف جارحانہ مؤقف، اور مغربی ممالک و اسرائیل کے روایتی اتحادیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی نفرت نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے مستقبل کے بارے میں مزید فکرمند کر دیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کو، اس بیان کے مطابق، ایک ایسے ماحول کا سبب قرار دیا گیا جس نے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی اور ماضی کی ناکامیوں کا بدلہ لینے کی راہ ہموار کی۔

بیان کے مطابق، ایران کو کمزور سمجھنے اور داخلی بدامنی کے امکانات کا اندازہ لگانے نے بھی اس فیصلے کی تشکیل میں کردار ادا کیا، جبکہ تل ابیب میں موجود طاقتور حلقوں نے اس سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تجزیے کی بنیاد پر، بیان کے مطابق، دشمن نے پہلے "بارہ روزہ جنگ"، پھر امریکی۔صہیونی نوعیت کی بدامنی اور بغاوت، اور اس کے بعد موجودہ مکمل جنگ (جسے "جنگِ رمضان" کہا گیا ہے) کی منصوبہ بندی کی۔

بیان کے مطابق، اپنی کارروائیوں کو جائز دکھانے کے لیے دشمن نے ابتدا میں ایران کے لیے شرائط مقرر کیں، مذاکرات کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا، اور ساتھ ہی داخلی بے چینی کو ہوا دی، تاکہ اپنی مداخلت کو ایران کی مزاحمت یا عوامی مطالبات سے جوڑا جا سکے۔ تاہم بیان کے مطابق، یہ حکمتِ عملی ناکام رہی اور مذاکرات کے دوران جنگ کے آغاز، نیز تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ان دعوؤں کے خلاف تاریخی ثبوت قرار دیا گیا۔

عزیز آزاد فکر اور امن پسند نوجوانو !

میناب کے "شجرۂ طیبہ" گرلز اسکول کے بچوں کی مظلومانہ پکار، جس کے بارے میں بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی امریکی اور صہیونی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی، ایسی تھی کہ موجودہ دنیا میں، جہاں کثیرالجہتی کمزور پڑ چکی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے بجائے طاقت کا استعمال غالب آتا جا رہا ہے، کوئی بھی بیدار ضمیر اس سانحے کو نظر انداز نہیں کر سکا۔

آخر میں، متحدہ اسلامی نوجوانوں کی انجمن اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک، بالخصوص خطے اور اسلامی دنیا کے ممالک، تحریکِ عدمِ وابستگی کے اراکین، اور ان تمام حکومتوں سے جو عالمی امن و سلامتی کے بارے میں خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں، یہ توقع کرتی ہے کہ وہ اس جارحانہ اقدام کی واضح مذمت کریں اور اس کے خلاف اجتماعی اقدامات اٹھائیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو غیر معمولی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اس تاریخی آزمائش کے لمحے میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، اس سرزمین کی عظیم حماسی روایت سے رہنمائی لیتے ہوئے، خداوندِ متعال پر توکل، الٰہی نصرت کے وعدے پر ایمان، اور قومی طاقت پر اعتماد کے ساتھ، اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہر قسم کے دفاعی اقدام کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایرانی قوم نے کبھی بھی بیرونی جارحیت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ بیان کے مطابق، اس بار بھی ایران کا جواب فیصلہ کن اور مضبوط ہوگا اور حملہ آوروں کو اپنے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا۔

"وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ"

﴿اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے﴾

بین الاقوامی امور کا شعبہ۔۔۔ متحدہ اسلامی نوجوانوں کی انجمن – ایران

17 خرداد 1405 ہجری شمسی

 7 جون 2026


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...