زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعرات، 26 جون، 2025

The tradition of offering greetings with Muharram and the reality of the Islamic year

محرم الحرام کے ساتھ مبارکبادوں کا سلسلہ اور اسلامی سال کی حقیقت :
ڈاکٹر نذر حافی :
کچھ لوگ محرم الحرام کے ساتھ ہی اسلامی سال کے آغاز پر  مبارکبادوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اور کچھ ان مبارکبادوں کی مخالفت۔لوگوں کی اکثریت معاملات کی   اصل کو نہیں جانتی بلکہ  اکثر لوگ  سائے کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔اسلامی سال کے  ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ہماری اکثریت کو معاشرے میں جو چیز رائج نظر آتی ہے وہ   بغیر کسی تحقیق کے اُسے ہی اسلامی سمجھ بیٹھتی ہے۔کیا ہجری سال واقعی "اسلامی" ہے؟  لوگوں نے بغیر کسی تحقیق کے پہلے سے ہی اس سوال کا جواب  ہاں تیار کر رکھا ہے۔ لوگ تحقیق کرنے کے بجائے  رسم و رواج اور رائج ہونا دیکھتے ہیں ، چنانچہ وہ یہ  نہیں جانتے کہ  رسول اللہ ﷺ  نے محرم الحرام  کے بجائے  ربیع الاوّل میں ہجرت  کی تھی۔ انسان کی معلومات  کی بنیاد  تحقیق و علم پر ہونی چاہیے۔ اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ  قرآن مجید  یا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک مخصوص کیلنڈر اپنانے کا حکم کبھی نہیں  دیا؟ جب قرآن و سُنت میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کسی سال کو اسلامی کہنا کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ کیا اسلامی ہونے کیلئے قرآن و سُنّت میں  حکم کا  ہونا لازمی نہیں؟  اس  معاملے میں لوگوں نے  حقیقت  کے بجائے سائے کو حق سمجھ رکھا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور خلیفۂ اول کے دورِ خلافت میں وقت کا حساب اُسی طریقے سے کیا  جاتا تھا جو قریش کے ہاں زمانہ جاہلیّت میں  رائج تھا۔  موجوودہ ہجری سال کے مہینے، ان کے نام، ترتیب اور حرمت سب جاہلی عربوں کے نظام کا حصہ تھے، جنہیں قرآن نے بعض اصلاحات کے ساتھ برقرار رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب خلیفہ دوّم  کے دور میں اسلامی سلطنت پھیلی، تو انتظامی تقاضوں کے پیش نظر ایک انتظامی  کیلنڈر مرتب کیا گیا۔یعنی اس کا حکم قرآن مجید یا سُنّت رسول میں نہیں ہے اور خلیفہ اوّل کے سارے عہد میں اسلامی سال کے نام والی کوئی چیز مسلمانوں میں رائج نہیں تھی۔
خلیفہ دوّم کے زمانے میں ہجری کیلنڈر کا مقصد مسلمانوں کے درمیان نئے اسلامی سال کا  عقیدہ  اختراع کرنا اور  مبارکبادیں دینا نہیں تھا بلکہ   یہ نظم و نسق  کیلئے ایک طریقہ اپنایا گیاتھا۔ قرآن و سُنّت اور عہدِ نبویؐ سے ہٹ کر جب کسی چیز کا مقصد صرف نظمِ د ضبط ہو تو اسے "اسلامی " بنا دیانا  ایک فکری مغالطہ ہے۔
اس فکری مغالطے کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ دینی علم وہ ہے جو وحی پر مبنی ہو، اور باقی علوم عقل و مشاہدے پر۔ ہجری کیلنڈر کا تعین چونکہ  محض  نظم و ضبط کی  ضرورت  تھا، اس لیے اس کا دینی ہونا تب ہی ممکن ہے جب قرآن یا سنت اس پر صریح رہنمائی کرے اور واضح حکم دے۔ لیکن ایسا کوئی حکم نہ قرآن میں موجود ہے، نہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں۔
قرآن نے عرب معاشرے میں رائج مہینوں کی تعداد، حرمت اور ترتیب کو اسی طرح قبول کیا ہے۔ چار مہینوں کو حرمت دی، اور مہینوں کو آگے پیچھے کرنے (نسیء) کو سختی سے منع کیا، تاکہ عبادات اور معاشرتی توازن بگڑ نہ جائے۔یہ سب خلیفہ دوّم کے عہد میں بھی کچھ عرصے تک جاری رہا۔اس کے بعد  مسلمان اپنے معاملات  اس ہجری کیلنڈر سے مرتب کرنے لگے جس  کا  آغاز بھی اس مہینے سے نہیں ہوتا  یعنی ربیع الاوّل سے نہیں ہوتا کہ جس میں رسول ؐ نے ہجرت کی تھی۔ یہ خود ایک تضاد ہے جسے جنتری کے اعتبار سے  کوئی شخص حل نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کے ہاں یہ کیلنڈر اسی طرح  اس تضاد کے ہمراہ رائج ہو گیا اور لوگوں نے اسے اسلامی کہنا شروع کر دیا۔ کیا کسی چیز کو  قرآن و سُنّت سے ہٹ کر صرف اس لیے "اسلامی" کہا جا سکتا ہے کہ اسے مسلمان صدیوں سے استعمال کرتے  چلے آ رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہجری کیلنڈر کی حقیقت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟
اسلامی تہذیب و تمدّن پر اس عدمِ آگاہی اور لاعلمی کے  اثرات  کو معمولی نہ لیجئے۔ یہ مبارکبادیں ایک تاریخ تضاد پر پردہ ڈالنے کیلئے ہیں ورنہ ہر باشعور انسان اس تضاد کو سمجھتا ہے۔ کیا کسی تضاد اور مغالطے کو دینی تقدس کا درجہ دینا یہ دین کے ساتھ نا انصافی اور ظلم نہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس مثال پر بھی غور کرنا چاہیے جو مولوی عبدالکریم شعیب اور ان کی "786 جنتری" کی ہے۔ یہ ایک جنتری تھی جو انہوں نے 19ویں صدی کے اواخر میں برما میں جاری کی، جس میں 100 سال بعد مسلمانوں کے عروج کی پیشن گوئی شامل تھی۔ 1998ء میں اس پیشین گوئی کو ایک بودھ بھکشو نے سازش قرار دے کر "786" کو جہادی کوڈ سے تعبیر کیا، اور "969" کے کوڈ سے بدھ انتہا پسند تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس جنتری کا کوئی روحانی یا شرعی جواز نہ تھا، لیکن عوام نے اسے بھی "اسلامی" رنگ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میانمار کے مسلمان آج بھی ظلم و استحصال کا شکار ہیں، اور ان کے خلاف یہ جنتری  میانمار پر قبضے کی سازش کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
ہم سب کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ جو چیزیں ہمیں فطری، عقیدتی یا مقدس نظر آتی ہیں،  ہم ان کے بارے میں تحقیق کریں کہ وہ دراصل کس بنیاد پر استوار ہیں۔ اگر ہجری کیلنڈر کی بنیاد ایک  انتظامی  فیصلہ تھا، تو اسے لوگوں سے چھپا کر  عقیدے کا درجہ تو نہیں دیا جانا چاہیے ۔ کیا ہم ہر ریاستی فیصلہ، جو مسلمانوں کے دورِ عروج میں ہوا ہو، عقیدے کا حصہ بنا لیں؟  کسی بھی قوم کا المیّہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں جاہل اکثریت فہیم اقلیت کو خاموش کر دے، اس  خاموشی سے  عقل، علم ، فہم  اور شعورکو جذبات، روایت اور شور میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ یا د رکھئے !سچ کی تلاش وہ سفر ہے جس میں انسان کو سب سے پہلے اپنے سائے سے نکلنا ہوتا ہے۔

 

منگل، 24 جون، 2025

Who Defeated and Who Emerged Victorious? A Fair Analysis

کسے شکست ہوئی کون فتح یاب ہوا ؟؟  منصفانہ   تجزیہ 
ڈاکٹر نذر حافی |
ایک پروفیسر صاحب  کو پہلی مرتبہ کسی گاوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں انہوں نے  ایک باغ کو دیکھا اور اُس کے مالک سے ملے۔انہوں نے باغ کے مالک سے پوچھا کہ  کہیں گاوں کے لوگ آپ کے پھل وغیرہ  تو چوری کر کے نہیں لے جاتے؟  مالک نے کہا کہ نہیں ہر گز نہیں، یہاں کے لوگ تو بہت ایماندار اور نیک ہیں۔ اس پر  محترم پروفیسر صاحب نے تعجب سے مالک کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ پھر تم نے اپنے کاندھوں پر بندوق کیوں اٹھائی ہوئی ہے؟ باغ کے مالک نے برجستہ جواب دیا کہ  یہ بندوق   گاوں والوں کو  ایماندار اور نیک رکھنے کیلئے ہی ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرونز بھی امریکہ و اسرائیل جیسوں  کو صلح پسند اور امن پسند رکھنے کیلئے ہی ہیں۔
یقین مانیں کہ اگر اسرائیل کی مانند  امریکہ کو بھی   ایران کا  فوری اور مساوی  جواب نہ ملتا  تو یہ  جنگ بندی ممکن ہی نہ تھی۔ امریکہ کی بے بسی کا عالم تو دیکھیں کہ بارہ دن تک ایران پر براہِ راست بم برسائے گے لیکن رجیم چینج نہیں ہوئی جبکہ ہمارے ہاں تو  ایک سائفر کا تعویز اپنا کام دکھا گیا تھا۔  مسٹر ٹر ٹر  کو ابھی تک  یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ  اسلامی انقلاب کے بعد والے ایران  اور  دنیا  کے دیگر اسلامی ممالک میں کیا فرق ہے؟۔  اس فرق کو سمجھنے اور اپنے شکوک و شبہات کو دور کرنے  کیلئے ہی امریکہ نے    ایران پر  ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر حملہ کیا۔ ٹر ٹر نے  آئندہ کا لائحہ عمل  اس  حملےکے ردِّ عمل کو دیکھ کر  طے کرنا  تھا۔ اسلامی فورس  کی طرف سے  امریکہ کو طاقت کی زبان میں جواب  دینے  اور اس کے فورا بعد ٹر ٹر کے صلح کے دعووں نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا  کہ امن کے ساتھ جینے کیلئے طاقتور ہونا ضروری ہے۔ کہیں پر بھی امن نرم دل، روتی ہوئی آنکھوں اور آہ و بکا کے بجائے طاقتور بازووں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بازووں میں طاقت نہیں تو آپ   کو  آزادی، مساوات اور انصاف کی قربانی دے کر امن حاصل کرنا پڑے گا۔ چنانچہ ملت ایران نے آزادی، مساوات اور انصاف کو   قربان کرنے  کے بجائے اپنے طاقتور بازووں سے کام لیا اور خوب ڈٹ کر  یہ کام لیا۔
ٹرٹر، جو ابھی چند دن پہلے ایران پر حملے کا حکم دے چکا تھا، اب خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسے امریکی و مغربی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن اور اخلاقی تضاد کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔جب کسی ریاست کا سربراہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے تو  ایسے میں صلح و  امن کا نام لے کر فراڈکرنا ہی طاقتور کے   بیانیے کی بنیاد ہوتا ہے۔
ٹرٹر کی "جنگ بندی" کا اعلان دراصل ایک جنگی چال ہے، جس کا مقصد ایران کو حملہ آور دکھانا اور خود کو صلح جو ، منصف اور غیرجانبدار ثابت کرنا ہے۔ایرانی قوم کو آٹھ سالہ جنگ کا تجربہ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  جارحیّت  سے زیادہ خطرناک وہ  صلح  ہے جو جارح کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ  آج دنیا کا ہر باشعور شخص ٹرٹر سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ  جب  تم خود حملہ آور ہو تو پھر تم ثالث اور منصف کہاں سے بن بیٹھے؟
ایران نے جس انداز میں عراق و  قطر میں امریکی اڈوں  پر جوابی کارروائی کی، وہ محض عسکری جواب نہیں تھا  بلکہ  دنیا کے سوچنے کے انداز کو  اُلٹ کر رکھ  دینے کی ایک فکری کاوش  تھی۔ بڑے بڑے دانشور بوکھلا کر کہہ رہے تھے کہ اب تو ایران کیلئے کئی محاز کھل جائیں گے، اب تو ایران کو بڑی سخت سزا ملے گی، وغیرہ وغیرہ لیکن ایرانیوں نے امریکہ کو جواب دے کر یہ منوا لیا کہ  تاریخ وہ   بازار ہے کہ  جہاں قومیں اپنی عزّت و آزادی  کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرتی ہیں۔ ایران نے  دشمن کے مقابلے میں اپنی قومی عزت و وقار  کا تحفظ عمل سے کیا  نہ کہ الفاظ سے۔
ٹرٹر صلح اور امن کے بھاشن دے کر  چاہتا یہ ہے کہ  کسی طرح اپنی شرمندگی کو چھپائے۔ گویا بدترین شکست کے بعد  فتح کا جھنڈا بھی وہی لہرائے۔ ایسے بے حیا کرداروں کے نزدیک انسانیت، انسانوں کی آزادی و خود مختاری  اور انسانی اقدار نام کی کوئی شئے نہیں  ۔انہیں صرف اس سے غرض ہے کہ اب اگر ایران جنگ بندی کی  اس "پیشکش" کو مسترد کر دے تو   اسے  مزید جارحیت کا جواز بنا یا جائے۔ امریکہ کے پاس ایران کیلئے تو بہت سارے ایٹم بم ہیں لیکن  فلسطین و غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے کوئی علاج نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  اگر دوا کے بغیر طبیب علاج کی بات کرے، تو وہ علاج نہیں کر رہا ہوتا بلکہ مرض کو لاعلاج  بنا رہا ہوتا ہے۔  ٹرٹر در اصل  اسرائیل کے پھوڑےکو ایک  لاعلاج ناسور میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔
یہ بھی امریکہ، اسرائیل اور فرانس وغیرہ کی بڑی ناکامی ہے کہ وہ  تجزیہ نگاروں، میڈیا ہاوسز، سوشل نیٹ ورکس ، مختلف تھنک ٹینکس پر اربو ں روپیہ خرچ کر کے بھی  ایرانی قوم کی  داخلی وحدت کو نقصان نہیں پہچا سکے۔ اس جنگ نے داخلی اور خارجی دونوں لحاظ سے ایران کو جتنا مضبوط کیا ہے، ایران اس سے پہلے کبھی اتنا مضبوط نہیں تھا۔ ایرن نے اپنی صفوں میں چھپے ہوئے منافقین اور غدّاروں کے کئی نیٹ ورکس پکڑے ہیں جو کہ ایران کیلئے خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
ایران نے صرف  میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ میں ٹرٹر اور کفرائیل کو مات نہیں دی،  بلکہ بیانیے، شعور،  اور اندرونی  و بیرونی رائے عامہ  کے میدان میں بھی اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔  ایرانی جرنیلوں نے اپنی تدابیر اور فہم و فراست سے ساری دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ  وہ تاریخ میں اپنا کردار خود تراشتے اور طے کرتے ہیں، نہ کہ بڑی طاقتوں کے لکھے ہوئے کسی اسکرپٹ میں وہ  کسی فنکار کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔
ٹرٹر کی صلح کے اعلان میں  امن کی روح نہیں، بلکہ طاقت کے  جبر کی چالاکی ہے۔ یہ ایسا امن ہے کہ جس کے نیچے طاقت کی تلوار چھپی ہوئی ہے جبکہ  دوسری طرف ایسے جبر و مکر کے مقابلے میں ایران کی  مقاومت و  مزاحمت ہے  جو آزادی اور برابری کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ ایرانی ماوں نے ایسے جرنیل جنم ہی نہیں دئیے کہ جو  کسی  ظالم کی خوشامد کر کے  کوئی مقام و منصب پانا چاہیں۔
نہ ہی تو ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو شہید کیا جا سکا، نہ ایران   اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوا،  نہ حکومت کا تختہ اُلٹا جا سکا،  نہ کوئی عوامی بغاوت ہوئی،  نہ ایران کی   اعلیٰ  انقلابی قیادت   سرنگوں ہوئی،  نہ ایران نے کسی حملے کا جواب قضا کیا ،  نہ  ایران نے سیز فائر کی بھیک مانگی، اور  سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران نے میدان جنگ میں بھی  اعلیٰ اخلاقی، سفارتی  اور  اسلامی اصولوں کی پاسداری کر کے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریت  کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ۔  بات صرف یہ نہیں کہ ایران نے ایک نام نہاد سُپر طاقت   اور اس کے حلیفوں کو شکستِ فاش دی ہے بلکہ بات تو یہ ہے کہ ایران نے  عملاً  ایک مرتبہ پھر ساری دنیا سے یہ تسلیم کروا لیا ہے کہ
سُپر طاقت ہے خدا ۔۔۔لا الہ الّااللہ

ہفتہ، 21 جون، 2025

علامہ ابن حسن جارچوی قسط ۲

زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اور فن سوانح نگاری کی اہمیت :
قسط دوّم 
  : ڈاکٹر نذر حافی :
اسلوب، زبان اور بیانیے کے اعتبار سے زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی  اردو ادب میں ایک دلکش اور فنّی  اضافہ ہے۔ایک عظیم سوانح وہی ہوتی ہے جو واقعات کے پس پردہ انسانی ارادے، اقدار، تضادات اور وجودی سوالات کو اجاگر کرے۔ کامیابی و ناکامی، اختیار و جبر، فرد و معاشرہ جیسی زندہ  مباحث سوانح میں عملی مثالوں کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔  جیسا کہ  اس سوانح حیات میں ایسی کئی عملی مثالیں موجود ہیں۔ نمونے کے طور پر اس کتاب سے   ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
  صغیر :۔ آپ کا نگریسی مسلمانوں کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں؟
علامہ :۔ ایک مرتبہ جب میں شملہ گیا تو راستہ میں ایک چائے اسٹال پر کوئی لڑکا ترکی ٹوپی پہنے آواز لگارہا تھا مسلمان چائے ، مسلمان چائے میزبان نے گاڑی روک دی۔ ہم چائے نوش کر کے چلے تو اسی اسٹال سے آواز آئی ” ہندو چائے ، ہندو چائے ۔
ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا گاندھی کیپ پہنے آواز لگا رہا تھا۔
اب اس کا فیصلہ تو قارئین اور نقاد ہی کریں گے کہ  " زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی" میں کس قدر  فن کے لوازمات تاریخی سچائی، ادبی جمالیات اور معاشرتی بصیرت کا  اہتمام کیا گیا ہے ۔  تاہم یہ بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ جب یہ تینوں عناصر باہم ہم آہنگ ہو جائیں تو سوانح نگاری محض زندگی کا بیان نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور انسانی تجربے کی جامع تعبیر بن جاتی ہے۔ اس سوانح نگاری میں  بالا تینوں عناصر   کے امتزاج کی ایک جھلک  پیشِ خدمت ہے: 
صغیر :۔ آپ کی قیام گاہ سے ایک فرلانگ پر لالوکھیت میں جماعت اسلامی کے دس ہزار ارکان کا اجتماع ہوا۔ آپ کو مدعو نہیں کیا گیا ؟
علامہ :۔ مجھے کوئی دعوت نامہ نہیں ملا۔
صغیر : ۔ کیا آپ صالح اور سنی نہیں ہیں؟
علامہ :۔ ہم اتباع رسول ﷺکرتے ہیں ۔ ہم سُنّی ہیں ۔
صغیر :۔ جماعت اسلامی اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ یہ پاکستانی مہا سبھا ہے (اس پرعلامہ بہت ہنسے )
اب یہاں پر ہم  کتاب میں مذکور ان واقعات کے حوالے سے یہ واضح کرنا چاہتے ہین کہ جب  فنِّ سوانح نگاری کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو تاریخ محض واقعات اور اعداد و شمار کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے، جس میں انسانی کردار، فیصلے اور جدوجہد اوجھل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً قومیں اپنی فکری تشکیل اور ارتقائی مراحل کو درست طور پر نہیں سمجھ پاتیں اور اُن کی  ماضی سے سیکھنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سوانح کے بغیر ادب بھی  زندگی کے حقیقی مسائل، کرداروں کی داخلی کشمکش اور عملی تجربات سے کٹ جاتا ہے، جس سے اس میں گہرائی اور تاثیر کم ہو جاتی ہے۔
سوانح نگاری انسان کے وجودی سوالات اختیار، جبر، اخلاق اور مقصدِ حیات کو عملی زندگی کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ اس کے بغیر یہ سوالات مجرد اور غیر مربوط رہ جاتے ہیں اور فرد خود آگاہی سے محروم ہو جاتا ہے۔الغرض، فنِ سوانح نگاری سے غفلت انسان، تاریخ اور ادب کے درمیان موجود زندہ ربط کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ غفلت نہ صرف ماضی کی تفہیم کو متاثر کرتی ہے بلکہ حال کی سمت اور مستقبل کی فکری بنیادوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی کے مطالعے سے یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ سوانح نگاری اگر سطحی بیان سے اوپر اُٹھ کر فکری اور روحانی شعور کی سطح کو چھو لے تو یہ محض زندگیوں کی روداد نہیں رہتی بلکہ ایک قاری کیلئے  انسان  ہونے  کے ناتے ماضی کی تفسیر بن جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ خاموش نہیں رہتی، اور ادب محض حسنِ بیان تک محدود نہیں رہتا۔  آپ جیسے جیسے کتاب کے صفحات الٹتے جاتے ہیں ، اپنی انگلیوں کی پوروں سے  یہ محسوس کرتے ہیں کہ سطر بہ سطر تاریخ بول رہی ہے اور ادب سانس لے رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کتاب کے صفحہ ۳۷ پر ان سطور تک پہنچ جاتے ہیں:
"یہ باتیں کبھی بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ زمانہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا اس لیے انسان کو ظاہر داری نہیں برتنی چاہیے بلکہ بچنا چاہیے، مولانا محمد علی جو ہر اور شوکت علی جو ہر کا کسی زمانہ میں سر زمین لاہور پر تاریخی استقبال ہوا تھا۔ ایک زمانہ وہ بھی آیا جب کہ مولانا محمد علی جوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ میں لاہور میں پنجاب یونیورسٹی سے کلاسیں لے کر گھر جا رہا تھا۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ دو پہر کا وقت تھا۔ تانگہ میں میں نے دیکھا مولانا شوکت علی جو ہر سڑک پر کھڑے ہوئے لوگوں سے کسی کا مکان دریافت کر رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ انہیں پہچانتے نہیں۔ آنکھوں میں اُن کے استقبال کا منظر کھینچ گیا، اور دل دھڑکنے لگا۔
ایک مرتبہ مولانا شوکت علی کراچی سے بذریعہ ریل لاہور جا رہے تھے مرحوم اپنی وضع قطع کے ایک ہی آدمی تھے۔ لحیم شحیم جسم ، اس پر چاند تارہ والی ٹوپی ۔ یہ دیکھ کر اُن کے ہم سفر نے ، اُن کا نام پوچھا۔ یہ زمانہ اُن کے عروج کا نہ تھا۔ بس اب کیا تھا مولانا شوکت علی گرج پڑے۔ بولے ” میرا نام اگر آسمان سے پوچھو گے تو وہ پھٹ جائے گا ، درختوں سے پوچھو گے تو وہ احترام سے جھک جائیں گے۔ آپ مجھے نہیں جانتے“۔"
یہی  منظر نگاری اس سوانح نگاری   کے تسلسل میں جابجا موجود ہے۔  اس تناظر میں آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ فنِّ سوانح نگاری در اصل  انسان کے تجربے کو معنی عطا کرنے کی ایک کوشش ہے، اور یہی کوشش تہذیبوں کو زندہ رکھتی ہے۔  حقیقی سوانح نگاری کسی فرد کے اعمال کو محض کامیابی یا ناکامی کے پیمانے پر نہیں پرکھتی بلکہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اس نے  کب اور کیوں کون سا عمل انجام دیا  اور اس وقت اُس  کے اختیار کی حدود کہاں تک تھیں۔ جب سوانح نگاری سے غفلت برتی جاتی ہے تو بعد والی نسلوں کیلئے  ماضی کا  انسان محض  "ایک  مجبور روبوٹ" بن کر رہ جاتا ہے، یوں تاریخ  ِ انسان "شرفِ انسانیت" کے بغیر آگے بڑھنے لگتی ہے۔ یوں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کے انسان ہونے کیلئے خود  انسانیّت ہی   سب سے بڑی دلیل ہے۔ سوانح نگاری اس دلیل کو ہمیشہ محفوظ  رکھتی ہے۔ یہ عقل کو تجربے کے ساتھ باندھتی ہے اور بتاتی ہے کہ فکر کیسے عمل میں ڈھلتی ہے۔ اس فن کی عدم موجودگی میں علم جامد ہو جاتا ہے، شرافت  زندگی سے الگ اور انسان اپنے ہی افکار کا  اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔
فنّی سوانح نگاری وہ راستہ ہے کہ  جہاں فرد اپنی لغزشوں، توبہ، اضطراب اور یقین کے مراحل سے گزرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ فن مفقود ہو جائے تو معاشرہ ظاہر پرست ہو جاتا ہے یعنی  اعمال  توباقی رہتے ہیں لیکن  نیت غائب ہو جاتی ہے، اور روحانی  و معنوی زندگی رسومات و خرافات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سو !سوانح نگاری اس انتشار میں ایک باطنی ترتیب پیدا کرتی ہے، جہاں حادثہ، انتخاب اور تقدیر ایک منصوبہ بندی سے جُڑ جاتے ہیں۔ اس کے بغیر انسان کی زندگی شور ہے، اور تہذیب ایک بے سُری آواز۔ یہ نہ ہوتو نئی نسل خود اپنے وجود سے سوال کرتی ہے مگر جواب کسی اجتماعی تجربے کی شکل  میں نہیں پاتی۔ سوانح نگاری فرد کی تنہائی کو تاریخ سے جوڑتی ہے اور اس کے اضطراب کو محض ذاتی نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک عہد کی علامت بنا دیتی ہے۔ اس فن سے غفلت جدید انسان کو معنی کے خلا میں معلق کر دیتی ہے، جہاں وہ بولتا ہے مگر سنا نہیں جاتا۔

سوانح نگاری انسان کے دِل پر  موجود بوجھ کو زبان دیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ فکر کیسے دکھ میں ڈھلتی ہے اور دکھ کیسے شعور بن جاتا ہے۔ اگر سوانح نہ ہو تو غالب کا سوال بے جواب رہتا ہے اور انسان کی شکست محض ذاتی ناکامی کہلا کر فراموش ہو جاتی ہے۔ یہی وہ فن ہے جو ثابت کرتا ہے کہ انسان تاریخ کا مجبور  کردار نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار ہے۔ سوانح نگاری اس ذمہ داری کا اخلاقی ریکارڈ ہے۔  زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی کے مصنّف پروفیسر سیِّد اصغر جارچوی مرحوم نے اس اخلاقی ریکارڈ  کو بھی خاص اہمیّت دی ہے۔ چنانچہ صفحہ ۴۹ پر موجود  علامہ ابن حسن جارچوی کے افکار و مکالمات کے بارے میں انہی کا تجزیہ ملاحظہ فرمائیں۔ وہ رقمطراز ہیں کہ " علامہ اُن قومی رہنماؤں اور ملکی سیاست دانوں میں سے تھے جن کا نقطہِ نظر یہ رہا کہ قوم و مملکت کی اصلاح و ترقی اسلامی نظریۂ حیات کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ علامہ کا نظریہ تھا کہ مملکت ایک گاڑی ہے ، مادہ اور اخلاق اس کے دو پہیئے ہیں اگر ان دونوں پہیوں میں سے ایک نہ ہو تو نا مملکت چل سکتی ہے اور نہ نوع انسانی اپنی اقتصادی و اخلاقی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وہ  محور  تھاجس پر علامہ کے سیاسی نظریہ کا دارومدار تھا اس کی وہ قوم کو بری کرتے رہتے اور اسی پروہ  خود بھی عمل پیرا تھے۔ وہ ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتے رہے اور قومی معاملات اسی نقطۂ نظر سے حل  کرنے میں کوشاں رہے۔ انہی خیالات کے تحت سیاسی حضرات انہیں صرف لیڈر سمجھتے تھے اور مذہبی حضرات فقط مولوی ۔ دراصل وہ کُلی طور پر نہ قدامت پسند مبلغ تھے اور نہ جدیدیت پرست لیڈر۔ جہاں وہ مسلمانوں کے اخلاق کو بلند دیکھنا چاہتے تھے وہاں ان کے تن پر کپڑا بھی دیکھنا پسند کرتے تھے ۔ وہ اعتدال پسند تھے۔ انتہا پسند سیاست دان اور انتہا پسند مسلمان ان کو پسند نہیں کرتے تھے۔
آپ نے علم دین اس لئے حاصل کیا تھا کہ علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ مولویت علامہ کا پیشہ نہیں تھا اور وہ دین کو پیشہ بنانا غلط سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہی کہ مولویانہ محفلوں سے گریز کرتے تھے ور اعتدال پسندوں سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے اور اُن کو اپنی حکیمانہ گفتگو سے محظوظ کرتے ۔ آپ کی گفتگو عالمانہ نکتوں سے پر ہوتی ۔ اس لحاظ سے وہ اپنے دور کی انفرادی شخصیت تھے۔"
آخر میں ہم اپنے قارئین کیلئے اپنے   تجزیے کا خلاصہ پیش کرتے چلیں کہ  سوانح نگاری محض کسی شخصیت کے حالاتِ زندگی، تاریخِ پیدائش اور ظاہری واقعات کی فہرست نہیں بلکہ فکر کی گہرائی، کردار کی بلندی اور عملی رویّوں کی معنوی ترجمانی کا فن ہے۔ یہ فن ظاہر سے باطن تک کا سفر کراتا اور شخصیت کے مخفی پہلوؤں کو روشن کرتا ہے۔
مذکورہ کتاب " زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی"  میں علامہ کی زندگی اس قرینے سے پیش کی گئی ہے کہ قاری ان کے سیاسی نظریے، دینی بصیرت، اعتدال پسند فکر اور ذاتی طرزِ عمل کے باہمی ربط کو با آسانی سمجھ لیتا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ایک کامیاب سوانح نگار شخصیت کو انتہاؤں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ اس کے فکری توازن اور ذہنی اعتدال کو نمایاں کرتا ہے۔
فنِ سوانح نگاری کی اصل قدر و قیمت یہی ہے کہ وہ کسی عظیم انسان کو نہ فرشتوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے اور نہ عام انسانوں کی بھیڑ میں گم کر دیتی ہے۔ یوں سوانح نگاری قوم کے لیے فکری رہنمائی اور ذہنی بیداری کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ جب علامہ جیسی شخصیات کو ان کی فکری گہرائی اور عملی اعتدال کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو نئی نسل محض نام سے مرعوب نہیں ہوتی بلکہ طرزِ فکر سے متاثر ہو کر عمل کی راہ اختیار کرتی ہے۔ یہی فنِ سوانح نگاری کی سب سے بڑی معنویت، افادیت اور ضرورت ہے۔


جمعہ، 20 جون، 2025

"Heavy on every tyrant of the world... Iranian Revolution"

   دنیا کے ہر طاغوت پر بھاری  ۔۔۔ایرانی انقلاب 

  کالم نگار: ابو ولی اللہ خان (بہاولپور) 

فلسطین کی سرزمین برسوں سے خون میں نہائی ہوئی ہے۔ صیہونی جارحیت نے نہتے فلسطینیوںبچوں، عورتوں، اور بزرگوںکو بے دردی سے قتل کیا، اسپتالوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر غیرت مند دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں، مگر اسلامی دنیا کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی اس اذیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

جب ہم کربلا کے عظیم سانحے کو یاد کرتے ہیں، تو آج کا دور بھی ہمیں اسی آزمائش کی یاد دلاتا ہے۔ ایک طرف حق پر ڈٹے چند افراد، اور دوسری طرف ظلم، جبر، اور خاموش تماشائیوں کی اکثریت۔ اس منظرنامے میں ایران ایک ایسا محاذ ہے جو امریکی و صیہونی توسیع پسندی کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ مگر آج ایران ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں عالمی طاقتوں کا گٹھ جوڑ—جس میں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور بھارت جیسے ممالک شامل ہیں اس کی قیادت کو کمزور کرنے کے لیے متحد ہو چکا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی (2020)، حسن نصراللہ (2024)، صدر ابراہیم رئیسی (2024)، جنرل حسین سلامی، محمد باقری اور چھ جوہری سائنسدانوں سمیت بیس کے قریب اہم ایرانی عہدیداروں کی شہادتیں، اسی منظم سازش کا نتیجہ ہیں۔ ان کا مقصد ایرانی انقلابی قیادت کو مفلوج کرنا اور ایک نئی رجیم کے ذریعے رضا پہلوی جیسے کٹھ پتلی کو مسلط کرنا ہے، جو اسرائیل کے ساتھ "دوستی" کی آڑ میں ایران کو ایک بار پھر مغربی غلامی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جون 2025 میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے، جنہیں "آپریشن رائزنگ لائن" کا نام دیا گیا، اسی سازش کی ایک مثال تھے۔ دو سو سے زائد جنگی طیاروں کے ذریعے نطنز، فوردو، ہمدان، پارچین اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ موساد نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سبوتاژ کر کے ان حملوں کو کامیاب بنایا، اور فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی جیسے ممتاز سائنسدان شہید ہو گئے۔ یہ محض اسرائیل کی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک عالمی گٹھ جوڑ کا حصہ تھی جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور بھارت بھی شامل تھے۔ بھارت، جو چاہ بہار جیسے منصوبوں کے ذریعے ایران سے دوستی کا دکھاوا کرتا ہے، درحقیقت صیہونی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔

اسی گٹھ جوڑ کا مرکزی ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت اور اس کے انقلابی نظریے کا خاتمہ ہے۔ مغرب چاہتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کو رضا پہلوی جیسا فرد نصیب ہو، جو اسرائیل کے ساتھ "تاریخی تعلقات" کی بات کرتا ہے اور فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔ افسوس کہ بعض مغرب زدہ عناصر شاہی دور کو رومانوی انداز میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس دور میں جبر، کرپشن، اور بدنام زمانہ انٹیلیجنس ایجنسی SAVAK کی وحشتیں عام تھیں۔ آج انقلاب ایران کی بدولت جہاں ملک نے پابندیوں کے باوجود 90 فیصد شرح خواندگی حاصل کی ہے، وہیں خواتین بھی قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ایران کی مزاحمت محض اس کی قومی غیرت کا مظہر نہیں، بلکہ پورے خطے کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ فلسطین، شام، لبنان، اور یمن میں ایران نے محورِ مزاحمت کے ذریعے صیہونی اور امریکی عزائم کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں بھی ایران کی حمایت کو اپنی بقا سے جوڑتی ہیں، کیونکہ ایران کی تباہی کے بعد صیہونی توسیع پسندی کو کوئی روکنے والا نہیں بچے گا۔

اسلامی دنیا کی خاموشی اس پورے المیے میں سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو ہے۔ جب فلسطینی بچوں پر بم گر رہے ہوں، جب ایران کی قیادت ایک غیر متوازن جنگ کا سامنا کر رہی ہو، تو اسلامی ممالک یا تو مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں یا مغربی ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کربلا کے اس سبق کو یاد دلاتی ہے کہ اگر حق کے لیے آواز نہ اٹھائی جائے تو باطل ہمیشہ غالب آتا ہے۔

ایران کی اندرونی کمزوریاں، بالخصوص انٹیلیجنس نظام کی خرابی اور ادارہ جاتی دراڑیں، اس وقت اس کے سب سے بڑے مسائل میں سے ہیں۔ موساد کے ایجنٹس مبینہ طور پر ایرانی اداروں میں سرایت کر چکے ہیں، اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کی شہادتیں اسی داخلی کمزوری کی غماز ہیں۔ ایران کو نہ صرف اپنی سکیورٹی کو ازسرنو منظم کرنا ہوگا، بلکہ علاقائی سطح پر اتحاد کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔

 پاکستان کو، جو خود امریکی دباؤ کا شکار ہے، چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ اشتراکِ عمل کو مضبوط بنائے، کیونکہ خطے کی خودمختاری کے لیے یہ اتحاد ناگزیر ہے۔ اصل آزادی بیرونی مداخلت سے نہیں بلکہ اندرونی مزاحمت اور خود اعتمادی سے آتی ہے۔ فلسطین کی مزاحمت نے صیہونی جارحیت کو روکے رکھا، اور ایران کی مزاحمت اسی سلسلے کی ایک توانا کڑی ہے۔

آج فلسطین کے بچوں کا بہتا خون، ایران کے شہداء کی قربانیاں، اور شام و یمن کی تباہی ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم آواز بلند کریں، سچ لکھیں، اور ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ کربلا کا سبق یہی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی دینے والے کبھی شکست نہیں کھاتے۔ایران، فلسطین اور دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا صرف ایک سیاسی مؤقف نہیں، بلکہ ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔

  یا حسین! 

 


بدھ، 18 جون، 2025

جنگ ایران و اسرائیل و تأثیرات اخبارهای جعلی

جنگ ایران و اسرائیل و تأثیرات اخبارهای جعلی
دکتر  نذر حافی : 
زمانی که دشمن در اوهام قدرت و تسلیحات خویش حقیقت را انکار کند، معرکه اصلی نه در میدان نبرد بلکه در میدانِ اعصاب و روان است. غرور اسرائیل از تسلیحاتش به خاک افکنده شده است و اکنون جنگی عظیم در عرصهٔ اعصاب و روان علیه ایران در جریان است. تنش‌های اخیر میان ایران و اسرائیل را تنها در چارچوب جغرافیا نبینید؛ این نبردی است در سطح ذهن‌ها، جایی که هدفِ اصلی نه تسلط بر سرزمین‌ها بلکه غلبه بر اندیشه‌های مردم است. جنگ اعصاب، ظاهراً خاموش و بی‌صدا، اما در حقیقت از نبردهای نظامی بسیار سخت‌تر و دردناک‌تر است. کسانی که به حکمت پی برده‌اند، می‌دانند که برای شکست دشمن، باید در کنار میدان جنگ، هویت، اقتصاد، اعتماد و روایت آن را نیز از هم گسیخت. جایی که تیراندازی به همراه ترس و وحشت، مردم را به ترک مناطق و تخلیه آن‌ها وادار می‌کند، خود این امر نبردی است سهمگین. پاشیدن باروت بر دشمن کافی نیست، بلکه انتشار اخبار دروغین و تهدیداتِ منفی برای به تباهی کشاندن روحیه مردم و از دست دادن اعتمادشان به سرزمینشان، کاری است که هیچگاه ساده نمی‌بود.
اگر این نصرت الهی نباشد، پس چه نام دارد که ایران با حکمت و بصیرت، پروپاگاندای بی‌پایان و بی‌رحمانهٔ آمریکا و اسرائیل را به تنهایی خنثی کرده است؟ ایران نه تنها پروپاگاندای دشمن را بی‌اثر کرده بلکه در سطح جهانی، به تنهایی از انقلاب اسلامی، دموکراسی اسلامی، استقلال و حاکمیت کشور و قضیه فلسطین دفاع کرده است. ایران به واسطهٔ استراتژی خود، ضعف اسرائیل را همچون تار عنکبوتی شکننده در برابر چشم جهانیان به اثبات رسانده است. اکنون دیگر این تنها موضع ایران نیست که اسرائیل یک کشور اشغالگر و ضعیف‌تر از تار عنکبوت است، بلکه این موضع هر انسان آگاه و منصف در سطح جهانی است. افشاگری‌های جهانی علیه اسرائیل نتیجهٔ تلاش‌های فکری، رسانه‌ای، سایبری و شبکه‌های ایرانی است که همگی در کنار هم، چهرهٔ واقعی اسرائیل را در ذهن جهانیان حک کرده‌اند.

این افشاگری‌ها حتی بر مردم اسرائیل تأثیر گذاشته است و به همین دلیل است که مردم اسرائیل، اکنون خود را نسبت به گذشته، بسیار محصورتر، ناامن‌تر و بی‌اعتمادتر می‌بینند. آژیرهای هشدار که در تل آویو به صدا درمی‌آید، ویدئوهای هک‌شده، اخبار مکرر دربارهٔ اصابت موشک‌های ایرانی به اسرائیل و انفجارهای مرموز در نقاط مختلف این کشور، همگی بر اعصاب مردم اسرائیل تأثیرات سنگین و عمیق می‌گذارند. از سوی دیگر، اسرائیل به‌طور پیوسته اخبار جعلی و دروغین دربارهٔ حملات به تأسیسات هسته‌ای ایران و شهادت مقامات عالی‌رتبه‌اش را منتشر می‌کند، تا اینگونه القا کند که ایران به زودی فروخواهد پاشید.

در این لحظات حساس، در حالی که اخبار جعلی دربارهٔ ایران در حال گسترش است، شایعاتی مبنی بر وجود منافقین و خائنان که می‌خواهند انقلاب اسلامی را خاموش کنند، پخش می‌شود. هدف اسرائیل از این اخبار، القای این پیام است که در دل ایران جاسوسان و خائنان بسیاری وجود دارند که در سایه به فعالیت مشغولند. این‌گونه اخبار تنها برای ضربه زدن به اعتماد به نفس مردم یک ملت و برای ایجاد تزلزل در ارادهٔ آنها منتشر می‌شود. ما باید درک کنیم که جنگ اعصاب و روان مانند زلزله‌ای نرم می‌تواند بنیادهای روحی و روانی یک ملت را متزلزل کرده و به راحتی آنها را در برابر تهدیدات بزرگتر آسیب‌پذیر سازد.

آمریکا و اسرائیل به‌وسیلهٔ جاسوسان خود، سرکوب جنبش‌های آزادی‌خواهانه در ایران، فشارهای اقتصادی و ترس‌ها از حملات اسرائیل به دنبال آن هستند که مردم ایران را از انقلاب اسلامی و آرمان‌هایش ناامید سازند. هدف نهایی این جنگ روانی و فکری، از بین بردن آن هویت جمعی است که یک ملت را متحد و مقاوم در برابر سختی‌ها نگه می‌دارد. اگر شما قادر به قطع کردن منابع انرژی یک ملت باشید، شاید آن ملت برای مدتی با مشکل مواجه شود، اما اگر نور امید آنها را خاموش کنید، آن ملت برای همیشه شکست خواهد خورد.

این نبرد فکری، در روابط دیپلماتیک نیز به وضوح خود را نشان می‌دهد. آمریکا و اسرائیل به‌طور استراتژیک مهره‌های جغرافیایی خود را در خاورمیانه به‌گونه‌ای ترتیب داده‌اند که همانند غلامان یک پادشاه در برابر او ایستاده‌اند. کشورهای خلیج فارس، ترکیه، سوریه و کشورهای اروپایی همگی در انتظار فرمانی از آقای خود هستند تا دستورات او را به انجام رسانند. ما باید درک کنیم که مفهوم پیروزی در دنیای امروز تغییر یافته است. امروز پیروزی به این معنا نیست که شما شهر دشمن را نابود کرده‌اید، بلکه پیروزی این است که شما در قلب مردم دشمن تردید و شک را کاشته‌اید، و به آن‌ها اثبات کرده‌اید که نظامشان شکست‌خورده است، رهبری آنها پوچ و بی‌محتوا است، صفوفشان پر از خائنان و جاسوسان است، و رویاهایشان توهماتی بیش نیست. جنگ دیگر با سلاح‌های گرم پیروز نمی‌شود؛ پیروزی در جنگ امروز به این است که دشمن را از داشتن ارادهٔ مبارزه محروم کنید.

Iran-Israel War: The Sun Will Blaze at Zenith

ایران  و اسرائیل جنگ۔۔۔ سوا نیزے پر سورج
ڈاکٹر نذر حافی : 
ریاست  جب عوامی حمایت نہ رکھتی ہو تو  تو وہ محض سنگ و خشت کا مجموعہ ہوتی ہے۔عرب ریاستیں اس وقت ایران و اسرائیل جنگ کی خاموش تماشائی ہیں چونکہ ان کے پاس سنگ و خشت کے سوا کچھ نہیں۔ تہذیبوں، دین اور اقدار کی لڑائی عوام لڑا کرتے ہیں نہ کہ درودیوار۔آج جب ایران اور اسرائیل کی جنگ  اپنے نقطۂ عروج پر ہے تو ایسے میں عرب ممالک اور  ان کے نظریاتی "نمک خوار"  بڑے آرام سے تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ یہ   تماشائی نہیں جانتے کہ جب  تماشا تھمتا ہے تو سب سے پہلے تماشائی ہی  روندے جاتے ہیں۔ یہ تماشائی پہلے ہی ذلت کے ہاتھوں روندے ہوئے ہیں۔ان کیلئے اس سے بڑی ذلت کیا ہو گی کہ ان کے تو باپ دادا نے کہا تھا کہ جس دن ایران و اسرائیل کی جنگ ہوئی اس دن ہماری قبروں پر پیشاب کر دینا۔ حق کی مخالفت کرنے سے جو  ذلت کسی کے نصیب میں لکھی جاتی ہے وہ   جب کسی کا پیچھاکرتی  ہے تو  سرحدوں، معاہدوں، قوانین  اور بیانات کی پابند نہیں رہتی بلکہ وہ قبروں میں بھی اترتی ہے اور مکار  و جھوٹی  شخصیات کے  اجسام میں حلول کرتی ہے ۔
دین یعنی حق و سچ  کی  طاقت اور عوامی حمایت  کا امتزاج ایران میں دیکھئے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت ہو یا یمن کی خاک و خون میں لتھڑی مزاحمت ، اس کے پیچھے ایرانی عوام کی  حمایت اور حق و سچ کی طاقت ہے ۔  دنیا کے ہر فورم پر اسلامی انقلاب  نے خود کو نہ صرف ایک  سیاسی نظریے کے طور پر پیش کیا ہے  بلکہ  اسلامی جمہوریت کے حقیقی  نمائندے کے طور پر بھی۔ دین  کے ہمراہ عوامی حمایت  ایک ایسی حمایت ہے  جو حکومتوں کو گرنے نہیں دیتی  اور نسلوں کو بھٹکنے نہیں دیتی۔
دوسری طرف ایران کے سارے مخالفین ، داعش، سپاہِ صحابہ،  طالبان، لشکر جھنگوی، جیشِ ظلم جیسے گروہ ہوں یا ان کے سرپرست یہ  سب  دین و جمہوریّت کے  ایک ایسے خلا سے پیدا ہوئے جو  عوامی توہین، آزادی رائے کے قتل ، فکری افلاس اور تہذیبی انحطاط کا نتیجہ ہے۔جب  اسلحے سے لیس  بے رحم  حلقے انسانی شعور و عوامی حمایت  نہیں رکھتے  تو ان کے اندر دوسروں پر  زبردستی  حکومت کرنے کا   جنون پیدا  ہو جاتا  ہے، جمہوری نظم نہیں۔
سعودی عرب، ترکی، اور امریکہ و اسرائیل کے  دیگر "حلیف" ممالک آج صرف اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی مستقل بیانیہ ہے، نہ نظریہ،  نہ مشترکہ مرکز اور نہ ہی  عوامی حمایت۔انہیں صرف شکم اور شہوت سے غرض ہے لہذا ان  کا مستقبل تو کچھ ہے نہیں جبکہ  ماضی شرمندہ ہے اور حال تاریک ۔ ان کی  ملکی و قومی عزّت سمیت  ہر شے برائے فروخت ہے، حتیٰ کہ وہ خود بھی۔اسرائیل و امریکا جسے انہوں نے ایک تناور درخت بنایا ہے ، آج یہ سب  اسی درخت  کے نیچے گھٹ رہے ہیں۔ اس چند روزہ زندگی کے سوا ان کا کوئی خواب یا وژن  نہیں۔ انہوں نے اس صدی کے ذلیل ترین فیصلے کئے ہیں اور اب یہ نسل در نسل ذلیل ہی رہیں گے۔ رہا اسرائیل تو  ٹیکنالوجی کی معراج پر پہنچ کر بھی اگر  اسرائیل  اپنے وجود کو بچانے کے لیے ایران پر حملے کرنے  پر مجبور ہے تو یہ اس کی مضبوطی کی نہیں بلکہ زوال کی علامت ہے۔جارحیّت  کی انتہا ہمیشہ خودکشی کی سرحد پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ایک  ایسی خود کشی کہ جس کے ساتھ  نہ صرف  اسرائیل ختم ہو جائے گا بلکہ اُس کے نظریات بھی مر جائیں گے، اور اس کے نمک خواروں کے ارادے بھی خاک میں مل جائیں گے۔
آج ایرانی سپریم لیڈر کو "آسان ہدف" کہنا  اور اس پر امریکی و اسرائیلی نمک خواروں کا خوش ہونا  بہت عارضی خوشی ہے۔ یہ عارضی خوشی اپنے سیلاب میں آج کے سارے فرعونوں کو لے ڈوبے گی۔تاریخ کا انتقام خاموش ہوتا ہے، مگر بے رحم  اور وقت کا ترازو  طاقت سے نہیں، صداقت سے جھکتا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر کا صبر اور حوصلہ اس  سکوت کی مانند ہے جو کسی  بڑے طوفان سے پہلے  ہر طرف چھا جاتا  ہے۔یہ خاموشی فقط سکوت نہیں، یہ تاریخ کے سانس روکنے کی صدا ہے، یوں لگتا ہے کہ    جیسے  تاریخ کسی بڑے  عسکری و اخلاقی تجربے  سے پہلے لمحہ بھر رُک گئی ہو۔ اس لمحے و ہ لوگ، جو برسوں سے کہتے رہے کہ "ایران و اسرائیل اندر سے ایک ہیں"، آج سب سے زیادہ حیران و پریشان ہیں۔آج اُن پر ان کی اپنی اصلیّت عیاں ہو چکی ہے، ان میں سےکچھ نے حقیقت کا اعتراف کر لیا ہےاور کچھ چمگادڑ کی طرح دن کی روشنی میں بھی اپنی آنکھیں بند کر کے تاریکی تاریکی کے نعرے لگا رہے ہیں۔چمگادڑوں کی اپنی ایک سلطنت ہے، انہیں اسی میں رہنے دیجئے، ان کا کوئی مذہب و مسلک بھی نہیں ، یہ نہ شیعہ ہوتے ہیں اور نہ سُنّی ۔البتہ باقی دنیا پر یہ عیاں ہو چکا ہے کہ ایرانی قوم نے امریکہ و اسرائیل سے  نفرت کو انتقام نہیں، بلکہ ایک  فکری استقلال  اور نظریاتی نعرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ایران نے  انتقام کو بھی ایک اخلاقی تشخص عطا کیا ہے  اور نفرت کو شعور اور مزاحمت سے مزیّن کیا ہے۔یہ جنگ اگر شدت اختیار کرتی ہے تو کائنات بدلے گی، طاقت کی مساواتیں تبدیل ہونگی، اور صلح  کے دریا  پر  نئے ساحل  نمودار ہونگے۔ جب ظالم مظلوم کے سامنے مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا تو  دن دیہاڑے  اسرائیل و امریکہ کو تارے نظر آئیں گے۔امریکہ و اسرائیل اور ان کے حوّاریوں کیلئے قیامت کا سا سماں ہوگا ۔ یقین کیجئے   یہی وہ لمحہ ہے کہ جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ سورج سوا نیزے پر چمکے گا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Iran-Israel War: The Sun Will Blaze at Zenith

By Dr. Nazar Hafi

When a state lacks the support of its people, it is nothing more than a structure of stone and bricks. Arab states are mere silent spectators of the ongoing Iran-Israel war because they possess nothing beyond those stones and bricks. It is not walls or buildings that fight battles of civilizations, religion, and values—it is the people who do.

Today, as the war between Iran and Israel reaches its peak, Arab nations and their ideological loyalists are watching comfortably from the sidelines. These spectators fail to realize that when the show ends, it is the audience that is trampled first. In fact, these spectators have already been humiliated. What greater disgrace could there be than this: their ancestors had declared that the day Iran and Israel go to war, let someone urinate on our graves. The disgrace destined for those who oppose truth does not stop at borders, agreements, laws, or statements—it even seeps into graves and inhabits the bodies of deceitful and treacherous individuals.

Look at the powerful combination of truth, religion, and popular support in Iran. Whether it is Bashar al-Assad's government in Syria or the blood-soaked resistance in Yemen—behind them lies the support of the Iranian people and the force of truth and justice. On every global platform, the Islamic Revolution has not only represented a political ideology but also stood as a genuine model of Islamic democracy. When religion is coupled with public support, it becomes a shield that protects governments from collapse and prevents generations from losing their way.

On the other hand, all of Iran’s opponents—be it ISIS, Sipah-e-Sahaba, Taliban, Lashkar-e-Jhangvi, or Jaish al-Zulm, along with their patrons—are the byproducts of a void in religion and democracy. This void is the outcome of public humiliation, the murder of free speech, intellectual poverty, and cultural decay. Ruthless armed factions, when lacking public consciousness and support, are driven not by democratic order, but by an obsession to rule over others by force.

Saudi Arabia, Turkey, and the allied nations of America and Israel are licking their wounds today. They have neither a coherent narrative, nor ideology, nor a unifying center, nor public backing. They are only concerned with their bellies and lust. They have no future, their past is a source of shame, and their present is enveloped in darkness. Their national honor, integrity—even their very selves—are up for sale. The Israel and America they once nurtured like a towering tree are now suffocating them under its shade. Other than the fleeting comforts of this life, they have no dreams or vision. They have made some of the most disgraceful decisions of this century—and disgrace shall haunt them for generations.

 

As for Israel, despite reaching the pinnacle of technological advancement, if it still feels compelled to attack Iran for self-preservation, then this is not a sign of strength but a mark of decline. The peak of aggression always ends at the edge of suicide—such a suicide that not only will Israel cease to exist, but its ideology will perish, and its sycophants' ambitions will be reduced to ashes.

To label Iran’s Supreme Leader as an “easy target,” and the ensuing joy of American and Israeli loyalists—is a fleeting celebration. This temporary glee will eventually drown all the Pharaohs of today in its own deluge. History takes revenge silently—but mercilessly. The scales of time do not tilt with power, but with truth. The patience and endurance of Iran’s Supreme Leader resemble the stillness that precedes a mighty storm. This silence is not mere quiet—it is history pausing to catch its breath before a profound moral and military transformation.

Those who long claimed “Iran and Israel are secretly allied” are today the most astonished and disoriented. Their reality has now been exposed—some have admitted the truth, while others, like bats, continue to chant darkness even in the broad daylight, keeping their eyes shut. Let these bats live in their own kingdom. They follow no religion or sect—they are neither Shia nor Sunni.

But the rest of the world now clearly sees: the Iranian nation has transformed its hatred for the US and Israel into a coherent intellectual and ideological stance. Iran has infused its spirit of revenge with moral dignity and adorned its resistance with awareness and wisdom. If this war intensifies, the cosmos will change, power equations will shift, and new shores will emerge on the river of peace. When the oppressor is forced to sit at the negotiation table with the oppressed, Israel and the United States will see stars in broad daylight. For America, Israel, and their allies—it will be nothing short of doomsday.

Believe me, this is the moment of which it is said: "The sun will blaze at the point of zenith."


منگل، 17 جون، 2025

The Iran-Israel War and the Impact of Fake News

ایران و اسرائیل جنگ اور فیک نیوز کے اثرات

ڈاکٹرنذر حافی  :

دشمن جب ہتھیاروں کے زعم  میں سچائی کا انکار کر دے  تو اصل معرکہ گولیوں کا  نہیں بلکہ  اعصاب کا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھیاروں کا گھمنڈ خاک میں مل چکا ہے۔ اب ایران کے خلاف اعصابی و نفسیاتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔  ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کو  محض  ایک جغرافیے کے اندر نہ دیکھئے،  یہ ایک دماغی  معرکہ ہے، جہاں اصل ہدف کسی زمین پر قبضہ  نہیں ، بلکہ عوام کے اذہان  پر قبضہ ہے۔اعصابی جنگ بظاہر  خاموش مگر  ظاہری جنگ سے زیادہ شدید تر ہوتی  ہے۔ سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ دشمن کو میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ  اُس کی شناخت، اُس کی معیشت، اُس کے اعتماد، اور اُس کے بیانیے میں شکست دینا ضروری ہوتاہے۔ جہاں فائرنگ کے ہمراہ  خوف کا ہونا اور لوگوں کو خوف اورڈر کے ساتھ علاقے چھوڑنے اور خالی کرنے کیلئے متحرک کرنا یہ خود   بڑی سخت قسم کی لڑائی ہے،   دشمن ملک پر بارود چھڑکنے کے علاوہ جھوٹی خبروں اور دھمکیوں کو پھیلا کر  لوگوں کو اپنے ملک سے بد ظن کرنا کوئی  آسان کام  نہیں۔

یہ نصرتِ الہی نہیں تو اور کیا ہے کہ  امریکہ و  اسرائیل کی طرف سے  ہونے والے  لامتناہی  پروپیگنڈوں کا  اکیلا ایران انتہائی دانشمندی سے توڑ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایران نے جہاں ان پروپیگنڈوں کا توڑ کیا ہے وہیں ساری دنیا میں تنِ تنہا  اسلامی انقلاب، اسلامی جمہوریت،ریاستی استقلال و خودمختاری اور فلسطین کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ ایران نے اپنی حکمتِ عملی سے اسرائیل کے  غاصب   اور مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہونے کو ساری دنیا میں تسلیم کروایا ہے۔  اب یہ صرف ایران کا ہی موقف نہیں رہا کہ اسرائیل ایک غاصب  اورمکڑی کےجالے سے بھی زیادہ کمزور ریاست ہے بلکہ آج یہ دنیا کہ ہر باشعور اور منصف مزاج انسان کا موقف ہے۔ یہ جو دنیا بھر میں اسرائیل بے نقاب ہوا   اس کیلئے   ایرانی دانشوروں،  میڈیا،ایران کی سائبر ٹیموں، تھنک ٹینکس  اور ایرانی پراکسی عناصر وغیرہ سب نے مل کر دنیا بھر کے اذہان میں اسرائیل کی حقیقی شکل بٹھائی ہے۔ یہ شکل   اسرائیلی عوام پر بھی اثر انداز ہوئی اور اسی کی وجہ سے اسرائیلی عوام   ماضی کی نسبت آج خود کو  بہت زیادہ محصور، غیرمحفوظ اور بےیقین پاتے ہیں۔ تل ابیب کی فضاوں میں گونجتے سائرن، ہیک شدہ وڈیوز، ہر تھوڑی دیر کے بعد  ایرانی  میزائلوں کی اسرائیل میں گرنے کی خبریں،  اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں  پراسرار دھماکے دراصل سب سے زیادہ اسرائیلیوں کے اعصاب کو متاثر کرتے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل   ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو شہید کرنے کی خبروں کو  میڈیا میں اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ  جیسے   بس اب ایران کا کام تمام ہو ا چاہتا ہے۔ ایسے میں جہاں ایران کے بارے میں  دیگر فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہیں وہاں ایسی خبریں بھی عام کی جا رہی ہیں کہ ایران میں منافقین اور غداروں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انقلاب کا چراغ  گُل کرنے والی ہے اور ایران کے اندرغداروں و اسرائیلی جاسوسوں کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ جنگ کے ان لمحات میں منافقین کی کثرت، غداروں کی بھرمار اور جاسوسوں کی کامیابیوں کی خبروں سے اسرائیل،  ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ   ہمارے کارندے تمہاری فضاوں اور تمہارے گلی محلوں میں موجود ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی خبریں  کسی قوم کی خود اعتمادی پر  حملہ کرنے کیلئے پھیلائی جاتی ہیں۔

ہمیں   کسی بھی نیوز کو فارورڈ کرنے سے پہلے  یہ  دیکھ لینا چاہیے کہ اعصابی و نفسیاتی  جنگ  ایک "نرم زلزلے" کی مانند لوگوں کو اندر سے  ہلا دیتی  ہے۔ اگر یہ جنگ کسی قوم کے اعصاب پر مسلط ہو جائے تو  ایک دھمکی کے ملتے ہی، ایک  سائرن کے  بجتے ہی، ایک دھماکے کی آواز آتے ہی  شہر کے شہر خالی،  ہوائی اڈے بند، بینک سسٹمز معطل، اور بجلی کا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے  کسی جاسوس کو میزائل سے باندھ کر واپس اسرائیل پھینک دینا، ایرانی خواتین کی آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے کچلنا، ایرانی عوام کا اقتصادی بدحالی سے بلکنا، لوگوں کا اسرائیلی حملوں سے ڈر کر نہ سونا اوراسلامی انقلاب کے خلاف  عوامی مظاہروں کی  جعلی تصاویر اورخبریں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ان کا مقصد  عالمی رائے عامہ اور ایرانی عوام کو اسلامی انقلاب  کی قیادت سے مایوس کرنا  ہے۔

المختصر یہ کہ  اس جنگ کا  اصل نشانہ وہ اجتماعی شعور ہے جو ایک قوم کو جوڑ کر مشکل حالات میں اُمیدوار اور متحد رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی قوم کا بجلی گھر بند کریں تو  وہ کچھ دیر کیلئے  پریشان ہو گی لیکن اگر  آپ  اس کی امید کا چراغ گُل کر دیں تو  وہ ہمیشہ کے لیے شکست کھا جائے گی۔اسی فکری جنگ کا ایک رخ سفارتی تعلقات میں چھپا ہوا ہے۔ امریکہ و اسرائیل نے مشرقِ وسطی میں  اپنے جغرافیائی مہروں کو اس طرح ایک صف میں کھڑا کر رکھا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کے غلام  اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔تمام خلیجی ریاستیں،  ترکی، شام۔۔۔  اور  یورپی ممالک اس انتظار میں ہیں کہ کب اُن کا آقا انہیں کوئی اشارہ کرے  اور اُن سے کوئی خدمت لے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اب فتح  کا مفہوم بدل چکا ہے۔آج  جس نے بیانیے پر قبضہ کر لیا، وہی فاتح ہے۔ آج جنگ جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے دشمن کا شہر تباہ کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے اُس کے عوام کو یہ باور کرا دیا کہ ان کا نظام ناکام ، ان کی قیادت کھوکھلی ، اُن کی صفوں میں غدّار ، ان کے شہروں میں جاسوس  اور ان کے خواب غیر حقیقی ہیں۔  جنگ کہیں بھی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ جنگ وہی جیتتا ہے جو دشمن سے  لڑنے کی ہمت چھین لیتا ہے۔

۔۔۔

The Iran-Israel War and the Impact of Fake News
By Dr. Nazar Haffi

When the enemy, intoxicated by its weapons, denies the truth, the real battlefield is not of bullets but of nerves. The arrogance of Israel’s weaponry has been shattered. Now, a psychological and mental war is being waged against Iran. The recent Iran-Israel tensions should not be viewed merely within a geographical framework; this is a cerebral battle where the actual target is not territorial control, but control over public consciousness.

Psychological warfare appears silent on the surface but is often more intense than overt conflict. The wise understand that defeating the enemy requires not just success on the battlefield, but also in undermining their identity, economy, confidence, and narrative. In such a war, spreading fear alongside shelling—motivating people to flee their homes—is itself a fierce form of combat. Apart from physical attacks, spreading fake news and threats to make people lose faith in their country is no small task.

If this isn’t divine support, then what is? Iran, with sheer wisdom, has been single-handedly dismantling the endless propaganda of America and Israel. Along with countering this propaganda, Iran has globally championed the causes of the Islamic Revolution, Islamic democracy, state sovereignty, and the defense of Palestine. Through its strategy, Iran has successfully convinced the world that Israel is a usurping regime, weaker than a spider’s web. This view is no longer just Iran’s position, but one now shared by every conscious and fair-minded individual around the globe.

The global exposure of Israel is the result of joint efforts by Iranian intellectuals, media, cyber teams, think tanks, and proxy elements. They have embedded the true image of Israel into global consciousness. This has even affected Israeli citizens, who now feel more trapped, insecure, and uncertain than ever before. The sirens echoing in Tel Aviv, hacked videos, frequent news of Iranian missiles landing in Israel, and mysterious explosions in various Israeli cities—all deeply impact the Israeli psyche.

On the other hand, Israel portrays reports of attacks on Iranian nuclear sites and the assassination of Iranian leadership in such a way that it seems Iran is on the verge of collapse. Amid the spread of other fake news about Iran, stories are circulated about the presence of large numbers of traitors and hypocrites within Iran who aim to extinguish the flame of the revolution. Claims are made about extensive spy networks inside Iran. Through such news, Israel tries to send a message to the Iranian public that its agents are present in their skies and neighborhoods. Clearly, such propaganda targets a nation’s self-confidence.

Before forwarding any news, we must understand that psychological warfare shakes people from within like a "silent earthquake." If such a war takes over a nation’s nerves, a single threat, siren, or explosion can lead to deserted cities, closed airports, disrupted banking systems, and collapsed power infrastructure. Examples of this psychological operation include throwing a spy strapped to a missile back into Israel, suppressing Iranian women's movements with force, the Iranian public groaning under economic hardship, people unable to sleep out of fear of Israeli attacks, and the spread of fake images and news of protests against the Islamic Revolution. All of this aims to disillusion both international opinion and the Iranian people from their revolutionary leadership.

In summary, the real target of this war is collective consciousness—the force that binds a nation and gives it hope and unity in tough times. If you destroy a nation’s power station, it will be troubled temporarily. But if you extinguish the lamp of its hope, the nation will be defeated forever. A vital aspect of this intellectual war is hidden in diplomatic relations. The U.S. and Israel have lined up their geopolitical pawns in the Middle East as obedient subjects before a king. Gulf states, Turkey, Syria, and European countries all appear to be awaiting their master's signal to serve.
We must realize that the definition of victory has changed. Today, the real winner is the one who controls the narrative. Victory no longer means physically destroying an enemy’s city—it means convincing their people that their system is failing, their leadership is hollow, traitors walk among them, spies operate in their cities, and their dreams are unrealistic. Wars are never won by weapons—they’re won by those who strip the enemy of the courage to resist.

پیر، 16 جون، 2025

The True Promise 3...A New Lamp of Hope, Justice, and Morality

وعدہ صادق 3 ۔۔۔امید، انصاف اور اخلاق کا ایک نیا چراغ
ڈاکٹر:نذر حافی 
غزہ کی سرزمین   کسی مسیحا کی منتظر تھی،فلسطینی عوام بے بسی کا مجسمہ بنے ہوئے تھے، اور  عالمی برادری خواب
غفلت میں مست تھی۔ گزشتہ ستتر سالوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن دنیا کی خاموشی اور اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عالمی سطح پر انسانیت کے علمبردار ادارے بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔  پاکستان  و افغانستان کے نام نہاد اور انسان کُش جہادیوں نے  اسرائیل کی طرف ایک پتھر بھی پھینکنے کے بجائے یہ واویلا مچا ئے رکھا کہ ایران کیوں فلسطینیوں کیلئے  کچھ نہیں کر رہا۔بعض نے تو کہا تھا کہ جس روز اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کئے اُس روز ہماری قبر پر آ کر پیشاب کر جانا!  اب پتہ نہیں اُن کی اولاد کے  ہاں وصیّت پر عمل کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو پھر تو مذہبی آزادی کا تقاضا ہے کہ   انہیں اپنے عقیدے کے مطابق وصیت پر  عمل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
بالاخرحالیہ ہفتےمیں  اسرائیل نے براہِ راست  ایران  پر حملہ کر دیا اور   ایران نے بھی جوابی اقدام کر کے  ساری دنیا کو چونکا دیا۔فلسطینی عوام کی حالتِ زار کو  عالمی سطح پر نظرانداز کرنے والوں نے جب  یوں  سرِ عام اسرائیل کی دھجیاں اُڑتے دیکھیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ کسی کے صبر کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے ۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی اپنے وطن کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں، لیکن انہیں نہ تو کبھی  عالمی برادری سے مدد ملی اور نہ ہی انصاف کی کوئی امید نظر آئی۔ جب غزہ میں اسرائیل نے ۲۰۲۳ میں ایک بار پھر اپنی جارحیت کا آغاز کیا، اور فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا، تو دنیا کی بیشتر بڑی طاقتیں  اور اسلامی قوتیں خاموش تماشائی بن کر رہ گئیں۔ ایسے میں فقط  ایران نے  مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کو  اپنی دینی و  اخلاقی ذمہ داری سمجھا ۔ایران کےحالیہ دفاعی حملوں سے اقوامِ متحدہ کو بھی یہ پیغام مل گیا ہے کہ اگر  عالمی طاقتیں اپنی قانونی  ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہیں گی، تو غیور اقوام اپنی  حفاظت کے لئے خود  اٹھ کھڑی ہونگی۔ انصاف کا اصول یہی ہے  کہ جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں، وہی دوسروں کے لئے بھی کریں ۔ اس لئے دنیا کی تمام اقوام کو فلسطینیوں کیلئے بھی وہی پسند کرنا ہوگا جو وہ اپنے لئے پسند کرتی ہیں۔اسرائیل پر ایران کا جوابی  حملہ محض ایک فوجی ردعمل نہیں  بلکہ ایک اخلاقی قدم اور فرض شناسی کا  تقاضا ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ عدل و انصاف کی بنیاد پر کیاجانا چاہیے۔ایران نے  فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے اپنے دفاعی حق کو  ایک اعلیٰ اخلاقی جواز  کےطورپر استعمال کیا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایران جو کچھ کہتا چلا آ رہا ہے اس جنگ میں ایران نے ایک مرتبہ پھر اُسے حرف بحرف درست ثابت کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا ہےکہ  عالمی برادری کی خاموشی اگر ظالموں کی مددگار ہوتو پھر ایک دوسرے کی حفاظت کرنا  ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔
ایران کی دفاعی کارروائی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور عالمی برادری نے بالاخر تسلیم کیا ہے کہ  جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے، تب تک ظلم کے خلاف اٹھنا ضروری ہے۔ ایران نے اپنے بھرپور صبر کے بعد یہ منوا لیا ہے  کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ اخلاقی جواز کے تحت کیا جانا چاہیے۔دنیا کی  عسکری تاریخ میں ایران کا "وعدہ صادق 3 آپریشن" ایک اخلاقی فتح کےطور پر  ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دنیا بھر میں  صرف ایران نے ہی عالمی برادری سے تسلیم کروایا ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنا ایک  دینی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، نہ کہ محض ایک فوجی ضرورت۔میدانِ جنگ میں حقیقی فتح  کا معیار  تباہی پھلانا یا  خونریزی نہیں  بلکہ یہ ہے کہ آپ انسانی و اخلاقی اقدارکیلئے لڑےہیں یا کہ اپنے مالی و اقتصادی مفادات کیلئے۔ 
اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی فتوحات کی ایک لمبی فہرست ہے اور  یہ فتوحات صرف سیاسی یا عسکری سطح پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، اخلاقی اصولوں اور مقبولیت کے نئے ابواب پر مشتمل ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش صرف زمین یا طاقت کے لیے نہیں، بلکہ یہ درحقیقت  ایک نظریاتی جنگ ہے جس میں اصول، اقدار  اور حق پرستی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اسلامی  انقلاب کے بعد ایران نے اپنے آپ کو اسرائیل کے سامنے ایک نظریاتی اور اخلاقی چیلنج کے طور پر پیش کیا ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ایران کا جرات مندانہ آواز بلند کرنا، دراصل ایک گہری اخلاقی جیت اور برتری ہے۔ اسرائیل پر جوابی حملہ کر کے ایران نے جہاں  خود کو فلسطینی عوام کا حامی ثابت کیا، وہیں  اُس نے عالمی سطح پر اس حقیقت کو عیاں کیا کہ جو قوتیں اپنے آپ کو انصاف، آزادی اور خودمختاری کی علامت سمجھتی ہیں، وہ کبھی نہیں جھک سکتیں، چاہے طاقتور ترین دشمن ہی  سامنے کھڑا ہو۔ایران نے کبھی بھی اپنی فوجی طاقت کا استعمال محض تسلط یا طاقت کے اظہار کے لیے نہیں کیا، بلکہ یہ اس کا ایک ذریعہ تھا تاکہ وہ اپنے اصولوں کا دفاع کر سکے اور اسرائیل کو یہ باور کرا سکے کہ فوجی طاقت کا استعمال انسانیت کے مفاد میں ہونا چاہیے، نہ کہ محض زمین یا سیاسی مفادات کے لیے۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی حکمت عملی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ  ایران کا ردِّ عمل  محض انتقامی کارروائی نہیں، بلکہ یہ  اسرائیل کے  جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے کیلئے ضروری  قدم  تھا۔
اسرائیل کے خلاف ایران کی اخلاقی فتح میں ایک اور اہم پہلو اس کی عالمی سطح پر  سفارتی  برتری ہے۔ جب دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف خاموشی اختیار کر رہی تھیں، ایران نے فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع میں ایک مستقل  سفارتی موقف اختیار کیا۔ ایران کا یہ موقف نہ صرف سیاسی تھا، بلکہ اس میں انسانی اقدار کا تحفظ اور انصاف کا تقاضا چھپا ہوا تھا۔ ایران کی اس سفارتی  فتح نے اس کی شناخت کو عالمی سطح پر ایک بے مثال قوت میں تبدیل کر دیا ہے، رائے عامہ تیزی سے ایران کے حق میں تبدیل ہوئی ہے اور دنیا نے ایران کی اخلاقی  طاقت کو تسلیم کیا ہے۔
ایران کی اسٹریٹجک فتح میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس نے متعددمحاذوں پر  خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے اسرائیل کو نہ صرف عسکری، بلکہ سیاسی محاذ پر بھی چیلنج کیا۔ اس نے  یمن، لبنان، عراق اور شام میں اپنے اثرات کو مستحکم کیا اور اسرائیل کو ایک گہرے اور پیچیدہ جال میں پھنسا ئے رکھا۔ 
ایران کی سفارتی و اخلاقی  جیت کواس لئے  بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتاچونکہ  ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری مذاکرات میں ہمیشہ پیشرفت اور کامیابی حاصل کی اور اپنے  جوہری پروگرام کو "امن پسند پروگرام " کے طور پر پیش کیا۔ اس سفارتی و اخلاقی فتح میں ایران اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
اسرائیل نے امریکہ و ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات سے پہلے ایران پر حملہ کر کے سفارتی اخلاق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا کھلا مظاہرہ کیا، جبکہ ایران نے کمالِ متانت،اور  صبر و حکمت کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کا جواب دے کر نہ صرف اپنی عظمت اور مہارت کو ثابت کیا بلکہ دنیا بھر کے منصف مزاج انسانوں کے دلوں میں  امید، انصاف اور اخلاق کا ایک نیا چراغ بھی  روشن کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔
The True Promise 3: A New Light of Hope, Justice, and Morality
Dr. Nazar Hafi
The land of Gaza had been waiting for a savior. The Palestinian people were embodiments of helplessness, while the global community remained in a deep slumber. Over the course of more than seventy-seven years, there has been no change in the silence of the world or the brutal actions of the Israeli military. Even institutions that are supposed to be the torchbearers of humanity have remained passive spectators. The so-called, human-murdering jihadists of Pakistan and Afghanistan, instead of throwing even a stone toward Israel, raised an uproar about why Iran wasn't doing anything for the Palestinians. Some had even said that the day Israel and Iran fought each other, they should come and urinate on their graves! Now, who knows if it's obligatory for their children to follow that will or not? If it is, then religious freedom demands that they be allowed to act according to their beliefs.
Finally, just this past week, Israel launched a direct attack on Iran, and Iran, in turn, retaliated, shocking the world. Those who had ignored the plight of the Palestinian people, when they saw Israel humiliated publicly, came to realize that no one’s patience should be mistaken for weakness. For decades, Palestinians have been fighting for the freedom of their land, yet they have never received help from the global community, nor have they ever seen a glimmer of justice. When Israel renewed its aggression against Gaza in 2023, starting a new massacre of Palestinians, most of the world's major powers and Islamic forces remained silent. Only Iran considered it its religious and moral responsibility to support the oppressed Palestinian people.
Iran's recent defensive actions have sent a message to the United Nations that if global powers fail to fulfill their legal obligations, the proud nations will rise to defend themselves. The principle of justice is clear: what we desire for ourselves, we must also desire for others. Therefore, all the nations of the world must desire the same for the Palestinians as they do for themselves. Iran’s retaliatory strike against Israel was not just a military reaction but a moral step and a duty of conscientiousness. Iran proved that the use of force should always be based on justice and fairness. Iran used its defensive right to protect Palestinian rights as a high moral justification. Since the Islamic Revolution, Iran has consistently been correct in its statements, and this war has once again validated its stance. At the same time, it has also become clear that if the silence of the international community aids the oppressors, then protecting one another is everyone’s responsibility.
Iran's defensive action has been praised globally, and the international community has finally acknowledged that as long as the demands of justice are not met, it is crucial to stand up against oppression. After exercising immense patience, Iran has now demonstrated that the use of power should always be grounded in a moral justification. Iran’s "True Promise 3 Operation" will be remembered as an ethical victory in military history. Iran is the only country that has forced the international community to acknowledge that rising against oppression is not just a military necessity, but a religious, human, and moral duty. True victory on the battlefield is not about devastation or bloodshed, but about whether you fought for human and ethical values or for financial and economic interests.
Iran has a long list of victories against Israel, and these victories are not just political or military in nature but also encompass new chapters in human values, ethical principles, and popularity. The conflict between Israel and Iran is not only about land or power; it is essentially an ideological war in which principles, values, and justice take precedence.
After the Islamic Revolution, Iran presented itself as an ideological and moral challenge to Israel. Defending Palestinian rights and Iran’s bold voice against Israel's illegal occupation is, in reality, a deep ethical victory and superiority. By retaliating against Israel, Iran not only proved itself as a supporter of the Palestinian people, but it also made the world realize that those powers that see themselves as symbols of justice, freedom, and sovereignty can never bow down, even if the most powerful enemy stands before them. Iran has never used its military strength merely for domination or showing power, but rather as a means to defend its principles and make Israel realize that the use of military power should always serve humanity, not just land or political interests. Iran’s missile technology and defense strategies have made it clear that Iran's response was not merely a retaliatory action but a necessary step to expose Israel’s war crimes.
Another key aspect of Iran’s moral victory against Israel is its diplomatic superiority on the global stage. While the major powers of the world were remaining silent in the face of Israel's aggression, Iran maintained a consistent diplomatic stance in defense of Palestinian rights. This stance was not just political but concealed the protection of human values and the demand for justice. Iran's diplomatic triumph has transformed its global identity into an unmatched force. Public opinion is rapidly shifting in favor of Iran, and the world has recognized its moral strength.
Iran’s strategic victory also involves its ability to challenge Israel on multiple fronts, both militarily and politically, through its allies in the region. Iran has strengthened its influence in Yemen, Lebanon, Iraq, and Syria, keeping Israel entangled in a complex web.
Iran's diplomatic and moral triumph cannot be overlooked because Iran has always achieved progress and success in its nuclear negotiations with global powers, presenting its nuclear program as a "peaceful program." In this realm, Iran’s diplomatic and moral victory is unparalleled.
Before the negotiations between the U.S. and Iran, Israel attacked Iran, blatantly violating diplomatic ethics and displaying its moral bankruptcy. In contrast, Iran responded to Israeli aggression with unparalleled composure, patience, and wisdom, not only proving its greatness and expertise but also lighting a new beacon of hope, justice, and morality in the hearts of fair-minded people around the world.

Military Jihad Alone is Not Enough Against Israel!

اسرائیل کے خلاف  صرف عسکری جہاد  کافی نہیں!
ڈاکٹر  نذر حافی : 
ایران کے جوابی حملے طوفانِ نوح کی طرح اسرائیل کا سارا غرورو تکبر بہا  کر لے گئے ہیں۔ حیفا کی تیل ریفائنری سے اٹھتے دھوئیں  کو ساری دنیا نے دیکھا۔ چشمِ فلک نے اسرائیل کی فضاوں میں ایرانی طیاروں کی  پروازں کا نظارہ بھی کیا۔ دمِ تحریر  اسرائیل کے "ناقابل تسخیر" ہونے کے گھمنڈ  کے ٹوٹنے اور اسرائیل کے چٹخنے  کی آوازیں  ساری دنیا  وقفےوقفے سےسُن رہی ہے۔  اسرائیل میں بجلی کے گرڈ اسٹیشنز  تباہ ہونے کے بعدپھیلنے والی  خوشی سے ہر فلسطینی کا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے۔  یقیناً قساریہ میں لرزتی ہوئی صہیونی قیادت یہ سوچ رہی   ہو گی کہ ستاون مسلم ملکوں سمیت پورا سعودی بلاک اور ترکی جیسا اقتصادی پارٹنر  کہاں مر کھپ گیا ہے؟ نیتن یاہو کو اس وقت جتنی امید سعودی بلاک اور ترکی سے ہےاتنی امریکہ و برطانیہ سے بھی نہیں۔ 
فلسطین کیلئے ایران نے ماضی میں بھی بہت قربانیاں دیں اور اس وقت بھی دے رہا ہے۔ یہ انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ اس وقت  اسرائیل کے خلاف جنگ صرف  ایرانی میزائلوں  تک محدود نہیں رہی   بلکہ  دنیا کا ہر مسلمان اس میں دل و جان سے شریک ہو گیا ہے۔ یہ جنگ اگر مزید  طول پکڑے گی  تو  اسرائیلی اندازے مزید غلط ثابت ہوتے جائیں گے۔
حقیقت  تو یہ ہے کہ  اتنی قربانیوں اور شہادتوں کے بعد ایران کے میزائلوں نے صہیونی طاقت کا شیرازہ بکھیر دیاہے۔ جب حیفا کا اسٹریٹجک آئل ڈپو تباہ ہوا، جب شمالی اسرائیل میں 35 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے، تو دنیا نے دیکھ لیا کہ امریکی و برطانوی  حمایت کے باوجود صہیونی ریاست کتنی غیر محفوظ ہے۔ ایران نے صبراورتدبیر کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے یہ منوا لیا ہے کہ خدا پر توکل کر کے ظلم کے خلاف مزاحمت کا عزم رکھنے والے کبھی تنہا نہیں ہوتے۔
اب ضرورت ہے کہ تمام مسلمان اسرائیل کے ساتھ جنگ کو صرف فوجی جنگ تک محدود نہ سمجھیں بلکہ اس جنگ کو ایک  عالمگیر اصول کے طور پر اپنا لیں۔ اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو  امریکی کولا، برطانوی میک اپ اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اس جنگ کو امریکہ و برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی جنگ میدان میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ایران کے جذبے، جرات اور شہادتوں کو سلام لیکن اب اس جنگ کو اقتصادی جہاد  کے طور پر لڑنا یہ ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ کیا ہم یہ نہیں سمجھتے کہ  آج کے دور میں اقتصادی جنگ عسکری و فوجی جنگ سے کئی گنا بڑھ کر موثر ہے۔ یہ وقت ہے کہ ایران کے ساتھ الجھے ہوئے امریکہ و فرانس اور  اسرائیل کو ایک بروقت  اقتصادی  دھچکا لگے۔ 
ہمیں فلسطین کو آزاد کرانے کیلئے انتہائی سادہ زندگی  کو اپنانا ہوگا حتی کہ  کفار کے  لذیذ مشروبات اور غذاوں کے بجائے  نمک  اور مرچ پر گزارا کرنا ہوگا۔ ہمارے سامنے ایران نے کتنی زیادہ اقتصادی پابندیاں برداشت کی ہیں، اب ہمیں خود ہی اپنے اوپر یہ پابندی لگانی ہوگی کہ ہم کوَئی استعماری پروڈکٹ نہیں خریدیں گے۔ ہمارا  عوامی و قومی عزم  دنیا کی سُپر طاقتوں  کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ حقیقی طاقت بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہوتی ہے۔ کیا ہم میک ڈونلڈز کے بغیر زندہ  نہیں رہ سکتے؟ کیا ہم کے ایف سے کی بغیر مر جائیں گے؟ یقین جانئے ہم تو نہیں مریں گے لیکن غزہ کے معصوم بچوں کی زندگیوں کو بچا سکیں گے۔ہمارے بازاروں میں امریکی، برطانوی و  صہیونی مصنوعات کی خرید و فروخت ہی فلسطینیوں کی غلامی کا سبب ہے۔ ہمیں یہ شعور کب آئےگا کہ جب ہم اپنے دشمنوں کی مصنوعات خریدتے ہیں، تو درحقیقت ہم انہیں اپنے ہی خلاف مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص فلسطین کیلئے بہت کچھ کرسکتا ہے جیسے  امریکی فاسٹ فوڈ چینز  سے چھٹکارا، برطانوی لگژری برانڈز سے پرہیز، اسرائیلی ٹیکنالوجی کے متبادل کی تلاش،  مقامی مصنوعات کو ترجیح دینا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بظاہر چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں لیکن در حقیقت ان کے نتائج  بہت بڑے بڑے ہیں۔
ایران نے جو جہاد کیا ہے وہ تب مطلوبہ نتائج دے گا کہ جب  ہم میں سے ہر شخص اسرائیل پر اپنی بساط کے مطابق وار کرے گا۔ہمارا پیسہ، اور ہماری قوّتِ خرید  ہماری طاقت ہے، اور اس طاقت کو استعماری طاقتوں کے خلاف استعمال کرنا ہی ہمارا  جہاد ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف اگر ہم اور کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اقتصادی بائیکاٹ کو ہی ایک  مشترکہ حکمت عملی کے طور پر  اپنائیں۔ایک طرف ایران تن تنہا خطے کے استعماری پنجوں سے ٹکرا رہا ہے، تو دوسری طرف اربوں مسلمان اپنی ذمہ داری سے غافل نظر آتے ہیں۔گویا وہ جانتے ہی نہیں کہ آج کے زمانے میں  اقتصادی مزاحمت سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
یہ  بائیکاٹ عالمی طاقتوں  کو یہ احساس دلائے گا کہ اخلاقی و انسانی  اقدار کوپامال کرنے والے ممالک کی  معیشتیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی ۔ جب مسلمان ایک بڑی اکثریت کے طور پر ان طاقتور ممالک کی مصنوعات اور خدمات کو مسترد کریں گے  تو یہ ان ممالک کی معیشتوں اور پالیسیوں  کیلئے ایک بڑا چیلنج اور معاشی دباو  بن جائے گا۔یہ معاشی دباؤ ان طاقتور ریاستوں کو اس بات کا قائل کرے گا کہ اقتصادی تعلقات صرف سود اور نقصان کا معاملہ نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق عالمی اخلاقی ضمیر سے بھی ہے۔  پھر انہیں سمجھ آئے گی کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت، اخلاقی قوت ہے، نہ کہ صرف مالی وسائل۔پھروہ  اپنے غیر انسانی اور ظالمانہ  سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر تیار ہونگے۔ جیسے ایک دریا اپنے راستے میں آنے والی چٹانوں کو موم کی طرح پگھلا دیتا ہے، ویسے ہی اقتصادی بائیکاٹ طاقتور ممالک کو نرم کر کے اپنے فیصلوں پر غور کرنے کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔
اس بائیکاٹ کے ذریعے، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ میں سرمایہ کاری کی روانی سست پڑ جائے گی  کیونکہ عالمی سرمایہ کاروں کو بھی اس دباؤ کا سامنا  کرنا پڑے گا۔  اگرمسلمان  اپنے دشمنوں  کے خلاف اپنا اقتصادی دباو نہیں بنائیں گے تو استعماری ممالک کو کیسے یہ بات سمجھ  آئے گی کہ ریاستوں کی ذمہ داری صرف  معیشت کا ارتقا نہیں بلکہ انسانیت اورانسانی اصولوں کی بقا بھی ہے۔یوں یہ بائیکاٹ  اقتصادی میدان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ  ساری دنیا کے مظلوم انسانوں کیلئے ایک اخلاقی، سیاسی اور سماجی پیغام بھی بن جائے گا۔آخر میں ایک جملہ اُن لوگوں کیلئے  بھی لکھتا چلوں کہ جنہیں ایران سے خدا واسطے کا بیر ہے، ایسے لوگ  یاد رکھیں کہ جو شخص ٹھیک نقشے پر نہیں چلتا وہ کسی دوسرےکا نقصان نہیں کرتا بلکہ خود اپنا ہی راستہ گُم کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Military Jihad Alone is Not Enough Against Israel!
Dr. Nazar Hafi:
Iran’s retaliatory strikes have washed away Israel’s arrogance and pride like the flood of Noah. The world saw the smoke rising from Haifa’s oil refinery. The eye of the world also witnessed Iranian planes flying over Israeli skies. As of now, the arrogance of Israel’s "invincibility" is shattering, and the world is intermittently hearing the sounds of Israel cracking apart. After the destruction of the electricity grid stations in Israel, every Palestinian’s heart has been warmed by the joy that spread. Undoubtedly, the trembling Zionist leadership in Caesarea must be wondering where all the fifty-seven Muslim countries, the entire Saudi bloc, and economic partners like Turkey have disappeared? At this moment, Netanyahu has more hope from the Saudi bloc and Turkey than from America and Britain.

Iran has made great sacrifices for Palestine in the past and continues to do so now. It is due to these sacrifices that the war against Israel is no longer limited to Iranian missiles but has become a matter in which every Muslim in the world is wholeheartedly involved. If this war prolongs, Israeli predictions will continue to prove wrong.

The reality is that after so many sacrifices and martyrs, Iran’s missiles have shattered the might of the Zionist state. When the strategic oil depot in Haifa was destroyed, and more than 35 people went missing in northern Israel, the world saw how insecure the Zionist state is, even with American and British support. Iran, writing a new history of patience and strategy, has proven that those who place their trust in God and resist oppression are never alone.

Now, it is necessary for all Muslims to not see the war against Israel as only a military conflict but to adopt it as a universal principle. The entire Muslim world must transform this struggle into an economic war against America, Britain, and Israel by boycotting American cola, British makeup, and Israeli products. We salute Iran’s spirit, courage, and martyrs, but now it is our responsibility to fight this war as an economic jihad. Don’t we realize that in today’s world, economic warfare is far more effective than military conflict? This is the time to deliver a timely economic blow to the US, France, and Israel, who are entangled with Iran.

To free Palestine, we must adopt a simple life. We should be prepared to live on salt and spices instead of indulging in the delicious drinks and foods of the kuffar. Iran has endured severe economic sanctions; now, we must impose a similar ban on ourselves by refusing to purchase any colonial products. Our collective resolve can force the superpowers to kneel. True power is not external but internal. Can’t we live without McDonald's? Will we die without KFC? Believe me, we will not die, but we might save the innocent lives of children in Gaza. The buying and selling of American, British, and Zionist products in our markets are the reasons behind the enslavement of the Palestinians. When will we realize that when we buy the products of our enemies, we are strengthening them against ourselves?

Each of us can do a lot for Palestine, like giving up American fast food chains, avoiding British luxury brands, seeking alternatives to Israeli technology, and prioritizing local products, etc. These may seem like small steps, but their results are monumental. The jihad that Iran has waged will bear the desired fruit when each of us strikes at Israel in our own way. Our money and purchasing power are our strength, and using this power against colonial forces is our jihad.

If we cannot do anything else against America, Britain, and Israel, at the very least, we should adopt economic boycotts as a joint strategy. On one side, Iran is confronting the colonial powers alone, while on the other side, billions of Muslims seem oblivious to their responsibility. It seems they don’t understand that, in today’s world, economic resistance is the most effective weapon.

This boycott will make the global powers realize that the economies of countries that trample on moral and human values will not remain secure. When Muslims, as a large majority, reject the products and services of these powerful countries, it will create a huge economic challenge and pressure for them. This economic pressure will make these countries realize that economic relations are not just about profit and loss but are tied to the global moral conscience. They will understand that the world’s greatest power is moral power, not just financial resources. They will then be ready to reconsider their inhumane and oppressive political decisions. Just like a river melts the stones in its path, economic boycott can soften powerful countries and force them to reconsider their decisions.

Through this boycott, the flow of investment in Israel, America, and Britain will slow down because global investors will also face this pressure. If Muslims do not exert economic pressure on their enemies, how will colonial countries understand that the responsibility of states is not just economic development but also the survival of humanity and human principles? Thus, this boycott will not be confined to the economic field but will become a moral, political, and social message for all oppressed people in the world.

Finally, I would like to write a sentence for those who have a deep-rooted hatred for Iran: Such people should remember that the one who does not follow the right path does not harm others, but loses his own way.

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...