Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
جمعرات، 26 جون، 2025
The tradition of offering greetings with Muharram and the reality of the Islamic year
منگل، 24 جون، 2025
Who Defeated and Who Emerged Victorious? A Fair Analysis
ہفتہ، 21 جون، 2025
علامہ ابن حسن جارچوی قسط ۲
جمعہ، 20 جون، 2025
"Heavy on every tyrant of the world... Iranian Revolution"
کالم نگار: ابو ولی اللہ خان (بہاولپور)
فلسطین کی سرزمین برسوں سے خون میں نہائی ہوئی ہے۔ صیہونی
جارحیت نے نہتے فلسطینیوںبچوں، عورتوں، اور بزرگوںکو بے دردی سے قتل کیا، اسپتالوں
کو ملبے کا ڈھیر بنایا اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر غیرت
مند دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں، مگر اسلامی دنیا کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی
اس اذیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
جب ہم کربلا کے عظیم سانحے کو یاد کرتے ہیں، تو آج کا دور بھی ہمیں اسی آزمائش کی یاد دلاتا ہے۔ ایک طرف حق پر ڈٹے چند افراد، اور دوسری طرف ظلم، جبر، اور خاموش تماشائیوں کی اکثریت۔ اس منظرنامے میں ایران ایک ایسا محاذ ہے جو امریکی و صیہونی توسیع پسندی کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ مگر آج ایران ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں عالمی طاقتوں کا گٹھ جوڑ—جس میں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور بھارت جیسے ممالک شامل ہیں اس کی قیادت کو کمزور کرنے کے لیے متحد ہو چکا ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی (2020)، حسن نصراللہ (2024)، صدر ابراہیم
رئیسی (2024)، جنرل حسین سلامی، محمد باقری اور چھ جوہری سائنسدانوں سمیت بیس کے
قریب اہم ایرانی عہدیداروں کی شہادتیں، اسی منظم سازش کا نتیجہ ہیں۔ ان کا مقصد ایرانی
انقلابی قیادت کو مفلوج کرنا اور ایک نئی رجیم کے ذریعے رضا پہلوی جیسے کٹھ پتلی
کو مسلط کرنا ہے، جو اسرائیل کے ساتھ "دوستی" کی آڑ میں ایران کو ایک
بار پھر مغربی غلامی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جون 2025 میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے، جنہیں
"آپریشن رائزنگ لائن" کا نام دیا گیا، اسی سازش کی ایک مثال تھے۔ دو سو
سے زائد جنگی طیاروں کے ذریعے نطنز، فوردو، ہمدان، پارچین اور دیگر حساس مقامات کو
نشانہ بنایا گیا۔ موساد نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سبوتاژ کر کے ان حملوں کو
کامیاب بنایا، اور فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی جیسے ممتاز سائنسدان شہید ہو
گئے۔ یہ محض اسرائیل کی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک عالمی گٹھ جوڑ کا حصہ تھی جس میں
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور بھارت بھی شامل تھے۔ بھارت، جو چاہ بہار جیسے منصوبوں
کے ذریعے ایران سے دوستی کا دکھاوا کرتا ہے، درحقیقت صیہونی ایجنڈے کی تکمیل میں
مصروف ہے۔
اسی گٹھ جوڑ کا مرکزی ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت اور اس کے
انقلابی نظریے کا خاتمہ ہے۔ مغرب چاہتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران
کو رضا پہلوی جیسا فرد نصیب ہو، جو اسرائیل کے ساتھ "تاریخی تعلقات" کی
بات کرتا ہے اور فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔ افسوس کہ بعض
مغرب زدہ عناصر شاہی دور کو رومانوی انداز میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس دور میں
جبر، کرپشن، اور بدنام زمانہ انٹیلیجنس ایجنسی SAVAK کی وحشتیں عام تھیں۔ آج
انقلاب ایران کی بدولت جہاں ملک نے پابندیوں کے باوجود 90 فیصد شرح خواندگی حاصل کی
ہے، وہیں خواتین بھی قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایران کی مزاحمت محض اس کی قومی غیرت کا مظہر نہیں، بلکہ
پورے خطے کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ فلسطین، شام، لبنان، اور یمن میں ایران نے
محورِ مزاحمت کے ذریعے صیہونی اور امریکی عزائم کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ فلسطینی
مزاحمتی تنظیمیں بھی ایران کی حمایت کو اپنی بقا سے جوڑتی ہیں، کیونکہ ایران کی
تباہی کے بعد صیہونی توسیع پسندی کو کوئی روکنے والا نہیں بچے گا۔
اسلامی دنیا کی خاموشی اس پورے المیے میں سب سے زیادہ افسوس
ناک پہلو ہے۔ جب فلسطینی بچوں پر بم گر رہے ہوں، جب ایران کی قیادت ایک غیر متوازن
جنگ کا سامنا کر رہی ہو، تو اسلامی ممالک یا تو مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں
یا مغربی ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کربلا کے اس سبق کو یاد دلاتی ہے
کہ اگر حق کے لیے آواز نہ اٹھائی جائے تو باطل ہمیشہ غالب آتا ہے۔
ایران کی اندرونی کمزوریاں، بالخصوص انٹیلیجنس نظام کی خرابی
اور ادارہ جاتی دراڑیں، اس وقت اس کے سب سے بڑے مسائل میں سے ہیں۔ موساد کے ایجنٹس
مبینہ طور پر ایرانی اداروں میں سرایت کر چکے ہیں، اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کی
شہادتیں اسی داخلی کمزوری کی غماز ہیں۔ ایران کو نہ صرف اپنی سکیورٹی کو ازسرنو
منظم کرنا ہوگا، بلکہ علاقائی سطح پر اتحاد کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
آج فلسطین کے بچوں کا بہتا خون، ایران کے شہداء کی قربانیاں، اور شام و یمن کی تباہی ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم آواز بلند کریں، سچ لکھیں، اور ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ کربلا کا سبق یہی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی دینے والے کبھی شکست نہیں کھاتے۔ایران، فلسطین اور دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا صرف ایک سیاسی مؤقف نہیں، بلکہ ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔
یا حسین!
بدھ، 18 جون، 2025
جنگ ایران و اسرائیل و تأثیرات اخبارهای جعلی
Iran-Israel War: The Sun Will Blaze at Zenith
Iran-Israel War: The Sun Will
Blaze at Zenith
By Dr. Nazar Hafi
When a state lacks the support
of its people, it is nothing more than a structure of stone and bricks. Arab
states are mere silent spectators of the ongoing Iran-Israel war because they
possess nothing beyond those stones and bricks. It is not walls or buildings
that fight battles of civilizations, religion, and values—it is the people who
do.
Today, as the war between Iran
and Israel reaches its peak, Arab nations and their ideological loyalists are
watching comfortably from the sidelines. These spectators fail to realize that
when the show ends, it is the audience that is trampled first. In fact, these
spectators have already been humiliated. What greater disgrace could there be
than this: their ancestors had declared that the day Iran and Israel go to war,
let someone urinate on our graves. The disgrace destined for those who oppose
truth does not stop at borders, agreements, laws, or statements—it even seeps
into graves and inhabits the bodies of deceitful and treacherous individuals.
Look at the powerful
combination of truth, religion, and popular support in Iran. Whether it is
Bashar al-Assad's government in Syria or the blood-soaked resistance in
Yemen—behind them lies the support of the Iranian people and the force of truth
and justice. On every global platform, the Islamic Revolution has not only
represented a political ideology but also stood as a genuine model of Islamic
democracy. When religion is coupled with public support, it becomes a shield
that protects governments from collapse and prevents generations from losing
their way.
On the other hand, all of
Iran’s opponents—be it ISIS, Sipah-e-Sahaba, Taliban, Lashkar-e-Jhangvi, or Jaish
al-Zulm, along with their patrons—are the byproducts of a void in religion and
democracy. This void is the outcome of public humiliation, the murder of free
speech, intellectual poverty, and cultural decay. Ruthless armed factions, when
lacking public consciousness and support, are driven not by democratic order,
but by an obsession to rule over others by force.
Saudi Arabia, Turkey, and the
allied nations of America and Israel are licking their wounds today. They have
neither a coherent narrative, nor ideology, nor a unifying center, nor public
backing. They are only concerned with their bellies and lust. They have no
future, their past is a source of shame, and their present is enveloped in
darkness. Their national honor, integrity—even their very selves—are up for
sale. The Israel and America they once nurtured like a towering tree are now
suffocating them under its shade. Other than the fleeting comforts of this
life, they have no dreams or vision. They have made some of the most
disgraceful decisions of this century—and disgrace shall haunt them for
generations.
As for Israel, despite reaching
the pinnacle of technological advancement, if it still feels compelled to
attack Iran for self-preservation, then this is not a sign of strength but a
mark of decline. The peak of aggression always ends at the edge of suicide—such
a suicide that not only will Israel cease to exist, but its ideology will
perish, and its sycophants' ambitions will be reduced to ashes.
To label Iran’s Supreme Leader
as an “easy target,” and the ensuing joy of American and Israeli loyalists—is a
fleeting celebration. This temporary glee will eventually drown all the
Pharaohs of today in its own deluge. History takes revenge silently—but
mercilessly. The scales of time do not tilt with power, but with truth. The
patience and endurance of Iran’s Supreme Leader resemble the stillness that
precedes a mighty storm. This silence is not mere quiet—it is history pausing
to catch its breath before a profound moral and military transformation.
Those who long claimed “Iran
and Israel are secretly allied” are today the most astonished and disoriented.
Their reality has now been exposed—some have admitted the truth, while others,
like bats, continue to chant darkness even in the broad daylight, keeping their
eyes shut. Let these bats live in their own kingdom. They follow no religion or
sect—they are neither Shia nor Sunni.
But the rest of the world now
clearly sees: the Iranian nation has transformed its hatred for the US and
Israel into a coherent intellectual and ideological stance. Iran has infused
its spirit of revenge with moral dignity and adorned its resistance with
awareness and wisdom. If this war intensifies, the cosmos will change, power
equations will shift, and new shores will emerge on the river of peace. When
the oppressor is forced to sit at the negotiation table with the oppressed,
Israel and the United States will see stars in broad daylight. For America,
Israel, and their allies—it will be nothing short of doomsday.
Believe me, this is the moment
of which it is said: "The sun will blaze at the point of zenith."
منگل، 17 جون، 2025
The Iran-Israel War and the Impact of Fake News
ایران و اسرائیل جنگ اور فیک نیوز کے اثرات
ڈاکٹرنذر حافی :
دشمن جب ہتھیاروں کے زعم میں سچائی کا انکار کر دے تو اصل معرکہ گولیوں کا نہیں بلکہ اعصاب کا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھیاروں کا گھمنڈ
خاک میں مل چکا ہے۔ اب ایران کے خلاف اعصابی و نفسیاتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کو محض ایک
جغرافیے کے اندر نہ دیکھئے، یہ ایک دماغی معرکہ ہے، جہاں اصل ہدف کسی زمین پر قبضہ نہیں ، بلکہ عوام کے اذہان پر قبضہ ہے۔اعصابی جنگ بظاہر خاموش مگر ظاہری جنگ سے زیادہ شدید تر ہوتی ہے۔ سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ دشمن کو میدانِ
جنگ کے ساتھ ساتھ اُس کی شناخت، اُس کی معیشت،
اُس کے اعتماد، اور اُس کے بیانیے میں شکست دینا ضروری ہوتاہے۔ جہاں فائرنگ کے
ہمراہ خوف کا ہونا اور لوگوں کو خوف اورڈر
کے ساتھ علاقے چھوڑنے اور خالی کرنے کیلئے متحرک کرنا یہ خود بڑی
سخت قسم کی لڑائی ہے، دشمن ملک پر بارود چھڑکنے کے علاوہ جھوٹی خبروں
اور دھمکیوں کو پھیلا کر لوگوں کو اپنے
ملک سے بد ظن کرنا کوئی آسان کام نہیں۔
یہ نصرتِ الہی نہیں تو اور کیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ہونے والے لامتناہی پروپیگنڈوں کا اکیلا ایران انتہائی دانشمندی سے توڑ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایران نے جہاں ان پروپیگنڈوں کا توڑ کیا ہے وہیں ساری دنیا میں تنِ تنہا اسلامی انقلاب، اسلامی جمہوریت،ریاستی استقلال و خودمختاری اور فلسطین کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ ایران نے اپنی حکمتِ عملی سے اسرائیل کے غاصب اور مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہونے کو ساری دنیا میں تسلیم کروایا ہے۔ اب یہ صرف ایران کا ہی موقف نہیں رہا کہ اسرائیل ایک غاصب اورمکڑی کےجالے سے بھی زیادہ کمزور ریاست ہے بلکہ آج یہ دنیا کہ ہر باشعور اور منصف مزاج انسان کا موقف ہے۔ یہ جو دنیا بھر میں اسرائیل بے نقاب ہوا اس کیلئے ایرانی دانشوروں، میڈیا،ایران کی سائبر ٹیموں، تھنک ٹینکس اور ایرانی پراکسی عناصر وغیرہ سب نے مل کر دنیا بھر کے اذہان میں اسرائیل کی حقیقی شکل بٹھائی ہے۔ یہ شکل اسرائیلی عوام پر بھی اثر انداز ہوئی اور اسی کی وجہ سے اسرائیلی عوام ماضی کی نسبت آج خود کو بہت زیادہ محصور، غیرمحفوظ اور بےیقین پاتے ہیں۔ تل ابیب کی فضاوں میں گونجتے سائرن، ہیک شدہ وڈیوز، ہر تھوڑی دیر کے بعد ایرانی میزائلوں کی اسرائیل میں گرنے کی خبریں، اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں پراسرار دھماکے دراصل سب سے زیادہ اسرائیلیوں کے اعصاب کو متاثر کرتے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور ایران کی
اعلیٰ قیادت کو شہید کرنے کی خبروں کو میڈیا میں اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ جیسے بس اب ایران کا کام تمام ہو ا چاہتا ہے۔ ایسے
میں جہاں ایران کے بارے میں دیگر فیک نیوز
پھیلائی جا رہی ہیں وہاں ایسی خبریں بھی عام کی جا رہی ہیں کہ ایران میں منافقین
اور غداروں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انقلاب کا چراغ گُل کرنے والی ہے اور ایران کے اندرغداروں و
اسرائیلی جاسوسوں کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ جنگ کے ان لمحات میں منافقین کی کثرت،
غداروں کی بھرمار اور جاسوسوں کی کامیابیوں کی خبروں سے اسرائیل، ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہمارے
کارندے تمہاری فضاوں اور تمہارے گلی محلوں میں موجود ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی
خبریں کسی قوم کی خود اعتمادی پر حملہ کرنے کیلئے پھیلائی جاتی ہیں۔
ہمیں کسی بھی نیوز
کو فارورڈ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اعصابی و نفسیاتی جنگ ایک
"نرم زلزلے" کی مانند لوگوں کو اندر سے ہلا دیتی ہے۔ اگر یہ جنگ کسی قوم کے اعصاب پر مسلط ہو
جائے تو ایک دھمکی کے ملتے ہی، ایک سائرن کے بجتے ہی، ایک دھماکے کی آواز آتے ہی شہر کے شہر خالی، ہوائی اڈے بند، بینک سسٹمز معطل، اور بجلی کا
نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے کسی جاسوس کو میزائل سے باندھ کر واپس اسرائیل
پھینک دینا، ایرانی خواتین کی آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے کچلنا، ایرانی عوام کا اقتصادی
بدحالی سے بلکنا، لوگوں کا اسرائیلی حملوں سے ڈر کر نہ سونا اوراسلامی انقلاب کے
خلاف عوامی مظاہروں کی جعلی تصاویر اورخبریں بھی اسی سلسلے کی کڑی
ہیں۔ان کا مقصد عالمی رائے عامہ اور
ایرانی عوام کو اسلامی انقلاب کی قیادت سے
مایوس کرنا ہے۔
المختصر یہ کہ اس
جنگ کا اصل نشانہ وہ اجتماعی شعور ہے جو ایک
قوم کو جوڑ کر مشکل حالات میں اُمیدوار اور متحد رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی قوم کا بجلی
گھر بند کریں تو وہ کچھ دیر کیلئے پریشان ہو گی لیکن اگر آپ اس کی
امید کا چراغ گُل کر دیں تو وہ ہمیشہ کے لیے
شکست کھا جائے گی۔اسی فکری جنگ کا ایک رخ سفارتی تعلقات میں چھپا ہوا ہے۔ امریکہ و
اسرائیل نے مشرقِ وسطی میں اپنے جغرافیائی
مہروں کو اس طرح ایک صف میں کھڑا کر رکھا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کے غلام اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔تمام خلیجی
ریاستیں، ترکی، شام۔۔۔ اور یورپی
ممالک اس انتظار میں ہیں کہ کب اُن کا آقا انہیں کوئی اشارہ کرے اور اُن سے کوئی خدمت لے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اب فتح کا مفہوم بدل چکا ہے۔آج جس نے بیانیے پر قبضہ کر لیا، وہی فاتح ہے۔ آج
جنگ جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے دشمن کا شہر تباہ کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے
اُس کے عوام کو یہ باور کرا دیا کہ ان کا نظام ناکام ، ان کی قیادت کھوکھلی ، اُن
کی صفوں میں غدّار ، ان کے شہروں میں جاسوس اور ان کے خواب غیر حقیقی ہیں۔ جنگ کہیں بھی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی
بلکہ جنگ وہی جیتتا ہے جو دشمن سے لڑنے کی
ہمت چھین لیتا ہے۔












.jpg)








