زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 12 جون، 2026

ایرانی جوانوں کا پیغام آپ سب کے نام

 ایرانی جوانوں کا پیغام آپ سب کے نام


عزیز بھائیو اور بہنو!

ہمارا مقدس اور عزیز وطن، سربلند اور تہذیب ساز ایران، ایک بار پھر امریکہ اور صہیونی حکومت کی مجرمانہ فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران کی سرزمین کی سالمیت اور قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں دفاعی اہداف، بنیادی ڈھانچوں اور غیر فوجی مقامات پر حملے کیے۔

اسلامی ایران کے عظیم رہبر اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کی غرض سے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ دہشت گردانہ اقدام، جو ایران کی سرزمین اور قومی خودمختاری کے خلاف فوجی جارحیت کی شکل اختیار کر گیا، انسانی معاشرے کے تسلیم شدہ اخلاقی اور قانونی اصولوں پر بے مثال حملہ اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی بنیادی دفعات کی سنگین ترین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی یہ نئی فوجی جارحیت ایسے وقت میں انجام دی گئی جب ایران اور امریکہ ایک سفارتی عمل کے درمیان تھے۔ اگرچہ ہمیں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایک اور فوجی حملے کے ارادوں کا علم تھا، پھر بھی ہم نے عالمی برادری اور دنیا کے تمام ممالک پر حجت تمام کرنے اور ایرانی قوم کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تاکہ جارحیت کے لیے کسی بھی بہانے کی غیر قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی معاصر تاریخ میں کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور اس کی حکمت عملی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام پر مبنی رہی ہے۔ ایران کی حالیہ فوجی کارروائیاں صرف ان حملوں اور جارحیتوں کے خلاف ایک جائز، دفاعی اور بازدار جواب ہیں جو بعض ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ایران کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف انجام دی گئیں۔

صہیونی حکومت اور اس کے مغربی و علاقائی حامیوں کے مجرمانہ طرزِ عمل کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں مکمل اخلاقی اور اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے نہ تو بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا اور نہ ہی ممالک کے اہم غیر فوجی بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے جائز اہداف صرف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے تھے جو براہِ راست ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے مراکز کے طور پر استعمال کیے گئے تھے۔

امریکیوں نے برسوں تک خطے کے ممالک سے "سلامتی کی فراہمی" کے نام پر بھاری رقوم وصول کیں اور مربوط دفاعی نظاموں کے اخراجات انہی ممالک سے پورے کروائے۔ آج وہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے میں ناکام ہیں اور اپنے فوجی اڈوں کا بھی دفاع نہیں کر سکتے، بلکہ ان ممالک کی حکومتوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ شکایت کرنے کے بجائے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے مقابلے میں شامل ہوں۔

حالانکہ گزشتہ مہینوں کے دوران امریکہ نے بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز اور طیارے خطے میں بھیجے، دھمکی آمیز زبان استعمال کی، اور عالمی رائے عامہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایران کی بحریہ، فضائی دفاع اور ریڈار نظاموں کی تباہی جیسے دعوے کرتے ہوئے اور قبل از وقت فتح کا اعلان کر کے اپنی حکمتِ عملی کی ناکامی کو چھپانے اور مصنوعی کامیابیاں ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران اسرائیل نے بھی آبادکاروں کے خوف اور غصے کو کم کرنے کے لیے جنگ سے متعلق خبروں پر سخت سنسرشپ نافذ رکھی۔اس جنگ میں دشمن کے مقاصد کو دو سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے:

1۔ تزویراتی (اسٹریٹجک) مقصد

مغربی ایشیا کے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنا، صہیونی حکومت کی مرکزیت پر مبنی مطلوبہ علاقائی نظام کو مسلط کرنا، اور اسی کے ذریعے امریکہ کے پسندیدہ عالمی نظام کو مضبوط بنانا، نیز چین اور روس جیسے عالمی حریفوں کو اس خطے سے دور رکھنا۔

2۔ عملیاتی مقاصد

اس تزویراتی مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے متعدد عملیاتی اہداف کا تعاقب کیا، جن میں سب سے اہم درج ذیل تھے:

1. نظام کی تبدیلی یا اس کا خاتمہ

    ایسا نظام قائم کرنا جو سابقہ پہلوی دور کی طرح امریکہ اور اسرائیل کا تابع ہو، تاکہ ایران دوبارہ ان کی وابستگی کے دائرے میں آ جائے اور پورا خطہ ان کے کنٹرول میں چلا جائے۔

2. اسلامی جمہوریہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا

    پابندیوں، دھمکیوں اور سخت جنگی اقدامات کے ذریعے عوام اور حکام میں اس حد تک خوف پیدا کرنا کہ وہ غیر مشروط طور پر دشمن کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

3. اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنا

    جوہری اور میزائل تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچوں اور دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا کر ایسے داخلی حالات پیدا کرنا جو مستقبل میں نظام کی ماہیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی کا باعث بنیں۔ دشمن کا اندازہ تھا کہ یا تو اس کے نتیجے میں نظام ٹوٹ جائے گا اور ملک تقسیم ہو جائے گا، یا پھر وہ اتنا کمزور ہو جائے گا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شرائط، مثلاً میزائل اور جوہری صلاحیتوں سے دستبرداری، قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

4. غیر ہم آہنگ حکومتوں کے خاتمے کے عمل کو مکمل کرنا

    دشمن جنہیں "سرکش ریاستیں" قرار دیتا ہے، ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھنا۔ بیان کے مطابق اس منصوبے کا پہلا قدم وینزویلا کے سوشلسٹ اور امریکہ مخالف صدر کے اغوا کی صورت میں سامنے آیا، اور اس کے بعد دشمن کی نظر کیوبا جیسے ممالک پر بھی تھی۔

آزاد فکر اور سامراج مخالف نوجوانو !

استکباری نظام اور توسیع پسند صہیونی تحریک مغربی ایشیا کے علاقائی نظم کو اپنی بقا اور مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھتے ہیں، لیکن انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی صورت میں ایک ایسی رکاوٹ کا سامنا ہے جو آزادی، خودمختاری اور اپنی تہذیبی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے طاقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی خصوصیات ایران کو ان تمام آزاد اقوام کے لیے ایک مثال بناتی ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے غلبہ پسند نظام سے تنگ آ چکی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین برسوں تک اس امید میں رہے کہ معاشی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور انتظامی مشکلات کے باعث ایران اندرونی طور پر کمزور ہو کر ٹوٹ جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی تمام تر میڈیا، تبلیغی، تخریبی اور دہشت گردانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لایا، بعض نخبگان کو اپنے ساتھ ملانے اور قومی شناخت و خودمختاری کے حامی عناصر کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اور مغربی طرزِ زندگی کے فروغ کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی سعی کی۔

لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور استحکام کے عمل نے نہ صرف مشکلات کا مقابلہ ممکن بنایا بلکہ قومی خودمختاری کے لیے ضروری تزویراتی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا، یہاں تک کہ ایران کو دوبارہ مکمل انحصار اور تابع داری کی طرف واپس لے جانا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا۔

ایسے حالات میں "طوفان الاقصیٰ" کی کارروائی وقوع پذیر ہوئی، جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے کے لیے جاری متوازی حکمتِ عملی کو چیلنج کر دیا۔ یہ حکمتِ عملی بعض اسلامی حکومتوں کو خوف یا ترغیب کے ذریعے اسرائیل کی قیادت میں قائم ہونے والے علاقائی نظام کو قبول کرنے اور ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی محاذ میں شامل کرنے پر مبنی تھی۔ اس صورتِ حال نے پہلے صہیونیوں اور پھر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں میں اپنی بقا کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ علاقائی مزاحمتی محور، اگرچہ نظریاتی اشتراک اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف مشترک مقاصد رکھتے ہیں، لیکن اپنی سماجی بنیادوں، مقامی دفاعی صلاحیتوں اور تزویراتی و عملیاتی فیصلوں میں مکمل خودمختاری کی وجہ سے روایتی معنوں میں کسی کنٹرول شدہ نیابتی قوت کی خصوصیات نہیں رکھتے۔ ان کی کارکردگی ایک کثیرالجہتی، خودانحصار اور خودمختار مزاحمتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔

غزہ میں اسرائیل کے اقدامات، "اسرائیلِ بزرگ" کے منصوبے کا کھلا اظہار، اسلامی اور عرب ممالک کے خلاف جارحانہ مؤقف، اور مغربی ممالک و اسرائیل کے روایتی اتحادیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی نفرت نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے مستقبل کے بارے میں مزید فکرمند کر دیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کو، اس بیان کے مطابق، ایک ایسے ماحول کا سبب قرار دیا گیا جس نے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی اور ماضی کی ناکامیوں کا بدلہ لینے کی راہ ہموار کی۔

بیان کے مطابق، ایران کو کمزور سمجھنے اور داخلی بدامنی کے امکانات کا اندازہ لگانے نے بھی اس فیصلے کی تشکیل میں کردار ادا کیا، جبکہ تل ابیب میں موجود طاقتور حلقوں نے اس سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تجزیے کی بنیاد پر، بیان کے مطابق، دشمن نے پہلے "بارہ روزہ جنگ"، پھر امریکی۔صہیونی نوعیت کی بدامنی اور بغاوت، اور اس کے بعد موجودہ مکمل جنگ (جسے "جنگِ رمضان" کہا گیا ہے) کی منصوبہ بندی کی۔

بیان کے مطابق، اپنی کارروائیوں کو جائز دکھانے کے لیے دشمن نے ابتدا میں ایران کے لیے شرائط مقرر کیں، مذاکرات کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا، اور ساتھ ہی داخلی بے چینی کو ہوا دی، تاکہ اپنی مداخلت کو ایران کی مزاحمت یا عوامی مطالبات سے جوڑا جا سکے۔ تاہم بیان کے مطابق، یہ حکمتِ عملی ناکام رہی اور مذاکرات کے دوران جنگ کے آغاز، نیز تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ان دعوؤں کے خلاف تاریخی ثبوت قرار دیا گیا۔

عزیز آزاد فکر اور امن پسند نوجوانو !

میناب کے "شجرۂ طیبہ" گرلز اسکول کے بچوں کی مظلومانہ پکار، جس کے بارے میں بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی امریکی اور صہیونی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی، ایسی تھی کہ موجودہ دنیا میں، جہاں کثیرالجہتی کمزور پڑ چکی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے بجائے طاقت کا استعمال غالب آتا جا رہا ہے، کوئی بھی بیدار ضمیر اس سانحے کو نظر انداز نہیں کر سکا۔

آخر میں، متحدہ اسلامی نوجوانوں کی انجمن اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک، بالخصوص خطے اور اسلامی دنیا کے ممالک، تحریکِ عدمِ وابستگی کے اراکین، اور ان تمام حکومتوں سے جو عالمی امن و سلامتی کے بارے میں خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں، یہ توقع کرتی ہے کہ وہ اس جارحانہ اقدام کی واضح مذمت کریں اور اس کے خلاف اجتماعی اقدامات اٹھائیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو غیر معمولی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اس تاریخی آزمائش کے لمحے میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، اس سرزمین کی عظیم حماسی روایت سے رہنمائی لیتے ہوئے، خداوندِ متعال پر توکل، الٰہی نصرت کے وعدے پر ایمان، اور قومی طاقت پر اعتماد کے ساتھ، اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہر قسم کے دفاعی اقدام کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایرانی قوم نے کبھی بھی بیرونی جارحیت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ بیان کے مطابق، اس بار بھی ایران کا جواب فیصلہ کن اور مضبوط ہوگا اور حملہ آوروں کو اپنے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا۔

"وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ"

﴿اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے﴾

بین الاقوامی امور کا شعبہ۔۔۔ متحدہ اسلامی نوجوانوں کی انجمن – ایران

17 خرداد 1405 ہجری شمسی

 7 جون 2026


منگل، 9 جون، 2026

مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے!

مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے!

ڈاکٹر نذر حافی

گائے کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اُس کے تیز اور نوک دار سینگ اُسے طاقتور ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا  ہم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرنے کیلئے گائے کو ٹکرمارنا   قبول کرے گا؟ امریکہ اور ایران کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر اس تصوّر کو مبہم کر دیا ہے کہ دنیا میں طاقتور کون ہے اور طاقت کسے کہتے ہیں؟  اب یہ سوال     ایک معمہ  بن گیا ہے، اس کے جواب میں  ہر دعویٰ اپنے ساتھ ایک دلیل رکھتا ہے اور ہر دلیل اپنے دامن میں ایک نیا سوال۔


راستے میں کھڑی گائے کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اُس کا بھاری بھرکم جسم اور خطرناک سینگ ہی دوسروں کی توجہ جلب کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ خصوصاً جب گائے کو یہ وہم ہوجائے کہ وہ جنگل کی بادشاہ ہے تو پھر تو  ایسے میں گائے کے ساتھ مذاکرات یعنی گائے کے سامنے بین بجانے  والی بات ہے۔ بادشاہت و آمریت کے زعم میں بہکی ہوئی  گائے اپنی دم کو شاہی عصا سمجھنے لگتی ہے، اپنے سینگوں کو تاج قرار دیتی ہے اور اپنی "مممم" کی آواز کو شاہی فرمان کا درجہ دے دیتی ہے۔ گائے اُس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کہ جب وہ وہ تالاب کے کنارے کھڑی ہو کر اپنے عکس کو دیکھتی ہے اور غُصّے سے بھر جاتی  ہے کہ لوگ اسے اب تک شیر کیوں نہیں مانتے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ جنگل کی بادشاہ ہے۔ حالانکہ جنگل کے باقی جانور ابھی اس خبر سے لاعلم ہوتے ہیں۔اس دماغی فتور کے باعث  یہ روزانہ تقریر کرتی ہے کہ شیر کا زمانہ گزر گیا، اب گائے کا دور ہے۔ شیر آبنائے ہُرمز میں  پہلے تو ہنستا ہے، پھر حیران ہوتا ہے، اور آخر میں سوچتا ہے کہ اگر گائے خود کو بادشاہ سمجھ کر بہک گئی ہے تو کیوں نہ اسے آئینہ دکھایا جائے؟

اس گائے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت اپنی عظمت بیان کرتی رہتی ہے۔ کیونکہ اصلی شیر کو کبھی یہ اعلان نہیں کرنا پڑتا کہ وہ شیر ہے، مگر وہ گائے جو خود کو شیر سمجھ بیٹھے، اسے صبح، دوپہر اور شام تینوں وقت یہ  اعلان کرنا پڑتا ہے۔

ایسی گائے کی سیاسی بصیرت بھی قابلِ داد ہے۔ وہ سڑک کے عین درمیان بیٹھ کر دنیا کو یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی، رفتار اور جلد بازی سب فضول چیزیں ہیں۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس کے سامنے بے بس کھڑی رہتی ہیں اور یہ  شور مچائے رکھتی  ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ اس کے شور مچانے کی عادت پر بھی ایک نظر  ڈالئے۔ کبھی یہ گاؤں کی گلی میں ایک سُریلے  راگ کی مانند  مو—مو کر کے کسی ماہر موسیقار کے  انداز میں راگ الاپتی  ہے، تو کبھی کسی تھکے ہوئے قوّال کی طرح  ایسا شور شرابہ  کرتی ہے کہ ہر راہگیر  خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ یہ راگ الاپے یا قوّالی کا شوق پورا کرے اس کا کام  سب کو پریشان کرنا ہوتا ہے اور پریشانی بھی ایسی کہ جس  کا  کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا ۔

 ہمارے ہاں جدید گلوبل ویلج  میں  بعض ریاستیں بھی اللہ میاں کی  گائے ہی ہیں۔ البتہ یہ ذرا دوسری قسم کی گائے کہلائیں گی۔ یہ دوسری قسم کی گائے کمیونٹی وہ ہے جو  سارا سال دو کاموں میں مصروف رہتی ہے،   گھاس کھانے میں اور جگالی کرنے میں۔ اگر ان کے سامنے سےطوفان  بھی گزر جائے تو ویہ پہلے گھاس کا نوالہ نگلیں گی، پھر خطرے پر غور کریں گی۔انہی کی وجہ سے  گائے برادری میں دو  فرقے پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک فرقہ جسے  بادشاہ ہونے کا وہم ہو گیا ہے اور دوسرا فرقہ جو اپنے آپ کو بادشاہ کا مصاحب ثابت کرنے پر تُلا رہتا ہے۔بادشاہ کی مصاحب بننے کی شوقین کسی گائے  کے سامنے چارہ رکھ دیں تو وہ  فوراً نہیں کھائے گی۔ پہلے درخواست دے گی، پھر فائل بنے گی، پھر کمیٹی بیٹھے گی، پھر چارے کی افادیت پر رپورٹ مرتب ہوگی۔ جب تک اجازت ملے گی،  تب تک چارہ خود ہی باسی  ہو چکا ہوگا۔یہ عجیب قسم کی گائے ہوتی ہے۔  اگر بادشاہ گائے اُسے اپنے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کرادے تو یہ ناشتے کو  اپنی کامیابی قرار دیتی ہے،  خود ہی زیادہ ناشتہ کرنے کے بعد  گھاس کی قلت پر احتجاج کرتی ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو اس کا  اپنا وژن، اور اگر خشک سالی ہو تو کسی دوسری  گائے پر الزام۔ ایسی  گائے شاہی باڑے میں  ناشتہ کرنے سے  پہلے اپنی سیلفی بناتی ہے اور  تصویر کھنچواتی ہے  پھر  جگالی کرکے اپنا بیان جاری کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جنگل کے تمام جانور اس کی رائے سنیں، حالانکہ خود اسے بھی اپنی رائے پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔

یہ ہر صبح اعلان کرتی ہے کہ آج  بادشاہ سلامت کی معیّت میں سارےجنگل کا نقشہ  بدل کر رکھ دے گی۔ اس کے بعد گھاس چرتے چرتے دوپہر تک تھک جاتی ہے اور شام کو پرانے کھونٹے سے بندھی ملتی ہے۔ اس کا انقلاب عام طور پر ناشتے اور شام کے چارے  کے درمیان ختم ہو جاتا ہے۔ یہ مقامی گھاس کا ناشتہ  پسند نہیں کرتی ۔ اس کا خیال ہے کہ غیر ملکی چارہ زیادہ جمہوری، ترقی پسند اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ البتہ بلآخر وہ بھی جگالی وہی کرتی ہے جو باقی گائیں کرتی ہیں۔جیسے  شیر کو گھاس کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، بھیڑیے کو امن کا سفیر بتایاجاتا ہے، اور چیتے کو رفتار کم کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔

خیر دنیا کو اگر گلوبل ویلج مانا جائے تو اس عالمی دیہات  میں ایک ایسی “شخصیت” پائی جاتی ہے جو بظاہر تو سیدھی سادی گائے ہے، مگر اصل میں پورا سیاسی نظام اسی کے گرد گھومتا محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن کا زیادہ حصہ چرتی ہے، کبھی آرام فرماتی ہے، اور کبھی اچانک ایسی بڑھک مارتی ہے کہ پورا گاوں  ایک لمحے کو “ایمرجنسی موڈ” میں چلا جاتا ہے۔ البتہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ۔ چنانچہ وہ گائے کو بھی  بھینس کی طرح  لاٹھی لے کر  حسبِ ضرورت    ہنکاتے رہتے ہیں۔  

ہم یہ راز بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ  جس کے پاس لاٹھی ہو اُسے بھینس یا گائے  کو ہنکانے کا طریقہ بھی آنا چاہیے۔ صرف لاٹھی کا ہونا کافی نہیں۔  ورنہ بدکی ہوئی بھینس یا گائے  ٹکر بھی مار سکتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بھینس ہو یا گائے ، ہم تو ان دونوں سے ڈرتے رہتے ہیں چونکہ ان کے پاس سینگ تو ہوتے ہیں لیکن عقل نہیں۔   

 

 


منگل، 2 جون، 2026

3 جون ۔۔۔جب حضرت امامؓ نے آخری سانس لی

3 جون ۔۔۔جب حضرت امامؓ نے آخری سانس لی

ڈاکٹر نذر حافی


3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب  امام خمینیؓ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہو گیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔

سیدحسن عارفی نے  3 جون 1989ء  کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت  امام خمینیؓ   کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیز کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔حضرت  امام خمینیؓ   نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقاجان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام والمسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹروکارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔

اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی، اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہو گئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔

اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔ اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔

اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔

“بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران۔۔۔کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران”

اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:

“ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد۔۔۔چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد”

بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:

“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق۔۔۔ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”

سیدحسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آئیے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین  اور سوگوار  صبح  پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے  ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا  بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔

یوں  امام خمینیؓ   مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...