زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

اتوار، 31 اگست، 2025

جامعۃ الرضا میں بلیک ستمبر اور فلسطین

 جامعۃ الرضا میں مجلسِ مذاکرہ بعنوان  بلیک ستمبر اور فلسطین :    
رپورٹ  مزمل حسین متعلم جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق :  
جامعہ الرضا میں  30 اگست 2025  کو "بلیک ستمبر اور فلسطین " کے موضوع پر ایک فکری و تاریخی نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس میں طلبا کو مسئلہ فلسطین کے مختلف زاویوں سے آشنا کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز بلیک ستمبر پر مبنی ایک خصوصی ڈاکیومنٹری سے ہوا، جس میں 1970 میں اردن میں پیش آنے والے خونریز واقعے کو  اچھے انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اس نشست کا مقصد فلسطین کے بلیک ستمبر کے  تاریخی واقعے  سے سیکھنا اور اس سے عبرت حاصل کرنا تھا۔  ڈاکومنٹری  ملاحظہ کرنے کے بعد اساتذہ کرام کی طرف سے طلبا کو بلیک ستمبر کے حوالے سے مختصراً بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر طلبا نے  بلیک ستمبر کے حوالے سے طلبا نے اپنی اپنی معلومات بھی بیان کیں ۔ نشست میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ  ۱۹۷۰ میں   اردن کی حکومت اور فلسطینی تنظیموں (خصوصا PLO) کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک خانہ جنگی جیسا ماحول بن گیا۔ اس واقعے میں اندازاً 20,000 فلسطینیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا، اور ہزاروں دیگر کو ملک بدر کر دیا گیا۔
نشست میں موجود طلبا و اساتذہ نے اپنے  خیالات کا اظہار کرتے ہوئے "بلیک ستمبر" کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا اور مختلف معلومات کی جمع بندی کی۔یاد رکھیں کہ جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی طلبا کو معاصر بدلتے ہوئے حالات اور تاریخی حقائق سے آگاہ رکھنے کیلئے ایسی تجزیاتی نشستوں کا آغاز شعبہ تربیّت و تحقیق کے زیرِ انتظام  ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔   جاری نئی  تعلیمی ٹرم میں یہ اس سلسلے کی پہلی نشست تھی۔

کالا ستمبر اور سفید خون

کالا ستمبر اور سفید خون :
ڈاکٹر نذر حافی : 
ایک ایسا پاکستانی جرنیل، جو اپنے فیصلوں کے ذریعے پاکستان، فلسطین، لبنان، شام اور افغانستان یعنی پانچ ممالک پر اثر انداز ہوا۔ اس کا ہاتھ بلیک ستمبر میں بھی دنیا کو نظر آیا۔ یوں تو بلیک ستمبر اردن کے شاہ حسین کے فلسطینیوں کے قتلِ عام کے لیے معروف ہے۔ تاہم برادر کُشی کی اس واردات بمیں پاکستان نے بھی سفید خون کا مظاہرہ کیا۔ 

قصہ کچھ یوں ہے کہ ستمبر 1970ء میں شروع ہونے والی یہ قتل و غارت جولائی 1971ء تک جاری رہی اور اس لڑائی نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی کمر توڑ دی۔ بعد ازاں یہی واقعہ بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ بلیک ستمبر کے حوالے سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس المناک واقعے کا تعلق پاکستان سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جون 1967ء کی چھ روزہ عرب-اسرائیل جنگ کے بعد فلسطینی عوام مغربی کنارے سے اردن کی جانب پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس ہجرت سے پہلے بھی تقریباً 650,000 فلسطینی اردن میں آباد تھے۔ اسرائیلی قبضے کے بعد اس علاقے کا نام مشرقی فلسطین کی بجائے اردن رکھ دیا گیا۔ گویا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے کسی نے مقبوضہ کشمیر کا نام بھارت رکھ دیا ہو۔

فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے ظلم و ستم اور کشمیری عوام کے ساتھ بھارتی مظالم میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ دونوں میں غیر قانونی قبضہ، پناہ گزینوں کی بربادی، انسانی حقوق کی پامالی اور عسکری دباؤ کے ذریعے مقامی آبادی پر کنٹرول شامل ہے۔ جیسے فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے نکالا گیا اور اردن میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا، بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی بھارتی افواج کے دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی اس باشعور دنیا میں عالمی سطح پر فلسطینی مظالم پر تو بات ہوتی ہے، مگر کشمیری مظلوموں کے حق میں کوئی نہیں بولتا۔ اگرچہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا انسانی شعور کی سب سے بڑی علامت ہے۔
1959ء میں یاسر عرفات اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) نے فتح تنظیم قائم کی، جس کا مقصد فلسطین کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانا تھا۔ دیگر مزاحمتی تحریکیں بھی فعال تھیں، جو دریائے اردن کے پار سے اسرائیلی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتی رہتی تھیں۔ مہاجر فلسطینی اردن میں اس طرح آباد تھے، جیسے کشمیر کے کشمیری پاکستان کے زیرِانتظام علاقے آزاد کشمیر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ فلسطینی مہاجرین نے اردن میں سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ان علاقوں کو آزادی کی جدوجہد کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ صورتحال اردن کی بادشاہت کے لیے سنگین خطرہ بنی، خصوصاً یاسر عرفات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے شاہ حسین کو بے چینی میں مبتلا کر دیا۔
25 ستمبر 1970ء کو اردن میں مارشل لاء نافذ کیا گیا۔ دو دن تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اردن کی فوج کے درمیان خونریز لڑائی جاری رہی۔ جنگ بندی کے باوجود جولائی 1971ء تک بادشاہ نے فلسطینی تنظیموں کے ارکان کو اردن بدر کرکے شام اور لبنان منتقل کر دیا۔ وہ دن تھا اور آج کا دن۔ اس کے بعد آج تک شام اور لبنان میں فلسطینی عوام کی مکمل آبادکاری نہیں ہوسکی اور یہ علاقے مستحکم نہیں ہوسکے۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح یہاں بھی دنیا خاموش رہتی ہے، گویا اُسے کچھ دکھائی اور سُنائی ہی نہیں دیتا۔ اس دوران جنرل ضیاء الحق "جنگی تربیتی مشن" کے کمانڈر کے طور پر اردنی فوجیوں کی تربیت کر رہے تھے۔ بلیک ستمبر کی کارروائیوں میں وہ بھی  شریک ہوئے اور اردن کی فوج کے اقدامات میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک سال کے دوران تقریباً بیس ہزار فلسطینی مارے گئے۔ اس تجربے نے ضیاء الحق کو ایک مضبوط اور سخت گیر فوجی رہنماء کے طور پر تیار کیا اور اردن کے شاہ نے انہیں اعلیٰ اعزاز ’’کوکب استقلال‘‘ سے نوازا۔ 1975ء میں وہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔
ضیاء الحق کا ایسا ہی کردار بعد میں افغانستان کے ساتھ بھی سامنے آیا اور اس کے اثرات آج بھی افغانستان میں قابلِ مشاہدہ ہیں۔ یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ فلسطین کی طرح، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی بعض پاکستانی حکمرانوں کا کردار افسوسناک رہا ہے، البتہ پاکستانی عوام ہمیشہ سے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے مخلص اور بے لوث رہے ہیں اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے میں آج بھی پیش پیش ہیں۔ دنیا آج بھی بلیک ستمبر کی لپیٹ میں ہے اور مظلوم اقوام کے حق میں کہیں کوئی نہیں اٹھتا۔ دین اور قانون کے نام پر عالمِ بشریّت کو آج بھی صرف دھوکہ دیا جاتا ہے اور انصاف کی راہ پر کوئی قدم بڑھانے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت یہ تینوں طاقتیں دنیا کے ہر کونے سے حمایت یافتہ ہیں اور مظلوم کی آہ، درد کی صدا، محض تاریخ کے صفحات میں دبی ہے۔
اس وقت ساری دنیا میں ایک ملک اسلامی جمہوریہ ایران اندھیروں سے لڑ رہا ہے، جو ظلم کے خوف کے سامنے ابھی تک بے بس نہیں ہوا۔ بلیک ستمبر کی لپیٹ میں آئے ہوئے اذہان کے مقابلے میں ایران کا بصیرت مندانہ کردار ہمیں یہ سمجھا رہا ہے کہ دلوں کی امید اور انسانی شعور کی صدا، ہر زمانے میں انصاف کی راہ پر گامزن رہتی ہے، چاہے دنیا مظلوموں کیلئے بولے یا خاموش  رہے۔ یہی وہ کردار ہے کہ جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی ایک کمزور اور تاریک سا پردہ ہے اور اس پردے سے حقیقت کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی۔

جمعہ، 29 اگست، 2025

علم صرف،اسم فعل اور حرف کی تمرین


📑 تمرين: أقسامُ الكَلِم (اسم – فعل – حرف)
✍️ ہدایت:
مندرجہ ذیل عبارات پڑھیں اور ہر لفظ کے سامنے یہ لکھیں کہ یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف۔

🟢 عبارت 1
جاءَ الطالبُ إلى المدرسةِ مبكِّراً.
(طالب علم صبح سویرے اسکول آیا)

جاءَ = ______

الطالبُ = ______

إلى = ______

المدرسةِ = ______

مبكِّراً = ______

🟢 عبارت 2
الكتابُ على الطاولةِ في الصفِّ.
(کتاب کلاس میں میز پر ہے)

الكتابُ = ______

على = ______

الطاولةِ = ______

في = ______

الصفِّ = ______

🟢 عبارت 3
كتبَ عليٌّ رسالةً إلى صديقهِ.
(علی نے اپنے دوست کو خط لکھا)

كتبَ = ______

عليٌّ = ______

رسالةً = ______

إلى = ______

صديقهِ = ______

🟢 عبارت 4
المعلِّمُ يشرحُ الدرسَ للطلابِ.
(استاد طلبہ کو سبق سمجھا رہا ہے)

المعلِّمُ = ______

يشرحُ = ______

الدرسَ = ______

لِـ = ______

الطلابِ = ______

🟢 عبارت 5
لا تلعَبْ في الشارعِ!
(گلی میں مت کھیل)

لا = ______

تلعَبْ = ______

في = ______

الشارعِ = ______

✅ حل کا نمونہ (مثال کے طور پر عبارت 1 کا جواب)
جاءَ = فعل

الطالبُ = اسم

إلى = حرف

المدرسةِ = اسم

مبكِّراً = اسم (حال)

بدھ، 27 اگست، 2025

نئے تعلیمی سمیسٹر کا پہلا درس اخلاق آج منعقد ہوگا۔ جامعۃ الرضا اسلام اباد

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں طلبا کی روحانی و معنوی تربیّت کیلئے ہفتہ وار درسِ اخلاق کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس درسِ اخلاق میں جیّد علمائے کرام جامعۃ کے طلبا کو اپنے مواعظِ حسنہ سے مستفید کرتے ہیں۔ جامعۃ الرضا کے شعبہ تربیّت کے مطابق نئے تعلیمی سمیسٹر کا  پہلا ہفتہ وار درسِ اخلاق آج ۲۸ اگست ۲۰۲۵ بروز جمعرات جامعۃ الرضا میں دن ساڑھے گیارہ بجے منعقد ہوگا۔  آج کے درسِ اخلاق کا موضوع  "علمِ نافع کے حصول میں پیش مطالعہ، مطالعہ اور مباحثہ کرنے کی اہمیّت" ہے۔
جامعۃ الرضا کے بارے میں ڈاکومنٹری

ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد

ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی۔
 جامعۃ الرّضا اسلام آباد  میں دینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم کا بھی انتظام موجود ہے۔ گزشتہ روز ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کو اساتذہ ِکرام اور دیگر ہم مکتب ساتھیوں کی طرف سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ صبح سویرے اسمبلی کے موقع پر بھی ان طلبا کی تعلیمی میدان میں محنت اور ثابت قدمی کو سراہا گیا۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا کے  طلبا کودینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم سے بھی مزیّن کرنے کیلئے باقاعدہ کلاسز ہوتی ہیں۔ یہاں طلبا ریگولر بنیادوں پر کلاسز میں شمولیت کرتے اور امتحانات دیتے ہیں۔لائق اور ہونہار طلبا کو  انٹر میڈیٹ کے بعد دینی تعلیم کے ہمراہ بی ایس ﴿ بیچلر﴾ ڈگری کیلئے بھی مقدّمات فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کرنے پر اور  ادارے سے فارغ التحصیل ہونے پر ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے اسلامیات میں بیچلرکی ڈگری حاصل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے ۔

جمعرات، 21 اگست، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کیلئے ٹیسٹ و انٹریو کا مرحلہ مکمل

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو کا مرحملہ مکمل ۔ تفصیلات کے مطابق داخلہ ٹیسٹ کی مقررہ تاریخ یعنی ۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو  ملک کے چاروں صوبوں اور آزادکشمیر و گلگت و بلتستان سے طلبا نے داخلے کا امتحان دیا۔ بعض آفت زدہ اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے طلبا کے لئے  آنلائن امتحان کی سہولت بھی موجود تھی۔ اس موقع پر بعض طلبا کے سرپرست حضرات بھی  جامعۃ الرضا اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ تحریری امتحان کے بعد طلبا سے شفاہی امتحان بھی لیا گیا۔ 

منگل، 19 اگست، 2025

In August 2025, there will be a test and interview for admission to Jamia-tur-Raza. An online test and interview facility is also available for students from remote areas.اگست ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کے طلبا کیلئے آنلائن ٹیسٹ و انٹرویو کی سہولت بھی موجود ہے۔

۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کے طلبا کیلئے آنلائن ٹیسٹ و انٹرویو کی سہولت بھی موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام اباد کے مسئول تعلیم ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب  کے مطابق جن طلبا نے جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے رجسٹریشن کروائی تھی ان سے ۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو  داخلہ ٹیسٹ اور انٹرویو لیا جائے گا۔ 
یاد رہے کہ  ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب  اگست 2023 سے جامعۃ الرضا اسلام آباد میں مسئولِ تعلیم ہیں۔ وہ  اگست 2021 میں بطورِ استاد جامعہ الرضا اسلام آباد کی ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ جامعہ الرضا کے نصابِ تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جامعہ الرضا کا نصابِ تعلیم مختلف معتبر تعلیمی اداروں کے نصاب کو مدِنظر رکھ کر نہایت غوروخوض کے بعد مرتّب کیا گیا ہے۔ اس نصاب کی تدوین میں  مدیرِ محترم حجۃ الاسلام والمسلمین آقای سید حسنین عباس گردیزی صاحب کی زیرِ نظارت  جیّد اساتذہِ کرام پر مشتمل ایک  نصاب کمیٹی نے حصّہ لیا ۔ مذکورہ نصاب کی جامعیّت  کی خاطر  جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ، وفاق المدارس ، دائرۂ امتحانات، وفاقی تعلیمی بورڈ  کے نصاب اور مختلف  ماہرین تعلیم کی تجاویز کو مدِّنظر رکھا گیا ہے۔ چنانچہ جامعۃ الرضا کا  نصاب تعلیم دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔
یہ ادارہ اسلام آباد فیڈرل بورڈ سے باقاعدہ طور پر ملحق ہے۔ یہاں کے طلباء ریگولر اسٹوڈنٹس کی حیثیت سے فیڈرل بورڈ کے تحت امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ  اس جامعہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کا رجسٹرڈ ادارہ ہے، جس کے تحت ہر سال 6 سے 8 طلباء کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعۃ المصطفیٰ میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جامعہ الرضا کے طلباء وفاق المدارس اور دائرہ امتحانات  کے امتحانات میں بھی شرکت کرتے ہیں، جس سے ان کی علمی استعداد اور تعلیمی ظرفیّت میں مزید وسیع ہوتا ہے۔


پیر، 18 اگست، 2025

جامعۃ االرضا ؑ کے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، جامعۃ المصطفیؐ کے حوالے سے حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری کی بریفنگ

جامعۃ االرضا ؑ کے  نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، جامعۃ المصطفیؐ کے حوالے سے  حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری کی بریفنگ
جامعۃ االرضا ؑ کے  نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، طلبا کی صلاحیتوں کو نکھارنے، نصابِ تعلیم میں جِدّت اور نوآوری، اساتذہ ِ کرام سے مزید بہتر استفادے نظم و ضبط و تربیت کے طریقہ کار کا جائزہ لینے  اور تدریس کے جدید اسالیب سے آشنائی کیلئے خصوصی نشست۔ تفصیلات کے مطابق موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد جامعۃ الرضا اسلام آباد میں تعلیم و تربیّت کا نیا سیشن شروع ہو گیا ہے۔ نئے سیشن کے آغاز سے ایک دن پہلے جامعۃ الرضا کے پرنسپل حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کے ساتھ جامعۃ کے اساتذہ کی ایک نشست رکھی گئی۔ 
اس نشست میں ادارے کی گزشتہ کارکردگی، نصابِ تعلیم کے تقاضوں،  اساتذہ و طلبا کو درپیش مشکلات اور آئندہ کیلئے نئی حکمتِ عملی کو زیرِ بحث لایا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ کرام نے اپنے اپنے مضامین اور تخصص کے پیشِ نظر  مختلف آراء، امکانات اور تجاویز کو مدیرِ مدرسہ کے سامنے رکھا۔
یاد رہے کہ جامعۃ الرضا اسلام آباد کے نصابِ تعلیم کی ایک نمایاں خصوصیّت یہ ہے کہ یہاں  طلبا کو دائرہ امتحانات، کالج و یونیورسٹی، وفاق المدارس اور جامعۃ المصطفیؐ میں تعلیم حاصل کرنے و  امتحانات دینے کے یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔   چنانچہ اس نشست کے دوسرے حصّے میں   اساتذہِ کرام کو  جامعۃ المصطفی یونیورسٹی کی طرف سے حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری نے جامعۃ المصطفی  کے نصاب تعلیم کے حوالے سے مکمل  بریفنگ  بھی دی ۔ انہوں نے جامعۃ المصطفی ؐ کے نصاب ِتعلیم کی اہمیت، خصوصیات، انفرادیت اور  تدریس کے طریقہ کار  کی وضاحت کی۔ 
اس موقع پر انہوں نے جامعۃ المصطفی کے نصاب تعلیم اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے لے کر اس کے نصاب کے طریقہ تدریس اور درسی منصوبہ بندی سے بھی اساتذہ کو مفصّل آگاہ کیا۔ 

اتوار، 17 اگست، 2025

آزاد کشمیر کی ڈیموگرافی کو لاحق خطرات Threats to the Demography of Azad Kashmir

آزاد کشمیر کی ڈیموگرافی کو لاحق خطرات 
ڈاکٹر نذرحافی :
مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں آزاد کشمیر  واقعتاً آزاد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حکومت پر تنقید یا احتجاج صرف جرم ہی نہیں بلکہ غداری کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ  آزاد کشمیر میں طلبا، صحافی، اور سیاسی کارکن ریاستی پالیسیوں کے خلاف لکھنے، تنقید کرنے اور جلسے منعقد کر نے میں آزاد ہیں۔اسی طرح فوجی موجودگی کی نوعیت بھی یکسر مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کیلئے  ہر گلی کوچے، اسکول، اسپتال اور مسجد کے باہر بندوق بردار کھڑے  رہتےہیں۔قابض فورسز کیلئے  ہر کشمیری مشکوک، جاسوس اور  دہشت گرد ہے۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر میں تعینات فوجیوں اور عام کشمیریوں کے درمیان   بھائی چارے اور محبّت کی فضا ہے۔ خاص جگہوں پر عسکری موجودگی غیر محسوس ہے، اور شہری زندگی نسبتاً معمول پر چلتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو انٹرنیٹ اور مواصلاتی آزادی کا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں انٹرنیٹ کی بندش کو ریاستی پالیسی کا درجہ حاصل ہے۔ وہاں عوامی رابطہ ایک جرم بن چکا ہے۔ اس کے برعکس، آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر عام آدمی بلا خوف و خطر اپنے مسائل بیان کرنے میں آزاد ہے، اس آزادی کے ذریعے آزاد کشمیر کے  نوجوان مسلسل جدیدتعلیم اور شعور کی  نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کا عدالتی نظام بھی یہاں کے عوام کے نزدیک معتبر ہے۔ آزاد کشمیر کا اپنا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ موجود ہے، جہاں شہری آئینی تحفظ کا مطالبہ کرتے نظر آتےہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آئینی تحفظات 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے ساتھ ہی  مکمل طور پر دفن ہو چکے ہیں۔میڈیا کی آزادی کا حال بھی دونوں طرف مختلف ہے۔ آزاد کشمیر میں اگرچہ تنقید کی حدیں موجود ہیں، لیکن صحافیوں کو غائب نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی ان پر انسداد دہشت گردی جیسے سخت قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، جیسا کہ مقبوضہ کشمیر میں عام ہے۔
سول سوسائٹی کا کردار آزاد کشمیر میں بہت تسلّی بخش ہے۔ مقامی و بین الاقوامی NGOs، تعلیمی اور فلاحی تنظیمیں، اور کمیونٹی گروپس تعلیم، صحت اور انسانی حقوق پر کام کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایسے اداروں کو یا تو بند کر دیا گیا ہے یا ان پر ایسی کڑی نگرانی مسلط ہے کہ وہ بے جان ہو چکے ہیں۔
آزاد کشمیر میں  رواداری نیز مذہبی اور ثقافتی آزادی بھی موجود ہے۔ اگرچہ ماضی میں مجاہدین کے جتھے بنا کر عام آدمی کی زندگی  کو خطرے میں ڈال دیا گیا تھا، اس کے علاوہ عباسپور اور مظفرآباد میں کالعدم تنظیموں کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ و قتل و غارت کی کارروائیاں بھی کی گئیں  تاہم اس کے باوجود  مساجد آباد ہیں، مذہبی تہوار بغیر کرفیو کے منائے جا تے ہیں، اور کشمیری زبانوں، خاص طور پر پہاڑی، گوجری اور کشمیری کو عوامی سطح پر بولنے پر کوئی قدغن نہیں۔
لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف تعلیم کی صورتحال بھی مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسکولوں پر تالے، طلبا پر تشدد، اور اساتذہ کی گرفتاریاں ایک المیہ بن چکی ہیں۔ آزاد کشمیر میں، باوجود انتظامی مسائل کے، تعلیمی ادارے  بہترین انداز میں چل رہے ہیں اور نوجوان نسل تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول ہے۔
اسی طرح  آزاد کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور منظم عسکری جبر جیسی وہ ہولناکیاں موجود نہیں جن کا سامنا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ آزاد کشمیر میں آزادی کی صورتحال تسلّی بخش ہے تاہم  اس کے باوجود  حکومت پاکستان اور آزادکشمیر حکومت کو کچھ نکات کی طرف فوری توجہ دینی چاہیے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی اپنی سیاسی ساکھ کافی خراب ہو چکی ہے اور اس کے اثرات آزادکشمیر میں بھی قابلِ مشاہدہ ہیں۔ پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی سیاسی  وڈیروں کی مداخلت، اقتدار پر مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری، اور مقتدر برادریوں کی دھونس ایک عام سی بات  ہے۔ اس سب کے باوجود آزاد کشمیر میں سکھ کا  سانس لینے،  انسانی حقوق کی علمبرداری،ہر فورم پر  سچ بولنے، معیاری تعلیم حاصل کرنے، اور نقل و حرکت کی جو آزادی موجود ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔
بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے خطے کی آبادیاتی، ثقافتی اور سیاسی ساخت کو  بتدریج بدلنے کی کوشش مسلسل جا رہی ہے۔بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں آئینی حیثیت کی منسوخی اور نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ کے بعد ریاستی پالیسی نے واضح طور پر آبادیاتی تبدیلی کو ریاستی ہدف بنا لیا ہے۔ لاکھوں غیر مقامی افراد کو بھارت سے لا کر  کشمیر میں بسانے کی پالیسی اور مقامی مسلم اکثریت کی زمینوں، ملازمتوں اور شہریت کے حقوق پر قدغن دراصل اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان دنوں یہ اقدام ایک منظم عمل کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد صرف سیاسی قبضہ نہیں بلکہ ثقافتی اور تہذیبی تسلط بھی ہے۔
مقبوضہ  کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریوں، ماورائے عدالت کارروائیوں، اور میڈیا کی سنسرشپ سے واضح ہے کہ بھارت کی ریاست اب اس خطے کو جغرافیائی وحدت کے بجائے ہندوتوا کے قومی بیانیے کو نافذ کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
تاہم یہ کشمیریوں کیلئے آزاد کشمیر میں بھی کچھ تشویشناک تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، میں بھی سیاسی، انتظامی اور آبادیاتی سطح پر ایسے اقدامات دیکھنے کو ملتے ہیں جو کشمیری شناخت اور کشمیری تہذیب و ثقافت سے متصادم ہیں۔ آزاد کشمیر میں غیر ریاستی افراد کو زمینوں کی فروخت، شناختی کارڈز کا اجرا، اور مقامی صنعت و حرفت کو تعلیمی و سرکاری ڈھانچوں سے نکال دینے کی پالیسیاں ایک ایسے خاموش مگر باقاعدہ منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جس کا مقصد اس خطے کو مکمل طور پر مرکزی ریاستی کنٹرول کے تابع بنانا ہے۔
یہ عمل صرف آبادیاتی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا بھی ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نظریاتی سیاست کا زوال، کلائنٹ پترونج  (Client-Patronage) ﴿سیاسی طاقت یا اثرورسوخ رکھنے والے افراد  اپنے سہولتکاروں کو ذاتی فوائد، مراعات اور وسائل فراہم کرتے ہیں،مثلاً نوکریاں، سرکاری ٹھیکے یا پروٹوکول وغیرہ اور بدلے میں ان سے سیاسی وفاداری، ووٹ یا حمایت حاصل کرتے ہیں﴾کی سیاست کا فروغ، اور مقتدرہ کے منظورِ نظر افراد کی حکمرانی نے جمہوری  شعور کو محدود کر دیا ہے۔ ایسے میں جو بھی آواز حقِ خودارادیت، شفاف حکمرانی یا  عوامی حقوق کیلئے بلند ہوتی ہے اس پر کان دھرنے کے بجائے  اسے ریاست مخالف  کہہ دیا جاتا ہے۔ یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارت اختیار کرتا ہے، اور یہی انداز آزاد کشمیر کے حکمران بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی، اور میڈیا کو ریاستی مفادات کے بجائے حکمرانوں کے مفادات  بیان کرنے تک محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ عمل صرف عوامی شناخت یا  برادریوں کی سیاست تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور وسائل کے استحصال کی صورت میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بینکاری، سرمایہ کاری،  پن بجلی، معدنیات، اور سیاحت کے منصوبوں پر غیر مقامی یا وفاقی اداروں کا قبضہ اور مقامی آبادی کو مشاورت یا شراکت سے محروم رکھنا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمرانوں کی مفاد پرستی  نے ان علاقوں کے عوام  کو محض مزدور بنا دیا ہے  نہ کہ سیاسی اور معاشی شراکت دار۔
آزاد کشمیر کے عام لوگوں کی جانب سے کبھی کبھار اس بارے میں جو ردّعمل سامنے آتا ہے  وہ نہایت سطحی اور غیر مؤثر ہوتاہے۔ آزاد کشمیر میں رائج برادریوں کا سیاسی  نظام صرف طاقتور سیاسی گھرانوں  کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے، نہ کہ مقامی و پسماندہ  لوگوں و  برادریوں  کے حقوق کی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حالات میں کشمیری عوام کے اندر ایک نیا سیاسی شعور ابھر رہا ہے، جو مساوات کی بنیاد پر  سارے  کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیر کے دونوں جانب کے حکومتی ڈھانچے ایسے افراد پر مشتمل ہیں جو اپنے اپنے خاندانوں کے  مفادات کے محافظ ہیں اور کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں سے کوسوں دور ہیں۔
اس پورے سیاسی منظرنامے میں جو پہلو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ آبادیاتی ساخت کی تبدیلی ہے۔ چاہے وہ بھارت کے تحت غیر کشمیریوں کو بسانے کی صورت میں ہو یا پاکستان کے تحت غیر ریاستی لوگوں کی تعداد کو بڑھا کر مقامی آبادی کو تعداد و تجارت ، ملازمتوں و سیاسی حوالے سے سے  کمزور کرنا ہے۔ آبادی کے تناسب میں یہ تبدیلی  ایک ایسے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی وجود کو مٹانے کی کوشش ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ کشمیری زبانیں، رسم و رواج، رہن سہن، اور قدرتی وسائل اب بتدریج معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ آج یہ خطرہ جتنا مقبوضہ کشمیر کو لاحق ہے اتنا ہی آزاد کشمیر کو بھی۔
ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ کشمیر کا تنازع اب محض جغرافیائی حدود یا ریاستی بالادستی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قوم کے تاریخی وجود، اس کی تہذیبی بقا، سیاسی خودمختاری، اور انسانی حقوق کی جدوجہد کا مسئلہ ہے۔ آزاد کشمیر میں موجود غیر ریاستی  سہولتکار عناصر یہ نہیں چاہتے کہ  کشمیری عوام کو  قومی دھارے میں رکھا جائے، اور کشمیریوں کی قومی  شناخت، اور حقِ خودارادیت کو بنیاد بنا کر پاکستان و آزاد کشمیر کے درمیان جدید تعلقات کو فروغ دیا جائے۔ سہولتکاروں کو صرف  اپنے مفادات سے غرض ہے ، انہیں پاکستان یا آزاد کشمیر سے یا آزاد کشمیر کی تبدیل ہوتی ڈیموگرافی سے  کوئی مطلب نہیں۔
Threats to the Demography of Azad Kashmir

پیر، 11 اگست، 2025

The condition of various underprivileged communities of Fatahpur Thakiala.فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال

فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

پی ڈی ایف ڈاون لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

بسم اللہ الرحمن الرّحیم

فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

راقِم    میجر﴿ر﴾گل  اختر جنجوعہ ولد غلام حسین جنجوعہ مرحوم و مغفور کی مختلف ذرائع سے حاصل شدہ تحقیقی معلومات۔ مزید برآں " تاریخ اقومِ پونچھ  مصنّف محمّد الدّین فوق تشکیلِ نو محمد بابر جاوید  ﴿ایم اے تاریخ﴾ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انتساب!

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کہ جنہوں نے ذات پات کے سارے فرق ختم کر دئیے

 فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

مصنّف: میجر﴿ر﴾گل  اختر جنجوعہ

نظر ثانی: ڈاکٹر نذر حافی

اشاعتِ اوّل: نومبر ۲۰۲۵

ناشر: وائس آف نیشن ریسرچ کمیونٹی

آنلائن ورژن و  فیڈ بیک دینے کیلئے کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔

 دیباچہ

راقِم   کو   15فروری 1977ء سے 15دسمبر  1997 تک   یعنی دو دہائیوں کے لگ بھگ اپنے منصبی فرائض کے دوران خطۂ پونچھ و کوٹلی کے سرحدی مواضعات میں رہنے اور عوام کے درمیان زندگی بسر کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہوا۔ ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے دیہات دواراندی، تیتری نوٹ، بٹل، سہڑہ اور اسی طرح ضلع کوٹلی کی تحصیل فتح پور تھکیالہ کے مواضعات  راج محل، جندروٹ، ڈبسی، موہڑہ دھروتی، اولی، کریلہ  علاوہ ازیں تحصیل کھوئیرٹہ کے علاقے متھرانی، پھلنی نندی سوہانہ، کٹہڑہ ، چتر، ٹائیں اور گاہی میں لائن آف کنٹرول  پر اور لائن آف کنٹرول سے  نزدیکی فاصلوں پر  آباد مختلف پیشہ ور اقوام  کے چیدہ چیدہ کئی افراد سے  فرداً فرداً  ملاقات کے مواقع میسّر آئے، جن سے ان پیشہ ور اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز سلوک پر  ایک سیر حاصل گفتگو کا تبادلہ ہوا۔

مختلف پیشہ ور طبقات سے بالمشافہ ملاقاتوں اور روزمرہ میل جول کے دوران میں نے اُن دُکھوں اور محرومیوں کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا جو اعداد و شمار میں نہیں  بلکہ دلوں کی دھڑکنوں میں پائی جاتی ہیں۔ راقِم    نے اپنی ملازمت کا تقریبا ۹۵٪ عرصہ انہی مواضعات میں گزارا۔  اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ان اقوام کے ساتھ معاشرتی رویّوں میں جو تحقیر و تفریق پنہاں تھی، وہ محض ظاہری ناانصافی نہ تھی بلکہ ایک نفسیاتی غلامی کا تسلسل تھی۔ انہیں توہین آمیز ناموں سے پکارنا، ان کے طبقاتی وقار کو مجروح کرنا، اور انہیں اپنے برابر کُرسی پر بھی نہ بیٹھنے دینا وغیرہ ۔۔۔ یہ سب زخم تھے جو الفاظ سے نہیں، احساس سے محسوس ہوتے ہیں۔

راقِم   کا بیشتر وقت انہی پہاڑوں، وادیوں اور بستیوں میں گزرا، یہاں کی مٹی سے مانوسیت اور یہاں کے اِنسانوں سے انسیت ایک فطری جذبہ بن گئی۔ مگر اس انسیت کے ساتھ ایک درد بھی جڑا رہا ، دردِ محرومی، دردِ  عدمِ مساوات، اور دردِ بے بسی۔ میں اکثر سوچ میں گم رہتا کہ آخر وہ کون سا جُرم ہے جس کے سبب ان لوگوں کو ان کی اپنی زمین پر اجنبی سمجھا جاتا ہے۔

یہی سوالات رفتہ رفتہ وجدان کا حِصّہ بن گئے، اور یہی اِضطِراب میرے قلم کی روانی کا سبب  بنا۔ اندر ہی اندر سلگتی ہوئی اس آگ نے ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لی  کہ ان مظلوم اِنسانوں کی  روداد تحریر کی جائے تاکہ تاریخ کے صفحات میں سچائی  کی گُونج باقی رہے۔ میرا مقصود صرف رنج و الم کا بیان نہیں بلکہ اس خواب کی تعبیر بھی ہے جو برابری،  عِزّت  اور اِنسانی وقار کی اساس پر کھڑا ہو۔

تھے  مُلک جن کے زیرِ نگیں، صاف مِٹ گئے

تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہرست

دیباچہ 5

سخنِ مُصَنِّف 8

پسماندہ  اقوام کا احوال 12

ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز 18

موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا 20

موہڑہ دھروتی مواضعات 21

حرفِ آخر! 24

۔۔۔۔۔۔۔

 سخنِ مُصَنِّف

زیر نظر دستاویز ﴿ فتح پور تھکیالہ کی پسماندہ اقوام کا احوال﴾ میں راقِم   کی ذاتی دلچسپی اور جُستجو اس امر کی غمّاز ہے کہ راقِم   کا ان متاثرہ اور پس ماندہ اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے متعصّبانہ  اور غیر منصفانہ سوچ و فکر رکھنے والے قبائل اور افراد سے متعلق آئندہ کی نسلوں کو آگاہی دینا اور ِاس کے سدِّ باب  کیلئے غور و فکر کرنا مقصود ہے۔

دستاویزِ ہذا میں رقم بعض معلومات عام قارئین کیلئے چونکا دینے والی ہیں کہ اگر کہیں کسی   ایک فرد نے زمین داری کے علاوہ با عِزّت  گزر و اوقات کیلئے  کوئی اپنا اضافی پیشہ اختیار کیا تھا مثلاً وہ  کپڑا بنُنے کا کام  بھی کرنے لگا تھا تو اُسے بندو بست اراضی میں جو لاہا  لکھ دیا گیا حالانکہ اگر اسطرح  کرنا لازم تھا تو اُسے زمین دار جولاہا کیوں نہ لکھا گیا۔ اس کے علاوہ محمّد الدّین فوق نے نومبر 1934ء میں اپنی کتاب "تاریخ اقوام پونچھ" لکھنا شروع کی۔ جسے پڑھ کر  راقِم   کے ذہن میں اُس دور کے عوام سے متعلق با الخصوص مسلمانوں کے ہاں  مذہبی نالج سے متعلق کمی کے بارے میں کئی شکوک و شہبات نے جنم لیا کیونکہ ابتدائے آفرینش سے تمام انبیاء کی شریعتوں اور مذہب اسلام یعنی سردار الانبیا  حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت مقدسہ تک حلال رزق کمانے سے متعلق واضح ارشادات موجود ہیں لیکن ان تمام کے باوجود رُعُونت پسند اور بالخصوص پِدرم سُلطان بُود کا راگ الاپنے والی اقوام نے  کمین" کام کرنیوالوں کو ذلیل و حقیر سمجھے رکھا ۔

حالانکہ اگر یہ پیشہ ور اقوام نہ ہوں تو نظام عالم تہ و بالا ہو جائے۔ قرآن و احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صاف اور واشگاف الفاظ میں  ثابت ہے کہ جو حِرفت   کار کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ جہنمی ہے قرآن پاک کی صریحاً مخالفت کرتا ہے بلکہ بتایا گیا  ہے کہ انبیاء اور اللہ  تعالیٰ  کےدیگر برگزیدہ بندوں نے اکثر حرفتی کام حلال اور طیّب سمجھ کر کئے ہیں ۔ دستاویز ِ ہذا  کے مقدمے میں ہم اللہ  تعالیٰ ٰ کی کچھ برگزیدہ ہستیوں  کا ذکر  بھی کر دیتے ہیں کہ جو عالمِ اِنسانیت کیلئے بالعموم اور مُسلِم اُمّہ کیلئے با الخصوص نَمُونَۂ عَمَل ہیں۔مثلاً  خُداوَنْدِ مُتَّعال کی طرف سے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو کپڑا بُننے اور پھر کھیتی باڑی کا کام سکھایا اور بتایا گیا، علاوہ ازیں حضرت شیثؑ  بھی کپڑا بنتے تھے، حضرت نوح ؑ تجارت بھی کرتے تھے اور بڑھئی یعنی ترکھان کا کام بھی کرتے تھے ، حضرت ادریس علیہ السلام  خیاطی کا کام کرتے تھے حضرت صالح  ؑ اور حضرت ہود علیہ السلام دکانداری کیا کرتے تھے، حضرت شعیب علیہ السلام چراگاہوں میں مویشی چرایا کرتے تھے،  حضرت موسیٰ علیہ السلام بھیڑیں اور بکریاں چرایا کرتے۔حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنایا کرتے تھے ،حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوری دنیا پر بادشاہت کی اور ہوا بھی اُن کے ماتحت تھی۔

چنانچہ !  اے فرمان الہی اور حکم رسول ؐسے  منہ موڑنے اور سرکشی کرنے  اور اپنے بھائیوں پر ظلم کرنے اور اُن کو صرف اُن کی غریبی کی وجہ سے حقارت کی نظر سے  دیکھنے والو! 

تمہیں کچھ  معلوم ہے کہ وہ اپنے اہل و  عیال کا پیٹ کسی طرح پالتے تھے،  وہ صنعت و حرفت  اور  دستکاری سے کماتے تھے،   برگِ خُرما (کجھور کے پتوں) کے پنکھے اور چٹائیاں بنا کر بیچتے تھے اور اس سے  جو اُجرت ملتی تھی اُس پر ان کا اور ان کے کنبے کا گزارہ ہوتا تھا۔سردارُ الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سالہا سال تک تجارت کرتے اور بکریاں چراتے رہے، بعد ازاں سردارُ الاولیاء مولا علی علیہ السلام اور آئمہ اطہارؑ نے مختلف ذرائع سے رزقِ حلال کما کر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی پرورش کی۔

راقِم   نے دستاویز ہذا میں ان پسماندہ  اقوام  میں پائی جانے والی صلاحیتوں پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے تاکہ ایک عام فہم معاشرے کا فرد ان اقوام کے  اندر پیشے سے لگن اور محنت کے جذبہ سے سرشار ان کی  مثالی اور سبق آموز   جدوجہد  سے آشنا ہو سکے۔ یہ تاریخ ساز لوگ  معاشرتی تفریق اور نفرتوں کے سائے میں دوسری اقوام کے زیر نگیں رہتے ہوئے بھی اپنے مقصد اور مشن سے نہ ہٹے۔ انہیں حالات اور زمانے کے کٹھن اور مشکل ادوار کی فکر دامن گیر نہ ہوئی اور آخر کار یہ  اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ یہ اپنی  آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ  بنے اور اپنے بعد  والوں کیلئے  ایک  انمول اِنسانی ورثہ  چھوڑ گئے  ۔ اسی اِنسانی ورثے کے باعث  آج اُن کی نسلیں معاشرے میں  عِزّت  و  عروج  کے مقام پر سرفراز ہیں  اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی عظیم منزل کی طرف گامزن ہیں جسکی بدولت یہ اقوام ترقی کے ہر میدان میں اگر دوسروں سے آگے نہیں تو پھر پیچھے بھی نہیں ہیں۔

ربِّ زِدنی علما

۔۔۔۔۔۔۔۔ 

پسماندہ  اقوام کا احوال

تحصیل ہیڈ کواٹر نکیال ( فتح پور تھکیالہ﴾  ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کوٹلی سے 37 کلومیٹر مشرق کی جانب سطح سمندر سے تقریبا 4650 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ جس کے شمال میں سنوٹ بالا کوٹ، دو ٹِھلّہ (ٹوپیاں) نارہ موہڑہ ، دھروتی موہڑہ  و دیگر مواضعات و قصبات گِنمب ، چہڑاں ناڑ ملکاں ، ستان بگلہ ، رَمتکہ ، بالا کوٹ مروٹیاں قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ مواضعات میں آباد اقوام میں تھکیال ، ڈومال ،  سادات ،بھٹی ، جنجوعه را جپوت، منها س راجپوت،کھو کھر راجپوت، خواجہ کشمیری ، گھکھڑ ، گوجر، مغل،  سُدھن، پٹھان، اعوان  اور مَنیال راجپوت کا تذکرہ ہے۔ 

علاقہ تھکیالہ میں چند گھر ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اعوان کہتے ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے ہاتھ سے کھیتی باڑی کرنے کے علاوہ کمہاروں کا کاروبار بھی کرتے ہیں لیکن بندوبست والوں نے ان کو  کاغذاتِ مال میں پیشہ کے لحاظ سے کمہار تو لکھ دیا  تاہم کاشتکار اور زمیندار نہ لکھا۔  اس برادری کا ایک شخص جو پشاور میں فوجی ملازم ہے، اس کے مطابق " غریب مسلمان کو سب سے زیادہ نقصان اُن مسلمانوں کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے جو اپنے زعم میں "خاندانی"بنے ہوئے ہیں"۔

اسی طرح  علاقہ تھکیالہ میں باغ علی سکنہ بالاکوٹ اپنی ذات کھوکھر قطب شاہی بتاتا ہے۔ اس کے اسلاف میں ولی محمد خاں نے پارچہ بائی کا کام شروع کر دیالیکن بندوبست والوں نے اس کی اولاد کو جولاہا درج کر رکھا ہے۔ حالانکہ اُس کی اولادکپڑا بُننے  کی وجه سے جولاہا  اور  زمینداری کرنےکی وجہ سے زمیندار تھی ۔ تعجب یہ ہے کہ بندوبست والوں نے اُن کو فقط جولاہا لکھنے کے بجاے  زمیندار جولاہا کیوں نہ لکھ دیا۔ تاہم  باغ علی،شیر محمد و امام دین وغیرہ بڑی جدو جہد کے بعد چیف ریونیو افسر کے ایک حکم 14 جیٹھ 1989 بکرمی کے مطابق آخر کار کھوکھر قرار دئے گئے۔

دھروتی تھکیالہ میں بھی  ایک ایسا ہی کنبہ ہےکہ جس کے فقط چھ گھر ہیں ۔ یہ کنبہ اپنے آپ کو گھکھڑ کہتا ہے لیکن بند و بست والوں نے ان کی ایک نہ سنی ۔ انہوں نے اُس کُنبے کو کاسبی درج کر دیا۔ اس میں کچھ شک  نہیں کہ اس کنبے کے ایک بزرگ " شکرا خان "نے جولاہوں کا کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن وہ  اپنی قومیّت  گھکھڑ ہی بتاتا رہا۔ اس کنبے نے بھی کوشش کر کے 17 کاتک 1989 بِکرمی کے سرکاری حکم کے مطابق آپنے آپ کو گھکھڑتسلیم کرالیا۔

1928 بکرمی ﴿ 1872ء﴾ کے بندوبست کی تشخیصِ اقوام میں ان مواضعات کے لوگوں کو جو   ز راعت   کے علاوہ بافندگی کا کام بھی کیا کرتے تھے انہیں کا سبی لکھا گیا ہے لیکن 1960 بکرمی (1904ء ﴾کے آئینی بند و بست میں ان لوگوں نے بعض مواضعات میں اپنے آپ کو مَلَک لکھوا دیا اور بعض نے مَنیال۔ 

 گویا بافندگی کا لفظ اُڑا دیا جبکہ ڈبسی والوں نے اپنے آپ کو مَلک  مَنہاس اور موہڑہ  والوں نے اپنے آپ کو مَنیال راجپوت لکھوایا ہے  حالانکہ یہ سب لوگ ایک ہی پیشہ سے تعلق رکھتے تھے ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی تک کسی صحیح  مرکز پر نہیں آئے ۔ کسی نے کوئی ذات قائم کرلی اور کسی نے کوئی ۔ اس لحاظ سے تاریخ اقوامِ پونچھ جلد اوّل میں اس کے متعلق ان کے کسی نمائندہ نے اُن کو خوش کرنے کیلئے راجپوت یا ملک کا خطاب عطا کیا ہے وہ بھی صحیح نہیں ۔

تحصیل نکیال کے شمال میں واقع مذکورہ بالا علاقوں میں چونکہ زمین پہاڑی تھی اور پیداوار زیادہ نہیں ہوتی تھی اور ان کی تعداد  روز بروز بڑھ رہی تھی اس لیے ان علاقوں کی اقوام نے  عِزّت  کے ساتھ اپنی گزر اوقات کیلئے  زراعت کے علاوہ بھی مختلف کاروباروں میں حصہ لینا شروع کیا۔کسی نے گھراٹ چلانے کا کام شروع کیا، کسی نے بڑھئی کا  کام، کسی نے کپڑا بُننے کا ، کسی نے لوہار کا ، کسی نے درزی  کا اور کسی نے نائی کا ۔  ان پیشوں کے باوجود بھی زمین داری کا کام سب کیا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ہل چلاتے تھے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا فرمان ہے کہ اَلکاسِبُ حَبِیبُ اللہ : کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ علاوہ ازیں خالقِ کائنات اپنی مقدّس کتاب  قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے﴿رعد۱۱﴾۔

بقول حالی ؎ 

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب   ٹھہرتی   ہے    دیکھئے     جا      کر   نظر      کہاں

۔۔۔۔۔۔۔

جب 1960 بِکرمی کا بندو بست آیا تو اُس زمانے میں جس طرح کمزور، غریب اور ان پڑھ اور زمانہ کے حالات سے بے خبرقوموں نے نقصان اُٹھایا اسی طرح ہوشیار، زمانہ شناس، حکام رس، اور کھاتے پیتے لوگوں ، با الخصوص ان قوموں نے جن میں نمبرداریاں بھی تھیں، انہوں نے  نہ صرف خود خوب  فائدہ  اُٹھایا بلکہ دوسری قوموں کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ وہ  بے چاری اب تک سنبھلنے میں نہیں آتیں اور ان سرمایہ داروں کی خود غرضیوں کی وجہ سے کئی پیشہ ورقومیں جن کی گزر و اوقات کا سب سے زیادہ تر  انحصار صرف اور صرف  زراعت پر ہی  تھا وہ  غیر زراعت پیشہ قرار دی گئیں ۔

1960 بکرمی کے بندو بست اراضی میں مختلف پیشوں سے وابستہ افراد  جوکہ کمزور اور  غریب تھے ، ان کیلئے اُن کے پیشوں کو  بطورِ قوم ذکر کر کے آبادی کے اکثریتی حصّے کو ایک نئی تفریق اور تقسیم سے دو چار کر دیا گیا  جس کی  بازگشت آج تک سنائی دے رہی ہے ۔ یوں ان پیشوں سے متاثرہ خاندانوں نے اپنی  اصل قوم کو کسی اور نام سے تبدیل کر دیا مثلاً‎ ان  علاقوں میں آباد جنجوعہ راجپوت ، منہاس راجپوت اور گھکھڑوں نے اپنے آپ کو مَلک قوم کے طور پر متعارف کرایا ۔ گو کہ اب ان اقوام میں قومی بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنا اصل حسب و نسب یا پہچان کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں بلکہ فخریہ انداز میں اپنی پہچان اپنی اصل قوم کے حوالے سے کرارہے ہیں۔

 اپنے اصل مقام اور پہچان کیلئے ان متاثرہ اقوام کو کئی عرصہ تک عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑے  تب کہیں جا کر یہ اپنے اصل نام و نشان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ظلم اور سماجی ناانصافی کی شکار یہ اقوام بعد ازاں اللہ  تعالیٰ ٰکے فضل و کرم سے اپنے اصل مقام و رُتبہ کو حاصل کرنے میں ایسی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئیں کہ گویا پوری تاریخ عالم اُن کے کارناموں کو رہتی دنیا تک یاد رکھے گی۔ ان اقوام کے عظیم سپوتوں نے اپنے خون سے  ایسی تاریخ رقم کی کہ جس کی ایک چھوٹی سی جھلک  تحریرِ ہذا میں درج زیل اعزازات حاصل کرنے والے شہدا کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے پائندہ و تابندہ رہے گی۔

ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

۔۔۔۔۔۔ 

راقِم  ، تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے اور علمِ تاریخ کا متلاشی ہوتے ہوئے، تحریر ِ ہذا  میں بَرملا اس حقیقت کا اظہار کرنے کی جسارت کرتا ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر آج تک وطنِ عزیز پر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پر کُل گیارہ شہداء کو ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا گیا ہے، جن میں سے سات کا تعلق مختلف راجپوت خاندانوں سے ہے۔ 

ان میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، لانس نائیک محمد محفوظ جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، اور سوار محمد حسین شہید نشانِ حیدر کا تعلق جنجوعہ راجپوت خاندان سے ہے۔علاوہ ازیں، کیپٹن محمد سرور شہید نشانِ حیدر، میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، اور میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر کا تعلق بھٹی راجپوت خاندان سے ہے۔پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا تعلق منہاس راجپوت خاندان سے ہے۔

 اِن تاریخی حقائق کی روشنی کے بعد  اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ راجپوت قبائل جن میں جنجوعہ راجپوت، بھٹی راجپوت، اور منہاس راجپوت سرفہرست ہیں ،اِن کے سپوتوں نے اپنے وطنِ عزیز کے دفاع  اور حفاظت کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اہلِ وطن  اور  اہلِ قبیلہ کے سَر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔ ان کی شجاعت اور بہادری کے یہ کارنامے پاکستان کی تاریخ میں رہتی دنیا تک سنہرے حروف میں لکھے اور یاد رکھے جائیں گے۔ 

قفس میں مُجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

 گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا 

موضع موہڑہ  نارہ میں پِیر سَيِّد باقِر حُسَینؒ شاه صاحب کا آستانہ عالیہ بھی واقع ہے جہاں ہر سال  باقاعدگی سے عُرْس کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ملک کے دور دراز علاقوں سے اُن کے مرید ین خاص عُرْس کی تقریبات میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔  علاوہ ازیں تقسیم برصغیر سے قبل مینڈھر کے پولیس اسٹیشن واقع موہڑہ دھروتی سے  ڈیڑھ میل کے فاصلے  پر  علاقہ زیریں میں موضع موہڑہ ہے۔  یہاں سائیں کملا ؒبادشاہ کا  مقبرہ ہے یہ  مقبرہ پہلے بمقام وِہڑه  واقع مَیرہ میں تھا جو کھنڈیل پہاڑی سے مُتّصِل ہے۔

  آج سے تقریبا  سوا صدی  پیشتر کا ذکر ہے کہ سائیں کملا ؒبادشاہ کی صاحبزادی جو نہائیت عابدہ اور زاہدہ تھیں اور جنہوں  نے تمام عمر شادی نہیں کی تھی ، انہوں نے سائیں صاحب کے غیبی اشارےکے مطابق عدالت سے قانونی مجوَّز ﴿اجازت نامہ﴾لے کر  اُن کی نعش موہڑہ میں منتقل کر دی۔  اُس وقت جب  25 سال کے بعد نعش قبر سے نکالی گئی تو ہر قسم کی آلائش سے پاک تھی،  25 سال کے بعد اُن کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھائی گئی۔ آج اُن کی صاحبزادی کی قبر بھی اُن کے پہلو ہی میں ہے ۔

۔۔۔۔۔ 

موہڑہ دھروتی مواضعات

 رَمتکہ ستان بگلہ :      رَمتکہ ستان بگلہ میں آباد خاندان کھوکھر راجپوت ، جنجوعه راجپوت اور منہاس راجپوت سے تعلق رکھتے تھے اور تھکیال خاندان کے گھر تین چار سے زیادہ نہ تھے ،ستان بگلہ دھروتی میں آباد تمام گھر جنجوعہ خاندان کے تھے،  ان میں ملک محبت خان مرحوم کی اولا دیں محمد حسین اور صوبیدار نیک محمد شامل ہیں،  ستان بگلہ کے چیدہ چیدہ افراد میں شاہ ولی ، علی اکبر ، علی محمد، عبدالکریم ولد ڈاکٹر حسن محمد ﴿ حکومت برطانیہ کے ملازم ﴾اور محمد یعقوب ولد عطا محمد شامل ہیں۔

رَمتکہ دھروتی: رَمتکہ دھروتی میں ملک بہادر علی خان جنجوعہ (مرحوم) موجودہ گرڈ اسٹیشن کوٹلی اور کار پنٹر ملک عبدالحسین مرحوم ولد علم دین جنجوعه موجوده محله بلیاه صادق آباد چوک کے علا وہ چند ایک گھر جنجوعہ خاندان کے تھے ، باقی تمام کا تعلق منہاس راجپوت اور کھو کھر راجپوت سے تھا ۔ملک بہادر علی،  ملک عبدالحسین جنجوعہ کے حقیقی ماموں تھے۔ ملک عبدالحسین کا ر پنٹر نے مورخہ 12 فروری 2017 ء بروز اتوار تقریباً 80 برس کی عمر میں وفات پائی جن کا مدفن کو ٹلی بلیاہ قبرستان میں ہے۔ چند منہاس راجپوت جن کا تعلق رَمتکہ دھروتی سے تھا  ان میں سے میر محمد ، سید محمد،  فتح محمد ، محمد اسماعیل اور میر علی وغیرہ زیاد مشہور تھے۔

 اِس کے علاوہ  رَمتکہ کے کھو کھر راجپوت مند و خان، شاہ محمد، سخی محمد، لال خان، بشیر خان اور مندی خان وغیرہ تھے۔ رَمتکہ میں تھکیال برادری کے دو تین گھر تھے لیکن نمبرداری تھکیال قبیلے کے پاس تھی۔ رَمتکہ کا نمبردار شیر خان تھا جس کے کزن کا نام شیر محمد تھا ۔

رَمتکہ دھروتی کا ایک خونی واقعہ

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران رَمتکہ دھروتی میں انڈین آرمی کے ہاتھوں ایک بہت بڑا خونی واقع پیش آیا۔ ایک تحقیق کے مطابق اس واقع میں 70 کے لگ بھگ افراد کو شہید کر دیا گیا تھا، سفّاک انڈین آرمی نے یہ ہولناک کھیل رات کی تاریکی میں کھیلا۔ رَمتکہ دھروتی کے گھروں میں ہر طرف نعیش بکھری پڑی تھیں اور ہر طرف خون ہی خون تھا ۔

اِس سفّاکی کے واقعہ کے بعد 1971ء اور 1998/99ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران اور بارڈر لائن پر آئے روز کی کشیدگی کے باعث موہڑہ  دھروتی اور بالاکوٹ بارڈر اور دیگر ملحقہ مواضعات میں آباد افراد نے رفتہ رفتہ نقل مکانی شروع کر دی اور  یوں موہڑہ کا لونی ، نکیال ، کوٹلی،  میر پور گجرانوالہ اور دیگر مختلف علاقوں میں مستقل بنیادوں پر آباد ہو کر اپنی آئندہ کی  نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ۔

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں۔۔۔پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی  

حرفِ آخر!

تعلیماتِ نبوی ﷺ نے اِنسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب اِنسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں، نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت اور  نہ کسی گورے کو کالے پر اور  فضیلت صرف تقویٰ میں ہے۔ یہی وہ صدائے عدل تھی جس نے اِنسانیت کے بکھرے قافلے کو ایک منزل دی۔ یہ مساوات ایک ازلی منطق ہے، اس کے مطابق  اگر خالق ایک ہے تو مخلوق میں امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو دماغ اس منطق کو سمجھ لیتا ہے، وہ کسی کو کمتر نہیں سمجھتا، اور جو دل اس سے غافل ہو، وہ خود شرفِ  اِنسانیت سے کوسوں دور  رہتا ہے۔

راقِم   نے اِس کتاب میں جن اقوام، علاقوں اور کرداروں کا ذکر کیا ہے، وہ اسی عدمِ مساوات کے خاموش مگر جیتے جاگتے گواہ ہیں۔ یہ چند اوراق میرے تجربے کا ماحصل ہیں، ان کا مقصود ماضی کا نوحہ سنانا نہیں، مستقبل کی راہ  دکھاناہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں اِنسان ، اِنسان کو حقیر نہ سمجھے۔  پس یہ حرفِ آخر درحقیقت ایک نئی صبح کیلئے  آغازِ فکر ہے ۔ ایک  ایسی فکر کا آغاز  کہ  ایک دن ہر  اِنسان، اللہ کے آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کے فیض سے خود اپنی ذات اور دوسروں  کا احترام کرنا  سیکھ لے گا ۔ یہی اِنسانیت کی معراج ہے : "اَلنَّاسُ سَوَاءٌ كَأَسْنَانِ الْمُشْطِ" سب اِنسان برابر ہیں، جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں۔﴿ یہ تشبیہ عربی بلاغت کی خوبصورت مثال ہے، جس میں انسانی مساوات کو نہایت سادہ مگر گہرے استعارے سے واضح کیا گیا ہے۔ ﴾

﴿یہ تحریر راقِم   نے مورخہ 13 مارچ 2024ء بروز بدھ بمطابق 2 رمضان المبارک 1445ھ کو مکمل کی ﴾



میرعالم قریشی ؒ فتح پور تھکیالہ

میر عالم  قریشی  ؒ  ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کے خاندان کی  مختصر تفصیلات
﴿ضلع کوٹلی آزاد کشمیر آمد اور بعد کے حالات کا اجمالی جائزہ ﴾
 
و ہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
بس کمی ہے تو اُس شخص کی جو تہہِ مزار چلا گیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست
دیباچہ 4
ضلع کوٹلی آمد اور بعد کے حالات 6
میر عالم  قریشی  ؒ  کے گھر   سے راقِم کی  جُڑی یادیں 13
اِس علاقے میں راقِم کی تعیّناتی 15
شجرہ نسب میر عالم قریشیؒ 18
محمد اسماعیل قریشی شہید کا احوال 19
فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی  کا تذکرہ 23
محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کا احوال 25
حرفِ آخر! 31
مشخصاتِ کتاب
میر عالم  قریشی  ؒ  ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کے خاندان کی  مختصر تفصیلات
﴿ضلع کوٹلی آزاد کشمیر آمد اور بعد کے حالات کا اجمالی جائزہ ﴾
مصنّف : میجر﴿ ر﴾ گُل اختر جنجوعہ
نظر ثانی: ڈاکٹر نذر حافی
ناشر: وائس آف نیشن ریسرچ کمیونٹی
آنلائن ورژن کیلئے کلک کریں
دیگر مطبوعات:
1. تجدید مذہب و اسباب و علل
2. حوالدار محمد حسین مرحوم
3. میر عالم قریشی مرحوم
4. فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال
دیباچہ
وہی بزم ہے، وہی دھوم ہے، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
بس کمی ہے تو اُس شخص کی جو تہہِ مزار چلا گیا
یہ تحریر یادوں کی وہ امانت ہے جو وقت نے راقِم کے سپرد کی۔ یہ آپ بیتی ایک فرد کی سرگزشت نہیں بلکہ یہ ایک ہجرت کی روداد ، ایک نسل کی جدوجہد اور ایک عہد کی صداقت کی تاریخ ہے۔ 
میر عالم قریشیؒ اور ان کے خانوادے کا ذکر نسب سے زیادہ نصیب کا ذکر ہے، اور یہ رشتوں سے بڑھ کر انسانیّت کا نوحہ ہے۔ فتح پور تھکیالہ اور سنوٹ بالاکوٹ کی وہ مٹی، جس نے اس خاندان کے قدموں کے نشان بھی سنبھالے اور ان کے خون کی خوشبو بھی، اس داستان کی خاموش گواہ ہے۔ ہجرت کی دُھول، سرحد کی لکیر، توپوں کی گونج اور گولیوں کی سنسناہٹ، یہ سب اس خاندان کے مقدّر کا حصّہ بنا، مگر حوصلے  بلند رہے۔
راقِم نے یہ سطور کسی بیرونی ناظر کی طرح رقم نہیں کیں  بلکہ یہ سطور  ایک مہاجر بچے کی لرزتی ہوئی سانسوں، ایک سپاہی کی باوردی ذمہ داری اور ایک عمر رسیدہ دل کی روداد ہیں۔ جو بچہ کبھی رات کی تاریکی میں دشمنوں سے ڈرتا تھا، وہی بعد ازاں گردشِ ایّام  کے باعث  اسی دھرتی کے دفاع پر مامور ہوا۔ یہ تقدیر اور نصیب  کی وہ عبارت ہے جو لوحِ محفوظ پر خون، دعا اور مٹی  کی محبّت سے لکھی گئی تھی۔
اس کتاب میں شہادت کا ذکر ہے مگر نعرہ نہیں، دکھ کا بیان ہے مگر شِکوہ نہیں، ظلم کا حوالہ ہے مگر نفرت نہیں۔ محمد اسماعیل قریشی شہید اور دیگر کردار یہاں  خود ہی اپنی مظلومیّت کے گواہ ہیں۔ یہ تحریر دراصل آنے والی نسلوں کے نام ایک وصیت ہے  تاکہ وہ  یہ جان سکیں کہ ان کی شناخت محض  اُن کا شجرہ نہیں بلکہ کردار  بھی ہے۔ راقِم کی  یہ کوشش ہے کہ بکھری ہوئی یادوں کو  مستقبل کے ساتھ ربط دیا جائے، اس سے پہلے کہ موجودہ نسل  ان یادوں کو گُم کر دے۔
اگر یہ سطور کسی دل میں اپنے  ماضی کا شعور جگا دیں، کسی آنکھ میں عقیدت کی نمی اتار دیں یا کسی ذہن میں ماضی کی روشنی روشن کر دیں، تو راقِم یہی سمجھے گا کہ اس کی یادوں کا قرض ادا ہو گیا۔ یہ دیباچہ نہیں، ایک خاموش دعا ہے۔ ان کے لیے دعا  جو مٹی کی چادر  اوڑھ کر سو گئے، ان کے لیے بھی  جو ابھی زمانے  کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اور ان کے لیے بھی  جو اس تاریخ کے امین بن کر آگے بڑھیں گے۔
 
ضلع کوٹلی آمد اور بعد کے حالات
تُجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایّامِ کُہن
اپنے گمنام خزانوں کو اُٹھا کر رکھ لے
ماؤں کے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے
آج سے تقریبا دو صدی قبل  میر عالم  قریشی  ؒ کے خاندان کا کوئی بزرگ گردشِ زمانہ کا شکار ہو کر دھنّی چکوال ﴿موجودہ پاکستان﴾ سے یہاں سنوٹ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں آباد ہوا۔ برِّصغیر کی تقسیم سے قبل یہ علاقہ تحصیل مینڈھر ضلع پُونچھ کا حِصَّہ شمار ہوتا تھا ۔
14 اگست 1947ء اور 15 اگست 1947ء کو بالترتیب پاکستان اور ہندوستان دو آزاد ریاستیں معرضِ وجود میں آئیں ہندوستان نے اپنی عیّاری اور مکّاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 27 اکتوبر 1947 ء کو گورداس پور کے راستے سے اپنی ظالم افواج کشمیر میں داخل کرکے سرینگر، جھنگڑ، نوشہرہ، جمّوں، راجوری ،مینڈھر اور پُونچھ کے علاقوں پر عملاً قبضہ کر لیا ۔
 خِطّہٴ کشمیر جو کہ ہمیشہ سے ایک آزاد حیثیّت سے جانا جاتا رہا ہے۔ یوں پہلی بار ہندوستان کے زیرِ تسلط آنے سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جھگڑے کی بنیادی وجہ بن کر سامنے آیا۔
  بقول شخصے :۔ یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنّت۔۔۔جنّت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
اسی تنازعہِ کشمیر کی بنیاد پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان47 ء – 1948ء  میں پہلی جنگ کا آغاز ہوا۔ 20 جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں مسلہٴ کشمیر کے حل کیلئے پاس کی گئی قراردادیں جن میں کشمیر میں استصوابِ رائے کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا آج تک ٹوکری  کی ردّی   کے سوا کچھ اور ثابت نہ کر سکیں ۔ بِنا بریں مسئلہِ کشمیر کے حل میں تاخیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چار جنگوں47 ء – 1948ء،  1965, , 1971 ء  اور   199899–ءکی  کارگل کی جنگ کا پیش خیمہ  ثابت ہوئی۔
سنوٹ بالا کوٹ ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کا یہ گاؤں مذکورہ بالا چارہ جنگوں کے دوران انڈین افواج کی بدترین جارحیت کا نشانہ بنتا رہا ۔ نہ جانے کتنی ماؤں کی جھولیاں خالی ہوئیں اور کتنی خواتین کا سہاگ اُجڑا ۔ اور آج تک جُوں کا تُوں ہی ہو رہا ہے ۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک اس گاؤں کے سینکڑوں بچّے،  بوڑھے اور مرد و خواتین ظالم انڈین افواج کے ہاتھوں لُقمہِٴ اَجل بن چکے ہیں جن میں  میر عالم قریشی  ؒ   کا ایک پوتا اور کالا خان قریشی کے فرزند ارجمند محمد اسماعیل قریشی شہید  کا نام ِنامی سر ِفہرست ہے ۔
پہنچ ہی جائے گا منزل پہ یہ کارواں آخِر۔۔۔ تمہارے خوں سے مہکے گا گلستان آخِر
تا حال خِطّہ کشمیر کا پائیدار اور مستقل حل نہ ہو نیکی وجہ سے کشمیر میں ہندوستان کی ظالم وجابر افواج کے ظلم و بربریت کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ،کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے یقیناً کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ گو کہ میر عالم قریشی  ؒ  تقسیم برصغیر سے کئی برس قبل اور کالا خان قریشی بھی 1947ء کی جنگ سے پہلے ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے تھے تاہم اُن کی اولادیں انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہوتے ہوئے اپنے پیارے وطن سنوٹ بالاکوٹ کی پیاری مٹی سے اپنا رشتہ محبت نبھاتی رہیں ۔یہ مظلوم قریشی خاندان بھارتی مظالم کا مقابلہ بڑی پامردی اور بہادری سے کرتا رہا۔
  تقسیم برِّ صغیر کے نتیجے میں اور ہندوستانی افواج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے یہ قریشی خاندان مقیم سنوٹ بالاکوٹ انڈین مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی افواج کی دفاعی پوزیشنوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے سخت مشکل حالات سے دوچار  رہا۔
1956ء میں پاکستان کے پہلے آئین کی روشنی میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سیس فائیر لائین اور بعد ازاں 1973ء میں متعیّن کی گئی ۔
(LOC) لائین آف کنٹرول اس قریشی خاندان کے گھروں کے نزدیک سے کھینچی گئی ۔ جس سے ان کے مسائل اور مصائب میں مزید خاصا اضافہ ہوا۔ اور یوں انڈین آرمی کی جارحیت کا خطرہ ہر وقت ان کے سروں پر منڈ لانے لگا۔ اس طرح ایک نئی بے یقینی کی کیفیت نے جنم لیا ۔
  اس قریشی خاندان کے واقع گھروں کے نزدیک اُوپر شمال کی جانب  رِج لائین کے ایک طویل سلسلے  پر پانماں اور مشرق کی جانب سٹالی چیڑھ ، یسونی ، ڈبی اور پیر سَیِّد فاضل شاہ پہاڑی پر ہندوستانی افواج کی دفاعی پوزیشنیں تھیں جبکہ شمال مغرب کی جانب بالاکوٹ، دو ٹِھلہ ،﴿ٹوپیاں﴾، دھروتی موہڑہ کے علاقے پر پاکستانی افواج کی دفاعی پوزیشنیں واقع تھیں۔
 گویا کہ قریشی خاندان کے گھر دونوں ممالک پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے تھے اور آئے دن کی فائرنگ اور گولہ باری سے انتہائی مشکلات سے دوچار رہتے تھے۔
 میر عالم  قریشی  ؒ  کے گھر   سے راقِم کی  جُڑی یادیں
راقِم تحریر ہذا میں اس واقعہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جب راقِم کی عمر پونے آٹھ سال تھی  اور  اڑی مینڈھر مقبوضہ کشمیر سے دور انِ ہجرت کانڈھی، چیتری، کوٹاں  اور بھروٹ  سے ہوتے ہوئے رات کی تاریکی میں اپنے خاندان اور چند دیگر ہجرت کر نیوالے خاندانوں کے قافلے کے ہمراہ کَھلا دَرَمَّن کے مقام سے انڈین پوسٹوں کے عین وسط سے بارڈر لائین عبور کر کے سنوٹ بالاکوٹ میں واقع  میر عالم  قریشی  ؒ  کے گھر پہنچے تھے،   مذکورہ  قریشی خاندان کے ساتھ راقِم کے تایا زاد بھائیوں کی رشتہ داریاں تھیں  لہذا یہاں دو رات اور ایک دن قیام کیا گیا۔
 اس دوران دونوں اطراف کی افواج ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری کرتے سنائی دیں ۔ والدین ہمیں گھر سے باہر دشمن کے سامنے نہ نکلنے کی تلقین کرتے اور ساتھ ہی یہ خوف بھی دلاتے  کہ  اگر  تم کافروں  کے سامنے نمودار ہوئے تو کافر گولی کا نشانہ بنائیں گے۔
   یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ انڈین آرمی کیلئے لفظ کافر کی اِصطلاح استعمال کی جاتی تھی اور اس کافر کا خوف اور ڈر ہر وقت ہمارے دل اور دماغ پر حاوی رہتا تھا۔ اسی اَثْناءمیں  رات کے دوران راقِم نے پاکستانی افواج کے جوانوں کو ایریا میں گشت کرتے بھی دیکھا وہ واقعہ آج  بھی  دماغ   پر اُسی طرح ثبت ہے۔
اِس علاقے میں راقِم کی تعیّناتی 
 فوجی تربیّت مکمل کرنے کے بعد راقِم کو  اکتوبر 1977ء میں بالاکوٹ دو ٹِھلّہ (ٹوپیاں) اور دھروتی موہڑہ  کے بارڈر پر اپنے فرائضِ منصبی انجام دینے کا سنہری موقع میسّر آیا ۔ 
 خداوندِ مُتّعَال نے راقِم کی زندگی ہی میں یہ سُہانا  خواب پورا کیا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران اڑی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والا بچّہ اس علاقے کا دفاع کرنے پر مامور ہوا۔  
یہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کا ایک بہت بڑا احسان تھا اور آج زندگی کے آخری اَیّام میں جب راقِم کی عمر چھیاسٹھ سال دو ماہ اور گیارہ دن مکمل ہو رہی ہے  تو  راقِم ان واقعات اور حالات کو جو ماضی کا قِصّہٴِ پارینہ بن چکے تھے انہیں ایک تحریری دستاویز کی شکل میں قلم بند کر رہا ہے۔
  اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

شجرہ نسب میر عالم قریشیؒ
  
محمد اسماعیل قریشی شہید کا احوال 
محمد اسماعیل قریشی شہید ،  کالا خان قریشی کے فرزند ارجمند اور فضل حسین قریشی کے چھوٹے بھائی تھے۔شروع ہی سے مزدوری پیشہ تھے ان کی پہلی بیوی کا نام موتیاں بی تھا جو کہ موضع ڈبسی نکیال کی رہنے  والی تھیں جس سے محمد اسماعیل قریشی شہید کو خداوند متعال نے دو بیٹے محمد ایوب ، محمد یونس اور ایک بیٹی دل جان بیگم عطا کئے۔ دل جان بیگم کی شادی 1962/63 ء کو موضع اڑی  بساں تحصیل مینڈھر مقبوضہ کشمیر کے میر حسین ولد سیدا  خان قوم جنجوعه را جپوت سے انجام پائی۔ 
 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میر حسین ولد سیدا خان کا خاندان اڑی مینڈھر سے ہجرت کر کے میر پور آزاد کشمیر پنڈی سبھروال  ﴿میری) کے مقام پر آباد ہوا ۔ میر حسین کو اللہ تعالیٰنے دل جان بیگم سے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں عطا کیں ۔ بعد ازاں میر حسین ولد سیدا خان 24 مارچ 1979 ء کو طبعی موت اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور پنڈی سبھروال قبرستان کو اپنا ابدی ٹھکانا بنایا۔ یوں پسماندگان میں ایک بیوہ،  دو بیٹیاں اور چار بیٹے سوگوار چھوڑ گئے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
بیوہ دل جان بیگم کی دوسری شادی موضع لنجوٹ ڈبسی کے ملک کرامت اللہ نامی شخص کے ساتھ  ہوئی جو کہ میر پور بن خُرماں کے مقام پر رہائش پذیر تھے۔ چند سال قبل دل جان بیگم بھی طبعی موت کی شکار ہوئیں اور  اُن کی قبر بھی پنڈی سبھرّ وال قبرستان میں ہے۔
  دل جان بیگم سے ملک کرامت اللہ کی کوئی اولاد نہ تھی، محمد ایوب قریشی سے متعلق آگے تحریر میں تفصیلاً ذکر ہوگا جبکہ محمد یونس قریشی اور اُن کی اولادوں کا تذکرہ اُن کے شجرہ میں کیا جا چکا ہے۔دورانِ مزدوری راولپنڈی گندم منڈی میں محمد اسماعیل قریشی کا گندم منڈی کے نزد چو بارے میں مقیم ایک مُطلقہ بال بچوں والی عورت گلاب بی بی سےکسی طرح شادی ہو گئی۔
 محمد اسماعیل قریشی کی پہلی بیوی موتیاں بی بی معہ بال بچوں کے سنوٹ بالا کوٹ اپنے آبائی گھر میں بحیات موجود تھیں۔  اس  طرح  راولپنڈی میں محمد اسماعیل  قریشی  کی  دوسری  شادی   گلاب  بی بی سے انجام پائی۔
 اس خاتون کا اپنا آبائی علاقہ حافظ  آباد گجر انوالہ تھا۔محمد اسماعیل قریشی اس دوسری بیوی کے ہمراہ کراچی چلے گئے۔ گلاب بی بی کی دوسرے خاوند کی اولادیں واپس اپنے علاقے گجرانوالہ چلی گئیں ۔
 گلاب بی بی سے ازدواجی عرصہ کے دوران محمد اسماعیل قریشی کو اللہ تعالی ٰنے  ایک بیٹی صابربی عطاکی۔تقریباً عرصہ 18 سال کراچی میں گزارنے کے بعد محمد اسماعیل قریشی اچانک شدید علیل ہو گئے ۔ گلاب بی بی نے کوشش بسیار کے بعد سنوٹ بالاکوٹ میں رہائش پذیرموصوف کی بیوی موتیاں بی اور بچوں سے رابطہ کیا اور انہیں محمد اسماعیل قریشی کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق آگاہ کیا ۔ اسی کے ساتھ ہی محمد اسماعیل قریشی نے کراچی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا اور سنوٹ بالاکوٹ کیلئے واپسی کا رختِ سفر باندھا۔
  یوں محمد اسماعیل قریشی اپنی دوسری بیوی گلاب بی بی اور بیٹی صابربی کے ہمراہ کراچی سے واپس نکیال سنوٹ بالا کوٹ آگئے اور اپنی دونوں بیویوں کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں میں زیست فانی کے دن بسر کرنے لگے۔
بلا شبہ موت برحق ہے اور ہرزی روح نے کسی نہ کسی بہانے اس دارِ فانی کو  چھوڑنا ہوتا ہے۔آخر کار وہ وقت آن پہنچا کہ 1969ء کو سنوٹ بالاکوٹ کے مقام پرجبکہ محمد اسماعیل قریشی  اپنے مال مویشی کے ہمراہ اپنے مکان سے باہرنزدیکی فاصلے پر تھے کہ مکان کے نزدیک واقع انڈین آرمی کی گھات لگائے پیٹرول نے اُن پر فائرنگ کر دی۔  جس کے نتیجے  میں محمد اسماعیل قریشی موقع پر ہی شہادت کا جام نوش فرما گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
خدا تیری قبر کو روشن کرے نو رِ جنّت سے۔۔۔جنّت تجھے نصیب ہو شفاعتِ محمدؐ سے
اس کے ساتھ ہی محمد اسماعیل قریشی شہید کی دنیاوی زندگی کا چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہو گیا اور سنوٹ بالا کوٹ کے مقام پر آسودۂ خاک ہوئے ۔ محمد اسماعیل قریشی شہید کی شہادت سے دو سال قبل ہی گلاب بی بی  اپنے سابقہ شوہر کے بچوں کے پاس حافظ آباد  گجرانوالہ چلی گئی تھیں اور بعد ازاں وہیں پر وفات پاگئیں۔ 
محمد اسماعیل قریشی  کے اِس دل گداز سانحہ کے فورا بعد فضل حسین قریشی  اپنے اور اپنے شہیدبھائی کے بچوں کے ہمراہ سنوٹ بالاکوٹ سے ہجرت کر کے  درلیّاہ جٹاں اور پھر وہاں سے میر پور پنڈی سبھرّوال  نقل مکانی کر آئے۔
 محمد اسماعیل  قریشی شہید کی شہادت کے بعد اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی سنوٹ بالاکوٹ سے ہجرت کے کئی سال  بعد صابر بی دختر محمد اسماعیل قریشی شہید کی شادی جراحی درلیاہ جٹاں کے نذیر حسین کھو کھر سے انجام پائی۔  تادمِ تحریر ہذا دونوں میاں بیوی بحیات معہ  اہل و عیال خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں۔
   فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی  کا تذکرہ
فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی کے سُسر کا نام غلام محمد کھو کھر تھا جو کہ بالا کوٹ سٹالی چیڑھ﴿ کو ٹھی ﴾کے رہنے والے تھے۔ غلام محمد کھو کھر کی درج ذیل 5 بیٹیاں تھیں ۔
ا۔شنا کی زوجہ علم دین کھوکھر
ب - گلابو بیگم زوجہ علم دین جنجوعه ﴿والدہ محمد شریف اور  راجا  لال حسین﴾
ج۔دانی بیگم زوجہ غلام حسین ﴿غلامو﴾
د۔نوراں بیگم زوجہ سیدا خان  جنجوعہ اڑی بساں،  مقبوضہ کشمیر، ﴿حال میرپور پنڈی سبھرّوال﴾
ر۔حسن بی زوجہ فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی میر پورہ پنڈی سبھرّوال
فضل حسین قریشی کی کل چار بیٹیاں تھیں ان کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی۔
بڑی بیٹی سروربی کی شادی سٹا لی چیڑھ بالا کوٹ ﴿کوٹھی) کے باغ حسین کھوکھر سے انجام پائی تھی پھر وہ وفات پاگئیں۔
دوسری بیٹی زہرہ بی بی  کی شادیء1959/60 میں اڑی بساں مینڈھر مقبوضہ کشمیر کے محمد اکبر ولد سیدا خان جنجوعہ کے ساتھ ہوئی ۔ یہ خاندان 1965ء کی پاک بھارت کے دوران اڑی مینڈھر سے ہجرت کر کے میر پور پنڈی  سبھروال (میری) کے مقام پر سکونت پذیر ہوا۔
  زہرہ بی بی سے محمد اکبر کی اولادیں موجود ہیں، زہرہ بی بی 23 اکتوبر 8201ء کو طبعی موت اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔  محمد اکبر ولد سیدا خان زہرہ بی بی سے قبل 22جنوری 1992 ء کو وفات پاچکے تھے اُن کی جائے دفن بھی پنڈی سبھرّوال قبرستان میں ہے۔
رقیہ بی بی زوجہ محمد ایوب قریشی ولد محمد اسماعیل قریشی شہید پنڈی سبھرّ وال (میری ، میں بحیات ہیں﴾رقیّہ بی بی سے محمد ایوب مرحوم کی صرف ایک بیٹی ہے جو کہ شادی شدہ اور صاحبِ اولاد ہے اس کے علاوه  اُن کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے ۔
مقبول بی بی زوجہ محمد یونس﴿  فضل حسین قریشی کی سب چھوٹی بیٹی﴾ نے مورخہ 19 فروری 2022 ء کو پنڈی سبھرّ وال کے مقام پر وفات پائی،  اُن کا مدفن بھی وہیں ہے۔ مقبول بی بی سے محمد یونس کی تین بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں ۔ موصوف فضل حسین قریشی  20 دسمبر 1992ء کو پنڈی  سبھرّوال کے مقام  پر طبعی موت کا شکا ر ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ 

اِنّا لِلہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعُون

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام ِزندگی۔۔۔ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوام زندگی  
محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کا احوال
محمد ایوب قریشی ایک شریف النّفس اور سیدھا سادہ انسان ہونے کے ساتھ ساتھ رزق حلال کے حصول کیلئے ہمیشہ کوشش کرتے رہے اور شروع ہی سے ایک مزدور پیشہ کے طور پر معاشرے  میں اپنی پہچان کرائی ۔موصوف کی پہلی شادی 1965 ء میں اُن کی تایا زاد رقیّه بی بی دختر فضل حسین قریشی سے سنوٹ بالا کوٹ کے مقام پر انجام پا ئی جس سے اللہ تعالیٰ نے محمد ایوب قریشی کو اکلوتی بیٹی رضیہ بی بی سے نوازا۔
 بعد ازاں ء1998–1999 ء میں رضیہ بی بی کی شادی ضلع جھنگ کرو ڑ لیّہ کے ایک نوجوان محمد شریف ولد اللہ بخش قوم ملک سے انجام پائی ۔محمد شریف کو اللہ تعالیٰنے  ان سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کیں۔ تا دمِ تحریر ہذا رضیہ بی بی کروڑ لیّہ  میں ہمراہ اپنے خاندان کے  بخوشی زیست ِ فانی کے دن گزار رہی ہیں۔
 جیسا کہ گزشتہ سطور میں مذکور ہے کہ محمد ایوب قریشی کی اولاد نرینہ نہ ہونے کے باعث موصوف کے دل میں اس کمی کا احساس ہر وقت ایک کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا تھا۔ مہاجر 1965ء سنوٹ بالا کوٹ ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان کی طرف سے ضلع جھنگ تحصیل شورکوٹ میں رکھ بھر یری چک نمبر10 میں محمد ایوب قریشی کو 100 کنال اراضی بھی الاٹ ہوئی تھی،  بسلسلہ الاٹ شدہ اراضی اور جھنگ میں  کروڑ لیّہ میں اپنی اکلوتی بیٹی رضیہ بی بی کی شادی  ہونے کی وجہ سے اُن  کا جھنگ اکثر آنا جانا رہتا تھا ۔  یوں وہ اپنے دل کے دُکھ درد کا اظہار ضلع جھنگ کے اپنے ملاقاتیوں سے کرتے رہے جن میں اولاد نرینہ سے محرومی کا تذکرہ اور دوسری شادی کرنے کی خواہش کو پورا کر نے کی تمنّا کا ذکر بڑی شدّ و مد سے ہوتا رہتا ۔
 آہستہ آہستہ محمد ایوب قریشی کا یہ معاملہ جھنگ ٹو بہ ٹیک سنگھ کے ایک نوسر باز گروہ تک پہنچا۔ جس نے اِس کام کو بڑی مہارت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا آغاز کیا ۔ انہوں نے موصوف کے ساتھ مختلف ذرائع سے روابط قائم کر کے اس سادہ لوح شخص کو اپنے جال میں پھنسا لیا ۔
 محمد ایوب قریشی نے اپنی دوسری شادی سے متعلق اپنی تمام تر سرگرمیوں کو اپنی بیوی رقیّہ بی بی  اور دیگر احباب سے پوشیدہ رکھا۔یعنی مخفیانہ طور پروہ دوسری شادی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مصروفِ عمل رہے،آخر کار دونوں اطراف کی کاوشیں بار آور ثابت ہوئیں اور وہ لمحات آن پہنچے  کہ جن کا محمد ایوب قریشی کو بڑی مدّتوں سے اور بڑی شِدّت سے انتظار تھا۔
 اپریل 2009ء کو جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کی رسومات انجام پائیں۔اِس شادی کے نوسر باز گروہ کے  اہم کرداروں میں بذات خود دُلہن، دلہن کے چچا چچی اور دلّال  شامل تھے ۔
  اس دوسری شادی کی سب سے انوکھی اور خوبصورت کہانی کچھ یوں  تھی کہ دلہا میاں کی پہلی بیوی یا احباب میں سے کوئی بھی فرد شادی کی تقریبات میں مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔اس طرح شادی کے تین چار دن بعد دلہن کے چچا چچی نے دلہا میاں کو اپنا اگلا  پروگرام بتایا کہ محمد ایوب قریشی کے گھر کو دیکھنے کے بعد اپنے رواج کے مطابق جہیز بھی دیں گے۔
محمد ایوب قریشی نے پنڈی سبھرّ وال  میں اپنی پہلی بیوی رقیہ بی بی اور احباب کو اس بدلتی صورت حال سے متعلق آگاہ کیا اور اپنی نئی نویلی دلہن کی آمد اور ولیمے سے متعلق ضروری ہدایات دیں۔ چنانچہ دئیے گئے پروگرام کے مطابق مہمانان گرامی پنڈی سبھروال پہنچے۔ 
پنڈی سبھر وال (میری) کے مقام پر ولیمہ کا اہتمام کیا گیا کہ اسی دوران جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے  دلّال نے فون پر رابطہ کر کے محمد ایوب قریشی کو جھنگ واپس نہ آنے پر زور دیا۔  دلّال کا اِس طرح کرنا ڈرامہ کے سکرپٹ کا حِصَّہ تھا لیکن محمد ایوب قریشی  پہلے ہی دُلہن اور اُس کے چچا چچی کو جھنگ واپسی کیلئے عندیہ دے چکا تھا۔ولیمے کی اس تقریب کے دوران محمد ایوب قریشی نے اپنے احباب سے اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اُسے بیوی بھی مل گئی، باپ بھی مل گیا اور ماں بھی مل گئی ہے۔
 پنڈی سبھرّوال  ایک ہفتہ گزارنے کے بعد یہ حضرات واپس جھنگ تشریف لے گئے ۔جب اپنی منزل کے قریب پہنچے تو دلہن  نے  اپنے چچا چچی سے کہا کہ وہ ناشتے کیلئے کچھ برگر اور سینڈوچ وغیرہ لے کر آتی ہے۔ یوں راستے میں گاڑی سے اُتر گئی ، نام نہاد چچا چچی ہمراہ محمد ایوب قریشی   نزدیک واقع بس اسٹاپ پر اُترے، جب کافی دیر تک دلہن کا انتظار کیا جب  وہ واپس نہ آئی تو  نام نہاد چچا اور چچی نے محمد ایوب قریشی سے کہا کہ وہ  ذرا دلہن کو ڈھونڈ کر لاتے ہیں  شاید وہ  کہیں راستہ بھول گئی ہے۔ یوں   یہ تینوں نوسرباز کردار وہاں  سے رفو چکر ہو گے۔ بہت زیادہ انتظار کے بعد  محمد ایوب قریشی صاحب جب گرتے پڑتے دلہن کے گھر پہنچے تو اُس گھر میں اجنبی خواتین کو پایا ۔
 استفسار کرنے پر ان خواتین نے بڑے غصے سے جوابات دئیے اور معاملے سے اپنی مکمل لا علمی کا اظہار کیا۔یوں یہاں یہ سارا شادی ڈرامہ فلاپ ہوا ، جھنگ سے محمد ایوب قریشی نے بذریعہ فون کروڑ لیّہ میں اپنی بیٹی اور داماد کو اور پنڈی سبھرّ وال میں اپنی بیوی رقیّہ بی بی اور دیگر احباب کو حالات کی سنگینی سے متعلق آگاہ کیا ۔ 
 کروڑلیّہ سے دامادمحمدشریف جھنگ میں موجود محمد ایوب قریشی کے پاس پہنچنے اور باہم ضروری مشاورت کے بعد اس شادی ڈرامہ کے اہم کردار  دلّال  کے پاس پہنچے اور واقعہ سے متعلق تفصیلاً ذکر کیا۔ 
جس کے جواب میں دلّال نے اپنا مختصر فیصلہ سنایا کہ اُس نے  محمد ایوب قریشی کو بر وقت بتایا تھا کہ وہ دلہن کے ساتھ واپس جھنگ نہ آئے لیکن اس نے اسکی بات پر عمل نہیں کیا لہذا اب وہ اِس معاملہ کا کوئی ذمہ دار نہیں ۔ 
دلّال سے یہ مختصر جواب موصول ہونے کے دو دن بعد محمد ایوب قریشی خفت اور مایوسی کے عالم میں میر پور پنڈی سبھرّوال (میری﴾ پہنچے اور اپنی بیوی اور احباب کو اس سارے واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس واقعہ کی مناسبت سے یہ ضرب المثل یہاں بہت صادق آتی ہے :
اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
اس سارے واقعہ کے بعد محمد ایوب قریشی اپنی اس ناکامی اور شرمندگی پر اندر ہی اندر سے جلتے اور کُڑھتے رہے  یہاں تک کہ یہ ساری ، صورتِ حال ایک جان لیوا موذی مرض کی صورت اختیار کر گئی اور اسی غم و کرب کے عالم میں اس شادی ڈرامہ کے تقریبا ًعرصہ ڈیڑھ سال  بعد  مورخہ 8 اکتوبر 2010 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے   اور پنڈی سبھرّ وال قبرستان کو اپنا ابدی ٹھکانا بنایا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا
ہاں مگر نامِ حسینؑ ابن علیؑ رہ جائے گا
 
حرفِ آخر!

زندگی سراسر آزمائش ہے، اور یہی آزمائش انسان کو نکھارتی ہے۔ میرے جیسے ان گنت بچوں نے بچپن میں خوف کے سائے دیکھے، پھر بھی تاریخ کا تجربہ گواہ ہے کہ کسی موڑ پر بھی حالات  انسان کو  مکمل طور پر  شکست نہیں دے سکتے۔ یہی مشکل حالات انسان کو مختلف قسم کے  فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، اور انہی فیصلوں کے اثرات وقت کی حدود سے نکل کر نسل در نسل  منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ہم آج اپنے اجداد کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹ رہے ہیں، اور ہماری آئندہ نسلیں ہمارے آج کے فیصلوں کے نتائج  کا سامنا کریں گی۔
بس ! اب لفظ ادا ہو چکے، معنی منتقل ہو چکے اور امانت حوالے ہو چکی۔ اب یہ روداد قاری کی فکر میں زندہ رہے گی، اس کی تنہائی میں اُس کا ساتھ دے گی، اور اس کی سوچوں میں سفر کرے گی۔ یہی اس تحریر کی زندگی ہے، یہی اس کا حاصل اور یہی اس کا حرفِ آخر۔ 
﴿یہ تحریر راقِم نے مورخہ 13 مارچ 2024ء بروز بدھ بمطابق 2 رمضان المبارک 1445ھ کو مکمل کی ﴾

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...