Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
اتوار، 31 اگست، 2025
جامعۃ الرضا میں بلیک ستمبر اور فلسطین
کالا ستمبر اور سفید خون
جمعہ، 29 اگست، 2025
علم صرف،اسم فعل اور حرف کی تمرین
بدھ، 27 اگست، 2025
نئے تعلیمی سمیسٹر کا پہلا درس اخلاق آج منعقد ہوگا۔ جامعۃ الرضا اسلام اباد
جامعۃ الرضا کے بارے میں ڈاکومنٹری
ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد
جمعرات، 21 اگست، 2025
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کیلئے ٹیسٹ و انٹریو کا مرحلہ مکمل
منگل، 19 اگست، 2025
In August 2025, there will be a test and interview for admission to Jamia-tur-Raza. An online test and interview facility is also available for students from remote areas.اگست ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کے طلبا کیلئے آنلائن ٹیسٹ و انٹرویو کی سہولت بھی موجود ہے۔
پیر، 18 اگست، 2025
جامعۃ االرضا ؑ کے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، جامعۃ المصطفیؐ کے حوالے سے حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری کی بریفنگ
اتوار، 17 اگست، 2025
آزاد کشمیر کی ڈیموگرافی کو لاحق خطرات Threats to the Demography of Azad Kashmir
پیر، 11 اگست، 2025
The condition of various underprivileged communities of Fatahpur Thakiala.فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال
پی ڈی ایف ڈاون لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں
بسم اللہ الرحمن الرّحیم
فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال
راقِم میجر﴿ر﴾گل اختر جنجوعہ ولد غلام حسین جنجوعہ مرحوم و مغفور کی مختلف ذرائع سے حاصل شدہ تحقیقی معلومات۔ مزید برآں " تاریخ اقومِ پونچھ مصنّف محمّد الدّین فوق تشکیلِ نو محمد بابر جاوید ﴿ایم اے تاریخ﴾ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتساب!
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کہ جنہوں نے ذات پات کے سارے فرق ختم کر دئیے
فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال
مصنّف: میجر﴿ر﴾گل اختر جنجوعہ
نظر ثانی: ڈاکٹر نذر حافی
اشاعتِ اوّل: نومبر ۲۰۲۵
ناشر: وائس آف نیشن ریسرچ کمیونٹی
آنلائن ورژن و فیڈ بیک دینے کیلئے کلک کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔
دیباچہ
راقِم کو 15فروری 1977ء سے 15دسمبر 1997 تک یعنی دو دہائیوں کے لگ بھگ اپنے منصبی فرائض کے دوران خطۂ پونچھ و کوٹلی کے سرحدی مواضعات میں رہنے اور عوام کے درمیان زندگی بسر کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہوا۔ ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے دیہات دواراندی، تیتری نوٹ، بٹل، سہڑہ اور اسی طرح ضلع کوٹلی کی تحصیل فتح پور تھکیالہ کے مواضعات راج محل، جندروٹ، ڈبسی، موہڑہ دھروتی، اولی، کریلہ علاوہ ازیں تحصیل کھوئیرٹہ کے علاقے متھرانی، پھلنی نندی سوہانہ، کٹہڑہ ، چتر، ٹائیں اور گاہی میں لائن آف کنٹرول پر اور لائن آف کنٹرول سے نزدیکی فاصلوں پر آباد مختلف پیشہ ور اقوام کے چیدہ چیدہ کئی افراد سے فرداً فرداً ملاقات کے مواقع میسّر آئے، جن سے ان پیشہ ور اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز سلوک پر ایک سیر حاصل گفتگو کا تبادلہ ہوا۔
مختلف پیشہ ور طبقات سے بالمشافہ ملاقاتوں اور روزمرہ میل جول کے دوران میں نے اُن دُکھوں اور محرومیوں کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا جو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ دلوں کی دھڑکنوں میں پائی جاتی ہیں۔ راقِم نے اپنی ملازمت کا تقریبا ۹۵٪ عرصہ انہی مواضعات میں گزارا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ان اقوام کے ساتھ معاشرتی رویّوں میں جو تحقیر و تفریق پنہاں تھی، وہ محض ظاہری ناانصافی نہ تھی بلکہ ایک نفسیاتی غلامی کا تسلسل تھی۔ انہیں توہین آمیز ناموں سے پکارنا، ان کے طبقاتی وقار کو مجروح کرنا، اور انہیں اپنے برابر کُرسی پر بھی نہ بیٹھنے دینا وغیرہ ۔۔۔ یہ سب زخم تھے جو الفاظ سے نہیں، احساس سے محسوس ہوتے ہیں۔
راقِم کا بیشتر وقت انہی پہاڑوں، وادیوں اور بستیوں میں گزرا، یہاں کی مٹی سے مانوسیت اور یہاں کے اِنسانوں سے انسیت ایک فطری جذبہ بن گئی۔ مگر اس انسیت کے ساتھ ایک درد بھی جڑا رہا ، دردِ محرومی، دردِ عدمِ مساوات، اور دردِ بے بسی۔ میں اکثر سوچ میں گم رہتا کہ آخر وہ کون سا جُرم ہے جس کے سبب ان لوگوں کو ان کی اپنی زمین پر اجنبی سمجھا جاتا ہے۔
یہی سوالات رفتہ رفتہ وجدان کا حِصّہ بن گئے، اور یہی اِضطِراب میرے قلم کی روانی کا سبب بنا۔ اندر ہی اندر سلگتی ہوئی اس آگ نے ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لی کہ ان مظلوم اِنسانوں کی روداد تحریر کی جائے تاکہ تاریخ کے صفحات میں سچائی کی گُونج باقی رہے۔ میرا مقصود صرف رنج و الم کا بیان نہیں بلکہ اس خواب کی تعبیر بھی ہے جو برابری، عِزّت اور اِنسانی وقار کی اساس پر کھڑا ہو۔
تھے مُلک جن کے زیرِ نگیں، صاف مِٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہرست
دیباچہ 5
سخنِ مُصَنِّف 8
پسماندہ اقوام کا احوال 12
ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز 18
موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا 20
موہڑہ دھروتی مواضعات 21
حرفِ آخر! 24
۔۔۔۔۔۔۔
سخنِ مُصَنِّف
زیر نظر دستاویز ﴿ فتح پور تھکیالہ کی پسماندہ اقوام کا احوال﴾ میں راقِم کی ذاتی دلچسپی اور جُستجو اس امر کی غمّاز ہے کہ راقِم کا ان متاثرہ اور پس ماندہ اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے متعصّبانہ اور غیر منصفانہ سوچ و فکر رکھنے والے قبائل اور افراد سے متعلق آئندہ کی نسلوں کو آگاہی دینا اور ِاس کے سدِّ باب کیلئے غور و فکر کرنا مقصود ہے۔
دستاویزِ ہذا میں رقم بعض معلومات عام قارئین کیلئے چونکا دینے والی ہیں کہ اگر کہیں کسی ایک فرد نے زمین داری کے علاوہ با عِزّت گزر و اوقات کیلئے کوئی اپنا اضافی پیشہ اختیار کیا تھا مثلاً وہ کپڑا بنُنے کا کام بھی کرنے لگا تھا تو اُسے بندو بست اراضی میں جو لاہا لکھ دیا گیا حالانکہ اگر اسطرح کرنا لازم تھا تو اُسے زمین دار جولاہا کیوں نہ لکھا گیا۔ اس کے علاوہ محمّد الدّین فوق نے نومبر 1934ء میں اپنی کتاب "تاریخ اقوام پونچھ" لکھنا شروع کی۔ جسے پڑھ کر راقِم کے ذہن میں اُس دور کے عوام سے متعلق با الخصوص مسلمانوں کے ہاں مذہبی نالج سے متعلق کمی کے بارے میں کئی شکوک و شہبات نے جنم لیا کیونکہ ابتدائے آفرینش سے تمام انبیاء کی شریعتوں اور مذہب اسلام یعنی سردار الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت مقدسہ تک حلال رزق کمانے سے متعلق واضح ارشادات موجود ہیں لیکن ان تمام کے باوجود رُعُونت پسند اور بالخصوص پِدرم سُلطان بُود کا راگ الاپنے والی اقوام نے کمین" کام کرنیوالوں کو ذلیل و حقیر سمجھے رکھا ۔
حالانکہ اگر یہ پیشہ ور اقوام نہ ہوں تو نظام عالم تہ و بالا ہو جائے۔ قرآن و احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صاف اور واشگاف الفاظ میں ثابت ہے کہ جو حِرفت کار کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ جہنمی ہے قرآن پاک کی صریحاً مخالفت کرتا ہے بلکہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء اور اللہ تعالیٰ کےدیگر برگزیدہ بندوں نے اکثر حرفتی کام حلال اور طیّب سمجھ کر کئے ہیں ۔ دستاویز ِ ہذا کے مقدمے میں ہم اللہ تعالیٰ ٰ کی کچھ برگزیدہ ہستیوں کا ذکر بھی کر دیتے ہیں کہ جو عالمِ اِنسانیت کیلئے بالعموم اور مُسلِم اُمّہ کیلئے با الخصوص نَمُونَۂ عَمَل ہیں۔مثلاً خُداوَنْدِ مُتَّعال کی طرف سے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو کپڑا بُننے اور پھر کھیتی باڑی کا کام سکھایا اور بتایا گیا، علاوہ ازیں حضرت شیثؑ بھی کپڑا بنتے تھے، حضرت نوح ؑ تجارت بھی کرتے تھے اور بڑھئی یعنی ترکھان کا کام بھی کرتے تھے ، حضرت ادریس علیہ السلام خیاطی کا کام کرتے تھے حضرت صالح ؑ اور حضرت ہود علیہ السلام دکانداری کیا کرتے تھے، حضرت شعیب علیہ السلام چراگاہوں میں مویشی چرایا کرتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھیڑیں اور بکریاں چرایا کرتے۔حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنایا کرتے تھے ،حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوری دنیا پر بادشاہت کی اور ہوا بھی اُن کے ماتحت تھی۔
چنانچہ ! اے فرمان الہی اور حکم رسول ؐسے منہ موڑنے اور سرکشی کرنے اور اپنے بھائیوں پر ظلم کرنے اور اُن کو صرف اُن کی غریبی کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھنے والو!
تمہیں کچھ معلوم ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کا پیٹ کسی طرح پالتے تھے، وہ صنعت و حرفت اور دستکاری سے کماتے تھے، برگِ خُرما (کجھور کے پتوں) کے پنکھے اور چٹائیاں بنا کر بیچتے تھے اور اس سے جو اُجرت ملتی تھی اُس پر ان کا اور ان کے کنبے کا گزارہ ہوتا تھا۔سردارُ الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سالہا سال تک تجارت کرتے اور بکریاں چراتے رہے، بعد ازاں سردارُ الاولیاء مولا علی علیہ السلام اور آئمہ اطہارؑ نے مختلف ذرائع سے رزقِ حلال کما کر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی پرورش کی۔
راقِم نے دستاویز ہذا میں ان پسماندہ اقوام میں پائی جانے والی صلاحیتوں پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے تاکہ ایک عام فہم معاشرے کا فرد ان اقوام کے اندر پیشے سے لگن اور محنت کے جذبہ سے سرشار ان کی مثالی اور سبق آموز جدوجہد سے آشنا ہو سکے۔ یہ تاریخ ساز لوگ معاشرتی تفریق اور نفرتوں کے سائے میں دوسری اقوام کے زیر نگیں رہتے ہوئے بھی اپنے مقصد اور مشن سے نہ ہٹے۔ انہیں حالات اور زمانے کے کٹھن اور مشکل ادوار کی فکر دامن گیر نہ ہوئی اور آخر کار یہ اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ یہ اپنی آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ بنے اور اپنے بعد والوں کیلئے ایک انمول اِنسانی ورثہ چھوڑ گئے ۔ اسی اِنسانی ورثے کے باعث آج اُن کی نسلیں معاشرے میں عِزّت و عروج کے مقام پر سرفراز ہیں اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی عظیم منزل کی طرف گامزن ہیں جسکی بدولت یہ اقوام ترقی کے ہر میدان میں اگر دوسروں سے آگے نہیں تو پھر پیچھے بھی نہیں ہیں۔
ربِّ زِدنی علما
۔۔۔۔۔۔۔۔
پسماندہ اقوام کا احوال
تحصیل ہیڈ کواٹر نکیال ( فتح پور تھکیالہ﴾ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کوٹلی سے 37 کلومیٹر مشرق کی جانب سطح سمندر سے تقریبا 4650 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ جس کے شمال میں سنوٹ بالا کوٹ، دو ٹِھلّہ (ٹوپیاں) نارہ موہڑہ ، دھروتی موہڑہ و دیگر مواضعات و قصبات گِنمب ، چہڑاں ناڑ ملکاں ، ستان بگلہ ، رَمتکہ ، بالا کوٹ مروٹیاں قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ مواضعات میں آباد اقوام میں تھکیال ، ڈومال ، سادات ،بھٹی ، جنجوعه را جپوت، منها س راجپوت،کھو کھر راجپوت، خواجہ کشمیری ، گھکھڑ ، گوجر، مغل، سُدھن، پٹھان، اعوان اور مَنیال راجپوت کا تذکرہ ہے۔
علاقہ تھکیالہ میں چند گھر ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اعوان کہتے ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے ہاتھ سے کھیتی باڑی کرنے کے علاوہ کمہاروں کا کاروبار بھی کرتے ہیں لیکن بندوبست والوں نے ان کو کاغذاتِ مال میں پیشہ کے لحاظ سے کمہار تو لکھ دیا تاہم کاشتکار اور زمیندار نہ لکھا۔ اس برادری کا ایک شخص جو پشاور میں فوجی ملازم ہے، اس کے مطابق " غریب مسلمان کو سب سے زیادہ نقصان اُن مسلمانوں کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے جو اپنے زعم میں "خاندانی"بنے ہوئے ہیں"۔
اسی طرح علاقہ تھکیالہ میں باغ علی سکنہ بالاکوٹ اپنی ذات کھوکھر قطب شاہی بتاتا ہے۔ اس کے اسلاف میں ولی محمد خاں نے پارچہ بائی کا کام شروع کر دیالیکن بندوبست والوں نے اس کی اولاد کو جولاہا درج کر رکھا ہے۔ حالانکہ اُس کی اولادکپڑا بُننے کی وجه سے جولاہا اور زمینداری کرنےکی وجہ سے زمیندار تھی ۔ تعجب یہ ہے کہ بندوبست والوں نے اُن کو فقط جولاہا لکھنے کے بجاے زمیندار جولاہا کیوں نہ لکھ دیا۔ تاہم باغ علی،شیر محمد و امام دین وغیرہ بڑی جدو جہد کے بعد چیف ریونیو افسر کے ایک حکم 14 جیٹھ 1989 بکرمی کے مطابق آخر کار کھوکھر قرار دئے گئے۔
دھروتی تھکیالہ میں بھی ایک ایسا ہی کنبہ ہےکہ جس کے فقط چھ گھر ہیں ۔ یہ کنبہ اپنے آپ کو گھکھڑ کہتا ہے لیکن بند و بست والوں نے ان کی ایک نہ سنی ۔ انہوں نے اُس کُنبے کو کاسبی درج کر دیا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کنبے کے ایک بزرگ " شکرا خان "نے جولاہوں کا کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن وہ اپنی قومیّت گھکھڑ ہی بتاتا رہا۔ اس کنبے نے بھی کوشش کر کے 17 کاتک 1989 بِکرمی کے سرکاری حکم کے مطابق آپنے آپ کو گھکھڑتسلیم کرالیا۔
1928 بکرمی ﴿ 1872ء﴾ کے بندوبست کی تشخیصِ اقوام میں ان مواضعات کے لوگوں کو جو ز راعت کے علاوہ بافندگی کا کام بھی کیا کرتے تھے انہیں کا سبی لکھا گیا ہے لیکن 1960 بکرمی (1904ء ﴾کے آئینی بند و بست میں ان لوگوں نے بعض مواضعات میں اپنے آپ کو مَلَک لکھوا دیا اور بعض نے مَنیال۔
گویا بافندگی کا لفظ اُڑا دیا جبکہ ڈبسی والوں نے اپنے آپ کو مَلک مَنہاس اور موہڑہ والوں نے اپنے آپ کو مَنیال راجپوت لکھوایا ہے حالانکہ یہ سب لوگ ایک ہی پیشہ سے تعلق رکھتے تھے ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی تک کسی صحیح مرکز پر نہیں آئے ۔ کسی نے کوئی ذات قائم کرلی اور کسی نے کوئی ۔ اس لحاظ سے تاریخ اقوامِ پونچھ جلد اوّل میں اس کے متعلق ان کے کسی نمائندہ نے اُن کو خوش کرنے کیلئے راجپوت یا ملک کا خطاب عطا کیا ہے وہ بھی صحیح نہیں ۔
تحصیل نکیال کے شمال میں واقع مذکورہ بالا علاقوں میں چونکہ زمین پہاڑی تھی اور پیداوار زیادہ نہیں ہوتی تھی اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی تھی اس لیے ان علاقوں کی اقوام نے عِزّت کے ساتھ اپنی گزر اوقات کیلئے زراعت کے علاوہ بھی مختلف کاروباروں میں حصہ لینا شروع کیا۔کسی نے گھراٹ چلانے کا کام شروع کیا، کسی نے بڑھئی کا کام، کسی نے کپڑا بُننے کا ، کسی نے لوہار کا ، کسی نے درزی کا اور کسی نے نائی کا ۔ ان پیشوں کے باوجود بھی زمین داری کا کام سب کیا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ہل چلاتے تھے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا فرمان ہے کہ اَلکاسِبُ حَبِیبُ اللہ : کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ علاوہ ازیں خالقِ کائنات اپنی مقدّس کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے﴿رعد۱۱﴾۔
بقول حالی ؎
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں
۔۔۔۔۔۔۔
جب 1960 بِکرمی کا بندو بست آیا تو اُس زمانے میں جس طرح کمزور، غریب اور ان پڑھ اور زمانہ کے حالات سے بے خبرقوموں نے نقصان اُٹھایا اسی طرح ہوشیار، زمانہ شناس، حکام رس، اور کھاتے پیتے لوگوں ، با الخصوص ان قوموں نے جن میں نمبرداریاں بھی تھیں، انہوں نے نہ صرف خود خوب فائدہ اُٹھایا بلکہ دوسری قوموں کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ وہ بے چاری اب تک سنبھلنے میں نہیں آتیں اور ان سرمایہ داروں کی خود غرضیوں کی وجہ سے کئی پیشہ ورقومیں جن کی گزر و اوقات کا سب سے زیادہ تر انحصار صرف اور صرف زراعت پر ہی تھا وہ غیر زراعت پیشہ قرار دی گئیں ۔
1960 بکرمی کے بندو بست اراضی میں مختلف پیشوں سے وابستہ افراد جوکہ کمزور اور غریب تھے ، ان کیلئے اُن کے پیشوں کو بطورِ قوم ذکر کر کے آبادی کے اکثریتی حصّے کو ایک نئی تفریق اور تقسیم سے دو چار کر دیا گیا جس کی بازگشت آج تک سنائی دے رہی ہے ۔ یوں ان پیشوں سے متاثرہ خاندانوں نے اپنی اصل قوم کو کسی اور نام سے تبدیل کر دیا مثلاً ان علاقوں میں آباد جنجوعہ راجپوت ، منہاس راجپوت اور گھکھڑوں نے اپنے آپ کو مَلک قوم کے طور پر متعارف کرایا ۔ گو کہ اب ان اقوام میں قومی بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنا اصل حسب و نسب یا پہچان کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں بلکہ فخریہ انداز میں اپنی پہچان اپنی اصل قوم کے حوالے سے کرارہے ہیں۔
اپنے اصل مقام اور پہچان کیلئے ان متاثرہ اقوام کو کئی عرصہ تک عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑے تب کہیں جا کر یہ اپنے اصل نام و نشان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ظلم اور سماجی ناانصافی کی شکار یہ اقوام بعد ازاں اللہ تعالیٰ ٰکے فضل و کرم سے اپنے اصل مقام و رُتبہ کو حاصل کرنے میں ایسی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئیں کہ گویا پوری تاریخ عالم اُن کے کارناموں کو رہتی دنیا تک یاد رکھے گی۔ ان اقوام کے عظیم سپوتوں نے اپنے خون سے ایسی تاریخ رقم کی کہ جس کی ایک چھوٹی سی جھلک تحریرِ ہذا میں درج زیل اعزازات حاصل کرنے والے شہدا کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے پائندہ و تابندہ رہے گی۔
ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور
۔۔۔۔۔۔
راقِم ، تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے اور علمِ تاریخ کا متلاشی ہوتے ہوئے، تحریر ِ ہذا میں بَرملا اس حقیقت کا اظہار کرنے کی جسارت کرتا ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر آج تک وطنِ عزیز پر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پر کُل گیارہ شہداء کو ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا گیا ہے، جن میں سے سات کا تعلق مختلف راجپوت خاندانوں سے ہے۔
ان میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، لانس نائیک محمد محفوظ جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، اور سوار محمد حسین شہید نشانِ حیدر کا تعلق جنجوعہ راجپوت خاندان سے ہے۔علاوہ ازیں، کیپٹن محمد سرور شہید نشانِ حیدر، میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، اور میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر کا تعلق بھٹی راجپوت خاندان سے ہے۔پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا تعلق منہاس راجپوت خاندان سے ہے۔
اِن تاریخی حقائق کی روشنی کے بعد اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ راجپوت قبائل جن میں جنجوعہ راجپوت، بھٹی راجپوت، اور منہاس راجپوت سرفہرست ہیں ،اِن کے سپوتوں نے اپنے وطنِ عزیز کے دفاع اور حفاظت کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اہلِ وطن اور اہلِ قبیلہ کے سَر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔ ان کی شجاعت اور بہادری کے یہ کارنامے پاکستان کی تاریخ میں رہتی دنیا تک سنہرے حروف میں لکھے اور یاد رکھے جائیں گے۔
قفس میں مُجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا
موضع موہڑہ نارہ میں پِیر سَيِّد باقِر حُسَینؒ شاه صاحب کا آستانہ عالیہ بھی واقع ہے جہاں ہر سال باقاعدگی سے عُرْس کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ملک کے دور دراز علاقوں سے اُن کے مرید ین خاص عُرْس کی تقریبات میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں تقسیم برصغیر سے قبل مینڈھر کے پولیس اسٹیشن واقع موہڑہ دھروتی سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر علاقہ زیریں میں موضع موہڑہ ہے۔ یہاں سائیں کملا ؒبادشاہ کا مقبرہ ہے یہ مقبرہ پہلے بمقام وِہڑه واقع مَیرہ میں تھا جو کھنڈیل پہاڑی سے مُتّصِل ہے۔
آج سے تقریبا سوا صدی پیشتر کا ذکر ہے کہ سائیں کملا ؒبادشاہ کی صاحبزادی جو نہائیت عابدہ اور زاہدہ تھیں اور جنہوں نے تمام عمر شادی نہیں کی تھی ، انہوں نے سائیں صاحب کے غیبی اشارےکے مطابق عدالت سے قانونی مجوَّز ﴿اجازت نامہ﴾لے کر اُن کی نعش موہڑہ میں منتقل کر دی۔ اُس وقت جب 25 سال کے بعد نعش قبر سے نکالی گئی تو ہر قسم کی آلائش سے پاک تھی، 25 سال کے بعد اُن کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھائی گئی۔ آج اُن کی صاحبزادی کی قبر بھی اُن کے پہلو ہی میں ہے ۔
۔۔۔۔۔
موہڑہ دھروتی مواضعات
رَمتکہ ستان بگلہ : رَمتکہ ستان بگلہ میں آباد خاندان کھوکھر راجپوت ، جنجوعه راجپوت اور منہاس راجپوت سے تعلق رکھتے تھے اور تھکیال خاندان کے گھر تین چار سے زیادہ نہ تھے ،ستان بگلہ دھروتی میں آباد تمام گھر جنجوعہ خاندان کے تھے، ان میں ملک محبت خان مرحوم کی اولا دیں محمد حسین اور صوبیدار نیک محمد شامل ہیں، ستان بگلہ کے چیدہ چیدہ افراد میں شاہ ولی ، علی اکبر ، علی محمد، عبدالکریم ولد ڈاکٹر حسن محمد ﴿ حکومت برطانیہ کے ملازم ﴾اور محمد یعقوب ولد عطا محمد شامل ہیں۔
رَمتکہ دھروتی: رَمتکہ دھروتی میں ملک بہادر علی خان جنجوعہ (مرحوم) موجودہ گرڈ اسٹیشن کوٹلی اور کار پنٹر ملک عبدالحسین مرحوم ولد علم دین جنجوعه موجوده محله بلیاه صادق آباد چوک کے علا وہ چند ایک گھر جنجوعہ خاندان کے تھے ، باقی تمام کا تعلق منہاس راجپوت اور کھو کھر راجپوت سے تھا ۔ملک بہادر علی، ملک عبدالحسین جنجوعہ کے حقیقی ماموں تھے۔ ملک عبدالحسین کا ر پنٹر نے مورخہ 12 فروری 2017 ء بروز اتوار تقریباً 80 برس کی عمر میں وفات پائی جن کا مدفن کو ٹلی بلیاہ قبرستان میں ہے۔ چند منہاس راجپوت جن کا تعلق رَمتکہ دھروتی سے تھا ان میں سے میر محمد ، سید محمد، فتح محمد ، محمد اسماعیل اور میر علی وغیرہ زیاد مشہور تھے۔
اِس کے علاوہ رَمتکہ کے کھو کھر راجپوت مند و خان، شاہ محمد، سخی محمد، لال خان، بشیر خان اور مندی خان وغیرہ تھے۔ رَمتکہ میں تھکیال برادری کے دو تین گھر تھے لیکن نمبرداری تھکیال قبیلے کے پاس تھی۔ رَمتکہ کا نمبردار شیر خان تھا جس کے کزن کا نام شیر محمد تھا ۔
رَمتکہ دھروتی کا ایک خونی واقعہ
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران رَمتکہ دھروتی میں انڈین آرمی کے ہاتھوں ایک بہت بڑا خونی واقع پیش آیا۔ ایک تحقیق کے مطابق اس واقع میں 70 کے لگ بھگ افراد کو شہید کر دیا گیا تھا، سفّاک انڈین آرمی نے یہ ہولناک کھیل رات کی تاریکی میں کھیلا۔ رَمتکہ دھروتی کے گھروں میں ہر طرف نعیش بکھری پڑی تھیں اور ہر طرف خون ہی خون تھا ۔
اِس سفّاکی کے واقعہ کے بعد 1971ء اور 1998/99ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران اور بارڈر لائن پر آئے روز کی کشیدگی کے باعث موہڑہ دھروتی اور بالاکوٹ بارڈر اور دیگر ملحقہ مواضعات میں آباد افراد نے رفتہ رفتہ نقل مکانی شروع کر دی اور یوں موہڑہ کا لونی ، نکیال ، کوٹلی، میر پور گجرانوالہ اور دیگر مختلف علاقوں میں مستقل بنیادوں پر آباد ہو کر اپنی آئندہ کی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ۔
اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں۔۔۔پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
حرفِ آخر!
تعلیماتِ نبوی ﷺ نے اِنسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب اِنسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں، نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور فضیلت صرف تقویٰ میں ہے۔ یہی وہ صدائے عدل تھی جس نے اِنسانیت کے بکھرے قافلے کو ایک منزل دی۔ یہ مساوات ایک ازلی منطق ہے، اس کے مطابق اگر خالق ایک ہے تو مخلوق میں امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو دماغ اس منطق کو سمجھ لیتا ہے، وہ کسی کو کمتر نہیں سمجھتا، اور جو دل اس سے غافل ہو، وہ خود شرفِ اِنسانیت سے کوسوں دور رہتا ہے۔
راقِم نے اِس کتاب میں جن اقوام، علاقوں اور کرداروں کا ذکر کیا ہے، وہ اسی عدمِ مساوات کے خاموش مگر جیتے جاگتے گواہ ہیں۔ یہ چند اوراق میرے تجربے کا ماحصل ہیں، ان کا مقصود ماضی کا نوحہ سنانا نہیں، مستقبل کی راہ دکھاناہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں اِنسان ، اِنسان کو حقیر نہ سمجھے۔ پس یہ حرفِ آخر درحقیقت ایک نئی صبح کیلئے آغازِ فکر ہے ۔ ایک ایسی فکر کا آغاز کہ ایک دن ہر اِنسان، اللہ کے آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کے فیض سے خود اپنی ذات اور دوسروں کا احترام کرنا سیکھ لے گا ۔ یہی اِنسانیت کی معراج ہے : "اَلنَّاسُ سَوَاءٌ كَأَسْنَانِ الْمُشْطِ" سب اِنسان برابر ہیں، جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں۔﴿ یہ تشبیہ عربی بلاغت کی خوبصورت مثال ہے، جس میں انسانی مساوات کو نہایت سادہ مگر گہرے استعارے سے واضح کیا گیا ہے۔ ﴾
﴿یہ تحریر راقِم نے مورخہ 13 مارچ 2024ء بروز بدھ بمطابق 2 رمضان المبارک 1445ھ کو مکمل کی ﴾
















.webp)



















