زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

ہفتہ، 28 فروری، 2026

سُپریم لیڈرکی شہادت کا پہلادِن کیسے گُزرا؟

سُپریم لیڈرکی شہادت کا پہلادِن کیسے گُزرا؟

ڈاکٹر نذر حافی

اُن کا ہدف  عسکری تنصیبات پر حملے کے بجائے “کمانڈ اینڈ کنٹرول” تھا ۔ یعنی وہ قیادت جس سے ریاست چلتی ہے اس کا خاتمہ ۔ انہیں خوش فہمی تھی کہ ہم سر کاٹیں گے تو جسم خود بخود  گر جائے گا۔ پھر ساری  دنیا  نے دیکھا کہ ویسا نہیں ہوا جیسا امریکہ و اسرائیل نے خیال کیا تھا۔  یقین جانئے آگے بھی ویسا نہیں ہوگا۔

یہاں پر  مودی کے دورہ اسرائیل اور ساتھ ہی افغانستان و پاکستان کے حالات کو بھی سامنے رکھئے۔ اس  کے ساتھ ہی ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ سوچنے اور سمجھنے والوں کیلئے اپنے اندر بہت کچھ رکھتا ہے۔ خیر یہ تو ظاہر ہے کہ ایران تو اپنی جنگ خود ہی لڑے گا اورڈٹ کر لڑے گا۔  تاہم  دیگر ممالک کیلئے یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے بعد جو تاوان ادا کرنا پڑتا ہے وہ سر کٹا دینے سے کئی گُنا زیادہ ہوتا ہے۔جنگ  کے  پہلے روز  امریکہ اور اسرائیل نے سوچا تھا  کہ ساری گیم تین چار گھنٹوں کی ہے۔ ہماری  ایک ہی ضرب  فیصلہ کن ثابت ہو گی۔ اناً فاناً  ایران کی قیادت کا خاتمہ  ہو جائے گا اور اس کے بعد  اسلامی نظام  کسی پکے ہوئے پھل کی مانند خود بخود گر جائے گا۔ حملے کے بعد  ٹرمپ کا  آٹھ منٹ کا خطاب، ٹرمپ کیلئے  ساری دنیا کی لعنتیں سمیٹنے کیلئے کافی ثابت ہوا۔ اس خطاب  میں ایرانی عوام کو  واضح طور پر بغاوت پر اکسایا گیا لیکن ٹرمپ کو پھر منہ کی کھانی پڑی۔  وہ بھبھکیاں مارتا رہا کہ “اقتدار خالی ہے، آگے بڑھو اور سنبھالو۔” یہ میزائلوں کے بعد دماغوں پر  الفاظ کا حملہ تھا ، میڈیا وار تھی ، بیانیے کی جنگ  اور عوامی ذہنوں پر یلغار تھی۔۔۔لیکن اس کا نتیجہ بھی امریکہ و اسرائیل کی توقعات کے  برعکس نکلا۔ایران کے سُپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلی ترین قیادت کی شہادت اور دیگر تمام تر خطرات کے باوجود  ایران ِ اسلامی خاموش نہیں رہا۔ جنگ کے پہلے  روز  ایران میں کئی قیمتی انسانی جانیں اپنے دین اور وطن پر قربان ہو گئیں ۔ ایران خون، دھوئیں اور بارود سے بھر گیا لیکن  جھکا نہیں۔ صرف ایک گھنٹے  کے اندر ہی  ایران نے ملٹی لیئر رسپانس دیا۔ پہلے مرحلے میں بیلسٹک اور ڈرون حملے، دوسرے مرحلے میں خطے میں موجود امریکی بیسز پر پریشر اسٹرائیکس، تیسرے مرحلے میں سمندری محاذ کو فعال کرنا۔ جوابی کارروائی کی نوعیّت بتاتی ہے کہ یہ بالکل اچانک یا صرف  جذباتی ردعمل نہیں تھا ۔ یہ اہل ایمان کی طرف سے کفار کے مقابلے کیلئے پہلے سے تیار شدہ  "وار پلان" کی ایکٹیویشن تھی۔

میدانی اطلاعات اور بصری شواہد کی روشنی میں یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران نے اپنی جوابی حکمتِ عملی میں امریکی و اسرائیلی اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا ۔ ضرب بھی متعیّن، اور پیغام بھی مبیّن۔ ابتدائی مرحلے ہی میں امریکی فضائی برتری کے سارے خود ساختہ افسانے تحلیل ہوگئے اور  اسرائیلی دفاعی حصار کے دعوے  تباہ ہوگئے۔

ایران پر حملہ امریکہ و اسرائیل کو کتنا مہنگا پڑا یہ عنقریب مزید آشکار ہو جائے گا۔ آج بھی ساری دنیا نے دیکھا کہ ایران پر حملے کے بعد  اسرائیل کے مختلف شہروں میں سائرن گونجتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایران نے  منطقے میں موجود دشمن کے اڈوں پر تباہی مچا دی۔ فضا میں اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز کی چمک اور زمین پر دھماکوں کی گونج ۔  مناسب تو یہ ہے کہ دنیا اسے ایران کا جوابی حملہ سمجھنے کے بجائے اسے   خدا  کی ذات پر  اعتماد اور اُس کی قدرت پر  توکل کا اعلان  سمجھے۔

 بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے سے لے کر خلیجی ریاستوں  اور تُرکی میں موجود امریکی تنصیبات کے اڑتے ہوئے پر خچے بھی ساری دنیا نے دیکھے۔سچ مچ ایران کا  یہ دفاعی  آپریشن دنیا  کو “فتحِ خیبر” کی یاد دلا گیا۔ فتح خیبر یعنی یہ جنگ صرف جغرافیے کی نہیں، بیانیے اور حوصلے کی بھی ہے۔ یہاں  پر ایک نکتہ ہمارے سفارتکاروں کی جانب سے عرب ریاستوں کو بھی سمجھایا جانا چاہیے۔  بعض عرب ریاستوں نے اپنی سرزمین پر امریکی عسکری اڈوں کو اس تصور کے ساتھ جگہ دے رکھی ہے  کہ یہ ان کی حفاظت کریں گے جبکہ  یہ اڈّے در اصل اسرائیل کی حفاظت کیلئے ہیں۔ اس معرکے  میں ایران کی طرف سے  امریکی اڈوں اور عسکری تنصیبات کے خلاف محدود اور متعین اقدام  کسی بھی طور پر عرب ریاستوں کے خلاف نہیں۔ یہ توقع رکھنا کہ امریکہ جیسے خونخوار دشمن  کے فارورڈ  اڈوں کو  ایران  فقط اس بنا پر  نشانہ نہ بنائے کہ وہ کسی “برادر ملک” کی سرزمین پر قائم ہیں، محض سادہ اندیشی ہے، نہ کہ سنجیدہ و دفاعی حکمتِ عملی۔

ایران نے اپنے دفاع کیلئے عرب ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کو بڑی  چابکدستی اور انتہائی مہارت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک   نشانہ بنا کر عرب ریاستوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ جنگ میں صرف قوت نہیں، ضبط بھی فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اب عرب ریاستوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیغام کی قدروقیمت کو سمجھیں۔ ایران نے جنگ کے پہلے روز یہ ثابت کیا ہے کہ یہ مرحلہ قوت کی نمائش سے زیادہ حکمت و دانائی  کی آزمائش  کاہے۔

اُس نے  خدا کی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے میدانِ جنگ کو صرف زمین تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ کفر کے مقابلے کیلئے  فضا، سمندر، سائبر اسپیس اور میڈیا۔۔۔ سب محاذ کھول دییے ہیں۔ یاد رکھیں! اس وقت ہمارے حصے میں دعا کرنے کا محاذ ہے اور یہی سب سے اہم محاذ ہے۔ ہمیں اس محاذ پر غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ اس وقت ایک طرف آج کے زمانے کا کُلِّ کفر اور اس کے اتحادی ہیں اور   دوسری طرف کُلِّ ایمان اور ایمان کی طاقت ہے۔ ایران نے تو یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ میں حکمت و دانائی  کا اظہار کیسے ہوتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ   باقی دنیا کی  دعائیں، ریلیاں،   سفارتکاریاں، احساسات، جذبات اور ہمدردیاں  کتنی حکمت آمیز ہیں۔

 

 آپ کی پسند

 


منگل، 24 فروری، 2026

ہم نے کتنے غلام آزاد کئے؟

ہم نے  کتنے غلام آزاد کئے؟

ڈاکٹر نذر حافی

بہت سارے  روزہ داروں کو روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔[1]روزہ رکھنے میں ایک بنیادی حکمت یہ ہے کہ انسان محتاجوں اور ان لوگوں کے دکھوں  کو محسوس کرے جو زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت یعنی "خوراک" کے حصول میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔  باالفاظِ دیگر پیٹ بھرے ہوئے  کو  بھوکے  کا احساس دلانے  کی تحریک کا  دوسرا نام  لوگوں  کو  افطاری کرانا  ہے۔ بلاشبہ افطاری کرانا فرض روزے کا بدل نہیں لیکن  تعلیم و تربیت کے ترازو میں کبھی کبھی افطاری کا پلڑا روزہ رکھنے سے  زیادہ بھاری نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کو افطاری کرانے سے انسانی فطرت کی یہ صلاحیت نکھرتی ہے کہ  انسان  اپنی خواہشات اور ضروریات سے بڑھ کر دوسروں کی بھوک و پیاس  کے بارے میں غوروفکر کرے۔ اگر کوئی شخص افطاری اس لیے کرائے کہ وہ  اللہ کی رضا  کیلئے دوسروں کی بھوک پیاس کو ختم  کرےتو یہ عمل اُسے اخلاقی طور پر انتہائی طاقتور بنا دیتا ہے۔اس انتہائی  اخلاقی طاقت کے بغیر انسانی معاشرہ نسل در نسل اخلاقی بقا حاصل نہیں کر سکتا۔یعنی نسل در نسل اچھے اخلاق سے مزیّن انسانوں کی تولید کیلئے دوسروں کو  افطاری کرانے کی سُنّت کا احیا لازمی ہے۔


خطبۂ شعبانیہ میں رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:

جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزّت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نماز پڑھنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہیں دے گا۔ اے لوگو! تم میں سے جو کوئی کسی روزہ دار مومن کو افطار کرائے، تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور اللہ تعالیٰ اس کی گزشتہ لغزشوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ایک شخص نے عرض کیا:  یا رسول اللہ! ہم سب میں یہ طاقت نہیں کہ افطاری دیں اور لوگوں کو سیر کر سکیں۔رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:  چند کھجوروں کے ٹکڑوں اور تھوڑے سے پانی کے ذریعے بھی اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔

اے لوگو! اگر کوئی شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق کو نیک اور درست کر لے تو اس کے لیے پلِ صراط سے گزرنے کا پروانہ ہوگا۔ اور جو اس مہینے میں اپنے ماتحتوں پر آسانی کرے اور سختی نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دے گا۔

بہت سی روایات میں رمضان میں افطاری کرانے کے ثواب پر اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ کبھی اس کی فضیلت نفلی روزے بلکہ خود روزہ رکھنے سے بھی بڑھ کر بیان ہوئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی سنتیں، جو رمضان میں محتاجوں کے لیے افطار دینے میں نمایاں ہیں، ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دین نام ہی  انسانی ہمدردی اور اخلاص  کا ہے۔ امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

  عَنْ أَبِی عَبْدِاللّٰهِ علیہ‌السلام قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فَلَهُ أَجْرٌ مِثْلُهُ؛  جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے اسی کے برابر اجر ملے گا۔[2]

اسی طرح ایک اور مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا:  جو شخص کسی مومن کو افطار کرائے، اس کے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ شمار ہوتا ہے؛ اور جو دو مومنوں کو افطار کرائے، اللہ پر ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔[3]  

ماہ مبارک رمضان میں ہر فرد کی کوشش ہوتی ہے کہ اس عمل کے ذریعے حاصل ہونے والے ثواب سے محروم نہ رہے۔ اس کوشش سے  حصولِ ثواب کا عمل ایک  روحانی جدوجہد بلکہ  عرفانی جہاد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دوسروں کو افطاری دینے  کے لمحات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ  حقیقی ایماندار وہی ہے جو دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرے اور اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹے۔

ابو شیخ ابن حیان سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

  مَنْ فَطر صائما فی شهر رمضان مِنْ کسب حلال صَلَّت علیه الملائکه لیالی رمضان کُلٌها صافَحَهُ جَبْرائیل لیله القدْر و مَنْ صافَحَهُ جَبْرائیل یَرِقُّ قلبهُ و تَکْثُرُ دُمُوعُهُ   یعنی: "جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے حلال رزق سے روزہ دار کو افطار کرائے، اللہ کے فرشتے تمام شبوں میں اس پر درود بھیجتے ہیں، اور جبرائیل شب قدر اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔ جس کے ساتھ جبرائیل مصافحہ کرے، اس کا قلب نرم اور آنکھوں سے اشک بہت زیادہ ہوتے ہیں۔"[4]

اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ سدیر نامی شخص رمضان کے شب و روز میں امام باقر علیہ السلام کے پاس آیا۔ امام نے پوچھا:  "أَتَدرِی فِی أَیِّ لَیالیٰ نَحنُ؟"اے سدیر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی راتیں ہیں؟  سدیر نے جواب دیا:  "میرے ماں باپ آپ پر قربان ، یہ  ماه مبارک رمضان کی راتیں ہیں۔"

  امام نے پوچھا:  "هَل یُمکنُک أَنْ تُفْرِجَ کُلَّ لَیلَةٍ عَبداً مِنْ أَبْناءِ إِسماعیل؟"کیا تم اس قابل ہو کہ ان راتوں میں ہر رات دس غلام آزاد کر سکو، جو اسماعیل کے اولاد میں سے ہوں؟  سدیر نے کہا:  اتنی وسعت نہیں ہے۔  پھر امام نے پوچھا:  "أَتَسْتَطِیع أَنْ تُفطِرَ مُسْلِماً کُلَّ لَیلة؟"تو کیا تم ہر رات ایک مسلمان مرد کو افطار دے سکتے ہو؟  سدیر نے کہا:  ہاں، حتیٰ کہ دس مسلمانوں کو  بھی افطار دے سکتا ہوں۔  امام نے فرمایا:  "إِنَّما أَرادْتُ ذَلِکَ؛ فَإِنَّ إِفْطَارَ مُسْلِمٍ یُعادلُ فَرْجَ عَبْدٍ مِنْ أَبْناءِ إِسماعیل۔"یہی میں چاہتا تھا اے سدیر! کیونکہ کسی روزہ دار مسلمان کو افطار دینا، اسماعیل کے اولاد کے ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہے۔" [5]

یہ تمام روایات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ افطار دینا دراصل دلوں کو نرم کرنے، روح کو بلند کرنے اور معاشرے میں بھائی چارہ و ہمدردی قائم کرنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کو افطاری دینا  اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں واضح طور پر نمایاں ہے۔امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام روزہ رکھتے، تو حکم دیتے کہ ایک گوسفند ذبح کیا جائے، اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے دیگ میں ڈال دیا جائے۔ حضرت خود غروب آفتاب کے وقت دیگوں کا جائزہ لیتے اور روزہ رکھتے ہوئے خوشبودار آبگوشت﴿ گوشت کا سالن﴾ کی خوشبو محسوس کرتے۔ پھر فرماتے:  "پیالے لائیں،  یہ کاسہ یا پیالہ  فلان کے لیے اور دوسرا کاسہ فلان کے لیے "

اسی طرح ہر کاسہ﴿پیالہ﴾ مخصوص شخص کے لیے بھر کر افطار کی تیاری کی جاتی یہاں تک کہ آبگوشت ختم ہو جاتا۔ اس کے بعد حضرت خود نان و خرما سے افطار فرماتے۔ یہ منظر  افطاری کے پہلو میں اخلاص، سخاوت اور ہمدردی کی اعلیٰ تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے ارد گرد بہت سارے روزہ دار ماہِ مبارک رمضان میں بھی دوسروں کا خیال نہیں رکھ پاتے چونکہ  دِل نرم نہ ہو تو روزہ رکھنے والا بھی سخاوت نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف اہلِ بیت ؑ کے ہاں افطاری کے وقت ہر  شخص کے لیے مخصوص کاسہ  تیار کرنا اور سب لوگوں  کا یکساں خیال رکھنا ہمیں یہ  سکھاتا ہے کہ  ایک نرم دِل روزہ دار کو دوسروں کو افطاری کرائے بغیر  روزہ رکھنے کی کی مکمل لذّت اور شیرینی محسوس نہیں ہوتی۔

قرآن مجید میں کئی مقامات پر افطاری دینے کے ثواب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ کریم نے سورۃ انسان کی آیات ۵ تا ۸ میں اہل بیت علیہم السلام کے طرزِ عمل اور سنت کے مطابق اطعام اور افطاری دینے کی روشنی میں فرمایا کہ وہ اپنی خوراک محتاج، یتیم اور قیدیوں کو دیتے تاکہ معاشرے کے یہ لوگ بھی اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوں۔اہم نکتہ یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام یہ عمل  کسی تعریف، تمجید یا دنیاوی انعام کے بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دیتے تھے۔ اس سے یہ ایک بات ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے  کہ افطاری کرانا صرف اسی وقت عبادت ہے جب اس میں قصدِ قربت ہو۔ اگر مقصد فخر، مقابلہ یا دنیاوی لین دین ہو تو  قرآن و احادیث میں مذکور عظیم معنوی اجر حاصل نہیں ہوگا۔ امام علی ؑ کے اس فرمان میں سوچنے اور سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے اور اسی پر ہم اپنی تحریر کا اختتام کرنا چاہیں گے:

وَ قَالَ (علیه السلام): كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَ الظَّمَأُ، وَ كَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ وَ الْعَنَاءُ؛ حَبَّذَا نَوْمُ الْأَكْيَاسِ وَ إِفْطَارُهُمْ۔"کتنے ایسے روزہ دار ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس  کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا  اور کتنے ہی  ایسے قیام کرنے والے ہیں جنہیں اپنے قیام سے  جاگنے اور تھکاوٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔خوشایندہے دانا  لوگوں کا سونا اور  ان کا افطار کرنا۔"[6]



[1] رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع

[2]  من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 134

[3] وسائل الشیعه، ج ۷، ص ۱۰۱

[4] الطبراني في "المعجم الكبير" (6162،

[5]  الکافی، ج‏۴، ص۶۸

[6] حکمت 145 نهج البلاغه

اتوار، 22 فروری، 2026

حضرت ابو طالبؑ۔۔۔دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج

حضرت ابو طالبؑ۔۔۔دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج
ڈاکٹر  نذر حافی:
 تبدیلی کے بغیر انقلاب کا تصوّر ممکن نہیں۔  یہ نہیں ہو سکتا کہ کہیں انقلاب آئے اور تبدیلی نہ آئے۔  تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ  ہوم ورک یعنی خاموش کمروں، سماجی ذمہ داریوں اور معاشرتی توازن کی باریک تدبیروں میں پروان چڑھے ہیں۔ ساتویں صدی کا مکہ اسی نوع  کا ایک انقلابی مرکز تھا۔ اگر اسے اُس عہد کا خطے کا سب سے حساس اور مؤثر مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ عرب کے تجارتی راستے، قبائلی اتحاد، مذہبی روایات اور معاشی مفادات سب اسی شہر میں ایک دوسرے سے گُندھے ہوئے تھے۔ ساتویں صدی کا شہرِ  مکہ محض ریگزاروں میں گھرا ہوا ایک شہر نہ تھا،  وہ عرب کے جغرافیے، تجارت، قبائلی سیاست اور مذہبی مرکزیت کا نقطۂ اتصال بھی تھا۔ یہاں قافلوں کی گرد بھی اٹھتی تھی اور بتکدوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ طاقت کی تمام مرئی و غیرمرئی رگوں کا سنگم تھا۔ یہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں سے ہونے والا کوئی ایک اعلان اطراف کے  پورے نظام کو ہلا سکتا تھا۔
اسی منطقے میں ختمِ نبوّت کا اعلان ہوا۔ یہ اعلان کبھی خاموش  کمروں میں اور کبھی مستضعف افراد کے صبر کی  صورت میں  ، کبھی حضرت بلالؓ کی احد احد کی صدا بن کر اور کبھی  حضرت عمّار یاسر ؓ کی سرگوشی  بن کر گونجتا رہا۔ اُس زمانے میں  ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہماری طرح  فقط کلمہ پڑھنا نہیں تھا۔ اُس وقت ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب  در اصل  اللہ کے آخری نبیؐ کی حرمت، بقا اور تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا  تھا۔ تاریخ میں کہیں اگر  ایسے  ایمان کی عملی تفسیر تلاش کرنی ہو تو حضرت ابو طالبؑ ؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے ۔ان کے ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کی کیفیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس شہر کی فضا کو محسوس کیا جائے کہ جس کے دامن میں   حضرت ابو طالبؑ  ؑ نے نبی ؐ کیلئے  دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج قائم کیا۔ 
ایسے شہر میں عامُ الفیل سے پینتیس برس قبل ایک طفل پیدا ہوا جسے تاریخ نے حضرت ابو طالبؑ  کے نام سے محفوظ کیا۔ ان کے والد عبدالمطلبؑ قریش کے رئیس تھے۔ انہی کے وصال کے بعد جب محمد ﷺ کی عمر آٹھ برس تھی تو اُن کی  کفالت کی ذمہ داری حضرت ابو طالبؑ  کے سپرد ہوئی۔ یہ کفالت جہاں ایک خاندانی ذمہ داری وہیں یہ ایک الہی  امانت کی حفاظت  بھی تھی۔ایسی امانت  جو آنے والے زمانوں کے لیے آخری نبوت کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔
جب حضرت  محمد ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو  یہ  طاقت کے توازن میں ایک گہری لرزش تھی۔ اس سے مکّے میں ایک نئی دعوت اُبھری ۔  توحید کا  نعرہ بلند ہوا  اور اب اس پیغام کو اپنی تبلیغ و بقا کیلئے محض لوگوں کے ایمان لانے کی نہیں  بلکہ تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ ایسی فضا میں حضرت ابو طالبؑ  نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ سفر ہو یا حضر،  دونوں ساتھ  ساتھ رہے۔ بُصریٰ کے سفر میں راہب بحیرا کے سامنے حضرت ابو طالبؑ  نے حضورؐ کو  اپنا بیٹا کہا۔یہ محبت  فقط چچا اور بھتیجے کی محبت نہ تھی۔پھر وہ لمحہ آیا جب محمد ﷺ  کا منصبِ نبوّت اہلِ مکہ کیلئے چیلنج بن گیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی ہے، اور اب ہدایت کی آخری کڑی ظاہر ہو چکی ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا تھا کہ اس پیغام کو تحفظ ملے، اور اس تحفظ کیلئے کوئی ڈھال درکار تھی۔ وہ ڈھال حضرت ابو طالبؑ ؑ بنے۔ انہوں نے طاقت کی مختلف اکائیوں قبائلی وقار، سماجی اثر، مذہبی مقام اور اخلاقی اعتبارکو اس مہارت سے ہم آہنگ رکھا کہ ایک نوزائیدہ تحریک کو سانس لینے کی مہلت مل گئی۔ اُس وقت اگر قریش کی مذکورہ بالا  اکائیاں بکھر جاتیں تو پھر دشمن کئی سمتوں سے حملہ آور ہو سکتے تھے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایک طرف پیغمبر ﷺ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کے داخلی اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ یوں  اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے روکا۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی جس نے خطرات کو محدود رکھا اور دشمنی کو  چاروں طرف سے حملہ کرنے  کی مہلت نہیں دی۔
قریش کی دھمکیاں، لالچ، دباؤ۔۔۔سب سامنے آئے۔ کبھی کہا گیا کہ دعوت چھوڑ دو، کبھی متبادل پیش کیے گئے، کبھی قتل کی سازشیں ہوئیں۔یہ سب اپنی جگہ جاری رہا لیکن  حضرت ابو طالبؑ ؑ نے  قریش کے  دباؤ  کا  قبائلی روایات سے مقابلہ کیا۔ جب  مسلمانوں پرمعاشی پابندیاں لگائی گئیں تو  حضرت ابو طالبؑ ؑ  نے شعبِ ابیطالب میں  داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ جب بھی شدت پسندی کا اندیشہ پیدا ہوا تو انہوں نے سفارتی نرمی اختیار کر لی۔ حضرت ابو طالبؑ ؑ کی مزاحمت و استقامت  جامد نہ تھی۔  وہ حالات کے مطابق اپنی سفارت کاری کو جاری رکھتے تھے۔ کبھی رعب سے، کبھی دلیل سے، اورکبھی خاموشی سے۔ انہوں نے بنو ہاشم کو نبی ؐ کے گرد  ایک دفاعی دیوار کی شکل  میں کھڑا کر دیا۔ ایسی دفاعی دیوار  جسے گرانےکی قیمت  سارے قبائل کو چکانی پڑتی۔انہوں نے  اپنی مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے بنو ہاشم کو  جمع کر کے حضورؐ کے لئے ایک  مضبوط اور غیر لچکدار دفاعی حصار تشکیل دے  دیا۔  اس دوران مکے میں قبائلی توازن کو بھی  برقرار رکھا تاکہ دعوت کا عمل مسلسل جاری رہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور نت نئے امتحانات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے  شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں فاقے برداشت کیے لیکن امتحانات میں کبھی   رسول ﷺ  کی حوصلہ افزائی و سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اِن تین سالوں کے دوران  داخلی روابط اور عزم و ہمّت سے مسلمانوں کی جماعت کو قائم رکھا۔ انہوں نے اس بحران میں ایک بہترین قائد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ کی مدبرانہ قیادت کی بدولت  بغیر  کسی رسمی معاہدے یا تحریری دستور کے شعب ابیطالب کا محاصرہ ختم ہوا۔
قریش کی اندرونی تمام تر مشکلات  کے باوجود  حضرت ابو طالبؑ  قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ان کی شخصیت ایک اخلاقی اتھارٹی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالفین اپنی حدود میں رہنے پر مجبور  رہے اور  قریش کا غیض و غضب ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کی قیادت و حکمت کا مرکز ایک ہی تھا کہ رسولِ خدا ﷺ کا تحفظ ہر قیمت پر ہونا چاہیے۔ چنانچہ  انہوں نے  قریش کے قدیم نظام کو یکدم منہدم کرنے کے بجائے  اسی نظام کے اندر شمع نبوّت کے روش ہونے کی جگہ بنائی۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین سفارتکاری تھی۔ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے لیکن  مخالفین کو کسی مشترکہ نتیجے پر نہ پہنچنے دیتے۔ قریش جانتے تھے کہ اگر حضرت ابو طالبؑ   کو  راستے سے ہٹا دیا جائے تو پیغمبر ﷺ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا لیکن  وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے سارا قبائلی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ مقامِ تعجب ہے کہ قریشِ مکّہ جس شخص کے خون کے پیاسے تھے اُس کی موجودگی اُن  کیلئے ناگزیر بن گئی تھی۔جب بعثت کے  دسویں سال میں وہ  اس دنیا سے رخصت ہوئے اور چند ہی دن بعد حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ بھی دنیا سے چلی گئیں تو اس سال کو نبی ؐ کی طرف سے عامُ الحزن کہا گیا۔۔ ان کی رحلت نے واضح کر دیا کہ تحریکیں صرف نظریات کے سہارے آگے نہیں بڑھتیں  انہیں پس منظر میں موجود مدبر نگہبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام اگر اپنی ابتدائی ساعتوں میں محفوظ رہا تو اس کے پیچھے کسی لشکر یا فوج کی محافظت نہ تھی   بلکہ ایک مردِ دانا کی خاموش بصیرت تھی۔ حضرت ابو طالبؑ نے قدیم دنیا کو توڑے بغیر اسی کے اندر ایک نئی دنیا کیلئے جگہ پیدا کی۔ وہ عبوری عہد کے معمار تھے۔ ایسے معمار جنہوں نے اپنے وقار، تدبر اور اخلاقی قوت سے ختمِ نبوّت کے چراغ کو آندھیوں سے بچائے رکھا۔ حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی ، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اس کے باوجود  انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ  ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن  کا رخ بدل دیا۔
حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ  دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے جس پر نام نہیں لکھا جاتا، اورسب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے جس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے،جو خود مرکز میں نہیں ہوتا  لیکن وہ  مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ ؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ  ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔

Jamia Raza, Islamabad 2025-2026


Annual Report
Jamia Raza, Islamabad
2025-2026
 

جامعہ کا تدریسی سٹاف
 جامعہ کا  تدریسی سٹاف حوزہ علمیہ قم کے 9  فارغ التحصیل علماء اور 3 پاکستانی مدارس کے فارغ التحصیل علماء پر مشتمل ہے  اس کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان میں مروجہ عصری نظام تعلیم کے بھی سند یافتہ ہیں جن میں سے تین مدرسین پی ایچ ڈی ہیں۔
کوائف مدرسین کرام  
مسئولیت تدریس نام نمبر شمار
پرنسپل منطق  دوم، تفسیر مقدماتی معارف و عقائد سید حسنین عباس گردیزی 1
  منطق اول   ،   تفسیر  ترتیبی،   عرفان اسلامی،  معارف و عقائد ،اخلاق سید ثمر علی نقوی 2
مغنی اول۔ الموجز دوم،    درایۃ الحدیث    ،  ھدایۃ النحو،    تفسیر ترتیبی،   تاریخ  اسلام ڈاکٹر ساجد علی سبحانی 3
مبادی الصرف ، تفسیر مقدماتی،   لمعہ اول،  اندیشہ سیاسی ،   باب حادی عشرمعارف عقائدو احکام محمد اصغر عسکری 4
شرح لمعہ 1، المنطق  2، قوائد النحو، معارف عقائد ، تفسیر ترتیبی سید مزمل حسین نقوی 5
مسئول صندوق قرض الحسنہ مغنی اول،   کلمات قصار،   تفسیر موضوعی1،   فقہ مقارن ،   زبان فارسی ،ناظرہ قرآن و تجوید لقرآن محمد حسین مبلغی 6
مسئول تعلیم مبادی النحو 2 ،  مبادی النحو 4،  ،        قوائد  النحو، شرح عوامل ڈاکٹر محمد نذیر اطلسی 7
مسئول  تربیت ونظم  ضبط قواعد الصرف, آداب اسلامی ،  معارف عقائد ، تفسیر مقدماتی, ڈاکٹر نذر عباس جعفری 8
مسئول مباحثہ مبادی الصرف،    تجزیہ وترکیب،   الموجز اول،   مبادی النحو، فقہ استدلالی حبیب الحسن 9
 مسئول مطالعہ و مطبخ   آداب  اسلامی،     احکام  سوم ،   تاریخ اسلام، صرف میر حبدار علی 10
مسئول کلاس ایف اے اسلامیات۔   مطالعہ پاکستان، اسلا میات اختیاری نقی عمران 11
مسئول دفتر  احکام اول،   علم تعلیم 1  ،    علم تعلیم 2 خادم حسین 12
کوائف  ملازمین 
کفیت نام نمبر شمار
کیر ٹیکر آفتاب حسین 1
ڈرائیور سید   علی اسد 2
باورچی سید تصویرحسین شاہ 3
تندورچی سید شاہدحسین شاہ 4
سکیور ٹی گارڈ فرمان علی 5
سکیور ٹی گارڈ جاوید اختر 6
سکیور ٹی گارڈ واجد علی 7
آفس بوائے کاشف رضا 8
سویپر شریف 9

تعلیمی سال: جامعہ کا تعلیمی سال دو ٹرموں پرمشتمل ہے جو   کہ 15اگست سے شروع اور 15 جون کو اختتام ہوتا ہے   ہر ٹرم   کے آخر میں امتحان لیا جاتا ہے۔
طلباء: سال گزشتہ جامعہ میں طلاب کی تعداد 65 تھی اور جامعہ کے تقریباً 100 سے زائد  طلبہ حوزہ  علمیہ نجف اشرف اور حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم ہیں اور  100 فارغ التحصیل طلبہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ۔
دوران سال طلاب کی تعداد 
 سال  گزشتہ ابتدا ء  میں طلبہ کی تعداد 50
نئے طلبہ جن کو داخلہ دیا گیا 12
دوسرے مدارس سے آنے والے طلبہ جن کو داخلہ دیا گیا 5
 کل طلباء کی تعداد سال گزشتہ 67
دوران سال مجبورری کی وجہ سے مدرسہ چھوڑنے والے طلاب کی تعداد 9
دائرہ امتحان2025 میں شرکت کرنے والے طلاب کی تعداد 45
عذر موجہ دائرہ امتحان میں شرکت  نہ کرنے والے طلاب کی تعداد 13
سال کے اختتام پر فارغ طلاب کی تعداد 6

جامعہ کے امتحانات کے نتائج: تمام کلاسز کا ایک ماہ  وار ٹسٹ لیا جاتا ہے اور جامعہ کاسال تحصیلی   دو ٹرموں پر مشتمل ہے ہر ٹرم کے بعد ایک امتحان لیا جاتا ہے۔
  پہلی ٹرم کا رزلٹ %70
دوسری ٹر م کا رزلٹ %50
مجموعی نتیجہ 60

وفاق المدارس کے امتحانات کے نتائج
عامہ ( میڑک) کا امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد 5 (رزلٹ 100فیصد)
خاصہ ( ایف اے ) کا امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد 8 (رزلٹ 100فیصد )
عالیہ (بی اے)  کا امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد 4   (رزلٹ 90فیصد)
عالمیہ( ایم اے) کا امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد    3   (رزلٹ 100فیصد  )

 بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لی جانے والے طلاب
جامعہ المصطفی العالمیہ قم المقدسہ 6
 جامعہ کلیۃ المعارف  کربلا عراق 1
عصری تعلیم:
معاشرے  میں ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا  کرنے کیلئے دینی طلبا کا عصری علوم میں  مہارت حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اس وقت جامعہ میں باقاعدہ (ایف  اے)   کی کلاسز  جاری ہیں ۔
عصری تعلیمی کار کردگی2024-2025 تعداد رزلٹ
فیڈرل بورڈ سے ریگولر ایف  اے    پارٹ ون کا امتحان دینے والے طلبہ    کی تعداد 11
فیڈرل بورڈ سے ریگولر ایف  اے    پارٹو   کا امتحان دینے والے طلبہ    کی تعداد 17
یونیورسٹیز سے ماسٹر /بی ایس کرنے والے طلبہ 5   
نمل میں بی ایس  کے پروگرام میں مشغول طلبہ 1
الحمد یونیورسٹی میں بی ایس  کے پروگرام میں مشغول طلبہ 4

جامعہ میں روزانہ کا شیڈول: 
حسب معمول 7:40 پر اسمبلی ہوتی ہے۔ صبح 8 بجے سے لیکر 12:20 تک کلاسز ہوتی ہیں۔ نماز ظہرین   اور کھانے کے بعد طلبا آرام کرتے ہیں۔ اس کے بعد مطالعہ کیا جاتا ہے  اور مطالعہ کے بعد سے اذان مغربین تک  طلبا  کھیلنے یا اپنے دیگر امور انجام دینے میں آزاد ہوتے ہیں، جس کے بعد   نماز مغربین کے بعد   ڈیڑھ   گھنٹے کا مباحثہ ہوتا ہے۔
دعا و مناجات 
انسان کی معنوی تربیت میں دعاؤں کی تا ثیر مسلمہ ہے،  چنانچہ جامعہ میں طللبا شب بدھ کو دعائے  توسل،  جمعرات کی صبح زیارت عاشورہ اورشب جمعہ دعاکمیل اور جمعۃالمبارک کی صبح دعائے ندبہ پڑھتے ہیں ۔
 

  
فنٰ خطابت: طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہفتہ وار پروگرام بعنوان  بزم حسینی منعقد ہوتا ہے جس میں طلباکو خطابت کرنے کا موقع ملتا ہے۔




یوم نظافت 
ہر سہ ماہی میں ایک دن یوم نظافت کے عنوان سے منایا جاتا ہے جس میں طلبہ اپنے کمروں اور مدرسہ کی پوری بلڈنگ کی صفائی کرتے ہیں
 
ماہانہ اساتذہ و طلاب نشست
جامعۃ الرضا میں ہر سال تحصیلی کے ماہانہ محاسبہ کی غرض سے ہر ماہ اساتذہ و طلاب کی مشترکہ نشست کی جاتی ہے جس میں تمام طلاب کرا م و اساتذہ کرام شرکت کرتے ہیں اور طلاب عزیز کی ماہانہ کارگردگی بیان کی جاتی ہے۔ نشست کی تصویری جھلکیاں یہ ہیں: 





اساتذہ میٹنگ
کسی بھی ادارے کےقوانین کو منظم کرنے کے لیے باہمی مشاورت کا ہونا ضروری ہے ۔ اس سال جامعہ میں تعلیمی و تربیتی  نظام کے حوالے سے  اساتذہ کرام/ علماء کرام کی کل 9 میٹنگ  ہوئی ہیں ۔
 
تبلیغی پروگرامز  طلاب جامعہ الرضا
ماہ رمضان اور ماہ محرم الحرام میں جامعہ کے سینئر طلباء تعلیم کے ساتھ ساتھ تبلیغ کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں سال سابق کی طرح اس سال بھی  ماہ رمضان المبارک میں جامعہ کے کچھ سینئر طلباء نےمختلف مقامات پر تبلیغی خدمات انجام دیں اس کے علاوہ ہر اتوار کو بھی بہارہ کہو کے مضافات میں  بچوں کو  قرآن و عقائد اور سیرت اہل بیت ؑ پر دروس دیتے ہیں ۔ 



درس اخلاق
طلاب  کرام کی معنوی رہنمائی کے لیے  ہفتے میں ایک  دن  اجتماعی درس اخلاق  کا اہتمام کیا جاتاہے۔جس میں مختلف اساتذہ کرام مختلف موضوعات پر طلاب کرام کو درس دیتے ہیں  


کھیل اور تفریح 
بچوں کی جسمانی وذہنی نشونما کے لیئے کھیل اور ورزش نا گزیر سمجھا جاتا ہے






ایام اور مناسبتوں کا احیا
ایام اور مناسبتوں کا احیا طلبا کی فکری و تربیتی نشونما کیلئے ضروری ہے۔ چنانچہ اس سال اہم قومی و دینی ایام اور مناسبتوں کے احیا پر خصوصی توجہ دی گئی۔

یوم تکبیر اقبال ڈے



اسلامی انقلاب کی سالگرہ یوم کشمیر 



برسی امام خمینی          یوم معلم




قوموں کی حیات کا راز شہداء کی یاد منانے میں مضمر ہے، بسلسلہ شہدائے فلسطین ، کشمیر لبنان، اور  پارہ چنار کی مناسبت سے جامعہ میں مجالس ترحیم منعقد  کرائی جاتی ہیں۔






شعبہ تحقیق 
طلبا  کی علمی صلاحیتوں کو فروغ دینےکے لیے   شعبہ تحقیق قائم کیا گیا ہے۔  جس کے مسئول  جناب ڈاکٹر نذر عباس   جعفری صاحب ہیں۔  اس  سال  اس شعبہ کا آغاز ہوا۔






ہم نصابی سر گر میاں 
1- ولادت امام علی(ع)
ولادت باسعادت امیرالمؤمنین امام علیؑ  کی مناسبت سے جامعہ ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں طلاب کرام نے بھر پور شرکت کی اور امام کی شان اقدس میں  گل ہائے عقیدت  پیش کیا۔





2۔ تعلیمی دورہ جات 
طلبا کی وسعتِ فکری کیلئے تعلیمی دورجات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سال طلبا نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کا تعلیمی دورہ کیا اور ورکشاپس میں شمولیت بھی کی۔



الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی: مستعد اور فعال طلبا کی مدیرانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے طلبا پر مشتمل ایک سوسائٹی بنائی گئی ہے جو  اساتذہ کے زیرِ نگرانی اپنی سرگرمیاں انجام دیتی ہے       




سالانہ جشن ولادت امام رضا ؑ: 
9مئی2025 ء بروز جمعہ جواد الائمہ بلاک، جامعۃ الرضا، اسلام آباد میں جشن منعقد کیا گیا۔ جس میں مختلف علماء کرام  اور مومنین کرام  کی کثیر  تعدادنے شرکت کی۔جشن سے مختلف علمائے کرام نے خطاب کیا آخر میں جشن  کے مہمان خصوصی حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ انور علی نجفی صاحب نے جشن سے خطاب کیا۔جشن کے اختتام پر نتائج کی تقریب منعقد کی گئی جس میں جامعۃ الرضا کے فارغ التحصیل طلاب کرام کی عمامہ پوشی کی گئی اور طلاب کرام میں حسن کارکردگی کے انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔  




دینیات سنٹرز
آج کے اس ماحول میں بچوں کی دینی  اور فکری   تربیت     لیے قرآن اور عقائد و سیرت کی تعلیم ضروری ہے۔  اس  ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے  جامعہ  کی زیر سرپرستی   محلے کے بچوں کے  لیے جامع مسجد علی ابن ابی طالب ایک  دینیات سنٹر   قائم  کیا گیا   ہےجس میں 70 سے زائد  طلبا  زیر تعلیم ہیں ۔





ملکی و غیر ملکی شخصیات کا دورہ
ملکی شخصیات کا دورہ

آیۃاللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی صاحب  زعیم حوزہ علمیہ جامعہ  المنتظر و صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان
حجۃ الاسلام والمسلمین سید افتخار حسین نجفی  صاحب چیر  مین امام خمینی ٹرسٹ
حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ انور علی نجفی صاحب وکیل مطلق آیۃ اللہ سید علی سیستانی (جامعہ الکوثر)
حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر غلام  جابر محمدی  مسئول  تعلیم جامعہ المصطفیٰ 
حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حُر شُبیری صاحب آف بر طانیہ







غیر ملکی شخصیات کا دورہ
آیۃاللہ سید عزالدین حکیم  عراق
حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ  داد سرشت تہرانی (نمائندہ جامعہ المصطفیٰ پاکستان)






کامیابیاں
اس سال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جامعہ المصطفی العالمیہ قم المقدسہ میں 6 طلاب  کو داخلہ ملا ہے 
اس وقت4طالب  یونیورسٹی میں بی ایس کے پروگرام میں زیر تعلیم ہیں۔ 
اس سال   وفاق المدارس سے 6 طلباء نے  عالمیہ کا امتحان درجہ اولیٰ میں پاس کیا ہے۔
نوآوری
طلاب کی سکلز میں اضافہ کے لیے کمپیوٹر کلاسز 
فن تحقیق کی کلاسز
ہیلتھ کیمپ 
طلاب کے تعلیمی دورہ جات    ( دی ایمز کالج)  (  تین روزہ  ورکشاپ)
کشمیر ڈے
اقبال ڈے
یوم تکبیر
یوم شہداء
مشکلات
لائبریری کا نامناسب ماحول
میس( مطبخ  ) کی نامناسب جگہ
کلاس رومز کی قلت
اکادمی کمیٹی کےارکان
1) جناب پرو فیسر سید  امتیاز علی رضوی صاحب(چئیرمین  نورالھدیٰ ٹرسٹ  بارہ کہو)
2) جناب  حجۃ الاسلام  والمسلمین سید حسنین عباس گردیزی صاحب   (پرنسپل  جامعہ الرضا   )
3) جناب  حجۃ الا سلام  والمسلمین ڈاکٹر غلام جابر محمدی  (مسئول تعلیم جامعہ المصطفی العالمیہ اسلام آباد )
4) جناب  حجۃ الا سلام  والمسلمین ڈاکٹر علی  کاظمی صاحب
5) جناب  حجۃ الا سلام  والمسلمین ڈاکٹر  محمد نذیر اطلسی صاحب     ( مسئول تعلیم جامعہ الرضا)
6)    جناب  حجۃ الا سلام  والمسلمین ڈاکٹر نذر عباس جعفری صاحب( مسئول  تربیت  جامعہ الرضا) 
 جواد الا ئمہ     بلڈنگ کی تعمیرات کی تصویری  جھلکیاں 
جواد الائمہ بلاک،  یہ  جامعۃ الرضا کی نئی زیرِ تعمیر بلڈنگ ہے جو    دفاتر ، کلاس رومز ، لائبریری، کانفرنس ہال، باورچی خانہ، مہمان خانہ، ، کمپیوٹر لیب۔۔۔وغیرہ پر مشتمل ہے۔
 
 

جمعہ، 20 فروری، 2026

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

ڈاکٹر نذر حافی : 
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم : 
یہ بھی عجب المیّہ ہے۔ خاموشی کا المیّہ ، اور  سُکھ چین کا المیّہ۔  مقبوضہ جمّوں و کشمیر جل رہا ہے اور نیرو  چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ غزہ امن بورڈ کے ابتدائی اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف  نے  مسٹر ٹرمپ کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے لیکن  کشمیری عوام کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بلاشبہ  اس خاموشی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے تاریخی اور اخلاقی کردار پر  ایک گہری چوٹ لگائی ہے۔ ملتِ پاکستان پہلے ہی غزہ امن بورڈ کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتی ہے،  اب اگر ایک اس فورم پر پاکستان  اپنے اخلاقی فریضے یعنی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کو نظر انداز کرتا ہے  تو پھر فلسطینیوں کی کیا خاک مدد کرے گا؟ ہماری دانست میں  آگے چل کر اس خاموشی  سے پاکستان کی عالمی ساکھ،  مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اس کی مقبولیت  اور دنیا میں پاکستان کے  سفارتی اثرورسوخ پر دیرپا  منفی اثر پڑے گا۔
سنہ 1989 سے اب تک مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد رپورٹوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں  ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ 2016 کے بعد صرف پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان بینائی سے محروم اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اگست 2019 میں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد طویل کرفیو، مواصلاتی بندش، اور ہزاروں سیاسی کارکنوں و نوجوانوں کی گرفتاریوں نے وادی کو ایک وسیع حصار میں تبدیل کر دیا۔
اس دوران وادی میں ناکہ بندیوں کا جال، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندیاں، اور انٹرنیٹ کی طویل معطلی نے تعلیمی و معاشی سرگرمیوں میں شدید اختلال پیدا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق چند مہینوں میں ہزاروں افراد حراست و تفتیش کے مراحل سے گزرے، درجنوں صحافی اور کارکن قانونی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں، اور متعدد بستیوں میں جھڑپوں اور تصادم کا بازار گرم رہا۔ اس وادیِ بے اماں میں لفظ "سلامتی" اپنی آبرو کھو چکا ہے۔
اب بھارت کشمیریوں کے خلاف منشیات کو بطورِ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ قابض حکام نے منشیات کے مسئلے کو ابتدا میں خطرہ قرار دیا، اور پھر اسی خطرے کے نام پر تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کو ضرورت کا درجہ دے دیا۔ پرویز گجر اور دیگر ہدف بننے والے افراد کے قتل اور منشیات کے بڑھتے رجحان کے درمیان ایک مبہم مگر معنی خیز ربط موجود ہے۔ ایک طرف منشیات اور سماجی دباؤ کے ذریعے نوجوان نسل کو جسمانی، اخلاقی اور دینی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف اسی فضا میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں انجام پا رہی ہیں۔
بھارت اب صرف کشمیر کے جغرافیے پر قابض نہیں رہا؛ وہ ایک طاقتور دیو کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نوجوانوں کے افکار، پہاڑوں کی بلندیاں، پانی کا بہاؤ، راستوں کی نگرانی، اور بستیوں کی آبادی ۔۔۔ سب کچھ بدل رہا ہے۔ پاکستان کو اس تبدیلی سے آنکھیں نہیں چرانی چاہیے۔ خطرہ پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو فریق زمین پر قابض ہے، وہ زمانے کی رفتار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نگرانی، رسائی اور فوری ردِعمل کی مکمل صلاحیت حاصل ہے۔ وہ عملاً کشمیریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی، راستوں اور بلند مقامات پر کنٹرول، اور آبادی کی جغرافیائی ترتیب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جو فریق زمین اور راستوں پر کنٹرول رکھتا ہے، وہ سماجی اور سیاسی حرکیات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آج مقبوضہ کشمیر میں بھارت صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں۔ اس کا وجود بیانیہ، قانون، جغرافیہ اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ میڈیا سروس اور مختلف طبی و سماجی سروے رپورٹوں کے مطابق، اگر جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ پیدا کر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کہیں پر بھی جب نوجوان آبادی امید، روزگار اور سیاسی شرکت سے محروم ہو جائے، تو سماجی خلا منفی رجحانات سے بھر جاتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں 90 فیصد کی عمر 17 سے 35 سال کے درمیان ہے۔ حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 1500 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ شدید سماجی اور نفسیاتی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے شعبہ نفسیات اور محکمہ سماجی بہبود نے اس رجحان کو ایک ابھرتے ہوئے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے طور پر شناخت کیا ہے۔ریاست کی خصوصی حیثیت پر بھارت نے شب خون مارا، لیکن اب افراد کی ذہنی، سماجی اور معاشی زندگی بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، مزاحمتی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے غیر سیاسی اور غیر فعال بنانا قابض فورسز کی حکمتِ عملی ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو منشیات کا بحران صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ شعور اور ارادے کی جنگ کا ایک اہم پہلو بھی ہے۔
دوسری جانب بھارتی پیراملٹری فورس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، نے 43 عارضی آپریٹنگ اڈے قائم کیے، جن میں 26 وادی کشمیر اور 17 جموں میں ہیں، زیادہ تر بلند و بالا علاقوں میں۔ اس پیش رفت کے ذریعے بھارت نے اپنی جغرافیائی برتری سے کشمیریوں کے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی طرح، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کیا رنگ دکھائے گی؟ کیا پاکستان کو اس سارے منظرنامے سے الگ تھلگ رہنا چاہیے؟کیا  یہ خطرہ پاکستان کے لیے چیلنج نہیں؟ کیا کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ ہے یا پاکستانیوں کا بھی؟
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اجلاس میں کشمیری عوام کا ذکر نہ کر کے  یہ پیغام بین الاقوامی سطح پر دیا ہے کہ پاکستان کشمیری ایشو پر اتنا زیادہ پرعزم نہیں۔یہ صورت حال خاص طور پر مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے، کیونکہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا وکیل رہا ہے۔ یہ بھارت کی  سفارتی فتح بھی ہے کہ پاکستان اس فورم کی وساطت سے  کشمیر ایشو کو عالمی ایجنڈے پر نہیں لے جا سکا۔ اس سے  امریکہ اور دیگر مغربی ممالک  کو بھی یہ تاثر گیا ہے کہ پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا اور  اپنے مفادات کو کشمیر سے  جداگانہ طور پر دیکھتا ہے۔ بہر حال یہ کیسا اخلاقی تضاد ہے کہ کشمیریوں کے وکیل  وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد عالمی سطح پر نظرانداز کی جا رہی ہے، اور پاکستان کی ترجیحات میں کشمیری مسائل پچھلی صفوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ بھارت تو پہلے سے ہی  ہر میدان میں  اخلاقی پستی کا مظاہرہ کر چکا ہے، کیا اب پاکستان بھی کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے دستبردار ہوا چاہتا ہے؟ خدا نہ کرے کہ ہم عالمی برادری کے بیچ میں اپنی  اخلاقی جرات ہی کھو دیں چونکہ  جو انسان اخلاقی جرائت کھودے وہ دوسروں کی کیا حمایت کرے گا،  وہ تو  اپنی آزادی اور وقار کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔



منگل، 17 فروری، 2026

🌙 رمضان المبارک میں…🌙ہر سال ایک سوال اٹھتا ہے:

🌙 رمضان المبارک میں…🌙
ہر سال ایک سوال اٹھتا ہے:
بھکاریوں کو نہ دیں تو پھر کس کو دیں؟
ہم کہتے ہیں ہمیں سفید پوش نظر نہیں آتے… مگر کیا ہم نے کبھی تلاش کیا؟
✨ سفید پوش وہ ہے جو مانگتا نہیں، مگر ضرورت مند ہوتا ہے۔
ذرا اردگرد دیکھیے…
🚰 جو آپ کے گھر پانی سپلائی کرتا ہے…
🛡️ بینک کے باہر کھڑا سیکیورٹی گارڈ…
🧹 آپ کے گھر کام کرنے والی خاتون…
🎈 گلی میں معمولی چیز بیچنے والا…
♻️ کباڑ خریدنے والا…
🥕 دھوپ میں بیٹھا بوڑھا سبزی فروش…
🛵 روزے کی حالت میں ڈیلیوری کرنے والا نوجوان…
👞 چوک میں جوتے پالش کرنے والا…
🌳 پارک کا مالی…
🕌 مسجد کا وہ امام جو معمولی تنخواہ میں پورا گھر چلا رہا ہے…
👦 ورکشاپ میں کام کرنے والے کم سن بچے…
🧱 سارا دن مشقت کرنے والا مزدور…
👨‍👩‍👧 کسی گھر کا واحد کمانے والا فرد…
اور ذرا مزید غور کیجیے…
💊 وہ مریض جو مہنگی دوائی خریدنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے…
👴 وہ بوڑھا شخص جو بڑھاپے میں کسی کا محتاج نہیں بننا چاہتا…
🧕 وہ بیوہ یا یتیم خاندان جو خاموشی سے گزارا کر رہا ہے…
🏠 وہ ہمسایہ جو کرایہ اور بلوں کی فکر میں راتوں کو جاگتا ہے…
اور شاید…
🤲 آپ کے اپنے والدین، جو اپنی ضروریات چھپا لیتے ہیں…
👫 بڑے بہن بھائی، جو سب کی ذمہ داریاں اٹھا کر خود کو نظر انداز کر دیتے ہیں…
💔 وہ رشتہ دار جو خودداری کی وجہ سے کبھی مدد نہیں مانگتے…
یہ سب بھی سفید پوش ہو سکتے ہیں۔
🔎 سفید پوش کی پہچان کیا ہے؟
• وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا۔
• اپنی عزتِ نفس کو مقدم رکھتا ہے۔
• تکلیف میں بھی خاموش رہتا ہے۔
• ضرورت کے باوجود زبان نہیں کھولتا۔
💝 ہم کیا کر سکتے ہیں؟
✔ راشن خاموشی سے پہنچا دیں۔
✔ دوائی کا خرچ اٹھا لیں۔
✔ بجلی، گیس یا کرایہ ادا کر دیں۔
✔ بچوں کی فیس جمع کرا دیں۔
✔ عید کے کپڑے تحفے کے انداز میں دے دیں۔
✔ والدین اور بزرگوں کی ضروریات خود پوچھ کر پوری کریں۔
✔ کسی کو روزگار یا چھوٹا کاروبار شروع کرنے میں مدد دے دیں۔
یاد رکھیے…
💖 صدقہ صرف پیسے دینا نہیں، کسی کی عزت بچانا بھی ہے۔
🤍 سب سے افضل مدد وہ ہے جو دل نہ دکھائے۔
🌙 رمضان ہمیں صرف روزہ رکھنا نہیں سکھاتا…
وہ ہمیں دوسروں کا سہارا بننا سکھاتا ہے۔
انہیں تلاش کیجیے۔
چہرے پڑھنا سیکھیے۔
ضرورت سمجھنا سیکھیے۔
اور جب دل اجازت دے…
تو ایسے دیجیے کہ لینے والے کی آنکھ نہ جھکے، اور دینے والے کا نام نہ آئے۔
✨ یہی رمضان کی اصل روح ہے۔
شکریہ۔

پیر، 16 فروری، 2026

رمضان المبارک اور اردو زبان قارئین کیلئے ایک خوشخبری

رمضان المبارک اور اردو زبان قارئین کیلئے ایک خوشخبری

ڈاکٹر نذر حافی

ماہِ مبارک رمضان کا آغاز ہُوا چاہتا ہے۔ اس مہینے میں آپ یقیناً بہت ساری دعائیں پڑھتے ہونگے۔ اس کے باوجود شاید آج تلک  آپ کو معصومین ؑ کی  دُعاوں پر مشتمل   ایک ایسی کتاب کا عِلم نہ ہو جو آج سے سات سو سال پہلے تالیف کی گئی ہے۔ ایسی کتاب سے  ہماری مراد  "   إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ " ہے اور یہ تصنیف ہے  سید ابن طاووسؒ کی۔

اگر کسی نے ماہِ مبارک رمضان کے  اعمال، دعاؤں اور زیارات کا جامع خزانہ  دیکھنا ہو تو وہ اس کتاب کو دیکھے، نیز یہ کتاب   باطن کی طہارت،   دل کی صفائی، روح کی روشنی اور عقل و شعور کی ہم آہنگی کی راہ بھی دکھاتی ہے۔یقین جانئے  اس کا  ہر صفحہ قاری کے دل کو نورانی کرتا ہے، اور  ہر دعا معرفت کے درجات کو بلند کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کتاب  کا اسلوب نہایت روحانی،  انداز انتہائی فصیح، عبارتیں نہایت بلیغ، اور اس کی نثر ایسی موزوں ہے کہ دل کو مائل اور روح کو قائل کرتی ہے۔

اردو  زبان قارئین کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ پہلی مرتبہ  اس کتاب کا اردو  ترجمہ مرتبہ منظرِ عام پر آگیا ہے۔ جہاں تک اس کے ترجمے کے بارے میں ہمارے مشاہدے کا تعلق ہے تو  ہماری رائے میں  فاضِل مترجم ِ حجّۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نےترجمہ کرتے ہوئے اصل عبارت کی  روحانی لطافت اور جملہ بندی کی  عرفانی دلکشی کی خوب رعایت کی ہے۔ یہ ترجمہ آج کی اُردو زبان کے جدید تقاضوں کے مطابق  فصیح و بلیغ ہونے کے ساتھ ساتھ سلیس اور رواں  بھی ہے۔ چنانچہ  نوجوانوں، جوانوں اور بزرگان کیلئے یکساں طور پر مفید ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کوشش کریں کہ اس سال آپ کا یہ مبارک مہینہ اس کتاب کے ساتھ بسر ہو۔  اس وقت   ماہِ مبارک رمضان میں یہ ترجمہ جامعۃ الرضا اسلام آباد سے دستیاب ہے۔

کتاب کے بارے میں مزید کچھ بات کرنے سے پہلے مصنِّف کے بارے میں چند  باتیں  جان لیجئے۔ بلاشبہ  کتاب کی مانند اس کے مصنِّفؒ بھی لاجواب شخصیّت کے حامل ہیں۔  مسلمانوں  کے درمیان  السَّيِّدُ رَضِيُّ الدِّينِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَىٰ بْنِ طَاوُوسٍ الْحِلِّيُّ (۵۸۹–۶۶۴ھ)  کو  دعا نویسی کا عَلَم بردار اور اس فن کا  امام مانا جاتا ہے۔آپ  دینِ اسلام  کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنے شدید ورع و تقویٰ، اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ سیرت اور عرفانی کیفیات کے باعث انہیں "جَمَالُ الْعَارِفِينَ" کا لقب دیا گیا۔آپ  کے اساتذہ و تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں الْعَلَّامَةُ الْحِلِّيُّ اور ان کے والد الشَّيْخُ يُوسُفُ سَدِيدُ الدِّينِ زیادہ نمایاں ہیں۔ انہوں نے اپنی حیاتِ علمی حِلّہ، بغداد، نجف، کربلا، کاظمین اور سامرہ میں بسر کی۔ انہیں صاحبِ کرامات شمار کیا گیا ہے اور امامِ زمانہؑ سے ان کی والہانہ عقیدت ان کی تحریروں میں جابجا نمایاں ہے۔ خود الْعَلَّامَةُ الْحِلِّيُّ نے فرمایا کہ سید بن طاووسؒ صاحبِ کرامات تھے، ان کی بعض کرامات  علامہ حِلّی  نے خود بیان کیں اور بعض  انہوں نے اپنے والدِ گرامی سے روایت کیں۔

 اس وقت ہم آپ کی ایک کتاب   إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ کے بارے میں اپنی کچھ معروضات پیش کرنے جا رہے ہیں۔  اس کتاب  میں معصومینؑ کی دعاؤں، زیارات اور سال بھر کے اعمال کو نہایت اہتمام اور اهتمام کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ کتاب اقبال الاعمال ،شیعہ مجتہدین و مراجع کے نزدیک ایک  اہم ماخذ و منبع کا درجہ رکھتی ہے۔ شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں بہت سے متون اقبال الاعمال سے نقل  کئے ہیں اسی طرح اس کتاب کی تصنیف کے بعد  کے  تقریبا تمام تر محققین  نے ادعیہ اور زیارات کے موضوع میں اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک یہ دعا نویسی کے باب میں سب سے اہم ،  مفصل  اور  معتبر تصنیف شمار ہوتی ہے۔ اس میں سال کے  بارہ  مہینوں کے اعمال مذکور ہیں،  البتہ ماہِ رمضان  کی اہمیّت کے پیشِ نظر اس مہینے کے اعمال ایک مستقل حصے الْمِضْمَارِ کے عنوان سے الگ جلد میں جمع  کیے گئے ہیں۔ صرف عمل و عبادت تک محدود نہیں بلکہ اس میں معرفت و حکمت، عقل و ضمیر کی روشنی، اور روحانی بصیرت بھی سما ئی ہوئی ہے۔ اس کتاب جہاں  ہر قمری مہینے کے اعمال اور نمازیں بیان کی گئی ہیں، وہیں روحانی بصیرت، باطنی آداب، اور قلبی صفات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

محققین کے مطابق تألیفِ إِقْبَالِ الْأَعْمَالِ کے وقت مصنِّف ؒکے پاس پندرہ سو جلدوں پر مشتمل کتب موجود تھیں۔ خود انہوں نے اپنی کتاب كَشْفُ الْمَحَجَّةِ میں تصریح کی ہے کہ ان میں ساٹھ سے زائد جلدیں صرف ادعیہ پر مشتمل تھیں۔ نیز آقا بزرگ طہرانی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب الذَّرِيعَةُ میں لکھا ہے کہ جب وہ مُهَجُ الدَّعَوَاتِ کی تصنیف میں مشغول تھے تو قدیم امامیہ کی ستر سے زائد دعائیہ کتب ان کے پیشِ نظر تھیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ محض اعمال و عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ عرفانی نکات، روحانی اشارات اور تاریخی واقعات کا مرقع بھی ہے۔ اس میں دعا کے ظاہری آداب کے ساتھ باطنی رسوم کی تلقین، اور متعدد تاریخی واقعات جیسے واقعۂ مباہلہ، واقعۂ غدیر، اور نماز میں انگشتری عطا کرنے کا واقعہ وغیرہ کا  ذکر بھی ملتا ہے۔ اسی طرح بعض مباحث، مثلاً امیرالمؤمنینؑ کی قبر کے مقام کے تعیین اور دحو الارض کی توضیح بھی اس میں مذکور ہے۔انہوں نے اپنی اس کتاب کو اپنی دیگر دعائیہ تصانیف کے ساتھ مل کر مِصْبَاحُ الْمُتَهَجِّدِ از الشَّيْخِ الطُّوسِيِّ کا متمم و مکمّل قرار دیا ہے۔

سید ابنِ طاووس نے اپنی کتاب فَلَاحُ السَّائِلِ کے مقدمے میں ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے جدِّ بزرگوار الشَّيْخُ الطُّوسِيُّ کی کتاب مِصْبَاحُ الْكَبِيرِ کے تتمات تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ کتاب إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ اُن تتمات میں آٹھویں کتاب قرار پائی۔ انہوں نے اس کی تالیف کا آغاز سنہ ۶۵۰ھ میں کیا، اور چونکہ ان کی ولادت ۵۸۹ھ میں ہوئی تھی، اس لحاظ سے اُس وقت ان کی عمر تقریباً ساٹھ برس تھی۔سید ابنِ طاووس نے کتاب کے خاتمے میں تصریح کی ہے کہ وہ اس کی تالیف سے بروز پیر ۱۳ جمادی الاولیٰ ۶۵۵ھ کو فارغ ہوئے، اور یہ تکمیل حائرِ حسینی ؑ میں ہوئی ۔

عموماً السَّيِّدُ ابْنُ طَاوُوسٍ کتاب إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ میں جن روایات کو نقل کرتے ہیں اُن کے متن میں کوئی تصرّف نہیں کرتے، بلکہ روایت کو بعینہٖ اسی طرح ذکر کرتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی دعا مأثور (یعنی معصومینؑ سے منقول) نہ ہو تو وہ اس کی صراحت کر دیتے ہیں کہ یہ انشائی دعا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دعاؤں کے علاوہ سال کے ہر قمری مہینے کے مخصوص اعمال اور ان میں وارد شدہ نمازوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔

توجہ رہے کہ بہت سے مقامات پر وہ دعا یا روایت کو مکمل سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں، اور بعض موارد میں صرف اُس کتاب تک اپنی سند بیان کرتے ہیں جس سے وہ دعا یا عمل نقل کر رہے ہوتے ہیں۔کئی جگہوں پر انہوں نے قاری کے لیے تمہیدی کلمات بھی تحریر کیے ہیں تاکہ موضوع کی بہتر تفہیم ہو سکے۔ مثال کے طور پر ماہِ رمضان کے اعمال ذکر کرنے سے پہلے ایک مقدمہ بیان کیا جس میں ماہِ رمضان کی عظمت، روزہ رکھنے  کی حکمت، اور اُن روایات کا ذکر کیا جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ سال کی ابتدا ماہِ رمضان سے ہوتی ہے۔ نیز اس مسئلے میں مختلف آراء کی طرف اشارہ کیا اور روزہ داروں کے طبقات و اقسام کو بھی واضح کیا، وغیرہ۔

یہ کتاب دراصل السَّيِّدُ ابْنُ طَاوُوسٍ کی دو تصانیف پر مشتمل ہے اور تین اجزاء میں منقسم ہے، اور وہ دو تصنیفیں یہ ہیں:

۱۔ الْمِضْمَارُ السِّبَاقُ وَاللِّحَاقُ بِصَوْمِ شَهْرِ إِطْلَاقِ الْأَرْزَاقِ وَعِتَاقِ الْأَعْنَاقِ

۲۔  الْإِقْبَالُ بِالْأَعْمَالِ الْحَسَنَةِ فِيمَا نَذْكُرُهُ مِمَّا يُعْمَلُ مِيقَاتًا وَاحِدًا كُلَّ سَنَةٍ

پہلی تصنیف میں انہوں نے ماہِ رمضان کے اعمال و ادعیہ، اور اس مبارک مہینے میں بندے کا اپنے مولا کے ساتھ برتاؤ اور روحانی طرزِ عمل کس طرح ہونا چاہیے، اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ نیز پہلے حصے میں شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ جیسے تین مہینوں کے فضائل و فوائد بیان کئے ہیں۔دوسری تصنیف میں سال کے باقی مہینوں کے اعمال ذکر کیے گئے ہیں، اور وہ دو حصوں پر مشتمل ہےدوسرے حصے میں باقی تمام مہینوں کے اعمال بیان کیے گئے ہیں۔

ہماری دانست میں ماہِ مبارک رمضان میں ہر مسلمان  اور ہر طالبِ معرفت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ سید ابن طاووسؒ کی عظیم روحانی تصنیف إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ کی پہلی جلد اپنے پاس رکھے، تاکہ ماہِ رمضان کی برکتیں اپنی زندگی میں محسوس کر سکے۔ ہمیں فکر کرنی چاہیے کہ اس مرتبہ  کہیں ہمارا  ماہِ مبارکِ رمضان  "اقبالُ الاعمال"  کے بغیر نہ گزر جائے۔ آج ہی اپنے لیے اس جلد کو حاصل کریں اور رمضان کے ہر لمحے کو اعمال کی قبولیت، دل کی سکونت اور روح کی بیداری کے لیے خاص بنائیں۔ یہ کتاب ہر مسلمان  کیلئے  روحانی رہنمائی اور معرفت کا  گراں بہا خزانہ  ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت ساری کتابوں کا مطالعہ  کیا ہوگا۔اس ماہِ مبارک رمضان میں اس  ایک کتاب کا مطالعہ ہمارے کہنے پر بھی کر کے دیکھ لیجئے۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے یہ موبائل نمبر دیا گیا ہے:

03455398135

03455398135

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...