زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 6 نومبر، 2025

راجہ صاحب آف محمود آباد

راجہ صاحب آف محمود آباد

سید امتیاز رضوی :​

زمین میں دفن شدہ آسمان صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ زمین میں ان دفن شدہ آسمانوں میں سے ایک راجہ صاحب آف محمود آباد بھی ہیں۔ ان کے بارے میں ہم میں سے جو بھی جتنا جانتا ہے وہ کم ہی جانتا ہے۔ ان کے بارے میں اکثر معلومات کی کڑیاں مختلف زہنوں اور کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس وقت ہم ان کے بارےمیں چند حقائق کو مرتب کر کے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔

۔۱- راجہ صاحب آف محمود آباد کے دادا امیر حسن خان نے 1906 میں ہونے والے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا تمام خرچہ اٹھایا تھا جس اجلاس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی

۲- آپ کے دادا امیر حسن خان تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے

۳- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم کو اپنی اسٹیٹ محمود آباد کا قانونی وکیل بنایا تھا اس وقت قائد اعظم کے والد کا کاروبار ختم ہو چکا تھا وہ مفلس ہو گئے تھے اور اس قسم کی اشد ضرورت محسوس کر رہے تھے

۴- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم اور رتی جناح کا نکاح پڑھا تھا اور اپنی ملکیت میں موجود نینی تال کے میٹروپول ہوٹل میں نوبیاہتا جوڑے کے ہنی مون کا اہتمام کیا تھا

۵- آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ 1917, 1918 اور 1928 کی صدارت آپ کے دادا امیر حسن خان نے کی تھی

۶- محسن پاکستان محمد امیر احمد خان راجہ صاحب محمود آباد آل انڈیا مسلم لیگ کی کور کمیٹی کے سب سے کم عمر ممبر تھے

۷- آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے کم عمر خازن تھے اور تنظیم کے اکثر خرچے اپنی جیب سے کیا کرتے تھے

۸- آپ کی اسٹیٹ کی آمدنی اس زمانے میں چالیس لاکھ روپیہ ماہانہ تھی جو اکثر مسلم لیگ کے تنظیمی امور پر ہی خرچ ہو جاتی تھی

۹- 1937ء میں لکھنؤ میں ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس کا سارا خرچہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے اٹھایا۔ یہ اجلاس تحریک پاکستان کا ایک اہم موڑ تھا

۱۰- 1937ء کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے بعد قائد اعظم نے محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھنے کا حکم دیا جو راجہ صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ آپ اس تنظیم کے پہلے صدر بھی منتخب ہوئے۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے علی گڑھ سے لے کر پشاور تک نوجوان مسلم طالب علموں کو متحرک کیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا۔ نوجوانوں کے اس تحرک کا سہرا محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو جاتا ہے

۱۱- تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے اخبار DAWN کو قائم کرنے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک تمام سرمایہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے فراہم کیا

۱۲- قیام پاکستان کے بعد محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی اپنی جائداد حکومت پاکستان کے نام کر دی جس میں واشنگٹن امریکہ میں آپ کے ذاتی گھر میں آج بھی پاکستانی سفارت خانہ کام کر رہا ہے۔ کربلا معلی میں آپ کے ذاتی گھر کو پاکستان ہاؤس کا نام دیا گیا ہے

۱۳- 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارتی حکومت نے دشمن کی جائداد کے قانون کے تحت ہندوستان میں آپ کی اربوں روپے کی جائداد ضبط کر لی

۱۴- ان سب خدمات کے ہوتے ہوئے بھی آپ نے حکومت پاکستان میں کبھی نہ کوئی وزارت لی اور نہ سفارت بلکہ ایوب خان کی طرف سے کنونشن مسلم لیگ کی صدارت کے عہدے کو بھی ٹھکرا دیا۔ آپ کو ہندوستان میں اپنی جائداد کھو جانے کے بدلے میں تین فیکٹریاں کی آفر بھی کی گئی جسے بھی آپ نے ٹھکرا دیا

1۵۔محسن پاکستان محمد امیر احمد خان معروف بہ راجہ صاحب محمود آباد کے ہاں جب بیٹے کی ولادت ہوئی تو لوگوں نے حسب روایت جشن منانے کا مشورہ ديا۔ مگرآپ نے عجيب انداز سے اللہ کي اس نعمت کا شکرادا کيا۔ وہ اس طرح کہ رياست محمود آباد کي تمام 34 تحصيلوں سے کل ايسے افراد کي فہرست منگوائی جو موتيا کے مرض کا شکارتھے۔ چنانچہ انھوں نے گيارہ سو اٹھاون 1158 مريضوں کو اپنے علاقے کے کيمپ ميں ٹھہرايا اور تمام لوگوں کا مفت آپريشن ڈاکٹر ٹی پرشاد (جو اس وقت آنکھوں کے مشہور ڈاکٹر تھے) سے کروايا۔

14 اکتوبر کو اس عظیم انسان کی  برسی تھی لیکن پاکستان کا پورا میڈیا اس انسان کو یاد کرنے سے قاصر رہا۔ کیا عظیم قومیں اپنے مخلص محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہیں؟14 اکتوبر راجہ صاحب کا یوم وفات ہے۔ اس 14 اکتوبر کو اس عظیم انسان کی چھیالیسویں برسی تھی۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ دن کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ پاکستان کی تاریخ سے آشنا لوگ کہتے ہيں: پاکستان، سرسيد احمد خان کي تعليمی خدمات، قائد اعظم کي رہنمائی اورراجہ صاحب محمود آباد کي دولت کے مرہونِ منت ہے۔

 ———-

راجا صاحب محمود آباد حیات و خدمات۔ by حیدر، خواجہ رضی۔ Published by : Quaid-e-Azam Academy (Karachi) Physical details: 375 p. ; 21 cm. ISBN 969-413-072-7.

دیگر تحریریں

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...