میرے والد مرحوم کا نام اخوندمحمد تقی محمد ہے اور میں سکردو بلتستان سے ہوں۔ ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول میں حاصل کی اور وفاق المدارس سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ بی اے بھی کیا۔ دینی تعلیم کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا کیونکہ ہمارے خاندان میں علمائے کرم کی بہت عزّت کی جاتی ہے۔ خود میرے دادا جان اور میرے والد بھی ایک اچھے عالم دین تھے، میرے والد صاحب اپنے گاؤں کے ایک بہترین امام جماعت اور مرکزی خطیب بھی تھے لیکن 23 اگست 2021 کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
میں بچپن سے ہی اپنے محلے کے مدرسے کے ایک قران سینٹر میں بچوں کو قران اور احکام پڑھاتا رہا اور ساتھ ساتھ مجھے کسی دینی مدرسے میں پڑھنے کا شوق بھی تھا۔ میں شروع میں مدرسے کی تعلیم کے لیے عروہ الوثقیٰ چلا گیا پھر وہاں ڈیڑھ سال پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ جامعہ الرضا اسلام آباد میں داخلہ لیا۔
دینی طالب علم بننے کے بعد میں اپنے اپ کو ایک اچھا اور خوش بخت انسان سمجھنے لگنے لگا اور پہلے سے زیادہ خود سازی پر توجہ دینا شروع کر دی۔ ابھی جامعۃ الرضا اسلام آباد میں میرا حالیہ سیمسٹر بھی اچھا رہا ۔ میں نے جامعۃ الرضا میں اپنے کاموں کو منظم انداز میں انجام دینا سیکھا۔ یہاں کتابوں کا مطالعہ اور قرائت قرآن نیز بچوں کو قرآن پڑھانے جیسے میرے مشاغل بھی بطریقِ احسن جاری رہے۔
میں اپنے تمام دوستوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اپنے امور کو اس طرح منظم کریں کہ جب آپ فارغ التحصیل ہو کر معاشرے میں قدم رکھیں تو آپ کی تعلیمی و تربیتی صلاحیتیں بھرپور انداز میں نکھر چکی ہوں۔ سُست اور کاہل افراد معاشرے کا بوجھ اٹھانے کے بجائے معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں۔ میری آئیڈیل شخصیت رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں اور میری پسندیدہ کتابیں ڈھائی سو سالہ انسان اور اخلاقی کتابیں ہیں۔میری پسندیدہ غذا وں میں سرِ فہرست بریانی ہے اور مشاغل و کھیلوں میں سیر و تفریح، کوہ پیمائی، والی بال اور فٹ بال ہیں۔ میں نے اب تک کراچی، اسلام آباد، کشمیر ، لاہور اور مری جیسے مقامات کی سیر کی ہے ۔خدا نے مجھے قران پڑھانے، صوت و لحن اور قرائت و تجوید جیسی مہارتوں پر کام کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔
ابھی اعلی دینی تعلیم کیلئے اپنے اساتذہ اور مدیرِ مدرسہ کی ہم آہنگی اور شفقت کے باعث بیرونِ ملک جا رہا ہوں۔ یہ سب اللہ تعالی کی توفیق اور میرے شفیق اساتذہ اساتذہ کی محنت کا ثمر ہے۔ جامعۃ الرضا کے اساتذہ کو میں نے انتہائی محنتی، بااخلاق اور اپنے مضامین میں ماہر پایا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں اساتذہ ہر وقت ہر طالب علم کو حقیقی معنوں میں علم کی تلاش میں سعی و کوشش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ میں یہاں بھی اپنے اساتذہ کی اجازت سے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن پڑھانے کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ اس کی وجہ سے مجھے اپنی تدریس اور قرآن سکھانے کی مہارت کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اگر میری کوئی اچھی پہچان ہے یا مجھے کوئی توفیق نصیب ہے تو وہ میرے رب کا کرم اور میرے شفیق اساتذہ کے ہی باعث ہے۔
مجھے ابھی تک جن شخصیات سے ملنے کا شوق ہے وہ رہبر معظم سید علی خامنائی اور سید علی سیستانی ہیں ۔ میری زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ میں اپنے اپ کو امام زمانہ کا ایک سچا سپاہی ثابت کروں اور اپنی تمام تر زندگی ان کی رضا میں گزار دوں۔ میرے نزدیک سب سے بڑا ادمی وہی ہے جس کے ذریعے لوگ خدا سے جڑے رہتے ہیں اور خدا کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اچھی عادتوں کو اپناتے ہیں اور معاشرے میں ایک دوسرے کیلئے اچھے ثابت ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک ایک دینی طالب علم کیلئے دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم دونوں لازم ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں یہ دونوں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ میرا ہر وہ دوست میرا بہترین دوست ہے جو خود سازی کردار سازی کرانے میں میرے مددگار اور معاون ثابت ہوئے
جامعۃ الرضا کے ہاسٹل کی زندگی کے بارے میں یہ کہوں گا کہ جیسے ہر باغ سے اگر ایک ایک پھول کو لے کر کسی ایک جگہ جمع کرنے سے وہ جگہ مزید خوشبودار ہو جاتی ہے اسی طرح میں نے جامعۃ الرضا کی ہاسٹل لائف میں اپنے مختلف علاقوں کے طالب علم دوستوں کی اچھائیوں، حُسنِ معاشرت، اور تقوی و نیکی کی مہک کو قریب سے محسوس کیا ہے۔
باقی آئمہ معصومین ؑ، والدین، اور تمام اساتذہ کرام کی دعاوں کا محتاج ہوں، خدا مجھے دنیا اور اخرت میں کامیاب کرے۔میری ایک خواہش ابھی باقی ہے کہ اپنی زندگی میں حافظ قرآن بنوں، ان شااللہ آپ سب کو یہ خوش خبری بھی سناوں گا۔









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں