19 اپریل 1918 کو یعنی سات رجب 1339 ہجری اور جمعہ کا دن تھا اور مقام ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر واقع قائداعظم محمد علی جناح کا بنگلہ ’سائوتھ کورٹ‘ تھا جہاں رتن19 بائی اور قائداعظم محمد علی جناح رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔یہ نکاح مولانا حسن نجفی نے اثنا عشری عقائد کے مطابق پڑھایا۔ اس نکاح میں رتن بائی کے وکیل شریعت مدار آقائے حاجی شیخ ابوالقاسم نجفی اور قائداعظم کے وکیل جناب محمد علی خاں راجہ صاحب محمود آباد بنے۔ جب کہ محترم غلام علی، شریف بھائی دیوجی اور عمر سوبانی نے بطور گواہان نکاح نامے پر دستخط کیے۔ایک دوسری روایت کے مطابق یہ نکاح بمبئی کے مجتہد شیخ مولانا حسن نجفی صاحب نے پرنس سٹریٹ پر واقع اپنے مکان میں پڑھایا تھا اور قائداعظم کے رشتے کے بھائی رجب علی بھائی ابراہیم باٹلی والا نے نہ صرف اس نکاح میں بطور گواہ شرکت کی تھی بلکہ انھوں نے ہی اس نکاح کی رجسٹریشن پالا گلی مسجد میں بھی کروائی تھی۔ پالا گلی مسجد کےنکاح رجسٹر میں اس نکاح کا اندراج اس طرح ملتا ہے۔
"Item No 118, date April 19, 1918 Rajab Seventh (Villadat of our Maula Alumdar Hazrat Abbas-Peace be upon him) Meher:Rs 1001/= Gift Rs 125000/= Pesh Imam Maulana Hasan Najafi-Witness: Rajab Ali Bhai Ebrahim Batliwala,etc."
اس نکاح نامے کے مطابق مہر کی رقم مبلغ ایک ہزار ایک روپے مقرر ہوئی تھی جبکہ محمد علی جناح نے اپنی دلہن کو سوا لاکھ روپے بطور تحفہ پیش کیے تھے۔اب وہ یادگار لمحہ آیا جب دولہا نے دلہن کو انگوٹھی پہنانی تھی۔ انکشاف ہوا کہ دولہا صاحب اپنی بے پناہ مصروفیت میں انگوٹھی خریدنا بھول گئے ہیں ایسے میں راجہ صاحب محمود آباد جناح کی مدد کو آئے اور انھوں نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی جناح کو دی کہ وہ اسے اپنی دلہن کو پہنا سکیں۔نکاح نامے پر جناح کا مسلک خوجہ اثنا عشری تحریر کیا گیا۔
بشکریہ : بی بی سی https://www.bbc.com/urdu/pakistan-56790775








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں