ڈاکٹر نذر حافی:
انسان اپنی تخلیق کے بعداپنی ہی خلقت کا مقصد دریافت کرنے کی جستجو میں مصروف ہے۔ ہزروں سالوں سے یہی جستجو انسان کو نسل در نسل حرکت میں رکھے ہوئے ہے۔ انسان اس کائنات میں اپنی پیدائش کے مقصد کو پانے کیلئے مضطرب ہے۔بظاہر اس مقصد کو دینی تعلیمات میں قربِ الہٰی کہا گیاہے۔ اب یہ معمّہ ہے کہ قُربِ الہی کیا ہے ؟اور اسے کس طرح سے پایا جائے ؟ اسلام کا دعویٰ ہے کہ صرف اور صرف اسلامی تعلیم و تربیت کے ذریعےہی اس مقصد یعنی قُربِ الہی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ظاہرہے کہ اسلام نے اتنا بڑا دعوی بغیر کسی نقشے اور منصوبہ بندی کےنہیں کیا۔
اس نقشےاور منصوبہ بندی کو اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے ممکن بنانے کی خاطر مقدس کتابوں، معجزات، روشن دلائل، اور انبیائے کرام کی بعثت کے علاوہ عقل، ارادے، اختیار اور علم جیسے وسائل انسان کو عطا کئے ہیں۔ ان وسائل کے ذریعے انسان اپنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کارلاکر اُس نقشے کو تلاش کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس تلاش اور کوشش کو عملی کرنے کیلئے علماء پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ وہ جہلاء کو علم سکھائیں ، تاکہ انسان علم کی روشنی میں اپنے مقصدِ خلقت کو پاسکے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، ہر تعلیمی ادارہ چاہے وہ سکول و کالج ہو یا کوئی دینی مدرسہ، تبھی انسان کو اُس کی منزلِ مقصود یعنی قربِ خداوندی تک پہنچا سکتا ہے کہ جب وہ اسلامی بنیادوں ﴿قرآن و سُنّت﴾ اور اسلام کے تعلیمی و تربیتی قواع﴿قوانین﴾د پر استوار ہو۔دینِ اسلام کے مطابق صرف اور صرف اسلام کی مضبوط بنیادوں اور قوانین پر قائم تعلیمی ادارے ہی انسان کو اس کے حقیقی مقصد تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان اداروں کی فکری عمارت کی مانند ان کے انفرااسٹریکچر کی تعمیر میں بھی اسی طرح ایک جامع منصوبہ بندی، وسائل کی درست پیمائش، اور ایک واضح نقشہ ضروری ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر یہ واضح ہونا چاہیےکہ وہ صرف عبادات کے ساتھ قُربِ خداوندی کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اس مقام کے حصول کیلئے اُسے اسلامی تعلیم و تربیت کے سارے نقشے اور مکمل منصوبہ بندی پر عمل کرنا ہوگا۔
اسلامی تعلیم و تربیت کا مقصد صرف معلومات کا حصول یا مہارتوں کی ترقی نہیں، بلکہ انسان کو اُس کی تخلیقی صلاحیتوں اور فطری استعداد سے جوڑنا ہے۔ جب وہ اپنی تکلیقی صلاحیتوں اور فطری استعداد سے جُڑے گا تو اُس پر کشف ہوگا کہ میں اس کائنات کا ایک بہت بڑا محیرالعقول عجوبہ اورکرشمہ ہوں۔ جب انسان اپنی کرشماتی صلاحیتوں اور محیّر العقول استعداد کو پہچان لیتا ہے تو پھر وہ قربِ الہٰی کے معنی کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔
سب سے پہلے انسان کیلئے اپنی معرفتِ نفس بہت ضروری ہے۔یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اگر انسان اسے طے کر لے تو پھر اُس پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ دینی و دنیاوی علوم کا فرق صرف سطحی نوعیّت کا ہے۔ پھر اُس پر یہ راز کھلتا ہے کہ اگر علم کا مقصد اللہ کی رضا ہو، تو وہ جہاں سے بھی حاصل کیا جائے تو ایسا علم در اصل دین اور دنیا کے درمیان تفریق کو مٹاتا ہے اور انسان کو قُربِ خداوندی کی بلندی تک پہنچاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ اتنے بڑے راز کا انکشاف ایک مکمل نظامِ تعلیم کا متقاضی ہے۔ اس نظامِ تعلیم کے بنیادی منابع یعنی قرآن و حدیث سے تین اہم اصول بمعنی ضوابط اس وقت پیشِ خدمت ہیں۔
اسلامی تعلیم و تربیت کے اصول:
اسلامی تعلیم و تربیت کے مندرجہ زیل تین اہم اصول انتہائی اہم ہیں کہ جو ہر میدان میں انسان کی تعلیم و تربیت کو ایک مکمل، جامع اور صحیح راستے پر قائم رکھتے ہیں:
۱۔علمی اصول ۲۔ فلسفیانہ اصول ۳۔دینی اصول
۱۔ علمی اصول:
مربیّ کے لئے اپنے دور کے مطابق دو چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ ایک میرے دور کے انسان کی ضروریات کیا ہیں ؟اور دوسرے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے عصرِ حاضر میں کون سے علوم مددگار ثابت ہو سکتے ہیں؟ ۔ ان دونوں سوالوں کا جواب اُس کے اپنی ذاتی مشاہدے اور مفروضے کے بجائے اُس کےدورکی تعلیمی دنیا سے ہم آہنگ ہونے چاہیے۔ انسان کی جسمانی و ذہنی ضروریات کو سمجھنے کے لئے خود انسان کا ہزاروں سالوں پر محیط تجربہ، علمِ نفسیات، عمرانیات اور دیگر سماجی علوم کی اہمیت مسلم ہے۔ ان علوم کے ماہرین سے پوچھ کر تجزیہ و تحلیل کر کے ہی ایک مربّی کوئی موثر تعلیمی حکمت عملی تیار کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیم و تربیت کا علمی اصول یہ ہے کہ اسلامی نظام تعلیم کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر ان تمام علوم کے اصولوں اور قواعد کے مطابق استوار کیا جانا چاہیے جو انسان شناسی اور انسان کی ضروریات کو پوراکرنے میں معاون ہیں تاکہ ایک جامع اور متوازن تربیتی نظام تشکیل پائے۔
۲۔ فلسفیانہ اصول:
فلسفہ یعنی کسی بھی مکتب کی فکری بنیاد۔ایسی فکری بنیاد جس میں یہ صلاحیّت ہو کہ اُس پر ایک مکتب کی عمارت کی تعمیر کا سارا بوجھ ڈالا جاسکے۔بلاشبہ ایسی آہنی بنیاد کسی ایک شخص کےمطالعے یا تجربے کا ماحصل نہیں ہو سکتی۔ اس کیلئے مختلف افراد کو ایسی بنیاد کی فراہمی کیلئے غوروفکر کر کے اجتماعی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ انسان اپنے بارے میں، کائنات کے بارے میں اور اپنے وجود کے بارے میں ماضی میں کس طرح سوچتا رہا ہے ؟ اور اب اور مستقبل میں اس کی سوچ کی حدیں کہاں تک پھیل سکتی ہیں؟ ماضی میں انسان کیا فکری لغزشیں کی ہیں کہ جہاں وحی نے اُس کی رہنمائی کی ہے اور عصرِ حاضر میں انسانی عقل کی وحی کس طرح رہنمائی کرتی ہے؟
یوں فلسفہ نہ صرف مادی حقیقتوں کا تجزیہ کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی روحانی اور اخلاقی حقیقت کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ فلسفیانہ اصول ﴿قواعد﴾انسان کی حقیقت اور اس کی زندگی کے مقصد کو غوروفکر کے ساتھ حقیقت کے قالب میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا اسلامی نظامِ تعلیم میں انسانی عقل اور وحی کے تعلق کو سمجھے بغیر قواعد و ضوابط بنا کر انسانوں کی تربیت کا بیڑا اُٹھانے کا نتیجہ بیڑہ غرق کرنے کی صورت میں ہی نکلے گا۔
فلسفیانہ اصول کی ذیلی شقیں:
الف]معرفت کا اصول: تعلیم و تربیت کا اصل مقصد انسان کو ایک خاص مقصد کی طرف لے جانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم انسان کی عقل کی حدود کو سمجھیں اور یہ جانیں کہ کیا وہ حقائق بھی موجود ہیں جنہیں انسان کی عقل دریافت نہیں کر سکتی؟ معرفت کی یہ جستجو انسان کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے، اور اس کے تعلیمی سفر کو مطلوبہ جہت دیتی ہے۔
ب]انسان کی شناخت کا اصول: اسلامی تعلیم و تربیت کا پہلا قدم انسان کی حقیقت کی شناخت ہے۔ کیا انسان محض جسمانی حقیقت ہے، یا اس کی روح بھی ہے؟ انسان کی شناخت اور اس کی روحانیت کی گہرائی کو سمجھنا، اس کی تربیت کے ہر مرحلے میں ضروری ہے۔
ج]دنیا کی شناخت کا اصول: انسان کا دنیا کے بارے میں نظریہ اس کی تعلیم و تربیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کچھ فلسفی دنیا کو روحانی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں، جب کہ دوسرے اسے محض ایک مادی حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان دو متضاد آراء کے بیچ فرق، دو مختلف تعلیمی و تربیتی نظاموں کو جنم دیتا ہے۔ اس فرق کی حدود کو سمجھ کر ہی ایک اسلامی نظام ِ تعلیم و تربیّت کیلئے ضوابط طےکئے جا سکتے ہیں۔
د]اقدار کا اصول: اقدار﴿اخلاق ، رسوم و رواج ، آداب اور کردار﴾ انسان کی عملی زندگی کا محور ہیں۔ یہ اقدار انسان کے اخلاق و کردار کا تعیّن کرتی ہیں، اور اسے روحانی اور مادی دونوں لحاظ سے مکمل ایک شکل دیتی ہیں۔ مربی کو اپنے ذاتی ذوق اور سلیقے کے بجائے انسان کے توازن کے حوالے سے معاشرتی اصولوں اور سُنّتِ الہیّہ کو سامنے رکھ کر اقدار کے معیارات طے کرنے چاہیے ۔ اقدار چاہے معاشرتی ہوں یا سیاسی و اخلاقی یا اقتصادی ۔۔۔انہیں کسی فرد یا چند افراد کے کسی محدود گروہ کی مرضی و منشا کے تابع رکھنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔
اسلامی اقدار میں بیک وقت ایک انسان کی تمام جہات سیاسی، اخلاقی، انفرادی، اجتماعی، عبادی۔۔۔سب شامل ہیں لہذا ان کا تعیّن بھی جامع و مانع شخصیات کے اجتماعی و مشترکہ افکار و نظریات کی روشنی میں ممکن ہے۔
۳۔ دینی اصول:
دینی اصول﴿عقائد﴾ انسان کے مقصد کو واضح کر کے اُسے ایک روشن و محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں ۔ دین ہی وہ رہنما ہے جو انسان کو حقیقت سے ہم آہنگ کرتا ہے اور اس کے عمل کو اس کی حقیقت کے مطابق ڈھالنے کیلئے اُسے اس راستے کی مشکلات یعنی شیطان کے حملوں سے بچنے کی تدابیر بھی بتاتا ہے ۔اس دنیا میں ایک دیندار انسان ہمیشہ اپنے آپ کو ایک لمبے سفر کا مسافر پاتا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں قدم قدم پر تھکاوٹ کے بجائے نشاط و شادابی اور منزل تک پہنچنے کی خوشی شاملِ حال رہتی ہے۔ لہٰذا اسلامی تعلیم و تربیت کا نظام دینی عقائد پر استوار ہوتا ہے۔ اس کے دینی قواعد در اصل اسلام کے اصولِ دین ہیں، کیونکہ یہی اصول انسان کو اس کے حقیقی مقصد، یعنی قربِ الہٰی، تک پہنچاتے ہیں۔
اسلامی تعلیم و تربیت کے مخصوص قوانین کے بغیر تعلیمی ادارے کسی انسان کو کمال تک نہیں پہنچا سکتے۔ یہ قوانین کسی ایک شخص یا اشخاص کےکسی ایک گروہ کی نیک تمنّاوں اور اچھی خواہشات سے عبارت نہیں بلکہ ان کی تشکیل کیلئے ایک بڑی سطح پر صاحبانِ علم کے علمی مشترکات اور تجربات سے ہمہ جانبہ استفادہ ضروری ہے۔ اس بنا پر ہمارے ہاں رائج نظامِ تعلیم کے قوانین پر اسلامی تعلیم و تربیت کی جہت سے نظرثانی اور اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں اور تعلیمی قوانین بھی نافذ ہیں لیکن ایک بہترین انسان تراشنے اور ایک مہربان و باکمال معاشرہ تشکیل دینے کے اعتبار سے ان تعلیمی اداروں کے نتائج اکثر مفقود یا غیر موثر ہیں۔
اسلامی تعلیم و تربیت کے قوانین چاہے کوئی دینی مدرسہ ہو یا عصری تعلیمی ادارہ ، اس کے ہر طرح کے اسٹاف سے لے کر طلبا تک ، ان سب کی زندگیوں کو انسان ہونے کے ناتے اپنے خدا، اپنے آپ ، اپنے معاشرے اس کائنات اور اس کائنات کے مستقبل کے لحاظ سے منضبط کرتے ہیں۔ یہی پیغمبرِ اسلام کی بعثت کا مقصد اور دینِ اسلام کی غرض و غایت ہے۔
ہمارے بارے میں مزید جانئے














0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں