حجت الاسلام و المسلمین محمد صادق تہرانی نے اپنی یادداشت میں امام علی علیہ السلام کی شہادت میں معاویہ کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کی یہ یادداشت ایک ایسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ایک سیاہ دھبے کی مانند ثبت ہے۔
جب طلحہ اور زبیر نے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، تو وہ معاویہ کی حمایت اور تحریک کا حصہ بنے۔ معاویہ نے دونوں کو خفیہ خطوط کے ذریعے بیعت کی دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ حضرت علی علیہ السلام کو شکست دے کر ان کے خلاف کامیاب ہو گئے تو حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی عبد اللہ بن عامر، جو اس وقت بصرہ کے والی تھے، کو ان دونوں کی مالی مدد کے لیے حکم دیا تاکہ ان کی تحریک کامیاب ہو سکے۔
جنگ جمل کے بعد معاویہ نے جنگ صفین کا آغاز کیا، جس کا مقصد فقط حضرت علی علیہ السلام کو شکست دینا تھا۔ اس جنگ میں، امام کی فوج کی شاندار فتح کے بعد، عمرو عاص نے چالاکی اور فریب سے فیصلہ حکومتی حلقوں میں منتقل کر دیا اور یوں ایک مخلصانہ فتح کو ناکامی میں بدل دیا۔ صفین میں استعمال ہونے والی چالبازیوں کا یہی تسلسل تھا جس نے مسلمانوں کے درمیان تفرقات اور فرقہ واریت کو ہوا دی اور اس طرح نہروان کی جنگ کی راہ ہموار کی۔ معاویہ کا دشمنی اور کینہ یہیں تک محدود نہ رہا، بلکہ اس نے امام علی علیہ السلام کی فضیلتوں کو مٹانے کے لیے ایک منظم منصوبہ تیار کیا۔
اس حوالے سے ایک تاریخی واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں معاویہ نے مغیرہ بن شعبہ کو ایک خط لکھا جس میں اس سے کہا: "علی کے عیب بیان کرو، تاکہ ان کی عظمت کو عوام کے سامنے کم کیا جا سکے۔" (2) طبری اپنی تاریخ میں مغیرہ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ اس نے صعصعہ کو کہا تھا: "اگر علی کی فضیلتوں کا ذکر کیا گیا تو ہم ان فضائل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں، لیکن اب معاویہ کے دور میں ہمیں علی کے عیوب کو اجاگر کرنا ہے۔"
ایک اور موقع پر، معاویہ نے ابن عباس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے پورے ملک میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے خاندان کی عظمت کو بیان کرنے سے منع کیا تھا۔ (4)
علامہ امینی اس حوالے سے لکھتے ہیں: "اس طرح کی خدمت گزاری کے نتیجے میں علی پر لعنت کرنا ایک معمول بن گیا اور یہ بات لوگوں کے لیے فطری ہو گئی۔ یہ سلسلہ چالیس سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ عمر بن عبد العزیز نے اس پر پابندی لگائی۔ اس دوران تمام بڑے شہروں میں علی پر لعنت کی جاتی تھی۔" (5)
اس سب کے باوجود، جب ہم امام علی علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس قتل میں معاویہ اور اس کے مشیر عمرو عاص کا ہاتھ تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ اشعث بن قیس اور ابن ملجم مرادی بھی اس سازش کا حصہ تھے۔
محترم محقق حجت الاسلام و المسلمین "نجاح الطائی" نے اپنی کتاب "کیا معاویہ نے علی کو قتل کیا؟" (7) میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اگر ہم قریش اور معاویہ کے خاندان کے ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ بات بے گلہ ہو جاتی ہے کہ ان کا مخالفین کے ساتھ رویہ کیا رہا۔ وہ حضرت طالب بن ابی طالب کو شہید کرتے ہیں، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو شہید کرتے ہیں، اور کئی دیگر بزرگوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ اسی طرح امام حسن علیہ السلام کو معاویہ کے ہاتھوں شہید کیا جاتا ہے، اور بہت سے دیگر اہم واقعات بھی ان کی فہرست میں شامل ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ امام علی علیہ السلام کی شہادت بھی اسی گروہ کے منصوبے کا حصہ تھی، کوئی بعید بات نہیں۔ معاویہ اور اس کے معاونین عمرو عاص اور اشعث بن قیس نے اس سازش میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سازشوں نے امام علی علیہ السلام کے قتل کو ممکن بنایا۔
یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ عمرو بن عاص، جو معاویہ کا معاون تھا، نے صفین میں چالبازیوں کا سہارا لیا اور امام علی علیہ السلام کو دھوکہ دیا۔ پھر مصر میں اس نے اپنے اقدامات سے امام علی علیہ السلام کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ابن ملجم مرادی وہ شخص تھا جس نے امام علی علیہ السلام کو قتل کیا۔ اس کا تعلق مصر سے تھا اور وہ معاویہ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ تیار کیا تھا۔
تمام شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاویہ اور اس کے معاونین، عمرو عاص اور اشعث بن قیس، نے امام علی علیہ السلام کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اس سازش کو عملی طور پر ابن ملجم مرادی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
جب معاویہ کو امام علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی، تو وہ خوش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے غلام سے کہا کہ میرے لیے گانا گاؤ، کیونکہ آج میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی ہے۔ اس نے ثمرة بن جندب کو 400 ہزار درہم دیے تاکہ وہ یہ کہے کہ آیت 207 سوره بقرہ جو امام علی علیہ السلام کی فضیلت میں نازل ہوئی تھی، دراصل ابن ملجم کے بارے میں ہے۔ (40)(41)
مذکورہ بالا مباحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کی شہادت صرف ایک فرد کی زندگی کا خاتمہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عظیم منصوبے کا اختتام تھا، جس کی حقیقت تاریخ کے صفحات پر ایک سیاہ دھبے کی مانند ثبت ہے۔ معاویہ اور اس کے ساتھیوں کی چالبازیاں اور سازشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اس کی دشمنی کسی حد تک بھی انسانیت کی قدروں سے ماورا تھی۔ جنگ صفین، جنگ جمل اور دیگر اہم واقعات میں معاویہ کا کردار اس کی ذاتی عناد کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت اس نے نہ صرف امام علی علیہ السلام کی سیاسی طاقت کو چیلنج کیا، بلکہ ان کی روحانی عظمت کو مٹانے کے لیے ایک منظم اور متقابل حکمت عملی اپنائی۔
جیسے ہی امام علی علیہ السلام کی شہادت کا وقت آیا، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھی، جس میں معاویہ، عمرو عاص اور اشعث بن قیس کے کردار نے اس منصوبے کو حقیقت میں بدل دیا۔ ابن ملجم مرادی کی خون آلود تلوار کے ذریعے اس سازش کا تکمیل تک پہنچنا اس بات کا غماز تھا کہ دشمنوں کے عزائم کس قدر گہرے اور پیچیدہ تھے۔
اس تمام سلسلے کی گہرائی میں یہ سبق چھپا ہے کہ تاریخ میں طاقت کے حصول کے لیے انسانیت کو کس طرح پامال کیا جا سکتا ہے، اور کس طرح ایک عظیم شخصیت کو مٹانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے نتیجے میں ہمیں یہ سچائی سمجھ میں آتی ہے کہ صرف طاقت کا کھیل نہیں، بلکہ حقیقت کی تقدیر کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی سانحہ تھا، بلکہ اس میں انسانی فطرت کی پیچیدگیاں اور اس کی گہرائی بھی چھپی ہوئی تھی، جس سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ کبھی کبھار انسان اپنے غرور میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ عظمتوں کو مٹانے کے لیے بے شمار چالبازیاں کرتا ہے، مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے اس کے پیچھے کتنی سازشیں کیوں نہ ہوں۔
بشکریہ: رپورٹ شبستان نیوز ایجنسی و دیگر ذرائع








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں