رپورٹ: نقی حسین جعفری/ سید قاسم علی کاظمی﴿جامعۃ الرضا اسلام آباد﴾
تاریخی اور مذہبی ایام کو منانا محض رسمی تقریبات کا حصہ نہیں بلکہ ان کے پس پردہ ایک گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں، ان کی جدوجہد، اور ان کے پیغام کو یاد رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے مواقع ہمیں ماضی کے آئینے میں اپنا محاسبہ کرنے اور اپنے کردار کی درستگی کا بھی موقع دیتے ہیں۔یہ مناسبتیں ہمارے شعور کی بیداری، ہمارے عقائد کی پختگی اور ہماری قومی و دینی شناخت کی مضبوطی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
مورخہ ۲۳ مارچ ۲۰۲۵ کی شب اعمالِ شبِ قدر انجام دینے سے کچھ دیر پہلے جامعہ الرضا کے پرنور کانفرنس ہال میں ایک بابرکت نشست کا انعقاد ہوا۔ اس نشست میں شعبہ تحقیق کے طلبا نے نہایت دلجمعی سے شرکت کی اور تین اہم موضوعات شبِ قدر ، یومِ علیؑ اور یومِ پاکستان پر تقدیر، تاریخ اور تعبیر کے حوالے سے اپنے مطالعات کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ اس روحانی و فکری نشست کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں، خاص طور پر شبِ قدر، وہ متبرک لمحات ہیں جنہیں قرآنِ مجید نے "خیرٌ من ألفِ شھر" یعنی "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا ہے۔ یہ وہ راتیں ہے جن میں کلامِ الٰہی کا نور عالمِ لاہوت سے عالمِ ناسوت میں منتقل ہوا، جب جبرائیلِ امین نے پیامِ ربانی کو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ مطہر پر نازل کیا۔
جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کے طلبا نے اس رات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات مغفرت و بخشش کی رات ہے، تقدیر کے فیصلے لکھےجاتے ہیں اور فرشتے زمین پر رحمتیں لے کر اُترتے ہیں۔ یہ رات ہمیں اپنی زندگیوں کا محاسبہ کرنے اور دل کو خدا کی یاد سے منور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ شبِ قدر کی اصل حقیقت خلوصِ دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارنے اور گناہوں سے معافی مانگنے میں پنہاں ہے۔ اس موقع پر یومِ علیؑ کی مناسبت سے بھی انہوں نے کئی اہم نکات پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ ماہِ مبارک رمضان میں محرابِ کوفہ میں ایک ایسی ہستی نے جامِ شہادت نوش کیا جو عدل و انصاف کا مظہر، علم کا خزانہ اور شجاعت کا مینار تھی۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت صرف ایک عظیم شخصیت کا فراق نہیں، بلکہ انسانیت کے ایک اعلیٰ ترین نمونے کا بچھڑ جانا ہے۔
طلبا نے مولائے متقیان کے عدل، ان کے زہد و تقویٰ، علم و حکمت اور ان کی زندگی کے مثالی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امام علیؑ کی سیرت، ان کا طرزِ حکومت اور ان کی شفقت آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ یوم علیؑ کے موقع پر طلبا نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آج ہم انسانیت کی حقیقی فلاح چاہتے ہیں تو علیؑ کی سیرت اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
اس موقع پر یومِ پاکستان ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔یہ وہ تاریخی دن ہے کہ جب منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلمانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ کیا تھا۔ مولوی اے کے فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی تھی جس کی تائید قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم رہنماؤں نے کی طرف سے کی گئی۔ یہ قرارداد فقط ایک کاغذ کا ٹکڑا نہ تھا، بلکہ ایک عظیم خواب کی تعبیر تھی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کی امید دلائی، ایک ایسا وطن جہاں دین و ثقافت کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کی جا سکے۔
طلبا نے اس قرارداد کی روح کو سمجھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اُس عزم اور حوصلے کو سراہا جو لاکھوں مسلمانوں نے اپنی آزادی کے لیے دکھایا اور قائداعظم کی دور اندیش قیادت اور بے مثال جدوجہد کے باعث بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آ گیا۔یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد دلاتا ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ آزادی کا یہ تحفہ بے شمار جانوں کی قربانی کے بعد ملا ہے، جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔نشست کے اختتام پر طلبا نے شبِ قدر کی خیروبرکت نصیب ہونے، فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی اور دنیا میں امن و بھلائی نیز وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی اور ترقی کیلئے اجتماعی دعا کی۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں