تحریر سید امتیاز علی رضوی :
ہر دور میں انسان کے لیے سب سے بڑا چیلنج حق و باطل کے درمیان فرق کرنا رہا ہے۔ یہ فرق محض ظاہری اعمال یا عبادات سے نہیں، بلکہ گہری بصیرت اور شعور سے واضح ہوتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں خوارج کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ وہ نماز، روزے، تسبیح اور زہد میں مشغول تھے، لیکن ان کا سب سے بڑا المیہ بصیرت کا فقدان تھا۔ وہ حرام مال سے تو بچتے تھے، مگر حرام خون بہانے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے تھے۔ ان کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پرہیزگاری اور عبادت کے باوجود انسان بصیرت سے محروم ہو تو وہ بڑے بڑے فتنوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
بصیرت محض علم یا معلومات کا انبار نہیں، بلکہ یہ دل کی بینائی ہے جو حق کو باطل سے ممیز کرتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسان کو ظاہر کے پیچھے چھپے باطن تک پہنچاتی ہے۔ بصیرت محض مشاہدہ نہیں، بلکہ گہری فہم و ادراک ہے۔ بصیرت صرف آنکھوں کی بینائی نہیں، بلکہ دل کی گہری سمجھ ہے۔ بصیرت محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک جامع تصور ہے۔ یہ وہ قوتِ ممیزہ ہے جو انسان کو حق و باطل، نور و ظلمت اور صداقت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ جس شخص میں یہ صلاحیت نہیں، وہ بظاہر نیک ہوتے ہوئے بھی بڑے فتنوں کا حصہ بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیرت کو ایمان کی بنیادی شرط قرار دیا ہے:
﴿قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا﴾ (الأنعام: ۱۰۴) "تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں آ چکی ہیں، پس جو شخص دیکھے (سمجھے) تو اپنے فائدے کے لیے، اور جو اندھا ہو تو اپنے نقصان کے لیے۔"
اسی طرح سورہ حج میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ (الحج: ۴۶)
"کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ ان کے دل ہوتے جو سمجھتے، یا کان ہوتے جو سنتے؟ درحقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"
تاریخ کا سبق: خوارج کی المناک داستان
خوارج کی تاریخ ہمارے لیے ایک عبرت ہے۔ وہ حضرت علیؑ کے ساتھ جنگِ جمل میں شریک تھے، لیکن جب نفس اور تعصب نے غلبہ پایا تو وہی لوگ امامِ وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عبداللہ بن خباب جیسے مومن کو صرف اس جرم میں قتل کر دیا کہ وہ حضرت علیؑ سے محبت کرتا تھا۔ انہیں ایک معصوم جنین تک پر کوئی رحم نہ آیا، لیکن وہ اسی لمحے طویل سجدوں میں مشغول ہو گئے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے تکفیریت کا بیج بویا اور حضرت علی جیسی شخصیت کو کافر قرار دیا، یوں حضرت علیؑ کے قاتل ابن ملجم کو جنم دیا۔ یہ اصول تاریخ سے ثابت ہے کہ جن قوموں نے بصیرت کو ترک کیا، وہ تباہ ہو گئیں۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیؑ کے بعد بصیرت کھو دی تو گمراہ ہو گئے۔ خوارج نے ظاہری عبادت کے باوجود حضرت علیؑ جیسی شخصیت کے خلاف تلوار اٹھا لی۔ آج خوارج کا لفظ بے بصیرتی کی علامت بن چکا ہے۔ آج بھی جو لوگ "دین کی آڑ میں سیاسی کاروبار” کرتے ہیں اور دہشت گردی کے ذریعے عوام کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں، وہ درحقیقت بصیرت سے محروم ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ" (صحیح بخاری، کتاب العلم و بحارالانوار، ج 1، ص 177 ) "جس کے ساتھ اللہ بھلائی چاہتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔"
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ بصیرت دین کی گہری سمجھ اور حق کی پہچان کا نام ہے جو اللہ کی ایک عطا ہے جو اندر سے اچھے انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔ بصیرت کی ضرورت آج بھی اہم ہے ۔آج بھی ہمارے اردگرد فتنے اسی طرح موجود ہیں، لیکن ان کا روپ بدل چکا ہے۔ کبھی فتنہ بھیڑیے کی طرح دھاڑتا ہوا آتا ہے، تو کبھی دیمک کی طرح خاموشی سے ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔امام علیؑ نے بصیرت کو نجات اور اس کے مد مقابل کو جہالت قرار دیا جو باعث ہلاکت ہے: "اَلْبَصِيرَةُ نَجَاةٌ، وَالْجَهْلُ هَلَاكٌ" (نہج البلاغہ، حکمت ۳۹۴) "بصیرت نجات ہے، اور جہالت ہلاکت۔"
ان فتنوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
آج کا دور معلومات کا دور ہے، لیکن سچائی اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ میڈیا، پروپیگنڈا اور افواہوں کے اس دور میں بصیرت ہی وہ ہتھیار ہے جو ہمیں گمراہی سے بچا سکتا ہے۔
1. ہمیں چاہیے کہ عقیدت کے ساتھ شعور کو ملائیں: ہر بات کو محض جذباتی طور پر نہ لیں، بلکہ اسے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں۔حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں: "آنکھیں دیکھتی ہیں، مگر دل بینا ہوتا ہے۔ جو چیز ظاہر ہے، وہ فریب ہو سکتی ہے، لیکن جو باطن میں ہے، وہی حقیقت ہے۔"
2. ماضی پر نہیں، حال پر نظر رکھیں: گزشتہ خدمات کسی کو حق کا نمائندہ نہیں بناتیں۔ ہر شخص کا موجودہ کردار ہی اس کا پیمانہ ہے۔اسلام میں ہر شخص کا محاسبہ اس کے موجودہ اعمال اور نیت کے مطابق ہوتا ہے۔ نیک اعمال گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ برے اعمال ماضی کے گناہوں کو بھی زندہ کر سکتے ہیں۔ اسلام میں "حال" کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔
حدیث نبوی (سنن الترمذی): "مَنْ أَحْسَنَ فِیْ إِسْلَامِہِ لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِیْ إِسْلَامِہِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ"
(جو شخص اسلام میں اچھا رہا، اس سے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہوگا، لیکن جو اسلام میں برا رہا، اس سے پہلے اور بعد کے گناہوں کا حساب لیا جائے گا۔)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے موجودہ حالات میں نیک ہے تو اس کے ماضی کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، لیکن اگر وہ برائی پر قائم رہے تو اس کا ماضی بھی اس کے خلاف گواہی دے گا۔امام جعفر صادق سے الکافی (کتاب الإیمان والکفر، باب من أسلم ثم أذنب ذنبا) میں مشابہ مطلب کی روایت ہے۔
روایت: "مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا أُخِذَ بِهِ وَبِذَنْبِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسْلَمَ وَلَمْ يُذْنِبْ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ."
(جو شخص اسلام لائے پھر گناہ کرے، تو اسے اسلام لانے کے بعد کے گناہ کے ساتھ ساتھ جاہلیت کے گناہ کی بھی سزا ملے گی۔ اور جو اسلام لائے اور گناہ نہ کرے، اسے جاہلیت کے اعمال کی سزا نہیں دی جائے گی۔)
3. اصولوں پر قائم رہیں:
شخصیت پرستی سے بچیں، اصولوں اور اقدار کو اپنا معیار بنائیں۔ شخصیت پرستی سے بچنا اور اصولوں کو اپنا معیار بنانا اسلام اور دیگر دانشورانہ روایات کا اہم درس ہے۔ قرآن و حدیث اور مفکرین کے اقوال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو حق و انصاف کو اپنا راہنما بنانا چاہیے، نہ کہ کسی فرد یا گروہ کی اندھی تقلید کرنا۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
"لا تَكُونُوا عَبْدَ غَيْرِكُمْ وَقَدْ جَعَلَكُمُ اللَّهُ حُرًّا" (نہج البلاغہ، خط 31)
"تم دوسروں کے غلام نہ بنو، جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے۔"قرآن میں یہود و نصاریٰ کو ان کے مذہبی رہنماؤں کی اندھی تقلید پر تنبیہ کی گئی ہے:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ "انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔" (سورۃ التوبہ، 9:31)
جب یہ آیت نازل ہوئی تو کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا وہ جو حلال ہے حرام کر دیتے ہیں اور تم حرام کر لیتے ہو؟ جو حرام ہے وہ حلال کر دیتے ہیں اور تم حلال کر لیتے ہو؟" یہی تو ان کی عبادت (ان کی ربوبیت) ہے۔" (سنن ترمذی، تفسیر ابن کثیر)
4. فتنے کو جڑ سے پہچانیں:
فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے نظرانداز نہ کریں، بلکہ اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں۔
امام علی (ع) قول نہج البلاغہ، خطبہ 93)میں ہے کہ "فتنے کو اس وقت دیکھو جب وہ چھوٹا ہو، کیونکہ جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔”
امام جعفر صادق (ع) سے منقول: "جب فتنہ اٹھے تو علماء کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کریں، ورنہ اللہ کی لعنت ہو ان پر۔"
علامہ اقبالؒ نے شناخت کی حقیقت کو کو یوں بیان کیا:
"خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں،تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔"
5. صالحین کی صحبت اختیار کریں:
با بصیرت ہونے کے لیے صاحبِ بصیرت لوگوں کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں بری صحبت والوں کی ہمراہی پر پچھتانا پڑے۔ سورۃ الفرقان (25:28-29):
﴿يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي﴾
"اے ہلاکت میری! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا! اس نے تو مجھے نصیحت (یاد دہانی) سے گمراہ کر دیا۔”
صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ"
"آدمی اپنے دوست کے دین (و روش) پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ ”امام علی (ع) کا قول ہے: "صَاحِبِ الْعَقْلِ تَسْلَمْ، وَصَاحِبِ الْجَهْلِ تَنْدَمْ" "عقل والے کے ساتھ رہو، سلامتی پاؤ گے، اور جاہل کے ساتھ رہو، پچھتاؤ گے۔" (غرر الحکم، حدیث 4562)
ارسطو کا ایک مشہور مقولہ ہے ۔ "مجھے بتاؤ تمہارے دوست کون ہیں، اور میں بتاؤں گا تم کون ہو۔”
6. غور و فکر کی عادت اپنائیں: ہر چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول نہ کریں بلکہ ہر پہلو کا جائزہ لیں پھر کسی بات پر یقین کریں۔
سقراط کا مشہور قول ہے: "غیر معائنہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں۔"
ماہر نفسیات کارل یونگ نے کہا: "بصیرت وہ چیز نہیں جو آپ دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو آپ کو دکھائی نہ دینے والی چیزوں کا ادراک کرائے۔" بصیرت وہ چراغ ہے جو تاریک راستوں میں ہمیں منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ صرف پڑھنے لکھنے کا نام نہیں، بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کا ہنر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ہماری گردنیں عبادت میں جھکیں، لیکن ہماری بصیرت بلند ہو۔ بصیرت کا چراغ ہمارے دل میں روشن ہو، اور ہم ہر فتنے سے بچ سکیں۔ ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو دیکھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں، سنتے ہیں مگر قبول نہیں کرتے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں