زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 17 جون، 2025

The Iran-Israel War and the Impact of Fake News

ایران و اسرائیل جنگ اور فیک نیوز کے اثرات

ڈاکٹرنذر حافی  :

دشمن جب ہتھیاروں کے زعم  میں سچائی کا انکار کر دے  تو اصل معرکہ گولیوں کا  نہیں بلکہ  اعصاب کا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھیاروں کا گھمنڈ خاک میں مل چکا ہے۔ اب ایران کے خلاف اعصابی و نفسیاتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔  ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کو  محض  ایک جغرافیے کے اندر نہ دیکھئے،  یہ ایک دماغی  معرکہ ہے، جہاں اصل ہدف کسی زمین پر قبضہ  نہیں ، بلکہ عوام کے اذہان  پر قبضہ ہے۔اعصابی جنگ بظاہر  خاموش مگر  ظاہری جنگ سے زیادہ شدید تر ہوتی  ہے۔ سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ دشمن کو میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ  اُس کی شناخت، اُس کی معیشت، اُس کے اعتماد، اور اُس کے بیانیے میں شکست دینا ضروری ہوتاہے۔ جہاں فائرنگ کے ہمراہ  خوف کا ہونا اور لوگوں کو خوف اورڈر کے ساتھ علاقے چھوڑنے اور خالی کرنے کیلئے متحرک کرنا یہ خود   بڑی سخت قسم کی لڑائی ہے،   دشمن ملک پر بارود چھڑکنے کے علاوہ جھوٹی خبروں اور دھمکیوں کو پھیلا کر  لوگوں کو اپنے ملک سے بد ظن کرنا کوئی  آسان کام  نہیں۔

یہ نصرتِ الہی نہیں تو اور کیا ہے کہ  امریکہ و  اسرائیل کی طرف سے  ہونے والے  لامتناہی  پروپیگنڈوں کا  اکیلا ایران انتہائی دانشمندی سے توڑ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایران نے جہاں ان پروپیگنڈوں کا توڑ کیا ہے وہیں ساری دنیا میں تنِ تنہا  اسلامی انقلاب، اسلامی جمہوریت،ریاستی استقلال و خودمختاری اور فلسطین کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ ایران نے اپنی حکمتِ عملی سے اسرائیل کے  غاصب   اور مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہونے کو ساری دنیا میں تسلیم کروایا ہے۔  اب یہ صرف ایران کا ہی موقف نہیں رہا کہ اسرائیل ایک غاصب  اورمکڑی کےجالے سے بھی زیادہ کمزور ریاست ہے بلکہ آج یہ دنیا کہ ہر باشعور اور منصف مزاج انسان کا موقف ہے۔ یہ جو دنیا بھر میں اسرائیل بے نقاب ہوا   اس کیلئے   ایرانی دانشوروں،  میڈیا،ایران کی سائبر ٹیموں، تھنک ٹینکس  اور ایرانی پراکسی عناصر وغیرہ سب نے مل کر دنیا بھر کے اذہان میں اسرائیل کی حقیقی شکل بٹھائی ہے۔ یہ شکل   اسرائیلی عوام پر بھی اثر انداز ہوئی اور اسی کی وجہ سے اسرائیلی عوام   ماضی کی نسبت آج خود کو  بہت زیادہ محصور، غیرمحفوظ اور بےیقین پاتے ہیں۔ تل ابیب کی فضاوں میں گونجتے سائرن، ہیک شدہ وڈیوز، ہر تھوڑی دیر کے بعد  ایرانی  میزائلوں کی اسرائیل میں گرنے کی خبریں،  اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں  پراسرار دھماکے دراصل سب سے زیادہ اسرائیلیوں کے اعصاب کو متاثر کرتے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل   ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو شہید کرنے کی خبروں کو  میڈیا میں اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ  جیسے   بس اب ایران کا کام تمام ہو ا چاہتا ہے۔ ایسے میں جہاں ایران کے بارے میں  دیگر فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہیں وہاں ایسی خبریں بھی عام کی جا رہی ہیں کہ ایران میں منافقین اور غداروں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انقلاب کا چراغ  گُل کرنے والی ہے اور ایران کے اندرغداروں و اسرائیلی جاسوسوں کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ جنگ کے ان لمحات میں منافقین کی کثرت، غداروں کی بھرمار اور جاسوسوں کی کامیابیوں کی خبروں سے اسرائیل،  ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ   ہمارے کارندے تمہاری فضاوں اور تمہارے گلی محلوں میں موجود ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی خبریں  کسی قوم کی خود اعتمادی پر  حملہ کرنے کیلئے پھیلائی جاتی ہیں۔

ہمیں   کسی بھی نیوز کو فارورڈ کرنے سے پہلے  یہ  دیکھ لینا چاہیے کہ اعصابی و نفسیاتی  جنگ  ایک "نرم زلزلے" کی مانند لوگوں کو اندر سے  ہلا دیتی  ہے۔ اگر یہ جنگ کسی قوم کے اعصاب پر مسلط ہو جائے تو  ایک دھمکی کے ملتے ہی، ایک  سائرن کے  بجتے ہی، ایک دھماکے کی آواز آتے ہی  شہر کے شہر خالی،  ہوائی اڈے بند، بینک سسٹمز معطل، اور بجلی کا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے  کسی جاسوس کو میزائل سے باندھ کر واپس اسرائیل پھینک دینا، ایرانی خواتین کی آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے کچلنا، ایرانی عوام کا اقتصادی بدحالی سے بلکنا، لوگوں کا اسرائیلی حملوں سے ڈر کر نہ سونا اوراسلامی انقلاب کے خلاف  عوامی مظاہروں کی  جعلی تصاویر اورخبریں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ان کا مقصد  عالمی رائے عامہ اور ایرانی عوام کو اسلامی انقلاب  کی قیادت سے مایوس کرنا  ہے۔

المختصر یہ کہ  اس جنگ کا  اصل نشانہ وہ اجتماعی شعور ہے جو ایک قوم کو جوڑ کر مشکل حالات میں اُمیدوار اور متحد رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی قوم کا بجلی گھر بند کریں تو  وہ کچھ دیر کیلئے  پریشان ہو گی لیکن اگر  آپ  اس کی امید کا چراغ گُل کر دیں تو  وہ ہمیشہ کے لیے شکست کھا جائے گی۔اسی فکری جنگ کا ایک رخ سفارتی تعلقات میں چھپا ہوا ہے۔ امریکہ و اسرائیل نے مشرقِ وسطی میں  اپنے جغرافیائی مہروں کو اس طرح ایک صف میں کھڑا کر رکھا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کے غلام  اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔تمام خلیجی ریاستیں،  ترکی، شام۔۔۔  اور  یورپی ممالک اس انتظار میں ہیں کہ کب اُن کا آقا انہیں کوئی اشارہ کرے  اور اُن سے کوئی خدمت لے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اب فتح  کا مفہوم بدل چکا ہے۔آج  جس نے بیانیے پر قبضہ کر لیا، وہی فاتح ہے۔ آج جنگ جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے دشمن کا شہر تباہ کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے اُس کے عوام کو یہ باور کرا دیا کہ ان کا نظام ناکام ، ان کی قیادت کھوکھلی ، اُن کی صفوں میں غدّار ، ان کے شہروں میں جاسوس  اور ان کے خواب غیر حقیقی ہیں۔  جنگ کہیں بھی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ جنگ وہی جیتتا ہے جو دشمن سے  لڑنے کی ہمت چھین لیتا ہے۔

۔۔۔

The Iran-Israel War and the Impact of Fake News
By Dr. Nazar Haffi

When the enemy, intoxicated by its weapons, denies the truth, the real battlefield is not of bullets but of nerves. The arrogance of Israel’s weaponry has been shattered. Now, a psychological and mental war is being waged against Iran. The recent Iran-Israel tensions should not be viewed merely within a geographical framework; this is a cerebral battle where the actual target is not territorial control, but control over public consciousness.

Psychological warfare appears silent on the surface but is often more intense than overt conflict. The wise understand that defeating the enemy requires not just success on the battlefield, but also in undermining their identity, economy, confidence, and narrative. In such a war, spreading fear alongside shelling—motivating people to flee their homes—is itself a fierce form of combat. Apart from physical attacks, spreading fake news and threats to make people lose faith in their country is no small task.

If this isn’t divine support, then what is? Iran, with sheer wisdom, has been single-handedly dismantling the endless propaganda of America and Israel. Along with countering this propaganda, Iran has globally championed the causes of the Islamic Revolution, Islamic democracy, state sovereignty, and the defense of Palestine. Through its strategy, Iran has successfully convinced the world that Israel is a usurping regime, weaker than a spider’s web. This view is no longer just Iran’s position, but one now shared by every conscious and fair-minded individual around the globe.

The global exposure of Israel is the result of joint efforts by Iranian intellectuals, media, cyber teams, think tanks, and proxy elements. They have embedded the true image of Israel into global consciousness. This has even affected Israeli citizens, who now feel more trapped, insecure, and uncertain than ever before. The sirens echoing in Tel Aviv, hacked videos, frequent news of Iranian missiles landing in Israel, and mysterious explosions in various Israeli cities—all deeply impact the Israeli psyche.

On the other hand, Israel portrays reports of attacks on Iranian nuclear sites and the assassination of Iranian leadership in such a way that it seems Iran is on the verge of collapse. Amid the spread of other fake news about Iran, stories are circulated about the presence of large numbers of traitors and hypocrites within Iran who aim to extinguish the flame of the revolution. Claims are made about extensive spy networks inside Iran. Through such news, Israel tries to send a message to the Iranian public that its agents are present in their skies and neighborhoods. Clearly, such propaganda targets a nation’s self-confidence.

Before forwarding any news, we must understand that psychological warfare shakes people from within like a "silent earthquake." If such a war takes over a nation’s nerves, a single threat, siren, or explosion can lead to deserted cities, closed airports, disrupted banking systems, and collapsed power infrastructure. Examples of this psychological operation include throwing a spy strapped to a missile back into Israel, suppressing Iranian women's movements with force, the Iranian public groaning under economic hardship, people unable to sleep out of fear of Israeli attacks, and the spread of fake images and news of protests against the Islamic Revolution. All of this aims to disillusion both international opinion and the Iranian people from their revolutionary leadership.

In summary, the real target of this war is collective consciousness—the force that binds a nation and gives it hope and unity in tough times. If you destroy a nation’s power station, it will be troubled temporarily. But if you extinguish the lamp of its hope, the nation will be defeated forever. A vital aspect of this intellectual war is hidden in diplomatic relations. The U.S. and Israel have lined up their geopolitical pawns in the Middle East as obedient subjects before a king. Gulf states, Turkey, Syria, and European countries all appear to be awaiting their master's signal to serve.
We must realize that the definition of victory has changed. Today, the real winner is the one who controls the narrative. Victory no longer means physically destroying an enemy’s city—it means convincing their people that their system is failing, their leadership is hollow, traitors walk among them, spies operate in their cities, and their dreams are unrealistic. Wars are never won by weapons—they’re won by those who strip the enemy of the courage to resist.

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...