ایران و اسرائیل جنگ اور فیک نیوز کے اثرات
ڈاکٹرنذر حافی :
دشمن جب ہتھیاروں کے زعم میں سچائی کا انکار کر دے تو اصل معرکہ گولیوں کا نہیں بلکہ اعصاب کا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھیاروں کا گھمنڈ
خاک میں مل چکا ہے۔ اب ایران کے خلاف اعصابی و نفسیاتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کو محض ایک
جغرافیے کے اندر نہ دیکھئے، یہ ایک دماغی معرکہ ہے، جہاں اصل ہدف کسی زمین پر قبضہ نہیں ، بلکہ عوام کے اذہان پر قبضہ ہے۔اعصابی جنگ بظاہر خاموش مگر ظاہری جنگ سے زیادہ شدید تر ہوتی ہے۔ سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ دشمن کو میدانِ
جنگ کے ساتھ ساتھ اُس کی شناخت، اُس کی معیشت،
اُس کے اعتماد، اور اُس کے بیانیے میں شکست دینا ضروری ہوتاہے۔ جہاں فائرنگ کے
ہمراہ خوف کا ہونا اور لوگوں کو خوف اورڈر
کے ساتھ علاقے چھوڑنے اور خالی کرنے کیلئے متحرک کرنا یہ خود بڑی
سخت قسم کی لڑائی ہے، دشمن ملک پر بارود چھڑکنے کے علاوہ جھوٹی خبروں
اور دھمکیوں کو پھیلا کر لوگوں کو اپنے
ملک سے بد ظن کرنا کوئی آسان کام نہیں۔
یہ نصرتِ الہی نہیں تو اور کیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ہونے والے لامتناہی پروپیگنڈوں کا اکیلا ایران انتہائی دانشمندی سے توڑ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایران نے جہاں ان پروپیگنڈوں کا توڑ کیا ہے وہیں ساری دنیا میں تنِ تنہا اسلامی انقلاب، اسلامی جمہوریت،ریاستی استقلال و خودمختاری اور فلسطین کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ ایران نے اپنی حکمتِ عملی سے اسرائیل کے غاصب اور مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہونے کو ساری دنیا میں تسلیم کروایا ہے۔ اب یہ صرف ایران کا ہی موقف نہیں رہا کہ اسرائیل ایک غاصب اورمکڑی کےجالے سے بھی زیادہ کمزور ریاست ہے بلکہ آج یہ دنیا کہ ہر باشعور اور منصف مزاج انسان کا موقف ہے۔ یہ جو دنیا بھر میں اسرائیل بے نقاب ہوا اس کیلئے ایرانی دانشوروں، میڈیا،ایران کی سائبر ٹیموں، تھنک ٹینکس اور ایرانی پراکسی عناصر وغیرہ سب نے مل کر دنیا بھر کے اذہان میں اسرائیل کی حقیقی شکل بٹھائی ہے۔ یہ شکل اسرائیلی عوام پر بھی اثر انداز ہوئی اور اسی کی وجہ سے اسرائیلی عوام ماضی کی نسبت آج خود کو بہت زیادہ محصور، غیرمحفوظ اور بےیقین پاتے ہیں۔ تل ابیب کی فضاوں میں گونجتے سائرن، ہیک شدہ وڈیوز، ہر تھوڑی دیر کے بعد ایرانی میزائلوں کی اسرائیل میں گرنے کی خبریں، اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں پراسرار دھماکے دراصل سب سے زیادہ اسرائیلیوں کے اعصاب کو متاثر کرتے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور ایران کی
اعلیٰ قیادت کو شہید کرنے کی خبروں کو میڈیا میں اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ جیسے بس اب ایران کا کام تمام ہو ا چاہتا ہے۔ ایسے
میں جہاں ایران کے بارے میں دیگر فیک نیوز
پھیلائی جا رہی ہیں وہاں ایسی خبریں بھی عام کی جا رہی ہیں کہ ایران میں منافقین
اور غداروں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انقلاب کا چراغ گُل کرنے والی ہے اور ایران کے اندرغداروں و
اسرائیلی جاسوسوں کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ جنگ کے ان لمحات میں منافقین کی کثرت،
غداروں کی بھرمار اور جاسوسوں کی کامیابیوں کی خبروں سے اسرائیل، ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہمارے
کارندے تمہاری فضاوں اور تمہارے گلی محلوں میں موجود ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی
خبریں کسی قوم کی خود اعتمادی پر حملہ کرنے کیلئے پھیلائی جاتی ہیں۔
ہمیں کسی بھی نیوز
کو فارورڈ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اعصابی و نفسیاتی جنگ ایک
"نرم زلزلے" کی مانند لوگوں کو اندر سے ہلا دیتی ہے۔ اگر یہ جنگ کسی قوم کے اعصاب پر مسلط ہو
جائے تو ایک دھمکی کے ملتے ہی، ایک سائرن کے بجتے ہی، ایک دھماکے کی آواز آتے ہی شہر کے شہر خالی، ہوائی اڈے بند، بینک سسٹمز معطل، اور بجلی کا
نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے کسی جاسوس کو میزائل سے باندھ کر واپس اسرائیل
پھینک دینا، ایرانی خواتین کی آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے کچلنا، ایرانی عوام کا اقتصادی
بدحالی سے بلکنا، لوگوں کا اسرائیلی حملوں سے ڈر کر نہ سونا اوراسلامی انقلاب کے
خلاف عوامی مظاہروں کی جعلی تصاویر اورخبریں بھی اسی سلسلے کی کڑی
ہیں۔ان کا مقصد عالمی رائے عامہ اور
ایرانی عوام کو اسلامی انقلاب کی قیادت سے
مایوس کرنا ہے۔
المختصر یہ کہ اس
جنگ کا اصل نشانہ وہ اجتماعی شعور ہے جو ایک
قوم کو جوڑ کر مشکل حالات میں اُمیدوار اور متحد رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی قوم کا بجلی
گھر بند کریں تو وہ کچھ دیر کیلئے پریشان ہو گی لیکن اگر آپ اس کی
امید کا چراغ گُل کر دیں تو وہ ہمیشہ کے لیے
شکست کھا جائے گی۔اسی فکری جنگ کا ایک رخ سفارتی تعلقات میں چھپا ہوا ہے۔ امریکہ و
اسرائیل نے مشرقِ وسطی میں اپنے جغرافیائی
مہروں کو اس طرح ایک صف میں کھڑا کر رکھا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کے غلام اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔تمام خلیجی
ریاستیں، ترکی، شام۔۔۔ اور یورپی
ممالک اس انتظار میں ہیں کہ کب اُن کا آقا انہیں کوئی اشارہ کرے اور اُن سے کوئی خدمت لے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اب فتح کا مفہوم بدل چکا ہے۔آج جس نے بیانیے پر قبضہ کر لیا، وہی فاتح ہے۔ آج
جنگ جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے دشمن کا شہر تباہ کر دیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے
اُس کے عوام کو یہ باور کرا دیا کہ ان کا نظام ناکام ، ان کی قیادت کھوکھلی ، اُن
کی صفوں میں غدّار ، ان کے شہروں میں جاسوس اور ان کے خواب غیر حقیقی ہیں۔ جنگ کہیں بھی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتی
بلکہ جنگ وہی جیتتا ہے جو دشمن سے لڑنے کی
ہمت چھین لیتا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں