زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 24 جون، 2025

Who Defeated and Who Emerged Victorious? A Fair Analysis

کسے شکست ہوئی کون فتح یاب ہوا ؟؟  منصفانہ   تجزیہ 
ڈاکٹر نذر حافی |
ایک پروفیسر صاحب  کو پہلی مرتبہ کسی گاوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں انہوں نے  ایک باغ کو دیکھا اور اُس کے مالک سے ملے۔انہوں نے باغ کے مالک سے پوچھا کہ  کہیں گاوں کے لوگ آپ کے پھل وغیرہ  تو چوری کر کے نہیں لے جاتے؟  مالک نے کہا کہ نہیں ہر گز نہیں، یہاں کے لوگ تو بہت ایماندار اور نیک ہیں۔ اس پر  محترم پروفیسر صاحب نے تعجب سے مالک کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ پھر تم نے اپنے کاندھوں پر بندوق کیوں اٹھائی ہوئی ہے؟ باغ کے مالک نے برجستہ جواب دیا کہ  یہ بندوق   گاوں والوں کو  ایماندار اور نیک رکھنے کیلئے ہی ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرونز بھی امریکہ و اسرائیل جیسوں  کو صلح پسند اور امن پسند رکھنے کیلئے ہی ہیں۔
یقین مانیں کہ اگر اسرائیل کی مانند  امریکہ کو بھی   ایران کا  فوری اور مساوی  جواب نہ ملتا  تو یہ  جنگ بندی ممکن ہی نہ تھی۔ امریکہ کی بے بسی کا عالم تو دیکھیں کہ بارہ دن تک ایران پر براہِ راست بم برسائے گے لیکن رجیم چینج نہیں ہوئی جبکہ ہمارے ہاں تو  ایک سائفر کا تعویز اپنا کام دکھا گیا تھا۔  مسٹر ٹر ٹر  کو ابھی تک  یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ  اسلامی انقلاب کے بعد والے ایران  اور  دنیا  کے دیگر اسلامی ممالک میں کیا فرق ہے؟۔  اس فرق کو سمجھنے اور اپنے شکوک و شبہات کو دور کرنے  کیلئے ہی امریکہ نے    ایران پر  ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر حملہ کیا۔ ٹر ٹر نے  آئندہ کا لائحہ عمل  اس  حملےکے ردِّ عمل کو دیکھ کر  طے کرنا  تھا۔ اسلامی فورس  کی طرف سے  امریکہ کو طاقت کی زبان میں جواب  دینے  اور اس کے فورا بعد ٹر ٹر کے صلح کے دعووں نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا  کہ امن کے ساتھ جینے کیلئے طاقتور ہونا ضروری ہے۔ کہیں پر بھی امن نرم دل، روتی ہوئی آنکھوں اور آہ و بکا کے بجائے طاقتور بازووں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بازووں میں طاقت نہیں تو آپ   کو  آزادی، مساوات اور انصاف کی قربانی دے کر امن حاصل کرنا پڑے گا۔ چنانچہ ملت ایران نے آزادی، مساوات اور انصاف کو   قربان کرنے  کے بجائے اپنے طاقتور بازووں سے کام لیا اور خوب ڈٹ کر  یہ کام لیا۔
ٹرٹر، جو ابھی چند دن پہلے ایران پر حملے کا حکم دے چکا تھا، اب خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسے امریکی و مغربی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن اور اخلاقی تضاد کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔جب کسی ریاست کا سربراہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے تو  ایسے میں صلح و  امن کا نام لے کر فراڈکرنا ہی طاقتور کے   بیانیے کی بنیاد ہوتا ہے۔
ٹرٹر کی "جنگ بندی" کا اعلان دراصل ایک جنگی چال ہے، جس کا مقصد ایران کو حملہ آور دکھانا اور خود کو صلح جو ، منصف اور غیرجانبدار ثابت کرنا ہے۔ایرانی قوم کو آٹھ سالہ جنگ کا تجربہ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  جارحیّت  سے زیادہ خطرناک وہ  صلح  ہے جو جارح کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ  آج دنیا کا ہر باشعور شخص ٹرٹر سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ  جب  تم خود حملہ آور ہو تو پھر تم ثالث اور منصف کہاں سے بن بیٹھے؟
ایران نے جس انداز میں عراق و  قطر میں امریکی اڈوں  پر جوابی کارروائی کی، وہ محض عسکری جواب نہیں تھا  بلکہ  دنیا کے سوچنے کے انداز کو  اُلٹ کر رکھ  دینے کی ایک فکری کاوش  تھی۔ بڑے بڑے دانشور بوکھلا کر کہہ رہے تھے کہ اب تو ایران کیلئے کئی محاز کھل جائیں گے، اب تو ایران کو بڑی سخت سزا ملے گی، وغیرہ وغیرہ لیکن ایرانیوں نے امریکہ کو جواب دے کر یہ منوا لیا کہ  تاریخ وہ   بازار ہے کہ  جہاں قومیں اپنی عزّت و آزادی  کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرتی ہیں۔ ایران نے  دشمن کے مقابلے میں اپنی قومی عزت و وقار  کا تحفظ عمل سے کیا  نہ کہ الفاظ سے۔
ٹرٹر صلح اور امن کے بھاشن دے کر  چاہتا یہ ہے کہ  کسی طرح اپنی شرمندگی کو چھپائے۔ گویا بدترین شکست کے بعد  فتح کا جھنڈا بھی وہی لہرائے۔ ایسے بے حیا کرداروں کے نزدیک انسانیت، انسانوں کی آزادی و خود مختاری  اور انسانی اقدار نام کی کوئی شئے نہیں  ۔انہیں صرف اس سے غرض ہے کہ اب اگر ایران جنگ بندی کی  اس "پیشکش" کو مسترد کر دے تو   اسے  مزید جارحیت کا جواز بنا یا جائے۔ امریکہ کے پاس ایران کیلئے تو بہت سارے ایٹم بم ہیں لیکن  فلسطین و غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے کوئی علاج نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  اگر دوا کے بغیر طبیب علاج کی بات کرے، تو وہ علاج نہیں کر رہا ہوتا بلکہ مرض کو لاعلاج  بنا رہا ہوتا ہے۔  ٹرٹر در اصل  اسرائیل کے پھوڑےکو ایک  لاعلاج ناسور میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔
یہ بھی امریکہ، اسرائیل اور فرانس وغیرہ کی بڑی ناکامی ہے کہ وہ  تجزیہ نگاروں، میڈیا ہاوسز، سوشل نیٹ ورکس ، مختلف تھنک ٹینکس پر اربو ں روپیہ خرچ کر کے بھی  ایرانی قوم کی  داخلی وحدت کو نقصان نہیں پہچا سکے۔ اس جنگ نے داخلی اور خارجی دونوں لحاظ سے ایران کو جتنا مضبوط کیا ہے، ایران اس سے پہلے کبھی اتنا مضبوط نہیں تھا۔ ایرن نے اپنی صفوں میں چھپے ہوئے منافقین اور غدّاروں کے کئی نیٹ ورکس پکڑے ہیں جو کہ ایران کیلئے خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
ایران نے صرف  میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ میں ٹرٹر اور کفرائیل کو مات نہیں دی،  بلکہ بیانیے، شعور،  اور اندرونی  و بیرونی رائے عامہ  کے میدان میں بھی اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔  ایرانی جرنیلوں نے اپنی تدابیر اور فہم و فراست سے ساری دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ  وہ تاریخ میں اپنا کردار خود تراشتے اور طے کرتے ہیں، نہ کہ بڑی طاقتوں کے لکھے ہوئے کسی اسکرپٹ میں وہ  کسی فنکار کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔
ٹرٹر کی صلح کے اعلان میں  امن کی روح نہیں، بلکہ طاقت کے  جبر کی چالاکی ہے۔ یہ ایسا امن ہے کہ جس کے نیچے طاقت کی تلوار چھپی ہوئی ہے جبکہ  دوسری طرف ایسے جبر و مکر کے مقابلے میں ایران کی  مقاومت و  مزاحمت ہے  جو آزادی اور برابری کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ ایرانی ماوں نے ایسے جرنیل جنم ہی نہیں دئیے کہ جو  کسی  ظالم کی خوشامد کر کے  کوئی مقام و منصب پانا چاہیں۔
نہ ہی تو ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو شہید کیا جا سکا، نہ ایران   اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوا،  نہ حکومت کا تختہ اُلٹا جا سکا،  نہ کوئی عوامی بغاوت ہوئی،  نہ ایران کی   اعلیٰ  انقلابی قیادت   سرنگوں ہوئی،  نہ ایران نے کسی حملے کا جواب قضا کیا ،  نہ  ایران نے سیز فائر کی بھیک مانگی، اور  سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران نے میدان جنگ میں بھی  اعلیٰ اخلاقی، سفارتی  اور  اسلامی اصولوں کی پاسداری کر کے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریت  کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ۔  بات صرف یہ نہیں کہ ایران نے ایک نام نہاد سُپر طاقت   اور اس کے حلیفوں کو شکستِ فاش دی ہے بلکہ بات تو یہ ہے کہ ایران نے  عملاً  ایک مرتبہ پھر ساری دنیا سے یہ تسلیم کروا لیا ہے کہ
سُپر طاقت ہے خدا ۔۔۔لا الہ الّااللہ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...