رعایتی استحصال اور سماجی انصاف
تحریر راجہ سعید عباس :
﴿طنز یہ تحریر﴾
abbasvok@gmail.com
آج کچھ بات رعایتی استحصال کی ہو جائے۔ ہمارے ہاں یہ رعایتی استحصال بہت عام ہے۔ اس نظام کی بدولت ہمارے سرمایہ دار مطمئن ہو کر بے فکری سے اپنے بینک بیلنس بڑھا تے ہیں۔ جاگیر داروں کی نیندیں مکمل محفوظ ہیں نہ کسانوں کا ڈر، نہ قانون کا خوف۔ناجائز منافع خور محنت اور لگن سے کوڑا بیچ کر خوب کما تےہیں۔اسی وجہ سے روز بروز ڈاکوؤں کی پیشہ وارانہ ترقی ہو رہی ہے ، راتوں کو جاگ کر ڈکیتیاں کرتے ہیں اور دِن کو پولیس والوں کو چائے پِلا کر مسکراتے پھرتے ہیں۔ اس سے پولیس والوں کا روزگار بھی محفوظ ہوا، چائے پانی کے بغیر صرف تنخواہ پر گزارا بھی مشکل ہے۔ اسی سے وکلاء صاحبان کی دال روٹی کا ساماں ہوا، انہیں ایک ہی مقدمے کو نسلوں تک چلانے کا ہنر آیا ۔ سیاست دانوں کو وراثت میں ملنے والی نشستیں اب روایت بن گئی ہیں۔کرپٹ لوگوں کی اولادیں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔غریبوں کے بچوں نے سرکاری سکولوں میں استاد کی عدم موجودگی و عدم توجہی سے خود انحصاری کا سبق سیکھ لیا ہے۔ اسی کے باعث پرائیویٹ سکولوں نے جیبیں کاٹنے کے نئے نئے فارمولے ایجاد کیے اور یونیورسٹیاں ڈگریاں بیچنے لگ گئیں۔سیاستدان اپنی چھینک کے علاج کیلئے یورپ کے ہسپتالوں سے رجوع کر نے لگے اور عام شہری موذی امراض کو گناہوں کا کفّارہ سمجھ کر خدا کی رضا پر راضی رہنے لگے۔ تاہم عام شہری ہر معاملے میں صبر کا دامن تھامتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آخرت میں اجرِ عظیم کا بونس حاصل کریں گے۔ اس کے علاوہ بھی اِس نظام کے اتنے فوائد ہیں کہ لفظوں میں بیان کرنا ،سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔
ہمارے وطنِ عزیز میں یہ ایک ایسا منفردنظام ہےجس میں ہر شخص کو اُس کی حقیقی صلاحیتوں (بینک بیلنس،خاندانی روابط اور طاقت)کے مطابق مراعات حاصل ہوتی ہیں ۔ہم پیار سےاسے رعایتی استحصال کا نام دیتے ہیں۔ ہر روز شہری اِس رائج کردہ مقبول نظام کے مختلف روؤیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔اُن مشاہدات میں ،کہیں کوئی معززسرمایہ دار اپنی نئی قیمتی گاڑی سے نیچے اترکر اپنی دو وقت کی روٹی کیلئے جتن کرتے امیر ریڑھی بان کوقانون کی کتاب کھول کر ٹماٹر کی قیمت /کوالٹی پرعزت افزائی کر رہاہوتا ہے تو وہیں کُچھ فاصلے پر موجود غریب کروڑ پتی، نمازی اور خدا ترس دُکاندار ’برانڈڈ‘ کا چورن بیچ کر عام شہری کو مہنگے داموں کوڑا فروخت کر کہ اپنی عاقبت سنوار تا دکھائی دیتا ہے ۔
ایک طرف اُنھیں معززسرمایہ دارزمینی قبضہ جات ، قتلِ ناحق ،زِنا، ڈکیتی اوراِن جیسے دیگر چھوٹے موٹے مقدمات میں روپیہ پیسہ، تعلقات،طاقت اور وکلاء کی قطاروں سے انصاف کو آئینہ دِکھاتے ہوئے نظر آتا ہے تو دوسری طرف عام شہری ڈبل سواری جیسے سنگین جُرم کے مقدمے میں آٹھ سال سے زیرِ حراست دِکھائی دیتا ہے۔
کہیں پر وہ بھاری مقدار میں شراب /چرس یا پاؤڈر کی چھوٹی موٹی سمگلنگ کرنے والا محنتی، موقع پر چند ہزار کی چائے پانی یا ایک بااثر فون کال پر ہنستے مُسکراتے اور اس خوبصورت نظام کو دعائیں دے کر جائے وقوعہ سے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کہیں پروہ رات کو شاہراہِ عام کے کنارے بیٹھ کر عام شہریوں کو آپس میں بات چیت کرنے جیسے سنگین جُرم پر پولیس کی بروقت کاروائی گالیوں اور دھمکیوں کے ذریعے سے اُن کے دِلوں میں قانون کا احترام کوٹ کوٹ کر بھرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ تاہم تعلیم و تربیت ہو یا پھر صحت، روزگار کے مواقع ہوں یا پھر مقدمات کی سنوائی، رہائشی منصوبے ہوں یا بجلی کی فراہمی ، ذرائع آمدورفت ہوں یا ذرائع مواصلات ، سرکاری دفاتر ہوں یا سیاست، میڈیا کا کردار ہو یا مذہبی ادارے، کھیل کے میدان ہوں یا پھر ذراعت ، ایک عام شہری کی زندگی سے وابسطہ ہر شعبے میں وہ ایسی ہزاروں دِلکش و بے نظیر مثالیں اپنے ذہنوں کے دریچوں میں محفوظ کر تے ہیں ۔ شہری ایک عام اور مطمئن زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ شہریوں کے لبوں پر شکوہ ہے نہ کوئی سوال ۔
اتناپُرسکون اور خوشگوار ماحول ہونے کے باوجود میں نے چند مشکوک سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے اور انتہائی تشویش کے ساتھ میں آپ کی توجہ ایک بڑے اور خطرناک فتنے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔یہ فتنہ ہمارے چند نام نہاد اصلاح پسندوں کی وجہ سے سماجی انصاف کے نام سے ہمارے معاشرے میں سر اُٹھا رہا ہے۔ سماجی انصاف ایک ایسا تصوّر ہے جس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق، مواقع اور سہولیات میّسر ہوں، خواہ وہ کسی بھی معاشی ، سماجی یا مذہبی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔
یہ نام نہاد اصلاح پسند جو خود کو دانشور کہلاتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ قلم کار سچ لکھ کرعوام کو بیدار کریں، واعظ حق کی تبلیغ کریں، دولت مند اپنی دولت سے انصاف کیلئے لڑیں،نوجوان طلباء احتجاج کریں ،عام شہری اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھائیں،لوگ ظلم کے خلاف بغاوت کریں،جہاں پر قانون شکنی ہو تو سب قانون کی بالادستی کیلئے یکجا ہو جائیں،کسی ایک کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف سب عدل کیلئے جدو جہد کریں، فرض شناس عہدیداروں کی حوصلہ افزائی اور اپنے منصب ویونیفارم کا غلط استعمال کرنے والوں کی بروقت حوصلہ شکنی کی جائے۔
خبردار ،ہوشیار! ذرا تصوّر کریں اگر یہ فتنہ کامیاب ہو گیا توکیا ہو گا؟
ہمارے پیارے سرمایہ داروں کو ٹیکس چوری کا موقع نہیں ملے گا۔ عزت دار جاگیرداروں کو کسانوں سے کام لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔مخلص پولیس افیسران کو رشوت کے بغیر گزارا کرنا پڑے گا۔ امیراور غریب کا فرق ہی مٹ جائےگا ۔قانون سب کیلئے برابر ہو جائےگا ، ہنر مند وکیلوں کو مقدمات جلدی ختم کرنے پڑیں گے اور عدالتی نظام تیز اور غیر جانبدار ہو جائے گا۔ انصاف سب کیلیے یکساں ہوجائےگا جس سے ڈاکوؤں کاکاروبار خطرے میں پڑ جائے گا ۔تعلیم اور روزگار کے مواقع میں کوئی امتیاز ہی نہ ہو گا ۔ پھرمواقع پیدائش سے نہیں بلکہ صلاحیت سے ملیں گے تو سیاستدانوں کو وراثتی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔بنیادی سہولیات (صحت،رہائش،خوراک) سب کو میّسر ہوں گی اورمعاشی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہی ختم ہو جائے گی ۔
کیا ہم یہ دُکھ اور تکلیف برداشت کر پائیں گے کہ ہمارا یہ خوبصورت نظام جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے چند نام نہاد اصلاح پسندوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جائے؟کیاہم اپنے ان عزت دار لوگوں کو خود اپنے سامنے زلیل و رسواء ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ؟ کیا ہم اِن مخلص پولیس والوں کو چائے پانی کے بغیر زندگی کاٹتے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ تعلیم دے سکتے ہیں کہ انصاف سب کو یکساں ملنا چاہیئے؟ نہیں، ہر گِز نہیں! تو پھر ہمیں سماجی انصاف کے اس فتنے کے خلاف یکجا ہونا ہو گا ، ہمیں اپنے پیارے نظام کو بچانا ہو گا ، ورنہ :
ہمارے محترم و معزز استحصالی طبقے بے روزگار ہو جائیں گے۔ہمارے عزت دارکرپٹ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک تعلیم نہیں دِلوا سکیں گئے۔غریبوں کے بچے خود انحصاری کا سبق بھول جائیں گے اور اس سب سے بڑھ کر تمام عام شہری صبر کرنے کی توفیق کھو دیں گے اور آخرت میں اس کے اجر سے محروم رہیں گے۔
اگر ہم حقیقت میں اس فتنے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں بروقت ٹھوس اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم خود کو اور اپنے اقرباء کو ایسے افراد سےدور رکھیں جو ایسی احمقانہ باتیں کریں اور ہماری نسلوں سے چلتے آ رہے نظام کی مخالفت کریں ۔ ایسے لوگوں کے قلم توڑ ڈالیں ، اِن کی تحریریں جلا دیں، ہاتھوں میں زنجیر ڈالیں اور ان کی آواز کو دبا کر زمانے کیلئے عبرت بنائیں ۔
آپ کے بچے آپ کا سرمایہ ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد آپ کے بچے اس فتنے کا شکار ہو کر سماجی انصاف کے حق میں بول پڑیں ۔ اُس کے بعد ہماری اگلی نسلیں انصاف اور مساوات کا مطالبہ کرنے لگیں۔اس لیے اپنے اس پیارے نظام کی بقاء کیلیے اپنے بچوں کو شعور و آگہی جیسے فتنوں اور ہر اُس صدا سے دور رکھو،جو آپ کے رائج نظام کی مخالف ہو۔ کہیں آپ کے بچے بھی ایک روز اس نظام کے باغی نہ بن جائیں۔فیصلہ آپ کا ہے، یا توآج ہمیں اپنی نسلوں کے کانوں میں یہ رٹی رٹائی بات ڈالنی ہو گی کہ بیٹا یہ دنیا فانی ہے یہاں انصاف نہیں ہوتا، یہاں مساوات نہیں ہوتی، یہاں جتنا بھی وقت گزر جائے غنیمت جانو، یہاں تو بس سر جھکا کرزندگی گزارو۔یا پھر کل کو ہماری اولادیں ہمارے نسلوں پُرانے رائج نظام کےخلاف، انصاف اور مساوات کے نعرے لگاتے ہوئے ہمارے بنائے ہوئے ظلم کے محلوں کو گرانے پر تُل جائیں ۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں