میر عالم قریشی ؒ ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کے خاندان کی مختصر تفصیلات
﴿ضلع کوٹلی آزاد کشمیر آمد اور بعد کے حالات کا اجمالی جائزہ ﴾
و ہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
بس کمی ہے تو اُس شخص کی جو تہہِ مزار چلا گیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست
دیباچہ 4
ضلع کوٹلی آمد اور بعد کے حالات 6
میر عالم قریشی ؒ کے گھر سے راقِم کی جُڑی یادیں 13
اِس علاقے میں راقِم کی تعیّناتی 15
شجرہ نسب میر عالم قریشیؒ 18
محمد اسماعیل قریشی شہید کا احوال 19
فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی کا تذکرہ 23
محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کا احوال 25
حرفِ آخر! 31
مشخصاتِ کتاب
میر عالم قریشی ؒ ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کے خاندان کی مختصر تفصیلات
﴿ضلع کوٹلی آزاد کشمیر آمد اور بعد کے حالات کا اجمالی جائزہ ﴾
مصنّف : میجر﴿ ر﴾ گُل اختر جنجوعہ
نظر ثانی: ڈاکٹر نذر حافی
ناشر: وائس آف نیشن ریسرچ کمیونٹی
آنلائن ورژن کیلئے کلک کریں
دیگر مطبوعات:
1. تجدید مذہب و اسباب و علل
2. حوالدار محمد حسین مرحوم
3. میر عالم قریشی مرحوم
4. فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال
دیباچہ
وہی بزم ہے، وہی دھوم ہے، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
بس کمی ہے تو اُس شخص کی جو تہہِ مزار چلا گیا
یہ تحریر یادوں کی وہ امانت ہے جو وقت نے راقِم کے سپرد کی۔ یہ آپ بیتی ایک فرد کی سرگزشت نہیں بلکہ یہ ایک ہجرت کی روداد ، ایک نسل کی جدوجہد اور ایک عہد کی صداقت کی تاریخ ہے۔
میر عالم قریشیؒ اور ان کے خانوادے کا ذکر نسب سے زیادہ نصیب کا ذکر ہے، اور یہ رشتوں سے بڑھ کر انسانیّت کا نوحہ ہے۔ فتح پور تھکیالہ اور سنوٹ بالاکوٹ کی وہ مٹی، جس نے اس خاندان کے قدموں کے نشان بھی سنبھالے اور ان کے خون کی خوشبو بھی، اس داستان کی خاموش گواہ ہے۔ ہجرت کی دُھول، سرحد کی لکیر، توپوں کی گونج اور گولیوں کی سنسناہٹ، یہ سب اس خاندان کے مقدّر کا حصّہ بنا، مگر حوصلے بلند رہے۔
راقِم نے یہ سطور کسی بیرونی ناظر کی طرح رقم نہیں کیں بلکہ یہ سطور ایک مہاجر بچے کی لرزتی ہوئی سانسوں، ایک سپاہی کی باوردی ذمہ داری اور ایک عمر رسیدہ دل کی روداد ہیں۔ جو بچہ کبھی رات کی تاریکی میں دشمنوں سے ڈرتا تھا، وہی بعد ازاں گردشِ ایّام کے باعث اسی دھرتی کے دفاع پر مامور ہوا۔ یہ تقدیر اور نصیب کی وہ عبارت ہے جو لوحِ محفوظ پر خون، دعا اور مٹی کی محبّت سے لکھی گئی تھی۔
اس کتاب میں شہادت کا ذکر ہے مگر نعرہ نہیں، دکھ کا بیان ہے مگر شِکوہ نہیں، ظلم کا حوالہ ہے مگر نفرت نہیں۔ محمد اسماعیل قریشی شہید اور دیگر کردار یہاں خود ہی اپنی مظلومیّت کے گواہ ہیں۔ یہ تحریر دراصل آنے والی نسلوں کے نام ایک وصیت ہے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کی شناخت محض اُن کا شجرہ نہیں بلکہ کردار بھی ہے۔ راقِم کی یہ کوشش ہے کہ بکھری ہوئی یادوں کو مستقبل کے ساتھ ربط دیا جائے، اس سے پہلے کہ موجودہ نسل ان یادوں کو گُم کر دے۔
اگر یہ سطور کسی دل میں اپنے ماضی کا شعور جگا دیں، کسی آنکھ میں عقیدت کی نمی اتار دیں یا کسی ذہن میں ماضی کی روشنی روشن کر دیں، تو راقِم یہی سمجھے گا کہ اس کی یادوں کا قرض ادا ہو گیا۔ یہ دیباچہ نہیں، ایک خاموش دعا ہے۔ ان کے لیے دعا جو مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گئے، ان کے لیے بھی جو ابھی زمانے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اور ان کے لیے بھی جو اس تاریخ کے امین بن کر آگے بڑھیں گے۔
ضلع کوٹلی آمد اور بعد کے حالات
تُجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایّامِ کُہن
اپنے گمنام خزانوں کو اُٹھا کر رکھ لے
ماؤں کے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے
آج سے تقریبا دو صدی قبل میر عالم قریشی ؒ کے خاندان کا کوئی بزرگ گردشِ زمانہ کا شکار ہو کر دھنّی چکوال ﴿موجودہ پاکستان﴾ سے یہاں سنوٹ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں آباد ہوا۔ برِّصغیر کی تقسیم سے قبل یہ علاقہ تحصیل مینڈھر ضلع پُونچھ کا حِصَّہ شمار ہوتا تھا ۔
14 اگست 1947ء اور 15 اگست 1947ء کو بالترتیب پاکستان اور ہندوستان دو آزاد ریاستیں معرضِ وجود میں آئیں ہندوستان نے اپنی عیّاری اور مکّاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 27 اکتوبر 1947 ء کو گورداس پور کے راستے سے اپنی ظالم افواج کشمیر میں داخل کرکے سرینگر، جھنگڑ، نوشہرہ، جمّوں، راجوری ،مینڈھر اور پُونچھ کے علاقوں پر عملاً قبضہ کر لیا ۔
خِطّہٴ کشمیر جو کہ ہمیشہ سے ایک آزاد حیثیّت سے جانا جاتا رہا ہے۔ یوں پہلی بار ہندوستان کے زیرِ تسلط آنے سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جھگڑے کی بنیادی وجہ بن کر سامنے آیا۔
بقول شخصے :۔ یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنّت۔۔۔جنّت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
اسی تنازعہِ کشمیر کی بنیاد پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان47 ء – 1948ء میں پہلی جنگ کا آغاز ہوا۔ 20 جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں مسلہٴ کشمیر کے حل کیلئے پاس کی گئی قراردادیں جن میں کشمیر میں استصوابِ رائے کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا آج تک ٹوکری کی ردّی کے سوا کچھ اور ثابت نہ کر سکیں ۔ بِنا بریں مسئلہِ کشمیر کے حل میں تاخیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چار جنگوں47 ء – 1948ء، 1965, , 1971 ء اور 199899–ءکی کارگل کی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
سنوٹ بالا کوٹ ﴿فتح پور تھکیالہ﴾کا یہ گاؤں مذکورہ بالا چارہ جنگوں کے دوران انڈین افواج کی بدترین جارحیت کا نشانہ بنتا رہا ۔ نہ جانے کتنی ماؤں کی جھولیاں خالی ہوئیں اور کتنی خواتین کا سہاگ اُجڑا ۔ اور آج تک جُوں کا تُوں ہی ہو رہا ہے ۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک اس گاؤں کے سینکڑوں بچّے، بوڑھے اور مرد و خواتین ظالم انڈین افواج کے ہاتھوں لُقمہِٴ اَجل بن چکے ہیں جن میں میر عالم قریشی ؒ کا ایک پوتا اور کالا خان قریشی کے فرزند ارجمند محمد اسماعیل قریشی شہید کا نام ِنامی سر ِفہرست ہے ۔
پہنچ ہی جائے گا منزل پہ یہ کارواں آخِر۔۔۔ تمہارے خوں سے مہکے گا گلستان آخِر
تا حال خِطّہ کشمیر کا پائیدار اور مستقل حل نہ ہو نیکی وجہ سے کشمیر میں ہندوستان کی ظالم وجابر افواج کے ظلم و بربریت کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ،کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے یقیناً کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ گو کہ میر عالم قریشی ؒ تقسیم برصغیر سے کئی برس قبل اور کالا خان قریشی بھی 1947ء کی جنگ سے پہلے ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے تھے تاہم اُن کی اولادیں انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہوتے ہوئے اپنے پیارے وطن سنوٹ بالاکوٹ کی پیاری مٹی سے اپنا رشتہ محبت نبھاتی رہیں ۔یہ مظلوم قریشی خاندان بھارتی مظالم کا مقابلہ بڑی پامردی اور بہادری سے کرتا رہا۔
تقسیم برِّ صغیر کے نتیجے میں اور ہندوستانی افواج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے یہ قریشی خاندان مقیم سنوٹ بالاکوٹ انڈین مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی افواج کی دفاعی پوزیشنوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے سخت مشکل حالات سے دوچار رہا۔
1956ء میں پاکستان کے پہلے آئین کی روشنی میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سیس فائیر لائین اور بعد ازاں 1973ء میں متعیّن کی گئی ۔
(LOC) لائین آف کنٹرول اس قریشی خاندان کے گھروں کے نزدیک سے کھینچی گئی ۔ جس سے ان کے مسائل اور مصائب میں مزید خاصا اضافہ ہوا۔ اور یوں انڈین آرمی کی جارحیت کا خطرہ ہر وقت ان کے سروں پر منڈ لانے لگا۔ اس طرح ایک نئی بے یقینی کی کیفیت نے جنم لیا ۔
اس قریشی خاندان کے واقع گھروں کے نزدیک اُوپر شمال کی جانب رِج لائین کے ایک طویل سلسلے پر پانماں اور مشرق کی جانب سٹالی چیڑھ ، یسونی ، ڈبی اور پیر سَیِّد فاضل شاہ پہاڑی پر ہندوستانی افواج کی دفاعی پوزیشنیں تھیں جبکہ شمال مغرب کی جانب بالاکوٹ، دو ٹِھلہ ،﴿ٹوپیاں﴾، دھروتی موہڑہ کے علاقے پر پاکستانی افواج کی دفاعی پوزیشنیں واقع تھیں۔
گویا کہ قریشی خاندان کے گھر دونوں ممالک پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے تھے اور آئے دن کی فائرنگ اور گولہ باری سے انتہائی مشکلات سے دوچار رہتے تھے۔
میر عالم قریشی ؒ کے گھر سے راقِم کی جُڑی یادیں
راقِم تحریر ہذا میں اس واقعہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جب راقِم کی عمر پونے آٹھ سال تھی اور اڑی مینڈھر مقبوضہ کشمیر سے دور انِ ہجرت کانڈھی، چیتری، کوٹاں اور بھروٹ سے ہوتے ہوئے رات کی تاریکی میں اپنے خاندان اور چند دیگر ہجرت کر نیوالے خاندانوں کے قافلے کے ہمراہ کَھلا دَرَمَّن کے مقام سے انڈین پوسٹوں کے عین وسط سے بارڈر لائین عبور کر کے سنوٹ بالاکوٹ میں واقع میر عالم قریشی ؒ کے گھر پہنچے تھے، مذکورہ قریشی خاندان کے ساتھ راقِم کے تایا زاد بھائیوں کی رشتہ داریاں تھیں لہذا یہاں دو رات اور ایک دن قیام کیا گیا۔
اس دوران دونوں اطراف کی افواج ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری کرتے سنائی دیں ۔ والدین ہمیں گھر سے باہر دشمن کے سامنے نہ نکلنے کی تلقین کرتے اور ساتھ ہی یہ خوف بھی دلاتے کہ اگر تم کافروں کے سامنے نمودار ہوئے تو کافر گولی کا نشانہ بنائیں گے۔
یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ انڈین آرمی کیلئے لفظ کافر کی اِصطلاح استعمال کی جاتی تھی اور اس کافر کا خوف اور ڈر ہر وقت ہمارے دل اور دماغ پر حاوی رہتا تھا۔ اسی اَثْناءمیں رات کے دوران راقِم نے پاکستانی افواج کے جوانوں کو ایریا میں گشت کرتے بھی دیکھا وہ واقعہ آج بھی دماغ پر اُسی طرح ثبت ہے۔
اِس علاقے میں راقِم کی تعیّناتی
فوجی تربیّت مکمل کرنے کے بعد راقِم کو اکتوبر 1977ء میں بالاکوٹ دو ٹِھلّہ (ٹوپیاں) اور دھروتی موہڑہ کے بارڈر پر اپنے فرائضِ منصبی انجام دینے کا سنہری موقع میسّر آیا ۔
خداوندِ مُتّعَال نے راقِم کی زندگی ہی میں یہ سُہانا خواب پورا کیا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران اڑی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والا بچّہ اس علاقے کا دفاع کرنے پر مامور ہوا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کا ایک بہت بڑا احسان تھا اور آج زندگی کے آخری اَیّام میں جب راقِم کی عمر چھیاسٹھ سال دو ماہ اور گیارہ دن مکمل ہو رہی ہے تو راقِم ان واقعات اور حالات کو جو ماضی کا قِصّہٴِ پارینہ بن چکے تھے انہیں ایک تحریری دستاویز کی شکل میں قلم بند کر رہا ہے۔
اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
شجرہ نسب میر عالم قریشیؒ
محمد اسماعیل قریشی شہید کا احوال
محمد اسماعیل قریشی شہید ، کالا خان قریشی کے فرزند ارجمند اور فضل حسین قریشی کے چھوٹے بھائی تھے۔شروع ہی سے مزدوری پیشہ تھے ان کی پہلی بیوی کا نام موتیاں بی تھا جو کہ موضع ڈبسی نکیال کی رہنے والی تھیں جس سے محمد اسماعیل قریشی شہید کو خداوند متعال نے دو بیٹے محمد ایوب ، محمد یونس اور ایک بیٹی دل جان بیگم عطا کئے۔ دل جان بیگم کی شادی 1962/63 ء کو موضع اڑی بساں تحصیل مینڈھر مقبوضہ کشمیر کے میر حسین ولد سیدا خان قوم جنجوعه را جپوت سے انجام پائی۔
1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میر حسین ولد سیدا خان کا خاندان اڑی مینڈھر سے ہجرت کر کے میر پور آزاد کشمیر پنڈی سبھروال ﴿میری) کے مقام پر آباد ہوا ۔ میر حسین کو اللہ تعالیٰنے دل جان بیگم سے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں عطا کیں ۔ بعد ازاں میر حسین ولد سیدا خان 24 مارچ 1979 ء کو طبعی موت اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور پنڈی سبھروال قبرستان کو اپنا ابدی ٹھکانا بنایا۔ یوں پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں اور چار بیٹے سوگوار چھوڑ گئے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
بیوہ دل جان بیگم کی دوسری شادی موضع لنجوٹ ڈبسی کے ملک کرامت اللہ نامی شخص کے ساتھ ہوئی جو کہ میر پور بن خُرماں کے مقام پر رہائش پذیر تھے۔ چند سال قبل دل جان بیگم بھی طبعی موت کی شکار ہوئیں اور اُن کی قبر بھی پنڈی سبھرّ وال قبرستان میں ہے۔
دل جان بیگم سے ملک کرامت اللہ کی کوئی اولاد نہ تھی، محمد ایوب قریشی سے متعلق آگے تحریر میں تفصیلاً ذکر ہوگا جبکہ محمد یونس قریشی اور اُن کی اولادوں کا تذکرہ اُن کے شجرہ میں کیا جا چکا ہے۔دورانِ مزدوری راولپنڈی گندم منڈی میں محمد اسماعیل قریشی کا گندم منڈی کے نزد چو بارے میں مقیم ایک مُطلقہ بال بچوں والی عورت گلاب بی بی سےکسی طرح شادی ہو گئی۔
محمد اسماعیل قریشی کی پہلی بیوی موتیاں بی بی معہ بال بچوں کے سنوٹ بالا کوٹ اپنے آبائی گھر میں بحیات موجود تھیں۔ اس طرح راولپنڈی میں محمد اسماعیل قریشی کی دوسری شادی گلاب بی بی سے انجام پائی۔
اس خاتون کا اپنا آبائی علاقہ حافظ آباد گجر انوالہ تھا۔محمد اسماعیل قریشی اس دوسری بیوی کے ہمراہ کراچی چلے گئے۔ گلاب بی بی کی دوسرے خاوند کی اولادیں واپس اپنے علاقے گجرانوالہ چلی گئیں ۔
گلاب بی بی سے ازدواجی عرصہ کے دوران محمد اسماعیل قریشی کو اللہ تعالی ٰنے ایک بیٹی صابربی عطاکی۔تقریباً عرصہ 18 سال کراچی میں گزارنے کے بعد محمد اسماعیل قریشی اچانک شدید علیل ہو گئے ۔ گلاب بی بی نے کوشش بسیار کے بعد سنوٹ بالاکوٹ میں رہائش پذیرموصوف کی بیوی موتیاں بی اور بچوں سے رابطہ کیا اور انہیں محمد اسماعیل قریشی کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق آگاہ کیا ۔ اسی کے ساتھ ہی محمد اسماعیل قریشی نے کراچی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا اور سنوٹ بالاکوٹ کیلئے واپسی کا رختِ سفر باندھا۔
یوں محمد اسماعیل قریشی اپنی دوسری بیوی گلاب بی بی اور بیٹی صابربی کے ہمراہ کراچی سے واپس نکیال سنوٹ بالا کوٹ آگئے اور اپنی دونوں بیویوں کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں میں زیست فانی کے دن بسر کرنے لگے۔
بلا شبہ موت برحق ہے اور ہرزی روح نے کسی نہ کسی بہانے اس دارِ فانی کو چھوڑنا ہوتا ہے۔آخر کار وہ وقت آن پہنچا کہ 1969ء کو سنوٹ بالاکوٹ کے مقام پرجبکہ محمد اسماعیل قریشی اپنے مال مویشی کے ہمراہ اپنے مکان سے باہرنزدیکی فاصلے پر تھے کہ مکان کے نزدیک واقع انڈین آرمی کی گھات لگائے پیٹرول نے اُن پر فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں محمد اسماعیل قریشی موقع پر ہی شہادت کا جام نوش فرما گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
خدا تیری قبر کو روشن کرے نو رِ جنّت سے۔۔۔جنّت تجھے نصیب ہو شفاعتِ محمدؐ سے
اس کے ساتھ ہی محمد اسماعیل قریشی شہید کی دنیاوی زندگی کا چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہو گیا اور سنوٹ بالا کوٹ کے مقام پر آسودۂ خاک ہوئے ۔ محمد اسماعیل قریشی شہید کی شہادت سے دو سال قبل ہی گلاب بی بی اپنے سابقہ شوہر کے بچوں کے پاس حافظ آباد گجرانوالہ چلی گئی تھیں اور بعد ازاں وہیں پر وفات پاگئیں۔
محمد اسماعیل قریشی کے اِس دل گداز سانحہ کے فورا بعد فضل حسین قریشی اپنے اور اپنے شہیدبھائی کے بچوں کے ہمراہ سنوٹ بالاکوٹ سے ہجرت کر کے درلیّاہ جٹاں اور پھر وہاں سے میر پور پنڈی سبھرّوال نقل مکانی کر آئے۔
محمد اسماعیل قریشی شہید کی شہادت کے بعد اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی سنوٹ بالاکوٹ سے ہجرت کے کئی سال بعد صابر بی دختر محمد اسماعیل قریشی شہید کی شادی جراحی درلیاہ جٹاں کے نذیر حسین کھو کھر سے انجام پائی۔ تادمِ تحریر ہذا دونوں میاں بیوی بحیات معہ اہل و عیال خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں۔
فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی کا تذکرہ
فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی کے سُسر کا نام غلام محمد کھو کھر تھا جو کہ بالا کوٹ سٹالی چیڑھ﴿ کو ٹھی ﴾کے رہنے والے تھے۔ غلام محمد کھو کھر کی درج ذیل 5 بیٹیاں تھیں ۔
ا۔شنا کی زوجہ علم دین کھوکھر
ب - گلابو بیگم زوجہ علم دین جنجوعه ﴿والدہ محمد شریف اور راجا لال حسین﴾
ج۔دانی بیگم زوجہ غلام حسین ﴿غلامو﴾
د۔نوراں بیگم زوجہ سیدا خان جنجوعہ اڑی بساں، مقبوضہ کشمیر، ﴿حال میرپور پنڈی سبھرّوال﴾
ر۔حسن بی زوجہ فضل حسین قریشی ولد کا لاخان قریشی میر پورہ پنڈی سبھرّوال
فضل حسین قریشی کی کل چار بیٹیاں تھیں ان کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی۔
بڑی بیٹی سروربی کی شادی سٹا لی چیڑھ بالا کوٹ ﴿کوٹھی) کے باغ حسین کھوکھر سے انجام پائی تھی پھر وہ وفات پاگئیں۔
دوسری بیٹی زہرہ بی بی کی شادیء1959/60 میں اڑی بساں مینڈھر مقبوضہ کشمیر کے محمد اکبر ولد سیدا خان جنجوعہ کے ساتھ ہوئی ۔ یہ خاندان 1965ء کی پاک بھارت کے دوران اڑی مینڈھر سے ہجرت کر کے میر پور پنڈی سبھروال (میری) کے مقام پر سکونت پذیر ہوا۔
زہرہ بی بی سے محمد اکبر کی اولادیں موجود ہیں، زہرہ بی بی 23 اکتوبر 8201ء کو طبعی موت اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ محمد اکبر ولد سیدا خان زہرہ بی بی سے قبل 22جنوری 1992 ء کو وفات پاچکے تھے اُن کی جائے دفن بھی پنڈی سبھرّوال قبرستان میں ہے۔
رقیہ بی بی زوجہ محمد ایوب قریشی ولد محمد اسماعیل قریشی شہید پنڈی سبھرّ وال (میری ، میں بحیات ہیں﴾رقیّہ بی بی سے محمد ایوب مرحوم کی صرف ایک بیٹی ہے جو کہ شادی شدہ اور صاحبِ اولاد ہے اس کے علاوه اُن کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے ۔
مقبول بی بی زوجہ محمد یونس﴿ فضل حسین قریشی کی سب چھوٹی بیٹی﴾ نے مورخہ 19 فروری 2022 ء کو پنڈی سبھرّ وال کے مقام پر وفات پائی، اُن کا مدفن بھی وہیں ہے۔ مقبول بی بی سے محمد یونس کی تین بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں ۔ موصوف فضل حسین قریشی 20 دسمبر 1992ء کو پنڈی سبھرّوال کے مقام پر طبعی موت کا شکا ر ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔
اِنّا لِلہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعُون
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام ِزندگی۔۔۔ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوام زندگی
محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کا احوال
محمد ایوب قریشی ایک شریف النّفس اور سیدھا سادہ انسان ہونے کے ساتھ ساتھ رزق حلال کے حصول کیلئے ہمیشہ کوشش کرتے رہے اور شروع ہی سے ایک مزدور پیشہ کے طور پر معاشرے میں اپنی پہچان کرائی ۔موصوف کی پہلی شادی 1965 ء میں اُن کی تایا زاد رقیّه بی بی دختر فضل حسین قریشی سے سنوٹ بالا کوٹ کے مقام پر انجام پا ئی جس سے اللہ تعالیٰ نے محمد ایوب قریشی کو اکلوتی بیٹی رضیہ بی بی سے نوازا۔
بعد ازاں ء1998–1999 ء میں رضیہ بی بی کی شادی ضلع جھنگ کرو ڑ لیّہ کے ایک نوجوان محمد شریف ولد اللہ بخش قوم ملک سے انجام پائی ۔محمد شریف کو اللہ تعالیٰنے ان سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کیں۔ تا دمِ تحریر ہذا رضیہ بی بی کروڑ لیّہ میں ہمراہ اپنے خاندان کے بخوشی زیست ِ فانی کے دن گزار رہی ہیں۔
جیسا کہ گزشتہ سطور میں مذکور ہے کہ محمد ایوب قریشی کی اولاد نرینہ نہ ہونے کے باعث موصوف کے دل میں اس کمی کا احساس ہر وقت ایک کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا تھا۔ مہاجر 1965ء سنوٹ بالا کوٹ ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان کی طرف سے ضلع جھنگ تحصیل شورکوٹ میں رکھ بھر یری چک نمبر10 میں محمد ایوب قریشی کو 100 کنال اراضی بھی الاٹ ہوئی تھی، بسلسلہ الاٹ شدہ اراضی اور جھنگ میں کروڑ لیّہ میں اپنی اکلوتی بیٹی رضیہ بی بی کی شادی ہونے کی وجہ سے اُن کا جھنگ اکثر آنا جانا رہتا تھا ۔ یوں وہ اپنے دل کے دُکھ درد کا اظہار ضلع جھنگ کے اپنے ملاقاتیوں سے کرتے رہے جن میں اولاد نرینہ سے محرومی کا تذکرہ اور دوسری شادی کرنے کی خواہش کو پورا کر نے کی تمنّا کا ذکر بڑی شدّ و مد سے ہوتا رہتا ۔
آہستہ آہستہ محمد ایوب قریشی کا یہ معاملہ جھنگ ٹو بہ ٹیک سنگھ کے ایک نوسر باز گروہ تک پہنچا۔ جس نے اِس کام کو بڑی مہارت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا آغاز کیا ۔ انہوں نے موصوف کے ساتھ مختلف ذرائع سے روابط قائم کر کے اس سادہ لوح شخص کو اپنے جال میں پھنسا لیا ۔
محمد ایوب قریشی نے اپنی دوسری شادی سے متعلق اپنی تمام تر سرگرمیوں کو اپنی بیوی رقیّہ بی بی اور دیگر احباب سے پوشیدہ رکھا۔یعنی مخفیانہ طور پروہ دوسری شادی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مصروفِ عمل رہے،آخر کار دونوں اطراف کی کاوشیں بار آور ثابت ہوئیں اور وہ لمحات آن پہنچے کہ جن کا محمد ایوب قریشی کو بڑی مدّتوں سے اور بڑی شِدّت سے انتظار تھا۔
اپریل 2009ء کو جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد ایوب قریشی کی دوسری شادی کی رسومات انجام پائیں۔اِس شادی کے نوسر باز گروہ کے اہم کرداروں میں بذات خود دُلہن، دلہن کے چچا چچی اور دلّال شامل تھے ۔
اس دوسری شادی کی سب سے انوکھی اور خوبصورت کہانی کچھ یوں تھی کہ دلہا میاں کی پہلی بیوی یا احباب میں سے کوئی بھی فرد شادی کی تقریبات میں مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔اس طرح شادی کے تین چار دن بعد دلہن کے چچا چچی نے دلہا میاں کو اپنا اگلا پروگرام بتایا کہ محمد ایوب قریشی کے گھر کو دیکھنے کے بعد اپنے رواج کے مطابق جہیز بھی دیں گے۔
محمد ایوب قریشی نے پنڈی سبھرّ وال میں اپنی پہلی بیوی رقیہ بی بی اور احباب کو اس بدلتی صورت حال سے متعلق آگاہ کیا اور اپنی نئی نویلی دلہن کی آمد اور ولیمے سے متعلق ضروری ہدایات دیں۔ چنانچہ دئیے گئے پروگرام کے مطابق مہمانان گرامی پنڈی سبھروال پہنچے۔
پنڈی سبھر وال (میری) کے مقام پر ولیمہ کا اہتمام کیا گیا کہ اسی دوران جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دلّال نے فون پر رابطہ کر کے محمد ایوب قریشی کو جھنگ واپس نہ آنے پر زور دیا۔ دلّال کا اِس طرح کرنا ڈرامہ کے سکرپٹ کا حِصَّہ تھا لیکن محمد ایوب قریشی پہلے ہی دُلہن اور اُس کے چچا چچی کو جھنگ واپسی کیلئے عندیہ دے چکا تھا۔ولیمے کی اس تقریب کے دوران محمد ایوب قریشی نے اپنے احباب سے اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اُسے بیوی بھی مل گئی، باپ بھی مل گیا اور ماں بھی مل گئی ہے۔
پنڈی سبھرّوال ایک ہفتہ گزارنے کے بعد یہ حضرات واپس جھنگ تشریف لے گئے ۔جب اپنی منزل کے قریب پہنچے تو دلہن نے اپنے چچا چچی سے کہا کہ وہ ناشتے کیلئے کچھ برگر اور سینڈوچ وغیرہ لے کر آتی ہے۔ یوں راستے میں گاڑی سے اُتر گئی ، نام نہاد چچا چچی ہمراہ محمد ایوب قریشی نزدیک واقع بس اسٹاپ پر اُترے، جب کافی دیر تک دلہن کا انتظار کیا جب وہ واپس نہ آئی تو نام نہاد چچا اور چچی نے محمد ایوب قریشی سے کہا کہ وہ ذرا دلہن کو ڈھونڈ کر لاتے ہیں شاید وہ کہیں راستہ بھول گئی ہے۔ یوں یہ تینوں نوسرباز کردار وہاں سے رفو چکر ہو گے۔ بہت زیادہ انتظار کے بعد محمد ایوب قریشی صاحب جب گرتے پڑتے دلہن کے گھر پہنچے تو اُس گھر میں اجنبی خواتین کو پایا ۔
استفسار کرنے پر ان خواتین نے بڑے غصے سے جوابات دئیے اور معاملے سے اپنی مکمل لا علمی کا اظہار کیا۔یوں یہاں یہ سارا شادی ڈرامہ فلاپ ہوا ، جھنگ سے محمد ایوب قریشی نے بذریعہ فون کروڑ لیّہ میں اپنی بیٹی اور داماد کو اور پنڈی سبھرّ وال میں اپنی بیوی رقیّہ بی بی اور دیگر احباب کو حالات کی سنگینی سے متعلق آگاہ کیا ۔
کروڑلیّہ سے دامادمحمدشریف جھنگ میں موجود محمد ایوب قریشی کے پاس پہنچنے اور باہم ضروری مشاورت کے بعد اس شادی ڈرامہ کے اہم کردار دلّال کے پاس پہنچے اور واقعہ سے متعلق تفصیلاً ذکر کیا۔
جس کے جواب میں دلّال نے اپنا مختصر فیصلہ سنایا کہ اُس نے محمد ایوب قریشی کو بر وقت بتایا تھا کہ وہ دلہن کے ساتھ واپس جھنگ نہ آئے لیکن اس نے اسکی بات پر عمل نہیں کیا لہذا اب وہ اِس معاملہ کا کوئی ذمہ دار نہیں ۔
دلّال سے یہ مختصر جواب موصول ہونے کے دو دن بعد محمد ایوب قریشی خفت اور مایوسی کے عالم میں میر پور پنڈی سبھرّوال (میری﴾ پہنچے اور اپنی بیوی اور احباب کو اس سارے واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس واقعہ کی مناسبت سے یہ ضرب المثل یہاں بہت صادق آتی ہے :
اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
اس سارے واقعہ کے بعد محمد ایوب قریشی اپنی اس ناکامی اور شرمندگی پر اندر ہی اندر سے جلتے اور کُڑھتے رہے یہاں تک کہ یہ ساری ، صورتِ حال ایک جان لیوا موذی مرض کی صورت اختیار کر گئی اور اسی غم و کرب کے عالم میں اس شادی ڈرامہ کے تقریبا ًعرصہ ڈیڑھ سال بعد مورخہ 8 اکتوبر 2010 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے اور پنڈی سبھرّ وال قبرستان کو اپنا ابدی ٹھکانا بنایا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا
ہاں مگر نامِ حسینؑ ابن علیؑ رہ جائے گا
حرفِ آخر!
زندگی سراسر آزمائش ہے، اور یہی آزمائش انسان کو نکھارتی ہے۔ میرے جیسے ان گنت بچوں نے بچپن میں خوف کے سائے دیکھے، پھر بھی تاریخ کا تجربہ گواہ ہے کہ کسی موڑ پر بھی حالات انسان کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتے۔ یہی مشکل حالات انسان کو مختلف قسم کے فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، اور انہی فیصلوں کے اثرات وقت کی حدود سے نکل کر نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ہم آج اپنے اجداد کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹ رہے ہیں، اور ہماری آئندہ نسلیں ہمارے آج کے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کریں گی۔
بس ! اب لفظ ادا ہو چکے، معنی منتقل ہو چکے اور امانت حوالے ہو چکی۔ اب یہ روداد قاری کی فکر میں زندہ رہے گی، اس کی تنہائی میں اُس کا ساتھ دے گی، اور اس کی سوچوں میں سفر کرے گی۔ یہی اس تحریر کی زندگی ہے، یہی اس کا حاصل اور یہی اس کا حرفِ آخر۔
﴿یہ تحریر راقِم نے مورخہ 13 مارچ 2024ء بروز بدھ بمطابق 2 رمضان المبارک 1445ھ کو مکمل کی ﴾







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں