عزیزم علی شیرازی کی ایک کال :
ڈاکٹر نذر حافی :
عزیزم علی شیرازی نے گزشتہ روز مجھے کال کی کی کہ اس اتوار کو ہم نے آپ سے ملنے آنا ہے۔ وقت بھی موسموں کی طرح بدلتا اور آگے بڑھتا رہتا ہے۔ دوماہ پہلے مجھے اپنی شادی کی دعوتِ ولیمہ میں دعوت کی کال بھی انہوں نے ہی کی تھی۔ میں نے علی شیرازی کو یوں سمجھئے کہ اپنے ہاتھوں میں پالا ہے۔ میرا فون بند ہو یا سائلنٹ، مجھے ڈھونڈنا علی شیرازی کا ہی کمال ہے۔ یوں سمجھئے کہ میرے احساسات و جذبات کی دنیا کو زندہ رکھنے میں ایک بڑا حصّہ علی شیرازی کا ہے۔ اب خیر سے علی شیرازی بھی شادی کر کے میں سے "ہم "ہو گئے ہیں۔
دنیا کے تمام جانداروں کی طرح انسان بھی فطرت کے رنگوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر موسم کی ایک خاص اہمیت ہے اور ہر موسم میں ایک نیا پیغام چھپا ہوتا ہے۔ بہار جب آتی ہے تو دنیا کی ہریالی اور خوشبو سے جنت کا منظر دکھاتی ہے، اور خزاں کی خاموشی میں بھی زندگی کے پیغام کا گہرائی سے ادراک ہوتا ہے۔
ہمارے کچھ ایسے ہی مراسم ان کے بڑے بھائی سید محمد رضا شیرازی سے بھی ہیں۔ دونوں کی شادی تقریبا دو ماہ پہلے ایک ہی دن ہوئی۔ بہار کا موسم، جو زندگی کے آغاز کی علامت ہے، بالکل ویسے ہی نوجوانوں کے لیے ہوتا ہے جیسے نئے پھولوں کا کھلنا۔ جب جوانی کی دھوپ میں نوجوان اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں، تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب فطرت انہیں خود سے جڑنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان "خود کو پہچانتا ہے، اور اپنے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے"۔ شادی، اس نئے موسم کی طرح ہے جو نئے رشتہ، محبت اور زندگی کے امکانات کی خوشبو لاتی ہے۔
جب ہم نوجوانوں کی شادی کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف ایک سماجی رواج نہیں بلکہ فطرت کا حکم ہے۔جیسے پھولوں کا کھلنا، درختوں کا بڑھنا، اور زمین کا آباد ہونا ایک فطری عمل ہے، بالکل اسی طرح انسانی زندگی کے اس مرحلے میں قدم رکھنا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔ "زندگی کا ہر نیا آغاز، کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی طرف ایک قدم ہوتا ہے۔" شادی کے ذریعے ایک شخص دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے موسم کو گزارنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دو دل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر، فطرت کی طرح، ایک نئی زندگی کی جڑیں پختہ کرتے ہیں۔یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ انسان زندگی کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھ رہا ہے۔
وہ اپنی زندگی کو صحیح معنی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے، اور اس کے لیے فطرت سے سبق لیتا ہے کہ "ہر فصل کا ایک آغاز اور اختتام ہوتا ہے، اور اس کا مقصد ہمیشہ بہتر ہونا چاہیے۔ ۔
فطرت سے تعلق نبھانا ہر انسان کا ذاتی حق ہے۔ جب نوجوان شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو وہ فطرت کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سفر ہوتا ہے جس میں دونوں افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی کے رنگوں کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ "انسان کی حقیقت اس کی مسکراہٹوں میں نہیں بلکہ اس کی مشکلات اور ان سے نکلنے کی قوت میں چھپی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کے اندر اپنے خوابوں کی تعبیر اور حقیقت کے درمیان توازن قائم ہوتا ہے اور یہ توازن ہی انہیں فطرت کی حقیقت کا شعور دیتا ہے۔
نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ زندگی میں فطرت کے مطابق قدم بڑھانے کا مطلب صرف خوشی نہیں، بلکہ سختیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا بھی ہے۔ جیسے پھولوں کو مٹی سے جڑ کر اپنی خوبصورتی دکھانے کے لیے سورج کی تیز کرنوں کو سہنا پڑتا ہے، ویسے ہی انسان کو بھی زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے ہر دن نیا موقع ہوتا ہے، ہر صبح ایک نیا آغاز ہوتا ہے، اور ہر موسم ہمیں کچھ نیا سکھاتا ہے اسی طرح ازدواج اور شادی بھی ہے۔
شادی کا پیغام یہی ہے کہ نوجوانوں کو فطرت کے مطابق زندگی کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ جیسے بہار اور خزاں کا اپنے اندر ایک خوبصورت توازن ہوتا ہے، ویسے ہی انسان کو اپنی زندگی میں مختلف موسموں کو نبھاناچاہیے۔ جوانی کا موسم جو کہ بہار کی طرح خوشبو اور رنگوں سے بھرپور ہے، شادی کے ذریعے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خزاں کی طرح، زندگی کے چھوٹے چھوٹے دکھ اور چیلنجز بھی اس کے سفر کا حصہ ہیں۔ یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل تبدیلی کا عمل ہے، جس میں ہر موسم کا اپنا مقام ہے ۔
آج اس موقع پر میں جہاں مولانا سید مہدی شیرازی صاحب کو یہ مبارکباد دیتا ہوں کہ خدا نے انہیں اپنی اولاد کی خوشیاں دیکھنے کا موقع عطا کیا وہیں ان کے عزیز فرزندوں، سید محمد رضا شیرازی اور سید علی رضا شیرازی کی شادی کی خوشیوں کو مزید بابرکت ہو نے کیلئے دعا گو بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں جوانوں کو اپنی خوشیوں سے بھر دے، ان کی زندگی کو محبت، سکون اور کامیابی سے نوازے اور ان کے نئے رشتہ میں خوشبوئے محبت اور بہار کی مانند تازگی عطا کرے۔
ہم دعا گو ہیں کہ جیسے نئے پھول بہار میں کھلتے ہیں، ویسے ہی ان کی زندگی میں نئے شگوفے کھلیں اور اللہ ان کی مشترکہ زندگی کو اپنی رحمتوں سے سیراب کرے۔ آمین۔جب بچے بڑے ہو جائیں تو انسان بوڑھا اور احساسات جوان ہو جاتے ہیں













0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں