زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 15 دسمبر، 2025

جدید نصابِ تعلیم میں خود مختارعقل کی اہمیّت

جدید نصابِ  تعلیم میں خود مختارعقل کی  اہمیّت :
ڈاکٹر نذر حافی : 
آئی اے اور ڈیجیٹل دور میں "خود مختار عقل" کی اہمیت نئی معنویت اختیار کر گئی ہے۔ تکنیکی  اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے انسانی فکر کے دائرے کو مزید  وسعت  دے دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ  بھی موجود  ہے کہ اس سے  انسان کی خودی، اس کی خودمختار عقل، اور اس کے ایمان و وجدان پس پشت چلے جائیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ  صرف معلومات  کی بھرمار یا مشینی حساب کتاب میں انسان کو ڈھالنے سے  انسان کی خودی، آزادی، خودمختاری، نیز  ایمان اور وجدان  کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
"خودمختار عقل "انسان کو اندھی تقلید ﴿خواہ اپنے نفس کی ہو یا اپنے اباو اجداد کی﴾اور بیرونی دباؤ ﴿خواہ طاغوت و استکبار کا ہو یا حالات کا﴾سے آزاد کرتی ہے۔ اسی کو اقبالیات کی زبان میں عشق کہا گیا ہے۔ اقبال کے ہاں عشق یہ ہے کہ انسان اندرونی طور پراپنی خواہشاتِ نفس اور بیرونی طور پر  ہر طرح کے دباو،  خوف  اورلالچ سے آزاد ہو کر قدم اٹھائے ۔   اقبالیات میں جو عشق مذکور ہے اس سے انسان  اپنے اعمال کا مالک بنتا ہے اور اسے اپنے ارادے،  شعور،  ایمان اور اپنے وجدان کی روشنی میں زندگی گزارنے کی سمت ملتی ہے۔ تعلیم و تربیّت کا مقصد  انسان کو نفسِ امّارہ سے نفسِ مطمئنہ تک پہنچنے  کا راستہ دکھانا ، اور نصاب تعلیم اسے خلیفۃُ اللّٰہ کے مقام تک لے جانے کے راستے کا نام ہے۔ اس راستے میں خودمختار عقل ایک ریل کی پٹڑی کی مانند ہے جبکہ ایمان اور وجدان رہنمائی کا ستارہ، اور اقبالیات روشنی کا چراغ ہیں۔
 اقبال نے اپنے عہد میں  انسان کے اندر  جس خودی کی بیداری، ایمان کی روشنی اور وجدان کی جلا کی بات کی تھی  آج کے عہد میں وہ سب سے بڑی ضرورت بن گیا ہے۔ آج کا آئی اے دور انسان کو وسائل کی بھرمار دے سکتا ہے مگر  "فیصلے کی آزادی، اخلاقی شعور اور اپنی ذات کی تخلیقی قوت" صرف انسان کی خودمختار عقل سے جنم لیتی ہے۔
  خود مختار عقل یعنی عشق انسان کو بیدار کرتا ہے۔ انسان اور نظریہ دونوں کی عملی شکل کو بیداری کہتے ہیں۔ کیا عشق کی طرح  اے آئی  بھی دونوں کو بیدار رکھ سکے گی؟  انسان کی ظاہری بیداری کے علاوہ انسان کے اندر سوئے ہوئے امکانات  اور خوابیدہ صلاحیتوں کی بیداری بھی ایک لازمی امر ہے۔  ازل سے  ہر بیدار مغز شخص کا ہم و غم یہی رہا ہے کہ سماج میں انسان اور نظریہ دونوں بیدار رہیں ۔ حالتِ خواب میں پڑے ہوئے انسان کو  کمزوری، جمود اور غلامانہ ذہنیت سے نجات دلانا ممکن نہیں۔ بیدار انسان وہ ہے جو  اپنی قوتِ ارادی اور اپنی ذات کے تخلیقی جوہر سے خود  جنم لیتا ہے اور  اپنی خواہشاتِ نفس سے آزاد ہو کر اپنی اقدار خود وضع کرتا ہے۔ یہی ہے وہ عاشق  انسان جو اپنے فیصلوں کے ذریعے  اپنی ذات کو اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں وہ کسی  کا غلام نہیں رہتا بلکہ خدا کی مرضی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ بظاہر خود کے لیے جیتا ہے لیکن حقیقت میں کسی نظریے کے لیے زندگی بسر کرتاہے۔ ایسے لوگوں کیلئے عمل ہی نظریے کا پیمانہ ہوا کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہر عمل نہیں بلکہ  ایسا عمل جو کسی بیرونی دباؤ،  کسی ظالم استعماری اتھارٹی یا خواہشِ نفس  کے تابع ہو کر نہیں بلکہ اپنی خود مختار   عقل  کے فیصلے کے  مطابق کرے۔ صرف اور صرف  خود مختار عقل ہی قابلِ اعتماد  ہے۔ اگر انسانی عقل خواہشاتِ نفس یا کسی بیرونی دباو کے تابع ہو تو پھر  اُس میں اور دیگر حیوانات میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ یعنی  کوئی انسان  اگر اپنا کوئی عمل  صرف کسی سزا کے خوف، یا انعام کی امید پر انجام دیتا  ہو تو وہ  خودمختار نہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت  ہے کہ معاشرہ تب ترقی کرتا  اور آزاد ہوتا ہے کہ  جب افراد اپنے فیصلے اندھی تقلید یا کسی دباو کے بجائے سوچ سمجھ کر دلیل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ کیا اے آئی کے دور میں ایسا ممکن رہے گا؟  کیا یہ حقیقت نہیں کہ  عقل اگر ایمان اور وجدان کے بجائے نفع و نقصان کے تابع ہوجائے  تو محض حساب و منطق کی غلام بن جاتی ہے۔ جی ہاں سب سے بڑی سچائی تو یہی ہے کہ  قومیں تب آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں جب اپنے فیصلے ایمان اور وجدان کے مطابق کریں۔
بصورتِ دیگر
عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے،
عشق بیچارہ نہ مُلّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم!
مذکورہ بالا تناظر میں عشق  کی تفسیر  ایمان و وجدان   اور خود مختار عقل کے سوا کچھ اور نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی نجات عقل کی خودمختاری میں ہے اور عقل اس وقت تک خودمختار نہیں ہو سکتی جب تک ایمان اور وجدان انسان  کے اندر  زندہ نہ ہوں۔
تعلیم و  تربیت اور اجتماعی شعور کو اقبالیات کے قالب میں ڈھالنے کیلئے نصابِ تعلیم کے اندر  ایمان اور وجدان کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔  اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خود مختار عقل زمانے کے سوالوں سے مکالمہ کرتی رہے۔ایسی عقل کے تجربات معاشرتی حرکت کی بنیاد  ہوا کرتے ہیں۔ غُلام عقل کالے انگریز اور کلرک تو پیدا کر سکتی ہے لیکن سماج میں کوئی بیداری کی تحریک نہیں لاسکتی اور نہ ہی کسی تمدّن کو جنم دے سکتی ہے۔  جو انسان بیدار نہ ہو یعنی خودمختار عقل نہ رکھتا ہو وہ اپنی تقدیر بھی خود نہیں تراش سکتا۔  پس جو نصابِ تعلیم خود مختار عقل کی تولید نہ ہو وہ قوم کی تقدیر کیا بدلے گا!۔   آخر میں یہ سوال کہ کسی بھی دور میں  تعلیم کا  مقصد انسان  سے  سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت  سلب کرنا ہر گز نہیں رہا لیکن کیا اے آئی کے دور میں انسان کیلئے یہ سب ممکن رہے گا؟
 اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ زمانے کے تقاضوں کے  مطابق  اپنی  خودمختار عقل کی روشنی میں  آئی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ نہ صرف آئی اے کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے آگے رہیں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔ جہاں  بھی نصاب تعلیم  خود مختار عقل یعنی عشق  کے مطابق ہوگا   تو  وہاں آئی اے کے عصر میں بھی انسان آزاد، بیدار اور خودمختار رہے گا  اور اس کی سوچنے، سوال کرنے اور دلیل پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت زندہ رہے گی۔ اس کے برعکس جو زمانے کے ساتھ نہیں چلیں گے وہ ہمیشہ کی طرح دوسروں کے غلام اور محتاج رہیں گے وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی لیلی مجنوں و ہیر رانجھا کی کہانیوں میں الجھے رہیں گے اور کرونا جیسی بیماریوں کا علاج لہسن اور ہلدی سے کرتے رہیں گے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...