زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی اور سوانح نگاری کا جوہر
ڈاکٹر نذر حافی :
کون جانتا ہے کہ کب کتاب قاری کی تلاش میں نکلتی ہے؟ اور کب وقت خود کسی متن کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کر تا ہے؟ گزشتہ ایّام میں جامعۃ الکوثر، اسلام آباد میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی کتب کی نمائش کا لمحہ بہت عجیب تھا۔ ایک بُک اسٹال پر اچانک فاضل محقق محترم سید نثار ترمذی صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے شفقت کے ساتھ پروفیسر سیّد اصغر جارچوی مرحوم کی تصنیف زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی پیش کی۔ یہ سوانح ادارۂ البصیرہ کی اشاعت ہے اور تحقیق کے فرائض محترم سید نثار ترمذی صاحب نے انجام دئیے ہیں ۔
واپسی پر کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ یہ تحریر کسی فرد کی داستان تک محدود نہیں۔ اس کے مطالعے سے ایک صدی کی فکری کشمکش، تہذیبی اضطراب اور اخلاقی سوالات خاموشی سے قاری کے شعور میں اترتے جاتے ہیں۔ سوانح نگاری جب اس درجے تک پہنچتی ہے تو قاری کو زندگی کو سمجھنے کا قرینہ عطا کرتی ہے۔ ایسے متون واقعات کے وسیلے سے دلوں میں اترتے ہیں اور قاری کے اندر بیدار ہو جاتے ہیں۔
علامہ ابن حسن جارچوی 21 مارچ 1904ء کو جارچہ، ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب برصغیر فکری تغیر کے دہانے پر کھڑا تھا۔ ان کی علمی تشکیل پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی میں ہوئی، جہاں روایت اور جدید شعور ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی میں ملے۔ یہی ہم آہنگی آگے چل کر ان کے مزاج، فکر اور طرزِ عمل میں توازن کی صورت میں نمودار ہوئی۔
1923ء میں سکھر کی شیعہ کانفرنس میں شرکت نے ان کے فکری افق کو وسعت دی۔ اس کانفرنس کی صدارت شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ کر رہے تھے، اور نوجوان علامہ وہاں ایک ایسے مکالمے کا حصہ بنے جو اختلاف کے باوجود فہم کو مقدم رکھتا تھا۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ دہلی میں تدریسی خدمات، راجہ محمود آباد کی دینی تربیت اور شیعہ ڈگری کالج لکھنو کی سربراہی ان باتوں کی شہادت ہیں کہ علم ان کے نزدیک منصب نہیں بلکہ ذمہ داری تھا۔
سیاسی شعور نے بھی ان کے فکری سفر میں نمایاں جگہ بنائی۔ مسلم لیگ میں شمولیت اور 1945ء میں کرپس مشن کے سامنے پیش ہونا اس کی واضح دلیل ہے۔ اُن کا سیاست میں فعّال ہونا یہ اس یقین کا اظہار تھا کہ فکر اگر اجتماعی زندگی سے کٹ جائے تو تاثیر کھو دیتی ہے۔ اسی تسلسل میں 1951ء کی ہجرت اور کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ کلچر کے قیام کے تناظر میں بھی اُن کے ہاں علم، تہذیب اور اخلاق ایک ہی سمت میں سفر کرتا نظر آتا ہے۔
علامہ جارچوی کی زندگی میں تصنیف بھی خاموشی سے چلتی رہی۔ ایک درجن سے زائد کتابیں ان کے فکری انہماک کا ثبوت ہیں۔ اس کے باوجود ان کی اصل تحریر ان کی وہ زندگی تھی جو اعتدال، دیانت اور فہم کے اصولوں پر قائم رہی۔
کتاب میں درج مختصر واقعات قاری کو آہستہ آہستہ بیدار کرتے ہیں۔ شملہ کے سفر میں چائے فروش کا مذہب کو لباس کے مطابق بدل لینا سماجی رویوں پر ایک گہرا سوال چھوڑ جاتا ہے۔ ایسے مناظر کسی تبصرے کے محتاج نہیں رہتے۔مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی جوہر کے حالات کا بیان وقت کی بے ثباتی کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ عظمت اور گمنامی ایک ہی تصویر کے دو رخ دکھائی دیتے ہیں۔ استقبال کے ہجوم اور اجنبی سڑکوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ تاریخ سے زیادہ سوانح میں واضح ہوتا ہے، کیونکہ سوانح انسان کو اس کے پورے وجود کے ساتھ سامنے لاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فنِ سوانح نگاری اپنی اصل اہمیّت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ انسان کو کامیابی یا ناکامی کے خانوں میں مقیّد نہیں کرتا۔ یہ انسان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوال اٹھاتا ہے، اسے درپیش حالات کو کھولتا ہے اور اُس کے ارادے، خلوص اور اختیار کی حدود واضح کرتا ہے۔ یوں ماضی کا انسان کوئی مجبور کردار بننے سے محفوظ رہتا ہے اور تاریخ انسانی وقار اور خود مختاری کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔کتاب کے مصنّف پروفیسر سیّد اصغر جارچوی مرحوم نے اس وقار کو پوری دیانت داری سے محفوظ کیا ہے۔ مصنّف کے مطابق علامہ ابن حسن جارچوی کے نزدیک مملکت ایک ایسے سفر کا نام تھی جس کے لیے مادّی قوت اور اخلاقی شعور دونوں درکار ہوتے ہیں تاکہ سیاست میں اعتدال، مذہب میں توازن اور معاشرت میں ذمہ داری لوگوں کی فکری پہچان بنے۔ وہ خود بھی اسی اعتدال کے حامل تھے اور اسی اعتدال نے ہی انہیں انتہاؤں سے دور رکھا ۔علمِ دین انہوں نے فریضے کے طور پر حاصل کیا۔ دین کو ذریعۂ معاش بنانے سے گریز کیا۔ گفتگو میں شور کے بجائے حکمت رہی، اختلاف میں تلخی کے بجائے وقار۔ یہی اوصاف انہیں اپنے عہد میں نمایاں کرتے ہیں اور آج بھی ان کی انفرادیت کا سبب ہیں۔
16 جولائی 1973ء کو ان کی وفات کے ساتھ خلوص، محنت اور اصول پسندی کا ایک سنہرا باب تمام ہوا لیکن اُن کی اصول پسندی کا سفر رکا نہیں۔" زندگانی علامہ ابن حسن جارچوی" اسی اصول پسندی کی حرکت کا دوسرا کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا متن جو انسان کو اس کی کمزوریوں سمیت عظیم ثابت کرتا ہے، اسے ذمہ داری اداکرنے کے قابل بناتا ہے اور تاریخ کو انسانی لہجے میں بولنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
اس کی ہر سطر میں زندگی یادداشت نہیں ایک تجربہ ہے۔ یہی تجربہ سوانح نگاری کا جوہر ہے۔ کسی کتاب میں اگر یہ جوہر موجود ہو تو کتاب خود قاری کی تلاش میں نکلتی ہے اور وقت خود کسی متن کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں