"غزہ امن بورڈ" کی نرمی اور مسٹر ٹرمپ" کی گرمی
ڈاکٹر نذر حافی :
غزہ امن بورڈ پر بات کرنے سے پہلے ڈیووس کی بات کیجئے۔ ڈیووس سوئٹزرلینڈ کا ایک چھوٹا سا پہاڑی شہر ہے۔ آپ اسے آج کے قارون کی جنّت یا دنیا کے مہذّب مافیا کی فردوسِ بریں کہہ سکتے ہیں۔ ہر سال جنوری میں ایک اندازے کے مطابق عالمی اشرافیہ کے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ مندوبین ڈیووس جاتے ہیں۔ اس جہت سے یہ عالمی اشرافیہ کے فیصلہ سازوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ " ڈیووس میں عالمی اشرافیہ کا نیٹ ورک" کوئی قانونی ادارہ نہیں اور نہ ہی اس کی دنیا میں کوئی سیاسی یا قانونی حیثیت ہے۔ اس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ ہر سال جنوری میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس یہیں منعقد ہوتی ہے۔ یہاں پر دنیا کے طاقتور لوگ،بند کمروں میں،کسی جمہوری یا عوامی مینڈیٹ کے بغیر،اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، قوانین، بیانیے اور فیصلے طے کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ڈیووس کے مقام کو عالمی اشرافیہ کی اقوامِ متحدہ کے دفتر کا درجہ حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق اشرافیہ کے اسٹیک ہولڈر زکا اعتماد اور شراکت حاصل ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ دنیا میں نرمی سے تبدیلی لانے کی صلاحیّت رکھتا ہے۔اگرچہ ڈیووس شہر سوئٹزرلینڈ میں ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی کارپوریشنز امریکی ہیں، عالمی مالیاتی نظام پر امریکہ کا کنٹرول ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں امریکہ سب سے آگے ہے اور عالمی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بھی امریکہ قیادت کر رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کو کارپوریشنز، مالیاتی ادارے اور طاقتور ریاستوں کی اشرافیہ تشکیل دیتی ہے اور ان سب میدانوں میں امریکی اشرافیہ سب سے آگے ہے۔ اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نجی شعبے اور کارپوریٹ دنیا تک رسائی کے لیے WEF کا یعنی امریکی اشرافیہ کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ یوں عالمی فیصلے اقوامِ متحدہ کے نمائندوں اور اداروں کے بجائے ڈیووس میں بیٹھ کر عالمی اشرافیہ امریکہ کی قیادت میں خود کرتی ہے۔ ڈیووس میں ہفتوں و مہینوں جاری رہنے والی بظاہر غیر رسمی اور دانشورانہ گفتگو حقیقت میں عالمی پالیسیوں کے خدوخال طے کرتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہاں امریکہ اپنی معاشی ترجیحات ، نجکاری، منڈی کی آزادی، مالیاتی کنٹرول، اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کو عالمی معیار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے برعکس اقوامِ متحدہ اگرچہ ایک ریاستی، قانونی اور عوامی نمائندگی پر مبنی ادارہ ہے لیکن امریکہ کی قیادت میں عالمی اشرافیہ نے اقوام متحدہ کو صرف ایک علامتی ادارے کے طور پر زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اس وقت دنیا میں اقوامِ متحدہ کا کردار فقط ایک وعظ و نصیحت کرنے والے خطیب کا سا رہ گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ ضمیر، اصولوں اور انسانیت کی بات کرتا ہے، اور ڈیووس کے دفتر میں بیٹھ کر ہر سال ورلڈ اکنامک فورم اور اقوام متحدہ کے اراکین ایک دوسرے سے سودے بازی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک انسانیت سے مراد انصاف، مساوات، انسانی وقار اور مظلوم کی آواز ہے، اور ورلڈ اکنامک فورم کے نزدیک انسانیت سے مراد طاقتور ممالک کی اقتصادی برتری، عالمی مارکیٹ کا استحکام اور بڑی طاقتوں کے سرمائے کا تحفظ اور اضافہ ہے۔ پس ڈیووس کے مقام پر اقوام متحدہ کے نعروں اور ورلڈ اکنامک فورم کے درمیان لین دین ہوتا ہے۔ ڈیووس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ در اصل واشنگٹن طے کرتا ہے۔ واشنگٹن ڈیووس کواپنے معاشی ماڈل کو "عالمی معیار"بنانے، اپنے اتحادیوں کو لائن میں رکھنے، اور اپنے مخالفین کو عالمی اشرافیہ کی طرف سے مشترکہ پیغام دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ المختصر یہ کہ ڈیووس میں فیصلے کرنے والے،نہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں،نہ پارلیمان کے، اور نہ کسی عالمی عدالت کے۔ یہ بندوقوں والا مافیا نہیں،یہ ٹائی سوٹ والا مافیا ہے۔ یہ اشرافیہ کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جس میں مافیا کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔
آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ ڈیووس عالمی بحرانات کو خاموشی و نرمی سے مینیج کرکے منافع حاصل کرنے کا مرکز ہے جبکہ اس مرکز کی سخت پالیسیوں جیسے جارحانہ خارجہ پالیسی، استبدادی تجارتی جنگوں، دوسرے ممالک پر بے رحمانہ عسکری پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے اظہار کا نام ٹرمپ و امریکہ ہے۔ ڈیووس دنیا کے سامنے بظاہر نرم و ملائم انداز میں مسکراتا رہتا ہے اور امریکہ دنیا کو طاقت سے دباتا رہتا ہے۔ امریکہ دنیا پر زبردستی اپنے فیصلے مسلط کرتا ہے، اور ڈیووس انہیں “اصلاحات” اور “عالمی ضرورت” کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ امریکہ عسکری اور سفارتی سطح پر جو ظالمانہ و جارحانہ کردار ادا کرتا ہے، ڈیووس اس کردار کو نارملائز کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
اب اس کے بعد "غزہ امن بورڈ" کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے دوران "غزہ امن بورڈ" کا باقاعدہ اعلان کیا اور اس موقع پر منشور (چارٹر) پر دستخط کیے ۔یہ بورڈ غزہ میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی ایک شکل کے طور پر قائم کیا گیا ، جس میں مختلف ممالک شامل ہوئے۔ڈیووس فورم نے اس اقدام کی میزبانی کرتے ہوئے تقریب کیلئے جگہ کا انتظام اور عالمی اشرافیہ کے منظورِ نظر رہنماؤں کو جمع کیا ۔
غزہ جیسے معاملات میں ٹرمپ کی کھلی اسرائیل نواز پالیسی،اور ڈیووس فورم کی خاموشی،درحقیقت ایک ہی بیانیے کے دو رخ ہیں۔امریکہ سخت و گرم چہرے کے ساتھ جبکہ ڈیووس فورم نرم و ملائم اور مہذب شکل و صورت کے ساتھ۔ دونوں کا مقصد ظلم کے تسلسل کو نارمل کر کے غزہ کے بحران سے منافع حاصل کرنے کے سوا کچھ اور نہیں۔ غزہ امن بورڈ ظالم کا ہاتھ روکنے کیلئے نہیں بلکہ مظلوم کو دبانے، مظلوموں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر تشویش ظاہر کرنے، جن کے ہاتھوں میں بم ہیں، ان سے امن کی بھیک مانگنے، غزہ کو فلسطین سے الگ مسئلہ بنا کر زیرِ بحث لانے، اور غزہ کے بچوں کو انصاف دینے کے بجائے اُن کے آنسو پونچھنے کیلئے ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ بورڈ ظُلم کو نارمل کر کے عالمی ضمیر کو سلانے کا "لوری پروگرام" ہے۔ پھر بھی بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ کیسے امن قائم کرے گا؟ اُن پوچھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکہ کیلئے غزہ میں امن قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ امریکہ عراق، افغانستان، لیبیا، اور شام کی مانند غزہ میں بھی لوگوں کو اُن کا حق دینے کے بجائے اُنہیں "اسرائیلی درندوں" کے حوالے کر کے امن قائم کرے گا۔ یوں غزہ کا محاصرہ برقرار رہے گا، اور اسرائیلی بمباری بھی جاری رہے گی، پھر کچھ عرصے کے بعد لوگ غزہ کے مظالم کو نارمل لینا شروع کر دیں گے اور اس دوران یہ "امن بورڈ" مسلسل پریشانی کے بیانات داغتا اور فکر مند ی کا راگ الاپتا رہے گا۔یہ ایک عالمی سچائی ہے کہ عالمی طاقتوروں کے درمیان منافع کی شراکت کا ایک ہی اصول ہے کہ انسان مرتے ہیں تو مر جائیں، شہر مٹتے ہیں تو مٹ جائیں لیکن اِن لاشوں اور کھنڈرات سے ہمیں مسلسل منافع ملتے رہنا چاہیے۔ اب آپ سمجھے کہ غزہ امن بورڈ نرم اور مسٹر ٹرمپ گرم کیوں ہیں؟







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں