سید ابن طاؤوس رحمۃ اللہ علیہ پوری تاریخِ تشیع میں ایک ممتاز، نہایت عالی مرتبہ اور بے حد محترم شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا روحانی مقام اور معنوی حیثیت بہت بلند ہے۔ وہ عابدین و زاہدین کے راہنما، اعلیٰ کمالات کے مالک، مکاشفات و کرامات کے حامل، اور عارفوں کے پیشوا تھے۔ بزرگ علماء نے ان کی فضیلت و عظمت کی بھرپور تصدیق کی اور ان کے مقام کی بے پناہ تعریف کی ہے۔" اقبالُ الاعمال" دعاؤں اور اعمال کی ایک مستند اور جامع ترین کتاب ہے اور اکثر دعاؤں کا ماخذ یہی کتاب ہے۔ دعاؤں کی کوئی بھی کتاب اس قدر وسعت و تفصیل سے نہ لکھی گئی ہے نہ موجود ہے۔ اس کتاب میں کئی دعائیں ایسی ہیں جو مفاتیح الجنان میں بھی ذکر نہیں ہوئیں۔ اس کتاب کی چند خصوصیات یہ ہیں۔
۱۔کتاب کا اعتبار مصنف کی اعلیٰ شخصیت اور اعتبار کی وجہ سے بہت اعلیٰ اور بلند ہے۔
۲۔ اس کتاب میں دعاؤں و اعمال کے ساتھ ساتھ اولیاء کے مقامات
اور روحانی اسرار پر ذاتی مشاہدات و نکات درج ہیں۔ مصنف نے عبادات میں اخلاص،
اعمال کی پاکیزگی کے طریقے ، اعمال کے
باطل ہونے اور معصیت میں بدلنے کے اسباب، حضور قلب اور غفلت سے بچنے کی
اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔ نماز، دعا اور دیگر اعمال کے معنوی آداب و اسرار بھی
اجاگر کیے گئے ہیں، جو عموماً نظر انداز کیے جاتے ہیں۔"
۳۔ مصنف کی باتیں محض نقل یا تقلید نہیں بلکہ ذاتی تجربہ و
مشاہدہ اور دل و جان سے اخذ شدہ ہیں۔
۴۔مصنف کی کتابوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں عقل،
نقل اور عرفان باہم یکجا ہیں، یعنی وہ علمی، عملی اور عرفانی تمام مقامات پر فائز
تھے۔ حضرت آیت اللہ العظمی شیخ محمد تقی بھجت قدس سرہ فرماتے تھے کہ جس طالب علم
نے سیدؒ کی کتابیں نہ پڑھیں، اس نے کچھ نہیں پڑھا۔ خاص طور پر 'اقبالُ الاعمال' کے
بارے میں فرماتے جس کے پاس سیدؒ کی کتاب اقبالُ الاعمال نہ ہوتی ہمارے اساتید انہیں
اپنا ساتھی نہیں سمجھتے تھے۔ ۔۔۔ جب کبھی کوئی ان سے ماہ رجب، شعبان اور ماہ مبارک
رمضان میں دستور العمل کے بارے میں پوچھتا
تو وہ فرماتے تھے:" اقبال، اقبال،
اقبال " اور کہتے تھے :اقبالُ الاعمال سے
بڑھ کر کوئی کتاب نہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کتاب کا تازہ ترجمہ کیا گیا ہے جوکہ ماہِ مبارک رمضان سے پہلے
جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد سے حاصل
کیا جا سکے گا۔ کتاب کے سلسلے میں آپ اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں: 03455398135







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں