زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 8 فروری، 2026

سانحہ ترلائی اور کمپرومائزڈ مُلّاں

سانحہ  ترلائی  اور کمپرومائزڈ  مُلّاں:
ڈاکٹر نذر حافی :
برسوں سے پاکستان میں عبادت گاہیں محفوظ نہیں۔ انہیں ہائی رسک ٹارگٹس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود  سانحات کو روکنے میں ہم مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ آج ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال سُلگ رہا  ہے کہ اگر  پاکستان میں عبادت گاہیں پہلے ہی حساس مراکز میں شمار ہوتی  ہیں تو پھر کیا ترلائی جیسے علاقے  میں نماز جمعہ کے اجتماع کے  حوالے سے انٹیلی جنس ادارے لاعلم تھے؟  اور اگر  انہیں معلومات تھیں تو اضافی سیکیورٹی کا بندوبست کس نے کرنا تھا؟  
 ہمارے نزدیک اصل  مسئلہ سیکیورٹی بندوبست کی کمی کے بجائے پاکستان کے دارالحکومت میں  افغانستان اور ہندوستان کے کارندوں کی کامیاب کارروائی کا ہے۔یقیناً پاکستان کے  مختلف  سیکورٹی اداروں کے  پاس یا تو معلومات نہیں تھیں اور یا پھر ان کے درمیان  یہ معلومات بروقت اور مکمل طور پر شیئر  نہیں ہوئیں۔  اگر کسی ایک ادارے کے پاس جزوی معلومات تھیں بھی  تو کیا وہ باقی نظام تک مؤثر انداز میں پہنچیں؟  اور یا ہمارا انٹیلی جنس سسٹم  آج بھی  فرسودہ اور کہنہ طریقوں پر گامزن  ہے۔ یہ بھی  سوچنے کی بات ہے کہ دارالحکومت جیسے شہر میں سیکیورٹی کا تصور آخر کس چیز کے گرد گھومتا ہے؟ کیا یہ ایک حقیقت ہے کہ  ہمارے سیکورٹی اداروں کی  اصل توجہ “اہم شخصیات” پر ہے اور ان کیلئے  “پبلک مقامات” ثانوی حیثیت رکھتے ہیں؟  کہیں عبادت گاہوں اور پبلک مقامت کو  سیکورٹی کے حوالے سے  اس لیے تو نظرانداز نہیں کر دیا جاتا ہے کہ  وہاں سیکیورٹی ناکامی سیاسی بحران میں تبدیل نہیں ہوتی؟  وہاں سادہ لوح لوگوں کو یہ کہہ کر لاشیں دفنا دی جاتی ہیں کہ  احتجاج کرنا  تو لاشوں پر سیاست کرنا  ہے لہذا اپنی  اپنی لاشوں کو دفناو اور گھروں میں دبک کر بیٹھ جاو۔
لاشوں پر سیاست کے حوالے سے دو طرح کے مُلّاوں کو  بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے کافر کافر کے نعرے لگا کر ملک کے گلی کوچوں کو خون سے رنگین کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے اس خون پر پردہ ڈالا۔ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے جٹے بٹے  اور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔  یہ ایک ہی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ایک خون بہاتا ہے اور دوسرا خون چھپاتا ہے۔ ایک کو خون بہانے کا معاوضہ ملتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے کا ۔ ایک کو قاتلوں   کے  نیٹ ورکس کا قائد بنایا جاتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے والے گروہ کا قائد۔ ان کمپرومائزڈ ملاوں  کے گٹھ جوڑ سے انتہا پسندی کو نظریاتی غذا ملتی ہے، فرقہ واریت جڑیں پکڑتی ہے، اور معاشرہ مستقل عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام ریاست پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور  دشمن قوتوں کو اندرونی کمزوریوں اور باہمی عدمِ اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا  بار بارموقع ملتا ہے۔
ملکی سیکورٹی کے لیے یہ  متشدد اور کمپرومائزڈ مُلّاں   ایک ہی زہر کی دو خوراکیں ہیں۔ ایک زہر کا انجکشن ہے اور دوسرا کیپسول۔  ایک تشدد کو مذہبی نعرے دے کر کھلے عام پھیلاتا ہے، اور دوسرا اسی تشدد کو خاموشی، تاویل اور مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام لوگوں کا  ریاست  اور مُلک سے اعتماد ہی اُٹھ جاتا ہے۔ یہ دونوں گروہ عوام اور ریاست کو مکالمہ ہی نہیں کرنے دیتے۔ایک تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا خاموش ہوجاو! خاموش ہو جاو! کی تلوار لہراتا ہے۔ واضح بات ہے کہ جب لوگوں کو زبردستی خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ مطمئن بھی نہیں ہوتے۔  سوال اٹھانے والے اور احتجاج کرنے والے کو جب لاشوں پر سیاست کرنے والا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ کسی خاموش آتش فشاں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔
خون پر پردہ ڈالنے والا طبقہ انصاف کے پورے نظام کو بدنام  کر دیتا ہے۔ جب لوگوں کو احتجاج ہی نہیں کرنے دیا جاتا تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ساری ریاست ہی اُن کے خلاف ہے۔ جب یہ عدمِ اعتماد جنم لیتا ہے تو پھر  ریاست اندر سے ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے۔یوں قوم کسی ایک حملے سے نہیں بکھرتی لیکن  حقِ احتجاج چھین لینے سے کھوکھلی ہوکر بکھر جاتی ہے۔ مُتشدد  مُلّا  عام لوگوں کا  خون بہاتا ہے، اور  کمپرومائزڈ مُلا اسی خون کو  قابلِ ہضم بناتا ہے۔  
ہماری رائے یہ ہے کہ سانحہ ترلائی کے شہدا کے خون کو "قابلِ ہضم" بنانے کے بجائے  عوام کو اپنی  ریاست سے یہ پوچھنے دیجئے کہ  کیا ہماری سیکیورٹی حکمتِ عملی صرف ردِعمل تک محدود ہے یا حملے سے پہلے مداخلت اور نیٹ ورک توڑنے کی حقیقی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟ حملوں کے بعد ہونے والی گرفتاریاں کیا واقعی دشمن کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں یا ہمیشہ کی طرح نچلی سطح کے کردار ہی سامنے آتے ہیں؟ اسی طرح دہشت گردوں و سہولت کاروں کے سماجی، فکری اور نظریاتی پس منظر کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟
ہمارے سیکورٹی اداروں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ جیسےنفرت انگیز خطبات اور تقاریر ملک کیلئے خطرہ ہیں، اُسی طرح عوام کو ناراض کرنے کیلئے   خوشامدی و چاپلوس  ملاوں کا  بیانیہ بھی کم خطرناک نہیں؟  لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر بڑے حملے کے بعد یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور سبق سیکھا جائے گا لیکن  کیا واقعی آزاد، شفاف اور غیر رسمی پوسٹ ایونٹ ریویو ہوتا ہے؟ کیا ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا چند بیانات کے بعد معاملہ فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے؟ اور سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اپنی پالیسی مفروضات کو چیلنج اور چینج کرنے کے لیے تیار بھی ہیں؟
ترلائی کے خودکش دھماکے کو  اگر محض ایک سیکیورٹی واقعہ سمجھا جائے تو یہ تجزیہ ادھورا رہے گا۔ اس واقعے نے در اصل ہماری ریاست پاکستان کی  ساکھ  کو نقصان پہنچایا ہے۔ دارالحکومت میں یہ  حملہ ہر پاکستانی پر حملہ ہے۔ دشمن نے اس حملے کے ذریعے یہ  پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کی رِٹ ہمہ گیر نہیں رہی۔ یہ کم وسائل کے ذریعے زیادہ خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی لیے ایسے حملے جانی نقصان تو کرتے ہی ہیں ساتھ  ریاستی اعتماد کو بھی زِک پہنچاتے ہیں۔دارالحکومت میں ایک عبادت گاہ کا انتخاب بھی  حساب شُدہ  ہے۔ وہ تشدد جو حساب شُدہ  بنیادوں  پر کیا جائے، معاشرے میں دیرپا دراڑیں پیدا کرتا ہے۔ ایسی دراڑیں ریاست کی توجہ کو بیک وقت کئی سمتوں میں بانٹ دیتی ہیں اور اُس کی  فیصلہ سازی کی صلاحیّت کو کمزور بنا دیتی ہیں۔
 اس تناظر میں سانحہ ترلائی  ایک اسٹریٹجک ٹول ہے، جس کا مقصد ریاستِ پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنا ہے۔پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے حوالے سے کمپرومائزڈ اور خوشامدی ملاؤں کا کردار انتہائی اساسی نوعیت کا ہے۔ تشدد ہونے کے بعد  کمپرومائزڈ  ملاوں کا طبقہ تشدد کے لیے  دینی و اخلاقی جواز کی فضا تیار کرتا ہے۔ منطقی طور پر، کوئی بھی پُرتشدد تحریک اس وقت تک پنپ نہیں سکتی جب تک اسے سماج میں کم از کم خاموش قبولیت حاصل نہ ہو۔ معاشرے میں تشدد کی  یہ قبولیت اکثر کھلی حمایت سے نہیں بلکہ میٹھی خاموشی، مبہم بیانات اور غیر متوازن مذمت سے پیدا ہوتی ہے۔یہ مذہبی بیانیہ جب تشدد کو صراحتاً رد کرنے کے بجائے اسے عقیدے، تاریخ یا مظلومیت کے مبہم حوالوں میں لپیٹ دیتا ہے تو وہ فرد  اور ریاست کے اخلاقی و قانونی  فیصلے کو معطل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً تشدد معاشرے میں  ایک غیر معمولی جرم کے بجائے ایک “قابلِ ہضم فعل” کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔
ہائبرڈ وار کے نظریے کے مطابق خوشامدی ملّا اسی چین کا وہ حلقہ ہے جو تشدد کو سماج میں رواج دینے کیلئے قابلِ ہضم بناتا  ہے اور اِسے قابلِ ہضم بنانے کے عمل کو ثواب اور عظیم عبادت گردانتا ہے۔  اس طرح شدت پسندی حاشیے سے نکل کر معاشرے کی رگ رگ میں دوڑنی لگتی ہے۔ایسے مواقع پر ریاست کا ذمہ دارانہ  ردِعمل عوام کیلئے  خود ایک دلیل ہوتا ہے۔ عوام کو احتجاج کرنے دیں، سوال اٹھانے دیں اور ریاست کو دلائل سے عوام کو قائل کرنے دیں۔ اسی سے عوام اور ریاست ایک دوسرے کے  نزدیک ہونگے جبکہ دشمن ناکام اور دور۔   کہیں پر بھی ایک پائیدار ریاستی رِٹ صرف  اس وقت قائم ہوتی ہے جب  ریاست، اور عوام  ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں۔ جہاں ان میں تضاد ہو، وہاں شدت پسند  فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ترلائی کا سانحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی نہ تو محض ایک دن کا واقعہ ہے اور نہ ہی صرف خود کُش دھماکوں کا مسئلہ۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے جسے زبردستی کے بجائے سوچ سمجھ کر روکنے کی ضرورت ہے۔  اگر ریاست اس عمل کو صرف ردِعمل کے دائرے میں رکھے گی تو نتائج بھی وقتی ہوں گے۔  دیرپا نتائج کیلئے ہمیں متشدد ملاوں کی طرح کمپرومائزڈ ملاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے ورنہ  ہر خود کُش دھماکے کے بعد ہم  اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جسے دشمن نے دھماکے سے  پہلے ہمارے لئے  کھینچا تھا۔
بقولِ اقبال:
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...