کیا یہ وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس تھا؟
ڈاکٹر نذر حافی
خطرناک دشمن وہ ہوتا ہے جو محافظ کے لباس میں ہو ۔جب امریکہ نے خلیجی ریاستوں میں اڈے حاصل کیے تو عرب دنیا نے سمجھا کہ یہ اڈے ہماری حفاظت کیلئے ہیں۔ حفاظت بھی کس سے ؟ ایران سے۔ یعنی عربوں کو یہ باور کرایا گیا کہ تمہارا دشمن اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہے۔ اس دوران امریکہ نے عربوں کو ایران سے اس قدر خوفزدہ کیا کہ عرب مسلسل اسی خوف کی قیمت امریکہ کو ادا کرتے رہے۔ جب عربوں سے امریکہ کی دیمانڈ بڑھ گئی تو امریکہ نے نئی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے عین مذاکرات کے دوران ایران کے سیاستدانوں ، اسکولوں، ہسپتالوں، سویلین مقامات، پانی اور گیس کے ذخائر کو بے رحمی سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایران کیلئے خلیجی ممالک میں موجود اڈوں کو جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جب پانی پر وار کیا جائے تو یہ صرف وسائل کی جنگ نہیں رہتی، یہ بقا کی جنگ بن جاتی ہے اور بقا کی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں۔
اسی
طرح جب سیاستدانوں کو قتل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کرنے والے
لوگوں کو راستے سے ہٹا کر مکمل طور پر جنگ کی آگ بھڑکائی جائے۔ اس بھڑکتی ہوئی آگ میں امریکہ نے ایران کی توانائی
تنصیبات پر اپنا حملہ کر دیا تاکہ ایران
جوابی کارروائی کر کے پڑوسی ممالک کی
توانائی تنصیبات کونشانہ بنائے۔ اس حقیقت کا اعلان اپنے بیان میں پاسداران انقلاب
نے بھی کیا ہے کہ ہمیں توانائی تنصیبات پر
حملے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کونشانہ نہیں بنانا
چاہتے تھے۔ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کے بعد ہم امریکی کمپنیوں سے جڑی تنصیبات کو نشانہ بنانے
پر مجبور ہوئے ۔
اب کھیل یہ ہے کہ اس جنگ کو خوب دہکا کر امریکہ اور اسرائیل بظاہر پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔
اُن کی کوشش ہے کہ اب وہ تو نکل جائین لیکن ایران و عرب ممالک آپس میں یعنی ایک ہی امت باہم الجھ پڑے۔اس کے بعد تلوار عربوں کی ہو اور اشارے امریکہ
و اسرائیل کے۔ ہمیں تو یہی لگتا ہے کہ جو
دشمن کو نہ پہچانے وہ نادان تو ہے ہی لیکن
سب سے بڑا نادان وہ ہے جو دشمن کو اپنے
گھر میں بٹھا کر اُس کی خاطر اپنوں کے خلاف جنگ لڑے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر امریکہ و اسرائیل کی فتح یہی ہے کہ میدانِ جنگ میں جس طرف سے بھی لاشیں گریں گی وہ امریکہ و اسرائیل کے مفاد
کیلئے ہی گریں گی۔
اس کشیدہ صورتحال اور بچھائی گئی امریکی بساط
پر ۱۹ مارچ ۲۰۲۶ کو اسلامی
ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی
نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس کے دوران خلیجی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی
حمایت کی گئی اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر ایران سے جوابی حملے روکنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ یعنی جتنا ہنگامی، بڑا
اور اہم یہ اجلاس تھا، اس میں اتنی ہی چھوٹی اور غیر اہم بات کی گئی۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے
اس اجلاس کی صدارت سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کی۔ پاکستان کی
نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی جبکہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، اردن
کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی، آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بیراموف،
شام کے وزیر خارجہ اسعد شیبانی اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد
الصباح بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں سعودی نائب وزیر خارجہ سمیت وزارتِ
خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔یہ ناسمجھی اور نادانی کے سوا اور کچھ
نہیں کہ اس اجلاس میں ایران کی دفاعی و جوابی کارروائیوں کی شدید مذمت تو کی گئی لیکن خلیجی
ممالک میں موجود امریکی اڈوں کا ذکر تک نہ ہوا۔ یعنی کشیدگی کی جڑ پر بات کئے بغیر رسمی مذمت کرنے اور ایران کو دھمکانے پر اکتفا کیا گیا۔
ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے ساری دنیا کو خصوصاً فلسطین کے مظلوموں
کو پاکستان سے توقع تھی کہ وہ خلیجی
ریاستوں کی تائید کے بجائے ایک اصولی اور متوازن مؤقف اختیار کرے گا۔ افسوس صد
افسوس کہ پاکستان نے بھی فساد کی جڑ پر
بات کرنے سے گریز کیا۔ ایسی مواقع پر
اصولوں سے دستبرداری اور بزدلانہ خاموشی
بھی ناانصافی کا ساتھ دینا ہی ہے۔جارحین
کے لشکر میں بیٹھ کر خاموش رہنا بھی دراصل
اُنہی کا فریق بننے کی علامت ہے۔
اعلامیے میں اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دے کر دفاع کے
حق کی بات کی گئی، لیکن اسی اصول کے تحت ہمسائیگی اور باہمی احترام کہاں گیا؟ قانون
وہ ہے جو توازن قائم کرے، نہ کہ صرف ایک طرف جھک جائے۔ جب توازن ہی مفقود ہو تو
قانون بھی اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔ قانون کا حوالہ دے کر انصاف سے دوری یہ کھلی
لاقانونیت کا اعلان ہے۔
ایران کے ہمسائے میں اس کے مخالف کی عسکری موجودگی کو نظر انداز
کر کے صرف ردعمل کو ہدفِ تنقید بنانا انصاف نہیں، یہ سراسر اسرائیل اور امریکہ کی سہولت کاری ہے۔ امریکی اڈوں سے بڑا مسئلہ امریکہ
و اسرائیل کی سہولت کاری کرنا ہے۔ اس مسئلے کو حل کئے بغیر جنگ کو نہیں روکا جا
سکتا۔ آج ایران ہے کل یہ سہولتکار ایک
دوسرے کو بھی باری باری چٹ کر جائیں گے۔ سرطان امریکہ و اسرائیل نہیں اُن کے
سہولتکار ہیں۔
جب زبانیں حق کہنے سے بند ہوں اور یکطرفہ اعلامیے بلند، تو سچ پس منظر
میں چلا جاتا ہے۔اسے سفارتکاری نہیں
سہولتکاری کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں امن ، امریکہ و اسرائیل کی سہولت کاری
سے نہیں، اسلامی ممالک کے دیانتدار مؤقف
سے آئے گا۔ جب جارحین کو نظر انداز کیا
جائے اور صرف مظلوم کے دفاع پر شور مچایا جائے تو اس طرح مسائل حل نہیں ہوتے،
بڑھتے ہیں ۔ آپ اس اجلاس کا متن اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہ سمجھنے میں کافی دشواری
پیش آئے گی کہ یہ وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس تھا یا امریکہ و اسرائیل کے
سہولتکاروں کا!۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں