زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 20 مارچ، 2026

کیا یہ وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس تھا؟

کیا یہ وزرائے خارجہ  کا ہنگامی اجلاس تھا؟

ڈاکٹر نذر حافی

خطرناک دشمن وہ ہوتا ہے جو محافظ کے لباس میں ہو ۔جب امریکہ نے خلیجی ریاستوں میں اڈے حاصل کیے تو عرب دنیا  نے سمجھا کہ یہ  اڈے ہماری حفاظت کیلئے ہیں۔ حفاظت بھی کس سے ؟ ایران سے۔ یعنی عربوں کو یہ باور کرایا گیا کہ تمہارا دشمن اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہے۔ اس دوران امریکہ نے عربوں کو ایران سے اس قدر خوفزدہ کیا کہ  عرب مسلسل  اسی خوف کی قیمت امریکہ کو  ادا کرتے رہے۔ جب عربوں سے  امریکہ کی دیمانڈ بڑھ گئی تو امریکہ نے  نئی  حکمتِ عملی اپناتے ہوئے عین مذاکرات کے دوران  ایران کے  سیاستدانوں ، اسکولوں، ہسپتالوں، سویلین مقامات، پانی اور گیس کے ذخائر کو بے رحمی سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایران کیلئے  خلیجی ممالک میں موجود اڈوں کو جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ  جب پانی پر وار کیا جائے تو یہ صرف وسائل کی جنگ نہیں رہتی، یہ بقا کی جنگ بن جاتی ہے اور بقا کی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں۔

اسی طرح جب سیاستدانوں کو قتل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کرنے والے لوگوں کو راستے سے ہٹا کر مکمل طور پر جنگ کی آگ بھڑکائی جائے۔  اس بھڑکتی ہوئی آگ میں امریکہ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر اپنا  حملہ کر دیا تاکہ ایران جوابی کارروائی کر کے  پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کونشانہ بنائے۔ اس حقیقت کا اعلان اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے بھی کیا ہے  کہ ہمیں توانائی تنصیبات پر حملے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کونشانہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کے بعد ہم  امریکی کمپنیوں سے جڑی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوئے ۔

اب کھیل یہ ہے کہ اس جنگ کو خوب دہکا کر  امریکہ اور اسرائیل بظاہر پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ اب وہ تو نکل جائین لیکن  ایران و عرب ممالک آپس میں  یعنی ایک ہی امت باہم  الجھ  پڑے۔اس کے بعد  تلوار عربوں کی ہو اور اشارے   امریکہ و اسرائیل کے۔ ہمیں تو یہی لگتا ہے کہ  جو دشمن کو نہ پہچانے وہ  نادان تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا نادان وہ ہے جو دشمن  کو اپنے گھر میں بٹھا کر اُس کی خاطر اپنوں کے خلاف جنگ لڑے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر  امریکہ و اسرائیل کی  فتح یہی ہے  کہ میدانِ جنگ میں جس طرف سے بھی  لاشیں گریں گی وہ امریکہ و اسرائیل کے مفاد کیلئے ہی گریں گی۔

اس کشیدہ صورتحال اور بچھائی گئی  امریکی بساط  پر  ۱۹ مارچ ۲۰۲۶ کو  اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس کے دوران  خلیجی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر  ایران سے  جوابی حملے روکنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ یعنی  جتنا  ہنگامی، بڑا  اور اہم یہ اجلاس تھا، اس میں اتنی ہی چھوٹی اور غیر اہم بات کی گئی۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کی۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی جبکہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی، آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بیراموف، شام کے وزیر خارجہ اسعد شیبانی اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں سعودی نائب وزیر خارجہ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔یہ ناسمجھی اور نادانی کے سوا اور کچھ نہیں کہ اس اجلاس میں   ایران کی دفاعی و جوابی  کارروائیوں کی شدید مذمت تو کی گئی لیکن خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کا ذکر تک نہ ہوا۔ یعنی  کشیدگی کی جڑ پر بات کئے بغیر  رسمی مذمت کرنے اور ایران کو دھمکانے  پر اکتفا کیا گیا۔

ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے ساری دنیا کو خصوصاً فلسطین کے مظلوموں کو پاکستان سے توقع تھی کہ وہ  خلیجی ریاستوں کی تائید کے بجائے ایک اصولی اور متوازن مؤقف اختیار کرے گا۔ افسوس صد افسوس  کہ پاکستان نے بھی فساد کی جڑ پر بات کرنے سے  گریز کیا۔ ایسی مواقع پر اصولوں سے دستبرداری اور بزدلانہ  خاموشی بھی  ناانصافی کا ساتھ دینا ہی ہے۔جارحین کے  لشکر میں بیٹھ کر خاموش رہنا بھی دراصل اُنہی کا فریق بننے کی  علامت ہے۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دے کر دفاع کے حق کی بات کی گئی، لیکن اسی اصول کے تحت ہمسائیگی اور باہمی احترام کہاں گیا؟ قانون وہ ہے جو توازن قائم کرے، نہ کہ صرف ایک طرف جھک جائے۔ جب توازن ہی مفقود ہو تو قانون بھی اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔ قانون کا حوالہ دے کر انصاف سے دوری یہ کھلی لاقانونیت کا اعلان ہے۔

ایران کے ہمسائے میں اس کے مخالف کی عسکری موجودگی کو نظر انداز کر کے صرف ردعمل کو ہدفِ تنقید بنانا انصاف نہیں، یہ سراسر اسرائیل اور امریکہ کی  سہولت کاری ہے۔ امریکی اڈوں سے بڑا مسئلہ امریکہ و اسرائیل کی سہولت کاری کرنا ہے۔ اس مسئلے کو حل کئے بغیر جنگ کو نہیں روکا جا سکتا۔  آج ایران ہے کل یہ سہولتکار ایک دوسرے کو بھی باری باری چٹ کر جائیں گے۔ سرطان امریکہ و اسرائیل نہیں اُن کے سہولتکار ہیں۔

جب زبانیں حق کہنے سے  بند ہوں اور یکطرفہ اعلامیے بلند، تو سچ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔اسے  سفارتکاری نہیں سہولتکاری کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں امن ، امریکہ و اسرائیل کی سہولت کاری سے نہیں،   اسلامی ممالک کے دیانتدار مؤقف سے آئے گا۔ جب جارحین  کو نظر انداز کیا جائے اور صرف مظلوم کے دفاع پر شور مچایا جائے تو اس طرح مسائل حل نہیں ہوتے، بڑھتے ہیں ۔ آپ اس اجلاس کا متن اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو یہ سمجھنے میں کافی دشواری پیش آئے گی کہ یہ وزرائے خارجہ  کا  ہنگامی اجلاس تھا یا امریکہ و اسرائیل کے سہولتکاروں کا!۔





 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...