اسلامی انقلاب سے خائف مسلمانوں کےنام :
ڈاکٹر نذر حافی :
اسلام نام ہی تبدیلی یعنی انقلاب کا ہے۔ مسلمان اس جملے کو مانتے بھی ہیں اور اپنے آپ کو تبدیل کرنے کیلئے تیار بھی نہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ جب اسلام آیا تھا تو اس نے لوگوں کے عقائدکو تبدیل کر کے اُن کا پورا نظامِ حیات ہی بدل دیا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقتور کمزور کو کچلتا تھا، وہاں عدل و انصاف اور مساوات کی حکمرانی قائم ہوئی۔ غلامی کے ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا، عورت کو حقوق ملے، اور قبیلہ پرستی کی جگہ اُمت کا تصور آیا۔ یہ ہے دینِ اسلام یعنی ایک ہمہ گیر انقلاب ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان ُ اس دور کو اسلامی بھی کہتے ہیں اور انقلابی بھی لیکن آج اسلام اور انقلاب دونوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔
اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو مسلمان ہونے سے پہلے جھوٹ بولتا تھا، ناانصافی کرتا تھا، اور اپنی خواہشات کا غلام تھا، جب وہ اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی شخصیت بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ سچ بولنے لگتا ہے، عدل کرنے لگتا ہے، اور اپنے نفس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ اندرونی انقلاب ہے۔
پس اسلام جس طرح فرد کے اندر انقلاب لاتا ہے اسی طرح اسلامی معاشرے میں بھی انقلاب قابلِ مشاہدہ ہونا چاہیے چونکہ افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ چنانچہ اسلامی عبادات جیسے نماز محض چند حرکات کا نام نہیں، یہ انسان کو دن میں پانچ بار یہ یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی ہاتھ پھیلائے گا۔ اسی طرح روزہ صرف بھوک برداشت کرنا نہیں۔ یہ در اصل خواہشات ِ نفس کے نظام کے خلاف عملی بغاوت ہے۔ زکوٰۃ اور خمس بھی صرف خیرات نہیں، یہ سرمائے کے ارتکاز کے خلاف کھلی جنگ ہے۔دوسری طرف ہم سب ہم عبادات ادا کرتے ہیں لیکن عبادات کے ہمراہ کوئی تبدیلی ہم میں نہیں آتی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں عدل ہو، ظلم نہ ہو، اور طاقت قانون کے تابع ہو۔اب اگر کہیں پر ظالم اور جابر طاقتیں کسی پر ظلم کریں تو پھر ہر مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اب اسلام کا اُس سے کیا تقاضا ہے؟ خاموشی؟ یا مظلوم کی مدد؟ یقیناً مظلوم کی مدد ۔ یہی مظلوم کی مدد ہی اسلامی انقلاب کہلاتی ہے۔لہٰذا انقلاب کوئی اضافی شے نہیں ہے بلکہ اسلامی اخلاق و قوانین کا اجتماعی سطح پر اظہار ہے۔
فرض کریں ایک ایسا ملک جہاں کرپشن عام ہو، انصاف بکتا ہو، اور حکمران جوابدہ نہ ہوں، تو اگر وہاں اسلام کو واقعی نافذ کیا جائے، تو پھر وہاں کیا ہوگا؟ یقیناً وہاں نظام بدلے گا، اقتدار کے اصول بدلیں گے، اور ہر عمل کے ہمراہ احتساب ہوگا۔۔۔ یہی تو اسلامی انقلاب ہے۔اب آپ چاہے اسے “اسلامی نظام” کہیں یا “اسلامی انقلاب” حقیقت ایک ہی ہے۔
یہاں پر دنیا کے باقی مسلمانوں اور ایران کے مسلمانوں میں فرق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ باقی ساری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ملک میں اسلام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔اسی خوف نے آج اُمتِ مسلمہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک افیون کی طرح مست کرنے والا برائے نام اور جامد اسلام ہے جو صرف فقہی مسائل نیز عبادات تک محدود ہے،اور دوسرا انقلابی اور متحرک اسلام ہے جو کتابِ خدا اور سُنّتِ رسولؐ کے مطابق انسان اور نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے۔اُمّت کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام جب عملی ہوتا ہے تو وہ لازماً انقلاب بنتا ہے۔ اگر ہم اسلام کو اس کی عملی صورت میں قبول کرنے کیلئے تیار ہیں تو پھر ہر مسلمان کے دل سے ایوانِ اقتدار تک تبدیلی و انقلاب کا آنا ناگزیر ہے۔ اگر اسلام کا کلمہ پڑھنے کے باوجو د ہمارے قلب و دماغ میں انقلاب نہیں آتا، تو پھر ہمارے دل و دماغ پر متحرک و بیدارکرنے والے اسلام کے بجائے اسلام کا ایک بے ضرر سا عکس چھایا ہوا ہے۔
اب فرض کیجئے یہ اسلامی انقلاب اگر ایران کے بجائے سعودی عرب میں آجاتا تو پھر عرب بادشاہوں پر کیا گزرتی۔؟ یقیناً وہاں بھی یہ انقلاب اسلامی جمہوریت لے کر آتا۔ چنانچہ اسلامی جمہوریت سے خائف بادشاہوں نے اسلامی انقلاب کو ایرانی انقلاب، شیعہ انقلاب اور خمینی انقلاب کہہ کر لوگوں کو اس سے دور رکھا۔
مسلمان آج تک یہ سمجھے ہی نہیں کہ اسلامی انقلاب صرف حکمرانوں یا اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ انسانی شعور کی ازسرِ نو تشکیل کا نام ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تاریخ تلوار کے بجائے انسانی تصوّرات کی تبدیلی سے رقم ہوتی ہے۔ کوئی بھی انقلاب اتنا ہی عظیم ہوتا ہے جتنا وہ لوگوں کے تصوّرات کو تبدیل کرتا ہے۔ بلاشب اسی ہ زندگی گزارنے کے تصوّر میں تبدیلی نے ملت ایران کو امریکہ و دیگر غیر مسلم طاقتوں کے قدموں سے اٹھا کر عزت و اقتدار کا تاج پہنایا ہے۔
آج اگر کوئی شخص تعصب کی عینک اتار کر دنیا کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھے تو اسے ہر طرف ایک تلخ لیکن تابناک سچائی دکھائی دے گی۔ ساری ایرانی قیادت کو شہید کر دیا گیا لیکن ملت ایران کے عزم و استقلال میں ذرّہ بھر لغزش نہیں آئی۔ بغیر قیادت کے اس قوم نے دشمن کو زلیل و خوار کر کے رکھ دیا ہے۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کی شروعات سے لے کر ایران عراق جنگ تک، اور وہاں سے جدید دور کی ٹارگٹ کلنگز تک، ہر دور میں اس ملت کی عزت و سربلندی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ملت ایران کی یہ عزت و سربلندی ایرانی ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اسلامی ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ ایرانی تو شہنشاہ ایران بھی تھا ۔ اس دور کے نمرود نے ایران کیلئے جو فنا کی آگ جلائی ہے اس میں ملت ایران نے سُنّت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی برکت سے بقا اور حیات حاصل کر لی ہے۔
آج دشمن بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ ایران میں اشخاص کے بجائے اسلام کی حکومت ہے، وہاں قیادت کامنصب افراد کے بجائے اداروں کے پاس ہے ۔ نیز وہاں طاقتوروں کی نہیں، اصولوں کی بات مانی جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ایران کی طرح امریکہ یا یورپ میں کہیں اعلی قیادت نشانہ بنتی تو ریاستیں بکھرجاتیں اور قومیں دشمن کے سامنے مغلوب ہو جاتیں لیکن ایران میں اعلی قیادت کی اجتماعی شہادتوں کے بعد ملت اسلامیہ ایران کی ثابت قدمی سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمان اگر اسلام اور انقلاب کو الگ الگ سمجھنے کے بجائے اسلام اور انقلاب کو ایک ہی حقیقت سمجھنے لگیں تو دنیا کی کوئی طاقت اُنہیں نہیں جھکا سکتی۔
آپ کی پسند







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں