🚨 بزدل دشمن کے حملے آج رات کو بھی جاری ہیں۔
سفارتی سطح پر خلیجی ریاستوں کو امریکہ زبردستی ایران سے لڑنے کیلئے آگے کر رہا
ہے۔ پاکستان کے فوجی حکام کو سعودی عرب بلاکر کھچائی کی گئی ہے۔
🚨پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس
فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے گذشتہ برس طے
پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات کرنے کو کہا ہے۔


دوسری جانب آج 7 مارچ کو ایرانی پاسداران انقلاب
نے آبنائے ہُرمز میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم والے ٹینکر کو نشانہ بنایا
ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے خلیج میں مارشل آئی لینڈز کے
پرچم والے آئل ٹینکر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ
’لوئیس پی‘ نامی آئل ٹینکر مارشل آئی لینڈز کے پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، اسے امریکہ
کے اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس ٹینکر کو خلیج فارس کے وسط میں ایک ڈرون
کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔


ایرانی فوج نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک سے ہاتھ
ملائیں گے اور امریکیوں کو خطے سے نکال باہر کریں گے۔
ایرانی فوج نے کہا ہے
کہ امریکا کو ایران پر حملے کےلئے فضائی حدود فراہم نہ کرنے والے ممالک پر ہم نے
حملہ نہیں کیا۔

پاسداران انقلاب، حزب اللہ اور انصار اللہ یمن
نے واضح کیا ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران پر دشمن کے حملےجاری رہے تو تمام
امریکی مفادات نشانے پر ہوں گے۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق صدر کے بیان کی پیروی
میں پڑوسی ممالک کے مفادات اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔
اس سارے تناظر میں سب
سے زیادہ گھبراہٹ ٹرٹر اور نن یاہو کو ہے۔ وہ ایران کے حکمت عملی اور تدبر سے
بخوبی آگاہ ہیں۔
چنانچہ ڈڈو ٹرٹر نے کہا ہے کہ آج ایران کو بہت
زیادہ طاقت سے نشانہ بنایا جائے گا، اس زاویے سے آج رات امریکہ و اسرائیل
جتنا زور لگا سکتے ہیں وہ لگائیں گے۔ یاد رہے کہ یہ ایرانیوں کیلئے کوئی نئی بات
نہیں چونکہ روزانہ دشمن کا لشکر ایسے ہی کرتا ہے۔ ان سارے مظالم میں ایران کی ڈھال
آپ سب روزہ داروں کی دعائیں اور مظاہرے ہیں۔ کل بروز اتوار کو کہا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کا اعلان متوقع ہے وہیں
پاکستان
سمیت ساری دنیا میں احتجاج اور مظاہرے
بھی جاری رہیں گے۔ ایران کی غیور ملت عاشور کی طرح تن تنہا ڈٹ کر میدان میں کھڑی
ہے۔ ملتوں کے دل ایران کے ساتھ ہیں لیکن حکومتیں بکی ہوئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے
مطابق اس مرتبہ بھی عمرابن سعد کو رے کی جاگیر نہیں ملے گی اور شمر کا انجام بھی
ساری دنیا دیکھے گی۔ مورخ کا قلم کبھی ایک نکتے پر ٹھہرتا نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے
کہ ہم کس نکتے پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔
اختصاریہ
وائس آف نیشن







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں