زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 9 جون، 2026

مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے!

مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے!

ڈاکٹر نذر حافی

گائے کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اُس کے تیز اور نوک دار سینگ اُسے طاقتور ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا  ہم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرنے کیلئے گائے کو ٹکرمارنا   قبول کرے گا؟ امریکہ اور ایران کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر اس تصوّر کو مبہم کر دیا ہے کہ دنیا میں طاقتور کون ہے اور طاقت کسے کہتے ہیں؟  اب یہ سوال     ایک معمہ  بن گیا ہے، اس کے جواب میں  ہر دعویٰ اپنے ساتھ ایک دلیل رکھتا ہے اور ہر دلیل اپنے دامن میں ایک نیا سوال۔


راستے میں کھڑی گائے کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اُس کا بھاری بھرکم جسم اور خطرناک سینگ ہی دوسروں کی توجہ جلب کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ خصوصاً جب گائے کو یہ وہم ہوجائے کہ وہ جنگل کی بادشاہ ہے تو پھر تو  ایسے میں گائے کے ساتھ مذاکرات یعنی گائے کے سامنے بین بجانے  والی بات ہے۔ بادشاہت و آمریت کے زعم میں بہکی ہوئی  گائے اپنی دم کو شاہی عصا سمجھنے لگتی ہے، اپنے سینگوں کو تاج قرار دیتی ہے اور اپنی "مممم" کی آواز کو شاہی فرمان کا درجہ دے دیتی ہے۔ گائے اُس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کہ جب وہ وہ تالاب کے کنارے کھڑی ہو کر اپنے عکس کو دیکھتی ہے اور غُصّے سے بھر جاتی  ہے کہ لوگ اسے اب تک شیر کیوں نہیں مانتے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ جنگل کی بادشاہ ہے۔ حالانکہ جنگل کے باقی جانور ابھی اس خبر سے لاعلم ہوتے ہیں۔اس دماغی فتور کے باعث  یہ روزانہ تقریر کرتی ہے کہ شیر کا زمانہ گزر گیا، اب گائے کا دور ہے۔ شیر آبنائے ہُرمز میں  پہلے تو ہنستا ہے، پھر حیران ہوتا ہے، اور آخر میں سوچتا ہے کہ اگر گائے خود کو بادشاہ سمجھ کر بہک گئی ہے تو کیوں نہ اسے آئینہ دکھایا جائے؟

اس گائے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت اپنی عظمت بیان کرتی رہتی ہے۔ کیونکہ اصلی شیر کو کبھی یہ اعلان نہیں کرنا پڑتا کہ وہ شیر ہے، مگر وہ گائے جو خود کو شیر سمجھ بیٹھے، اسے صبح، دوپہر اور شام تینوں وقت یہ  اعلان کرنا پڑتا ہے۔

ایسی گائے کی سیاسی بصیرت بھی قابلِ داد ہے۔ وہ سڑک کے عین درمیان بیٹھ کر دنیا کو یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی، رفتار اور جلد بازی سب فضول چیزیں ہیں۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس کے سامنے بے بس کھڑی رہتی ہیں اور یہ  شور مچائے رکھتی  ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ اس کے شور مچانے کی عادت پر بھی ایک نظر  ڈالئے۔ کبھی یہ گاؤں کی گلی میں ایک سُریلے  راگ کی مانند  مو—مو کر کے کسی ماہر موسیقار کے  انداز میں راگ الاپتی  ہے، تو کبھی کسی تھکے ہوئے قوّال کی طرح  ایسا شور شرابہ  کرتی ہے کہ ہر راہگیر  خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ یہ راگ الاپے یا قوّالی کا شوق پورا کرے اس کا کام  سب کو پریشان کرنا ہوتا ہے اور پریشانی بھی ایسی کہ جس  کا  کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا ۔

 ہمارے ہاں جدید گلوبل ویلج  میں  بعض ریاستیں بھی اللہ میاں کی  گائے ہی ہیں۔ البتہ یہ ذرا دوسری قسم کی گائے کہلائیں گی۔ یہ دوسری قسم کی گائے کمیونٹی وہ ہے جو  سارا سال دو کاموں میں مصروف رہتی ہے،   گھاس کھانے میں اور جگالی کرنے میں۔ اگر ان کے سامنے سےطوفان  بھی گزر جائے تو ویہ پہلے گھاس کا نوالہ نگلیں گی، پھر خطرے پر غور کریں گی۔انہی کی وجہ سے  گائے برادری میں دو  فرقے پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک فرقہ جسے  بادشاہ ہونے کا وہم ہو گیا ہے اور دوسرا فرقہ جو اپنے آپ کو بادشاہ کا مصاحب ثابت کرنے پر تُلا رہتا ہے۔بادشاہ کی مصاحب بننے کی شوقین کسی گائے  کے سامنے چارہ رکھ دیں تو وہ  فوراً نہیں کھائے گی۔ پہلے درخواست دے گی، پھر فائل بنے گی، پھر کمیٹی بیٹھے گی، پھر چارے کی افادیت پر رپورٹ مرتب ہوگی۔ جب تک اجازت ملے گی،  تب تک چارہ خود ہی باسی  ہو چکا ہوگا۔یہ عجیب قسم کی گائے ہوتی ہے۔  اگر بادشاہ گائے اُسے اپنے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کرادے تو یہ ناشتے کو  اپنی کامیابی قرار دیتی ہے،  خود ہی زیادہ ناشتہ کرنے کے بعد  گھاس کی قلت پر احتجاج کرتی ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو اس کا  اپنا وژن، اور اگر خشک سالی ہو تو کسی دوسری  گائے پر الزام۔ ایسی  گائے شاہی باڑے میں  ناشتہ کرنے سے  پہلے اپنی سیلفی بناتی ہے اور  تصویر کھنچواتی ہے  پھر  جگالی کرکے اپنا بیان جاری کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جنگل کے تمام جانور اس کی رائے سنیں، حالانکہ خود اسے بھی اپنی رائے پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔

یہ ہر صبح اعلان کرتی ہے کہ آج  بادشاہ سلامت کی معیّت میں سارےجنگل کا نقشہ  بدل کر رکھ دے گی۔ اس کے بعد گھاس چرتے چرتے دوپہر تک تھک جاتی ہے اور شام کو پرانے کھونٹے سے بندھی ملتی ہے۔ اس کا انقلاب عام طور پر ناشتے اور شام کے چارے  کے درمیان ختم ہو جاتا ہے۔ یہ مقامی گھاس کا ناشتہ  پسند نہیں کرتی ۔ اس کا خیال ہے کہ غیر ملکی چارہ زیادہ جمہوری، ترقی پسند اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ البتہ بلآخر وہ بھی جگالی وہی کرتی ہے جو باقی گائیں کرتی ہیں۔جیسے  شیر کو گھاس کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، بھیڑیے کو امن کا سفیر بتایاجاتا ہے، اور چیتے کو رفتار کم کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔

خیر دنیا کو اگر گلوبل ویلج مانا جائے تو اس عالمی دیہات  میں ایک ایسی “شخصیت” پائی جاتی ہے جو بظاہر تو سیدھی سادی گائے ہے، مگر اصل میں پورا سیاسی نظام اسی کے گرد گھومتا محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن کا زیادہ حصہ چرتی ہے، کبھی آرام فرماتی ہے، اور کبھی اچانک ایسی بڑھک مارتی ہے کہ پورا گاوں  ایک لمحے کو “ایمرجنسی موڈ” میں چلا جاتا ہے۔ البتہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ۔ چنانچہ وہ گائے کو بھی  بھینس کی طرح  لاٹھی لے کر  حسبِ ضرورت    ہنکاتے رہتے ہیں۔  

ہم یہ راز بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ  جس کے پاس لاٹھی ہو اُسے بھینس یا گائے  کو ہنکانے کا طریقہ بھی آنا چاہیے۔ صرف لاٹھی کا ہونا کافی نہیں۔  ورنہ بدکی ہوئی بھینس یا گائے  ٹکر بھی مار سکتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بھینس ہو یا گائے ، ہم تو ان دونوں سے ڈرتے رہتے ہیں چونکہ ان کے پاس سینگ تو ہوتے ہیں لیکن عقل نہیں۔   

 

 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...