مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے!
ڈاکٹر نذر حافی
گائے کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اُس کے تیز اور نوک دار سینگ اُسے طاقتور ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرنے کیلئے گائے کو ٹکرمارنا قبول کرے گا؟ امریکہ اور ایران کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر اس تصوّر کو مبہم کر دیا ہے کہ دنیا میں طاقتور کون ہے اور طاقت کسے کہتے ہیں؟ اب یہ سوال ایک معمہ بن گیا ہے، اس کے جواب میں ہر دعویٰ اپنے ساتھ ایک دلیل رکھتا ہے اور ہر دلیل اپنے دامن میں ایک نیا سوال۔
اس گائے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت اپنی
عظمت بیان کرتی رہتی ہے۔ کیونکہ اصلی شیر کو کبھی یہ اعلان نہیں کرنا پڑتا کہ وہ شیر
ہے، مگر وہ گائے جو خود کو شیر سمجھ بیٹھے، اسے صبح، دوپہر اور شام تینوں وقت یہ اعلان کرنا پڑتا ہے۔
ایسی گائے کی سیاسی بصیرت بھی قابلِ داد ہے۔ وہ سڑک کے عین
درمیان بیٹھ کر دنیا کو یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی، رفتار اور جلد بازی سب فضول چیزیں
ہیں۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس کے سامنے بے بس کھڑی رہتی ہیں اور یہ شور مچائے رکھتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ اس کے شور
مچانے کی عادت پر بھی ایک نظر ڈالئے۔ کبھی
یہ گاؤں کی گلی میں ایک سُریلے راگ کی
مانند مو—مو کر کے کسی ماہر موسیقار کے انداز میں راگ الاپتی ہے، تو کبھی کسی تھکے ہوئے قوّال کی طرح ایسا شور شرابہ کرتی ہے کہ ہر راہگیر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ یہ راگ الاپے یا قوّالی کا
شوق پورا کرے اس کا کام سب کو پریشان کرنا
ہوتا ہے اور پریشانی بھی ایسی کہ جس کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا ۔
ہمارے ہاں جدید گلوبل
ویلج میں بعض ریاستیں بھی اللہ میاں کی گائے ہی ہیں۔ البتہ یہ ذرا دوسری قسم کی گائے
کہلائیں گی۔ یہ دوسری قسم کی گائے کمیونٹی وہ ہے جو سارا سال دو کاموں میں مصروف رہتی ہے، گھاس
کھانے میں اور جگالی کرنے میں۔ اگر ان کے سامنے سےطوفان
بھی گزر جائے تو ویہ پہلے گھاس کا نوالہ
نگلیں گی، پھر خطرے پر غور کریں گی۔انہی کی وجہ سے گائے برادری میں دو فرقے پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک فرقہ جسے بادشاہ ہونے کا وہم ہو گیا ہے اور دوسرا فرقہ
جو اپنے آپ کو بادشاہ کا مصاحب ثابت کرنے پر تُلا رہتا ہے۔بادشاہ کی مصاحب بننے کی
شوقین کسی گائے کے سامنے چارہ رکھ دیں تو
وہ فوراً نہیں کھائے گی۔ پہلے درخواست دے
گی، پھر فائل بنے گی، پھر کمیٹی بیٹھے گی، پھر چارے کی افادیت پر رپورٹ مرتب ہوگی۔
جب تک اجازت ملے گی، تب تک چارہ خود ہی باسی
ہو چکا ہوگا۔یہ عجیب قسم کی گائے ہوتی ہے۔
اگر بادشاہ گائے اُسے اپنے ساتھ بٹھا کر
ناشتہ کرادے تو یہ ناشتے کو اپنی کامیابی
قرار دیتی ہے، خود ہی زیادہ ناشتہ کرنے کے
بعد گھاس کی قلت پر احتجاج کرتی ہے۔ اگر
بارش ہو جائے تو اس کا اپنا وژن، اور اگر
خشک سالی ہو تو کسی دوسری گائے پر الزام۔
ایسی گائے شاہی باڑے میں ناشتہ کرنے سے پہلے اپنی سیلفی بناتی ہے اور تصویر کھنچواتی ہے پھر جگالی کرکے اپنا بیان جاری کرتی ہے۔ اس کی سب سے
بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جنگل کے تمام جانور اس کی رائے سنیں، حالانکہ خود اسے بھی
اپنی رائے پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔
یہ ہر صبح اعلان کرتی ہے کہ آج بادشاہ سلامت کی معیّت میں سارےجنگل کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی۔ اس کے بعد گھاس چرتے چرتے دوپہر
تک تھک جاتی ہے اور شام کو پرانے کھونٹے سے بندھی ملتی ہے۔ اس کا انقلاب عام طور
پر ناشتے اور شام کے چارے کے درمیان ختم
ہو جاتا ہے۔ یہ
مقامی گھاس کا ناشتہ پسند نہیں کرتی ۔ اس
کا خیال ہے کہ غیر ملکی چارہ زیادہ جمہوری، ترقی پسند اور غذائیت سے بھرپور ہوتا
ہے۔ البتہ بلآخر وہ بھی جگالی وہی کرتی ہے جو باقی گائیں کرتی ہیں۔جیسے شیر کو گھاس کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، بھیڑیے
کو امن کا سفیر بتایاجاتا ہے، اور چیتے کو رفتار کم کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔
خیر دنیا کو اگر گلوبل ویلج مانا جائے تو اس عالمی دیہات
میں ایک ایسی “شخصیت” پائی جاتی ہے جو
بظاہر تو سیدھی سادی گائے ہے، مگر اصل میں پورا سیاسی نظام اسی کے گرد گھومتا
محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن کا زیادہ حصہ چرتی ہے، کبھی آرام فرماتی ہے، اور کبھی اچانک
ایسی بڑھک مارتی ہے کہ پورا گاوں ایک لمحے
کو “ایمرجنسی موڈ” میں چلا جاتا ہے۔ البتہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو
یہ جانتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ۔ چنانچہ وہ گائے کو بھی بھینس کی طرح لاٹھی لے کر
حسبِ ضرورت ہنکاتے
رہتے ہیں۔
ہم یہ راز بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ جس کے پاس لاٹھی ہو اُسے بھینس یا گائے کو ہنکانے کا طریقہ بھی آنا چاہیے۔ صرف لاٹھی کا
ہونا کافی نہیں۔ ورنہ بدکی ہوئی بھینس یا
گائے ٹکر بھی مار سکتی ہے۔ سچی بات تو یہ
ہے کہ بھینس ہو یا گائے ، ہم تو ان دونوں سے ڈرتے رہتے ہیں چونکہ ان کے پاس سینگ
تو ہوتے ہیں لیکن عقل نہیں۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں