آزاد کشمیر کے ٹھوس عوامی مطالبات اور کمزورسرکاری پروپیگنڈہ :
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی :
آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی و سماجی بحران اور عوامی احتجاج نے سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اقوام متحدہ کو بھی مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور مقتدر حلقوں کے درمیان پروپیگنڈے کی ایسی اندھی چل رہی ہے کہ جس میں حقائق کو سمجھنا عام آدمی کیلئے بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ایک مخصوص بیانیے کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے 9 جون سے پہلے آزاد کشمیر میں سب کچھ پرسکون تھا اور اچانک کسی جتھے نے امن کو آگ لگا دی۔ اب اس پر بحث و نزاع کے بجائے ہمارے نزدیک جلتی پر پانی ڈالنا ہی مسئلے کا حل ہے۔ اس لیے آئیے اس سارے بحران کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی کوشش کیجئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک زخم کی گہرائی کو ٹھیک طریقے سے نہ سمجھا جائے، تب تک کوئی مرہم پٹی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔
یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ احتجاجی لہر سے پہلے آزاد کشمیر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام طویل عرصے سے شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے۔ آزاد کشمیر کے عوام پچھلے کئی ماہ سے منگلا ڈیم کی پیداواری لاگت کے مطابق سستی بجلی، آٹے پر سبسڈی اور مقتدر طبقے کی شاہانہ مراعات کے خاتمے کے لیے سراپا احتجاج تھے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بینر تلے طویل عرصے سے پرامن دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کی جا رہی تھیں، کیونکہ حکومت کی جانب سے بار بار کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ لہٰذا یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں تھا بلکہ دیرینہ معاشی مطالبات کا شاخسانہ تھا، کیونکہ جب روٹی اور انصاف نایاب ہو جائیں تو صبر کی دیواریں خودبخود گر جایا کرتی ہیں۔
9 جون سے قبل آزاد کشمیر میں بازار کھلے تھے، امن و امان قائم تھا اور سیاحت اپنے عروج پر تھی جس سے مقامی لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔ جب عوامی تحریک کے جائز معاشی مطالبات کو حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بیرونی فورسز کو آزاد کشمیر میں داخل کیا گیا، تو مقامی آبادی میں شدید اشتعال پھیلا۔ اس وقت ریاستی انتظامیہ کے سخت رویے کے خلاف مقامی غصے کے نتیجے میں کئی نعرے گونجے اور سخت تقاریر شروع ہوئیں، جس کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تصادم ہوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مقتدر حلقوں نے یہ نہیں سوچا کہ طاقت کا توازن جب مکالمے کے بجائے جبر سے قائم کرنے کی کوشش کی جائے، تو امن کی بساط لپٹتے دیر نہیں لگتی۔
کہا جاتا ہے کہ فورسز کی جانب سے تشدد کرنے کے باعث دورانِ احتجاج چند مقامات پر فورسز کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور شاید کہیں پر افواجِ پاکستان کو بارڈرز سے ہٹانے کی باتیں بھی ہوئیں۔ ایسے ماحول میں اس حساس پہلو کی حقیقت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ فورسز کو سرحدوں سے ہٹانے یا سیکیورٹی اہلکاروں کو دھمکیاں دینے والے بیانات عام کشمیری عوام کی ترجمانی ہرگز نہیں کرتے۔ یہ چند مخصوص نظریاتی پلیٹ فارمز تھے جنہوں نے جان بوجھ کر صورتحال کو خراب کیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین نے بارہا آن ریکارڈ یہ وضاحت کی کہ ان کی تحریک خالصتاً معاشی اور آئینی حقوق کی تحریک ہے اور ان کا کسی بھی پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بعض مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پرامن عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے مقتدر اداروں کی سرپرستی میں ایسے مخصوص عناصر اور شرپسندوں کو جان بوجھ کر ان مظاہروں میں داخل کیا گیا، جن کا مقصد دانستہ طور پر پاکستان مخالف نعرے بازی کرنا اور اشتعال پھیلانا تھا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ان شرپسند عناصر کو مظاہروں میں بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی پرامن اور جائز معاشی تحریک پر ملک دشمنی کا لیبل لگایا جا سکے، اور اسی بہانے کو بنیاد بنا کر اس عوامی پلیٹ فارم کو کالعدم قرار دے کر کچلا جا سکے۔ ان احتمالات کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب انصاف کے متلاشیوں کو سازش کے دائروں میں قید کر دیا جائے، تو امن کی امید اندھیروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
اس وقت جاری پروپیگنڈے کا سب سے افسوسناک رخ یہ ہے کہ راولاکوٹ جیسے شہروں کی احتجاجی ویڈیوز کو لے کر ایسے لوگ بھی پکار پکار کر بات کر رہے ہیں جنہیں خود معلوم نہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ جن لوگوں نے ففتھ جنریشن وار کا صرف نام سن رکھا ہے اور اس سے بالکل نابلد ہیں، وہ آج کل طوطے کی طرح اس اصطلاح کو دہرا رہے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کشمیری کوئی جاہل یا بہکاوے میں آنے والے لوگ نہیں ہیں، وہ انتہائی باشعور، پڑھے لکھے اور بیدار مغز ہیں۔ مقتدر اداروں کو چاہیے کہ وہ ففتھ جنریشن جیسی بھاری بھرکم اصطلاحات کے پیچھے اپنا منہ نہ چھپائیں اور زمینی حقائق کا سامنا کریں۔ پاکستان سے محبت کشمیریوں کے ایمان اور ان کی جان کا حصہ ہے، جس پر کسی قسم کے شک کرنے کی گنجائش نہیں۔ بعض آزاد دانشوروں کے مطابق مقتدر حلقوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور آزاد کشمیر میں ماضی کے مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش جیسی صورتحال پیدا کرنے کے نتائج کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
کچھ سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے محب وطن کشمیریوں کو غدار یا انڈیا کا ایجنٹ کہنا ریاست کے لیے ایک انتہائی مہنگا سودا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس وقت یہ پہلو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ اپنے ہی جائز حقوق مانگنے والے شہریوں کو خواہ مخواہ غدار کہنا دراصل بھارت کے ہندوتوا نظریے اور نریندر مودی کے پاکستان مخالف بیانیے کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں خوش کرنا ہے اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہی اصل غداری ہے۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ ایسی ناروا باتوں اور ایسے سنگین الزامات لگانے سے بچا جائے، کیونکہ جو لوگ دشمن کے اس ایجنڈے کو دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کر کے وفاق اور کشمیر کے درمیان دوریاں پیدا کر رہے ہیں، وہ خود ملک کا نقصان کر رہے ہیں، اور جو ریاست اپنے وفاداروں کو ہی مشکوک بنا دے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے وجود کو کمزور کرتی ہے۔
قانون کے دائرے میں رہے تو نہ ریاست غلط ہوتی ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے والا شہری۔ آزاد کشمیر حکومت نے بعد ازاں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اربوں روپے کے تاریخی امدادی پیکیج اور سبسڈی کی منظوری دے کر عوام کے معاشی مطالبات کو تسلیم بھی کیا تھا لیکن پھر اپنی من مانی شروع کر دی۔ عوام کے نزدیک یہ من مانی اور ٹال مٹول عین غداری اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اصل سچائی یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے محب وطن عوام کے معاشی مطالبات بالکل جائز اور پرامن ہیں، لیکن کچھ آراء کے مطابق مقتدر اداروں نے عوامی تحریک کو کچلنے اور اسے کالعدم قرار دینے کے لئے اپنے مہرے عوامی مظاہروں میں داخل کیے تاکہ عوامی تحریک کا رخ موڑا جا سکے۔ کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ رشتہ معاشی مراعات یا کسی سیاسی ڈرامے سے بالاتر ہے۔ اس لازوال رشتے اور سچائی کو کسی بھی مقتدرہ کی غلط حکمت عملی یا دشمن کا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا، کیونکہ محبتوں کی بقا جذبوں کی صداقت میں ہوتی ہے، رائفلوں کی سنگینوں میں نہیں۔ یہ چھوٹے موٹے عوامی و انتظامی نوعیت کے مسائل رائفلوں سے نہیں محبت سے حل کرنے والے ہیں۔ رائفلیں تو اپنے مشترکہ دشمنوں کیلئے ہوتی ہیں نہ کہ عوام کیلئے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں