زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 9 اگست، 2026

نئے کابل میں پرانے طالبان

نئے کابل میں پرانےطالبان : 
 ڈاکٹر نذر حافی :
سانپ اپنی  کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔ آمو ٹی وی کے مطابق  طالبان  حکومت نے امیدِ سبز شہرک  سے تقریباً 500 رہائشی یونٹس اور 6,000 باشندوں کو بے دخل کر دیا ہے۔ بے دخل ہونے والے  رہائشیوں کو  فلسطینیوں کی طرح اب یہ تشویش لاحق ہے کہ آگے ان کے ساتھ نجانے  کیا ہوگا۔ افغانستان کی تاریخ ایسے اجڑے ہوئے گھروں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے کہ جن  کی رونقیں اب کبھی نہیں پلٹیں گی۔ کبھی بامیان کی وادیوں میں ہزارہ شہریوں کا خون بہا، کبھی کابل کی کسی مسجد، مدرسے یا تعلیمی مرکز میں دھماکہ ہوا، کبھی کسی ایک  بستی  اور کبھی کسی دوسری بستی کے مکینوں کو اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم ملا اور کبھی کسی مذہبی یا علاقائی  اقلیت کے لیے اپنی شناخت کا اظہار بھی باعثِ خوف بن  گیا۔گزشتہ دہائیوں میں  کئی مرتبہ  افغانستان میں  ظلم قانون کی مسند پر براجمان ہو گیا، جبر  و استبداد نے نظم و نسق کا لباس پہن لیا  اور طاقت  نے جموریت کا گلا گھونٹ دیا۔ لمحہ فکریہ ہے کہ  طالبان جو آج تک اپنے لوگوں پر رحم نہیں کرتے  وہ  کسی مشکل کے آنے پر پاکستانیوں  پر کیا رحم  کریں گے۔  
آج کا کابل بظاہر بدل چکا ہے۔ اقتدار کے ایوان بدل گئے، پرچم بدل گیا، وزارتیں قائم ہوئیں، عدالتیں بنیں اور طالبان نے اپنے اقتدار کو ایک باقاعدہ ریاستی نظم میں ڈھالنے کا دعویٰ کیا۔ یہ سب ہو گیا لیکن طالبان کا اصلی مزاج اور  سوچ نہیں بدلی۔ طالبان کی بنیاد چونکہ پاکستان میں پڑی ہے لہذا ہماری طرح طالبان کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ریاست کی عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب طاقتور قانون کے سامنے جواب دہ ہو اور کمزور قانون کے سائے میں محفوظ۔ حکومت کی پائیداری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شہری خوف سے نہیں، اعتماد سے ریاست کے ساتھ کھڑا ہو۔ افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی، آزاد صحافت پر قدغن، مخالف آوازوں کی گرفتاری، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ  امتیازی رویہ  اور شہری آبادیوں کی بے دخلی ایسے  اقدامت ہیں کہ جنہیں دیکھ کر بے ساختہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ  سانپ اپنی  کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔
کابل میں امیدِ سبز ٹاؤن شپ، جسے حاجی نبی ٹاؤن شپ بھی کہا جاتا ہے، کا تنازع اس حقیقت کی ایک تازہ مثال ہے۔ کابل کے ڈسٹرکٹ 6 اور 13 میں واقع اس علاقے کی تقریباً 1,500 جریب زمین کو طالبان کی وزارتِ انصاف نے  زبردستی سرکاری ملکیت قرار دیا ہے۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں افغان  خاندان آباد ہیں۔اس  فیصلے کے بعد متاثرہ  خاندانوں کے گھروں، املاک اور مستقبل کے بارے میں طالبان کو کسی قسم کی کوئی پرواہ نہیں۔
انسانی احساسات و جذبات سے تو طالبان ویسے ہی عاری ہیں۔ انہیں یہ ادراک ہی نہیں کہ زمین انسان کے لیے صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی۔ زمین میں نسلوں کی یادیں، گھروں کی رونقیں، بزرگوں کی قبریں، بچوں کا بچپن اور آنے والی نسلوں کے خواب دفن ہوتے ہیں۔ گھر چھن جائے تو صرف چھت نہیں جاتی،  ایک پوری زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ آبادی اجڑ جائے تو صرف مکانات نہیں گرتے،  رشتے ناطے بکھر جاتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ریاست کو زمین کی ملکیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اختیار کے ساتھ امانتداری  بھی ضروری ہے اور امانتداری  کے ساتھ جواب دہی بھی۔ کسی شہری کی ملکیت سے متعلق فیصلہ شفاف ریکارڈ، غیر جانب دار سماعت، مؤثر اپیل اور آزادانہ عدالتی عمل کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ قانون کا مقصد  حکمران ٹولے کی دھاک بٹھانا نہیں ہوتا بلکہ کمزور کو طاقتور کے چنگل سے چھڑوانا ہوتا ہے۔
امیدِ سبز کا تنازع  اس امر کی دلیل ہے کہ  افغانستان میں شہریوں  کے بنیادی حقوق کی کوئی  ضمانت نہیں۔ طالبان کے ہاتھوں افغانیوں کی بے دخلی  کا یہ مسئلہ  زمین کی حدود سے کہیں آگے تک  پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں افغانی قبائل  نے دہشت گرد حملوں، مذہبی تعصبات، جائیداد کے تنازعات اور جبری بے دخلیوں کے متعدد واقعات برداشت کیے ہیں۔ داعش خراسان کے حملوں نے ان کی جان و مال کو سنگین خطرات سے دوچار کیا۔ ریاست کی ذمہ داری یہاں دوگنی ہو جاتی ہے،  دہشت گردی سے شہریوں کی جان بچانا بھی لازم ہے اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں امتیاز سے شہریوں کے حقوق محفوظ رکھنا بھی۔
ریاست کی نظر میں شہری کی قدر اس کے مذہب، نسل، زبان یا مسلک سے متعین نہیں ہونی چاہیے۔ شہری مساوات ریاستی وحدت کی بنیاد ہے۔ یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو قومی یکجہتی کا محل بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ اسی تناظر میں محرم و عاشورا کے اجتماعات، مذہبی علامتوں اور شیعہ مذہبی شناخت کے اظہار سے متعلق پابندیوں نے اقلیتوں میں بے  چینی کو بڑھایا ہے۔ مذہب کو ریاستی نظم کا بنیادی حوالہ بنانے والی حکومت کے لیے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ایک بنیادی ذمہ داری  ہے۔دوسرے مذاہب کے ساتھ جابرانہ برتاو، دینِ اسلام کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ دین انسان کے ضمیر کو روشنی دیتا ہے،  ریاستی طاقت اسے خوف کی تاریکی میں بدل دے تو دین  کا اخلاقی پیغام اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے۔افغانستان میں آزاد صحافت کا دائرہ بھی مسلسل سُکڑ گیا ہے۔ صحافیوں کی گرفتاریاں، میڈیا اداروں پر دباؤ اور اختلافی آوازوں کی سرکوبی نے اظہارِ رائے کے ماحول کو مسدود کر  رکھاہے۔جون 2026 میں کابل میں تمادون ٹی وی کے دفتر کی بندش نے اس صورتِ حال کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔ یہ ادارہ ہزارہ شیعہ برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی مواد کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کی بندش نے میڈیا کی آزادی اور مذہبی اظہار دونوں کے بارے میں طالبان کی اصلی شکل و صورت ساری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔ریاست کو اپنے مؤقف کی سچائی پر یقین ہو تو تنقید سے خوف پیدا نہیں ہوتا۔ آزاد صحافت حکومت کے لیے خطرہ نہیں، آئینہ ہوتی ہے۔ آئینہ توڑنے سے چہرہ نہیں بدلتا، صرف عکس غائب ہوتا ہے۔طالبان کے دور کی سب سے نمایاں ناانصافی افغان خواتین اور بچیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی پالیسیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ لاکھوں بچیوں کی ثانوی تعلیم رک چکی ہے۔ خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے راستے بند ہیں۔ روزگار اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔یہ پابندیاں صرف آج کی عورت کو محدود نہیں کرتیں،  آنے والے افغانستان کی علمی، معاشی اور سماجی حیثیت پر بھی اثر انداز ہونگییں۔
جو بچی آج اسکول کے دروازے سے واپس لوٹتی ہے، وہ کل کو  ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق یا سائنس دان بننے کا موقع کھو دیتی ہے۔ جو معاشرہ اپنی خواتین کی صلاحیتوں کو مقید کرتا ہے، وہ اپنی نصف انسانی قوت کو معطل کر دیتا ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنے سے ایک نسل نہیں رکتی، پورا مستقبل پیچھے رہ جاتا ہے۔افغانستان کو ہنرمند ڈاکٹروں، قابل اساتذہ، ماہر انجینئروں، اہل منتظمین اور صاحبِ علم خواتین کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کا راستہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے گزرتا ہے۔ جو قوم اپنی بیٹیوں کے ہاتھ سے کتاب چھین لیتی ہے، وہ اپنے مستقبل کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔
طالبان کے نظام میں اختلافِ رائے کی بھی گنجائش نہیں۔ صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، سابق سرکاری اہلکار، دانش ور اور ناقدین گرفتاری، تشدد اور طویل حراست کے خطرات سے دوچار  ہیں۔ حالیہ چند برسوں میں  اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، تشدد اور من مانی گرفتاریوں سے متعلق متعدد واقعات درج کیے گئے ہیں۔ یہ ساری دنیا کی ذمہ داری ہے کہ طالبان کو یہ سمجھایا جائے کہ ریاست کا اصل امتحان اپنی مذہبی رِٹ قائم کرنے کے بجائے  اپنے مخالفین  کے حقوق کا تحفظ  ہوتا ہے۔
اختلاف کو غداری کا نام دینے سے ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ سوال کرنے والے کو دشمن قرار دینے سے حکومت مضبوط نہیں ہوتی۔ تنقید کو جرم بنانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے ۔خوف خاموشی پیدا کرتا ہے، اعتماد استحکام پیدا کرتا ہے۔ جبر اطاعت پیدا کر سکتا ہے، وفاداری نہیں۔ بندوق راستہ خالی کرا سکتی ہے، دلوں میں راستہ نہیں بنا سکتی۔ اس وقت افغانستان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ طالبان کا رویّہ انتہائی معاندانہ ہے۔ ہزارہ شیعہ، اسماعیلی اور دیگر اقلیتیں اپنے مذہبی تشخص، سلامتی اور اجتماعی حقوق کے حوالے سے مختلف نوعیت کے  شدید دباؤ کا سامنا  رہی ہیں۔
یہ درس ہر ریاست کیلئے ہے کہ ریاست کی قوت اس بات میں ہے کہ مختلف شناختوں کو ایک مشترک شہری شناخت کے اندر تحفظ دیا جائے۔ زبانیں جدا رہ سکتی ہیں، مسالک جدا رہ سکتے ہیں، ثقافتیں جدا رہ سکتی ہیں ، سب جدا رہ کر بھی متحد رہ سکتے ہیں بشرطیکہ  ریاستی انصاف سب کے لیے یکساں ہو۔یہی حقیقی قومی وحدت ہے یعنی  رنگا رنگی میں ہم آہنگی، اختلاف میں اتفاق اور تنوع میں اتحاد۔طالبان کے سامنے آج اصل چیلنج اقتدار پر قابض رہنا نہیں، اقتدار کو اقدار میں بدلنا ہے۔ بندوق سے شہر فتح کیے جا سکتے ہیں، معاشرے نہیں۔ جبر سے خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ جیل کے دروازے کسی شخص کو قید کر سکتے ہیں، اس کے خیالات کو نہیں۔حکمرانی کا کمال یہ نہیں کہ لوگ حکومت سے خوف زدہ رہیں، حکمرانی کا کمال یہ ہے کہ شہری حکومتی اداروں پر بھروسہ کریں۔موجودہ حالات میں تاریخ اور سوشل سائنسز کا  یہ پیغام طالبان کیلئے بھی ہے، پاکستان کیلئے بھی اور آزاد کشمیر کی حکومت کیلئے بھی۔  یہ الگ بات ہے کہ کہیں پر بھی حکمران ٹولہ سانپ کی مانند  اپنی  کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...