زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

جمعہ، 7 اگست، 2026

میری فیروزی میری " کاکی"

میری فیروزی میری " کاکی"

میرے صحن میں ایک ایسی شخصیت رہتی ہے جسے میں محبت سے "فیروزی" کہتا ہوں۔ نام سن کر یوں لگتا ہے جیسے کسی نواب کی اکلوتی اولاد ہو یا کسی شاہی اصطبل کی انمول شہزادی۔ تاہم  جیسے ہی وہ کسی کے سامنے آتی ہے، تو دیکھنے والا بتیسی نکال کر ہنسنے لگتا ہے۔فیروزی اتنی دبلی ہے کہ اگر تیز ہوا چل جائے تو مجھے اس کے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے کہ کہیں پتنگ کی طرح   اُڑ نہ جائے۔ اس کی ٹانگیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جیسے کسی نے دو ماچس کی تیلیاں زمین میں گاڑ دی ہوں ۔ پسلیاں یوں گنی جا سکتی ہیں جیسے بلیک بورڈ پر سیدھی لکیریں ہوں۔

میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں، سینہ تان کر کہتا ہوں: "یہ عام بچھڑی نہیں، شاہانہ نسل کی " کاکی " ہے!"

سننے والے پہلے فیروزی کو دیکھتے ہیں، پھر مجھے، پھر دوبارہ فیروزی کو... اور آخر میں ایسی ہمدردانہ مسکراہٹ بکھیرتےہیں  کہ میرے تن من میں آگ لگ جاتی ہے۔

کچھ ظالم لوگ تو حد ہی کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: "بھائی، یہ گائے کا بچہ ہے یا مرغی کا چوزہ؟"

میں فوراً  فیروزی کا شجرہِ  نسب  انہیں سنانا شروع کر دیتا  ہوں۔

"خبردار! اس کا شجرۂ نسب دیکھو۔ اس کے آباؤ اجداد ایسی گائیں تھیں جنہیں دیکھ کر بیل بھی  اپنے سینگ سیدھے کر لیتے تھے!"

وہ ہنس کر جواب دیتے ہیں: "ہاں، لیکن یہ تو لگتا ہے جیسے خاندان کی ساری طاقت آباؤ اجداد ہی استعمال کر گئے ہوں، اس کے حصے میں صرف خاندانی نام آیا ہے!" اصل مزہ تو تب آتا ہے جب کوئی قیمت پوچھ بیٹھتا ہے۔

میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں:

"یہ لاکھ روپے کی ہے لاکھ روپے کی!" سامنے والا فیروزی کو اوپر سے نیچے تک دیکھ کر کہتا ہے: کیا کہیں چیل اسے لے کر اُڑ نہ جائے۔ لاکھوں کی فیروزی کو باہر نہ نکالنا۔

میں بڑے سکون سے جواب دیتا ہوں: "بھائی، تم  گوشت  خرید رہے ہو، میں نسل بیچ رہا ہوں۔"

صحن کے کونے میں جب شام کا سنہرا سورج اپنی آخری کرنیں بکھیرتا ہے، فیروزی گرد آلود زمین پر ایسی شان سے کھڑی ہوجاتی ہے جیسے کسی شاہی محل کی بالکونی میں ملکہ سلامت کھڑی ہوں ۔ لوگوں کی باتوں پر نہ جائیں، دنیا کو چاہے سو خامیاں نظر آئیں، مجھے  اس میں صرف خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔لوگ کہتے رہیں "مرغی کا بچہ"، میں تو آج بھی فخر سے کہتا ہوں:

"یہ فیروزی ہے جناب! ابھی وقت اس کے خلاف ہے، کل  یہی  وقت اسی کے حق میں گواہی دے گا۔میں آپ لوگوں کو پال کر دکھاوں گا۔ پھر آپ لوگوں کو پتہ چلے گا جب میں اربوں روپے میں اپنی فیروزی بیچوں گا۔۔۔ 



 

جمعرات، 6 اگست، 2026

جنوبی پنجاب میں عزاداری قسط ۴

چوتھی  قسط  بستی اکبر خان گورچانی، چوکی کپر

ڈاکٹر نذر حافی  :
بعض سفر دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے قیام کر لیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی عزاداری کی ایک منفرد روایت یہ بھی ہے کہ محرم الحرام میں  یہاں صرف امام بارگاہیں ہی نہیں، بلوچ سرداروں کے ڈیرے بھی ذکرِ امام حسینؑ کے مراکز بن جاتے ہیں۔ ان وسیع ڈیرہ جات میں محرم کے ایام میں مجالسِ عزا برپا ہوتی ہیں، دور دراز کے قبائل شریک ہوتے ہیں اور یوں قبائلی روایت، مہمان نوازی اور عشقِ اہلِ بیتؑ ایک ہی منظر میں سمٹ آتے ہیں۔ آج آٹھ محرم الحرام کی تاریخ تھی اور  میرے ساتھ گاڑی میں مولانا صابر حسین صاحب اور آٹھ سالہ  حسین عباس  جعفری بھی ہم سفر تھے۔ راستہ طویل تھا، گفتگو مختصر تھی اور خاموشی اپنے اندر ایک عجیب سی راحت سمیٹے ہوئے تھی۔ کھیتوں پر صبح کی دھوپ دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔ کہیں کھجوروں کے جھنڈ نظر آتے، کہیں سرسبز فصلیں ہوا کے سنگ لہرا اٹھتیں۔ دیہی زندگی اپنی پوری سادگی اور خوبصورتی کے ساتھ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔
ایک قصبے کے قریب پہنچے تو سڑک کے کنارے ایک باوقار شخصیت ہماری منتظر دکھائی دی۔ یہ مسجد اللہ آباد کے منتظم، ماسٹر صادق کھوسہ صاحب تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ صبح سویرے جام پور جا کر واپس آئے تھے اور اب صرف ہماری رہنمائی کے لیے یہاں کھڑے تھے۔ اس محبت میں نہ کوئی نمود تھی، نہ کوئی تکلف۔ 
انہوں نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور ہمارے قافلے کے آگے چل پڑے۔ ہم خاموشی سے ان کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔ کبھی وہ رفتار آہستہ کر لیتے، کبھی مڑ کر دیکھتے کہ ہم ساتھ ہیں۔ ہر موڑ پر ان کا اشارہ منزل کی خبر دیتا تھا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی مخلص دوست اپنے مہمانوں کو راستہ نہیں، اپنے دل تک لے جا رہا ہو۔
راستہ بدلتا گیا اور منظر بھی بدلتے گئے۔ کچے مکانات، سبز کھیت، نہریں، درختوں کی قطاریں اور مٹی کی مہک ایک ایک کرکے حافظے میں اترتی چلی گئیں۔ سفر کے یہ مناظر صرف آنکھوں سے نہیں دیکھے جا رہے تھے، دل بھی انہیں اپنے اندر محفوظ کرتا جا رہا تھا۔
چلتے چلاتے بلاخر  ہم  "بستی اکبر خان گورچانی، چوکی کپر "پہنچ گئے، جہاں سردار غلام اکبر خان گورچانی صاحب  کا ڈیرہ اپنی سادگی اور وقار کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے۔ نیلا آسمان پوری وسعت کے ساتھ سر پر سائبان بن کر  کھڑا  تھا۔ قد آور درختوں کی گھنی چھاؤں نے مجلس گاہ کو ایک قدرتی چھت عطا کر رکھی تھی۔ جون کے مہینے میں  ٹھنڈی ہوا کے نرم جھونکے ماحول میں ایسی لطافت پیدا کر رہے تھے کہ دل بے اختیار شکر ادا کرنے لگتا تھا۔
احاطہ مجلس  میں داخل ہوتے ہی بلوچ تہذیب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آگئی۔ سر پر بندھی مخصوص بلوچ پگڑیاں، کشادہ روایتی لباس، گھنی اور خوش تراش داڑھیاں، باوقار نشست اور سنجیدہ چہرے ایسا منظر پیش کر رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شخص اپنی جگہ ایک بلوچ سردار ہو۔ وقار ان کے لباس میں بھی تھا اور کردار میں بھی۔
جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے بلوچ قبائل کے معززین اور سردار اس مجلس میں شریک تھے۔ دور دراز بستیوں سے آنے والے عزادار صبح ہی اپنے سفر مکمل کرکے پہنچ چکے تھے۔
 ڈیرے سے کچھ فاصلے پر موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں نہایت ترتیب سے کھڑی تھیں۔ کوئی باقاعدہ پارکنگ نہ تھی، پھر بھی نظم ایسا تھا کہ پوری جگہ ایک قدرتی پارکنگ معلوم ہوتی تھی۔ اس منظر نے مجھے اس قوم کے اجتماعی شعور اور نظم و ضبط کا خاموش تعارف کرا دیا۔
مجلس اپنی کیفیت میں منفرد تھی۔ ہر شخص خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ فضا پر ایک مقدس سکوت طاری تھا۔ خطیب کی آواز درختوں کی شاخوں سے ٹکراتی ہوئی حاضرین کے دلوں میں اتر رہی تھی۔ ہر نگاہ احترام سے جھکی ہوئی تھی۔ ہر دل ذکرِ حسینؑ میں محو تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس خاموشی کی بھی ایک زبان ہے، جو محبت، عقیدت اور وفاداری کا درس دے رہی ہے۔
ڈیرے پر موجود مسجد اپنی سادگی میں بھی دل کو موہ لیتی تھی۔ مسجد کے قریب نصب ہینڈ پمپ نمازیوں کی سہولت کے لیے موجود تھا۔ یہ منظر بتا رہا تھا کہ یہاں عبادت اور خدمت ایک ہی روایت کے دو عنوان ہیں۔اس روحانی اجتماع کی ایک اور خوبصورت تصویر "سردار غلام اکبر خان گورچانی صاحب" کی میزبانی تھی۔ وہ ہر آنے والے مہمان کا والہانہ استقبال کر رہے تھے۔ چہرے پر مسکراہٹ، لہجے میں شفقت، ہاتھوں میں گرمجوشی اور انداز میں عاجزی تھی۔ وہ مجلس کے منتظم کم اور مہمانوں کے خادم زیادہ محسوس ہوتے تھے۔ ہر شخص کی خیریت دریافت کرنا، ہر آنے والے کو عزت دینا اور ہر ضرورت کا خود خیال رکھنا ان کے حسنِ اخلاق کی روشن دلیل تھا۔ ان کی شخصیت نے مجھے یہ احساس دلایا کہ عزت صرف الفاظ سے نہیں دی جاتی، رویّے بھی احترام کی زبان بولتے ہیں۔
مجلس کے اختتام پر جب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے تو محبت گویا فضا میں گھل گئی تھی۔ ہر مصافحہ دل سے ہو رہا تھا، ہر دعا اخلاص سے نکل رہی تھی، ہر مسکراہٹ میں اپنائیت تھی۔ اس اجتماع میں نہ تصنع تھا، نہ تفاخر۔ صرف محبت تھی، عقیدت تھی، احترام تھا اور ایک ایسی روحانی کیفیت تھی جسے لفظوں میں مکمل طور پر قید کرنا ممکن نہیں۔
واپسی کے سفر میں راستے وہی تھے، زمین وہی تھی اور آسمان بھی وہی تھا، میرے اندر ایک نئی روشنی جنم لے چکی تھی۔ آج بھی جب اس سفر کو یاد کرتا ہوں تو درختوں کی وہ چھاؤں، بلوچ پگڑیوں کا وہ وقار، مجلس کی وہ خاموشی، سردار غلام اکبر خان گورچانی کی محبت بھری میزبانی اور ماسٹر صادق کھوسہ صاحب کا بے لوث خلوص ایک ساتھ نگاہوں کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار سفر کیے، بہت سی محفلیں دیکھیں، بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی، اس دن جیسا روحانی ماحول، ایسا باہمی احترام اور ایسی بے ساختہ محبت  شاید ہی پھر کبھی دیکھ سکوں۔ 




بدھ، 5 اگست، 2026

۵ اگست ۔۔۔ سازش نہیں انصاف

 ۵ اگست ۔۔۔ سازش نہیں  انصاف
ڈاکٹر نذر حافی : 
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل  فورم: 
طاقت زمین پر قبضہ کر سکتی ہے لیکن انسان کے ضمیر پر نہیں۔ہندوستان ابھی تک اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہا ہے۔5 اگست 2019 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی دن تھا۔ اسی روز بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا۔ بھارت نے اس فیصلے کو آئینی اصلاح، قومی یکجہتی اور ترقی کی جانب قدم قرار دیا، جبکہ پاکستان، کشمیری قیادت اور متعدد ناقدین نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر کی متنازع حیثیت کے منافی قرار دیا۔آج  چھ برس کے  بعد بھی ۵ گست کی یہ تاریخ    انتہائی متنازعہ ہے۔مقبوضہ کشمیر کی تاریخ مسلسل گولیوں کی آواز ، بند دروازوں، سنسان گلیوں اور خاموش کھڑکیوں سے لکھی جارہی ہے۔ کتنے ہی بچوں کی مائیں  اپنے  بچوں کی واپسی کی دعا کرتی اس دنیا سے چلی گئی ہیں  اور کتنی ہی آنکھیں اس انتظار میں بند ہو گئی ہیں کہ  وہ  آزادی کا رنگ  دیکھیں، عالمی برادری  برف  کی طرح خاموش ہے۔ یہی کشمیر کی وہ المیہ داستان ہے جہاں موسم بدلتے ہیں  لیکن آزادی کا  انتظار نہیں بدلتا۔ جنت کہلانے والی سرزمین برسوں سے جہنم  بنی ہوئی ہے۔ریاست کی اصل بنیاد آزادی اور استقلال ہے،  جہاں آزادی اور استقلال  نہ ہو وہاں اقتدار بھی اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔
5 اگست 2019ا کے بعد وادی میں غیر معمولی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ مواصلاتی نظام معطل رہا، سیاسی قیادت کو نظر بند کیا گیا اور معمولاتِ زندگی طویل عرصے تک متاثر رہے۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں اور کشمیری ذرائع نے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ بھارتی حکومت کا مؤقف رہا کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری تھے۔ یعنی امن کے نام پر جبر مسلط کیا گیا۔
شمشاد احمد جیسے سابق سفارت کاروں اور متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو خطے کے امن اور کشمیریوں کے حقوق کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف بھارت کا اصرار ہے کہ آئینی تبدیلیاں اس کا داخلی معاملہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی تنازع پر قانون، سیاست اور اخلاقیات تین مختلف زبانیں بولنے لگیں تو  عدالتیں بھی اور  تاریخ بھی چکرا جاتی ہے۔  اس مسئلے کا  ہر فریق  قانون  کی بات کرتا ہے تاہم  قانون کی تعبیر سب کے لیے مختلف ہے۔
بھارت کے اندر بھی اس فیصلے پر یکساں رائے موجود نہیں تھی۔ کانگریس سمیت بعض سیاسی رہنماؤں نے اسے وفاقی ڈھانچے اور آئینی روایت کے لیے نقصان دہ قرار دیا،لیکن  حکمران جماعت نے اسے قومی وحدت کی تکمیل کہا۔  بھارتی جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ اختلاف کو بھی اپنے اندر جگہ دیتی ہے۔ تاہم  بھارتی جمہوریت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں  سب کو بولنے کا حق  تو ہوتا  ہے لیکن  اربابِ اقتدار و اختیار کو سب کی آواز برابر نہیں سنائی دیتی۔ یقین جانئے  بھارتی جمہوریت  میں اختلاف کی گنجائش تو موجود ہے  لیکن  اس جمہوریت  کا سب سے بڑا المیہ اختلاف رائے کو تسلیم کرنے  سے خوف کھانا ہے۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک سمیت متعدد کشمیری رہنماؤں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کے نزدیک قربانیوں کی طویل داستان اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور سیاسی مستقبل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اب  بھارت کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ  ماضی میں جتنی طویل کشمیریوں کی آزمائش ہوتی گئی، آزادی کی تحریک بھی اتنی ہی مضبوط ہوتی گئی۔
گزشتہ چند برسوں میں نئی حلقہ بندیوں، ڈومیسائل قوانین، اراضی اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے بھی کشمیریوں کو  شدید تحفظات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے خطے کے آبادیاتی اور سیاسی توازن پر اثر پڑاہے، جبکہ بھارتی حکومت انہیں بہتر حکمرانی، سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ضروری اصلاحات قرار دیتی ہے۔ ایک ہی پالیسی ہندوستان کے لیے ترقی کا راستہ ہے اور کشمیریوں  کے لیے شناخت کا بحران۔
قانونی نقطۂ نظر سے 5 اگست 2019 کو بھارتی چال اور مکروفریب  سے  جموں و کشمیر کی  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقے کی حیثیت کو ختم کرنا مقصود تھا، تاکہ  مستقبل میں  حقِ خودارادیت کی بات ہی نہ کی جا سکے۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کی یک طرفہ منسوخی اور ریاست کی آئینی حیثیت میں تبدیلی در اصل  ریاست جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ایک مذموم  کوشش تھی۔
اسی طرح بین الاقوامی انسانی قانون کے ماہرین جنیوا کنونشن (1949) کے چوتھے کنونشن کے آرٹیکل 49 کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ  کسی قابض طاقت کو اپنے  مقبوضہ علاقے میں اپنی شہری آبادی منتقل کرنے یا مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی اجازت نہیں ۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے کشمیر میں  ڈومیسائل قوانین، اراضی کی منتقلی یا آبادیاتی تبدیلیوں کے اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کے  سراسر خلاف ہیں۔
بھارت کی تمام تر  کوششوں اور چالوں  کے باوجود کشمیر آج بھی جنوبی ایشیا کا سب سے پیچیدہ تنازعہ ہے۔ چھ برس بعد بھی کشمیر عالمی سفارتی مباحث، انسانی حقوق کی رپورٹس اور علاقائی سلامتی کی بحث کا حصہ ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی پابندیوں، سیاسی قیادت کی نظربندی اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں نے  بھارت کے  بین الاقوامی تشخص  کو شدید مجروح کیا ہے۔گزشتہ چھ برس گواہ ہیں کہ کشمیریوں نے اپنی جہد مسلسل یہ منوایا ہے کہ   انصاف کے بغیر کشمیر میں  امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارت جس  سازش کے ساتھ حقِ خود ارادیت سے کشمیریوں کو پیچھے لے جانا چاہتا تھا ، اس کی یہی سازش کشمیریوں کو بہت آگے لے گئی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا ہے۔ جغرافیہ تو نقشوں سے بدل جاتا ہے لیکن  تاریخ صرف انصاف سے بدلتی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل طاقت نہیں انصاف ہے۔یاد رکھئے کہ طاقت کی عمر محدود ہوتی ہے اور  انصاف کی خواہش لا محدود۔ بھارت کے عوام کو بھی یہ جاننا اور ماننا چاہیے کہ کشمیریوں کی شناخت، آزادی یا حقِ خودارادیت  کا مسئلہ  صرف سیاسی مسئلہ نہیں  بلکہ کشمیریوں کی تاریخی اقدار،  تہذیب و ثقافت، دین و  اخلاق اور انسانی اقدار کا مسئلہ ہے۔

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...