بعض سفر دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے قیام کر لیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی عزاداری کی ایک منفرد روایت یہ بھی ہے کہ محرم الحرام میں یہاں صرف امام بارگاہیں ہی نہیں، بلوچ سرداروں کے ڈیرے بھی ذکرِ امام حسینؑ کے مراکز بن جاتے ہیں۔ ان وسیع ڈیرہ جات میں محرم کے ایام میں مجالسِ عزا برپا ہوتی ہیں، دور دراز کے قبائل شریک ہوتے ہیں اور یوں قبائلی روایت، مہمان نوازی اور عشقِ اہلِ بیتؑ ایک ہی منظر میں سمٹ آتے ہیں۔ آج آٹھ محرم الحرام کی تاریخ تھی اور میرے ساتھ گاڑی میں مولانا صابر حسین صاحب اور آٹھ سالہ حسین عباس جعفری بھی ہم سفر تھے۔ راستہ طویل تھا، گفتگو مختصر تھی اور خاموشی اپنے اندر ایک عجیب سی راحت سمیٹے ہوئے تھی۔ کھیتوں پر صبح کی دھوپ دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔ کہیں کھجوروں کے جھنڈ نظر آتے، کہیں سرسبز فصلیں ہوا کے سنگ لہرا اٹھتیں۔ دیہی زندگی اپنی پوری سادگی اور خوبصورتی کے ساتھ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ ایک قصبے کے قریب پہنچے تو سڑک کے کنارے ایک باوقار شخصیت ہماری منتظر دکھائی دی۔ یہ مسجد اللہ آباد کے منتظم، ماسٹر صادق کھوسہ صاحب تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ صبح سویرے جام پور جا کر واپس آئے تھے اور اب صرف ہماری رہنمائی کے لیے یہاں کھڑے تھے۔ اس محبت میں نہ کوئی نمود تھی، نہ کوئی تکلف۔ انہوں نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور ہمارے قافلے کے آگے چل پڑے۔ ہم خاموشی سے ان کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔ کبھی وہ رفتار آہستہ کر لیتے، کبھی مڑ کر دیکھتے کہ ہم ساتھ ہیں۔ ہر موڑ پر ان کا اشارہ منزل کی خبر دیتا تھا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی مخلص دوست اپنے مہمانوں کو راستہ نہیں، اپنے دل تک لے جا رہا ہو۔
راستہ بدلتا گیا اور منظر بھی بدلتے گئے۔ کچے مکانات، سبز کھیت، نہریں، درختوں کی قطاریں اور مٹی کی مہک ایک ایک کرکے حافظے میں اترتی چلی گئیں۔ سفر کے یہ مناظر صرف آنکھوں سے نہیں دیکھے جا رہے تھے، دل بھی انہیں اپنے اندر محفوظ کرتا جا رہا تھا۔
چلتے چلاتے بلاخر ہم "بستی اکبر خان گورچانی، چوکی کپر "پہنچ گئے، جہاں سردار غلام اکبر خان گورچانی صاحب کا ڈیرہ اپنی سادگی اور وقار کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے۔ نیلا آسمان پوری وسعت کے ساتھ سر پر سائبان بن کر کھڑا تھا۔ قد آور درختوں کی گھنی چھاؤں نے مجلس گاہ کو ایک قدرتی چھت عطا کر رکھی تھی۔ جون کے مہینے میں ٹھنڈی ہوا کے نرم جھونکے ماحول میں ایسی لطافت پیدا کر رہے تھے کہ دل بے اختیار شکر ادا کرنے لگتا تھا۔
احاطہ مجلس میں داخل ہوتے ہی بلوچ تہذیب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آگئی۔ سر پر بندھی مخصوص بلوچ پگڑیاں، کشادہ روایتی لباس، گھنی اور خوش تراش داڑھیاں، باوقار نشست اور سنجیدہ چہرے ایسا منظر پیش کر رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شخص اپنی جگہ ایک بلوچ سردار ہو۔ وقار ان کے لباس میں بھی تھا اور کردار میں بھی۔
جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے بلوچ قبائل کے معززین اور سردار اس مجلس میں شریک تھے۔ دور دراز بستیوں سے آنے والے عزادار صبح ہی اپنے سفر مکمل کرکے پہنچ چکے تھے۔
ڈیرے سے کچھ فاصلے پر موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں نہایت ترتیب سے کھڑی تھیں۔ کوئی باقاعدہ پارکنگ نہ تھی، پھر بھی نظم ایسا تھا کہ پوری جگہ ایک قدرتی پارکنگ معلوم ہوتی تھی۔ اس منظر نے مجھے اس قوم کے اجتماعی شعور اور نظم و ضبط کا خاموش تعارف کرا دیا۔
مجلس اپنی کیفیت میں منفرد تھی۔ ہر شخص خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ فضا پر ایک مقدس سکوت طاری تھا۔ خطیب کی آواز درختوں کی شاخوں سے ٹکراتی ہوئی حاضرین کے دلوں میں اتر رہی تھی۔ ہر نگاہ احترام سے جھکی ہوئی تھی۔ ہر دل ذکرِ حسینؑ میں محو تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس خاموشی کی بھی ایک زبان ہے، جو محبت، عقیدت اور وفاداری کا درس دے رہی ہے۔
ڈیرے پر موجود مسجد اپنی سادگی میں بھی دل کو موہ لیتی تھی۔ مسجد کے قریب نصب ہینڈ پمپ نمازیوں کی سہولت کے لیے موجود تھا۔ یہ منظر بتا رہا تھا کہ یہاں عبادت اور خدمت ایک ہی روایت کے دو عنوان ہیں۔اس روحانی اجتماع کی ایک اور خوبصورت تصویر "سردار غلام اکبر خان گورچانی صاحب" کی میزبانی تھی۔ وہ ہر آنے والے مہمان کا والہانہ استقبال کر رہے تھے۔ چہرے پر مسکراہٹ، لہجے میں شفقت، ہاتھوں میں گرمجوشی اور انداز میں عاجزی تھی۔ وہ مجلس کے منتظم کم اور مہمانوں کے خادم زیادہ محسوس ہوتے تھے۔ ہر شخص کی خیریت دریافت کرنا، ہر آنے والے کو عزت دینا اور ہر ضرورت کا خود خیال رکھنا ان کے حسنِ اخلاق کی روشن دلیل تھا۔ ان کی شخصیت نے مجھے یہ احساس دلایا کہ عزت صرف الفاظ سے نہیں دی جاتی، رویّے بھی احترام کی زبان بولتے ہیں۔
مجلس کے اختتام پر جب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے تو محبت گویا فضا میں گھل گئی تھی۔ ہر مصافحہ دل سے ہو رہا تھا، ہر دعا اخلاص سے نکل رہی تھی، ہر مسکراہٹ میں اپنائیت تھی۔ اس اجتماع میں نہ تصنع تھا، نہ تفاخر۔ صرف محبت تھی، عقیدت تھی، احترام تھا اور ایک ایسی روحانی کیفیت تھی جسے لفظوں میں مکمل طور پر قید کرنا ممکن نہیں۔
واپسی کے سفر میں راستے وہی تھے، زمین وہی تھی اور آسمان بھی وہی تھا، میرے اندر ایک نئی روشنی جنم لے چکی تھی۔ آج بھی جب اس سفر کو یاد کرتا ہوں تو درختوں کی وہ چھاؤں، بلوچ پگڑیوں کا وہ وقار، مجلس کی وہ خاموشی، سردار غلام اکبر خان گورچانی کی محبت بھری میزبانی اور ماسٹر صادق کھوسہ صاحب کا بے لوث خلوص ایک ساتھ نگاہوں کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار سفر کیے، بہت سی محفلیں دیکھیں، بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی، اس دن جیسا روحانی ماحول، ایسا باہمی احترام اور ایسی بے ساختہ محبت شاید ہی پھر کبھی دیکھ سکوں۔