زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 29 جنوری، 2025

کیا ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں؟


 ڈاکٹر نذر حافی:
جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔ ۵ فروری نزدیک ہے۔ تمام عزیز ہم وطن اس روز چھٹی منائیں گے۔ کچھ کو اس روز کشمیر کی آزادی کے نعرے لگانے کا شوق بھی ہے ۔ ان نعرے لگانے والوں میں سے اکثر کو یہ خبر بھی نہیں ہو گی  کہ ابھی چند دن پہلے تاریخ میں پہلی باربھارتی  ٹرین دہلی سے  کشمیر کے سری نگر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی ہے۔ کبھی ہم کہتے تھے کہ  کشمیر اور ہندوستان   کے درمیان صرف جغرافیائی فاصلہ ہی نہیں بلکہ  تاریخ،  زبان، کلچر اور تہذیب و ثقافت کا  فرق بھی قابلِ مشاہدہ ہے۔ ہم آج بھی  باتیں کرنے  تک ہی محدود ہیں  جبکہ بھارت ان فاصلوں کو سمیٹتا جا رہا ہے۔بہر حال مذکورہ فاصلہ اور تفریق مطالعہ پاکستان کے علاوہ اب اور  کہیں بھی حائل نہیں۔
یہ کریڈٹ اہلِ کشمیر کو جاتا ہے کہ وہ جدوجہدِ آزادی کو اپنی بصیرت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تیسری نسل میدان میں تنِ تنہا  کھڑی ہے اور اس کے چہرے  پرتھکاوٹ اور خوف  کے کوئی آثار نہیں۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کی  جرات  و بصیرت کے ساتھ پاکستانی سفارتکاری ہم آہنگ ہوجائے ۔ 
اپنے ماضی کی تاریخ میں کشمیریوں نے اقوامِ عالم پر یہ ثابت کیا ہے کہ مظلوم کی طاقت  اُس کی جدوجہد میں مضمر  ہوتی ہے۔ جب کوئی مظلوم ہوتا ہے، تو اس کی جدوجہد سے اُس کی بصیرت،  ایمانداری، ہمت، اور عزم کا پتہ چلتا ہے۔ مظلوم اپنی مشکلات  کے باوجود سخت اور نامساعد حالات میں صبر کرتا ہے اور اپنے حقوق کے لئے  سچائی کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسی کھڑے رہنے کا نام ہی جدوجہد اور اسی کا نام مظلوم کی طاقت ہے۔
کشمیر  کے لوگ دہائیوں سے ظلم، جبر، روزانہ کی بنیاد پر تشدد، گمشدگیوں، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ١٩٤٨ء میں کشمیر اور فلسطین دونوں ریاستوں سے حقِ خود ارادیت کا   وعدہ کیا تھا لیکن اب بغیر حقِ خود ارادیت کے دونوں کو  تقسیم کر کے دو دو ریاستیں بنانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔ اس دوران دنیا کے کئی ممالک نے فلسطین کیلئے موثر آواز بلند کی ہے لیکن کشمیریوں کو  عالمی سطح پر مسلسل بے حسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بے حسی بے سبب نہیں، اس کے پسِ پردہ محرکات پر توجہ دی جانی چاہیے۔  
گزشتہ دنوں یہ ٹرین دہلی سے سری نگر نہیں پہنچی بلکہ یہ حقِ خود ارادیت کے انکار کے بعد، اب  کشمیریوں کی شناخت پرایک  بڑا  اور کارگرحملہ ہے۔ اب یہ رونا رونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ بھارتی حکومت  انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی سوفٹ وار  اور دہشت گردی کو کشمیریوں کے خلاف  ہائبرڈ ٹولز کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کیلئے کیا کر رہا ہے؟ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ   اقوامِ متحدہ  کسی کو بھی  اپنی قراردادوں پر عمل درآمد  کیلئے مجبور نہیں کر سکتی تو پھر یہ عملدرآمد کیسے ہوگا؟
جذباتی نعرے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچاتے اور زمینی حقائق کو عقلمند کبھی بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ عصرِ حاضر میں بات صرف پاکستان اور ہندوستان کی نہیں بلکہ چین بھی اس مسئلے کا ایک مضبوط  فریق ہے۔کئی سالوں سے مذکورہ  تینوں ممالک کے درمیان کشمیر ایک  تھالی میں پڑی ہوئی روٹی کی مانند  تقسیم ہونے کو ہے۔ اس تقسیم کے راستے میں رکاوٹ فقط اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہیں۔ اب کشمیری  لوگ اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کریں یا اقوامِ متحدہ کو بُرا بھلا کہیں؟
کشمیر پر مغلوں کے قبضے  سے پہلے  اپنی تاریخ میں کشمیر کبھی غلام اور بے بس  نہیں رہا اور  کشمیر میں کبھی بھی نفرت، تعصب اور مذہبی جنون نے راج نہیں کیا۔ آج کشمیر پر غیروں کے خوف کے سائے کیوں ہیں اور یہاں اپنوں سے نفرت کا بیج کس نے بویا ہے؟
کشمیر میں اسلام کا ظہور بھی کسی خون خرابے کے بغیر ہوا۔ سید شرف الدین موسوی المعروف بلبل شاہ ایک مبلغ تھے نہ کہ کوئی عسکری سپہ سالار۔ وہ رنچن شاہ کے دور حکومت میں ۷۲۴ قمری بمطابق ۱۳۲۴ عیسوی میں خراسان سے  تبلیغِ اسلام کی غرض سے کشمیر آئے۔ رنچن آبائی طور پر  ایک بدھ مت حکمران  تھا۔ وہ بدھ مت تھا لیکن ظالم نہیں۔ اس کے دربار میں  مذاہب  و فرق کا  علمی مباحثہ و مکالمہ اور مناظرہ روزانہ کا معمول تھا۔ بلبل شاہ  بھی اسی دربار میں بادشاہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ان کے معقول دلائل نے بادشاہ کے  تصوّر روحانیت کو دگرگوں کر دیا۔بلبل شاہ کے علمی دلائل سے  بادشاہ کے قدیمی مذہبی اعتقادات میں رخنہ پڑا اور اُس نے اپنے  لئے جدید مذہب یعنی اسلام  کا اعلان کر دیا۔ گویا بادشاہ کو جس حقیقت اور سچائی کی تلاش تھی وہ بادشاہ کو مل گئی۔ اس خوشی میں بادشاہ کی رعایا بھی شکرانے کے طور پر مسلمان ہو گئی۔ یوں تبدیلی مذہب کیلئے  ساری ریاست میں نہ خون کا ایک قطرہ گرا اور نہ کسی کی گردن اُڑائی گئی۔
یہ ایک مذہبی مکالمہ تھا جو تہذیبی تبدیلی اور ایک نئے تمدّن کا باعث بنا۔ بعد ازاں جتنے بھی  مبلغین ِاسلام کشمیر میں داخل ہوئے انہوں نے کبھی بھی لشکر کشی یا عسکریت پسندی کا سہارا نہیں لیا۔ رفتہ رفتہ  اسلام کو فروغ ملتا رہا اور  ایک شعوری بلوغ کے طور پر  اسلامی تمدّن جوان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اسلامی تمدّن کی آغوش میں  سلطان زین العابدین بڈشاہ (عظیم بادشاہ)  جیسا بے مثال حکمران تخت پر جلوہ افروز ہوا۔
ان میں سے کسی نے بھی حصولِ اقتدار کیلئے مذہبی کارڈ نہیں کھیلا۔ رعایا سب کی رعایا اور حکمران سب کے حکمران تھے۔زمانےکے نشیب و فراز میں کئی کشمیری خاندان  یونہی سماجی ارتقاء اور مقامی تبدیلیوں  کے مطابق  برسرِ اقتدار آتے رہے۔ اسی طرح بغیر کسی مسلکی یا مذہبی نعرے کے  ۱۵۶۱ء میں چک خاندان بھی برسرِ اقتدار آیا اور اُس نے ۱۵۸۶ء تک کشمیر پر کسی نہ کسی شکل میں  حکومت کی۔چک خاندان  ۹۲۷ھ، ۹۲۸ھ اور ۹۲۹ ھ میں مغلوں کو تین دندان شکن شکستیں  دے چکا تھا۔کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ۱۵۴۰ء میں مغلوں کو کشمیر کے مقامی مذہبی جنونیوں  مولوی قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور نے  ریاست  پر حملے کی دعوت دی۔  انہوں نے  چک خاندان کے خلاف مسلکی کارڈ استعمال کرتے ہوئے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے  سے کشمیر میں مذہبی منافرت کا آغاز ہوا اور بعد ازاں  ہندومسلم فسادات اور ناامنی کا دروازہ بھی کھلا۔ ۱۵۴۰ء میں منگول کمانڈر مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ نے پہلی مرتبہ کشمیر کو ایک ریاست سے روٹی میں تبدیل کیا اور آج تک اس ریاست کو روٹی کی مانند نوچا اور چبایا جا رہا ہے۔
۵ فروری کو  ضرور منائیں لیکن عوام کو یہ بھی بتائیں کہ کشمیر جو ایک  خودمختار،  مہذب، متمدن اور باوقار ریاست تھی وہ کیسے ایک روٹی میں تبدیل ہوئی!۔تاریخ کشمیر کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ  جب مذہب دوسروں کا حق تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کی حق تلفی کیلئے استعمال ہونے لگے تو پھر وہ  ایک ریاست کو بھی  ایک روٹی میں تبدیل کر دیتا ہے۔۵ فروری منانا اور مخلوق خدا کو سچ نہ بتانا یہ مخلوقِ خدا پر ظلم ہے اور جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔






0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...