رپورٹ: حسن کاظمی متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد: رسول اللّٰہ ؐکی بعثت کا عالی ترین ہدف انسانوں کا تذکیہ نفس کرنا تھا ۔ آیات الہی کی تلاوت ، کتاب و حکمت کی تعلیم اور عبادات کو تذکیہ نفس کے بغیر خدا کی بارگاہ میں قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ ایک عالم دین وہی ہے جو اپنے نفس کی غلامی کرنے کے بجائے اپنا تذکیہ نفس اور اپنا مجاسبہ کرتا رہتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔اسی طرح امام خمینی ؒ نے علماء کی محفل میں اپنے درس میں فرمایا تھا کہ کوئی چاہے جتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اگر اس نے تذکیہ نفس نہ کیا ہو تو پھر وہ بات نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر سے شیطان بولتا ہے۔
تفصیل کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام آباد کے ہفتہ وار درس اخلاق سے حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے درس میں طلبا کو اپنی تمام تر توجہ معنویت، خدا کی رضایت اور معصومینؑ سے توسّل کرنے پر مرکوز کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں، انبیا اور معصومین فقط ہماری دنیاوی حاجات کو پورا کرنے کیلئے اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے بلکہ ہمیں اپنی روحانی مشکلات، گناہوں سے نجات اور تعلیم کے حصول میں آسانی کیلئے بھی اُن سے توسّل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دینی طالب علموں کیلئے اپنی تربیت ، خود احتسابی اور اپنے اندر خوفِ خدا پیدا کرنا ان کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں