زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 31 جنوری، 2025

طالبان اور اقتدار کا خُمار


ڈاکٹر نذر حافی:
سارا جھگڑا پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔ طالبان کے  جتھے پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ ۲۰۲۲ سے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان  میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ابھی تک پارہ چنار کاعلاقہ طالبان کے محاصرے میں ہے۔ لوئر کرم میں ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کے بعد  آج ۳۱ جنوری ۲۰۲۵ کو اپر کرم کے علاقے بوشہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر سعید منان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
  یاد کیجئے !یہ اگست ۲۰۲۱ کی بات ہے کہ جب   طالبان  کو تھالی میں رکھ کر اقتدار دے دیا گیا تھا۔ پاکستان کے اُس وقت کے  وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے طورخم کراسنگ پر طالبان کے ساتھ مل کر  ایک پریس  کانفرنس کی تھی۔ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ   گویا طالبان کو یوں تھالی میں رکھ کر  حکومت دلوانا پاکستان کا ہی نقشہ تھا۔ افغان طالبان اقتدار میں آئے تو پاکستانی سقراط  اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ اب خطّے  میں بھارت تنہا ہو جائے گا اور  حالات پر ہماری گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ ہمارے سقراط اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ طالبان  ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا چونکہ  یہ لائن پشتونوں کو تقسیم کرتی ہے۔آج طالبان نے اپنی طاقت سے یہ منوا لیا ہے کہ  مضبوط طالبان کیلئے کمزور پاکستان ضروری ہے لہذا پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے طالبان بھارت کے ساتھ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
خیر شیخ رشید صاحب  اینڈ کمپنی کے خواب  خواہ مخواہ نہیں تھے۔ ان کے پیچھے  جہاد کے نام پر جتھہ سازی کی ایک مکمل تاریخ بھی تھی۔ اس سے پہلے  گزشتہ تین دہائیوں میں سارے طالبان رہنماوں اور مجاہدین کو  پاکستان کے  دینی مدارس سے لانچ کیا گیا تھا۔  طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر  بھی پاکستان کے  دارالعلوم حقانیہ  کے طالب علم تھے۔طالبان کی یوں  حیران کن طور پر  اقتدار میں واپسی کو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے غلامی کی بیڑیاں توڑ دینے  سے تعبیر کیا تھا۔ ہمارے  طالبان بھائیوں  کو اقتدار کا نشہ لگنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی شرح میں پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔   پاکستان سینٹر فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی نے  اپنی ریسرچ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ   سال ۲۰۲۴ میں نومبر کے مہینے میں طالبان جتھوں نے سب سے زیادہ حملے پاکستان میں کئے ہیں۔  
جس وقت ہمارے سقراط طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کا جشن منا رہے تھے۔ اس وقت امریکہ پاکستان کی بربادی کا منصوبہ عملی کر چکا تھا۔   یہ تو بعد میں ۲۰۲۲ میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ۷.۲ ارب ڈالر کا جنگی سازوسامان امریکہ نے افغانستان میں ہی چھوڑ دیا تھا۔  یہ جنگی سازوسامان بعد میں سب سے زیادہ پاکستان ہی  کے خلاف استعمال ہوا اور آج تک پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے مسلسل غیر محفوظ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل کے مشہورِ زمانہ "مجاہدین بازار"  میں امریکہ کے متروکہ عسکری سامان کی جرائم پیشہ عناصر  کھلے عام خریدوفروخت کرتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ  تین لاکھ اٹھاون ہزار پانچ سو تیس رائفلیں، چونسٹھ ہزار مشین گنیں،چھبیس ہزار گرینیٹڈ لانچراور تقریبا تئیس ہزار ہمویز(تمام اقسام کی سطحوں پر چلنے والی گاڑیاں) وغیرہ  سے طالبان کو نواز کر افغانستان سے خارج ہوا تھا۔ پاکستان کے عسکری اداروں کو ملک کے اندر جن دہشت گرد نیٹ ورکس کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ نیٹ ورکس یہی امریکہ کا متروکہ اسلحہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان  کی  سیکورٹی فورسز ، عبادت گاہوں، سکولوں اور پبلک مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے سارے ڈانڈے افغانستان اور طالبان  ہی سے ملتے ہیں۔  افغان حکومت اپنے ملک میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے ہر مطالبے کے جواب میں طالبان حکومت کا مطالبہ ہے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ اس کے باوجود  پاکستان میں افغان جتھوں کا مضبوط  سے مضبوط تر ہوتے جانا یہ واضح کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جڑیں پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے اندر بھی ہیں۔ 
بہر حال حقیقتِ حال یہ ہے کہ  طالبان نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات اپنے ملکی مفادات کے مطابق متوازن رکھے ہوئے ہیں جبکہ  پاکستان نے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض جذباتی انداز میں پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی تشکیل دینے والے اس سچائی سے فرار کر رہے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات صرف طالبان کیلئے ضروری نہیں بلکہ ہندوستان کیلئے بھی ضروری ہیں چونکہ ہندوستان بھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان کے جتھے اور افغانستان کی سرزمین ہندوستان کے خلاف استعمال ہو۔ اب بیچ میں رہ گیا ہے پاکستان اور اس کی ٹھنڈی ٹھار جہاد انڈسٹری ۔  
تین اطراف سے افغانستان سے متصل ضلع کرّم  کو طالبان نے گھیر رکھا ہے۔ پشاور سے پاراچنار کے درمیانی علاقے پر ہماری قیمتی ایسٹس یعنی ناراض طالبان کا قبضہ ہے۔  یہ قبضہ اس لئے بھی ختم نہیں کرا جا سکتا چونکہ ماضی کے قیمتی ایسٹس نئی مارکیٹ میں بِک چکے ہیں۔  پاکستان کی ریاستی پالیسیاں بنانے والوں   کی خدمت میں بس اتنی ہی عرض ہے کہ جو آنکھ راستے اور کھائی میں فرق نہ کر سکے اُسے دوسروں کو راستہ دکھانے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کُرم کا  جھگڑا  سُنّی اور شیعہ کا نہیں بلکہ سارا جھگڑا ہمارے ریاستی اداروں کی طرف سے  پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔











0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...